مکاتب فکر
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۲)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب نے تخلیقی انداز میں متعدد مصادر علم سے استفادہ کیا ہے۔ ان مصادر میں فقہ، تصوف اور ذاتی تجربہ شامل ہیں۔ یہ کسی صوفی کی جانب سے مصلح فقیہوں کے غیظ وغضب کے خلاف عوامی عرف اور رسوم کا دفاع نہیں،...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۱)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
بارھواں باب: اندرونی اختلافات: ایک بار مولانا رشید احمد گنگوہی مکہ مکرمہ میں اپنے شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر کی زیارت کرنے گئے۔ حسن اتفاق سے اس وقت حاجی صاحب کے پڑوس میں محفل میلاد جاری تھی۔ حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۰)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
امکانِ کذب یا امکانِ نظیر؟ دین کے بنیادی عقائد کے دفاع کے حوالے سے گہری بے چینی نے مولانا احمد رضا خان کو مجبور کیا کہ وہ علماے دیوبند کی تکفیر کریں۔ یہ بے چینی اس وقت مزید وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے، جب امکانِ کذب (خدا...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۹)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
گیارہواں باب: علم غیب: نبی اکرم ﷺ کے علمِ غیب پر بحث میں مولانا احمد رضا خان اور ان کے دیوبندی مخالفین اس بات پر متفق تھے کہ علم اور نبوت باہم لازم وملزوم ہیں۔ وہ اس بنیادی عقیدے پر بھی متفق تھے کہ خدا کی تمام مخلوقات...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۷)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
شرعی حکم اور عرف وعادت کے درمیان امتیاز: بدعت کی حدود پر دیوبندی اور بریلوی مواقف ایک اور دقیق لیکن نمایاں نکتے پر بھی مختلف تھے، یعنی کسی سماج کی شرعی حدود کی تعیین میں عرف وعادت کا کردار۔ جیسا کہ ہم گزشتہ ابواب میں...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۶)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
نواں باب: مذہبی اصلاح کے دیوبندی تصور پر بریلوی علماء کی تنقید: جنوری 1906 میں جب مولانا احمد رضا خان اپنے دوسرے حج کے سفر پر تھے، انھوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تیس نامور فقہا کی خدمت میں اپنا ایک فتوی پیش کیا۔ اس...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۵)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
توحید کی احیا کے لیے نیکی کی ممانعت: مسئلۂ عید میلاد النبی: انیسویں صدی کے مسلمان اہل علم کے درمیان عید میلاد النبی پر جتنے پرجوش مناظرے ہوئے ہیں، اتنے کسی اور مسئلے پر نہیں ہوئے ہیں۔ استعماری دور میں مسئلۂ میلاد پر...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۴)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
ایجاد کب بدعت بن جاتی ہے؟ بدعت کی تعبیر وتشریح کے اصول: شاہ محمد اسماعیل اور دیوبند کے پیش روؤں کے لیے نہ صرف نبی اکرم ﷺ کا عمل اور عہد مقدس ہے، بلکہ اس کے ساتھ سلف صالحین، یعنی تمام صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۳)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
اب میں بدعت اور اس کی حدود کی تعیین کے لیے چند کلیدی تعبیری پہلوؤں کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، لیکن جنوبی ایشیا کی طرف جانے سے پہلےمیں کچھ لمحات کے لیے الشاطبی کے ساتھ رکوں گا۔ بدعت کی تعبیر وتشریح کے اصول: بدعت بطور تقلیدی/جعلی...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۲)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
مسلم فکر میں بدعت (جس کا لفظی معنی نئی چیز ہے) بیک وقت شدید متنازع، مبہم اور لچک دار اصطلاحات میں سے ہے۔ بدعت بیک وقت دین/روایت کی حدود اور ہمیشہ ان حدود سے تجاوز کے منڈلاتے خطرے اور امکان کا اظہار ہے۔ حدود اور تجاوز،...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۱)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
