نہ معرفت، نہ نگاہ!

محمد دین جوہر

الشریعہ دسمبر ۲۱۰۲ء میں میاں انعام الرحمن صاحب نے ’’۔۔۔ اور کافری کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے راقم کے مضمون کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کافی محنت سے مضمون کا ایک درسی گوشوارہ مرتب کیا اور پھر اس کا شق وار قانونی جواب دے کر قارئین کی خدمت میں پیش کرنے میں بڑی محنت اٹھائی۔ اس کے لیے وہ یقیناًداد کے مستحق ہیں۔ اس جواب الجواب کی pedantry کا، صاف ظاہر ہے کہ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ان کے جواب سے ہمیں یہ اندازہ بخوبی ہو گیا ہے کہ میاں صاحب ہماری گزارشات اور سوالات کو register بھی نہیں کر پائے اور کسی دوسری طرف نکل کھڑے ہوئے۔ لفظوں کی گردانیں تو ہم نے سن رکھی ہیں، لیکن فقروں کی گردانیں بنا کے میاں صاحب نے ایک نئی چیز متعارف کرائی ہے۔ اس پر بھی ہم ان کے تہہ دل سے ممنون ہیں۔ 

اہم تر یہ امر ہے کہ میاں صاحب نے اپنے جواب کو بالکل ہی ذاتیات بنا دیا اور ما بہ النزاع فکری امور کی طرف ان کی توجہ نہ جا سکی۔ ادھر یہ حال ہے کہ ہمیں ذاتیات میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ فتویٰ بازی ہی سے ہمیں کسی طرح کی طبعی مناسبت ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ علمی مکالمہ ذاتیات کی تنگنائے میں واقع نہیں ہو سکتا اور اس کے لیے طرفین کی مفاہمت سے قائم تہذیبی فضا کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید برآں، ہمیں اس بات کا بھی پورا احساس ہے کہ علم اور عقیدے کا تعلق بہت گہرا ہے اور اس کی نوعیت اور منہج سے بھی شناسائی رکھتے ہیں، لیکن ہم علمی بحث کو عقیدے پر فتویٰ بازی نہیں بناتے جس کا مظاہرہ میاں صاحب نے فرمایا ہے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ مکالمہ اور گفتگو زیور تہذیب ہیں اور تہذیب ختم ہو جائے تو زیور کی تلاش بے سود ہے۔

جس طرح اوّلی مضمون ان کے علم کا اظہار تھا، بالکل اسی طرح یہ مضمون ان کے جدید مذہبی رویوں اور تہذیب کا اظہار ہے۔ پہلے وہ ملاحظہ فرما لیں، باقی گزارشات میں ٹھہر کے عرض کرتا ہوں۔ کفر و ایمان کا جھگڑا تو انہوں نے عنوان ہی میں صاف کر دیا کہ ’’۔۔۔ اور کافری کیا ہے؟‘‘ یعنی ہمارا مضمون تو کافری ہی کافری ہے اور بزعم خویش اسلام کے شارح اور ترجمان جناب موصوف خود ہیں۔ اس میں حیرت یہ ہے کہ اگر مخاطب کو کافر قرار دے ہی دیا ہے تو پھر مشرک قرار دینے کی کون سی دینی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ شاید ایسی ہی نئی ضروریات کی تکمیل کے لیے وہ کوئی نیا اسلامی اڈیشن تیار کرنا چاہ رہے ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ’’قدیم دیسی شعور‘‘ [اس سے مراد راقم ہے] بھی تو بتوں سے امید لگائے بیٹھا ہے۔‘‘ یہ تو فاضل مضمون نگار کے جدید دینی رویے ہوئے۔ ہمیں کافر کہہ کر ان کی تسکین نہیں ہوئی تو ہم میاں صاحب سے عرض کریں گے کہ کیا مشرک قرار دے کر ان کی تالیف قلب ہو گئی؟ اگر نہیں ہوئی تو وہ ہمارے حوالے سے اپنی مستقل تالیف قلب بھی کرتے رہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اب اس کفر و شرک کے طومار پر بھلا میں کیا تبصرہ کر سکتا ہوں؟ جیسی ان کی جدید دینی تعبیرات ہیں، ویسی ہی ان کی افتائی شطحیات ہیں۔

