تعریفاتِ علوم کی ماہیت، مقصدیت اور اہمیت

مولانا محمد عبد اللہ شارق

آپ جانتے ہوں گے کہ کسی بھی علم کے آغاز میں اس کی’’ تعریف‘‘ (Definition) کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ تعریف عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’تعارف ‘‘ کے ہیں۔ علم کی ’’تعریف‘‘ سے مقصود بھی علم کا ایک اجمالی تعارف ہوتا ہے تاکہ نو آموز طالبِ علم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہ مارتا رہے بلکہ علم کے شروع کرنے سے پہلے ہی اس کے ذہن میں اس کا ایک ہلکا پھلکا سا خاکہ اور تاثر موجود رہے ۔ ’’تعریفات ‘‘ کو علوم کے دیباچہ اور ابتدائیہ کا حصہ بنانے سے اولاً یہی مقصود تھا ‘ مگر یہ مقصود رفتہ رفتہ دھندلاتا چلا گیا اور وہ تعریف جودراصل علم کے حصول کو آسان تر بنانے کے لیے تھی‘ بذاتِ خود ایک جنجال اور وبالِ جان بنتی چلی گئی۔ اس کا ذمہ دار وہ پرتکلف ‘مشکل پسند اور فلسفیانہ ذہن تھا جو بال کی کھال اتارنے کا عادی تھااور معاملات کو ان کے اصل اور فطری روپ میں لینے کی بجائے خواہ مخواہ مصنوعی رنگ دینے کا شوقین تھا۔

تعریف کا جامع اورمانع ہونا

ہوا کچھ یوں کہ تعریف کے اصول وضوابط میں ایک اصول یہ شامل کیا گیا کہ وہ ’’جامع ‘‘ اور ’’مانع‘‘ ہو۔ یعنی تعریف کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ موضوعِ بحث علم کا جامع اور کامل تصور پیش کرے۔ ’’جامعیت‘‘ اور ’’مانعیت‘‘ د و لفظ ہیں اور دونوں الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔ کوئی بھی تعریف جو جامعیت اورمانعیت سے خالی ہو‘ اسکو ایک مکمل تعریف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جامعیت کے معنی ہیں کہ تعریف کے اندر ایسے الفاظ کا چناؤ کیا جائے جن سے علم کا کوئی جزو اور حصہ تعریف سے خارج نہ رہے۔ مانعیت کے معنی ہیں کہ تعریف کے اندر کوئی ایسا غیر ضروری اضافہ نہ کیا جائے کہ جس سے غیر متعلقہ چیزیں تعریف میں در آئیں اوروہ امور تعریف کا حصہ بننے لگیں جو در حقیقت متعلقہ علم سے خارج ہیں۔ 

مثال کے طور پر اگر’’علمِ دین‘‘ کی تعریف یوں کی جائے کہ ’’یہ کفار کے غیر اسلامی رویوں سے بحث کرتا ہے ‘‘ تویہ تعریف مکمل نہیں ہوگی اور جامع نہیں کہلا سکے گی کیونکہ علمِ دین میں خود مسلمانوں کی اعلی اور بلند پایہ صفات پر بھی پھر پور گفتگو کی جاتی ہے اور اس کا ذکر تعریف میں نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اگر ’’علمِ دین‘‘ کی تعریف یوں کی جائے کہ ’’اس میں بنی نوع انسان کے مختلف افکار‘ رجحانات اور اندازہائے معاش ومعاشرت پر گفتگو کی جاتی ہے‘‘ تویہ تعریف مانع نہیں ہوگی اور ناواقف کے ذہن میں ’’علمِ دین‘‘ کا کوئی تسلی بخش تصور پیدا نہیں کرسکے گی کیونکہ علمِ دین انسانوں کی زیست اور معاشرت کے تمام متنوع پہلوؤں پر گفتگو نہیں کرتا( مثال کے طور پر یہ کہ بنگالی چاول زیادہ کیوں کھاتے ہیں؟ سندھی آگے سے کٹی ہوئی ٹوپی کیوں پہنتے ہیں ؟ ایران کے رہنے والے فارسی اور پاکستان کے رہنے والے اردو کیوں بولتے ہیں؟ یہ معاملات علمِ دین کے موضوع سے خارج ہیں) جبکہ مذکورہ بالا تعریف کے الفاظ انسانی زندگی کے تمام اختلافات اور تنوعات کو علمِ دین کا حصہ بنارہے ہیں۔ ہاں! اگر علمِ دین کی تعریف یہ کی جائے کہ ’’ یہ تمام انسانوں کو اپنے خود ساختہ اختلافات ترک کرواکے ایک خدائے واحد کی بندگی پر لانا چاہتا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے آداب وا حکام کے مطابق زندگی بسرکرنے کے اصول سکھاتا ہے ‘‘ تو یہ البتہ ایک جامع اور مانع تعریف کہلا سکتی ہے۔

