ہندوستان کی روایتی اسلامی فکر میں تاریخ اور قانونی معیاریت (۲)

ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

ترجمہ: وارث مظہری

(قاری محمد طیب کے افکار کی روشنی میں اسلامی شریعت کا مطالعہ۔)


اجتہاد کی تشریحات

قاری طیب صاحب کی اجتہاد کی مجموعی تشریح میں تین متلازم عناصر ہیں: تقویٰ،علمیات اور تاریخ۔ ان تینوں زاویوں کو نظر انداز کرنے سے ان کے تصور اجتہاد کی غلط تفہیم اور ساتھ ہی ان چیزوں کے ان کے تصور کی تحریف ہو سکتی ہے۔ زمانۂ حال کے آزاد خیال تصور اجتہاد اوراخلاقیات کی تشریح و تعبیر میں مشکل ہی سے ایسی قواعد سازی یا قواعد کی تلاش کا سراغ ملے گا، جس کو تقویٰ اور فقیہ و عالم کے شخصی اخلاق کا پابند بنایا گیاہو۔ اس کے برعکس قاری صاحب نہ صرف اس زاویہ کو خاصی اہمیت دیتے ہیں بلکہ مذہبیات کی تعبیر کی اپنی گفتگو میں وہ اسے مرکزی مقام دیتے ہیں۔

آگے وہ اپنی گفتگومیں عالم تکوین میں نئی ایجادات و ممکنات کی تلاش کو بھی مرکزی خیال بناتے ہیں جوکتابِ فطرت ہے اور عالم تشریع بھی جوکہ کتابِ الٰہی ہے، اُسی کے مماثل ہے۔ پھراس مثلث کے تیسری ترکیبی جز پر یوں گفتگو کی گئی ہے کہ کیسے ہر انسانی قلب و روح پر الٰہی نقوش ظہور پذیر ہوتے ہیں جنہیں صوفیا لوحِ قلب سے موسوم کرتے ہیں۔(۳۸)

تقویٰ

قاری طیب صاحب بتاتے ہیں کہ وحی خدا کے فرستادوں کے لیے شخصی اوصاف کو شامل ہے اور اخلاقیات کا بڑاحصہ بقیہ انسانیت کو ان کے شخصی اوصاف سے ہی ملتا ہے۔اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پیغمبروں نے خارجی و سائل سے تبھی کام لیا ہے جب داخلی طورپر ان کی شخصیتیں کامل اور پاکیزہ ہو گئیں اور روحانی طورپر بلند پیغمبروں کو واضح فائدے بھی ملے، کیونکہ لوگوں کو ان میں رشد و ہدایت کے رول ماڈل مل گئے۔ چونکہ خدا کے رسولوں کو روحانی اور اخلاقی کاملیت کا وہ درجہ ملا تھا جو عام لوگوں سے بہت ارفع تھا، لہٰذا انہیں اپنے پیرو کاروں کے لیے اخلاقی تعلیمات کا مفہوم بتانا آسان ہو گیا۔(۳۹)

دوسری طرف ان سے کم درجہ کے لوگ مثلاً علماء کو سب سے پہلے اخلاقی اور قانونی نظام کے ثانوی ضوابط اس علم کی روشنی میں تلاش کرنے پڑتے ہیں جوانہیں تعلیم و تحقیق کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور جب یہ طبقہ روحانی برکات اور تزکیۂ نفس و تصفیۂ قلب کے اعتبار سے ارتقاء کرتا ہے جیسے یہ تمام داخلی احوال جو احتسابِ نفس اور مراقبہ وغیرہ کی سخت محنت کے بعد حاصل ہوتے ہیں، وہ بھی بتدریج اخلاقی تعلیمات میں پنہاں اخلاقی اسباب اور تکوینی اسباب کے ابعاد دریافت کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کی روحانی تیاری ایسے علماء کو قیاسی ضابطے وضع کرنے اور اشباہ و نظائر کے صحیح اطلاق کے قابل بنا دیتی ہے۔انہیں اخلاص کا وہ درجہ ملتا ہے جس سے وہ اجتہاد کے اصول و ضوابط تلاش کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ایمان و یقین اور علم و عمل سے نہ صرف ان کی ثقاہت بڑھتی ہے بلکہ رحمت خداوندی بھی ان پر مہربان ہوتی ہے۔(۴۰)یہاں قاری طیب صاحب اپنی تائید میں ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ: من عمل بماعلم ورثہ اللہ علم ما لم یعلم’ جس نے اپنے علم پر عمل کیا تو اللہ تعالی اسے ایک ایسے علم کا وارث بناتا ہے جو اب تک اس کے پاس نہ تھا۔ (۴۱) متصوفانہ فقہی خطاب میں اخلاقی تشکیل کے لیے ایک لفظ جو اکثر استعمال ہوتا ہے وہ ذوق ہے جس کا لفظی مفہوم مزہ یا taste ہے، لیکن اصطلاحاً اس کا مفہوم ہے روحانی بصیرت اور الوہی اشیا کا علم۔ اس میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ انسان کو اخلاقی و روحانی تربیت سے گزرنا ضروری ہے تاکہ وہ اخلاقی احساس کے تئیں ایک جمالیاتی حس کو ارتقا دے سکے جس کے ذریعے اسے باطنی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ یہ صلاحیت حاصل کر کے اب ایک فقیہ مزید علم حاصل کرتا ہے جس سے وہ ظاہری علم میں مطابقت دے سکے اور شریعت کے مجموعی مقصد یعنی سلامتی کے حصول کو پورا کرے۔

