دو قومی نظریہ اور امجد علی شاکر

سید امتیاز احمد

جہاں علمی ادارے، میڈیا اور ذہن سازی کے جملہ مراکز اور ذرائع نقطہ ہائے نظر کو تاریخی حقائق اور نظریات کو عقائد بنا کر پیش کرنے میں مصروف ہوں، جہاں سماعتیں آدھا سچ سننے اور بصارتیں ادھوری حقیقت پڑھنے کی اس حد تک عادی ہو چکی ہوں کہ پورے سچ اور مکمل حقیقت کے روبرو ہونے کی خواہش ہی موجود نہ رہے، وہاں اگر کوئی دیوانہ پکار اٹھے کہ ’’بادشاہ تو ننگا ہے‘‘، وہاں اگر کوئی مؤرخ، تعصبات سے بلند ہو کر تاریخ کا جائزہ لینے کا حوصلہ کر بیٹھے، وہاں اگر کوئی حقیقت کا متلاشی سچ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کسی کوئے ملامت میں جا نکلے، وہاں اگر کوئی دانش ور سرکاری نقطۂ نظر اور درباری تاریخ پر شک کا اظہار کر بیٹھے ۔۔۔ تو ہمارا اور آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس کی نیت پر حملہ آور ہونے سے قبل اس کی بات کو توجہ سے سن تو لیں، ذرا دیر کو ٹھہر کر اس کے موقف پر غور تو کر لیں۔ امجد علی شاکر کی کتاب ’’دو قومی نظریہ: ایک تاریخی جائزہ‘‘ بھی ہم سے کچھ ایسا ہی تقاضا کرتی ہے۔

یہاں یہ وضاحت شاید غیر ضروری نہ سمجھی جائے کہ یہ تاریخ کی کتاب نہیں، یہ ایک ایسے نظریے کا تنقیدی، تحقیقی اور تاریخی جائزہ ہے جو نہ صرف ہماری ماضی قریب کی تاریخ کی تشکیل پر اثر انداز ہوا ہے بلکہ آج بھی سوچنے سمجھنے والے ذہنوں کے لیے ایک معما بنا ہوا ہے۔ یہ نظریہ ہمارے لیے یوں بھی ایک ’’مجتمع الضدین‘‘ بن چکا ہے کہ اگر چھوڑتے ہیں تو اپنی (نصابی) تاریخ سے جاتے ہیں اور اگر رکھتے ہیں تو حال بے حال ہوتا ہے۔ یہی غالبًا اس موضوع کو شعوری طور پر نظر انداز کیے جانے کا سبب بھی ہے۔ یہ وضاحت تو خیر کتاب کے اجمال کا جواز فراہم کرنے کے لیے تھی، شاکر صاحب نے اب اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تو بڑی حد تک حق بھی ادا کیا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ مصنف نے اس نظریے کے آغاز کو اس کے نو آبادیاتی تناظر میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات ایک بڑی خوبی یوں بن جاتی ہے کہ ہم لوگ بالعموم نو آبادیت اور اس کے جملہ مضمرات سے بالعموم بے خبر ہی رکھے گئے ہیں۔ سبب وہی کہ اگر نو آبادیاتی استحصال کی تفصیل بیان کی جائے تو لامحالہ، اس استحصال کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا ذکر بھی آئے گا۔ جنہیں ہم بوجوہ، مطعون و مغضوب ہی رکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اس ظلم و استحصال میں استعمار کے دست و بازو بن کر مفادات حاصل کرنے والوں کا ذکر بھی ناگزیر ہوگا جو اس دور سے لے کر آج تک، ہمیشہ، اقتدار کی غلام گردشوں میں پائے گئے ہیں۔ نو آبادیاتی قوتوں کی مذمت گویا انہی کی مذمت بن جاتی لہٰذا اس موضوع کو یا کم از کم اس کی تفاصیل کو نصابی اور تاریخی کتابوں سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ظاہر ہے، اس قسم کی کوششیں ایک حد تک ہی موثر ہوتی ہیں اور اتنی سامنے کی باتوں پر پردہ ڈالے رکھنا تو اور بھی مشکل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نو آبادیاتی اور سامراجی قوتیں اپنی مفتوحہ نو آبادیوں کے عوام و خواص کو محض سیاسی اور معاشی طور پر ہی تباہ و برباد کرنے پر قانع نہیں رہتیں، اس استحصال کی حدود محکوم اقوام کی علمیّات، ان کی تہذیب و ثقافت اور عقائد و نظریات تک کو اپنے گھیرے میں لے آتی ہیں۔ حاکم قوم کی تہذیبی اور علمی برتری کو تسلیم کروانے کی کوشش تو خیر سامنے کا پہلو ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ خالص مقامی مسائل اور ان کے حوالے سے تشکیل پانے والے نقطہ ہائے نظر و نظریات کو بھی صاحبانِ عالی شان کے ردّ و قبول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو نظریات غیر ملکی اقتدار کو دوام بخشنے میں ممّد و معان ہو سکتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، بلکہ بوقتِ ضرورت ایسے مسائل خود بھی متعارف کروائے جاتے ہیں مثال کے طور پر ہندی اردو تنازعہ اس کے برعکس جو تصورات و نظریات نو آبادیاتی اقتدار کو کمزور کرنے اور محکوموں کو استعماری قوتوں کے استحصال سے آگاہ اور اس کے خلاف منظم کرنے کا باعث ہو سکتے ہیں، ان کے علم برداروں کے حصہ میں ایک طرف تو پھانسیاں، جائدادوں کی ضبطیاں اور حبسِ دوام بعبور دریائے شور آتے ہیں اور دوسری طرف الزام تراشی، بہتان طرازی اور کردار کشی۔ ہندوستان میں دو قومی نظریے بلکہ نو آبادیاتی دور میں سامنے آنے والے کسی بھی نظریے کے ظہور کا جائزہ لیتے ہوئے اس تناظر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اس کتاب میں بھی فاضل مصنف نے اسے پیش نظر رکھ کر ہی گفتگو کا آغاز کیا ہے۔