تعریف کے نام پر مشکل پسندی

جامع اور مانع کا اصول فی نفسہ ایک سنہری اصول ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ’’تعریف‘‘ ایک معتد بہ حد تک جامع اور مانع نہ ہو‘ کسی ناواقف کی تسلی کاسامان نہیں کرسکتی اورنہ ہی اس کے قلب ودماغ میں اس علم کا کوئی درست اور قابلِ اعتبار تصور قائم ہوسکتا ہے کیونکہ جامعیت اورمانعیت کے بغیر کسی تعریف میں امتیاز پیدا نہیں ہوسکتا جو اسے دیگر امور سے ممتاز کرے اور ظاہر ہے کہ جو تعریف ایک امر کو دیگر امور سے ممتاز نہ کرے ‘ وہ ’’تعریف ‘‘ کہلانے کی سرے سے حق دار نہیں‘ بعینہ ایسے ہی جیساکہ ایک ’’تعارف‘‘ اگر کسی شخص کی شخصیت کو واضح اور اجاگر نہ کرے تو وہ ’’تعارف‘‘ کہلانے کا حق دار نہیں۔ جامعیت اورمانعیت کا معاملہ اس حد تک تو درست تھا‘ پیچیدگی تب پیدا ہوئی کہ جب اس اصول کو ’’تعریف‘‘ کے لفظی اور منطقی آپریشن کا بہانہ بنا لیا گیا اور تعریفات کی جامعیت ومانعیت پر اعتراضات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یوں وہ ’’تعریف ‘‘ جو علم کے حصول کو آسان تر بنانے کے لیے علم کے آغاز میں رکھی گئی تھی‘ بذاتِ خود طالبِ علم کے لیے ایک وبال اور عذابِ جان بن کر رہ گئی۔ جامعیت اورمانعیت کا اصول تعریف کو ایک اجمالی خاکہ اور ناواقف کے ذہن میں متعلقہ علم کا ایک سادہ سا تصور قائم کرنے کے قابل بنانے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ اب فرض کیجئے کہ اگر کوئی ’’تعریف‘‘ اپنا یہ ’’فریضہ‘‘ ادا کررہی ہے اور اجمالی تصور فراہم کرنے کی اہل ہے تو محض لفظوں کا کھیل پوراکرنے کے لیے اس تعریف کی جامعیت اور مانعیت پر بے بحاشا اعتراضات در اعتراضات کرتے جلے جانا حصولِ علم سے قبل طالبِ علم کے ذہن کو روشن کرنے بجائے الٹا تشویش اور تشتت میں مبتلا کریتا ہے ۔ کاش کہ ہمارے ’’ماہرینِ تعلیم ‘‘ اس امر کا ادراک کرسکتے۔ مقصد سے زیادہ مقصد کے نام پر بنائے گئے مصنوعی اصول وضوابط ہمارے ہاں اہمیت رکھتے ہیں۔دیگر المیوں کی طرح یہ بھی ہمارا ایک بڑا المیہ ہے۔

