عالم اسلام اور مغرب

عالمی تہذیبی دباؤ اور مسلمان معاشرے

محمد عمار خان ناصر

مختلف تہذیبی افکار اور معاشرتی تصورات وروایات کے اختلاط کے ماحول میں باہمی تاثیر وتاثر کی صورت حال کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ اس تاثیر وتاثر کی سطح اور حد کا تعین تاریخی حالات سے ہوتا ہے جس میں سیاسی طاقت اور تہذیبی استحکام کا عامل سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر دو تہذیبی روایتوں کا تعامل ایسے حالات میں ہو کہ دونوں کے پیچھے سیاسی طاقت اور تہذیبی روایت مستحکم طور پر کھڑی ہو تو تاثیر وتاثر کی صورت مختلف ہوتی ہے، لیکن اگر ایک تہذیبی روایت اضمحلال وزوال اور سیاسی ادبار کے مرحلے پر جبکہ دوسری عروج واقبال کی طرف گامزن ہو تو تاثیر وتاثر کے سوال سے نبرد...

سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی جس میں اسلام اور جہاد کے جذبہ کے ساتھ شریک ہو کر قربانیاں دینے والوں نے امریکہ کی یہ جنگ لڑی...

معاہدات: ذمہ داری یا ہتھیار؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکہ کے صدر مسٹر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا میں یکطرفہ طور پر چار ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ معاہدہ کی مدت کے دوران انخلا مشکل ہے اس لیے اب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مئی کی بجائے ستمبر کے دوران مکمل ہو گا اور وہ بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہو گا۔ اس کے ساتھ جرمنی کے وزیردفاع نے بھی کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ستمبر میں ہو گا۔ افغان مسئلہ کا تاریخی تناظر یہ ہے کہ افغانستان میں ۱۹۷۹ء کے آخر میں روسی افواج کی آمد پر افغان قوم مزاحمت کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور افغانستان کی آزادی و خودمختاری...

ناموس رسالت اور امت مسلمہ کا موقف

محمد عمار خان ناصر

توہین رسالت اور اس پر مسلمانوں کے دینی موقف کا مسئلہ گزشتہ دنوں میں حکومت فرانس کے ایک اقدام کے تناظر میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث رہا۔ فرانس کے حالیہ اقدام میں بیک وقت تین عوامل کارفرما تھے۔ ایک، سیکولر قومی شناخت کا مخصوص فرانسیسی تصور۔ دوسرا، اسلامو فوبیا کی لہر جو نسل پرستی کے رجحانات کی وجہ سے یورپی ملکوں میں پھیل رہی ہے۔ اور تیسرا، پاپولسٹ سیاست کا کھیل جو دنیا میں تقریبا ہر خطے میں اس وقت اقتدار کے کھلاڑیوں کو مرغوب ہو رہا ہے۔ فرانس کے حالیہ اقدام میں ان عوامل کی اثر اندازی کی ترتیب معکوس ہے، یعنی سب سے اہم عامل پاپولسٹ...

میکرون، اسلام اور فرانسیسی اقدار

ڈاکٹر امیرہ ابو الفتوح

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایمانویل ماکرون کی جذباتی مہم کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہ فرانسیسی نسل پرستی کی وہ پیدوار ہے جو اس کی نفسیات میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ یہ اسلام کے بجائے فرانسیسی اقدار کا بحران ہے۔ فرانس سیکولر ریاست کی حیثیت سے اسلام کو بطورِ مذہب تسلیم کرنے کےلیے تیار نہیں، اگرچہ اس نے مذہب کو ریاست سے الگ کرلیا ہے، جیسا کہ عیسائیت کے ساتھ 1905ء میں کرچکا ہے۔ فرانسیسی اپنے مسلمان شہریوں کوایک مسئلہ سمجھتے ہیں؛ فرانسیسیوں کا خیال ہے کہ مسلمان ان کے ہاں گھس آئے ہیں جو ان کے معاشرے اور ثفافت میں کبھی بھی ضم نہیں ہوسکتے۔ ریاست نے متعدد...

یہود ونصاری ٰ کے ساتھ تعلقات اور اسرائیل کی حیثیت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں یہ بات بالکل بجا ہے کہ قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ ’’ولایت‘‘ کے درجہ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، وہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ معمول کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی ممالک کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں ملت اسلامیہ نے کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا اور خلافت راشدہ سے لے کر اب تک مسیحی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اور معاملات مسلسل چلے آ رہے ہیں۔ البتہ یہودیوں کی دو ہزار سال بعد تشکیل پانے والی ریاست ’’اسرائیل‘‘ کے ساتھ تعلقات کا مسئلہ قدرے مختلف نوعیت کا ہے اور اس کی وجہ یہ...

