دین و حکمت

اسلام کا فلسفہ حرکت

بیرسٹر ظفر اللہ خان

ساحل افتادہ گفت گرچہ بے زیستم۔ ہیچ نہ معلوم شدہ آہ کہ من چیستم۔ موج ز خود رفتہ، ئی تیز خرامید و گفت۔ ہستم اگر میروم، گر نروم نیستم۔ 1972ء میں جب میں چھٹی جماعت میں تھا۔ میر ے ایک محترم استاد کلاس میں باآواز بلند حضرت اقبالؒ کی یہ نظم پڑھ کر ہمیں سنایا کرتے تھے: چاند اور تارے۔ ڈرتے ڈرتے دم سحر سے۔ تارے کہنے لگے قمر سے۔ نظارے رہے وہی فلک پر۔ ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر۔ کام اپنا ہے صبح و شام چلنا۔ چلنا، چلنا، مدام چلنا۔ بے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے۔ کہتے ہیں جسے سکوں، نہیں ہے۔ رہتے ہیں ستم کشِ سفر سب۔ تارے، انساں، شجر، حجر سب۔ ہو گا کبھی ختم یہ سفر کیا۔...

عقل حاکم اور عقل خادم کا امتیاز

محمد عمار خان ناصر

زنا یعنی جنسی تسکین کو معاشرتی حدود وقیود سے مقید کیے بغیر جائز قرار دینے کے حوالے سے بعض مسلمان متکلمین نے یہ دلچسپ بحث اٹھائی ہے کہ شرعی ممانعت سے قطع نظر کرتے ہوئے، کیا یہ عمل عقلا بھی قبیح اور قابل ممانعت ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں حنفی فقیہ امام جصاص اور شافعی فقیہ امام الکیا الہراسی کے ہاں دو مخالف زاویہ ہائے نگاہ کی ترجمانی ملتی ہے۔ جصاص کا کہنا ہے کہ زنا عقلا قبیح ہے، کیونکہ اس کی زد بچے کے نسب اور کفالت وغیرہ کے معاملات پر پڑنا ناگزیر ہے، اس لیے ان سوالات سے مجرد کر کے مرد وعورت کے باہمی جنسی استمتاع کو درست قرار دینا انسانی معاشرے کے...

خدا کی رحمت اور عدل: ایک حقیقت کے دو نام

ڈاکٹر عرفان شہزاد

فطرت الہی اور فطرت انسان کی مشترکہ اساسات اور احساسات: فطرت الہی کو جاننے اور سمجھنے کا راستہ فطرت انسانی ہے۔ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ [الروم: 30] "تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیاہے۔" اخلاقیات اور جمالیات کے باب میں انسانوں کی فطرت میں پائے جانے والے بنیادی اور مشترکہ احساسات اور ان کی اساسات فطرت الہی پر مبنی ہیں۔ انسان اسی چیز کو اچھا اور برا سمجھتا ہے جو فطر ت الہی سے اسے ودیعت ہوا ہے۔ اس کا برعکس کہنا بھی اسی وجہ...

حورانِ بہشتی کے قرآنی اوصاف وخصائل

مولانا محمد عبد اللہ شارق

”حورانِ بہشتی“کا مصداق: حورانِ بہشتی“ کا تذکرہ ہم سنتے ہی رہتے ہیں، قرآن وحدیث میں اِن کے حسن وجمال، پرکشش اوصاف،عمدہ خصائل اور جاذبیتِ نظر کے کئی قصے بیان ہوئے ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تبارک وتعالی جہاں کہیں بھی جنت کی خوابوں جیسی زندگی کا تذکرہ فرماتے ہیں تو وہاں پر بہت دفعہ اِن حوروں کا ذکر بھی فرماتے ہیں۔ حوروں کے اِس تذکرہ میں مردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے یکساں رغبت کا سامان موجود ہوتا ہے۔ لیکن ہم میں سے بعض لوگوں نے یہ تصور کررکھا ہے کہ شاید اِن کا تذکرہ صرف مردوں کو راغب کرنے کے لیے ہوتا ہے اور مومن عورتوں کے لیے یہ آیات واحادیث...