تعریفات کا لفظی آپریشن

ہم جب تک درسِ نظامی کے مروجہ تعلیمی نصاب کے مرحلہ سے گزر رہے تھے تو سمجھتے تھے کہ ’’تعریفاتِ علوم‘‘ کا یہ بکھیڑا صرف عربی مدارس کے اندر مرغوب اور مروج ہے‘ مگر جب عصری تعلیم کے لیے قدم بڑھایاتو وہاں بھی اسی صورتِ حال کا سامنا ہوا۔ مختلف موضوعاتی علوم کے آغاز میں مختلف تعریفات اور ان کے نقائص بیان کرتے کرتے پورا ایک باب ختم ہوجاتا ہے ۔ نجانے کس افادیت کو پیشِ نطر رکھ کر نو آموز کا ذہن شروع سے اس ’’چنین وچناں ‘‘ میں پھنسا دیا جاتا ہے جو اس کے لیے ترغیب کی بجائی تنفیر کا باعث بنتا ہے ۔ آپ معاشیات کو لیجئے !کلاسیکی تعریف‘نوکلاسیکی تعریف اور پروفیسر رابنز کی تعریف‘ پھر ہر تعریف کی الگ الگ کئی کئی: 

(الف) ۔۔۔خصوصیات

(ب) ۔۔۔خوبیاں

(ج)۔۔۔ خامیاں

پھر ہرخصوصیت ‘خوبی اور خامی کا الگ الگ عنوان اور پھر اس کے ذیل میں اس کی تفصیل۔۔۔۔۔۔(۱)تعریف یا اجمالی تعارف کے نام پر اس طویل و عریض تفصیل کاایک طالبِ علم کو سوائے انتشارِ ذہنی کے کیا فائدہ ہے ؟ایک ذرا سے تدبر کی ضرورت ہے ! 

اسی طرح صحافت کو لیجئے !اس میں ابلاغ‘صحافت‘ خبر ‘فیچر‘ مضمون ‘کالم اور اداریہ سمیت کئی الفاظ کی دسیوں اور بعض اوقات بیسیوں تعریفات (جو مختلف ماہرین سے منقول ہیں)پڑھائی جاتی ہیں‘ مگر تقابلی جائزہ کے باوجود کوئی ایسی تعریف دریافت نہیں ہو پاتی جس پہ سب ماہرین مطمئن اور متفق ہوں یا جسے بے عیب قرار دیا جاسکے۔(۲)

عربی مدارس کے اندر یہ اسلوب اور زیادہ مقبول ہے ۔بعض اوقات کسی علم کی تعریف کا تعین کرتے ‘اس سلسلہ میں مختلف تعریفات کا لفظی آپریشن کر تے اور ان پر اعتراضات وارد کرتے کرتے مہینوں گزر جاتے ہیں‘ مگر پھر بھی منزل ہے کہ مل کے نہیں دیتی۔جی ہاں! مہینوں اور عشروں کے بحث ومباحثہ کے بعد بھی مطلوبہ علم کی کوئی پاک وصاف اور بے عیب تعریف دریافت نہیں ہو پاتی۔ مصاحبینِ علم ومطالعہ ’’تعریف‘‘ کے ضمن میں کھیلی جانے والی ’’اس لفظی شطرنج‘‘اور اس کی بے نتیجگی سے اچھی طرح واقف ہوں گے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ بے نتیجہ بحث باقاعدہ اہتمام اور دینی خدمت کے نام پر بھر پور اہمیت کے ساتھ بچوں کو پڑھائی جاتی ہے۔’’التوضیح والتلویح‘‘ درسِ نظامی کی معروف اور انتہائی درجہ کی ایک دقیق کتاب ہے۔(۳) اس کتاب کے آغاز میں ’’اصول الفقہ ‘‘ کی کسی بے عیب تعریف کا تعین کرتے کرتے ’’۱۲‘‘ اور ’’۱۴‘‘ کے فونٹ میں ’’A-4‘‘سائز کے تقریباً ۱۸؍ صفحے سیاہ ہوگئے ۔(۴) پھر اسی پر بس نہیں۔’’التوضیح والتلویح‘‘ کاکوئی درسی اور نصابی نسخہ لے لیں۔کتاب کے اطرف پر چڑھا ہوا حاشیہ ( جو اصل کتاب سے بلا مبالغہ دس گنا بڑا ہے)وہ الگ دعوتِ مطالعہ دیتا ہے۔نیز التوضیح والتلویح کا ماہر استاد اسے سمجھا جاتا ہے جو صاحبِ کتاب کے اٹھائے گئے تنقیدی نکات واضح کرنے پر اکتفاء نہ کرے ‘ بلکہ ان پر کچھ اور اضافے بھی کرے۔ صاحبِ کتاب کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے شرح وبسط کے ساتھ نہ صرف حواب دے بلکہ نئے سے نئے نکات پیش کرے(۵)(جو قارئین اس کتاب کو پڑھ ‘ پڑھا چکے ہیں‘ وہ اس بات کو علی وجہ البصیرہ سمجھ رہے ہوں گے) مگر اس غیر معمولی باربرداری کے باوجود بھی نتیجہ وہی دھات کے تین پات۔ اصول ‘ الفقہ اور اصول الفقہ کی کوئی بے عیب دریافت نہ ہوسکی۔ اس لغو اور لایعنی کھیل کے جو دینی مضرات ہیں اور اس میں ’’والذین ہم عن اللغو معرضون‘‘ (۶) اور ’’من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ‘‘ (۷)جیسی نصوص سے جو عملی انحراف ہے ‘ اس سب سے قطع نظر کرکے یہ دیکھ لیجئے کہ کیا تعلیمی نکتۂ نظر سے ایک طالبِ علم کے سامنے‘ علم کے آغاز میں ہی لفظی اکھاڑ پچھاڑ کا ایسا دنگل سجا لینا اس کی ذہنی تربیت اور علمی نشوونما کے لیے مفید ہے؟