غیر مسلموں کی عبادت گاہیں اور مسلم تاریخ

محمد عمار خان ناصر

آیا صوفیہ سے متعلق ترکی کی عدالت کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں مذہبی رواداری کے حوالے سے مسلمانوں کے تاریخی طرز عمل کے بارے میں بہت بنیادی نوعیت کے سوال گزشتہ دنوں زیر بحث رہے۔ آیا صوفیہ کا گرجا چونکہ قسطنطنیہ کی فتح کے موقع پر نے مسلمانوں نے بطور مسجد اپنے تصرف میں لے لیا تھا، اس لیے اہم ترین سوال جو اس بحث میں توجہ کا مرکز رہا، وہ یہی ہے کہ ایسا کرنا اسلام کی اصولی تعلیمات کی رو سے کیسا تھا؟ ہمارے نقطہ نظر سے اس پوری بحث کی درست تفہیم کے لیے جو چند بنیادی پہلو پیش نظر رکھے جانے چاہییں، وہ حسب...

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی اصول پرستی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک قومی اخبار کی خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں۔ یاد رہے کہ یہ پٹیشن ایک ایسے...

کوالالمپور سمٹ میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کا افتتاحی خطاب

طاہر شاہین

1. سب سے پہلے ، میں مسلم قائدین اور اسکالرز اور ان کے پیروکاروں کی اس سمٹ میٹنگ میں آپ کی موجودگی کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ 2. میں اس سربراہی اجلاس کے مقاصد کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ہم یہاں مذہب کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس کی بجائے مسلم دنیا میں امور کی صورتحال پر بات چیت کر رہے ہیں۔ 3. ہم سب جانتے ہیں کہ مسلمان ، ان کے مذہب اور ان کے ممالک بحران کی حالت میں ہیں۔ ہم جہاں بھی مسلمان ممالک کو تباہ ہوتے دیکھتے ہیں ، ان کے شہری اپنے ممالک سے بھاگنے پر مجبور ، غیر مسلم ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ بہت...

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے حوالہ سے ایک خبر سوشل میڈیا میں مسلسل گردش کر رہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو غرب اردن کے بعض علاقوں کو وہ باقاعدہ اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔ اسرائیل کی جو سرحدیں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے موقع پر طے کی تھیں، ان کے علاوہ اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے وہ بین الاقوامی دستاویزات میں متنازعہ سمجھے جاتے ہیں، اور غرب اردن کا وہ علاقہ بھی ان میں شامل ہے۔ چنانچہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ خطہ کو بھارت میں شامل کیے جانے کے اعلان پر...

مرابحہ مؤجلہ: اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز اور غیر سودی بینکوں میں رائج طریقہ کار

ڈاکٹر انعام اللہ

ایک اسلامی ریاست کا مالی معاملات کا نظام اور خرید و فروخت کے طریقوں کے بارے میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ارشادات عالیہ اور اپنی عملی زندگی کے ذریعے واضح تعلیمات امت کو دی ہیں۔ امت کے اعلیٰ ترین دماغوں، جنہیں فقہاء کرام کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، نے انہی تعلیمات نبوی کی بنیاد پر ایک بہترین ذخیرہ تیار کیا، جس سے ہر دور میں افراد امت رہنمائی لے رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک کڑی ’’بیع مؤجل‘‘کی وہ صورت ہے جسے اسلامی نظریاتی کونسل نے ۱۹۸۰ء کے عرصہ میں سود کی لعنت سے چھٹکارے کے متبادل طریقوں میں سے ایک طریقہ کے طورپر ذکر کیا اور...

مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام پر مسلم مغربی رویے: جورام کلاورین کے قبولِ اسلام کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد شہباز منج

ہالینڈ کے معروف اسلام مخالف ڈچ سیاست دان جورام جیرون وان کلاورین (Joram Jaron van Klaveren) نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس کے قبولِ اسلام پر الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بہت سی خبریں آ رہی ہیں۔ راقم کو کلاورین کے حوالے سے کچھ سٹدی کا موقع ملا تو اس پر کچھ لکھنے کا سوچا۔ اس دوران مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام کے بارے میں مسلم اور مغربی رویوں سے متعلق اپنے مشاہدے اور احساس کو شیئر کرنے کا بھی داعیہ پیدا ہوا۔ سو اہلِ علم و تحقیق کی خدمت میں کلاورین کے قبولِ اسلام اور اس کے سابقہ و موجودہ نظریات و افکار سے متعلق کچھ سطور سپرد قلم کیں تو مذکورہ تناظر میں...

ناموس رسالت کا مسئلہ اور مغرب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ نیدرلینڈز پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر اور پارٹی فار فریڈم کے سربراہ گرٹ ولڈرز (Geert Wilders) کی طرف سے اس مجوزہ نمائش کی منسوخی کی اطلاع سے یہ وقتی مسئلہ تو ختم ہو گیا ہے جس پر اس کے خلاف احتجاجی مہم میں حصہ لینے والے تمام شخصیات، ادارے، حکومتیں اور جماعتیں مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مگر اصل مسئلہ ابھی باقی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام...

بیت المقدس کو اسرائیلی دار الحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے اب تک چلے آنے والے اجتماعی موقف کو بھی مسترد کر دیا ہے جس پر دنیائے اسلام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس مذمت و احتجاج میں عالمی رائے عامہ کے سنجیدہ حلقے برابر کے شریک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ اس سلسلہ میں مذمت و احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے؟ مذمت و احتجاج کا سلسلہ تو ایک صدی سے...

