مکاتیب

مکاتیب

ادارہ

مکرمی مولانا عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج بخیریت ہوں گے۔ آپکی کتاب’’فقہائے احناف اور فہم حدیث‘‘ پڑھ کر ناقابل بیان خوشی ہوئی۔ احادیث میں احناف کی بے شمار تاویلات دیکھ کر کبھی کبھار پریشانی ہوتی تھی، لیکن کتاب ہذا دیکھ کر دلی سکون حاصل ہوا۔ حنفیہ کی دقت علمی کا ایک اجمالی تعارف ہوا۔جزاکم اللہ فی الدارین۔ اگر ایک بحث کی وضاحت فرمادیں توعین نوازش ہوگی: کتاب ہذا کے صفحہ ۴۰تا ۴۹صفحہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ احناف کے ہاں اصول حدیث میں سے ہے کہ ’’حدیث ضعیف قیاس پر مقدم ہوگی ‘‘ جبکہ زیر مطالعہ کے کتاب کے ہی چند مواضع...

مکاتیب

ادارہ

آپ کے مجلے میں اردو تراجم قرآن کے سلسلے میں قسط وار ایک جائزہ شائع ہورہا ہے، جس میں مترجمین کی خدمات اور ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے قرآن کے تراجم میں بعض جگہوں پر بشری تقاضوں سے جو تسامح اور غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے صحیح ترجمے سے باخبر کیا گیا ہے۔ مترجمین میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ ، شیخ سعدیؒ ، شاہ عبدالقادرؒ ، شاہ رفیع الدینؒ ، محمد جوناگذھیؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ وغیرہ کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اور غلطیوں کی نشاندہی کے سلسلے میں قرآنی نظائر اور...

مکاتیب

ادارہ

مئی کے شمارہ میں ڈاکٹرعرفان شہزاد کا مضمون بعنوان ’’جہادی بیانئے کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکر کا کردار ‘‘پڑھنے کا موقع ملا، پڑھ کر یہی لگاکہ ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کے نام پر ایک طرفہ مضمون لکھاہے ،یعنی ان کے ذہن ومزاج نے پہلے ہی طے کرلیاہے کہ مدارس اورنصاب کو عسکریت پسندی کا ذمہ دارٹھہراناہے تواسی لحاظ سے ثبوت وشواہد اکٹھے کئے۔ انہوں نے جس منطق سے مدارس کے نصاب کو موردالزا م ٹھہرایاہے، بعینہ اسی منطق سے قرآن وحدیث پر بھی یہ الزامات عائد کئے جاسکتے ہیں اور مختلف لوگ عائد کرتے ہی رہتے ہیں، کبھی یہ بات چلتی ہے کہ قرآن کی آیات جہاد نکال دی جائیں...

مکاتیب

ادارہ

محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب دامت برکاتہم۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ ستمبر ۲۰۱۶ء کے ماہنامہ الشر یعۃ میں مفتی محمد رضوان صاحب کی تالیف ’’مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار اور تنظیمِ فکرِ ولی اللّٰہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ ‘‘ کے دوسرے ایڈیشن پر مولانا سیّد متین احمد شاہ صاحب کا فاضلانہ تبصرہ پڑھا۔ تبصرہ نگار ممکن حد تک غیر جا نبد ار رہے ہیں اور تبصرے کو کسی طور یک رخا نہیں کہا جاسکتا۔ بہرحال غالباً عجلت کے سبب چند غلطیاں تبصرے میں راہ پاگئی ہیں ۔ ریکارڈ کی درستی کے لیے انہیں ذیل میں درج کیا جاتا ہے: ۱۔مولانا سندھی مرحوم کے سب سے بڑے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مولانا زاہد الراشدی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو پڑھ کر دین جاننے اور مزید جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے ان کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھا۔ تاہم، ان کے ایک موقف سے کچھ اختلاف پیدا ہوا ہے جو اہل علم و نظر کی خدمت میں برائے غور و فکر اور برائے نقد پیش کیا جاتا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنا یہ خیال کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے بھی پہلے حدیث کو ماننا ضروری ہے۔ قرآن کا قرآن ہونا بھی تب ہی ثابت ہوتا ہے کہ حدیث میں اسے اللہ کی کتاب بتایا گیا ہے۔ مثال بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ سورۃ الکوثر کو قرآن کا حصہ بھی...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مکرم و محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جناب محمد ظفر اقبال صاحب کی تصنیفات کو اللہ تعالیٰ نے کافی پذیرائی عطا فرمائی ہے۔ خصوصاً ان کی تازہ تصنیف ’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘بہت زیادہ قابل توجہ بنی ۔ گذشتہ سال ایکسپو سینٹر میں ’’انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز‘‘ کے اسٹال پر رکھے گئے تمام نسخے ہاتھوں ہاتھ لیے گئے ۔ مختلف جرائد اور اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں اس پر جاندار تبصرے شائع کیے جو مذکورہ تصنیف کی اہمیت کا ثبوت ہیں۔ گذشتہ قریبا ایک صدی سے مسلم مفکرین کا مغرب کے ساتھ تعامل اس اصول کی بنیاد...

مولانا غلام محمد صادق کے نام مکتوب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکرمی حضرت مولانا غلام محمد صادق زید مجدکم، مدیر اعلیٰ ماہنامہ النصیحہ چارسدہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ کل ہی ایک دوست نے ماہنامہ النصیحۃ کے ایک شمارہ کی طرف توجہ دلائی ہے جس کے اداریہ میں آنجناب نے مولانا محمد خان شیرانی، پروفیسر ساجد میر، اور راقم الحروف کو خطاب کر کے توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کے حوالہ سے کچھ نصائح فرمائے ہیں۔ یاد فرمائی کا شکریہ! توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کے حوالہ سے میرا موقف واضح ہے جس کا درجنوں مضامین میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہو چکا ہے، اس کا خلاصہ آنجناب کے لیے دوبارہ تحریر کر رہا...