امت میں غوروفکر کی بازیافت

ڈاکٹر محی الدین غازی

قرآن مجید میں یعقلون اور یومنون (عقل سے کام لینے اور ایمان لانے)کو ایک جیسے سیاق میں بار بار استعمال کیا گیا ہے،اس سے محسوس ہوتا ہے کہ گویا دونوں ایک ہی قبیل کے امر ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل دونوں قرآنی جملوں پر غور کریں: انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یومِنُونَ۔(الروم:37)۔ (بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے)۔ انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یعقِلُونَ۔(الروم:24)۔ (بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے)۔ یہی نہیں، عقل کے جن اعمال کا قرآن مجیدمیں ذکر ہے، جیسے یفقہون، یتدبرون، یتفکرون، یتذکرون، یعلمون،وغیرہ اور...

آزمائش کا اصول اور دعوت ایمان کی اہمیت

محمد عمار خان ناصر

جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی انسانوں سے جواب طلبی اور محاسبہ اس اصول پر کریں گے کہ کس پر حجت کتنی تمام ہوئی ہے تو بعض لوگوں کے ذہن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں غیر مسلموں کو دعوت کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ جب یہ معلوم ہے کہ عموما انسانوں کے لیے اپنے ماحول کے اثرات اور معاشرتی روایت سے اوپر اٹھ کر کسی نئی بات کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے تو کیا مسلمان، لوگوں تک دعوت پہنچا کر انھیں مشکل میں ڈالنے کا موجب نہیں بنیں گے؟ کیونکہ دعوت پہنچے بغیر تو ہو سکتا ہے، لوگ اللہ کے ہاں معذور شمار کیے جائیں، لیکن دعوت پہنچ جانے کی...

قوموں کی سرکشی پر عذاب الٰہی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سورۃ یوسف کے آخر میں اللہ تعالی ٰ نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور مختلف اقوام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم میں ماضی کی قوموں کے واقعات کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ وہ ارباب فہم و دانش کے لیے سبق اور عبرت کا ذریعہ بنیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ پہلی آسمانی کتابوں میں بیان کردہ باتوں کی تصدیق اور وضاحت کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں ماضی کی دو قوموں کا تذکرہ موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ ہمیں ان سے سبق حاصل کرنے اور عبرت پکڑنے کا موقع ملے، آمین یا رب العالمین۔ سورۃ الاعراف کی آیت...

اسلام میں میانہ روی اور اعتدال کی قدریں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(رابطۃ العالم الاسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام ’’قیم الوسطیۃ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنۃ‘‘ کے زیر عنوان ۲۲ تا ۲۴ رمضان ۱۴۴٠ھ کو مکہ مکرمہ میں منعقدہ کانفرنس کے لیے لکھا گیا) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علٰی جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً علٰی سید الرسل و خاتم النبیین وعلٰی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین اما بعد۔ فقد قال اللہ تبارک و تعالٰی فی کلامہ المجید اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعالمین فیہ اٰیات بینات مقام ابراہیم ومن دخلہ...

اے عاشقانِ رسول، تم پر سلام !

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

لیکن یہ عشق اپنے خاص آداب رکھتا ہے ’’عشق ہے پیارے کھیل نہیں ہے، عشق ہے کارِ شیشہ وآہن‘‘۔ مؤمن آزاد نہیں ،کہ جو جی میں سمائے اس پر عمل پیرا ہو جائے۔ اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملہ میں اُسوۂ و طرزِ عمل چھوڑا ہے۔ اہانت کے معاملے بھی پے بہ پے آپ کی زندگی آئے۔ مکی زندگی ہی میں نہیں ،مدنی زندگی میں بھی، اور آپ ؐکے اور آپ کے اصحابؓ کے لیے بنیادی طور پر یہ ہدایتِ ربانی رہنما رہی: ’’تم بالضرور آزمائے جاؤگے اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں، اور کتنی ہی دل آزار باتیں بھی تمہیں سننی پڑیں گی اہلِ کتاب اور مشرکین سے ، اور اس کے مقابلہ میں اگر تم...