طیب اردگان اور عالمی معاہدات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس وقت دنیا میں حکومتوں کی بجائے معاہدات کی حکومت ہے۔ چند طاقتور ملکوں کے علاوہ باقی ممالک و اقوام ان معاہدات کی پابندی کرنے پر اس حد تک مجبور ہیں کہ بسا اوقات ان معاہدات اور عالمی دباؤ کے سامنے بے بسی کی تصویر بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی خودمختاری اور سا لمیت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ ان معاہدات کی سرپرستی کرتی ہے اور سلامتی کونسل ان پر عملدرآمد کا اہتمام کرتی ہے جس کا منظر ہم وقتاً فوقتاً مجبور اقوام کی کس مپرسی کی صورت میں دیکھتے رہتے ہیں جیسا کہ گزشتہ ربع صدی کے دوران عراق و افغانستان کا حشر ہمارے سامنے ہے۔ عالم اسلام ان معاہدات...

اسلامو فوبیا ۔ کیا ہم خود بھی ذمہ دار نہیں؟

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

چند دن پہلے امریکہ میں آنے والے صدارتی انتخابات کے ایک امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ مطالبہ کر کے امریکیوں سمیت بہتوں کوحیران کر دیا کہ مسلمانوں کو امریکہ میں داخلہ کی اجازت نہ دی جائے۔ ان کے بیان کی شدید مذمت امریکہ میں بھی ہوئی ہے اور برطانیہ میں تو اب تک تیس ہزار لوگوں نے ان کے خلاف ایک دستخطی مہم پر اپنے دستخط ثبت کیے ہیں، تاہم ان کے بیان سے مغرب میں اسلامو فوبیا کا وجود عیاں ہو کر سامنے آگیا ہے۔ اسلامو فوبیا کا لفظی مفہوم ہے: اسلام سے خطرہ محسوس کرنا یا مسلمانوں سے نفرت کا اظہار۔ اس اصطلاح کوپہلے پہل مغرب کے بعض لکھنے والوں نے استعمال کیااور...

عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی صحیح ترجمانی کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے گزشتہ روز جنرل اسمبلی کی لیگل کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے۔ اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردار کشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں جو کہ نہ صرف رویوں میں شدت کا باعث بنتی ہیں بلکہ اس سے...

مغرب کا تہذیبی و سیاسی غلبہ اور امت مسلمہ کا رد عمل

محمد عمار خان ناصر

گذشتہ دو صدیوں میں امت مسلمہ کو فکر واعتقاد، تہذیب، سیاست ومعیشت اور تمدن ومعاشرت کی سطح پر جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ مغرب کا عالم انسانیت پر ہمہ جہتی غلبہ واستیلا ہے۔ ان دو صدیوں میں مسلمانوں کی بہترین فکری اور عملی کوششیں اسی مسئلے کے گرد گھومتی ہیں اور ان تمام تر مساعی کا نکتہ ارتکاز یہی ہے کہ اس صورت حال کے حوالے سے کیا زاویہ نظر متعین اور کس قسم کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ دنیا پر مغرب کا غلبہ چونکہ مختلف ارتقائی ادوار سے گزرا ہے، اس لیے فطری طور پر اس کی نوعیت وماہیت کی تشخیص میں مختلف ادوار کے مسلمان مفکرین میں اختلاف بھی نظر...

فلسطینی عوام، عالمی ضمیر اور مسلمان حکمران

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فلسطینی عوام ایک بار پھر صہیونی جارحیت کی زد میں ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کاروائیوں نے سینکڑوں فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے غیور اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کی اور تشخص کو مکمل طور پر پامال کر دینے پر تل گیا ہے اور اسے حسب سابق مغربی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان فلسطینی عوام کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ فلسطین کے باشندے ہیں۔ اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں اور اس کے لیے مسلسل قربانیاں دیتے چلے جا رہے ہیں۔ اب سے ایک صدی قبل برطانوی وزیر خارجہ بالفور نے فلسطین...

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۳ ستمبر ۲۰۱۳ء کو اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے زیر اہتمام معروف عرب سکالر ڈاکٹر عامر الزمالی کی مرتب کردہ کتاب ’’بین الاقوامی قوانین انسانیت اور اسلام‘‘ (مترجم: پروفیسر محمد مشتاق احمد، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) کی تقریب رونمائی کے موقع پر کی جانے والی گفتگو کا خلاصہ۔) بعد الحمد والصلوٰۃ! ڈاکٹر عامر الزمالی کی کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جو مختلف اصحابِ علم کے مقالات کا مجموعہ ہے۔ پروفیسر محمد مشتاق احمد نے انتہائی مہارت اور ذوق کے ساتھ اسے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور آج کے...