مکاتیب

ادارہ

’’پاکستان اسٹڈیز انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں تحریک خلافت میں گاندھی کے کردار پر معروضی انداز میں نظرثانی کی جائے’’۔ یہ تعلیمی سفارش ۱۹۳۷ ء میں ہندوستان کے صوبوں میں قائم کانگریسی حکومت کے کسی متعصب راہنما کی نہیں ہے، پنجاب کی موجودہ مسلم لیگی حکومت کی نگرانی میں لاہور کے کالجوں میں دو پروفیسرصاحبان اور ایک انتظامی افسرپرمشتمل ایک کمیٹی نے رواداری اور روشن خیالی کے فروغ کے لیے جو سفارشات مرتب کی ہیں، یہ ان میں سے ایک چاول ہے۔ ملکی اور صوبائی سطح پر مختلف نصاب میں چند مزید مجوزہ تبدیلیاں ملاحظہ ہوں۔بریکٹ میں ہم نے اپنا تبصرہ دیا ہے: ۱۔ ’’طلبا...

مکاتیب

ڈاکٹر محمد شہباز منج

محترم المقام جناب محمد عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! گستاخی معاف !"الشریعہ "کے فل فلیج مدیر بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو مضامین کی عبارتوں میں کان کی جگہ آنکھ اور آنکھ کی جگہ کان لگانے کی اجازت مل گئی ہے۔ مدیر کا یہ اختیار تسلیم کہ وہ ضرورت کے تحت ایڈٹنگ کر لے ، لیکن یہ اختیار تو کوئی معقول آدمی قبول نہ کرے گا کہ متعلقہ مضمون میں سوال گندم اور جواب چنا کی کیفیت پیدا کر دی جائے۔ راقم الحروف نے"ممتاز قادری کی سزا: اپنی معروضات پر اعتراضات کا جائزہ" کے عنوان سے فروری 2016ء کے "الشریعہ" کے لیے جو مضمون بھیجا، اسے مکاتیب میں...

مکاتیب

ادارہ

(۱) ممتاز قادری کی سزا کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے راقم نے دسمبر 2015ء کے ’’الشریعہ‘‘ میں دلائل سے ثابت کیا کہ توہین رسالت پر سزائے موت کے قانون کے ہوتے ہوئے، کسی شخص کا توہینِ رسالت کے کسی ملزم کوماورائے عدالت قتل کرنا ،شرعی نقطہ نظرسے غلط ہے؛ لہٰذازیر بحث کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بے جواز نہیں۔ اس پر بعض کرم فرماؤں کی جانب سے کچھ اختلافات واعتراضات سامنے آئے ہیں۔ کچھ حضرات نے فرمایا ہے کہ آپ جیسے لوگ اس طرح کے دلائل سے یہود و نصاریٰ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ان کی پیروی ہی کیو ں نہیں کر لیتے تاکہ وہ خوش ہو جائیں!؛ لیکن قرآن...

مکاتیب

ادارہ

(۱) آج کل سوشل میڈیا پر’داعش‘ کے متعلق مولانا سید سلمان صاحب ندوی کا ایک مضمون بڑے پیمانے پر نشرکیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے مذکورہ تنظیم کو سلفیت سے منسلک کرتے ہوئے سلفی منہاج فکر اور سلفی علما کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ قبل ازیں انھوں نے اس تشدد پسند گروہ کی تحسین و ستایش کرتے ہوئے اس کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں ان سے مختلف اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ بہ ظاہر یہ مضمون اپنے اسی سابقہ موقف کے کفارے کے طور پر لکھا گیا ہے جس میں سلفیت خواہ مخواہ زیر عتاب آگئی ہے۔ ہم نے بعض احباب کے توجہ دلانے پر موصوف کی اس تحریر...

مکاتیب

ادارہ

(۱) ماہنامہ الشریعہ ستمبر 2015ء کے شمارے میں مولانا حافظ محمد رشید کا لکھا ہوا ایک مضمون ’’سید احمد شہیدؒ کی خدمات پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا احوال‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ مضمون ہزارہ یونیورسٹی میں قائم ’’ہزارہ چیئر’’ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے سید احمد شہیدؒ کی تحریک اور خدمات کے حوالے سے ایک بین الاقوامی سیمینار کی رپورٹ ہے۔ مضمون پڑھ کر دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا کہ ہمارے اصلی قومی و ملی محسنین کو یاد رکھنے والے الحمد اللہ آج بھی زندہ ہیں۔ آج جب ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اسلاف کے کارناموں سے قوم کو آگاہ کرنے کے حوالے سے مسلسل...

مکاتیب

ادارہ

بخدمت محترم و مکرم مولانا زاہد الراشدی زید لطفہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کے رسالۂ’’ غامدی صاحب کا تصورِ حدیث و سنت‘‘ کا اشتہار الشریعہ میں نظر پڑا تو میری خواہش پراس کی ایک کاپی میاں عمار صاحب نے مجھے بھیجدی ہے۔میں شکر گزار ہوں کہ مستفید ہونے کا موقع ملا۔اللہ آپ کے افادات کو قائم و دائم رکھے۔مگر استفادہ کیلئے شکر گزاری کے ساتھ ایک شکوہ گزاری کی بھی اجازت ہو۔ آپ کی تحریر بتارہی ہے کہ آپ غامدی صاحب کے موقف کو بالکل غلط سمجھ رہے ہیں یہاں تک کہ ’’وَمَن یُّشاقِقُ الرَّسولَ اوروَیَتَّبِع سَبیلَ غیرالمؤ مِنِین کی حدوں کو چھوتا ہوا۔مگر...