کتاب کا پہلا باب سر سید احمد خان کے حوالے سے ہے۔ اس نظریے کے بعض موئیدین کے جذباتی بیانات سے صرفِ نظر کیا جائے تو دو قومی نظریے کا تحریک پاکستان کے پس منظر میں باقاعدہ آغاز سر سید ہی سے کیا جاتا ہے، بالخصوص مولانا حالی کے نقل فرمودہ بیانات سے۔ مثال کے طور پر:

’’۔۔۔ مجھے یقین ہوگیا کہ اب ہندو مسلمانوں کا بطور ایک قوم کے ساتھ چلنا اور دونوں کو ملا کر سب کے لیے ساتھ ساتھ کوشش کرنا محال ہے۔‘‘

یہاں شاکر صاحب ایک بہت بڑی اور غالباً دانستہ پیدا کی گئی غلط فہمی کو دور کرتے ہیں، جب وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ بیان ۱۹۶۷ء کے ہندی اردو تنازعے کے حوالے سے دیا گیا تھا جب کہ اس کے بعد اپنی وفات سے چند ماہ قبل تک موصوف اس قسم کے بیانات دیتے رہے;

’’ ۔۔۔ پس مسلمانوں اور ہندوؤں میں کچھ مغائرت نہیں ہے۔ جس طرح آریا قوم کے لوگ ہندو کہلائے جاتے ہیں، اسی طرح مسلمان بھی ہندو یعنی ہندوستان کے رہنے والے کہلائے جا سکتے ہیں۔‘‘

اور محض بیانات ہی نہیں علی گڑھ کالج ہو یا ’’وفادار ہندوستانیوں کی ایسوسی ایشن‘‘ ہر جگہ وہ ہندوؤں کو (یا کم از کم اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو) ساتھ لے کر ہی چلتے رہے۔ اس صورتِ حال میں سر سیّد کو دو قومی نظریے کا علم بردار قرار دینا، خلطِ مبحث پیدا کرنے کی شعوری کوشش ہی کہلائے گا۔ خیر کوششوں کا کیا گلہ کیا جائے کراچی کے ایک صاحب علم تو دو قومی نظریے کا اثبات قرآن و حدیث سے کرنے کی کوشش کرتے پائے گئے تھے۔ 

دوسرے باب کا عنوان ’’علامہ اقبال اور دو قومی نظریہ‘‘ ہے۔ علامہ سر محمد اقبال کو بہرحال دو قومی نظریہ کے باقاعدہ نظریہ سازوں میں شامل کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انہوں نے برصغیر کے معروضی حالات اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد جملہ جزئیات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایک باقاعدہ اور مکمل نظریے کی صورت میں یہ تصور پیش کیا تھا۔ انہوں نے متعدد سامنے کے پہلوؤں کو بھی نظر انداز کر دیا تھا۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں رہ جانے والی مسلم اقلیت اور مسلمان ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کی قومیت کا مسئلہ اور دیگر ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ تعلق کی نوعیت کا مسئلہ وغیرہ۔ جہاں تک اسلام کے تصورِ ملت کی آفاقیت اور مقامی قومیتوں کے تصور میں مطابقت اور دونوں کے الگ الگ تقاضوں کی تفہیم کے مسئلے کا تعلق ہے، حیرت ہوتی ہے کہ وہ قوم اور ملت کی اصطلاحوں میں واضح نصوص کے باوجود کوئی فرق روا رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک سامنے کی لیکن ضروری بات یہ بھی ہے کہ عملی طور پر اس صورت حال کے بہت سے پہلو، علامہ کی وفات کے بعد سامنے آئے یا واضح ہوئے، سو اب کیا کہا جا سکتا ہے کہ ان کے تصورات ارتقا پا کر کیا صورت اختیار کرتے اور بعد کی سیاسی پیش رفت کے دوران میں ان کا نقطہ نظر کیا ہوتا؟ پنجاب مسلم لیگ کے ساتھ ان کے تعلق کے مختلف مراحل اور اس دوران ان کے نقطہ نظر میں آنے والی تبدیلیاں ہمارے سامنے ہیں۔ 