توہین رسالت، مغرب اور امت مسلمہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

توہین رسالت کا مسئلہ ایک حالیہ امریکی فلم کے حوالے سے ایک بار پھر پوری دنیا میں موضوع بحث ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس سلسلہ میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں جو ان کے ایمان وعقیدت کا مظہر ہے اور اس حقیقت کا عالمی فورم پر ایک بار پھر بھرپور اظہار ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مسلمان کسی بھی حوالے سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا اور اس سلسلے میں دنیا کے ہر خطے کے مسلمانوں کے جذبات ایک جیسے ہیں۔ میں نے وہ فلم نہیں دیکھی، نہ دیکھنا چاہتا ہوں اور نہ ہی شاید دیکھ سکوں، اس لیے کہ ایک عام انسان کی توہین پر بھی میرے...

انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور عالم اسلام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مغرب میں انسانی حقوق کے حوالہ سے جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اس کا آغاز ’’میگنا کارٹا‘‘ سے کیا جاتا ہے۔ ۱۲۱۵ء ؁ میں برطانیہ کے کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ اس عنوان سے ہوا تھا جس کا اصل مقصد تو بادشاہ اور جاگیرداروں کے مابین اختیارات اور حدودکار کی تقسیم تھا لیکن اس میں عام لوگوں کا بھی کسی حد تک تذکرہ موجود تھا، اس لیے اسے انسانی حقوق کا آغاز تصور قرار دیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں ایک عرصہ تک حکمرانی کا حق اور اس کے تمام تر اختیارات تین طبقوں کے درمیان دائر رہے ہیں: (۱) بادشاہ (۲) جاگیردار اور (۳) مذہبی قیادت۔...

دنیائے اسلام پر استشرقی اثرات ۔ ایک جائزہ (۱)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مستشرقین نے بالعموم اسلام کا معروضی مطالعہ پیش نہیں کیا۔ وہ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے اسلام کی غیر حقیقی اور مسخ شدہ تصویر پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ اسلام کو لوگوں کے سامنے اس انداز سے پیش کیا جائے کہ وہ ان کو کوئی غیر معمولی اور خاص وقعت کی چیز محسوس نہ ہو بلکہ اس کے برعکس انسانی ترقی و تمدن کی راہ میں مزاحم دکھائی دے۔ اس سلسلے میں وہ کئی جہتوں میں کام کرتے اور مختلف نتائج سامنے لاتے ہیں۔ عالم اسلام کے تناظر میں دیکھیں تو ان کی کوشش کا اہم مقصودمسلمانوں کو اپنے دین سے متعلق متشکک و مترددبنانا، اسلامی...

افراد کی غلامی سے قوموں کی غلامی تک

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنیوا سے جاری کی جانے والی اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’انسانوں کی تجارت جدید دور میں غلامی کی ایک شکل ہے اور یہ لعنت دنیا کے ہر علاقے میں موجود ہے۔ محنت ومشقت اور جنسی استحصال کے لیے مردوں، عورتوں اور بچوں کی اسمگلنگ اور ان کی خرید وفروخت مجرموں کے منظم گروہوں کے لیے پیسہ بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ انسانی تجارت کا شکار ہونے والی لڑکیوں کو مکروہ دھندے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انسانوں کی تجارت جتنی زیادہ عام ہے، اتنی ہی اس کے بارے میں معلومات کم ہیں۔ یہ گھناؤنا کاروبار اس قدر چوری چھپے کیا جاتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا...

شرعی قوانین کے حوالے سے برطانیہ میں جاری بحث

مولانا محمد عیسٰی منصوری

فروری ۲۰۰۸ کے شروع میں چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز نے، جو دنیا بھر کے پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے عالمی سربراہ ہیں، برطانیہ میں اسلامی شریعت کے چند قوانین کے نفاذ پر غور وفکر کی دعوت دے کر یہاں کی فضا میں ارتعاش بلکہ تہلکہ بپا کر دیا ہے۔ آرچ بشپ ڈاکٹر روون نے یہ تجویز غور وفکر کے لیے اپنی سنڈ (چرچ آف انگلینڈ کی پارلیمنٹ) میں پیش کی تھی، مگر یہاں کے میڈیا نے، جس پر صہیونیت کی گہری چھاپ ہے، اس طرح ہنگامہ برپا کر دیا گویا صلاح الدین ایوبی نے برطانیہ پر حملہ کر دیا ہو۔ مغربی میڈیا کو، جس نے نائن الیون کے بعد ’’اسلامی خطرے‘‘...

مغرب اور اسلام کیرن آرمسٹرانگ کی نظر میں

ڈاکٹر محمد شہباز منج

نامور برطانوی اسکالر کیرن آرمسڑانگ مستشرقین کے جم غفیر میں ان چند استثنائی مثالوں میں سے ایک ہیں جو اسلام سے متعلق حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کی حامل ہیں۔ ۲؍فروری ۲۰۰۸ء کے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں انہوں نے اسلام کے بارے میں جن خیالات کااظہارکیا ہے، وہ اسلام کے حوالے سے ان کے اس مبنی برعدل واعتدال موقف کاتسلسل ہیں جس کو وہ گزشتہ کئی برس سے اپنی تصانیف میں پیش کرتی چلی آرہی ہیں۔ اپنے مذکورہ انٹرویو میں موصوفہ نے مغرب میں اسلام سے متعلق غلط تصورات کی موجودگی کا واضح لفظوں میں اعتراف کیاہے۔ اس حقیقت کومس کیرن نے اپنی...

مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش مشرق وسطیٰ کادورہ کر کے واپس جا چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے سعودی عرب، کویت، مصر، متحدہ عرب امارات، فلسطین اور اسرائیل وغیر ہ کا دورہ کیا اور اسرائیل اور فلسطین کے راہنماؤں سے بھی تبادلہ خیالات کیا۔ ان کے اس دورے کے مقاصد کیا تھے؟ اس کی ایک جھلک بعض عرب اخبارات کے مندرجہ ذیل تبصروں سے دیکھی جا سکتی ہے: ایک عرب اخبار ’’الحیاۃ ‘‘ کا کہنا ہے کہ : ’’امریکی صدر کایہ دورہ ایک شہنشاہ کا دورہ تھا۔ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک مغربی اور امریکی صدور اور وزراے اعظم کے نظارے دیکھتے رہتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی...

استشراق کا تازہ رخ اور اہل علم کی ذمہ داری

محمد شاہد عالم

مغرب کے لیے اسلامی معاشروں کو گوارا کرنا کبھی بھی آسان کام نہیں رہا۔ ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے کو محیط ایک طویل دور وہ تھا جب مغرب اور اسلام، دونوں ایک دوسرے کے وجود کے لیے خطرہ سمجھے جاتے تھے۔ اسلامی خطرے کو روکنے اور اسے پہلے ارض مقدسہ اور جنوب مغربی یورپ اور بعد ازاں جنوب مشرقی یورپ سے پسپا کرنے کے لیے عوامی طاقت وحمایت کو تحریک دینے کی غرض سے یورپی مصنفین اسلام کی تصویر کشی مسیحیت کی ایک بگڑی ہوئی شکل، شیطان کے پجاری مذہب، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دھوکہ اور فریب اور عرب بدووں کی فتوحات کے لیے قائم کیے جانے والے ایک دہشت پسند اور عسکری...

مذہب کا ریاستی کردار اور مغربی دانشور

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نیو یارک سے شائع ہونے والے اردو جریدہ ہفت روزہ ’’نیو یارک عوام‘‘ نے ۳۱؍ اگست تا ۶؍ ستمبر ۲۰۰۷ کی اشاعت میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد نے آسٹریا کے ایک اخبار ’’آئی پریس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے ابتر ہوتی ہوئی صورت حال تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال ابتری کے حوالے سے ایسے نقطے پر پہنچ چکی ہے جس نقطے پر بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں یورپ کی صورت حال تھی اور یہ صورت حال دو عالمی جنگوں کا باعث بنی تھی۔ انھوں...

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم و افکار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۳؍اپریل ۲۰۰۷ کو لاہور میں ’’اسلام اور مغرب کے درپیش چیلنجز اور مواقع‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار کی رپورٹ خبر کے طور پر شائع کی ہے جس کا اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیئرز (پائنا) نے کیا ہے اور صدارت ملک کے معروف دانش ور اور قانون دان جناب ایس ایم ظفر نے فرمائی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں جسٹس (ر) خلیل الرحمن، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری، سابق سیکرٹری خارجہ جناب شمشاد احمد اور دیگر ارباب دانش کے علاوہ اسپین سے تشریف لانے والے دو معروف دانش پروفیسر پری ویلانووہ اور پروفیسر راحیل بیونو بھی...

روشن خیالی کے مغربی اور اسلامی تصور میں جوہری فرق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مغرب نے تاریک ادوار سے نکل کر انقلاب فرانس کے ساتھ اب سے کم وبیش تین سو برس پہلے جس نئے علمی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی سفر کا آغاز کیا تھا، اسے تاریکی سے روشنی، ظلم سے انصاف اور جبر سے حقوق کی طرف سفر قرار دیا جا رہا ہے۔ مغرب نے اس عمل میں جن نئے افکار اورفکر وفلسفے کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، انھیں روشن خیالی کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور ہم مسلمانوں سے بھی دنیا بھر میںیہ تقاضا کیا جا رہا ہے کہ ہم اس روشن خیالی کو قبول کریں اور مغرب کے اس سفر میں اس کے ساتھ شریک ہوں، مگر ہمار اروشن خیالی کا تصور مغرب کی روشن خیالی سے قطعی طور پر مختلف بلکہ متضاد...

یورپی یونین اور عالم اسلام

شادابہ اسلام

شادابہ اسلام۔ ہو سکتا ہے کہ ساری کوشش کے نتیجے میں محض چند ’’نرم اور مہذب الفاظ‘‘ کے علاوہ کوئی چیز وجود میں نہ آئے، تاہم یورپی یونین کے پالیسی سازوں نے،جو مسلم ممالک کے ساتھ مضبوط تر تعلقات قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، اپنے سر ایک نئی ذمہ داری لے لی ہے، یعنی ایسی گائیڈ لائنز کی تیاری جو اسلام کے حوالے سے تحقیر آمیز اصطلاحات کے استعمال کو ممنوع قرار دیں۔ اس کوشش کا اصل ہدف یورپی بلاک کے سرکاری عہدے داروں کے بیانات اور دستاویزات میں ایسے الفاظ کے استعمال سے اجتناب برتنا ہے جن سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو یا یہ تاثر پیدا ہوتا...