فقہاے مجتہدین جنھیں تقویٰ و پرہیزگاری کی یہ صفت ملی تھی اور انھوں نے قاری صاحب کے الفاظ میں، اس صلاحیت کو بہت بڑھا لیا تھا، انھیں اجازت تھی کہ وہ خود کو عطاکردہ علم لدنی کو کام میں لائیں۔ استدلال و قیاس کرتے وقت وہ فقہی حذر و احتیاط برتتے ہوئے اپنی اسی صلاحیت و موہبت کوکام میں لاتے تھے۔ شروع میں اس نظریہ کو پیش کرنے میں قاری صاحب بہت محتاط اسی وجہ سے تھے کہ اس سے وہ لوگ دور ہو جائیں گے جوان کے متصوفانہ خیال سے اتفاق نہیں رکھتے، پھر بھی قاری طیب صاحب متصوفانہ تقویٰ اور شرع کی اخلاقی ہدایات میں تطبیق دینے کی طرف بہت زیادہ مائل ہیں۔

متقی و پرہیزگار عالم کے اپنے قدسی علم کو استعمال کرنے کے پہلو کو واضح کرنے کے لیے وہ فقہ کے حنفی مکتبِ فکر کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس کو عقلیت اور رائے کی طرف زیادہ مائل کہا جاتا رہا ہے۔ اس خیال سے اختلاف کرتے ہوئے انھوں نے اس پر نرم وشائستہ تنقیدیں کی ہیں۔ انھوں نے ناراضگی کے ساتھ کہا کہ محض وہ لوگ جو اخلاقیات کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھتے، وہی عالمانہ نظریات کو ’’ صرف مشابہت‘‘ قرار دینے کی جرأت کرتے ہیں یا ان کے پیروؤں کو ’’صاحب الرائے‘‘ کہنے کی جسارت کر سکتے ہیں۔حنفی مکتبِ فکر کے ناقدوں کی طرف سے یہ لفاظی اس لیے کی گئی کہ اس کے پیرو کاروں کو یہ الزام دیا جا سکے کہ وہ اصل شرعی مصادر سے کم اور عقلی رجحانات سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

قاری صاحب شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو لوگ ایسی غلط تنقیدیں کرتے ہیں، وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ حقیقی فقیہ وہی ہو سکتا ہے جو عقلیت اور روحانیت دونوں کا امتزاج رکھتا ہو۔ یہ کہتے ہوئے واضح طورپر قاری صاحب کے ذہن میں سلفی مکتبِ فکر رہا ہے۔ انہوں نے بغیر کسی معذرت کے یوں اظہار خیال کیا ہے:

’’ فقیہ کبھی شاہد سے غائب کی طرف جاتا ہے جب کہ واضح جزئیہ سے اس کی مستور علت نکالتا ہے اور کبھی غائب سے شاہد کی طرف آتا ہے جبکہ کلیہ سے جزئیات کی طرف لوٹتا ہے اور یہ دونوں ایاب و ذہاب عوام اور عام علماء کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ اس لیے فقیہ مجتہد ان کی نگاہوں میں شریعت میں ذاتی رائے سے متصرف دکھائی دیتا ہے۔ کوئی نا سمجھی سے اسے از راہ طعن قیاس کہتا ہے اور کوئی صاحب الرائے وغیرہ، حالانکہ اس کی یہ رائے اور قیاس محض عقلی نہیں ہوتا اور نہ محض قوت فکر یہ کا ثمرہ ہوتا ہے کہ اُسے تصرف ذاتی کہا جائے، بلکہ اس ذوقی قوت کا ثمرہ ہوتا ہے جو شریعت ہی کے علم و مزاولت سے بطور تجربۂ صادق اُ س کے قلب میں من اللہ تعالیٰ القاء کی جاتی ہے۔ پس وہ تصرف خود شریعت ہی کا عینِ شریعت میں ہوتا ہے نہ کہ اس کا۔ مگر ہاں اس کا ظہور اسی کے ذریعہ ہوتا ہے جیسا کہ تمام شرائع سماویہ کا ظہور محض من اللہ ہے، مگر ہوتا ہے نبی کے ہی لسان و قلب پر۔اور یہ نہ طعن کی چیز ہے نہ حیرت و تعجب کی۔انبیا کے بعد امت میں محدَث بھی ہوتے ہیں جن کی خبر دی گئی، انبیاء کو لسان شریعت میں متکلم فرمایا گیا ہے اور غیر انبیا کو جو ان کشوف الٰہی اور علومِ تشریعی تک الہام کے ذریعہ پہنچائے جائیں اصطلاح شریعت میں محدَث کہا گیا ہے۔‘‘(۴۲)

شریعت کے اس صوفیانہ اورمتقیانہ تصور میں قاری صاحب علم کو الوہی اشراق سے وابستہ کر کے اسے بھی وحی کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اگر کسی موقع پر متن کے ظاہری معنی میں علم لدنی تبدیلی کر دے تو قاری صاحب واضح طورپر اسے جواز دینے کا رجحان رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک حدیث بیان کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قرآن سات حرفوں (سبعۃ احرف )پر نازل ہوا ہے اور ہر آیت کاایک ظاہری معنی (ظہر) اور ایک باطنی معنی ( بطن) ہے۔ اور ہرحد کے لیے’’مطلع‘‘( جداگانہ طریقۂ اطلاع) ہے یعنی وہ متصوفانہ اور روحانی پہلو رکھتا ہے۔(۴۳)

یہاں تفسیری نکتہ ایک حقیقی منظر نامہ میں بدل جاتا ہے جہاں سے ہر چیز کامشاہدہ وضوح اور احساس کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔(۴۴) یہ بھی نوٹ کیا جانا چاہیے کہ فہم کی ایک مخصوص صفت بھی مجتہد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جو قاری طیب صاحب نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھی ہے۔ فہم و استدلال کے ساتھ ہی ایک طرح الہام بھی مجتہد کے لیے ضروری ہے۔ جس کو الہامی بصیرت ہو، اُسے محدَث کہتے ہیں جسے فطرت نے اخلاق اور انسانیت کے لیے تسکین بخش تعلیم سے نوازا ہے۔(۴۵) 