اہانت اسلام کے واقعات اور مسلمانوں کا رد عمل

مولانا محمد یحیی نعمانی

ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ اسلامی شریعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہر قسم کے حالات کے لیے رہنمائی اور نمونہ موجود ہے۔ خصوصاً ایسے اجتماعی مسائل جن کا تعلق پوری امت سے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق جیسے نازک مسائل سے ہو، ان میں ہمارا دینی فرض ہے کہ اللہ ورسول کی رہنمائی کے بغیر ایک قدم بھی نہ بڑھائیں۔ موجودہ زمانے میں اسلام اور رسول اللہ کے ناموس مبارک کی توہین کے ملعون واقعات بھی اسی زمرہ کی چیز ہیں۔ اب کون سمجھ دار ہوگا جو مغرب کے مہذب، معقولیت پسند اور روشن خیال ہونے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو، بے چارے نے اپنے...

توہین رسالت کا مسئلہ اور ہماری حکمت عملی

مولانا وقار احمد

آج کل دنیا بھر میں ایک امریکی کی بنائی ہوئی فلم زیر بحث ہے جس میں مبینہ طور پر پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمناک انداز میں توہین کی گئی ہے۔ مسلم دنیا کی طرف سے انتہائی غم اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں عوام کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی اس مسئلہ پر احتجاج کیا اور جمعہ ۱۲ ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ صورت حال مسلسل دیکھنے میں آ رہی ہے کہ آزادی رائے کے نام پر مسلم دنیا کے جذبات کو بعض خاص مقاصد کے لیے وقتاً فوقتاً مشتعل کیا جاتا ہے اور ان کارروائیوں کے پس منظر میں عالمی استعمار کے پیش نظرکئی اہم مقاصدہوتے...

رمضان المبارک ۔ حسنات کا گنج گراں مایہ

پروفیسر غلام رسول عدیم

اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ جس کی فضیلتوں اور برکتوں کا شمار ممکن نہیں، واحد وہ مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن مجیدمیں آتا ہے اور دو مناسبتوں سے آیا ہے۔ اول یہ کہ یہی وہ ماہ مقدس ہے جس میں نزول قرآن کا آغاز ہو ایا قرآن لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور پھر حکمتِ الٰہی اور ضرورتِ بشری اور حکمتِ خداوندی سے ۲۲؍سال اور ۷؍ ماہ اور ۱۴؍دن کے عرصے میں نجماًنجماً، آیۃً آیۃً، سورۃً سورۃً، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا رہا۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ (البقرۃ۲:۱۸۵)۔ ’’رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔‘‘...

دین کے مختلف شعبوں میں تقسیم کار کی اہمیت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تبلیغی جماعت ہمارے اس دور میں دین کی دعوت، عام مسلمان کو دین کی طرف واپس لانے اور اصلاح وارشاد کی تجدیدی تحریک ہے جس کا آغاز شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن دیوبندی کے ماےۂ ناز شاگرد حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے ہاتھوں ہوا اور یہ ان کے خلوص وللہیت کا ثمرہ ہے کہ کم وبیش دنیا کا کوئی حصہ بھی دعوت وتبلیغ کی اس مبارک جدوجہد کی تگ وتاز سے خالی نہیں ہے۔ اس جدوجہد کا بنیادی ہدف عام مسلمان کو مسجد کے ساتھ جوڑنا اور عمومی سطح پر دینی ماحول کو زندہ کرنا ہے جس کے اثرات وثمرات دن بدن پھیلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی گزشتہ...