آزادی رائے، مغرب اور امت مسلمہ

محمد عمار خان ناصر

ڈنمارک کے ایک اخبار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور گستاخی پر مبنی خاکوں کی اشاعت سے عالم اسلام میں احتجاج کی جو طوفانی لہر پیدا ہوئی تھی، جذبات کا کتھارسس ہو جانے کے بعد حسب توقع مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ مذہبی قائدین کی توجہ فطری طور پر دوسرے مسائل نے حاصل کر لی ہے اور خدا نخواستہ اس نوعیت کے کسی آئندہ واقعے کے رونما ہونے تک، عوامی سطح پر پائے جانے والے مذہبی جذبات بھی بظاہر پرسکون ہو چکے ہیں۔ اس طرح کے کسی بھی بحران میں امت مسلمہ کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کا تجزیہ، غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشان دہی، مستقبل کی پیش بینی اور اس حوالے...

مغرب، توہین رسالت اور امت مسلمہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

یورپ کے بعض اخبارات کی طرف سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی پر عالم اسلام میں اضطراب مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور پاکستان کی کم وبیش تمام دینی وسیاسی جماعتوں نے ۳؍ مارچ کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی ہے جس کی تیاریاں ملک بھر میں ہر سطح پر جاری ہیں۔ قوم کا مطالبہ یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا اہتمام کرنے والے اخبار کے ملک ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے جائیں اور مغربی میڈیا کی اسلام دشمن مہم اور سرگرمیوں کا اسلامی سربراہ کانفرنس کی سطح پر نوٹس لیا جائے۔ وزیر اعظم جناب شوکت...

پاکستان، اسرائیل اور مسئلہ فلسطین

پروفیسر میاں انعام الرحمن

1897 کی بیسل کانفرس میں یہودیوں نے اپنی جدا گانہ آزاد ریاست کے قیام کے لیے منصوبہ بندی کر لی تھی اوراس کے بعد سے وہ اسے عملی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ انہی دنوں انگریزوں نے پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے ’انعام کے طور پر عربوں کو آزاد اور خود مختار علاقے دینے کا وعدہ کر رکھا تھا، لیکن سلطنتِ عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر نے میں عربوں کے تعاون کے باوجود برطانوی وزیرِ خارجہ بالفور نے ۱۹۱۷ء میں یہودیوں سے فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا وعدہ کر لیا۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ادھر برِ صغیر پاک و ہند میں مسلمان اپنے...

سوشل گلوبلائزیشن کا ایجنڈا اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۰ جون ۲۰۰۵ کو ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی، جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ نشست میں لندن کے مختلف علاقوں کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے سوشل گلوبلائزیشن کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔...

مغرب کی ابھرتی ہوئی مذہبی شناخت اور اس کی تشکیل میں مسلمانوں کا کردار

پروفیسر میاں انعام الرحمن

شمالی امریکہ میں نائن الیون کے اندوہ ناک حادثے کے بعد مغربی یورپ میں سیون سیون کے بم دھماکوں نے ایک بار پھر پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ اگرچہ مغربی میڈیا نے حسبِ روایت چیخ پکار کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ حیرت زدگی اقوامِ عالم کو اس شدت کے ساتھ ماتم پر مجبور نہیں کر سکی جس کی توقع اہلِ مغرب کے یک رخی سوچ کے حامل افراد کر رہے تھے۔ اس قسم کے حادثات جہاں آنے والے وقت کی سختی اور پیچیدگی کو ظاہر کر رہے ہیں، وہاں مغربی استعماریت کے داخلی ڈھانچے کے دیمک زدہ ہونے کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ہماری رائے میں...

ڈاکٹر مہاتیر محمد کے فکر انگیز خیالات

ادارہ

ڈاکٹر مہاتیر محمد عصر حاضر میں عالم اسلام کے وہ منفرد سیاسی راہ نما اور مفکر ہیں جو مغربی فلسفہ وثقافت اور عالم اسلام کے بارے میں مغرب کی پالیسیوں اور طرز عمل پر کھلم کھلا تنقید کرتے ہیں اور ملت اسلامیہ کے حقوق ومفادات کے حق میں دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ وہ تقریباً ربع صدی تک ملائشیا کے حکمران رہے ہیں اور مسلم ممالک میں رائج نظاموں کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے ملائشیا کو معاشی لحاظ سے مغرب کے چنگل سے نجات دلانے میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ آج کے دور میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے لائق تقلید ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی بین الاقوامی...

عالم اسلام اور مغرب: متوازن رویے کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہمارے ہاں یہ خوف عام طور پر پایا جاتا ہے جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے کہ مغرب نے عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے، اس کی سیاست کو کنٹرول میں لینے اور اس کی معیشت کو اپنے مفادات میں جکڑنے کے بعد اب اس کی تہذیب وثقافت کو فتح کرنے کے لیے یلغار کر دی ہے۔ یہ یلغار سب کو دکھائی دے رہی ہے اور اس کے وجود اور شدت سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کر سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ اس یلغار کا راستہ روکنے یا اس کی زد سے اپنی تہذیب وثقافت کو بچانے کے لیے عالم اسلام میں کیا ہو رہا ہے؟ ہمارے دینی وعلمی حلقوں میں اس یلغار کا جو رد عمل سامنے آ رہا ہے، اس کا وہ رخ تویقیناًخطرناک...