مکاتیب

ادارہ

(۱) برادر محترم جناب عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ اگست کے ’’الشریعہ‘‘ میں ’’تہذیبی کشمکش کا نیا باب ‘‘ کے عنوان سے جناب خورشید احمد ندیم کا کالم ’’بشکریہ روزنامہ دنیا ‘‘ شائع کیا گیا ۔ ندیم صاحب نے بہت اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔ سنجیدگی اور متانت ان کے ہر کالم کی خصوصیات میں شامل ہیں ۔ تاہم اپنے استاد محترم کی طرح ان کی تحریرات میں بھی بسا اوقات مبالغے اور انفعال کے مظاہر نظر آتے ہیں ۔ مثال کے طور پر انھوں نے ہم جنس پرستی کے مسئلے پر امریکی عدالت عظمی کے فیصلے کو ’’ تاریخ ساز‘‘ قرار دیا ہے ، بعینہ اسی طرح...

مکاتیب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

الشریعہ، فروری ۲۰۱۵ء کے مکاتیب میری جنوری ۲۰۱۵ء کے الشریعہ میں شائع ہونے والی گزارشات پر احبابِ گرامی کے شکوے پر مشتمل ہیں۔ سو میرا حق یا فرض ہے کہ اس ضمن میں ضروری وضاحت کروں۔ سنبھلی صاحب نے جناب مولانا زاہدالراشدی سے دو وضاحتی جملے شائع نہ کرنے کا گلہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں شاید انہی جملوں کا نہ ہونا میری تحریر کا محرک تھا، حالانکہ میں نے ان کے الفاظ، جو اپنے مفہوم میں بالکل واضح تھے، نقل کرکے اپنا موقف پیش کیا تھا۔ بہرحال ان کے انتہائی مختصر تازہ ارشادات پرمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ انہوں نے اپنے من جملہ اربابِ مدارس ہونے کو...

مکاتیب

ادارہ

(۱) لکھنؤ۔ ۲۲ جنوری ۲۰۱۵ء۔ بخدمت محترم مولاناراشدی حفظہ اللہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ کل جنوری کا شمارہ موصول ہواہے۔پشاور کا سانحہ یہاں ہم سب کو ہلاگیا۔ہائے بے دردی و سنگدلی!اس پر محمد مشتاق احمد صاحب کا فقہی کلام ’’سوچا سمجھا جنون‘‘ بڑی بروقت چیز نظر آئی۔ اس سلسلہ میں کچھ اور بھی آنا چاہیے۔ اور شیخ الازہر کے نام مکتوب کی روشنی میں امید کی جانی چاہیے کہ آپ خلافت قائم کرنے کے صحیح طریقہ کی کچھ وضاحت ضرور فرمائیں گے۔ اور صاحب یہ مرحوم شکیل اوج صاحب کے حوالہ سے میرے خط پر جن صاحب نے بڑا شکوہ کیا ہے توآپ اگر ایک سطر کا نوٹ اس پر دے دیتے توان...

شیخ الازہر کے نام مکتوب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(عالم اسلام کے قدیم علمی مرکز جامعہ ازہر قاہرہ میں ۳،۴ دسمبر کو ’’مواجھۃ التطرف والارھاب‘‘ (دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ) کے عنوان پر دو روزہ عالمی کانفرنس ہوئی جس میں مختلف ممالک کے سرکردہ علماء کرام شریک ہوئے۔ جامعہ کے سربراہ شیخ الازہر معالی الدکتور الشیخ احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے راقم الحروف کو بھی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا، مگر بعض وجوہ کے باعث میں سفر کا پروگرام نہیں بنا سکا، البتہ شیخ الازہر محترم کے نام ایک عریضہ میں اس موضوع کے حوالہ سے اپنے تاثرات و احساسات انہیں بھجوا دیے۔ اس عریضہ کا اردو متن...

مکاتیب

ادارہ

(۱) عزیز گرامی عمار خان ناصر، مدیر ’’الشریعہ‘‘۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ گزارش ہے کہ غامدی صاحب کے تصور حدیث وسنت کے عنوان سے آپ کے والد گرامی حفظہ اللہ کے جو دو مضمون الشریعہ میں چھپے تھے، جس کے جواب میں غامدی صاحب نے ایک وضاحتی مضمون تحریر کیا تھا جو الشریعہ ہی میں چھپا ہے، اس میں غامدی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ: ’’اس بارے میں میرے اور ائمہ سلف کے موقف میں سرمو فرق نہیں ہے۔‘‘ راقم کے خیال میں موصوف کا یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے۔ ان کے اور ائمہ سلف کے موقف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسی دعوے کے تناظر میں راقم نے غامدی صاحب کے نظریات...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ لندن ۲۶؍اکتوبر ۱۴ٍ۲۰ء۔ بخدمت گرامی مرتبت مولا نا زاہد الراشدی دامت الطافہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ راقم نے آپ کے جوابِ باصواب کی رسید دیتے ہوئے عرض کیا تھا کہ رسید کے علاوہ مجھے کچھ اور بھی کہنا ہے جو ذرا ٹھہر کر۔ یہ عریضہ اسی سلسلہ کا ہے۔ عرض یہ کرنا تھا کہ اپنا روزنامہ اسلام والا محولہ کالم ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔ میری نظرمیں تو وہ اوج صاحب کو واضح طور علمی اعتبار عطا کرتا تھا۔ اسی کے باعث تو مجھے اندیشہ ہوا تھا کہ میں نے اپنی تنقید میں کہیں جہالت کا ثبوت تو نہیں دے دیا۔ اس گزارش کا مقصد اوج صاحب کے مسئلہ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی، تمغہ امتیاز۔ بعد از سلام مسنون، فقیر کا نام بھی مبارک باد دینے والوں میں شامل کیجیے۔ دعا ہے کہ مبارک ہی رہے۔ ایوارڈ کی خبر عزیزم جعفر نے مجھے روزنامہ اسلام کا اداریہ بھیج کر دی۔اور اس سے ایک ایسی بات معلوم ہوئی کہ ذرا سا فکر میں ڈال گئی۔ اور وہ تھی مرحوم اوج صاحب کے بارے میں آپ کے خیالات۔ میں موصوف سے نام کو بھی واقف نہ تھا۔ ان سے اولین واقفیت ان کے ایک مضمون نے کرائی جو معارف اعظم گڈھ میں نکلا تھا اور دوماہ ہوئے، میرے دوست ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے اس کی نقل مجھے بھیجی۔ مضمون اسلام میں باندیوں (ما ملکت اَیمانکْم)...