دنیا کا مال و متاع اور اللہ کے ہاں کامیابی کا معیار

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

شور برپا ہے کہ مسلمان دنیا میں پست ہو رہے ہیں اور غیر مسلم خصوصاً مغربی قومیں بلند اور ترقی یافتہ ہو رہی ہیں ۔ گویا کہ دنیا میں کامیابی ، عزت اور کمالیت کا معیار دنیا اور متاع دنیا ہی کو سمجھا جا رہا ہے ۔ ظاہر بین نگاہیں ، دنیا اور متاع دنیا کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہیں ، حالانکہ کسی چیز کا اچھا یا برا ہونا اس کے انجام کے ساتھ وابستہ ہے ۔ یعنی جو چیز اپنے انجام اور نتیجہ کے اعتبار سے مہلک اور باعثِ فساد ہو ، ایسی چیز کو محبوب اور پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ اس کے حاصل ہونے پر خوشی کا اظہار ہوتا ہے اور نہ ایسی چیز کے حاصل کرنے کے...

دنیا کی محبت اور علمائے اسلام کی ذمہ داری

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

اس وقت غیر اسلامی مغربی تہذیب و تمدن نے تمام دنیا کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جس کو ممالکِ اسلامیہ بھی اپنائے جا رہے ہیں، لیکن اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ زندگی کی کشتی کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا جائے اور وہ اس کو جس طرف لے جانا چاہے، لے جانے دیا جائے، کیونکہ اسلام ہر زمانہ میں اپنے غالب رہنے کے اصول دیتا ہے اور ایسی تدبیریں بتلاتا ہے جن کے ذریعہ سے ہر زمانہ میں اصلاح کی جا سکتی ہے اور انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد ہے: ’’اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کر دے تمام دینوں پر اور کافی ہے اللہ گواہی کے لیے۔‘‘...

امہات المومنین کے لیے حجاب کے خصوصی احکام

ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

مسلمان معاشرے کا ایک اہم مسئلہ پردہ ہے۔ خواتین سے متعلق اس اہم مسئلے میں مسلمان (مرد اور عورتیں دونوں) افراط وتفریط کا شکار ہیں، یعنی ایک طرف انتہا پسندانہ (Extremist) نقطہ نظر ہے اور دوسری طرف مسئلے کی اہمیت کو گھٹانے یا اس سے صرف نظر کرنے کا رجحان ہے۔ یہ مسئلہ سارے مسلمان ممالک کا ہے اور ہر ملک کے مسلمانوں میں اس موضوع پر نقطہ ہائے نظر کا اختلاف ہے، لیکن برصغیر کا ایک اسلامی ملک پاکستان اور دوسرا غیر اسلامی ملک جہاں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں یعنی بھارت یا انڈیا، وہاں ا س بارے میں بڑے انتہا پسندانہ نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ برصغیر...

نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کی اہمیت

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

ہمارے سامنے دو چیزیں پیش کی گئی ہیں: تقدیر اور تدبیر۔ تقدیر میں عوام کو غوروخوض کرنے سے روکا گیا ہے ، لیکن سمجھ دار لوگوں نے اس کو جس عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے اور حل کیا ہے ، اس کو آگے چل کر اپنے موقع پر بیان کیا جائے گا ۔ دوسری چیز یعنی تدبیر ، اس کے اختیار کرنے کا بندے کو تاکید سے حکم دیا گیا ہے ۔ تدبیر کیا ہے؟ تدبیر ہے کسی مقصد کے حاصل کرنے کے لیے اس کے ذرائع اور اسباب کو کام میں لانا۔ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ذرائع اور اسباب میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ ان کی تاثیر اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ سے ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت...