اب ان کی تہذیب بھی ملاحظہ فرما لیں: ’’اگر جوہر صاحب اپنے مفروضات کے جوہڑ سے باہر آئیں تو۔۔۔‘‘ میاں صاحب سے گزارش ہے کہ ہمیں کسی کو کافر، مشرک قرار دینے یا مخاطب کے نام میں تحقیری تصرفات کرنے میں تو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ دینی رویے اور تہذیبی شعور انہیں اور الشریعہ کو مبارک ہو۔ ہم اس سے قطعی بری الذمہ ہیں۔ علمی اختلاف کو ذاتیات بنانے اور علمی بحث کو عقیدے کی بحث بنانے میں ہمیں چنداں دلچسپی نہیں اور نہ اس طرح کے فضول کاموں کے لیے ہمارے پاس کوئی وقت ہے۔ ہاں، جہاں تک ان کے جعلی مذہبی علوم کا تعلق ہے، ہم ان کی تحلیل، تجزیے اور پرزور رد کی بساط بھر کوشش کرتے رہیں گے۔ اگر وہ علمی گفتگو کو عقیدے اور نیت پر حملے کی آڑ بنا رہے ہیں تو ہمیں اس طرح کی دشنام گری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہم جواباً ان پر کفر و شرک تھوپنے یا انہیں بدنیت قرار دینے کے عمل ہی کو قابل مذمت سمجھتے ہیں، خود کیسے اس کا ارتکاب کر سکتے ہیں؟ وہ اگر چاہیں تو اپنی تالیف قلب کے لیے اور اپنے نئے اسلامی اڈیشن کی تشہیر کے لیے اور اس کی روشنی میں دریافت کردہ (نعوذباللہ) ہمارے کفر و شرک کا پورا محضر نامہ اپنے رسالے میں شائع کرواتے رہا کریں۔ ہم نیت اور عقیدے کا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ ہمارا سروکار تو ان کے صرف اظہار دادہ خیالات تک ہی محدود ہے۔ میاں صاحب سے گزارش ہے کہ اگر ان کا نیا اسلامی اڈیشن تیار ہو گیا ہے تو وہ اس کی اشاعت کا مناسب بندوبست فرمائیں، فقروں کی گردانیں کر کے انشائی آملیٹ بنا کر قارئین کرام، خود اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔

ان کی تہذیب کا ایک نمونہ اور بھی ملاحظہ فرما لیں: ’’جوہر صاحب کے روایتی اسلوب سے مراد اگر ’’دما دم مست قلندر‘‘ جیسے اسالیب ہیں۔۔۔‘‘ اب ایسی باتوں کا آدمی کیا جواب دے؟ دعا ہی کر سکتا ہے۔ علم اپنا دفاع کرتا ہے، غصہ صرف اظہار چاہتا ہے۔ اپنے جواب الجواب میں میاں صاحب نے صرف غصے کا اظہار ہی فرمایا ہے۔ اب اپنے غصے اور اپنی عقل سے دین کی جدید تعبیر کا جو بیڑا میاں صاحب نے اٹھایا ہے، اس کا علم اٹھانے کا حوصلہ تو صرف الشریعہ کے پاس ہے۔ ہمارے حصے میں تو صرف گالیاں ہی آئی ہیں۔

بہر حال کیا راقم اور کیا اس کی اوقات، یہاں تو عامۃ المسلمین کی عزت بھی محفوظ نہیں۔ ذرا ان کا ہٹیلا پن ملاحظہ فرمائیے: ’’جی ہاں! مذکور معنی میں مسلمان بے حیا اور بے غیرت ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے ایک دو مثالیں بھی پیش کی تھیں۔‘‘ یہ میاں صاحب کی بندہ نوازی ہے کہ انہوں نے ایک دو مثالوں سے حاصل ہونے والے تجربے کو قصص القرآن سے اخذ کردہ شرائط کی روشنی میں جس طرح ’’تاریخی تجربے‘‘ میں ڈھال کر مسلمانوں پر منطبق کیا ہے، اس سے ان کے جدید اسلامی اڈیشن کے اخلاقی پہلوؤں کو بڑی سربلندی اور رفعت حاصل ہوئی ہے۔ مسلمانوں کا مذہب یا اس کا ایک خاص اڈیشن بقول میاں صاحب موجودہ عمرانی صورت حال سے غیر متعلق ہو گیا ہے اور خود مسلمان بالعموم بے غیرت اور بے حیا ہیں۔ اب لے دے کے میاں صاحب ہی ان کا آخری سہارا اور امید ہیں، اس لیے ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے نئے اسلامی اڈیشن کی جلد رونمائی کا بندوبست فرمائیں تاکہ روایتی اسلام کی مکمل بیخ کنی کر کے صورت حال کو سنبھالا دیا جا سکے۔ میاں صاحب سے التماس ہے کہ خود ان کے تجزیے کے مطابق ہماری عمرانی صورت حال بہت خراب ہے، اس لیے ان کے نئے اڈیشن کی جلوہ افروزی میں تاخیر نقصان کا موجب ہو سکتی ہے، جو صاف ظاہر ہے ان کا منشا بھی نہیں ہے۔ پھر مسلمانوں کو بالعموم بے غیرت اور بے حیا قرار دیتے سمے ان کی ادعایت میں جارج بش کے لہجے کی جھلک صاف نظر آ رہی ہے۔ اس پر وہ مزید مبارک باد کے مستحق ہیں، کہ ماشاء اللہ جہاں سے تعبیرات آ رہی ہیں، وہاں سے لہجہ بھی مستعار ہے۔ 