1890 میں جمعہ کے روز بیرون ملک سے آئے ہوئے ایک سیاہ فام عالم (اس کے اصل وطن کے بارے میں روایت خاموش ہے) اترپردیش ہندوستان کے قصبے دیوبند میں وارد ہوا۔ مقامی سماج اور ان کے دینی اعمال میں دلچسپی کے باعث اس نے حاجی محمد عابد...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۰)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
خیر آبادی کی تنقید کا تجزیہ مکمل کرنے کے لیے میں امکان کذب (یعنی خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان) اور امکان نظیر (خدا کا حضرت محمد ﷺ کی نظیر پیدا کرنے کا امکان) سے متعلق شاہ اسماعیل کے خیالات کی تردید کے لیے ان کے استدلال کے...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۹)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
تقویۃ الایمان کی اشاعت کے ساتھ ساتھ دلی میں شاہ اسماعیل کی اصلاحی سرگرمیوں نے شہر کے اہل علم اشرافیہ کے درمیان بحث ومباحثہ اور استدلالات کی ایک گرما گرم فضا تشکیل دی تھی۔ خاص طور پر کتاب کی نسبتاً زیادہ متنازعہ عبارات...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۸)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
شفاعت نبوی کے موضوع کو حاکمیت (توحید) کے سوال سے جدا کرنا ناممکن ہے۔ کسی گناہ گار کو معاف کرنے کی قدرت، جو کہ عمومی قاعدے سے انحراف ہے، استثنا کو قانون کی شکل دینے کی استعداد پر دلالت کرتی ہے۔ حاکمِ اعلیٰ، یاد کریں، کم...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۷)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
سیاست شرعیہ۔ شعائر دین کے تحفظ کی سیاست۔ شاہ اسماعیل نے منصبِ امامت (فارسی میں) اس وقت لکھی جب وہ سکھوں کے خلاف برسرِ پیکار تھے جس میں بالآخر ان کی شہادت واقع ہوئی۔ ان کی وفات کتاب کی تکمیل میں حائل ہو گئی، اگر چہ وہ...
مشائخ احناف کے تصور دلالۃ النص پر چند سوالات
― ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل
ان سوالات کا مقصد نفس مسئلہ کو سمجھنا ہے۔ حنفی اصول فقہ کے مطابق حدود و کفارات میں قیاس کااجراء جائز نہیں کہ قیاس ظنی ہے جس میں شبے کا امکان ہوتا ہے اور شبے سے حدود ساقط ہوجاتی ہیں نیز حدود شارع کی مقرر کردہ مقدارات ہیں...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۶)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
حاکمیت الہیہ اور عقیدہ توحید کا احیا: شاہ محمد اسماعیل کی علمی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی تصورات میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کا احیا ہے۔ حاکمیتِ اعلیٰ کے بارے میں ان کی بحث تباہ کن اخلاقی...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۵)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
اصلاحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شاہ اسماعیل نے انیسویں صدی کے اوائل کے ہندوستان کی انتہائی اہم کتابیں سپرد قلم کیں۔ انھوں نے فقہ، کلام، منطق، سیاسیات اور تصوف کے متعدد موضوعات اور علوم پر کتابیں لکھیں1۔ مزید برآں انھیں...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۴)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
برصغیر کی اسلامی تاریخ میں بہت کم ایسے مفکرین ہوں گے جن کا فکری ورثہ شاہ محمد اسماعیل (جو شاہ اسماعیل شہید کے نام سے بھی معروف ہیں) کی طرح متنازع اور اختلافی ہے۔ شاہ اسماعیل نے 1779 میں دلی کے ایک ایسے ممتاز گھرانے میں...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۳)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ایک موقع پر شمالی ہندوستان کے نامور مسلمان مُصلح شاہ محمد اسماعیل دہلی کی مشہور جامع مسجد کے صحن میں بیٹھے درسِ حدیث دے رہے تھے۔ لوگوں کا ایک مجمع تبرکاتِ نبوی کو اٹھائے مسجد میں داخل...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
آگے بڑھنے سے پہلے اس کاوش کے بنیادی اشکالیے کو واضح کرنے کے لیے، میں ان وسیع تر نظری اور سیاسی اہداف کو واضح کرنا چاہوں جو اس سے مقصود ہیں۔ آئندہ سطور میں، میری خصوصی دلچسپی یہ واضح کرنے سے ہوگی کہ مسلمانوں کے...