غلامی کے مسئلہ پر ایک نظر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۶ کے شمارے میں شائع شدہ روزنامہ جناح اسلام آباد کے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ کے مضمون میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان میں ایک سوال غلامی کے بارے میں بھی ہے جس میں انھوں نے انتہائی استہزا اور تمسخر کے انداز میں اسے موضوع بحث بنایا ہے، تاہم چونکہ یہ بھی ایک اہم سوال ہے جو جدید تعلیم یافتہ ذہنوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے، اس لیے ا س کے بارے میں کچھ ضروری گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ غلامی کا رواج قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ بعض انسانوں کو اس طور پر غلام بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مالکوں کی خدمت پر مامور ہوتے تھے،...

مصارف زکوٰۃ میں ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی مد

ڈاکٹر عبد الحئی ابڑو

ماہنامہ ’’حکمت قرآن‘‘ لاہور نے اپنی اشاعت خاص (جولائی ۲۰۰۶ء) میں ’’مصارف میں ’’فی سبیل اللہ ‘‘کی مد اور مسئلہ تملیک‘‘ حصہ دوم میں مصارف زکوٰۃ کے حوالے سے ایک استفتا کے جواب میں فتویٰ کے دو اہم مراکز کے جوابات شائع کیے ہیں جو حصہ اول میں دیے گئے مضامین کے بالکل برعکس ہیں۔ اس لیے گھوم پھر کر مسئلہ پھر وہیں آجاتاہے جہاں سے شروع ہوتاہے۔ اس سے یہ احساس خود بخود ابھرتاہے کہ ہمارے برصغیر کے مفتیان کرام اپنے تمام تر اخلاص اور دینی دررمندی کے باوجود دینی تقاضوں کو پیش نظر رکھنے اور ان کی اہمیت کا احساس کرکے اس کا حل ڈھونڈ نکالنے کے بجائے (بصد...

عقل کی حدود اور اس سے استفادہ کا دائرہ کار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ کے گزشتہ شمارے میں ہم نے روزنامہ جناح اسلام آباد کے کالم نگار آصف محمود ایڈووکیٹ صاحب کے پیش کردہ سوالات میں سے ایک کا مختصراً جائزہ لیا تھا۔ آج کی محفل میں ہم اس قسم کے سوالات کے حوالے سے چند اصولی گزارشات پیش کریں گے اور اس کے بعد باقی ماندہ سوالات میں سے اہم امور پر کچھ نہ کچھ عرض کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا اور پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب ہم ایک مسلمان کے طورپر اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا خالق ومالک، رازق ومدبر اور حکیم وحاکم یقین کرتے ہیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ...

دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ

مولانا محمد یوسف

حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ کسی ایک انسانی شعبہ میں دینی جدوجہد اور محنت آپ کو زندگی کے دوسرے شعبوں سے قطعاً غافل نہ کرسکی۔ آپ نے ایک ہی وقت میں مبلغ، معلم، مجاہد، قاضی، شارع، حاکم و فرماں روا، سماجی کارکن، ماہر اقتصادیات، معلم اخلاق اور ماہر نفسیات کی حیثیت سے امت کی راہنمائی فرمائی۔ ایک طرف اگر آپ نے داعی کی حیثیت سے بھٹکی اور گم کردۂ راہ انسانیت کو پستی اور ذلت کے گڑھے سے نکال کر ایمان اور اخلاق وکردار کی بلندیوں پر فائز کیا تو دوسری طرف سماجی کارکن کی حیثیت سے لوگوں کا بوجھ بھی اٹھایا۔ آپ نے محروم لوگوں کو کما...