میاں صاحب نے عمرانی کا لفظ کہیں پڑھا یا کسی جدید دانشور سے سن رکھا ہو گا اور امید ہے کہ وہ اس کا مطلب بھی جانتے ہوں گے، اس لیے اس بچارے عمرانی کو سر پر گھماتے ہوئے روایتی دین کا لنکا ڈھانے نکل کھڑے ہوئے۔ کیا انہوں نے سنا ہے کہ جدید سماجی علوم The Death of the Social کا اعلان بھی فرما چکے ہیں؟ جدید معاشرے کا تجزیہ جدید نظری علوم کس کس منہج پر کر رہے ہیں، یہ میاں صاحب کی بلا سے۔ اپنے نو دریافت شدہ عمرانی قمقمے سے ان کی ٹکٹکی ہٹے تو ادھر ادھر بھی کچھ سجھائی دے۔ اپنی ذہنی جھنجھلاہٹ اور چشمی چندھیاہٹ میں ہم پر خواہ مخواہ برس رہے ہیں۔ 

میاں صاحب کے جواب سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے اپنا اوّلی مضمون یونانی زبان میں لکھا تھا جو ہماری سمجھ میں نہیں آیا اور وہ اب اس کی تدریس مکرر کر رہے ہیں۔ وہ تسلی رکھیں، ہم ان کی اردو اور اس میں اظہار دادہ خیالات کو خوب سمجھتے ہیں، اور ویسے ہی سمجھتے ہیں جیسے وہ اظہار فرما رہے ہیں۔ ہم اپنی خوش فہمی میں یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ اپنے جواب میں وہ فکری طور پر مربوط کسی جدید اسلامی اڈیشن کی توپ چلائیں گے، لیکن انہیں تو اپنی ذات کی تشویش لاحق ہو گئی اور وہ کسی ہار جیت کی نفسیات میں گفتگو کو آگے بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ اگر جیت ہی ان کا مسئلہ ہے تو ہم عرض کیے دیتے ہیں کہ جدید تعبیرات والے تو جیتے جتائے لوگ ہیں، یہ تو بچارے دینی روایت سے جڑے ہوئے ہم جیسے لوگ ہیں جو محاصرے میں ہیں اور جن کے موقف کی گنجائش تو دور کی بات ہے، ان کے لیے روایت دین کا نام لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ میاں صاحب کی اجازت سے ان کا پسندیدہ لفظ استعمال کرتے ہوئے عرض کروں گا کہ علم کی ’’عمرانی‘‘ ٹہل سیوا کے ساتھ ساتھ انہوں نے مخاطب کا جو ’’دینی بندوبست‘‘ فرمایا ہے، اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ فاتح طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو جدید تعبیرات پر اپنی اجارہ داری کو درپیش کوئی سوال برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔

میاں صاحب کے جواب الجواب کے علاوہ بھی کچھ احباب نے اپنے ردعمل مجھے براہ راست روانہ فرمائے۔ ان سب میں مشترک وہ شدید رد عمل تھا جو ان ایک دو باتوں پر ہوا جو راقم نے دینی روایت اور روایتی علما کے حوالے سے ضمناً عرض کی تھیں۔ مجھے اس قدر اندازہ نہیں تھا کہ دینی روایت اور روایتی علما کا نام لینے پر ہی جدید دانشوروں کو دورہ ہو جائے گا اور جدید تعبیرات دین کا اصل موضوع پس منظر میں چلا جائے گا۔ مجھے براہِ راست موصول ہونے والے رد عمل اسلاف کیلئے گالم گلوچ اور دریدہ دہنی سے پر تھے۔ ہمارا مقصد کسی کو برا بھلا کہنا تو ہر گز نہیں تھا، ہم تو کسی فکری اور علمی مکالمے کے انتظار میں تھے۔ بچارے روایتی مولوی تو چلیے ہر طرح سے فارغ البال ہیں، لیکن جدید مولویوں کے حالات تو بالکل ہی ناگفتہ بہ ہیں۔ اقبال کا یہ مصرع ‘‘نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ’’ اصل میں ان پر ہی صادق آتا ہے۔ 

