جہاد / جہادی تحریکات

قومی ریاست اور جہاد: کیا کوئی نیا فکری پیراڈائم ممکن ہے؟

محمد عمار خان ناصر

جدید قومی ریاست کے بارے میں ایک بہت بنیادی احساس جو روایتی مذہبی اذہان میں بہت شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے، یہ ہے کہ اس تصور کو قبول کرنا درحقیقت جہاد کی تنسیخ کو تسلیم کر لینے کے مترادف ہےجو اسلامی تصور حکومت واقتدار کا ایک جزو لا ینفک ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں مسلمان ریاست کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے، چند ضروری شرائط کے ساتھ، ارد گرد کے علاقوں میں قائم غیر مسلم حکومتوں کے خلاف جنگ کر کے یا تو ان کا خاتمہ کر دے اور ان علاقوں کو مسلمان ریاست کا حصہ بنا لے یا کم سے کم انھیں اپنا...

جہادی بیانیے کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکر کا کردار

ڈاکٹر عرفان شہزاد

آج مذہبی عسکریت پسندی کے لا وارث بچے کو کوئی اپنے نام سے منسوب کرنے کو تیار نہیں، لیکن ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے کہ جب اسے گود لینے کے لیے اہل مدارس میں مسابقت برپا تھی۔ یہ 80 اور 90 کی دہائی کی بات ہے جب صدر ضیاء الحق کے زیر سرپرستی جہادی بیانیہ قوم کا نصب العین بنایا جا رہا تھا۔ مساجد اورمدارس میں جہادی پروگرام منعقد کیے جاتے تھے، جہادی مقررین اپنی شعلہ بار تقاریر سے نوجوان طلبہ کے جذبات کو برانگیختہ کر دیا کرتے تھے، طلبہ کومحاذ پر جانے کی بجائے مدرسے میں آرام سے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا خلافِ غیرت لگنے لگتا تھا،جہادیوں کے شانوں تک چھوڑے ہوئے...

مباح الدم اور "جہادیوں" کا بیانیہ

ڈاکٹر محمد شہباز منج

مدینے پر حملے کے تناظر میں اہل علم میں ایک دفعہ پھر" جہادی ذہنیت" اور اس کے بیانیے کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ محترم جناب ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب نے اپنی ایک تحریر میں اسے "سوچا سمجھا جنون" قرار دیتے ہوئے، "جنونی گروہ" کی" فقہ" کے اہم نکات بیان کیے ہیں۔ جناب ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اس گروہ کے بیانیے کے جو نکات پیش فرمائے ہیں، وہ بالکل مبنی برِ حقیقت ہیں۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے راقم نے اس پر جناب زاہد صدیق مغل کا یہ تبصرہ دیکھا کہ:" اس تفصیل کے ساتھ یہ مقدمہ کس نے پیش کیا؟"تو دل چاہا کہ اپنی وہ تحریر پیش کی جائے جو ممتاز قادری کیس پر بحث کے دوران میں نے تحریر...

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ

مولانا محمد انس حسان

محترم ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب کا مضمون ’’سید احمد شہید کی تحریک جہاد:ایک مطالعہ‘‘ ماہنامہ الشریعہ (دسمبر ۲۰۱۵ء) میں شائع ہوا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کے مابین مماثلت پر مبنی یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر سید احمد شہید اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد کرتے ہیں تو اس جدوجہد کو جہاد کا نام دیا جاتا ہے اور یہی عمل اگر طالبان کرتے ہیں تو اسے دہشت گردی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے اپنے مضمون کے آخری نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ: ’’یہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم پہلے فریق (سید احمد شہید) کو درست قرار...

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ

ڈاکٹر عرفان شہزاد

سید احمد شہید کی تحریک جہاد عملی طور پر 1826 سے شروع ہوئی اور 1831 میں آپ کی شہادت پر اختتام پذیر ہوئی۔ تاہم غیر منظم طور پر یہ 1857 کے بعد بھی مسلح جہاد کی صورت میں چلتی رہی۔ اس تحریک نے اور بھی بہت سے تحاریکِ جہاد کو جنم دیا جو اسی انجام کو پہنچیں جو اس تحریک کو پیش آیا، مثلاً بنگا ل میں تیتو میر کی تحریک، تحریک ریشمی رومال اور صادق پور پٹنہ کا مرکزِ جہاد، جہادِ شاملی وغیرہ۔ دورِ حاضر میں ابو الحسن ندوی، مولانا غلام رسول مہر وغیرہ کی تحقیقات اور تصنیفات نے اس تحریک کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ خصوصاً ابو الحسن ندوی کی سیرتِ سید احمد شہید پڑھ کر...

