جماعت اسلامی کے ناقدین و مصلحین

خواجہ امتیاز احمد

چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ سے میرا پہلا تعارف ۱۹۶۹ء میں ہوا۔ میں اس وقت مرکزی سیکرٹری داخلہ خواجہ محمد صدیق اکبر کے ساتھ اسٹوڈنٹس اسلامک فرنٹ میں بحیثیت چیئرمین ضلع گوجرانوالہ کام کر رہا تھا۔ انور چودھری صاحب ناظم حلقہ گجرات میرے پاس تشریف لائے اور مجھے جمعیت میں کام کرنے کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی۔ میر ے ساتھ چودھری محمد یوسف اور شیخ الحدیث مولانا محمد چراغ مرحوم کے فرزند حافظ محمد حنیف صاحب بھی شامل تھے۔ یہ دونوں مجھ سے سینئر تھے، لیکن مجھے ناظم چنا گیا۔ یہ میرا چودھری محمد یوسف صاحب سے پہلا تعارف تھا۔ چودھری صاحب جماعت اسلامی گوجرانوالہ کے ایک محترم رکن حکیم غلام محمد مرحوم کے فرزند ہیں۔ میرے والد خواجہ بشیر احمد مسلم لیگ امرتسر کے سیکرٹری تھے۔ بعد میں وہ مولانا سرفراز صفدرؒ اور صوفی عبد الحمید سواتی ؒ کے ساتھ جمعیت علمائے اسلام میں رہے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے میں ان کی ایک کتاب ’’جماعت اسلامی اہل حدیث کی نظر میں‘‘ بھی شائع ہوئی جو جماعت اسلامی کے خلاف تھی۔

پس منظر میں اس لیے جانا پڑا کہ پڑھنے والوں کویہ معلوم ہو سکے کہ چودھری محمد یوسف کو جماعت اسلامی وراثت میں ملی اور مجھے سوچ سمجھ اور پرکھ کر اس کا ساتھ دینا پڑا۔ قصہ مختصر، والد مرحوم نے مجھے ترجمہ قرآن شریف کے لیے صوفی عبد الحمید صاحبؒ کے پاس داخل کیا۔ صوفی صاحب نے کچھ عرصہ مجھے پڑھایا اور پھر حافظ عبد الرحمنؒ کے سپرد کر دیا کہ وہ مجھے پڑھائیں۔ صوفی صاحبؒ ، مولانا عبد القیوم صاحب، مولانا محمد خان مبلغ ختم نبوت او رمولانا محمد حیات مرحوم جو نصرت العلوم میں تشریف لاتے تھے، میرے سوالات سے کچھ گھبرا جاتے تھے۔ یہی وہ دن تھے جب میں ’’اسلامی جمعیت طلبہ‘‘ کا ناظم منتخب ہوا۔ چودھری یوسف صاحب ایک نہایت پرجوش، ان تھک اور محنتی کارکن تھے۔ ایسے لوگ ہر تحریک یا جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ۷۰ء کے عشرے میں جب پاکستان ایک سخت بحران سے گزر رہا تھا، ہم نے اکٹھے کافی کام کیا۔ کئی تنظیمیں کھڑی کیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے الیکشن میں حافظ محمد ادریس، جاوید ہاشمی اور حفیظ خان کے لیے کام کیا۔ گوجرانوالہ میں مولانا عبدالحمید خان بھاشانی کی ہڑتال ناکام بنائی۔ جب زاہد الراشدی صاحب عوامی فکری محاذ کے ذریعے پیپلز پارٹی کو تقویت پہنچا رہے تھے تو ہم نے ان کے مقابلے میں اسلامی فکری محاذ کھڑا کیا تھا۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ جناب چودھری صاحب جمعیت کے اجلاسوں میں ایک دوسرے شہر سے آئے ہوئے رفیق، محمد صدیق صاحب سے بحث مباحثے میں اس قدر الجھتے گئے کہ یہ دنگل ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ اجلاس اسی میں ختم ہو جاتا۔ جمعیت طلبہ کے رفیق اس صور ت حال سے سخت نالاں تھے، لہٰذا ناظم حلقہ گجرات لطیف مرزا سے رجوع کیا گیا۔ انھوں نے محمد صدیق اور چو دھری محمد یوسف صاحب کو جمعیت سے خارج کر دیا، مگر ہمارے ذاتی تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس کے بعد چودھری صاحب جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔ وہاں کے تفصیلی واقعات میرے علم میں نہیں، لیکن شیخ نور محمد صاحب سابق امیر جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ نے انھیں جماعت اسلامی سے بھی نکال باہر کیا۔ الزامات تقریباً وہی تھے، یعنی بحث ومباحثہ۔ یہ جماعت اسلامی کی بھی بدقسمتی تھی اور چودھری صاحب کی بھی۔