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱)
― ڈاکٹر شیر علی ترین
ستمبر 2006 میں عابد علی نے، جس کا تعلق شمالی ہندوستان کے شہر مراد آباد سے تقریبًا بارہ میل کے فاصلے پر واقع گاؤں احرار اللہ سے ہے، کئی دہائیوں سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے باوجود اپنی پچھتر سالہ بیوی اصغری علی کے ساتھ...
فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد (IPS) نے ریڈ کراس کی انٹرنیشنل کمیٹی (ICRC) کے اشتراک سے ۲۷ و ۲۸ اگست ۲۰۱۹ء کو ’’اسلام اور اصول انسانیت‘‘ کے عنوان پر دو روزہ قومی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کی مختلف نشستوں میں سرکردہ...
پرامن بقائے باہمی کے لیے اسلام کی تعلیمات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(جامعہ تہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ کے زیر اہتمام ۲۶ جون ۲٠۱۹ء کو منعقدہ الموتمر العالمی للقدرات الاستجراتیجیۃ لتعالیم الاسلامی فی تحقیق التعایش السلمی کے لیے لکھا گیا۔) الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ...
غیر سازی (Otherization) کے رویے اور دیوبندی روایت
― محمد عمار خان ناصر
کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک مختصر تبصرے میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ بقا وارتقا اور تنازع للبقاء کی حرکیات کے بغور مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ برصغیر کی مذہبی فکر کے افق پر مستقبل دیدہ کی حد تک قائدانہ کردار دیوبندی...
دیوبندی بریلوی اختلافات : سراج الدین امجد صاحب کے تجزیے پر ایک نظر (۲)
― کاشف اقبال نقشبندی
تقدیس الوکیل پر ایک نظر: صاحب مضمون نے جس دوسری کتاب کا ذکر کیا ہے اور جس کے پڑھنے کی قارئین کو تلقین کی ہے، وہ ہے’’ تقدیس الوکیل‘‘۔ کتاب کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل اس کے پس منظر کا جاننااشد ضروی ہے۔ بہاولپور میں نواب...
دیوبندی بریلوی اختلافات : سراج الدین امجد صاحب کے تجزیے پر ایک نظر (۱)
― کاشف اقبال نقشبندی
نظری آراء کا اختلاف نہ مضر ہے نہ اس کو مٹانے کی ضرورت ہے، نہ مٹایا جاسکتا ہے۔اختلاف رائے نہ وحدت اسلامی کے منافی ہے نہ کسی کے لیے مضر، اختلاف رائے ایک طبعی امر ہے جس سے نہ کبھی انسانوں کا گروہ خالی رہا نہ رہ سکتا ہے۔ یہ...
مذہبی قوتوں کے باہمی اختلافات اور درست طرز عمل
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز نے پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر خلافت سنبھالی تھی، اس سے قبل حضرات صحابہ کرام کے درمیان جمل اور صفین کی جنگیں ہو چکی تھیں اور صلح کے باوجود نفسیاتی طور پر اس ماحول کے اثرات کسی نہ کسی...
دیو بند و بریلی : اختلافات سے مشترکات تک
― سراج الدین امجد
امت مسلمہ آج جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے ان میں ایک فرقہ واریت بھی ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر اس کی تباہ کاریوں پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں یہ الحاد اور بے دینی سے بھی بڑا فتنہ اور عفریت ہے۔...
فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی: علماء کے مختلف متفقہ نکات و سفارشات پر ایک نظر
― ڈاکٹر محمد شہباز منج
برصغیر پاک و ہند میں فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی کے لیے متعدد علماے کرام نے یقیناًقابلِ قدر کوششیں کی ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے، جس کو ایک عام صاحبِ فہم بھی آسانی سے دیکھ اور محسوس کر سکتا ہے ، کہ ان کو ششوں کے...