اسلام کا تصورِ جہاد ۔ تفہیم نو کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

امیر عبد القادر الجزائری علیہ الرحمہ کے طرز جدوجہد پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے بار بار یہ نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر معروضی حالات میں جدوجہد کے بے نتیجہ ہونے کا یقین ہو جائے تو شکست تسلیم کر کے مسلمانوں کے جان ومال کو ضیاع سے بچا لینا، یہ شرعی تصور جہاد ہی کا ایک حصہ اور حکمت ودانش کا تقاضا ہے۔ فقہا ایسے حالات میں کفار کو خراج تک ادا کرنے کی شرط قبول کر کے ان کے ساتھ مصالحت کی اجازت دیتے ہیں۔ یہی کام ہمارے ہاں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد اکابر علماء نے بھی کیا تھا اور عسکری جدوجہد ترک کر کے معروضی حالات میں انگریزی حکومت کی عمل داری کو قبول...

اسلام کا تصور جہاد ۔ چند توضیحات

مولانا محمد یحیی نعمانی

محاربہ علت القتال ہے نہ کہ کفر یا شوکت کفر۔ اسلامی جہاد کے بارے میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس کا مطلب مسلمانوں کو ہر غیر مسلم حکومت سے جنگ کی تعلیم وترغیب ہے؟ یعنی کیا مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر ان کے لئے ممکن ہو تو وہ ضرور غیر مسلموں سے جنگ کریں۔ اصولی طور پر سوال یہ ہے کہ کیا ظلم وجارحیت اور ’’فتنہ‘‘ یعنی مذہبی جبر کے خاتمہ کے علاوہ ’’کفر‘‘ علۃ القتال ہوسکتا ہے؟ یا اگر کفر نہیں تو کیا صرف غیر مسلم حکومت کے وجود کو جنگ کے لئے کافی جواز اور سبب قرار دیا جاسکتا ہے؟ ہمارے محدود مطالعے کی حد تک قدیم علمی وفقہی سرمایے میں اس...

جہاد ۔ ایک مطالعہ

محمد عمار خان ناصر

تمہید۔ اسلامی شریعت کی تعبیر وتشریح سے متعلق علمی مباحث میں ’جہاد‘ ایک معرکہ آرا بحث کا عنوان ہے۔ اسلام میں ’جہاد‘ کا تصور، اس کی غرض وغایت اور اس کا بنیادی فلسفہ کیا ہے؟ یہ سوال ان اہم اور نازک ترین سوالات میں سے ہے جن کا جواب بحیثیت مجموعی پورے دین کے حوالے سے ایک متعین زاویہ نگاہ کی تشکیل کرتا اور دین کے اصولی وفروعی اجزا کی تعبیر وتشریح پر نہایت گہرے طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسلام اور تاریخ اسلام کی تفہیم وتعبیر میں اس سوال کے مرکزی اور بنیادی اہمیت حاصل کر لینے کی وجہ بالکل واضح ہے: واقعاتی لحاظ سے دیکھیے تو اسلام، صفحہ تاریخ پر ’جہاد‘...

جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں

محمد عمار خان ناصر

معاصر جہادی تحریکوں کی طرف سے اپنے تصور جہاد کے حق میں بالعموم جو طرز استدلال اختیار کیا جاتا ہے، اس کی رو سے جہاد ایک ایسا شرعی حکم کے طورپر سامنے آتا ہے جو عملی حالات اور شرائط وموانع پر موقوف نہیں، بلکہ ان سے مجرد دین کے ایک مطلق حکم کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے جب بھی ایسے حالات پائے جائیں جن میں نظری اور اصولی طور پر جہاد کی ضرورت اور تقاضا پید اہو جائے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے اور اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے عملاً اقدام نہ کرنے والے مسلمان اور ان کے حکمران گناہ گار اور ایک شرعی فریضے کے تارک قرار پاتے ہیں۔ اسی تصور کے زیر اثر کسی مخصوص صورت حال...

معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات

محمد زاہد صدیق مغل

پچھلے کچھ عرصے میں مجاہدین کی انقلابی و جہادی حکمت عملی (یعنی ریاست کے اندرتعمیر ریاست) کے حوالے سے بہت سے خدشات کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور اس ضمن میں ماہنامہ ’الشریعہ‘ نے باقاعدہ اس موضوع پر خاص نمبر نکالنے کا اہتمام کیا۔ یہاں ہمارا مقصد ان مضامین پر کوئی نقد پیش کرنا نہیں۔ پہلے ان کے پیش گزاروں کے سامنے چند سوالات رکھنا ہے تاکہ معاملے کا دوسرا رخ ان کے سامنے آسکے۔ امید ہے یہ حضرات سوالات کے علمی جوابات مہیا فرمائیں گے۔ دھیان رہے کہ اس سوال نامے کا مقصد نفس موضوع پر اپنی کوئی اصولی رائے بیان کرنا نہیں (کیونکہ اس کے لیے ایک الگ مضمون اور...

حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق

مولانا محمد وارث مظہری

کشمیر کے تنازع کی بنیاد پر ایک عرصے سے پاکستان کی جہادی تنظیموں نے ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اقدامی اور جارحانہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ شخصی اور خفیہ (proxy) نوعیت کی جنگ ہے جس کی اسلام میں کسی بھی صورت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اسلام کے تمام تر مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔ پاکستان کے معتبر دینی و علمی حلقے اسے محض ایک قومی و سیاسی لڑائی تصور کر تے ہیں۔ اسے اسلامی جہاد کی شکل میں نہیں دیکھتے۔ لیکن پاکستان کی مختلف جہادی تحریکیں، جنھیں ملک کے علما اور اسکالر ز کے ایک گروپ کی بڑے پیمانے پر عوامی تائید حاصل ہے، دونوں ملکوں کے اس تنازع کو جہاد...

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ

مولانا فضل محمد

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر صاحب (ریسرچ ایسوسی ایٹ قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاؤن لاہور) کا ایک طویل مضمون شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے: ’’پاکستان کی جہادی تحریکیں :ایک تاریخی وتحقیقی جائزہ‘‘۔ یہ مضمون باریک خط کے ساتھ ۳۰ صفحات پر مشتمل ہے اور ہر صفحہ میں اٹھائیس لائنوں کی قطار لگی ہوئی ہے۔ اگر اس مضمون کو کاغذ کی سخاوت کے ساتھ لکھا جائے تو چالیس بڑے صفحات سیاہ ہو جائیں گے۔ مضمون نگار نے اس مضمون کو شاید اس غرض سے طول دیاہے کہ کوئی جواب لکھنے والے پہلے ہی مرعوب ہو جائے اور نفسیاتی دباؤ کے تحت دب...

آداب القتال : توضیحِ مزید

محمد مشتاق احمد

ماہنامہ ’’الشریعۃ ‘‘کے نومبر ۔ دسمبر ۲۰۰۸ء کی خصوصی اشاعت میں راقم الحروف کا ایک مضمون ’’ آداب القتال : بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ۔ اس مضمون پر ’’ دہشت گردی : چند مضامین کا تنقیدی جائزہ ‘‘ کے عنوان سے جناب ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب کا تبصرہ جنوری ۲۰۰۹ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔ میں ڈاکٹر صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری تحریر کو تبصرے اور تنقیدکے لائق سمجھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے تبصرے میں جن تین نکات پر بحث کی ہے میں ان کی کچھ مزید وضاحت پیش کرنا ضروری محسوس کرتا ہوں کیونکہ میری ناقص...

جہاد و قتال کے شرعی احکام اور بین الاقوامی قانون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جہاد آج کے دور میں نہ صرف مغرب او رمسلمانوں کے درمیان تعلقات بلکہ گلوبلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی ماحول کے حوالے سے بھی غالباًٍ سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع ہے جس پر مختلف حلقوں میں اور مختلف سطحوں پر بحث ومباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بحث اگرچہ نئی نہیں ہے اور صدیوں سے اس کے متنوع پہلووں پر مثبت اور منفی طور پر گفتگو ہو رہی ہے، لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد جب سے اقوام عالم نے مل کر اقوام متحدہ کے نام سے ایک بین الاقوامی فورم تشکیل دیا ہے اور سوسائٹی کے متعدد دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ جنگ وقتال کے معاملات کو بھی ایک بین الاقوامی...

دور اول کے جنگی معرکوں میں خواتین کا کردار

ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

ہمارا موجودہ زمانہ افراط وتفریط کا ہے۔ جہاں تک خواتین اور جنگی معارک میں ان کی شرکت کا تعلق ہے، عام طور پر لوگ افراط وتفریط میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو عورتوں کی مکمل آزادی اور مردوں کے ساتھ ان کی ہمسری کے دعوے دار ہیں اور یہ جملہ کہ ’’عورتیں مردوں کے شابہ بشانہ کام کر سکتی ہیں‘‘ ہماری روزمرہ کی زندگی اور صحافت میں عام ہو چکاہے اور عملی حقیقت بھی یہی ہے کہ عورتیں ہر میدان میں مردوں کے ساتھ کام کرتی نظر آتی ہیں، خواہ وہ سرکاری دفاتر ہوں، خواہ تجارتی کمپنیاں اور بینک یا ہسپتال اور اسی قسم کے دوسرے بیسیوں ادارے۔ فوج میں بھی اب خواتین...