علماء دیوبند ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوب

ادارہ

عزیز گرامی میاں عمار صاحب۔ شکریہ کہ الشریعہ کے شمارے تا اگست موصول ہو گئے۔ امید ہے اب ماہ بماہ آتے رہیں گے۔ پیکیٹ کھولنے پر جو ذرا سی ورق گردانی فوراً ہی کی تو خاص اشاعت اور جون ہی کی عام اشاعت میں دو باتیں توجہ دلانے کے قابل نظر آئیں۔ خاص نمبر کے اسامہ مدنی صاحب کے مضمون (در دفاعِ مولانا راشدی) میں حضرت مولانا علی میاں صاحب کو فاضل دیوبند بتا دیا ہے جو واقعہ نہیں ہے۔ مولانا نے صرف چار مہینے دیوبند میں رہ کر بخاری اور ترمذی کے درس کی سماعت کی تھی۔ (پرانے چراغ جلد اول، تذکرہ حضرت مدنی)۔ جبکہ عام شمارہ میں انس حسان صاحب نے حضرت شیخ الہند کو جمعیۃ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مشفقی ومکرمی جناب عمار ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاجِ گرامی بخیر! مئی 2014ء کے شمارہ ’’الشریعہ‘‘ میں جناب عاصم بخشی کا مکتوب نظر سے گذرا جس میں غزالی اور ابنِ رشد کے حوالہ سے میرے مضمون (فروری، مارچ 2014ء) پر کچھ تعریضات پیش کی گئی ہیں۔ زیرِ نظر مکتوب کے اندر انہی تعریضات کے جواب میں کچھ توضیحات پیش کرنا مقصود ہیں۔ ۱۔ مکتوب نگار کو اعتراض ہے کہ غزالی کا دفاع کرتے ہوئے میں نے اپنے مضمون میں ناقدینِ غزالی کے جس ’’فرضی حملہ‘‘ کے خلاف جوابی کار روائی کی ہے، اس حملہ کا کوئی حوالہ اور ماخذ نہیں بتایا اور نہ ہی اس حملہ کے کسی...

مکاتیب

ادارہ

محترم ومکرم عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم! الشریعہ کے اپریل 2014ء کا شمارہ نظروں سے گزرا۔ اس شمارہ میں راقم کا مضمون ’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد۔ ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ شائع کیا گیا۔ یہ یقیناً آپ لوگوں کی روایتی اعلیٰ ظرفی ہے کہ باوجود اس کے کہ اس مضمون میں الشریعہ کے رئیس التحریر پر بدویانہ انداز میں تنقید کی گئی تھی، آپ لوگوں نے اسے شائع فرمایا۔ یقینا یہ حسن اخلاق اور اعلیٰ ظرفی ہمارے دینی و مذہبی حلقوں کے لیے ایک عمدہ معیار اور مثالی نمونہ ہے۔ اگر ہمارے مذہبی و دینی حلقے اس حسن اخلاق واعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنے لگ جائیں تو اس لڑتی بھڑتی...

مکاتیب

ادارہ

(۱) جناب ایڈیٹر ماہنامہ الشریعہ۔ السلام علیکم۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ اس وقت الحمد للہ بہت سے فکری موضوعات کے لیے اہل علم وفکر کے درمیان علمی مباحثے کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ فورم کا کردار ادا کر رہا ہے۔ چونکہ الشریعہ کے قارئین بھی تقریباً سبھی اہل علم احباب ہیں، اس لیے خیال ہوا کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے حوالے سے معروف صحافی سلیم صافی کے کالم کا طالب علمانہ جواب آپ کے اور ’الشریعہ‘ کے تمام اہل نظر قارئین کی خدمت میں پیش کردوں۔ امید ہے مضمون آپ کے اور ’الشریعہ‘ کے قارئین کی نظر التفات کے قابل ہوگا۔ اکرم تاشفین۔ کالم نگار ماہنامہ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب سید متین احمد شاہ صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں مسلمان عورت کا غیر مسلموں کے ساتھ نکاح کے موضوع پر آپ کا مقالہ پڑھا۔ ماشاء اللہ خوب لکھا ہے ، اگرچہ کہیں کہیں مجھے طرز استدلال سے اختلاف ہے۔ تاہم مقدمات اور نتائج سے مجھے بنیادی طور پر اتفاق ہے۔ آخر میں برادرم جناب عمار خان ناصر کا مکتوب بھی شائع کیا گیا ہے اور مجھے یہ چند سطور لکھنے پر اسی مکتوب نے مجبور کیا ہے کیونکہ اندیشہ یہ ہے کہ کہیں ان کے مکتوب کی وجہ سے آپ کی رائے میں بھی کچھ تبدیلی نہ آگئی ہو۔ عمار بھائی...