مجتہد کے روحانیت اور مخصوص الہامی بصیرت سے متصف ہونے کا تصور صرف دیوبندی مکتب فکرکے ساتھ خاص نہیں، اگرچہ ان کے ہاں اس تصور کی زیادہ وضاحت ملتی ہے۔ چوتھی صدی ہجری کے فقیہ تقی الدین ابن تیمیہ نے بھی فہم و شعور کی تعریف کرتے ہوئے اسے روحانیت سے مربوط کیا ہے۔ (۴۶) روحانیت ایک تابناک چراغ ہے۔ شب تاریک میں ایک قندیل رہبانی ہے اور جس میں جتنی طاقت ور روشنی ہوگی اتنی ہی اس سے ماحول میں روشنی پھیلے گی۔ اسی طرح جن مومنین کو قلبی روشنی (الالہام القلبی) حاصل ہوتا ہے، وہ رہنما اصول نہ ملنے کی صورت میں بھی اپنے وجدان سے طے کر سکتے ہیں کہ سچائی کے ساتھ کیا چیز مطابقت رکھتی ہے جو قرآن کے مطابق بھی ہو؟

یہ وجدانی پیش قیاسی غلط اور باطل چیز کو رد کرنے کے سلسلے میں متنی بیانات(یعنی القول، العلم اور الظن) کے استناد کے متوازی ہے جنہیں ایک فقیہ اپنے کام میں استعمال کرتا ہے۔ پھر ابن تیمیہ محدث کی حیثیت رکھنے والے لوگوں کے فضائل بیان کرنے والی حدیثیں بیان کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت عمرؓ بھی اُنہیں میں سے ایک ہیں۔ محدث کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ وہ الملہم المخاطب فی سرہ ہے(۴۷) یعنی ایسا شخص جس پر خدا کی طرف سے الہام ہو۔ خدا اس سے خطاب کرے۔

علمیات

قاری طیب صاحب ایک طرف تو مجتہد کی داخلی کاملیت اور تقویٰ کے مابین ،دوسری جانب علمیاتی اور استدلالی علوم کے مابین ایک واضح رابطہ دیکھتے ہیں۔ فی الحقیقت انھوں نے فقیہ کی روحانی معرفت اور روایتی و قیاسی علوم میں ایک جدلیاتی رشتہ استوار کرنے کی تجویز دی ہے۔ جس شخص کو بھی قیاس و استدلال سے دلچسپی ہو، اسے سب سے پہلے ’’روایت‘‘اور دینی علوم حاصل کرنے چاہئیں۔ دوسرے وہ درایت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔(۴۸) 

علوم آلیہ ،مثلاً احادیث و آثار کی توثیق، متن کا استناد اور مختلف زمانوں میں ان کی روایت کے طریقے اور آخر میں ان کی تعبیر و تشریح، سب کے سب قاری صاحب کے نظریہ میں ، ایک بڑی خدائی اسکیم کا حصہ ہیں۔اگر وہ شخص جو تعلیم و تعلم اور روایت و تفسیر کے طریق کار سے وابستہ ہے، بزرگانہ فضائل سے محروم ہو تو یقینی طور پر وہ وحی کی ثقاہت کو مجروح کرے گا۔ شخصی تقویٰ ثقاہت کااشاریہ ہے اور معلومات کے مصادر کی کمی کو پورا کرتا ہے جو عمق اور وسعت اجتہاد کے لیے ضروری ہے۔ وہ کئی چیزوں سے متعلق ہے۔مثلاًمجتہد وحی کی تعبیر و تشریح میں اہم رول ادا کرتا ہے، پھر کتاب و سنت کی تعلیم کو احتیاط کے ساتھ قوم کو دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جو کام فقیہ کو کرنا ہے، وہ اسے تقدس و اعتبار بخشتا ہے۔ اس طرح فقیہ کے کاندھے پر جو ذمہ داری ہے، اسی لحاظ سے اس روایت کو آگے بڑھانے اور منتقل کرنے کے باعث اسے زبردست استناد بھی حاصل ہوتا ہے۔

تاریخ

قاری صاحب مجتہد کے کام کو ایک بڑے تاریخی فریم میں رکھتے ہیں۔ وہ مختلف حالات کو سمجھنے کے لیے انسانی اختلاف کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہاں اس میں فرق مراتب ہو سکتا ہے۔ پھر بھی ان کا احساس ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو زیادہ ذہین و فطین معلم ہو وہ بڑامجتہد بھی ہو: 

’’یہ امر بھی مخفی نہ رہنا چاہیے کہ اس تفاوت افہام کے سلسلہ میں ذہانت و نطانت کا ہر درجہ معتبر نہیں یعنی ہر فہیم مجتہدیا فقیہ نہیں کہلایا جائے گا بلکہ اس بارے میں فہم کا صرف وہی درجہ معتبر ہوگاجو معتد بہ ہو اور محض موہبت ربانی ہو، جو بطور علم لدنی قلبِ مجتہد میں القاء کیا گیا ہو۔ یعنی جس طرح کائنات خلق کے سلسلہ میں نہ ہر چھوٹے بڑے فہم کا آدمی موجد ہو سکتا ہے، باوجودیکہ ہر دور میں موجدوں کی بھرمار ہوتی ہے، بلکہ حق تعالیٰ کی حکمت جب کبھی تمدن کے کسی خاص پہلو میں ترقی دیکھنا پسند کرتی ہے تو قرنوں اور زمانوں میں چند مخصوص دماغ منتخب کر کے ان سے ایجاد کا کام لیتی ہے اور وہ تمدن کے ان گوشوں کو آراستہ کر دیتے ہیں جن کی زیبائش کی ضرورت تھی۔‘‘(۴۹)

قاری صاحب اپنے قاری کے ذہن میں اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں چھوڑتے کہ وہ تاریخ کے فہم کاایک خاص ادراک رکھتے ہیں۔ اس نکتہ کو مؤکد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: 

’’نہ ہر فہیم و ذہین مجتہد ہوسکتا ہے نہ ہر دور میں مجتہد پید ا ہوتے ہیں بلکہ حکمت ربانی تدین کے کسی مخفی گوشے کو نمایاں کرنا چاہتی ہے توخاص خاص ذہنیت کے افراد پید ا کرکے ان کے قلوب میں ذوق اجتہاد ڈالتی ہے اور وہ اپنے اس خاص وہبی ذوق سے تدین کے ان پہلووں کو واضح اور صاف کرکے اور گویا بال کی کھال نکال کر امت کے سامنے پیش کردیتے ہیں جن کے اظہارکی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ (۵۰) 