اشتعال انگیز واقعات پر مسلم امہ کا رد عمل

مولانا نظام الدین

سوال: آپ کے علم میں ہے کہ فاشسٹ عناصر نے تاج محل کے تاجیشوری مندر ہونے کا شوشہ چھوڑ کر باسی کڑھی کو ایک بار پھر ابال دینے کی کوشش کی ہے۔ پیش بندی کے طور پر شاہجہاں وممتاز محل کی قبروں کو بنیاد بنا کر تاج محل کو سنی سنٹرل وقف بورڈ میں قبرستان کے طور پر مندرج کرنے کی بات ملت کے دردمند افراد نے کہی ہے۔ کیا یہ اقدام فاشسٹ عناصر اور شر پسندانہ عناصر کو روکنے کے لیے کافی ثابت ہوگا؟ آپ کے نزدیک اس کا پائیدار حل کیا ہے؟ جواب: تاج محل کو آج کل ہی تاجیشوری کا مندر نہیں کہا جا رہا ہے، یہ پراپیگنڈا آج کا نہیں ہے۔ ایک انگریز مورخ برس ہا برس قبل اس قسم کی زہر...

متشددانہ فتویٰ نویسی : اصلاح احوال کی ضرورت

ادارہ

(۱) از دار الافتاء دار العلوم اسلامیہ چار سدہ: سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ قمیص میں کالر لگواتے ہیں۔ سنا ہے کہ یہ کالر نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہے۔ کیا یہ واقعی ممنوع ہے؟ الجواب بعون الملک الوہاب: بے شک کالر لگانا مشابہت بالنصاریٰ میں داخل ہے اور ناجائز ہے۔ (امداد الاحکام ج ۴ ص ۲۳۵) (ماہنامہ ’النصیحۃ‘ ۔ دار العلوم اسلامیہ چارسدہ، اگست ۲۰۰۴، ص ۳۴)۔ (۲) محترم ڈین کلیہ مطالعات اسلامیہ وشرقیہ، پشاور یونیورسٹی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ پروفیسر عبد اللہ سے آپ کی دانش گاہ کے افتاء سیل...

دعوت اسلام میں ’اعلیٰ کردار‘ کے اثرات

پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت و تبلیغ کا طریقہ کار خواہ کتنا عمدہ ہو، اس وقت تک بے کار اور غیر مؤثر ہے جب تک اس کو مبلغ وداعی کی بلند کرداری، عالی ظرفی اور اخلاقی قوت کا تحفظ حاصل نہ ہو۔انسانی فطرت ہے کہ مدعو پہلے داعی کا کردار اور اس کی شخصیت کا مشاہدہ کرتاہے۔ اگر داعی کی شخصیت غیر معتبر اور کردار داغدار ہے تو دعوت وتبلیغ میں اثر پیدا ہی نہیں ہوسکتا ۔اور اگر داعی کی شخصیت اوصافِ حمیدہ کی حامل ہو اور کردار کی پاکیزگی کا پیکر ہوتو دعوت میں خودبخود تاثیر ومقناطیسی قوت پیدا ہوتی ہے۔ مخاطب کی تعمیرِ سیرت اور تشکیلِ ذات کے لیے سب سے اعلیٰ نمونہ خود مبلغ وداعی کا ذاتی کردار...

علمی وفکری مباحث اور جذباتی رویہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کم وبیش پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔ میرا طالب علمی کا زمانہ تھا۔ لکھنے پڑھنے کا ذوق پیدا ہو چکا تھا۔ جناب ذو الفقار علی بھٹو مرحوم نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے کے بعد ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگا کر ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔ قومی اخبارات اور دینی جرائد میں اسلام، جمہوریت اور سوشلزم کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری تھی اور اسی ضمن میں جاگیرداری نظام، زمینداری سسٹم، مزارعت اور اجارہ پر زمین دینے کے جواز اور عدم جواز پر بہت کچھ لکھا جا رہا تھا۔ اسلامی سوشلزم کے نعرے کی بنیاد پر مسٹر بھٹو مرحوم کے خلاف مختلف دینی حلقوں کی طرف سے طعن...