فقہ حنفی کی مقبولیت کے اسباب و وجوہ کا ایک جائزہ
― مولانا عبید اختر رحمانی
فقہ حنفی کو اللہ نے جس قبول عام سے نوازاہے، اس سے ہرخاص وعام بخوبی واقف ہے۔ دنیابھرکے سنی مسلمانوں کا دوتہائی حصہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اجتہادات کے مطابق عبادات کی ادائیگی کرتاآرہاہے ۔فقہ حنفی کے اس قبول عام...
مذہب حنفی کے حوالے سے دو سنجیدہ سوالات
― مولانا سمیع اللہ سعدی
سائد بکداش فقہی تحقیقات کے حوالے سے معاصر علمی دنیا کے معروف محقق ہیں۔ جامعہ ام القریٰ سے فقہ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ہے ،پی ایچ ڈی مقالے کے لیے مختصر الطحاوی پر امام جصاص کی مبسوط شرح مختصر الطحاوی کے مخطوطے کا انتخاب...
فتویٰ کی حقیقت و اہمیت اور افتا کے ادارہ کی تنظیم نو
― ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی
دستور، قانون اور عملی احکام سے آگاہی معاشرے کے ہر فرد کی ضرورت ہے، اس لیے کہ آئین کی روح کو سمجھنا، قانون سے واقف ہونا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا ہر مہذب فرد کا فریضہ ہے۔ دین اسلام نے بالکل آغاز سے انسان کو اس بنیادی...
فقہ حنفی کے امتیازات و خصوصیات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اسے اپنی امت کے ساتھ اجتماعی طور پر الوداعی ملاقات قرار دیتے ہوئے مختلف خطبات میں بہت سی ہدایات دی تھیں اور ان ارشادات وہدایات کے بارے...
مولانا فراہیؒ اور مدرسۃ الاصلاح کی علمی خدمات
― مولانا سید متین احمد شاہ
کچھ عرصہ پہلے کراچی کے ماہ نامہ ’’بینات‘‘ میں ایک مضمون غامدی صاحب پر تنقید کے سلسلے میں نظر سے گزرا۔ پہلی قسط میں فراہی مکتب فکر کے شجرۂ نسب کی تحقیق پیش کی گئی ہے۔ اس کی رو سے مولانا حمید الدین فراہی لارڈ کرزن کے...
فقہی مسالک کے درمیان جمع و تطبیق
― مولانا سید سلمان الحسینی الندوی
(دارالعلوم ندوۃ العلماء میں کلیۃ الشریعۃ کی طرف سے اساتذۂ فقہ کے لیے ایک سہ روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے درج ذیل خطاب فرمایا۔ مولوی محمد مستقیم محتشم ندوی نے اس کو کیسٹ...
مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے تقاضے
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام شاہ فیصل مسجد اسلام آباد میں میڈیا اور صحافت سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لیے منعقدہ ورکشاپ میں 12 مارچ کو ایک نشست میں کی گئی گفتگو کاخلاصہ۔)۔ بعد الحمد والصلوٰۃ...
بین المسالک ہم آہنگی اور افہام و تفہیم
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ’’اقبال مرکز بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ‘‘ کے زیر اہتمام 21-20 جنوری کو فیصل مسجد کے اقبالؒ آڈیٹوریم میں ’’بین المسالک ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کی حکمت...
اکابر دیوبند کی فکر اور معاصر تناظر میں اس سے استفادہ
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
دیوبندی مکتب فکر کا تذکرہ کیا جائے تو تین شخصیتوں کا نام سب سے پہلے سامنے آتا ہے اور تاریخ انہی تین بزرگوں کو دیوبندیت کا نقطہ آغاز بتاتی ہے۔ امام الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو دیوبندیت کے سرپرست اعلیٰ...
علماء دیوبند کا اجتماعی مزاج اور فکری رواداری
― حافظ خرم شہزاد
بریلوی علما وعوام سے اختلاف میں اعتدال۔ بہاول پور کے مشہور مقدمے میں ’’مختار قادیانی نے اعتراض کیا کہ علماء بریلی، علمائے دیوبند پر کفر کا فتویٰ دیتے ہیں اور علمائے دیوبند علمائے بریلی پر۔ اس پر شاہ صاحب نے فرمایا:...