مکاتیب

ادارہ

(۱) جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ دسمبر کے الشریعہ میں ایک مضمون ’’ پاکستانی جامعات میں قرآنیات کا مطالعہ‘‘ نظر سے گزرا۔عنوان پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا اور اس امید کے ساتھ پڑھنا شروع کیا کہ اس میں پاکستانی جامعات کے نصابِ تفسیر وعلومِ تفسیر کے حوالے سے ایک جامع استقرا سے کام لیا گیا ہو گا اور اس کے محاسن و معائب کو نمایاں کیا گیا ہوگا، لیکن افسوس ہے کہ ’’پاکستانی جامعات ‘‘ کے عنوان کے اعتبار سے موضوع جس وسعت کا متقاضی تھا، وہ زیرِ نظر مضمون میں نظر نہیں آیا۔ اصولِ تفسیر کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب فرماتے...

مکاتیب

ادارہ

محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ۔ امید ہے آپ، محترم عمار صاحب اور دیگر احباب ادارہ خیریت سے ہوں گے۔ چند ماہ قبل ’’الشریعہ‘‘ کے ایک شمارے میں مفتی ابولبابہ صاحب کا ایک مضمون جو امیر عبد القادر الجزائری صاحب کے متعلق تھا، پڑھ کر قلب بے تاب تو ہوا کہ ایسی زبان جو کسی ان پڑھ آدمی کو بھی زیب نہیں دیتی، ایک مفتی کے قلم سے کیسے صفحۂ قرطاس پر آگئی؟ تاہم کچھ گھریلو کچھ سیاسی اور کچھ پیشہ وارانہ مصروفیات آڑے آتی ہیں اور قبلہ و کعبہ مفتی صاحب کی زبانِ قلم پر قلم نہ اٹھ سکا۔ ایک مدت سے سوچ رہا تھا کہ لکھے ہوئے عرصہ بیت گیا، کچھ لکھا جائے۔...

مکاتیب

ادارہ

(۱) ۲۲ نومبر۲۰۱۳ء۔ بگرامی خدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زیدت مکارمہٗ۔ مولانا! السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ جی تونومبر کے الشریعہ میں ’’۔۔۔ ہائڈ پارک ‘‘والا کلمہ حق پڑھ کر کچھ لکھنے کو چاہا تھا مگر اس کے لئے استخارے کی ضرورت تھی جو میں نہیں کرسکا،حتیٰ کہ نومبر کا نقیبِ ختمَِ نبوت آپہنچا ۔اس میں میرے والدِ ماجد ؒ کے ایک مضمو ن کے ساتھ آنجناب کے والدِماجدؒ کاایک فتویٰ بھی یزید کے بار ے میں چھپا ہے، اپنا جو نقطہ نظر یزید کے بارے میں ہے یہ فتویٰ تو اپنے الفاظ سے اسے بہت ہی تائید بہم پہنچاتا ہے ، کہ آجکل کے اعتبار سے تو وہ ولی تھا، مگر میں ان الفاظ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بعد از سلام مسنون۔ میں شاید ان دنوں پچھلے دو تین سالوں کے الشریعہ کی ورق گردانی کی بات لکھ چکا ہوں۔ اسی ضمن میں نومبر ۲۰۱۱ء کے شمارہ میں محمد اظہار الحق صاحب کا مضمون پڑھنے میں آیا۔ دلچسپ نکلا۔ اظہار صاحب نے اس میں صفحہ ۴۷ پر سوال اٹھایا ہے کہ فلاں خط میں فلاں صاحب کے متعلق ایسے ایسے ناملائم الفاظ کی بہتات ہے۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ ’’اس کی اشاعت ایک دینی پرچہ میں کیوں ضروری تھی اور اس کے شائع نہ ہونے سے کون سی صحافتی اقدار مجروح ہو رہی تھیں۔‘‘ مجھے یاد آیا کہ بارہا مجھے خیال ہوا کہ آپ کو اور مولانا کو لکھا جائے کہ آپ اپنے بارے یہ فراخ حوصلگی...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ میں ایک عرصہ سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کا قاری اور آپ کا عقیدت مند ہوں ۔ دینی موضوعات پر ’’الشریعہ‘‘ نے بحث ومذاکرہ کی لائق تحسین روایت قائم کی۔ اللہ کرے یہ جاری وساری رہے۔ البتہ گزشتہ کچھ شماروں میں حضرت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جس طرح بلا جواز تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اس سے سخت دلی صدمہ ہوا۔ چوہدری محمد اسلم صاحب کی یادداشتوں پر جس طرح محمد یوسف صاحب ایڈووکیٹ نے خامہ فرسائی کرتے ہوئے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بسم اللہ۔ لندن، ۲۹ جولائی ۲۰۱۳ء۔ مکرم و محترم مولانا زاہد الراشدی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ جون کا شمارہ پاکر میاں عمار صاحب کو لکھا تھا کہ بھئی یہ زاہد صدیق مغل صاحب (جو مغربی اخلاق پر لکھ رہے ہیں)یہی تو نہیں تھے جنھوں نے مولانا تقی عثمانی صاحب اور اسلامی بینکنگ پر کافی لکھا تھا؟یہ تو بس یونہی خیال آیا تو پوچھ لیا ورنہ کوئی خاص مقصد نہ تھا ۔بہرحال، وہ ہوں یا کوئی دوسرے صاحب۔ یہ مضمون چونکہ ہم ’’مغرب باسیوں‘‘ سے گہرا تعلق رکھتا ہے اس لیے پرھنے میں دلچسپی ہوئی ۔مگریہ Morality اورEthics کی اصطلاحوں میں بات سے مضمون کاجو مطالبہ ہم لوگوں اور تمام...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب محمد عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ ’’خاطرات‘‘ کے سلسلے میں ماشاء اللہ نہایت اہم اور فکر انگیز تحریریں شائع ہو رہی ہیں ۔ربِّ کریم آپ کو اس کے تسلسل اور دین کے حوالے سے سامنے آنے والے جدید چیلنجز کے مقابلہ کی ہمت ارزانی فرمائے ۔’’الشریعہ‘‘ جون ۲۰۱۳ء کے خاطرات میںآپ نے ’’عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف ‘‘ کے زیر عنوان دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ کے اس المیے کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف بالعموم جدید علوم سے واقفیت حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنے روایتی علمی ذخیرے سے بھی نا بلد ہیں۔ان کے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم جناب مدیر الشریعہ، گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کے موقر مجلے کے تازہ شمارے میں ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب (صدر اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) کے ایک خط کے جواب میں عبد الفتاح محمد صاحب کا عربی مکتوب پڑھا۔ مکتوب نگار نے پاکستان کے اہل تشیع کے خلاف غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور اسلام آباد میں شیعہ مدارس کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے کہ ’’اسلام آباد میں سات شیعہ جامعات قائم ہیں جن میں سے سب سے چھوٹے جامعہ کا حجم بھی اہل سنت کی سب سے بڑی یونی ورسٹی سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دارالحکومت کے وسط میں جامعۃ الکوثر قائم ہے جو اردو میں الکوثر...