قاری صاحب کی تشریح دو محسوس اثر ڈالتی ہے۔ سب سے پہلے تو وہ یہ مان کر چلتے ہیں کہ انسانی امور میں غیب کا غیر محسوس ہاتھ کام کر رہاہے اور مخصوص وقتوں میں یہ ہاتھ مخصوص صلاحتیں، رجحانات اور ضرورتیں وضع کرتا ہے۔ یعنی ان کے خیال میں ایک خاص سماجی ارتقا کام کر رہا ہے۔ آدم اسمتھ کی غیر فطری بازگشت سے الگ، اس غیبی ہاتھ نے زندگی کے ہر مرحلہ میں مفاد عام کی چیزوں کو منضبط کیاہے اور ضروری چیزیں فراہم کی ہیں۔(۵۱) 

دوسرے پہلو میں قاری صاحب تاریخ کی تقسیم کی اہمیت کوظاہر کرتے ہیں۔ مسلم علما کی ہر نسل نے روایت کی تنقیح و توضیح میں مخصوص کردار ادا کیا۔ ان کے تصور کے مطابق ہر زمانہ کے لوگ مخصوص صلاحیت، مخصوص اوصاف اور کردار کے حامل ہوتے ہیں اور وہی غیبی ہاتھ ہر زمانہ میں ان کی دست گیری کرتا ہے۔ اسی وجہ سے محنت کی تقسیم مفاد عامہ اور زندگی کی ضرورتیں مادی ہوا کرتی ہیں۔

قاری طیب صاحب کے یہاں اسلام کے قانون اور اخلاقیات کی تشریح میں مادیت مرکزی مقام رکھتی ہے۔ وقت کا ایک خاص تصور ان کے فلسفۂ تاریخ کی بنیاد ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کا اصرار ہے کہ مختلف تاریخی زمانوں میں بنیادی عقلی اختلافات ہوتے ہیں اور ہر مخصوص زمانہ کے مخصوص اوصاف ہوتے ہیں۔ گویا وہ ہر زمانہ کو اس کا خاص ’’ڈی این اے‘‘ دیتے ہیں۔ اپنے وضع کردہ منظر نامے میں انھوں نے یہ فرض کیا ہے کہ ہر مخصوص قوم کو مخصوص زمانوں میں خاص احوال، امکانات اور صلاحیتیں عطا ہوتی ہیں جن سے وہ اپنے مختلف کام انجام دیتی ہے۔ کچھ وقتوں کے بعد ، جس کی انھوں نے کوئی تحدید نہیں کی، یہ صلاحتیں معدوم ہو جاتی ہیں اور اس کے زمانہ کے حسبِ حال اور صلاحتیں اور توانائیاں عطا کر دی جاتی ہیں۔

مثال کے طورپر و ہ یہ مانتے ہیں کہ شریعت کی روایت میں گزشتہ نسلوں نے کافی محنت کر دی ہے۔ خطابیات میں زبردست یاد داشت کو بہتر طریقہ پر استعمال کر لیا گیا جس سے عرب کے نوزائیدہ معاشرے کی سرگرمیوں کا ریکارڈ بعد والوں کے لیے محفوظ ہو گیا۔ اگر اس زمانہ میں غیر معمولی یاد داشت نہ ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ اسلام کے بنیادی مصادر کا آزادانہ مطالعہ نہ کیا جا سکے، لیکن خدا کا کرنا تھا کہ کئی نسلوں تک یہ صلاحیتیں زبردست انداز میں رہیں، جن میں بعد میں انحطاط آیا، اس قسم کی ممتاز صفات تاریخ کے ایک خاص زمانہ تک ہی اپنی معنویت برقرار رکھتی ہیں۔

ارتقا کی اصطلاح کو استعمال کیے بغیر ہی قاری محمد طیب جوکچھ کہنا چاہتے ہیں بہت وضاحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جب مخصوص صلاحیتیں مطلوب نہیں ہوتیں تو وہ سماجی ارتقا کے ساتھ ہی عموماً غائب ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح کا پیٹرن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے نقل و روایت اور تدوین میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاریخی طورپر حدیث مصدقہ نقل و روایت اور ان کے بے شمار ثقہ راویوں کے سلسلہ کو کہتے ہیں۔ قاری صاحب کے خیال میں یہ علمی عمارت پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔ موجودہ زمانہ میں نقل و روایت کی نقد و تنقیح کی ضرورت بہت کم رہ گئی ہے؟ اس لیے کہ اس طرح کے کام کے لیے جو صلاحیت اور رجحان درکار ہے وہ اب نہیں پایا جاتا۔