ہمارے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ جدید مذہبی دانشوروں کا نام نہاد عقلی استدلال جب ہانپنے لگتا ہے تو یہ مذہبی استناد کو آڑ بنا کر کفر و شرک کے فتوے صادر فرماتے ہیں۔ جب ان کا ذہن مذہبی استناد کے سامنے متامل ہوتا ہے تو یہ عقلی استدلال کی طرف لپکتے ہیں۔ جدید تعبیرات دین میں کارفرما ذہن نہ عقلِ انکار کا حامل ہے، نہ عقلِ تسلیم کا نمائندہ ہے۔ یہ تو استعمار کا تعمیر کردہ ذہن بیمار ہے جو ذہن ہونے کی بنیادی تعریف پر ہی پورا نہیں اترتا، کیونکہ استعمار کی وجودی نوکری اور استشراق کی شعوری غلامی اس ذہن کا content نہیں ہے، بلکہ structure ہے۔ وجودی نوکری اور شعوری غلامی کے قطبین کے درمیان کارفرما یہ ذہن مذہبی استناد کے حوالے سے شبہات اور عقلی استدلال کے حوالے سے مہجوری کا شکار ہے۔ ارادے کی سطح پر اس شعور کا بنیادی ترین اظہار سازباز اور ذہن کی سطح پر خلط مبحث ہے۔ اس ذہن کے عقلی استدلال کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ جدید علوم نے عقائد کی بیخ کنی کیلئے جو بھی دلائل اور علوم کھڑے کیے ہیں، اور جنہیں استعمال کر کے جدید ذہن اور جدید تہذیب نے اپنے تمام مقاصد تک مکمل رسائی حاصل کی ہے، بعینہٖ وہی دلائل یہ عقائد کے دفاع میں لے کے آتا ہے۔

میاں صاحب نے گلا کیا ہے کہ ہم نے ان پر قرآن مجید کو خلاصۂ تاریخ کہنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے gist of historyقرآن کے داخل میں محفوظ کیے جانے کا نیا فلسفہ دریافت کیا ہے۔ داخل خارج کی بحث تو بعد میں کریں گے، چلیے وہ خود ہی ارشاد فرمائیں کہ اس کو اردو میں خلاصۂ تاریخ نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے؟ جدید مذہبی دانشور چونکہ ایک extreme colourized- subjectivity-کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ہاں نہ لفظ کی حرمت باقی رہتی ہے نہ کسی تصور کی سالمیت۔ فقروں کی گردانیں یہ اسی لیے شروع کرتے ہیں کہ اپنے مکمل طور پر ..subjective .. معنی کی قطع برید کرتے رہیں۔ 

اب آپ جناب موصوف کے عقلی سوالات ملاحظہ فرمائیں: ’’ہمارے پاس موجود قرآن مجید نزولی ترتیب کے مطابق نہیں ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر اللہ رب العزت کو حتمی ترتیب (موجودہ ترتیب) ہی مقصود تھی تو قرآن اسی ترتیب پر نازل کیوں نہیں کیا گیا؟ پھر نزولی ترتیب ہی کو باقی کیوں نہیں رکھا گیا؟ کیا یہ سوال اٹھانا جرم ہو گیا؟‘‘ ہم عرض کریں گے کہ بھئی جرم تو نہیں ہوا، البتہ جناب موصوف کا عقلی استدلال بہت مصبوط ہو گیا۔ اب مصنف کی ذمہ داری ہے کہ ان کی طرف سے اس کا کوئی عقلی جواب بھی آنا چاہئے، اور وہ کبھی آنے کا نہیں۔ ملاحظہ فرمائیے کہ سوالات میں کس قدر ہیر پھیر کر کے عقلی ہونے کا جھانسہ دیا گیا ہے۔ سوالات دراصل یہ ہیں کہ ’’اگر اللہ رب العزت کو حتمی ترتیب (موجودہ ترتیب) ہی مقصود تھی تو اس نے قرآن اسی ترتیب پر نازل کیوں نہیں کیا؟ پھر [اللہ رب العزت نے] نزولی ترتیب ہی کو باقی کیوں نہیں رکھا؟ یہ ’’کیا گیا‘‘ اور ’’رکھا گیا‘‘ کا مجہول صیغہ مطلق جعلساز دانشوری ہے۔ یہ سوال کتنے صحابہ کرام نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے پوچھا ہو گا؟ یا کتنے تابعین حکمت کے لیے اس طرح کی لغویات میں پڑے ہوں گے؟ ہمارا موقف ہے کہ یہ سوالات نہ عقلِ انکار کے ہیں نہ عقلِ تسلیم کے ہیں بلکہ ہمارے جدید مذہبی دانشوروں کے ہیں۔ اس سلسلے میں جدید مذہبی دانشوروں سے ہماری گزارش ہے کہ اس طرح کے سوالات تو نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ سے کانفرنس یا سیمینار کے بعد ہی حل ہو سکتے ہیں۔ عقل کا سوال تو صرف یہ ہے کہ بذریعہ وحی نزول قرآن کا کوئی عقلی امکان موجود ہے یا نہیں؟ یا عقلی طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ رسالت کا عقلی امکان موجود ہے یا نہیں؟ اب ذرا میاں صاحب ان سوالوں سے مڈھ بھیڑ کریں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کا خود ساختہ جعلی عقلی استدلال کہاں تک ان کا ساتھ دیتا ہے۔ 

برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ دہریت کا علمی اور سائنسی نظریہ اب ایک طاقتور سماجی تحریک بھی بن چکا ہے اور اس تحریک کا بنیادی ترین آلۂ علم عقل اور اس کے پیدا کردہ سائنسی علوم ہیں۔ اب ان کے دلائل کا چربہ ہمارے ہاں کے جدید مذہبی دانشور مذہب کے دفاع میں لے کے آتے ہیں۔ اب میاں صاحب ذرا رچرڈ ڈاکن کی عقل اور اس کے دلائل کو ملاحظہ فرما لیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ عقل کیا ہوتی ہے اور کس طرح کام کرتی ہے۔ اب اس طرح کی باتیں کرنے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ جدید مذہبی دانشور چونکہ کوئی اخلاقیات بھی نہیں رکھتے، اس لیے فوراً ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور فتوے بازی شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو جی دیکھو یہ دہریت والوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ بطور مسلمان ہماری علمی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس طرح کے عقلی دلائل کا سامنا کر کے ان کو قطع کرنے کی کوشش کریں نہ کہ ان کا پس خوردہ اٹھا کے اسلام پر لاگو کرنا شروع کر دیں۔ اس وقت رچرڈ ڈاکن کا براہ راست ہدف اسلام ہے، لیکن اس کی علمی domain میں اس کا سامنا کرنے والی ایک آواز بھی پوری مسلم دنیا میں موجود نہیں ہے۔ رچرڈ ڈاکن تو صرف ایک مثال ہے، اور وہ بھی بہت گھٹیا۔ رچرڈ ڈاکن سے کہیں بڑے ذہن مغرب کے تین سو سال سے پروردہ ہلاکت آفریں علمی ترکش میں موجود ہیں۔ ہمارا ذہن ان کا جواب دینا تو دور کی بات ہے، ان کی ادنیٰ ترین فہم بھی پیدا نہیں کر سکا ہے۔ ہماری علمی مہمات اور دریافتیں صرف ان کے پس خوردہ کو اپنے مذہبی متون سے ثابت کرنے تک محدود ہیں۔ 

اسی طرح کے عقلی استدلال سے حاصل ہو نے والے چند انتاجات اور ملاحظہ فرمائیں: ’’جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ علم اخلاق کے بغیر علم محض ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں علم کی بجائے علم نافع کے حصول کی ترغیب دی گئی ہے۔ اور علم اخلاقی دلالتوں کے بغیر نافع کی سرحدوں میں داخل نہیں ہوتا‘‘۔ اب ایک ہی سانس میں میاں صاحب نے علم، علم محض، اور علم نافع گنوائے ہیں۔ جناب نے علم کا جو علم بلند کر رکھا ہے اس کے نظارے کے بعد ہم یہ خوب جانتے ہیں کہ وہ علم محض اور علم نافع کی تفاصیل میں کیا کرشمے دکھائیں گے۔ علم نافع تو جدید مذہبی دانشوروں کا لے پالک ہے، جس کے چوغے سے یہ دانشور جدید سائنس اور اس کے نظریات نکال کر اسلامی بناتے ہیں۔ میاں صاحب چلیے یہی بتا دیں کہ علم محض کس چیستاں کا نام ہے اور علم کی اخلاقی دلالتیں کیا ہوتی ہیں؟ ابھی تو میاں صاحب کو علم ہی کا کوئی علم نہیں ہوا، اور اپنے ہاں غیر موجود چیز کی اخلاقی دلالتوں کا نعرہ انہوں نے خوب لگایا ہے۔ ہم نے تو ان سے نام نہاد ’’عمرانی تفہیم‘‘ کی علمی شرائط کی درخواست کی تھی، وہ ہمیں وعظ کرنے لگے۔ یہاں ہمارے سوال کا جواب آنا چاہیے تھا، یہ وعظ کا محل نہیں تھا۔ 