آداب القتال: بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل

محمد مشتاق احمد

مسلمان اہل علم کے لیے اس وقت جن مسائل پر بحث از بس ضروری ہوگئی ہے، ان میں شاید سب سے زیادہ اہم مسئلہ آداب القتال کا ہے ۔ فلسطین ، افغانستان، عراق اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اس وقت ایک بظاہر نہ ختم ہونے والے مسلح تصادم میں مبتلا ہیں ۔ یہ مسلح تصادم خواہ مسلمانوں میں سے بعض افراد نے شروع کیا ہو یا ان پر غیروں کی جانب سے مسلط کیا گیا ہو ، بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ آداب اور قواعد لوگوں کے لیے واضح کیے جائیں جن کی پابندی ان پر اسلامی شریعت اور موجود بین الاقوامی قانون کی رو سے لازم ہے ۔ ایک افسوسناک امر اس سلسلے میں یہ ہے کہ بہت سے لوگوں...

پاکستان کی جہادی تحریکیں: ایک تاریخی و تحقیقی جائزہ

حافظ محمد زبیر

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے اپریل ۲۰۰۸ء کے شمارے میں جناب سیف الحق صاحب کی طرف سے القاعدہ اوردوسری معاصرتحریکوں کے جہاد پر ایک تنقیدی تحریرشائع ہوئی ۔اس تحریر کے جواب میں جون ۲۰۰۸ء میں سید عرفان اللہ شاہ ہاشمی کا ایک خط شائع ہوا ۔مزید برآں اگست ۲۰۰۸ء کے شمارے میں سیف الحق صاحب کی تحریر پر شدید رد عمل کا اظہار دو خطوط کی صورت میں پڑھنے کو ملا ‘ جن میں سے ایک خط جناب مولانا محمد فاروق کشمیری صاحب کا تھا جبکہ دوسرا قاضی محمد حفیظ کا ‘۔جناب سید عرفان صاحب‘ مولانا فاروق کشمیری اور قاضی حفیظ صاحب کے شریعت اسلامیہ کے حکمِ جہاد کے حق میں جذبات قابل قدر...

جہاد اور معاصر بین الاقوامی قانونی نظام ۔ چند اہم مباحث

محمد مشتاق احمد

جہاد اسلام کی چوٹی ہے ، جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے ۔(۱) بہت سی آیات و احادیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور نفاق کے درمیان فرق کا علم جہاد ہی کے ذریعے ہوتا ہے ۔ (۲) جہاد ہی کی برکت ہے کہ اسلامی دنیا میں کبھی بھی غیروں کے تسلط کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد ابتدا ہی سے استعماری قوتوں کا ہدف رہا ہے ۔ مسلمان اہل علم کی جانب سے ہر دور میں جہاد کی حقیقت اور اس کے صحیح تصور کو اجاگر کرنے کا فریضہ ادا کیا گیا ہے ۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں اسلامی دنیا بالعموم غیروں کے تسلط میں آگئی تو اس تسلط کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ...

جہاد اور دہشت گردی : عصری تطبیقات

ادارہ

مجلس فکر ونظر لاہور ایک غیر حکومتی، غیر سیاسی، غیر مسلکی اور آزاد علمی وتحقیقی مجلس ہے جس کے پیش نظر مسلم امہ کو درپیش جدید مسائل میں اسلامی رہنمائی مہیا کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کو بروئے کار لانا ہے۔ مجلس اس سے قبل سود کے متبادل معاشی نظام، دینی وعصری نظام تعلیم کی اصلاح کی حکمت عملی اور پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات جیسے اہم موضوعات پر مذاکروں اورسیمینارز کے انعقاد کے علاوہ تحقیقی وتجزیاتی رپورٹس بھی پیش کر چکی ہے۔ نومبر ۲۰۰۴ میں مجلس کی طرف سے عصری تناظر میں جہاد اور دہشت گردی سے متعلق سوالات پر غور وفکر کے لیے مختلف مکتبہ ہائے...