اسی طرح شریعت کے وسیع خطوطِ کار کی درایت کا کام بھی ما قبل کی نسلیں انجام دے چکی ہیں۔ اس لیے بغیر حقیقی ضرورت اور وجہ جواز کے ان کاموں کو از سر نو کرنا ایک فضول کام ہوگا۔ حقیقت میں قاری صاحب اس سلسلہ میں ایک فطری دلیل پیش کرتے ہیں کہ انسان اب ارتقا پذیر ہو چکاہے اور عقیدہ کے اصیل بیانات کے فہم کی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کرتا۔ مثال کے طورپر ابتدائی زمانہ کے مجتہدین نے فقہی واخلاقی نظام کے کلیات وضع کیے اور ان سے بے شمار حقائق حیات اور جزئیات نکالے۔ ممکن ہے ان کی اس بات پر زیادہ اطمینان نہ کیا جا سکے کہ اب اس طرح کے بڑے کام کی صلاحیت ہم میں نہیں ہے۔ انہوں نے مجرد مادی صلاحیتوں پر زور دیا اس میں یہ شک بڑھ جاتا ہے کہ گویا ڈائناسورس کی مانند مخصوص قسم کے کام اور صلاحیتیں اب ہم سے ’’ نیست و نابود‘‘ ہو چکی ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ قاری محمد طیب کے خیال میں نظریات، اعمال اور ضوابط پر اسی طرح غور و فکر کے ذریعہ جیسے قرون اول کے علما نے کیا، اجتہاد کرنابھی ایک بے کار کا عمل ہے۔ شروع کے مجتہدین نے پوری ذہانت کے ساتھ اصول و شرائع کی تفسیر و تشریح کا یہ کام انجام دے دیا ہے۔ ان کے خیال میں اس طرح کا کام پھر کرنے کا مطلب ہے ایک بے کار کام میں لگنا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی فطری اصول ہے کہ جب ایک ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو اس ہدف تک پہنچنے کے لیے ضروری توانائی بھی ختم ہوجاتی ہے۔(۵۲) حیرت کا مقام ہے کہ قاری طیب صاحب آج کے معلومات کے زمانہ کے بارے میں کیا کہتے جب سائنٹفک ایجادات و ترقیات نے نئے امکانات اور نئے مواقع کھول دیے ہیں جنہوں نے ماضی کے تمام تصورات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کیااس انفارمیشن کے زمانہ کا اسلامی فکرکے ارتقا میں کوئی حصہ نہیں ہوگا؟ بنیادی طورپر ایک بالکل مختلف انداز میں کلاسیکل مسلم علما کے تصور سے جدا ہوگا؟

اگر قاری طیب صاحب کے خیالات کاتقابل انیسویں صدی کے تصورِ تاریخ سے کیا جائے جس میں ماضی کے تمام قدیم دینیاتی، ما بعد الطبعیاتی اور نظریاتی تصورات سے آزاد ہو کر ماضی کے مطالعہ کی خواہش پائی جاتی ہے تو ان کے خیالات کو بمشکل ہی اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ماضی کی نظریاتی فضا سے آزاد ہو کر اس کا مطالعہ توقع سے زیادہ چیلنج سے پُر ثابت ہوا۔ نظریہ کی تفہیم یوں کی گئی کہ وہ مخصوص ایمانیات اور ماضی کے معلومات کا ایک سیٹ ہے۔ طیب صاحب کی تھیوری نظریاتی پابندیوں سے آزاد نہ تھی، تاہم اس بارے میں وہ کوئی الگ تھیوری نہ تھی۔ تاریخی مطالعات بھی ،جیسے کہ ہائڈن وائٹ نے اشارہ کیا ہے، ایک پیچیدہ عقدہ کا شکار ہیں۔ (۵۳) ایک علم کے بطور تاریخ کو بھی ایک تھیوری کی ضرورت تھی۔ لیکن نظریہ میں دلچسپی لینے کا مطلب ہے کہ غیردلچسپ معلومات کے انبار کو بند کر دینا۔ اس مشکل کا حل ہسٹاریکل حقیقت کا تاریخی تناظر ہے۔ اس خیال نے تاریخیت کو دنیا میں وجود کے سماجی تشکل کی صورت دے دی ہے۔ تاریخیت نے دنیا میں ایک مخصوص سماجی تشکل کو بڑھایا ہے جس میں مادی تجربات کی کار فرمائی ہے ، مگر یہ تصور قاری طیب صاحب کے تصور سے یکسر مختلف ہے۔

رین ہارٹ کوسیلیک (Reinhart Koselleck) کے کام کی بنیاد پر ہائڈن وہائٹ تاریخی وقت اور فطری وقت کے ما بین ایک نقطۂ امتیاز کھینچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح وہائٹ کے نزدیک : تاریخ کے معنی کی تشریح ایک معاشرتی حقیقت کے بطور کی جا سکتی ہے جو تغیر پذیر ہے، لیکن اس طریقہ پر نہیں جس سے فطرت گزری ہے۔(۵۳) اس کے اختلاف ، تعدد معیار اور اجتہاد کے تباین الوان کے ذریعہ، اسی تعدد کے ساتھ وقت کی تاریخ وقت کی فطرت سے مختلف ہے۔لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ تاریخی، زمان انسانی عمل کے ذریعہ اور مقصدیت کے باعث متاثر ہو سکتاہے، فطری زمان نہیں ہو سکتا۔تاریخ بنائی اور بگاڑی جا سکتی ہے، اور یہ کہ تاریخی علم تصور کے مطابق ہوتا ہے بشرطیکہ سماجیات کے تصورات تجربات کو معتدل کریں اور مستقبل میں امید اور یقین کو جگائیں۔(۵۵) 

قاری صاحب کے اخلاقی فلسفہ میں مادیت کو جو مرکزیت حاصل ہے اس کو سمجھنے میں وائٹ کے خیالات سے مجھے کافی روشنی ملی، کیونکہ اگر قاری صاحب صاحب تاریخی زمان پر اتنا زیادہ زور دیتے ہیں تو اس لیے کہ انھوں نے مادیت کی جینیٹکس کو اسلام کی اخلاقی اور فقہی تاریخ میں مرتب کیا ہے۔ قاری طیب کے نظریہ میں افتراضی میلانات، احساسات سے لے کر روحانی توجیہات تک سب مختلف زمانوں میں بڑے پیمانہ پر مختلف ہوتے ہیں ۔ اگر یہ ماننے یا کہنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ قاری صاحب جان گوٹ فرائڈ وان ہرڈر(Johann Gottfried Von Herder) کے خیالات سے آگاہ تھے، تاہم پر اسرار طورپر اٹھارہویں صدی کے اس جرمن مفکر اور بیسویں صدی کے ہندوستانی عالم کے ما بین کسی قدر ہم آہنگی موجود ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں حضرات روایت کو اہمیت دیتے ہیں۔ ’’ہر ڈر‘‘ کا ایک اقتباس بھی اسی سے ہم آہنگ ہے۔ کانٹ(Kant) کے بارے میں لکھتے ہوئے ہرڈر نے لکھا ہے:

’’ حقیقت میں جو چیز بھی تغیر پذیر ہو وہ اپنے زمانہ میں اپنا ایک پیمانہ رکھتی ہے جو جاری رہتا ہے۔ دو دنیاوی چیزیں ایک زمانہ میں ایک ہی پیمانہ نہیں رکھ سکتیں..... لہٰذا (جرأت سے کہا جا سکتا ہے) کہ کائنات میں ایک مخصوص زمان میں بے شمار متعدد زمانے ہو سکتے ہیں۔‘‘(۵۶) 

جبکہ ہر ڈر کا مطلب زمان کے تعددی اور جزوی فطرت کا بیان تھا، پھر بھی اس نے ہر تغیر پذیر اشیا کو زمان سے جوڑ دیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح قاری صاحب بھی کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں بھی دو لمحے اور دو چیزیں بھی برابر اور یکساں نہیں ہوتیں۔ ہر ایک ممتاز ہوتی ہے۔ مادیت کا یہی تصور ہندوستانی فلسفی شاعر محمد اقبال نے بھی بیان کیا ہے۔

اپنے اس بیان کے دوران قاری محمد طیب نے تقریباً بے شعوری میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ ایک مسلمہ روایت کیسے کام کرتی ہے۔ روایات فی الواقع بنیاد پرستی پر مبنی تنقید اور اعادہ کا شکار ہو سکتی ہیں اور اس اعادہ کو روکانہ جائے تو اس روایت کے معماروں نے جو بنیادی کام کیاہے، وہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے اور اگر بنیادوں کو ہی متاثر ہونے دیا جائے تو یقیناًاس روایت کے استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ قاری صاحب جدید مسلم مفکروں سے ناراضگی ظاہر کرتے اور اپنے مذکورہ خدشہ کا اظہار کرتے ہیں جواجتہاد کے دروازہ کو عقلی آزادی اور اسلام کی تشریحِ نو کے لیے کھولنا چاہتے ہیں۔وہ ان کا خاکہ اڑاتے ہوئے ایک وارننگ بھی دیتے ہیں کہ اجتہاد میں مصروف ہونے کا مطلب ہے کہ ماضی کے علما کے فکری ورثہ کو تباہ کرنا۔ اور اس سے بھی زیادہ خراب یہ کہ مسلمات کو برباد اور اسلام کی محرف شکل سامنے لانا ہے۔

ان کی شدید اخلاقی وابستگی کے ساتھ، ان سے اتفاق کیے بغیر، یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کیوں قاری صاحب اپنے تصورِ روایت کو مخصوص و حدتوں میں فطرت سے ہم آہنگ (Naturalize)کرتے اور اسے مخصوص خصائص سے متصف قرار دیتے ہیں۔ فطری مادیت کو بیان کرنے کے بعد انہوں نے بعینہ وہی پیمانہ تاریخی مادیت کے لیے استعمال کیا ہے۔ زمانہ کی خصوصیت اور جو چیزیں اس میں پیش کی گئیں ، ان سے قاری صاحب فقہا ے مجتہدین کو ایک استثنائی رنگ میں پیش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا زمانہ بے نظیر تھا جو غیب سے ظہور میں آیا، اور اس طرح کے حالات پھر کبھی پیش نہیں آئے۔ یہاں وہ اس’’فطری غلطی‘ میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ’’ کیاہے‘‘ سے ’’ کیا ہونا چاہیے‘‘ کو اخذ کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ چیزوں کوجس طرح انسان سمجھتا ہے، ویسے ہی انہیں ہونا چاہیے۔اس غلطی پر تعجب اس لیے نہیں کہ انہوں نے فطری زمان اور تاریخی زمان میں کوئی فرق نہیں کیا، دونوں کو یکساں قرار دے دیا۔ ان کے غور و فکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ ذہنی کاوشیں اور سوالات ایسے ہوتے ہیں جن پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے۔

اس طرح کے اجتہاد کی اگر ماضی میں کچھ نظیریں ملتی ہیں تو اب ان کو دہرایا جانا نہیں چاہیے۔ ایسا کیوں؟ ان نظائر کا اعادہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس کا کوئی اطمینان بخش جواب قاری طیب کے پاس نہیں ہے۔ یہ بھی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کی تشریح علما کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، جن کا کردار، اس صورت میں روایت کے شارحین کے بطور ناگزیر ہو جائے گا، یا یہ نہ بھی ہو تو کم از کم یہ کہا جا سکتاہے کہ انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ مدون فقہ کو جارحانہ اور بنیادووں کو ہلا ڈالنے والے سوالات سے بچایا جا سکے۔

قاری محمد طیب صاحبؒ نے اجتہاد کی صرف اس شکل کو روا رکھا ہے جسے وہ ’’ قرآن و سنت کے اسرار و مصالح کی جستجو اور دقائق کی تلاش‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں(۵۷) ۔ اس ضمن میں اجتہاد کا مطلب ہوگا ایسے ضوابط تشکیل دینا جن کے ذریعہ ہر زمانہ میں احکامات کا ایک معیار متعین کیا جا سکے اور مناسب اخلاقی اور قانونی فتوے دیے جا سکیں۔ اجتہاد کی دوسری قسم جس کی وہ اجازت دیتے ہیں، وہ ہے اسلام پر ہو رہے حملوں کا جواب دینا۔مدافعینِ اسلام کو نصوصِ شرع سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جن میں قرآن و سنت کے ساتھ میں قدما کے اجتہادات بھی شامل ہیں، خاص طورپر وہ جنھیں مسلمہ روایت کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں انفرادی اجتہاد کو بڑھانے کے مقصد سے قاری محمد طیب دینیات میں جدت اور توافق کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں اور اس طرح نئے جدت پسند اہم مسلم مفکرین مثلاً شبلی نعمانی اور محمد اقبال کے موقف کے وہ بہت قریب قریب پہنچ گئے ہیں۔(۵۸)