’’قرآن مجید نے قصص القرآن وغیرہ کے ضمن میں کسی تجربے کے تاریخی تجربے میں ڈھلنے کی شرائط و خصوصیات بیان کر دی ہیں۔‘‘ یہ کیا چیستاں ہیں؟ میاں صاحب سے گزارش ہے کہ اس طرح کی نعرہ بازی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ وہ کچھ تو ارشاد فرمائیں کہ انسانی تجربے کی تعریف کیا ہے؟ ان کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تجربہ غیر تاریخی ہوتا ہے جس کے تاریخی تجربہ بننے کی شرائط اور خصوصیات قصص القرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ اب اگر کوئی آدمی یہ بات کہہ رہا ہے اور وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اسے علم سے کوئی صاحب سلامت ہے تو یہ ہمارے ہاں کے جعلی مذہبی علوم میں تو ممکن ہے، مذہب یا علم میں ممکن نہیں ہے۔ اب کوئی ہے جو ان سے کہے کہ بھئی ایسی باتیں کرنا علم نہیں ہے، جنون ہے؟ ہمارے ہاں گزشتہ دو سو سال میں جو جدید جعلی مذہبی علوم پیدا ہوئے ہیں، ان سب کا انحصار اسی طرح کے قضایا پر ہے اور یہ قضایا اور ان سے رسنے والے جدید جعلی مذہبی علوم اسی منہج علم سے پیدا ہوئے ہیں جس کے حسین امتزاج کے میاں صاحب دعویدار ہیں۔ 

اب مذہب میں کارفرما جدید عقل کا سب سے بڑا کارنامہ ملاحظہ فرمائیے: ’’اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ذاتی اور بشری حیثیت میں صورت حال کا جواب نہیں دیتے رہے بلکہ جو جواب آپ کو پہنچایا گیا وہی جواب دیتے رہے۔‘‘ قارئین کرام جانتے ہیں کہ کھجور کو نر دینے والی حدیث مبارکہ کی آڑ میں جدید مذہبی دانش پورے دین کی بنیاد اکھاڑنے پر لگی ہوئی ہے۔ جدید دینی تعبیرات کی اصل الاساس یہ ہے کہ اس حدیث مبارکہ کی آڑ میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات پاک میں پہلے حیثیتوں کا فرق تلاش کیا جائے اور ذاتی، بشری، نبوی، اور غیر نبوی حیثیتوں کے امتیازات قائم کیے جائیں کیونکہ جدید دانشورانہ اسلام میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی ذاتی بشری نبوی حیثتوں کے مابین تفریقات پیدا کرنے کو بہت مرکزی جگہ حاصل ہے۔ اسلام کی جدید تعبیرات انہیں تفریقات کو قائم کرنے، ان تفریقات کے بیچ اپنا راستہ بنانے اور پھر قلب ہدایت پر شب خون لگانے کا حاصل ہے۔ دین کی جدید تعبیرات حضور علیہ السلام کی ذات بابرکات میں اولاً دُوئی تلاش کیے بغیر ممکن ہی نہیں ہو سکتیں۔