مکاتیب

ادارہ

(۱) مکرمی جناب مدیر صاحب ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کے ماہنامہ کی وساطت سے محترم جناب خواجہ امتیاز احمد صاحب سابق ناظم اسلامی جمعیۃ طلبہ اسلام گوجرانوالہ نے ہمارے استفسار پر اپنے سوالات کا اظہار فرمایا۔ ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قارئین کو تذبذب اور ابہام کی کیفیت سے نکالا ہے، کیونکہ ان کے پہلے اجمالی بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ شاید وہ کوئی ایسے علمی سوالات تھے جن کا جواب مفسر قرآن ؒ نہیں دے سکے تھے یا خدانخواستہ بلاوجہ انہوں نے جواب نہ دے کر اپنے منصب سے بے وفائی کی تھی۔ لیکن...

مکاتیب

ادارہ

(۱) ۱۹ اپریل ۲۰۱۳ء۔ مکرمی ومحترمی جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ گزشتہ مہینے آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں میرے دفتر میں تشریف لائے اور مجھے ملاقات کی سعادت نصیب فرمائی۔ اس کے لیے میں آپ کا تہ دل سے ممنون ہوں۔ میرے لیے وہ دن یقیناًبے حد خوشی کا دن تھا۔ آپ سے ملاقات کے دو تین بعد آپ کی عنایت سے آپ کے چند کالم، ’’الشریعہ‘‘ اور ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے تازہ شمارے بھی ملے جن کے لیے میں آپ کا بے حد مشکور ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں آپ اور عزیزم محمد عمار خان ناصر کی تحریروں کا ایک مدت سے مداح ہوں۔ خصوصاً اس وجہ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاجِ گرامی بخیر!’’الشریعہ‘‘ کا سفر رواں دواں ہے۔ مشکور ہوں کہ آپ میرے خیالات کو ’’الشریعہ ‘‘ میں جگہ دیتے ہیں۔ حقیقی تعریف تو صرف اللہ کے لیے ہے اور باقی سب پانی کے بلبلے ہیں۔ بلبلہ کی اگر کوئی قدروقیمت ہے تو وہ محض سمندر کی وجہ سے ہے اور اگر کوئی کم زوری ہے تو وہ اس کی اپنی خامی ہے۔’’الشریعہ‘‘ میں بھی بہت سی خوبیاں اور خامیاں ہوں گی۔ مجھے ’’الشریعہ‘‘ کی جن خوبیوں نے متاثر کیا ہے ‘ وہ یہ ہیں۔ ۱۔ اکثر مجلات کے ٹائٹل پہ ایک علامتی جملہ لکھا ہوتا ہے کہ ’’ادارہ کا مقالہ...

دینی مدارس میں عصری علوم ۔ محمد افضل کاسی کا مکتوب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں عصری علوم کو شامل کرنے کے حوالہ سے مختلف اصحابِ دانش نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس مفید مباحثہ کے نتیجے میں بہت سے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں جن پر غور و خوض یقیناً اس بحث کو مثبت طور پر آگے بڑھانے کا باعث ہوگا، اس سلسلہ میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک طالب علم محمد افضل کاسی آف کوئٹہ کا خط پیش خدمت ہے، راقم الحروف کے نام اس خط میں انہوں نے اس مسئلہ پر ایک طالب علم کے طور پر اپنے جذبات و تاثرات پیش کیے ہیں جو یقیناً قابل توجہ ہیں۔ ہماری ایک عرصہ سے یہ رائے چلی آرہی ہے جس کا مختلف محافل میں ہم نے اظہار کیا...