خلاصہ

قاری طیب صاحب مختلف علم کے ذریعہ مسلم معاشرہ کے اخلاقی دائرۂ عمل میں غیب کا ہاتھ کام کرتے دیکھتے ہیں۔ یوں تو ان کے بیانات میں ہر ڈر سے کئی مشابہتیں پائی جاتی ہیں پھر بھی یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ ان کا بیان بھی معذرت خواہانہ ہے۔ قاری صاحب کے تصور میں مرکزی جگہ تاریخ کی ہے اور اس خیال کو قبول کیے بغیر ان کے تصورات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فطری زمان کو تاریخی زمان کے مترادف سمجھا ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ زمان میں واقع ہوتی ہے اور فطری زمان اور تاریخی زمان بالکل ایک ہی چیز ہے۔انھوں نے دونوں کو مخلوط کر دیا ۔ انھوں نے جویہ خیال ظاہر کیا کہ تاریخ زمانہ کے ذریعہ ہی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یہ بات خود ایک جدید تصور ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قاری صاحب کے اجتہاد کی تفہیم ان کے اور ان کی نسل کے ساتھ ہی قبر میں چلی جائے گی یا ان کے پیرو کار اسے مستقبل میں آگے بڑھانے کا کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں گے، کم از کم سو سالوں کے لیے۔

ابن خلدون کے بارے میں لکھتے ہوئے بروس لار نس کہتے ہیں کہ پندرہویں صدی کے شمالی افریقہ کے اسکالر کی مختلف بات اس کی وہ دراکی تھی کہ وہ تصور کی دنیا میں اپنے ماحول سے آگے کی سوچ سکتا تھا اور معاصرین سے دور رہتے بھی ان سے متعلق تھا(۵۹)۔ اس تعبیر میں ’’مختلف ہونے‘‘ پر سارا زور ہے۔

قاری صاحب اور ان کے دیوبندی پیرو کار ایک مخصوص سماجی تصور کو عزیز رکھتے ہیں جسے میں نے یہاں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، مجھے امید ہے کہ اس میں کامیاب ہوا ہوں۔اور یہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس زاویہ سے وہ کچھ سے جدا ہیں، تاہم کچھ معاصرین سے وابستہ بھی ہیں۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا قاری طیب صاحب اور ان کے پیرو مشرقی ایشیا میں ایک ایسے رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں جو اجتہاد و تقلید کی مخلوط روایت پر مبنی ہے؟ اور اس طرح اصلاحِ مذہبی کا یہ رجحان مشرق وسطیٰ میں رائج جدید اصلاحی رجحانات اور طریقۂ کار سے ممتاز ہے؟ یا یہ بھی معذرت خواہانہ روایت پسندانہ دینیات کی ہی ایک قسم ہے جس کی معنویت پر آج سنجیدہ سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں؟ میں فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام لینا نہیں چاہتا۔ کیا ہم اسے ’’ روایت پسندانہ عجوبہ، سنکی ذہنیت، حسیت کہیں یا ذہانت‘‘۔ لارینس کا ایک بار پھر حوالہ دینا ان کی دلیل کی قوت سے انکار نہ ہوگا۔ (۶۰) لارینس کے خیال میں قاری طیب کی اس روحانیت آمیز روایت پسندی کو نہ صرف جدید مسلم تحریکیں چیلینج کر رہی ہیں بلکہ اسے انٹر نیٹ پر دستیاب عالمی سطح پر موجود مسلم اسکالروں سے بھی چیلنج کا سامنا ہے جو کہ ایک نیا ظاہرہ ہے(۶۱)۔لارینس لکھتے ہیں کہ: ’’انٹر نیٹ اس عہد میں اب اس سے زیادہ وسیع اختیارہو کر رہ گیا ہے جتنا کہ دو سو سال بلکہ دس سال پہلے تھا‘‘ اور اجتہاد جو صرف پہلے علما کا حق تھا، اب اس پر ’’ الیکٹرونک اجتہاد‘‘ کا تصرف ہے جو انٹر نیٹ کے ذریعہ ہو رہا ہے، جس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ جہاں آپ کی آواز بطور خاص سنی جا سکتی ہے۔ اس ’’ای میل اجتہاد‘‘ کا اثر کیا ہوگا یہ کہنا تو بڑا مشکل ہے تاہم کسی قدر تیقن کے ساتھ یہ پیش قیاسی کی جا سکتی ہے کہ انٹر نیٹ پر جو اجتہاد کیا جا رہاہے وہ زمانوں سے چلی آرہی مسلم روایت اور عمل پر ضرور اثر انداز ہوگا بالکل ایسے جیسے جدیدیت پسندوں کے دباؤ سے گزر کر یہ اجتہاد تبدیل ہوا ہے۔ ای میل اجتہاد کے کی حقیقت کے بارے میں ، ظاہر ہے قاری طیب صاحب اپنے وقت میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے چہ جائیکہ اس کا مقابلہ کرتے ۔

یہ واضح ہے کہ کم از کم اسلامی قدامت پسندی میں استدلالی روایت کا ایک رجحان اسلامی ہند میں ’’ اسلامی شریعت‘‘ یا قانون کو اس طورپر سمجھتا ہے کہ مادی احوال اور ہنگامی حالات کے لیے یہ نہیں ہے بلکہ یہ بہت قریب سے وجودیاتی یا موضوعی سوالوں سے وابستہ ہے۔ میری معلومات میں مشرقی ایشیا اور ایران کے روایتی اسکالرز اس روایت کی آخری علامت رہ گئے ہیں جہاں مذہبیت کے روحانی اور دینیاتی زاویوں کو بڑی احتیاط کے ساتھ قانونی خطاب کے ایک حصہ کے بطور اختیار کیا جاتا ہے۔ اوپر کی مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کس طرح قانون سازی کا عمل روحانیت سے گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ یعنی ایک فقیہ اس تصور کے مطابق محض استدلالیت پر عامل نہیں ہوتا بلکہ وہ روحانیت اور تقویٰ سے بھی اثر پذیر ہوتا ہے۔