مذہبی القابات کا شرعی اور اخلاقی جواز

پروفیسر محمد اکرم ورک

دین اسلام سادگی،خلوص نیت اور للہیت کوبڑی اہمیت دیتاہے ،جبکہ نمودو نمائش کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اعمال کی بنیاد خلوص نیت پر رکھی ہے جو یقینی طور پر باطنی کیفیت کا نام ہے۔ اس لیے اسلام کی نظر میں ظاہر اور باطن میں تضاد ناقابل قبول ہے ورنہ سارے اعمال ضائع چلے جائیں گے۔ دینی اور مذہبی خدمات کی انجام دہی میں خلوص نیت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دینی خدمات کا صلہ اللہ تعالی کے سواکسی سے طلب نہیں کیاجاسکتا۔حضرات انبیاء کرام کی سیرت کا یہ مشترکہ پہلو قرآن مجید جگہ جگہ بیان کرتاہے کہ وما اسالکم علیہ من اجر ان اجری الا علی...

دعوت و تربیت اور تعمیر سیرت کی اہمیت

حکیم سید محمود احمد سرور سہارنپوری

میں اسے اپنے لیے بڑی سعادت سمجھتا ہوں کہ اہل علم اور اہل فکر ودانش کے اس اجتماع میں مجھے ’’دعوت اور تربیت‘‘ کے عنوان سے آپ کے سامنے خیالات کے اظہار کا موقع نصیب ہو رہا ہے۔ بات شروع کرنے سے پہلے میں محترم حافظ حسین احمد اور محترم پروفیسر محمد ابراہیم کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اللہ نے جنہیں نصف صدی کے بعد یہ توفیق بخشی کہ وہ پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے متحدہ مجلس عمل کو یہ توفیق نصیب فرمائی کہ آج ایک صوبے میں بغیر کسی کے تعاون کے اسے مکمل حکومت بنانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ...

رمضان المبارک کی فضیلت

مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

یا ایہا الذین آمنواکتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (البقرہ: ۱۸۳)۔ ’‘اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔‘‘ اس آیت میں ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن روزے کا بیان ہے۔ صیام (روزہ) کے لفظی معنی رک جانے کے ہیں۔ عربی زبان میں اس کے لیے امساک کا لفظ بھی آتا ہے تاہم صوم کا لفظ بھی رک جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ شریعت میں طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ روزہ نہار شرعی...

دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب

پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت کے دو بنیادی کردار ہیں: ایک داعی اور دوسرا مدعو۔تاہم دعوت کی کامیابی کامکمل انحصار داعی کی ذات پر ہے کیونکہ دعوت کے مضامین خواہ کتنے ہی پرکشش کیوں نہ ہوں، اگر داعی کا طریقِ دعوت ڈھنگ کانہیں ہے اور وہ مخالف کو حالات کے مطابق مختلف اسالیب اختیار کرکے بات سمجھانے کی قدرت نہیں رکھتا تواس کی کامیابی کاکوئی امکان نہیں ہے۔جو بات ایک پہلو سے سمجھ میں نہیں آتی، وہی بات جب دوسرے انداز سے سامنے آتی ہے تو دل میں اتر جاتی ہے۔مبلغ کی کامیابی صرف اس بات میں ہے کہ دوست دشمن سبھی پکار اٹھیں کہ اس نے ابلاغ کا حق ادا کردیا ہے۔قرآن مجید کی اصطلاح میں تصریف...

دجال ۔ ایک تجزیاتی مطالعہ

پروفیسر غلام رسول عدیم

دینی موضوعات پر لکھنا اور تحقیق وتفحص سے لکھنا کنج کاوی بھی چاہتا ہے اور تلوار کی دھار پر چلنے کے فن کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ تاہم اس پژوہش کاری اور احقاق حق کے لیے جان مارنے والے کو جب تخلیقی راہیں سوجھنے لگتی ہیں تو اس کی تحریر میں بلا کا بانکپن اور غضب کی دلکشی آجاتی ہے۔ اس کشش وانجذاب میں قاری بسا اوقات بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ از خود گرفتہ ہو کر محقق کے سامنے خود انداز وخود سپر ہو جاتا ہے اس لیے کہ اس کے سوا اس کے پاس چارۂ کار ہی نہیں رہ...