مکاتیب

ادارہ

محترم المقام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، رئیس التحریر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ السلام وبرکاتہ۔ مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔ آپ کے رسالہ الشریعہ کا دوسری دفعہ مطالعہ کا موقع ملا، بہت خوشی ہوئی۔ پہلے آپ کا نام جمعیۃ علماء اسلام کے رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا، پھر معلوم نہیں کیا وجہ بنی اور آپ کی دوری ہوگئی اور آپ نے کوئی نئی پارٹی بنائی ہے؟ اور کوئی اکیڈمی بھی بنائی ہے اور یہ شمارہ بھی نکال رہے ہیں۔ میں ایک چھوٹا سا طالب علم ہوں، حقائق و واقعات کو جاننے کا شوق ہے۔ اسلام کے نظام کا غلبہ باقی ادیان پر اور نظام اسلام کے نفاذ...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زید مجدہم۔ محترم مولانا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کو یہ جان کر یقیناًخوشی ہوگی کہ وہ شخص جس کے لیے آپ نے قارئین الشریعہ سے دعائے صحت کی درخواست کی تھی، وہ بالآخر اتنا صحت مند ہو ہی گیا کہ مایوسی کے ساتھ ہندوستان جا کر پھر لندن لوٹ آیا ہے۔ آپ ہی نے سب سے پہلے خاکسار کے لیے دعائے صحت کی درخواست کی تھی، سو آپ ہی کو سب سے پہلے بہتری کی اطلاع دے رہا ہوں۔ ڈیڑھ سال سے قلم ہاتھ میں نہیں لیا تھا۔ اسی کا اثر ہے کہ حروف صاف نہیں بن رہے۔ بالفاظ دیگر لکھنا بھول گیا ہوں۔ کمپیوٹر کی وجہ سے لکھنے کی عادت چھوٹ بھی گئی تھی۔...

پروفیسر مشتاق احمد کا مکتوب گرامی

محمد مشتاق احمد

(جناب ایمن الظواہری کی کتاب پر راقم کے تنقیدی تبصرے پر محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب نے درج ذیل خط ارسال فرمایا جسے موضوع کی مناسبت سے یہاں درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مدیر)۔ برادر محترم عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ ایمن الظواہری کی کتاب پر آپ کا تبصرہ پڑھا ۔ ماشاء اللہ تبصرے کا حق ادا کردیا ہے۔ مجھے آپ کے مقدمات و دلائل اور وجہِ استدلال سے مکمل اتفاق ہے۔ البتہ دو امور کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے: ایک یہ کہ آپ نے حنفی فقہا کے متعلق درست فرمایا ہے کہ وہ سربراہِ حکومت (ریاست نہیں کیونکہ ریاست نامی شخصِ اعتباری کا...

مکاتیب

ادارہ

(۱) جناب برادرم مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا ایک شمارہ ایک ساتھی کے پاس سے لے کر دیکھا۔ اس میں ایک ساتھی کے نام مکتوب میں آپ نے اپنا نظریہ بیان کیا۔ خلاصہ یہ معلوم ہوا کہ ابھی تک اثنا عشریہ شیعہ کے کفر پر اجماع امت نہیں ہوا، اس سلسلے میں تحقیق جاری ہے۔ بندہ نے مناسب سمجھا کہ اس تحقیقی عدالت میں وہ دلائل بھی پیش کر دوں جو گزشتہ صدی میں حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ نے ایک تحقیقی دستاویز تیار کر کے حضر ت مولانا ایوب جان بنوریؒ کی خدمت میں بجھوائی...

مکاتیب

ادارہ

(ا) محترمی جناب محمد عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم۔ آپ کا مقالہ ’’خروج‘‘ مجھے سہیل عمر صاحب ڈائریکٹر اقبال ایکاڈیمی نے بھیجا ہے جو میں نے بڑے شوق سے پڑھا۔ جب آپ نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف گجرات کے منعقدہ سیمینار پر کیا تھا تو میں موجود نہ تھا۔ اسی طرح میں نے بھی وہاں لکچر ’’وہ کام جو اقبال ادھورے چھوڑ گئے‘‘ کے موضوع پر دیا تھا جو اب ایک مقالے کی صورت میں تحریر کر دیا گیا ہے۔ شاید سہیل عمر صاحب اس کا پرنٹ آپ کو ارسال کریں۔ مناسب سمجھیں تو ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں شائع کر سکتے ہیں۔ ’الشریعہ‘ مجھے باقاعدہ ملتا ہے۔...

مکاتیب

ادارہ

(۱) برادرم مولانا زاہد اقبال صاحب ۔ السلام علیکم مزاج گرامی؟ آپ کی کتاب ’’اسلامی نظام خلافت‘‘ میں نے دیکھ لی ہے اور اس پر تقریظ بھی لکھ دی ہے، مگر میں اس سلسلہ میں بعض تحفظات رکھتاہوں جو الگ درج کر رہا ہوں۔ انہیں غور سے دیکھ لیں اور اگر میری گزارشات آپ کے ذہن میں آجائیں تو متعلقہ مقامات کا از سر نوجائزہ لے لیں۔ ۱۔ کتاب قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے علمی ذخیرے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے اورآج کے عالمی حالات اور معروضی حقائق کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے میری رائے یہ ہے کہ اگر خلافت کا نظام آج سے دوسوسال قبل کے ماحول میں قائم کرنا ہے تو اس کے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) بخدمت حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ الشریعہ کے اکتوبر ۲۰۱۱ کے شمارے میں ’’توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ ۔ چند گزارشات‘‘ کے عنوان کے تحت آپ نے مجلہ صفدر شمارہ ۶ میں شائع شدہ میرے تبصرے پر بھی کچھ اظہار خیال کیا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کم از کم میرے مضمون کو بالکل نہیں سمجھ پائے۔ ’’توہین رسالت کا مسئلہ‘‘ کے نام سے عمار خان صاحب نے ایک کتاب لکھی جس میں انھوں نے اپنا موقف یہ ظاہر کیا کہ توہین رسالت کے جاری کردہ قانون کو جو کہ سزاے موت ہے، جب ذمی پرمنطبق کریں تو وہ قانون فقہ اسلامی سے مطابقت...