شیخ یعنی روحانی پیشوا کے رول کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے، عہد وسطیٰ کے ہندوستان میں، لارینس نے بھی مختصراً متقی فقہا کے کردار کو تقریباً اسی طرح ذکر کیا ہے جیسے قاری طیب کرتے ہیں کہ ’’ قوم میں مشائخ مخصوص زمانہ میں خدا کی مشیت کے ترجمان ہوتے ہیں۔ وہ قرآن اور سنت کی زندہ تقدیس ہوتے ہیں۔ وہ قصہ، کہانی، شعرو شاعری کے ذریعہ صحیح نکتۂ نظر اور حسن کردارپر زور دیتے ہیں۔ بعض اوقات روحانی مجاہدہ کی مشقت سے راحت دینے کے لیے بھی ان چیزوں کو کام میں لاتے ہیں۔ایک شیخ پرہیزگاری کا پیکر ہوتا ہے۔ علم و امید کی جوت جگاتاہے۔ وہ عبادت کرتا ہے ، تعلیم دیتا ہے اور تعلیم دیتا اور عبادت کرتا ہے‘‘(۶۲) ۔ مختصراً روحانی اور اخلاقی تشکیل روحانیت پسند فقہا کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے اور قانون سازی یا روزمرہ کی زندگی میں اخلاقی و روحانی قدروں کی رعایت بھی خدا کو اتنی ہی مطلوب ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ یہ کہنا زیادہ درست ہو سکتا ہے کہ قاری طیب صاحب کے خیال میں فقیہ قدرت کا آلہ کار ہے، اور اس معنی میں فقیہ کا رول پیغمبرانہ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ وراثت نبوت کا حامل ہے اور خدائی الہام کا مخاطب (مُحدَث ) بھی۔


حوالہ جات وحواشی

۳۸۔ ایضاص، ۶۵ 

۳۹۔ ابوحامد محمد بن غزالی :کتاب التوحید والتوکل،احیاء علوم الدین(بیروت دارالکتب العلمیہ ۱۲۴۱ھ/۱۰۰۲ء)۴/۹۱۲ 

۴۰۔ طیب،ص،۲۵ 

۴۱۔ اخلاقیات میں باطنی یا سری علوم کے کردار کے لیے دیکھیے:محب اللہ ابن عبدالشکور،مسلم الثبوت فی اصول الفقہ۲/۱۰۴۔۲۰۴

۴۲۔ قاری طیب ص،۶۲ 

۴۳۔ ایضا ، ۷۲ 

۴۴۔ معطلہ کے بارے میں مطالعے کے لیے دیکھیے،

Louis Massignon/ Essay on the Origins of the Technical Language of Islamic Mysticism, trans. Benjamin Clark (Notre  Dame,Indiana:University of Notre Dame Press 1997) 95

۴۵۔ ۔پانوپٹیکن کا حوالہ فوکالٹ سے لیا گیا ہے جوجیرمی بنتھم کے ٹاور کا استعمال کیا ہے،جس سے جیل کے تمام قیدی اچھی طرح دیکھے جاسکتے تھے۔دیکھیے مائکل فوکالٹ: 

Discipline & Punish: The Birth of the Prison (trans.) Alan Sheridan (New York: Vintage Books, 1995),p.200

۴۶۔ قاری طیب ص، ۲۷ 

۴۷۔ تقی الدین احمد ابن تیمیہ ،ترتیب ،امیرالجزار اور انور الباز:معجم الفتاوی،( دار الوفاء۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸منصورہ، مصر)۱۹/ ۲۹

۴۸۔ ایضا 

۴۹۔ قاری طیب ص، ۶۰ 

۵۰۔ ایضاص، ۴۰ 

۵۱۔ ایضا 

۵۲ ۔دلچسپ بات ہے کہ آدم اسمتھ نے ’’خفیہ ہاتھ‘‘ (invisible hand) کے لفظ کومختلف طریقوں سے استعمال کیا ہے۔ایک جگہ فلکیات کے تناظر میں تحقیر و مذمت کے معنی میں اس لفظ کو استعما ل کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ حتی کہ دورقدیم کے ناواقفوں نے بھی غیرمعمولی ترقیات کو مشتری کے خفیہ ہاتھ کی طرف منسوب نہیں کیا۔The Moral Sentiments میں اس کا استعمال خوشی کے ذرائع کی تقسیم کے حوالے سے ہواہے۔ اور In The Wealth of the Nations میں انہوں نے اس کا استعمال مفاد عامہ کے فروغ کے لیے کیاہے۔ دیکھیے: 

AdamSmith and D.D.Rapahel,Macfied,A.L.The Theory of Moral Sentiments (Indianapolis:Liberty Fund/Oxford Press,1984) p.184 esp.fn.7

۵۳۔ قاری طیب ص،۶۰ 

۵۴۔

 Hayden White, Foreword to Reinhart Koselleck, The Practice of Conceptual History: Timing History, Spacing Concepts (Stanford, CA: Stanford University Press, 2002), x.

۵۵۔

 Hayden White, Foreword to Ibid., xi. 

۵۶۔ ایضا 

۵۷۔

Reinhart Koselleck, Futures Past: On the Semantics of Historical Time, trans. Keith Tribe (Cambridge, Mass & London: The MIT Press,  1985), xxii. Also see Johann Gottfried Von Herder and Michael N. Forster (trans & ed.), Philosophical Writings (Cambridge:Cambridge  University Press,2002

۵۸۔ قاری طیب ص،۴۶

۵۹۔ دیکھیے: 

Mehr Afroz Murad, Intellectual Modernism of Shibli Nu`mani (Lahore: Institute of Islamic Culture, 1976); Muhammad Khalid Mas`ud, Iqbal146s Reconstruction of Ijtihad (Lahore: Iqbal Academy Pakistan, 2003).

۶۰۔

 Bruce B. Lawrence, "Introduction to the 2005 Edition," in The Muqaddimah, ed. Franz Rosenthal and N.J. Dawood (Princeton & Oxford: Princeton University Press, 2005),p. viii.

۶۱ ۔ایضا 

۶۲۔

Miriam Cooke and Bruce B. Lawrence, Introduction "In Muslim Networks from Hajj to Hip Hop".

آراء و افکار