جہاد، مستشرقین اور مغربی دنیا

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۵۔ اگست کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک سیمینار تھا جو مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی کے ادارے میں ’’ندوۃ الشباب الاسلامی العالمی‘‘ سعودی عرب کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ حافظ عبد الرحمن مدنی اہل حدیث علماے کرام میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا روپڑی خاندان سے تعلق ہے اور وہ روایتی مسلکی دائرے پر اکتفا کرنے کے بجائے وسیع تر ملی مفاد کے ماحول میں کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ادارہ ’’مجلس التحقیق الاسلامی‘‘ اور ماہوار جریدہ ’’محدث‘‘ نوجوان علما میں آج کے معروضی مسائل پر غور وتحقیق کا ذوق بیدار کرنے اور دینی حلقوں کو ان کی طرف توجہ دلانے کی...

جہادی حکمت عملی: مثبت اور منفی پہلو

ادارہ

کشمیر کے محاذ پر کل کیا ہونے والا ہے، اس کی تفصیلات ابھی پردۂ غیب میں ہیں لیکن اب تک کیا ہو چکا، اس باب میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ ۸۹۔۱۹۸۸ء میں جو حکمت عملی اختیار کی گئی تھی، اس کی صفیں اب لپیٹی جا رہی ہیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں جو کچھ ہوا، اس کا قرض ان لوگوں کے ذمے ہے جنھوں نے یہ ساری حکمت عملی ترتیب دی اور جو ان کے دست وبازو بنے۔ ہمارے ہاں چونکہ خود احتسابی کی کوئی روایت نہیں، اس لیے یہ امکان تو موجود نہیں کہ یہاں کوئی تحقیقاتی کمیشن بنے جو اس ناکامی کے اسباب کو موضوع بنائے لیکن ایک احتساب بہرحال اللہ کی عدالت میں ہونا ہے۔ اب یہ ان لوگوں...

سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

میں شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور کا شکر گزار ہوں کہ جناب رسالت مآب ﷺ کی سیرت طیبہ کے موضوع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت اور گفتگو کے اعزاز سے نوازا اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمارے مل بیٹھنے کو قبول فرماتے ہوئے کچھ مقصد کی باتیں کہنے‘ سننے اور پھر ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔ مجھے گفتگو کے لیے ’’سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے جس کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ حتیٰ کہ تذکرہ بھی اس مختصر وقت میں ممکن نہیں ہے اس لیے بہت سے امور کو نظر انداز کرتے ہوئے چند ایک ایسے...

انصاف یا جنگل کا قانون؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سالانہ سیرت کانفرنس میں ’’سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی گزارشات قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ اس کانفرنس سے مولانا حافظ صلاح الدین یوسف‘ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا جبکہ مہمان خصوصی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان تھے جنہوں نے اپنے اختتامی خطاب میں راقم الحروف کی معروضات کو سیرت النبی ﷺ کے صحیح رخ پر مطالعہ کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ آج کے عالمی حالات اور مشکلات ومسائل کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت نبوی ﷺ...

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جہاد افغانستان کے منطقی اثرات رفتہ رفتہ ظاہر ہو رہے ہیں کہ نہ صرف مشرقی یورپ نے روس کی بالادستی کا طوق گلے سے اتار پھینکا ہے بلکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں بھی اپنی آزادی اور تشخص کی بحالی کے لیے قربانی اور جدوجہد کی شاہراہ پر گامزن ہو چکی ہیں اور فلسطین، کشمیر اور آذربائیجان کے حریت پسند مسلمان جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ظلم و استبداد کی قوتوں کے خلاف صف آرا ہیں۔ جہاد کے اسی جذبہ سے کفر کی قوتیں خائف تھیں اور اسے مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کے لیے استعماری طاقتیں گزشتہ دو سو برس سے فکری، سیاسی اور تہذیبی سازشوں کے جال بن رہی تھیں لیکن اسلام کی زندہ...

کیا افغان مجاہدین کی جنگ مسلمان اور مسلمان کی جنگ ہے؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ جناب صدر، قابل احترام علماء کرام اور میرے مجاہد بھائیو! میں حرکۃ الجہاد الاسلامی کے امیر مولانا قاری سیف اللہ اختر کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس اجتماع میں حاضری اور جہاد افغانستان کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ وقت مختصر ہے اور علماء کرام کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جنہوں نے آپ سے مخاطب ہونا ہے اس لیے انتہائی اختصار کے ساتھ کسی تمہید کے بغیر جہاد افغانستان کے بارے میں عام طور پر کیے جانے والے دو اہم سوالوں کا جائزہ لوں گا۔میرے محترم بھائیو! آپ حضرات میں سے بہت سے دوست وہ ہیں جو محاذ جنگ پر جا کر عملاً...
1-25 (25)
Flag Counter