شیعہ سنی کشیدگی اور فریقین کی قیادت کی ذمہ داری
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ محرم الحرام میں راولپنڈی میں رونما ہونے دردناک سانحہ کے تناظر میں ہم راولپنڈی کی ایک درد مند دل رکھنے والی خاتون غزالہ یاسمین کا ایک خط قارئین کی نذر کر رہے ہیں جس میں انہوں نے اس مسئلہ پر اپنا دردِ دل پیش کیا...
فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط
― مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
اس بات کو پیش نظر رکھنا مناسب ہوگا کہ آیات و احادیث سے احکام شرعیہ کے اخذ کرنے میں فقہاء حنفیہ کا منہج کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ شروع ہی سے کتاب و سنت سے استنباط میں دو مکاتب فکر ہیں، ایک طبقہ وہ تھا جو حدیث کی حفظ و روایت کے...
فقہ شافعی اور ندوۃ العلماء
― مولانا عبد السلام خطیب بھٹکلی ندوی
ندوۃ العلماء ایک علمی، اصلاحی و دعوتی تحریک کا نام ہے جس کی خشتِ اول ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۸۹۲ء میں مدرسہ فیضِ عام کانپور کے ایک جلسہ دستار بندی میں اس وقت کے زمانہ شناس اور نباضِ دہر علماء نے رکھی، جن میں سر فہرست حضرت مولانا...
اکابر علماء دیوبند کی علمی دیانت اور فقہی توسع
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اکابر علماء دیوبند کی خصوصیات اور امتیازات میں جہاں دین کے تمام شعبوں میں ان کی خدمات کی جامعیت ہے کہ انھوں نے وقت کی ضروریات اور امت کے معروضی مسائل کو سامنے رکھ کر دین کے ہر شعبہ میں محنت کی ہے، وہاں علمی دیانت اور...
دھڑکٹی تصویر اور فقہِ حنفی
― مولانا محمد عبد اللہ شارق
اگر کسی مسئلہ یاواقعہ کے شرعی حکم کے بارہ میں فقہا کا کوئی ایک نکتۂ نظر مشہور ہوجائے توضروری نہیں ہوتا کہ فی الواقع بھی اس مسئلہ میں اہل علم کا صرف ایک ہی نکتۂ نظر ہو اور وہ سب اس ایک رائے پر متفق ہوں جو اس مسئلہ کے شرعی...
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مذکورہ بالا عنوان پر مولانا محمد یونس قاسمی، حافظ عبد المنان معاویہ اور راقم الحروف کی گزارشات ’الشریعہ‘ کے مارچ اور اپریل کے شماروں میں قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ میرا خیال تھا کہ دونوں طرف سے ضروری باتیں سامنے...
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت
― محمد یونس قاسمی
اس عنوان پر ماہنامہ الشریعہ کے مارچ کے شمارہ میں گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب اور میرے مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ حضرت راشدی صاحب کے جواب الجواب کو پڑھ کر کچھ باتیں مزید لکھی جا رہی ہیں۔ بندہ نے اپنے مضمون میں...
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۱)
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجھے کراچی، بہاول پور، لاہور، راولپنڈی، خانیوال، کبیروالا، سرگودھا، نوشہرہ، پشاور اور دیگر شہروں میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت اور احباب سے ملاقاتوں کا موقع ملا اور اکثر اوقات میں دوستوں...
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۲)
― محمد یونس قاسمی
مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نامور عالم دین اور اسلامی سکالر کی حیثیت سے معروف ہیں۔ پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ، الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ کے ڈ ائریکٹراور جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ...
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۳)
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
راقم الحروف نے مختلف دوستوں کے سوالات پر تحریک تحفظ ناموس رسالت کی قیادت میں اہل تشیع کی شمولیت کے مسئلے پر اپنے موقف کی وضاحت کی تھی جو روزنامہ اسلام میں ۱۱؍ فروری ۲۰۱۱ء کو ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے میرے مستقل کالم...
| 1-0 (0) |