اب میاں صاحب کا عقلی شاہکار ملاحظہ فرمائیں، شاہکار اس لیے کہ اسی ہیرے سے ایک تراشہ انہوں نے اپنے جواب الجواب کے عنوان کے طور پر سجا کر ہمیں خطاب کافری سے نوازا ہے۔ ’’سوال یہ ہے کہ بزرگوں کے تشکیل کردہ standard discources and diciplines-کو question کرنا اگر عیب چینی ہے اور پھر ایسی عیب چینی ہے جس سے دین و ایمان سنگین خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں تو پھر ۔۔۔ کافری کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل نقاد چون و چرا کی آڑ میں ما فی الضمیر (بتوں سے امیدیں) دابے بیٹھے ہیں۔‘‘ سبحان اللہ! آتش بھی ہے، آب بھی ہے، باد بھی۔ دینی استناد اور عقلی استدلال کا حسین امتزاج بھی فراہم ہے۔ روایت بھی صاف ہے، مخاطب کافر و مشرک اور بدنیت و بد طینت بیک آن بھی ہے۔ غصہ علمی کلابے میں ہے اور عقل تعبیری فراٹے میں۔ میاں صاحب بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں، لیکن ان کے اس کوڑی کے جعلی علمی غبارے کو صرف ایک پن ہی کافی ہے۔ ہمارے روایتی دینی علوم canonization کے عمل کا نتیجہ ہیں، اور ان کی تشکیل بالکل اسی طرح کی ہے جس طرح سے جمع قرآن کا عمل ہے۔ یہ ہدایت اور آثار ہدایت کو جمع کرنے کا عمل ہے، اور ہمارے سلف کی عقل تسلیم کے کرشمے اور کرامات ہیں۔ ان کی تشکیل کا طریقۂ کار اور نظری علوم کی تشکیل کا طریقۂ کار بالکل مختلف ہے۔ میاں صاحب کو خوش فہمی ہے کہ فقہ، حدیث اور سیرت کی تدوین اسی طرح ہوئی ہے جس طرح سے ان کی جعلی عمرانیات اور نچوڑی تاریخ کی ہوئی ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ نظری علوم میں تو کسی طرح کے standard discources and diciplines کو جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، بزرگوں کی طرف دیکھیے کیسے لپکے ہیں۔ ان سے التماس ہے کہ اپنے جعلی علوم اور جعلی عقلی استدلال کو نظری علوم میں آزما کے ہمارے ساتھ یہ معاملہ نمٹا لیں، پھر کسی دوسری طرف کا رخ کریں۔ میں ان شاء اللہ انہیں ضرور بتا دوں گا کہ ان کے نام نہاد unarticulated intellectual discource کا stillborn infant کہاں دفن ہو گا۔ کمال یہ ہے کہ articulated discources knowlege کی تو انہیں کوئی سوجھ حاصل نہ ہو سکی، اور یہ unarticulated discourse کی دم انہوں نے خوب پکڑ لی۔ میاں صاحب سے گزارش ہے کہ مباحث پر گفتگو کی تہذیب کو برباد نہ کریں، پہلے اپنے غصہ جاتی مسائل حل کر لیں، علمی مسائل کے لیے کسی عالم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جن نام نہاد علمی خیالات کا انہوں نے اظہار فرمایا ہے وہ نہ دینی ہیں نہ عقلی ہیں وہ استعمار اور استشراق کے زیر سایہ پلنے والی محض ہفوات دیرینہ ہیں جو ہدایت پارینہ پر شبخون کی پیہم کوشش میں ہیں۔ ہمارا معاملہ صرف ان کی اظہاردادہ فکر تک ہے ان کی ذات سے ہرگز نہیں۔ میں نے ان کی تحریر کے اس معنی پر اپنے جواب کو منحصر کیا ہے جو غالب احتمال رکھتا ہے۔

اب ان کا ایک اور علمی و عقلی جواہر ریزہ ملاحظہ فرمائیں ’’ہم گزارش کریں گے کہ ہمارے مضمون میں برتا گیا طریقۂ علم مذہبی استناد اور عقلی استدلال کا امتزاج قرار دیا جا سکتا ہے‘‘ اس امتزاج کے حوالے سے میاں صاحب حسین کا لفظ لکھنا بھول گئے۔ دین کی نئی تعبیرات کی مہم میں جس طرح سے انہوں نے غصّے اور عقل کا حسین امتزاج دریافت کیا ہے بعینہٖ علم میں بھی انہوں نے مذہبی استناد اور عقلی استدلال کے حسین امتزاج کو دریافت کیا ہے۔ اگر میاں صاحب کو مذہبی استناد اور عقلی استدلال کے معانی اور مطالب کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی یہ فقرہ نہ لکھتے۔ ہاں اگر ذہن ہی باقی نہ رہا ہو تو پھر سب کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے۔ آدمی یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ ان کی تقویم میں اگر غصّے اور عقل کا امتزاج ممکن ہے تو مذہبی استناد اور عقلی استدلال کیوں ممکن نہیں ہیں؟ اگر انہیں علم سے کچھ مس ہوتا تو وہ اس طرح کی گفتگو سے یقیناً پرہیز کرتے۔ ہمارے جدید مذہبی دانشوروں کے پاس علم کے جھانسے، طاقت کی دھونس، اخلاقی ادعائیت اور اس سے پیدا ہونے والی incrimination اور recriminatioin، مستعمر خودی کے اکلی مروڑ اور استشراقی ذہن کے کھسوٹیاتی حربوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ 