مکاتیب

ادارہ

محترم ومکرم جناب مدیر صاحب، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم! امید ہے کہ جناب مع الخیر ہوں گے۔ میں گزشتہ کچھ سالوں سے جناب کے موقر جریدے کا ایک ادنیٰ قاری ہوں۔ ا س میں شائع ہونے والی اکثر تحریریں بہت اچھی ہوتی ہیں اور مختلف موضوعات پر دینی تناظر میں گفتگو کو آگے بڑھانے میں معاون ہوتی ہیں۔ اگرچہ دل بہت چاہتا ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہونے والی تحریروں کا اسلوب علمی ہوتا اور ان کی فکری سطح بھی کچھ بلند ہوتی، لیکن آپ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کی میرے دل میں بہت عزت ہے کہ ہمارے آج کے تہذیبی ویرانے میں ’’الشریعہ‘‘ ایک توشہ خاص ہے۔ آپ کے...

مکاتیب

ادارہ

(۱) محترم ومکرم جناب زاہدالراشدی صاحب زیدت معالیہ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ الشریعۃ بابت جولائی ۲۰۱۱ء میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب کے مضمون بعنوان ’’دعوت اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے‘‘ کی دوسری قسط کا مطالعہ کیا۔ اگرچہ پہلی قسط ابھی تک نظروں سے نہیں گزری، لیکن اسی قسط سے پہلی قسط کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مولانا محترم کے اس مضمون کا خلاصہ یہ لگتا ہے کہ یہ اُمت دعوت ہے! یہ بات سو فیصدی سچ ہے، لیکن اس بات کو موجودہ عالمی تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیاہے، اُس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیش کرنے والا نہ صرف جہاد...

مکاتیب

ادارہ

(۱) (ماہنامہ ’’الحامد‘‘ لاہور کے مارچ ۲۰۱۱ء کے شمارے میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ کا ایک مضمون شائع ہوا تھا جسے ’’الحامد ‘‘ کے شکریے کے ساتھ الشریعہ کے جون ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ’’توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش‘‘ کے عنوان سے نقل کر دیا گیا تھا۔ تحریر کا اصل ماخذ اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ ۲۰۰۳-۲۰۰۴ء ہے جو کونسل کی طرف سے سرکاری طور پر طبع شدہ ہے۔ اس ضمن میں دار العلوم کراچی کے دار الافتاء کی طرف سے ہمیں درج ذیل وضاحتی موصول ہوا ہے جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)۔ مکرمی جناب مدیر ماہنامہ...

مکاتیب

ادارہ

سوال: فقہا ایسے بہت سے فرقوں کو مسلمان ہی شمار کرتے ہیں جن کے عقائد تو قطعیات اسلام کے خلاف ہوتے ہیں مگر پھر بھی تاویل کی بنا پر وہ تکفیر کی تلوار سے بچ جاتے ہیں۔ (واضح رہے یہاں قطعیات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ثبوت قطعی ہو)۔ یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ نے جہمیوں کے پیچھے نماز پڑھ لینے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ قادیانی یوں کہتے ہیں کہ آیت قرآنی ’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘ میں خاتم النبیین، خاتم المرسلین کو مستلزم نہیں اور اسی طرح لا نبی بعدی بھی لا رسول بعدی کو مستلزم نہیں، مگر فقہاے کرام ان پر کفر کا وار ضرور کرتے ہیں۔ اب واضح یہ ہونا چاہیے کہ...

مکاتیب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱) محترم جناب عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ محترم ڈاکٹر محمود احمدغازی مرحوم پر الشریعہ کا خصوصی شمارہ اوراپنی تالیف’’توہین رسالت کا مسئلہ۔چند اہم سوالات کا جائزہ‘‘ ارسال فرمانے کا شکریہ۔ثانی الذکر کے بالاستیعاب اوراول الذکر کے چنیدہ مقامات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ ان دنوں توہین رسالت کے مسئلہ کے زیر بحث آنے کے تناظر میں راقم کی رائے ہے کہ توہینِ رسالت پر سزائے موت ہی ہونی چاہیے اور سزائے موت کا قانون نہ صرف باقی رہنا چاہیے،بلکہ اس قانون پر کسی بھی دوسرے قانون پر عمل درآمد کے سلسلہ میں متصور مستعدی سے کہیں زیادہ...

توہین رسالت کے مسئلے پر ایک مراسلت

محمد عمار خان ناصر

(۱) مکرمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کے اٹھائے ہوئے سوالات کے حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں: ۱۔ آپ کے پہلے نکتے کا حاصل میرے فہم کے مطابق یہ ہے کہ عہد رسالت میں مختلف افراد کو توہین رسالت کی جو سزا دی گئی، اس کی علت محض توہین نہیں بلکہ قبول حق سے انکار بھی تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا براہ راست مخاطب ہونے کی وجہ سے، پہلے ہی سزاے موت کے مستحق تھے جبکہ ان کی طرف سے توہین وتنقیص کے رویے نے ان کے اس انجام کو مزید موکد کر دیا تھا۔ مجھے اس احتمال میں زیادہ وزن دکھائی نہیں دیتا۔ پیغمبر کے زمانے میں خود پیغمبر کے سامنے...
1-50 (135) >
Flag Counter