کوئی دو ماہ پہلے چودھری صاحب نے مجھے ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے اکتوبر اور نومبر ۲۰۱۲ء کے شمارے دیے جن میں ان کا مضمون ’’جماعت اسلامی کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندوی کی نظر میں‘‘ شائع ہوا ہے۔ میں نے گہری نظر سے مضامین کو پڑھا تو مجھے ایسے لگا کہ جماعت کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندویؒ سے زیادہ چودھری یوسف صاحب کی نظر میں ہے اور مظہر ندوی صاحب چودھری صاحب کے سامنے دب سے گئے ہیں۔ 

چودھری محمد یوسف صاحب کا کہنا ہے کہ جو اصحاب فکر ونظر وقتاً فوقتاً جماعت اسلامی سے علیحدہ ہوتے رہے، اس کی وجہ یہی اختلاف پر پابندی تھی۔ اس طرح جماعت اسلامی کی صفوں میں غیر فعال ارکان کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا چودھری صاحب بتائیں گے کہ منظور نعمانی صاحبؒ ، امین احسن اصلاحی صاحبؒ ، کوثرنیازیؒ ، ارشاد احمد حقانیؒ ، وصی مظہر ندویؒ ، عبد الغفار حسنؒ اور سید جعفر شاہ پھلوارویؒ نے کس فعالیت کا مظاہرہ کیا؟ بعض نے وزارتوں کے مزے لوٹے (کوثرنیازی، وصی مظہر ندوی، ارشاد حقانی) اور باقی آرام سے گھروں میں بیٹھ گئے۔ عبد الرحیم اشرف صاحب نے اپنا کاروبار بڑھایا یا پھر اہل حدیث کی مدد کرتے رہے۔ صرف ڈاکٹر اسرار احمد نے سرگرمی اور فعالیت کا مظاہرہ کیا اور وہ چودھری صاحب کو اس لیے پسند نہیں کہ انھوں نے مولانا مرحوم اور جماعت کی بے جا مخالفت سے منہ موڑ لیا تھا۔ 

جنرل ضیاء الحق کے زیر سایہ مسلم لیگ کی حکومت میں شامل ہو کر وصی مظہر ندوی صاحب نے اسلام اور پاکستان کے لیے کیا کارنامے سر انجام دیے؟ ندوی صاحب نے عمران خان کو جو خط لکھا ہے، اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ عمران خان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے تھے اور انھیں سیاست میں اپنا تجربہ بتا رہے تھے۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ مولانا مودودیؒ کی قیادت کو چھوڑ کر وہ محمد خان جونیجو اور پھر عمران خان کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ کیا یہاں ندوی صاحب کے تحفظات دور ہو گئے تھے؟ اس حکومت کو بر طرف کرتے ہوئے، جو نہ اسلامی تھی اور نہ فلاحی، جنرل ضیاء الحق نے بھرائی ہوئی آواز سے جس کرپشن اور اقربا پروری کا ذکر کیا، کیا وہ مولانا کی نظروں سے اوجھل تھی؟ اگر جماعت اسلامی کے لوگوں نے پی این اے کے فیصلے کے مطابق وزارتیں قبول کر کے غلط فیصلہ کیا تو کیا ندوی صاحب نے وزارت قبول کر کے اسلام کی خدمت کی؟

جماعت چھوڑ کر جانے والوں میں صرف ڈاکٹر اسرار احمدؒ ہی ایسی شخصیت تھے جنھوں نے مثبت طریقے سے کام کے لیے ایک تنظیم بنائی، اکیڈمی قائم کی اور پوری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے لیے محنت کی۔ ڈاکٹر صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ مولانا شیخ الہند محمود حسن، امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا مودودی کی فکر سے متاثر ہیں اور اسی فکر کے تحت کام کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی کے ساتھ انھوں نے جماعت ضرور چھوڑی تھی، مگر ان کے ساتھ زیادہ عرصہ نہ چل سکے جماعت اسلامی اور مولانا مودودی سے اختلاف کے باجود ان کے خلاف منفی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنے۔ اسی وجہ سے انھوں نے مولانا ندوی کو بھی اس حد تک جانے سے روکا۔