تعریفاتِ علوم کی مقصدیت

تعریف کے نام پر یہ بے اعتدالی اور مشکل پسندی اس لیے رونما ہوئی کہ تعریف کی مقصدیت اور عرض وغایت نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ ’’تعریف‘‘ کا مقصد جیساکہ پہلے عرض کیا گیا ‘ طالبِ علم کے سامنے متعلقہ علم کا محض ایک اجمالی تعارف پیش کرنا اور اس کے ذہن میں علم کا ایک سرسری سا پیشگی خاکہ قائم کرنا تھا اور یہ مقصد کسی بھی تعریف کی بقدرِ ضرورت ہلکی پھلکی نو ک پلک سنوار کے پورا کیا جاسکتا ہے۔ بے عیب اورہر نقص سے پاک تعریف کی تلاش میں مفروضوں پہ مفروضے اور اعتراض پہ اعتراض ڈالتے چلے جانا اور ورقہا ورق سیاہ کردینا طالبِ علم کے لیے پیچیدگیاں پیدا کرتا اور سرے سے تعریف کے مقصد کو ہی فوت کردیتا ہے جو دراصل طالبِ علم کے لیے سہولت فراہم کرناتھا۔ تعریف کے مقصد کو سامنے رکھا جائے تو کسی پیچیدگی کی ضرورت نہیں رہتی ‘ اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی مناسب تعریف کارآمد ثابت ہوسکتی ہے جو سادہ انداز میں طالبِ علم کے سامنے ’’متعلقہ علم‘‘ کے لبِ لباب کا ایک اجمالی نقشہ پیش کردے خواہ اس میں کچھ لفظی نقائص پائے جاتے ہوں‘ جیساکہ کسی شخص کا تعارف کراتے ہوئے انداز اختیار کیا جاتا ہے۔

تعریف کے عناصرِ ترکیبی

تعریف کبھی تو علم کے موضوع اور کبھی غرض وغایت سے مرکب ہوتی ہے۔ کسی بھی علم کا موضوع وہ اجزائے ترکیبی ہیں جو اس علم کے اندر زیرِ بحث آتے ہیں اور غرض وغایت دراصل اس فائدہ کو کہتے ہیں جو مطلوبہ علم حاصل کرلینے کے بعد طالبِ علم کو بطورِ نتیجہ حاصل ہوتا ہے اور جسے نصب العین بنا کر وہ اس علم کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر معاشیات کا بنیادی موضوع در اصل وہ اصول اوررویے ہیں جو معیشت کے لیے نفع بخش یا نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کی غرض وغایت نظامِ معیشت سے کما حقہ آگاہی حاصل کرنا ہے۔ ’’تعریف‘‘ در اصل موضوع یا غرض سے مرکب ہوتی ہے ۔ یہ الگ سے کوئی چیز نہیں ہے ۔مثال کے طور پر معاشیات کی تعریف اب دو انداز سے ہوسکتی ہے:

(الف)۔۔۔معاشیات ایک ایسا علم ہے کہ جس میں وہ اصول اور رویے زیرِ بحث آتے ہیں جو معیشت کے لیے نفع بخش یا نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

(ب)۔۔۔معاشیات ایک ایسا علم ہے جس سے مقصود نظامِ معیشت کی تہہ میں کارفرما اساسوں او رنفع بخش یا نقصان دہ اصولوں سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔

’’مبادئ ثلاثہ‘‘ کی اصطلاح

بغور دیکھا جائے تو اِن دونوں کا حاصل ایک ہی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ ’’موضوع‘‘ اور ’’غرض‘‘ دراصل ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔ فرق صرف اسلوب کا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’علمِ منطق‘‘ کو لے لیجئے ! اس کا موضوع ’’فکری ونظری خطاء سے محفوظ رکھنے والے اصول‘‘ ہیں اور اس کی غرض وغایت ’’فکری ونظری خطاء سے محفوظ رہنا‘‘ ہے۔ مگر اِن تینوں ( تعریف ‘ موضوع ‘ غرض وغایت) کو الگ الگ شمار کیا جاتا ہے اور عربی اصطلاح میں انہیں ’’مبادئ ثلاثہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ اِن میں سے کوئی سا ایک بیان ہوجائے تو وہ باقی دو کی ضرورت سے مستغنی کردیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں عصری مضامین کے آغاز میں صرف ’’تعریف‘‘ پر ہی اکتفاء کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خود تعریف کی افادیت اور مقصدیت کو بھی ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تعریف کے نام پر مشکل پسندی اور مغلق گفتگو سے گریز کی جائے ۔