جہاں تک خود بانئ پاکستان اور دو قومی نظریے کا تعلق ہے، صورت حال دلچسپ تر ہے۔ انہوں نے اس معاملے کے نظری پہلو پر کبھی تفصیل سے کلام کیا ہی نہیں۔ ان کی تقاریر کے اقتباسات اور بیانات ہی پیش کیے جاتے ہیں لیکن ان میں مختلف مواقع پر مختلف بلکہ متضاد تصورات پائے جاتے ہیں۔ غالبًا اس کا سبب تقاریر کے لکھنے والے ہو سکتے ہیں۔ اگر Speech Writer غلام احمد پرویز ہوں تو ان کی تقریر میں صرف قرآن سے رہنمائی لینے اور مرکز ملت کا تصور جھلکنے لگتا ہے۔ جب وہ اپنی تقریر خود لکھتے ہیں تو ۱۱ ۔اگست کا تاریخی خطاب سامنے آتا ہے، ان بیانات میں مطابقت پیدا کرنا جناح صاحب کے ہر سوانح نگار کے لیے ایک مسئلہ رہا ہے اور رہے گا۔ کتاب کا ایک معنیٰ خیز بلکہ بعض حضرات کے لیے چشم کشا باب ’’دو قومی نظریہ کے ہندو اور انگریز نظریہ ساز‘‘ ہے۔ لیکن اس سے پہلے وہ مودودی صاحب کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے دیگر مصنفین کا تحریک آزادی، تحریک پاکستان اور دو قومی نظریے کے حوالے سے رویّہ دلچسپ اور تاریخی ہی نہیں، نفسیاتی مطالعے کا بھی سزاوار ہے۔ غالبًا یہی سبب ہے کہ فاضل مصنف نے ایک باب اس حوالے سے شامل کتاب کرنا ضروری سمجھا وگرنہ اس دور کی جماعت کا حجم اور مولانا مودودی کے اس وقت کے مقام و مرتبہ اور حلقۂ اثر کو پیش نظر رکھا جائے تو اس حوالے سے ان کا کوئی قابل ذکر اور موثر کردار ممکن ہی نہیں تھا۔ لہٰذا مجید نظامی کا انہیں پاکستان مخالف قرار دینا اور جماعتی حلقوں کی جانب سے انہیں محسنینِ تحریک پاکستان میں شامل کرنا افراط و تفریط ہی کہلائے گا۔ 

دو قومی نظریے کے شارحین کے بیان میں فاضل مصنف ایک اہم لیکن نسبتًا غیر معروف کردار فضل کریم درّانی کو بھی یاد کیا ہے۔ یہ صاحب ایک دور میں اتنے اہم تھے کہ محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ملاقاتوں میں موجود ہوتے تھے۔ ان کی کتاب The Future of Islam In India علامہ اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد سے دو سال قبل شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں دو قومی نظریہ پوری تفصیل اور شدّت کے ساتھ موجود ہے۔ لہٰذا خورشید کمال عزیز کا یہ سوال بے جا نہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے اور باہم تعارف اور ملاقاتوں کے باوجود علامہ اقبال درانی صاحب کے خیالات سے متاثر یا کم از کم بخوبی آگاہ نہ ہو چکے ہوں۔

اس کے بعد ذکر آتا ہے تھانوی حلقہ کے علمائے کرام اور جناب جی اے پرویز کا۔ دونوں کا ذکر ایک ہی جملے میں کرتے ہوئے ہمیں بھی عجیب لگ رہا ہے اور یقیناًپڑھنے والوں کو بھی عجیب لگے گا لیکن یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی کو اعلاء السنن میں غلام احمد پرویز اور طلوع اسلام کا حوالہ دینا پڑے۔ 

کتاب میں اور بھی بہت کچھ ہے لیکن اصل سوال آج کے دور میں دو قومی نظریے کی ایسی معنویّت تلاش کرنے کا ہے جسے قبول کرنے کے بعد ۱۵۔ اگست ۱۹۴۷ء سے قبل بھی اس کا جواز برقرار رہے۔ کیا دو قومی نظریے کے علم برداروں میں سے کوئی ایسا کر پایا؟ آخری باب میں شاکر صاحب نے جناب جاوید اقبال کی خود نوشت سوانح ’’اپنا گریباں چاک‘‘ میں شامل ’’علامہ اقبال کے نام دوسرا خط‘‘ سے ایک اقتباس نقل کیا ہے، ہم اسی اقتباس کو درج کرتے ہوئے اپنی بات سمیٹ لیتے ہیں۔

’’اے پدرِ محترم! اگر اب ہماری اجتماعی شناخت کے لیے وہ علاقہ مختص ہوگیا ہے جسے پاکستان کہتے ہیں اور جس کا مفاد ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے تو پھر مولانا حسین احمد کا قول کس اعتبار سے غلط ہوا؟ کیا ہمارے عمل سے یہ ثابت نہیں ہوگیا کہ قومی یا وطنی اعتبار سے تو ہم پاکستانی ہیں اور ملی اعتبار سے مسلم۔‘‘

آراء و افکار

Since 1st December 2020

Flag Counter