مغرب کا فکری و تہذیبی چیلنج اور علما کی ذمہ داریاں

ڈاکٹر محمود احمد غازی

برادران محترم! اس وقت دنیاے اسلام جس دور سے گزر رہی ہے، یہ دور اسلام کی تاریخ کا انتہائی مشکل دور ہے۔ امت مسلمہ کو جو مشکلات آج درپیش ہیں، شاید ماضی میں اتنی مشکلات کبھی درپیش نہیں ہوئیں۔ ایک اعتبار سے امت مسلمہ کی پوری تاریخ بحرانوں کی تاریخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور نبوت کے آغاز سے لے کر، جب آپ دار ارقم میں قیام فرما تھے، آج تک کوئی صدی، اور صدی کا کوئی حصہ یا کوئی عشرہ ایسا نہیں گزرا جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اس میں مسلمانوں کو کوئی مشکل درپیش نہیں تھی۔ لیکن ان ساری مشکلات میں اور آج کی مشکل میں ایک بڑا بنیادی فرق ہے۔ ماضی...

احیائے اسلام کے امکانات اور حکمت عملی

پروفیسر محمد اکرم ورک

۱۹۹۲ میں ایک کمیونسٹ ریاست کی حیثیت سے سوویت یونین کے سقوط کے فوراً بعد مغربی پالیسی سازوں نے اپنی ترجیحات کو تبدیل کر لیا، چنانچہ ۱۹۹۳ میں امریکہ کے مشہور یہودی محقق اور دانش ور سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف Clash of Civilizations لکھ کر تہذیبوں کے تصادم کا نیا تصور پیش کیا اور اسلامی تہذیب کو مغرب کا متوقع دشمن قرار دیا۔ اس خیال اور نظریہ نے بہت جلد اس وقت حقیقت کا روپ دھار لیا جب امریکی صدر بش نے ۱۱/۹ کے پس منظر میں اکتوبر ۲۰۰۱ میں پہلے افغانستان پر اور بعد ازاں اپریل ۲۰۰۳ میں عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مسلمان تو پہلے ہی...

اسلام، عالم اسلام اور مغرب

ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی

جناب ڈاکٹر فرحان نظامی صاحب، معزز مہمانان، خواتین وحضرات! (۱) آکسفرڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز میں خطاب کرنا میرے لیے حقیقتاً بڑے شرف اور اعزاز کی بات ہے اور میں اس نہایت ممتاز پلیٹ فارم سے گفتگو کا موقع فراہم کرنے پر جناب ڈاکٹر فرحان نظامی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ مسلم دنیا کے مطالعے کے لیے یہ سنٹر ایک اعلیٰ ادارے کے طور پر ترقی کی منزلیں طے رہے گا۔ ملائشیا اس سنٹر کی متنوع سرگرمیوں، بالخصوص مغرب میں وسیع پیمانے پر اسلام کی تفہیم کے حوالے سے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ (۲) میں آپ کے ساتھ کئی حیثیتوں سے مخاطب ہوں۔ سب سے پہلے تو میں...

موجودہ صورتحال میں اہل علم ودانش کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رابطہ عالم اسلامی کی سالانہ کانفرنس ۱۸ سے ۲۰ ستمبر تک مکہ مکرمہ میں منعقدہوئی۔ پہلے سے علم ہوتا تو اس میں بطور مبصر یا اخبار نویس تھوڑی دیر کے لیے حاضری کی کوئی صورت نکالنے کی کوشش کرتا اس لیے کہ ۱۸ ستمبر کو میں جدہ میں تھا، لیکن ۱۹ ستمبر کو جب میں سعودی عرب میں ایک ہفتہ گزار کر لندن کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اخبارات میں اس کانفرنس کے آغاز کی خبر پڑھی۔ یہ کانفرنس ہر سال ہوتی ہے اور اس میں دنیا بھر سے رابطہ کے ارکان اور مدعوین شرکت کرتے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، اس حوالہ سے کہ اس کی سرگرمیاں پورے عالم اسلام...

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اقوام متحدہ کا ’’انسانی حقوق کا چارٹر‘‘ الشریعہ کے زیر نظر شمارے میں شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ اردو ترجمہ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے اور یہ چارٹر کا سرکاری ترجمہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کو آج کی دنیا میں بین الاقوامی دستور کا درجہ حاصل ہے اور کم وبیش تمام ممالک نے اس پر دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر دستخط کرنے والے تمام ممالک نے یہ پابندی قبول کی ہوئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک میں دستور وقانون کے نفاذ اور ملکی نظام کو چلاتے وقت اس معاہدہ کا لحاظ رکھیں گے اور اپنے باشندوں کو وہ تمام حقوق...

کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

ادارہ

زاہد صاحب میرے دوست ہیں۔ انہوں نے میرے کالم ’’تالاب میں کودنے سے پہلے‘‘ کے جواب میں مجھے پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے ایک لیکچر کی کاپی بھجوائی۔ پروفیسر صاحب اپریل ۱۹۹۲ء میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر دس روز کے لیے پاکستان تشریف لائے تھے۔ لاہور میں پائنا نے ان کے ایک خطاب کا اہتمام کیا۔ اس محفل میں عام شہریوں کے علاوہ ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک، ڈاکٹر صفدر محمود، مولانا صلاح الدین، چیف جسٹس انوار الحق، جسٹس محبوب احمد، ایس ایم ظفر، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر رضاء الحق، پروفیسر جمیلہ شوکت،...

امریکی استعمار، عالم اسلام اور بائیں بازو کی جدوجہد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ہفتے کے دوران دنیا کے مختلف ملکوں کے سینکڑوں شہروں میں عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملہ کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے اور اسے وسائل پر قبضے کا جنون قرار دیتے ہوئے دنیا کے کروڑوں انسانوں نے امریکی عزائم کی مذمت کی۔ بادی النظر میں ان مظاہروں کا اہتمام زیادہ تر ان حلقوں کی طرف سے کیا گیا ہے جنہیں بائیں بازو کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور جو امریکہ اور سوویت یونین کے خلاف ’’سرد جنگ‘‘ کے عنوان سے گزشتہ پون صدی کے دوران بپا ہونے والی کشمکش میں سوویت یونین کے حلیف یا ہم خیال تصور کیے جاتے رہے ہیں۔ ان مظاہروں سے محسوس ہوتا ہے کہ سوویت یونین کی شکست...

جدید مغربی معاشرے کے لیے دینی مدارس کا پیغام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برادر محترم مولانا رضاء الحق سیاکھوی اور ان کے رفقا کا شکر گزار ہوں کہ جامعہ الہدیٰ شیفیلڈ کے افتتاح کے موقع پر اس تقریب میں آپ حضرات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا موقع فراہم کیا اور اس نئے تعلیمی ادارے کے آغاز پر مدنی ٹرسٹ کے تمام دوستوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت اس ادارہ کو پورے خطے میں دین کی سربلندی اور علم کے فروغ کا ذریعہ بنائیں، آمین یارب العالمین۔ ہم ایک دینی درس گاہ کے افتتاح کی تقریب میں جمع ہیں اور دینی مدارس کے حوالے سے اس وقت یہ صورت حال ہمارے سامنے ہے کہ ایک طرف دینی مدارس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا...

امریکہ کے باضمیر دانش وروں کا اعلان حق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام اور اقوام بڑی طاقتوں کی فوجی مداخلت اور دباؤ سے آزاد رہتے ہوئے اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ سارے لوگ جنہیں امریکی حکومت نے گرفتار کر رکھا ہے یا جن پر اس کی طرف سے مقدمے چلائے جا رہے ہیں، انہیں معروف طریقہ کار کے مطابق وہ تمام حقوق ملنے چاہییں جو دوسروں کو حاصل ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ سوال کرنے، تنقید کرنے اور اختلاف کرنے کے حق کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد ضروری ہوتی ہے اور ان کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ...

تیل کی طاقت

کرسٹوفر ڈکی

تیل کے بادشاہ اب بھی سعودی ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک تیل کے چشمے خشک نہیں ہو جاتے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عرب سرمایہ داروں کی تصویر یوں پیش کی جا رہی ہے جیسے وہ تیل فروخت کرنے والی ایک زوال پذیر تنظیم کے ڈانواں ڈول مالک ہوں، جس کی طاقت دو خطروں کے باعث کمزور پڑ رہی ہے: ایک روس کی بڑھتی ہوئی تیل کی طاقت اور دوسرا عراق جو اس انتظار میں ہے کہ خلیج عرب میں سعودیہ کی جگہ لے سکے۔ زوال پذیر صحرائی بادشاہت کے اس خیال میں کچھ صداقت ضرور ہے۔ تیل کے حوالے سے سعودیوں کا اثر ورسوخ اب پہلے کی طرح عام اور وسیع نہیں ہے اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی اب پہلے...

بیروت کی علماء کانفرنس کا اعلامیہ

ادارہ

بیروت کی علما کانفرنس کا اعلامیہ۔ القدس اور فلسطین کی مدد، مظلوم فلسطینی عوام کی تائید، زیادتی اور غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے کے حق اور اپنے دفاع کی خاطر صہیونی غاصب کے بارے میں اسلام اور علماء اسلام کے موقف کو واضح کرنے کے لیے لبنان میں ’’تجمع العلماء المسلمین‘‘کی دعوت پر بیروت میں ۲۵/۲۶ شوال ۱۴۲۲ھ مطابق ۹،۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء کو فلسطینی عوام کے جہاد کی تائید میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا ’’قدس کو بچانا اور فلسطینی عوام کی مدد کرنا شریعت کا حکم ہے اور اس کی خاطر جہاد کرنا واجب ہے‘‘۔ ا س کانفرنس میں ۳۴ ممالک کے ۱۳۰ بڑے...
1-50 (66) >
Flag Counter