تعریف اور تجزیہ میں تمیز ضروری ہے

تعریفات کے الفاظ کا اختلاف بعض اوقات بے معنی ہوتا ہے اور بعض اوقات علم سے متعلق ماہرین کے متنوع زاویہ ہائے نگاہ کو بیان کرتا ہے۔ ایسا اختلاف جو ماہرینِ علم کی متنوع آراء کو واضح کرے‘ کار آمد اور لائقِ استفادہ ہوتا ہے جو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم فکری زاویوں کے اِس تنوع سے کماحقہ وہی آدمی مستفید ہوسکتا ہے جو کم از کم اس علم کی سدھ بدھ رکھتا ہے۔ایسا آدمی جو ابھی اس علم کے میدان میں نووارد ہے ‘ اسے شروع میں ہی ’’تعریف‘‘ کے نام پر اس مباحثہ میں الجھا دینا کہ کونسا مفکر اس علم کو کونسی نگاہ سے دیکھتا ہے اور کونسا ماہر کس زاویہ سے‘ یہ ہرگز مفید نہیں۔یہ بحث قابلِ حذف نہیں ‘ مگر اس کی جگہ کتاب کا پہلا یونٹ بھی ہرگز نہیں۔ علم کی تعریف اور مختلف مفکرین کے اس کے بارہ میں تجزیات اور سوچنے کے انداز سراسر دو مختلف چیزیں ہیں۔ انہیں گڈمڈ نہیں کیا جا سکتا۔ ’’تعریف‘‘ کا صحیح محل کتاب کا پہلا یونٹ اور مفکرین کے مختلف تجزیاتی زاویوں کا صحیح محل آخر ی یونٹ ہے۔ مثال کے طور پر ’’معاشیات‘‘ کی وہ تعریف جو سطورِ بالا میں ذکر کی گئی ہے‘ اس سے ملتی جلتی تعریف پہلے باب کی ضرورت کے لیے کافی وافی ہے۔ پھراس ضمن میں ایڈم سمتھ‘ الفریڈ مارشل اور ڈاکٹر رابنز کے خیالات(۸) در اصل اس طالبِ علم کے سامنے بیان ہونے چاہییں جوا س علم کے مندرجات پر کم از کم ایک نظر ڈال چکا ہے۔ ایسا طالبِ علم ہی ان ماہرانہ آراء کی حقیقت اور افادیت کو سمجھ سکتا ہے اور اس سلسلہ میں خود اپنی کوئی رائے قائم کرنے کا اہل بھی ہوسکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی بات ہے۔ علم پڑھائے بغیر طالبِ علم کو ان اختلافی آراء میں الجھا دینا ایسے ہے جیسے کسی آدمی کی آنکھوں پہ ٹیپ چسپاں کردی جائے اور اسے ہاتھی کے پاس کھڑا کرکے مجبور کیا جائے کہ ہاتھی کے بارہ میں مختلف فیل بانوں کے تبصرے اور تجزیے سن کر ہی ہاتھی کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ وہ کیسے ہوتا ہے؟ جبکہ آسان طریقہ یہ تھا کہ اس آدمی کی آنکھیں کھول دی جاتیں اور وہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیتا کہ ہاتھی کیاہوتا ہے! اس کے بعد لوگوں کی مختلف آراء کو علی وجہ البصیرہ سن بھی پاتا اور ان پہ کوئی رائے زنی بھی کرپاتا۔ صحافت کی مذکورہ بالا اصطلاحات کو لیجئے ! جتنا وقت تعریفات کے ذریعہ ان اصطلاحات کا مصداق سمجھتے سمجھتے صرف کیا جاتا ہے ‘ اس سے پانچ گنا کم وقت میں عملاً اِن اصطلاحات کا مصداق دکھا کر طالبِ علم کو زیادہ بہتر طور پر سمجھایا جاسکتا ہے کہ ابلاغ ‘ صحافت‘ خبر ‘ فیچر‘ کالم اداریہ اور مضمون کا مصداق کون سے امور ہیں؟ اسی طرح سے مثلا علمِ حدیث کو لیجئے ! اس کی تعریف پر بھی بہت الجھی ہوئی اور پیچیدہ بحث کی جاتی ہے ۔اگرچہ بعض حضرات پورا زور صرف کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان میں زیادہ بہتر تعریف کون سی ہے ! مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ ترجیح دی گئی تعریف بھی کئی طرح کے اعتراضات سے خالی نہیں ہوتی۔ علمِ حدیث کا صحیح تعارف اور اس کی ہیئت کا درست علم طالبِ علم کو تب ہی ہوتا ہے جب وہ عملاً علمِ حدیث کی ایک دو کتابیں خود پڑھ اوردیکھ لیتا ہے۔ مختلف ماہرین کی تعریفوں کے درمیان محاکمہ دینے کے لیے گھنٹوں تک ہونے والا مباحثہ طالبِ علم کے ذہن کو الجھتا تو ہے ‘ اجالتا نہیں۔ تعریف کی ضرورت ’’تعریف‘‘ ہی سے پوری ہوسکتی ہے ‘ ماہرین کے طویل وعریض تجزیاتی مباحثوں اور محاکموں سے نہیں۔علم کو پڑھے بغیر اس کے بارہ میں ماہرین کے مختلف اندازے جتنی بھی شد ومد کے ساتھ بیان کیے جائیں‘ طالبِ علم کی تشنگی دور کرنے کی بجائے اسے اور بڑھاوا دیتے ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسا کہ ساحلِ سمندر پہ بیٹھ کر پانی میں غوطہ لیے بغیرمحض تیراکی کے اصول سنتے رہنا‘سننے والے کو فکری انتشار میں مبتلا کردیتا ہے۔

(میں یہاں تک اپنا مضمون مکمل کرکے چھپنے کے لیے ’’الشریعہ ‘‘ کو بھیج چکا تھا‘ مگر بھائی عمار ناصر صاحب نے ازراہِ عنایت اطلاع دی کہ حافظ ابنِ تیمیہ نے بھی کتاب الرد علی المنطقیین میں اسی موضوع پر خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ میں نے جب محولہ بالا کتاب کی طرف مراجعت کی تو زیرِ نظر مضمون میں اس کا حوالہ دینا مناسب محسوس ہوا۔ اسی غرض سے ذیل میں ایک پیراگراف کا اضافہ کیا جارہا ہے)۔