ڈاکٹر اسرار احمد نے مولانا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی غلطیوں کی نشان دہی بھی کی، انھیں ٹوکا اور ٹی وی پر غامدی صاحب سے مناظرہ بھی کیا۔ اصلاحی صاحب اور ان کے شاگرد غامدی صاحب نے بعض مسائل میں قرآن وحدیث کی تشریحات کی ہیں، اس پر روایت پسند علماء سخت نالاں ہیں۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب مولانا امین احسن اصلاحی کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’ان کے زبان وقلم سے بعض ایسی چیزیں منظر عام پر آئی ہیں جو صریح گمراہی پر مبنی ہیں، بلکہ اجماع امت سے انحراف کی وجہ سے ان پر کفر تک کا اطلاق ممکن ہے۔‘‘

چودھری صاحب کو شکایت ہے کہ ’’سید کے ہم مرتبہ لوگ جماعت کی تشکیل کے ایک دو سال بعد ہی جماعت سے الگ ہو گئے۔ جماعت کی تشکیل کے موقع پر جتنا زبردست ٹیلنٹ جمع ہوا تھا، وہ چھٹ گیا۔‘‘ چودھری صاحب جن کو برابر کا ٹیلنٹ کہتے ہیں، مولانا مودودی نے ان کی تالیف قلب کی پوری کوشش کی۔ کسی کو جماعت سے نہیں نکالا۔ ان حضرات نے خود جماعت کو چھوڑا۔ مولانا کی زبانی ہی سنیے:

’’مولانا امین احسن اصلاحی کے معاملہ میں بہت غور کر رہا ہوں، مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی تالیف قلب کے لیے کیا کروں۔ متعین شکایت صرف ایک معلوم ہوئی اور اس کا فوری ازالہ کر دیا گیا۔ ۔۔۔ انھیں جماعت کے رفقاء سے ہی نہیں، بلکہ مجھ سے بھی سوء ظن ہے۔ یہ سوء ظن مجھے الہ آباد میں بھی مولانا کے بعض فقروں سے ہوا تھا، مگر میں نے تاویل کر کے اسے اپنے ذہن سے دور کر دیا تھا۔ اب آپ کی دی ہوئی خبروں سے نہ صرف اس کی تصدیق ہوئی، بلکہ زیادہ واضح طور پر پتہ چلا کہ ان کا ذہن مستقل بدگمانی کی راہ پر چل پڑا ہے۔‘‘ (خطوط مودودی، ص ۱۷۱)

مسعود عالم ندویؒ کے نام ایک خط میں مولانا لکھتے ہیں:

’’یہ آخر کیا آفت ہے؟ کیا یہ بچوں کا کھیل تھا کہ کل ایک جماعت بنائی۔ دعوے کیے کہ ہم خدا کا کلمہ بلند کریں گے۔ نگاہیں ہر طرف اٹھنے لگیں کہ دیکھیں، یہ جماعت کیا کرتی ہے اور ابھی دو قدم نہ چلے تھے کہ آپس میں ایک دوسرے پر بدگماناں کر کے، الزام رکھ رکھ کر اور روٹھ روٹھ کر الگ ہونے شروع ہو گئے۔ پھر نہ کسی صفائی کی کوشش کی، نہ تحقیق کی فکر، نہ خرابیوں کو سمجھ کر انھیں دور کرنے کی طرف توجہ۔ ۔۔۔ میں خود اس معاملے میں اپنے آپ کو بے بس پاتا ہوں کہ ہدف میری ذات کو بنا لیا گیا ہے۔‘‘ (خطوط مودودی، ص ۱۰۲)

مولانا مسعود عالم ندوی کے نام ایک اورخط میں فرماتے ہیں:

’’مولانا جعفر صاحب کو کپورتھلہ کی ریاست میں خطابت کا معاوضہ ۵۶ روپے ماہوار ملتا تھا۔ ۔۔۔ میں نے کہا کہ پچاس روپے مہینہ کی حد تک ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ مکان یہاں بلا کرایہ حاضر ہے۔ آپ ملازمت چھوڑکر آ جائیے۔ ۔۔۔ انھوں نے فرمایا کہ بھری تھالی (ریاست کپور تھلہ کی ملازمت) کو لات مارتے ہوئے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ کے ہاں کفران نعمت میں نہ پکڑا جاؤں۔ پھر جب میں نے انھیں اطمینان دلایا کہ یہ کفران نعمت نہیں ہے، بلکہ خطابت وامامت کی تنخواہ سلف کی نگاہ میں سخت مکروہ ری ہے اور آپ کو اس مکروہ سے بچنے کا ایک موقع مل رہا ہے تو انھوں نے کچھ دن غور کرنے کی مہلت مانگی اور وہ مہلت آخر کار اس تحریر پر ختم ہوئی جو مولانا منظور صاحبؒ کے خط پر توثیقاً انھوں نے ثبت فرمائی ہے۔‘‘ (خطوط مودودی، ص ۱۱۰)

مولانا اور جماعت اسلامی کو کیسے کیسے ناقدین اور مصلحین ملے، اس کا اندازہ ایک واقعے سے کیجیے جو سید علی نقی نے اپنی کتاب ’’سید مودودی کا عہد‘‘ کے صفحہ ۳۷۰ پر بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’ایک دن جمعہ کی نماز سے پہلے میں مولانا کے کمرے میں گیا۔ باتیں کرتے ہوئے دونوں باہر نکلے۔ ابھی مسجد تک نہیں پہنچے کہ مولانا نے فرمایا، میرا پاجامہ ادھڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ آپ چلیں، میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔ میں انتظار کرتا رہا۔ مولانا واپس آئے اور ہم دونوں ایک ساتھ مسجد میں داخل ہوئے۔ تقریباً ایک ہفتے بعد مولانا نے مجھے ایک خط دیا کہ اس کا جواب لکھ دیں۔ میں نے خط کھولا تو ایک طویل شکایت نامہ تھا۔ بڑے سخت الفاظ میں لکھنے والے نے لکھا تھا کہ میں آپ کی بڑی تعریف سن کر آیا تھا، لیکن آپ کو ایک جمعہ کے دن گھر سے صاف کپڑے پہنے نکلنے کے بعد واپس جاتے ہوئے اور پھر دوسرے صاف کپڑے پہن کر واپس آتے ہوئے دیکھا۔ مجھے بڑا دکھ ہوا کہ جس شخص کو بار بار صاف کپڑے پہن کر اپنی امارت اور نفاست کا رعب جمانے کا شوق ہو، وہ بھلا تحریک اسلامی کی کیا رہنمائی کرے گا۔ پس میں واپس ہو گیا۔‘‘

چودھری صاحب سے گزارش ہے کہ جماعت کی مخالفت میں اس حد تک مت جائیں کہ خود کو گم کر لیں۔ آپ کے دل میں اسلامی جمعیت اور جماعت اسلامی سے اخراج کا گہرا زخم ہے، لیکن آپ کی دو نسلوں نے جماعت کی بڑی خدمت کی ہے۔ اب بھی اگر مثبت تنقید سے کام لیں تو اس سے جماعت کی بھی اصلاح ہوگی اور آپ کا قد بھی بڑھے گا۔

جہاں تک ’’صریر خامہ‘‘ کا تعلق ہے تو اس پر، پروفیسر سلیم منصور خالد کے تبصرے سے اتفاق کرتے ہوئے اسی پر اپنی بات کو ختم کرتا ہوں:

’’ڈاکٹر محمد ارشد نے مولانا وصی مظہر ندویؒ کے مجموعہ مقالات ومکتوبات پر مبنی کتاب ’’صریر خامہ‘‘ مرتب کی ہے جو ان کی فکر کو سمجھنے کے لیے ایک مفید کتاب ہے۔ 

مولانا مسعود عالم ندویؒ فرماتے ہیں:

’’اگر تو کوئی رائے رکھتا ہے تو صاحب عزیمت بھی بن، کیونکہ ہر کام میں تردد رکھنا خرابی کی علامت ہے۔‘‘

آراء و افکار

(فروری ۲۰۱۳ء)

Flag Counter