دُشمنانِ مصطفٰی ﷺ کے ناپاک منصوبے

پروفیسر غلام رسول عدیم

سچ کڑوا ہوتا ہے، یہ ہر دور کی مانی ہوئی حقیقت ہے۔ عرصۂ دہر میں جب بھی کوئی سچائی ابھری، ہر زمانے کے حق ناشناس لوگوں نے اس پر زبانِ طعن دراز کی بلکہ بسا اوقات مقابلے کی ٹھان لی۔ کیسے ممکن تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی صداقت کا ظہور ہو اور وہ بغیر کسی پس و پیش کے تسلیم کر لی جائے۔ یہ صداقت سرزمینِ عرب سے ابھری تو ایک زمانہ اس کے درپے آزار ہو گیا۔ اپنے آپ کو منوانے کے لیے حقیقتِ ابدی کو مہینوں نہیں سالوں لگے تاہم ؏ ’’حقیقت خود منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی‘‘۔ تئیس سال میں یہ عظیم صداقت مانی گئی اور اس شان سے مانی گئی کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی ؏ ’’فلک...

اخلاص اور اس کی برکات

الاستاذ السید سابق

اخلاص یہ ہے کہ انسان کا قول، عمل اور ہر کوشش صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، اس کی رضا کے لیے ہو، اس کے قول و عمل میں طلبِ جاہ و مال یا ریا نہ ہو۔ اسلام میں اخلاص کی اہمیت: قرآن میں متعدد بار اخلاص کی طرف دعوت دی گئی ہے، فرمایا: وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ (البینہ) ’’اور ان کو یہی حکم ہوا کہ صرف اللہ ہی کی بندگی کریں۔‘‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اعمال کی قبولیت کا مدار اخلاص ہی کو ٹھہرایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بروایت ابن ابی حاتم، عن طاووس ۔۔۔) ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں حج کرتا ہوں اور مناسک کی ادائیگی کے...

اسلام کا فطری نظام

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

سمندر کا ایک ایک قطرہ، ریت کا ایک ایک ذرہ، درختوں کا ایک ایک پتہ، اور زمین و آسمان کا ایک ایک شوشہ بزبانِ حال ہر باشعور کو پکار پکار کر یہ دعوتِ فکر دیتا ہے کہ تمہارا اپنے آقائے حقیقی کے ساتھ ایک ازلی رشتہ اور ایک ابدی علاقہ ہے جس نے تمہاری جسمانی راحت و آرام کا جو اہتمام فرمایا ہے اس سے کہیں زیادہ اس نے تمہاری کائناتِ روحانی کی آسائش و زیبائش کا معقول اور واضح تر انتظام کیا ہے۔ یہ بہتے ہوئے دریا، یہ ابلتے ہوئے چشمے، یہ لہلہاتے ہوئے سبزے، یہ چہچہاتے ہوئے پرندے، یہ اونچی اونچی پہاڑیاں، یہ گھنی اور گنجان جھوڑیاں، یہ تناور اور پھل دار درخت، یہ...

وسیلۂ نجات ۔ کفارۂ مسیحؑ یا شفاعتِ محمدیؐ

محمد عمار خان ناصر

انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے اگرچہ سلیم ہے لیکن نفسِ امّارہ اور شیطانی تحریصات کی وجہ سے گناہ سے بچ نہیں سکتا کیونکہ غلط ماحول اور غلط تربیت کے نتیجہ میں گناہ بسا اوقات انسان کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی انسانی وجود گناہ سے محفوظ نہیں کیونکہ انبیاءؑ اللہ کی پاک و معصوم مخلوق ہیں۔ گناہ کر کے انسان خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ان الانسان لربہ لکنود (العادیات) ’’بے شک انسان اپنے رب (کی نعمتوں) کا ناشکرا ہے‘‘۔ اور فرمایا کہ وکان الانسان کفورًا (بنی اسرائیل) ’’انسان...
1-34 (34)
Flag Counter