حافظ ابنِ تیمیہ کی تنقید

تعریف کو منطقی اصطلاح میں ’’حد‘‘ اور ’’رسم‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’حد‘‘ اور ’’رسم‘‘ دونوں دراصل تعریف کی دو اقسام ہیں۔ پھر ان میں سی ہر ایک قسم کو مزید دودو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کی تفصیلات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے‘ صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ تعریف کے نام پر مشکل پسندی کا آئیڈیادراصل منطقیوں اور فلسفیوں کے زرخیز ذہن کی پیدا وار ہے اور وہی اس میں سب سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔وہ نہ صرف علوم کو ‘ بلکہ ہر ایک چیز کو اس کی لفظی تعریف سے ناپتے ہیں اور ہر ہر امر اور شے کی لفظی تعریف ضروری سمجھتے ہیں۔حافظ ابنِ تیمیہ نے کتاب الرد علی المنطقیین میں جہاں منطقیوں اور منطق کے دیگر نقائص ومفاسد پر سیر حاصل بحث کی ہے‘ وہاں تعریف کے نام پر منطقیوں کے ہاں ہونے والی دنگل بازی پہ بھی خاصی گفتگو کی ہے۔ اس ضمن میں حافظ ابن تیمیہ نے منطقیوں کے دلائل کو رد کرنے کے لیے بعض دقیق مباحث بھی چھیڑے ہیں‘ جنہیں یہاں درج کرنا ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ اس میں جو باتیں عام استفادہ کی ہیں تو ان میں سے بھی بہت سی باتیں میں پہلے ہی اپنے مضمون میں اپنے طور پر تحریر کرچکا تھا‘ شیخ ابنِ تیمیہ کی کتاب میں بعینہ وہی باتیں دیکھ کر اس ’’اتفاقی مطابقت‘‘ پر قلبی مسرت ہوئی۔ فالحمدللہ علی ذلک! 

شیخ ابنِ تیمیہ نے لکھا ہے کہ دینی علوم کے اندر ’’منطقی حدود وتعریفات‘‘ کے اس طرز اور اسلوب کو اپنانے والے سب سے پہلے فرد امام غزالی ہیں۔ [صفحہ ۵۶] انہی سے پھر یہ سلسلہ آگے چلا۔نیز انہوں نے امام غزالی ہی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ ان کی رائے میں بھی کسی امر یا علم کی پاک وصاف اور بے عیب منطقی تعریف دریافت کرلینا انتہائی مشکل ہے۔[صفحہ ۶۱] حافظ ابنِ تیمیہ کے مطابق تعریف کے نام پر مشکل پسندی کی ابتداء منطقیوں سے ہوئی اور باقی سب علوم اور شعبوں میں یہ اسلوب اور طرز منطق سے ہی برآمد ہوکر آیا ہے۔انہوں نے مشہور نحوی ابن الانباری [وفات۳۲۸] کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ جب سے نحویوں نے منطقی تعریفات کے اسلوب کو اپنایا ہے تو دیگر اصطلاحات سے قطع نظر ‘ صرف ایک نحوی اصطلاح ’’اسم‘‘ کی تقریبا ستر تعریفات اب تک ان کی طرف سے سامنے آئی ہیں‘ مگر ان میں سے کوئی بھی تعریف بے عیب اور اعتراضات سے خالی نہیں۔ [صفحہ۵۰]اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بے عیب تعریف کی تلاش محض ایک کارِ لاحاصل ہے۔’’حدود وتعریفات‘‘ کی ضرورت واہمیت پر منطقیوں کے ہاں ضرورت سے زیادہ زور دیا جاتا ہے ‘ ابنِ تیمیہ نے بھی جواباً اس کی تردید کرتے ہوئے خاصی مبالغہ آمیزی اور دقت آفرینی سے کام لیا ہے جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ سرے سے تعریف کے قائل ہی نہیں اور اس کی اہمیت سے بالکل انکاری ہیں۔ تاہم یہ درست نہیں۔ ان کی اپنی تصنیفات میں بھی جابجا مختلف امور اور شرعی تصورات کی تعریفات ذکر کی گئی ہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ وہ تعریف کو اجمالی تعارف کی حدتک تو مفید سمجھتے ہیں ‘ مگر تعریف کے نام پر ذہنی عیاشی کے لیے لڑائے جانے والے’’بوکاٹوں‘‘ کے شدید مخالف ہیں۔(۹)


حواشی

(۱) مثلا : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ‘ اسلام آباد کی کتاب ’’معاشیات‘‘ برائے انٹرمیڈیٹ کا پہلا یونٹ ملاحظہ فرمائیں۔

(۲) مثلاً دیکھئے: ہنی ’’صحافت‘‘ برائے بی۔اے(پرچہ الف ‘پرچہ ب) ۔مطبوعہ: ہنی بکس ‘اردو بازار گلگشت‘ ملتان

(۳) یہ کتاب ایک متن ‘ ایک شرح اور ایک حاشیہ پر مشتمل ہے۔ متن کا نام ’’التنقیح‘‘ اور شرح کانام ’’التوضیح‘‘ ہے۔ ان دونوں کے ایک ہی مصنف بزرگ حنفی عالمِ دین‘ صدرالشریعہ قاضی عبیداللہ بن مسعود البخاری الحنفی (وفات:۷۴۷ھ) ہیں۔ انہوں نے اصولِ فقہ کے موضوع پر اولاً ’’التنقیح‘‘ تحریر کی اور بعد ازاں ’’التوضیح‘‘ کے نام سے ا س کی شرح بھی خود ہی لکھی۔ حاشیہ کا نام ’’التلویح‘‘ ہے اور اس کے مؤلف ‘ تاریخِ اسلام کے شہرہ آفاق معقولی اور امیر تیمور لنگ کے مقرب‘ علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی (وفات: ۷۹۲)ہیں۔ متن ‘ شرح اور حاشیہ ‘تینوں کا مجموعہ ایک عرصہ سے بر صغیر کے عربی مدارس میں داخلِ نصاب ہے اور تینوں کی تدریس ایک ساتھ کی جاتی ہے ۔ تینوں کتابوں کا یہ مجموعہ ’’التوضیح والتلویح‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

(۴) دیکھئے: التوضیح مع التلویح ‘ صفحہ نمبر ۱۵ تا صفحہ نمبر۳۲۔ مطبوعہ : قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی

(۵) اسی طرزِ تدریس کا نتیجہ ہے کہ پورا سال اِس کتاب کے چند ابتدائی صفحات اور اصولِ فقہ کی چند ابتدائی اصطلاحات کی تعریفات پڑھتے پڑھتے ہی ختم ہوجاتا ہے اورکتاب کے اصل مباحث سرے سے پڑھنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔اس کا داخلِ نصاب حصہ کل کتاب کا تقریباً ساتواں(۷/۱) یا آٹھواں حصہ((۸/۱) بنتا ہے۔

(۶) سورۃ المؤمنون‘ آیت نمبر ۳۔ اس آیت میں مومنوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ لغو‘ بے فائدہ اور بے مقصد امور سے الگ رہیں!

(۷) جامع الترمذی ‘ حدیث نمبر ۲۳۱۷۔۔اس حدیث میں بھی یہی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ بے مقصد ‘ بے نتیجہ او ربے فائدہ باتوں‘ بحثوں اور کاموں میں الجھنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔

(۸) یہ تینوں نام ’’علمِ معاشیات واقتصادیات‘‘ کے نام ور اورعہد ساز مفکرین کے ہیں۔ ایڈم سمتھ کلاسیکی ‘ الفریڈ مارشل نیوکلاسیکی اور ڈاکٹر رابنزماڈرن اسکول آف تھاٹ کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ ایڈم سمتھ کے نزدیک حصولِ دولت اور صرفِ دولت‘ الفریڈمارشل کے نزدیک انسان کی معاشی سرگرمیاں اور رابنزکے نزدیک معاشی مسئلہ’’معاشیات‘‘ کا مرکزی نکتہ ہیں۔

(۹) کتاب الرد علی المنطقیین کے جو حوالے دیے گئے ہیں ‘ وہ مؤسسۃ الزیات کے مطبوعہ نسخہ کے مطابق ہیں۔

آراء و افکار