میاں صاحب کا ایک اور علمی جواہر ریزہ ملاحظہ فرمایئے: ’’ کہ question کرنے، redefine کرنے اور discover کرنے، reunderstand کرنے میں بال برابر نہیں، بلکہ زمین آسمان کا فرق ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل نقاد کی باریک بین نگاہوں سے یہ موٹا فرق پوشیدہ رہ گیا۔ اب علم و ادب کی درس گاہوں اور صاحبان فکر کو اپنی خیر منانی چاہیے کہ قرآن و سنت کی discovery اورre-understanding کا مطلب ’’عام مسلمانوں کے نزدیک‘‘ نبی پاک کی ذات گرامی پر question کرنا اور قرآن مجید کو redefine کرنا ہو گیا ہے۔‘‘ حیرت ہے کہ جناب موصوف صاحب علم ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور اس طرح کے ارشادات بھی فرماتے ہیں۔ discovery اور reunderstanding کا وہ کون سا عمل ہے جو question کیے بغیر وقوع پذیر ہو سکتا ہے؟ اگر وہ discovery اور reunderstanding کے معنی سے باخبر ہوتے تو وہ اس طرح کا مہمل پیراگراف رقم نہ فرماتے۔ اصل میں جدید مذہبی دانش وروں کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہم بار بار اسی کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ وہ دین میں نئی discovery کرنا چاہتے ہیں یا پورے دین کو ازسرنو discover کرنا چاہتے ہیں یا فہم دین کے نئے اصول قائم کر کے دین کو reunderstand کرنا چاہتے ہیں یا کسی طرح کا کوئی نیا اڈیشن لانا چاہتے ہیں۔ ہمارے نیوٹن اور واٹسن کرک سارے کے سارے دین کی قلم رو میں دریافتوں کی مہمات پر نکلے ہوئے ہیں۔ ہمارے جدید اور جعلی مذہبی دانشور گزشتہ دو صدیوں سے اسی کام میں لگے ہوئے ہیں اور بڑی بڑی دریافتوں کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔ اگر غور سے دیکھیں تو پندرہ بیس دریافتیں تو میاں صاحب کے گزشتہ مضمون ہی میں مل جائیں گی۔ چونکہ وہ طاقت ور ہیں، اس لئے کوئی ان سے یہ بھی عرض نہیں کر سکتا کہ بھئی کوئی ایک آدھ دریافت فزکس میں کر دیتے تو ہم بھی فخر کرتے۔ ہماری تو ان سے صرف ایک ہی گزارش ہے جس کو سنتے ہی ان کو دورہ ہو جاتا ہے کہ وہ ان سوالات کو تو سامنے لائیں جو انہیں نفس دین پر ہیں یا پرانے قانونی اڈیشن پر ہیں جس کی وجہ سے یہ نئی تاریخی صورت حال کو ایڈریس نہیں کر پا رہا۔ نعرے بازی سے کام نہیں چلے گا کہ یہ روایتی دین فلاں عمرانی اور ڈھمان نچوڑی کو address نہیں کر پا رہا۔ اس میں اب ان کی پوزیشن تو واضح ہے کہ وہ اسلام کے قانونی اڈیشن کو تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا بڑا احسان ہو گا اگر وہ دین فی نفسہٖ اور اسلام بطور قانونی اڈیشن میں پائے جانے والے امتیازات کی تفصیل ہی ارشاد فرما دیں۔ اہم تر یہ کہ کیا میاں صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ اسلام کے کون کون سے اڈیشن مستعمل رہے ہیں، اور یہ کہ اسلام کئی اڈیشنوں کی صورت میں موجود رہا ہے۔ ناچیز کی معلومات کی حد تک آج تک کوئی جدید مذھبی دانشور کھل کر ان سوالات کو قائم کر سکا ہے اور نہ ہرمانیوٹکس کا کوئی مربوط نظام سامنے لا سکا ہے۔ 

ہمارے جدید مذہبی دانشوروں کا پسندیدہ ترین شعبہ صحافت اور ابلاغیات ہیں، جو دراصل سیاسی طاقت کو mediate کرنے کی قلم رو ہے اور جہاں قول کا حق اور خیر سے امکانی تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ جدید صحافت طاقت کی گود میں پتلیوں کے تماشے کا نام ہے۔ یہاں ہر قول اور بات کا معرف طاقت کی ترجیحات ہیں۔ ان کی اس رغبت کی وجہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں ریاستی طاقت جدید مذہبی تعبیرات کی سب سے بڑی گاہگ ہے۔ اگر میاں صاحب بھی اپنی بات ذرا ڈھنگ سے کریں، ان کی تحریر کا کوئی سر پیر بھی ہو، اور وہ کچھ سلیقہ بھی سیکھ لیں تو ان کا نیا اسلامی اڈیشن چلنے کا کافی امکان موجود ہے۔

میاں صاحب نے ہماری اس بات پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے جو ہم نے standard discourse کے حوالے سے کی ہے۔ جدید مذہبی دانشور standard discourse کا نام سنتے ہی غصے اور غضب میں آ جاتے ہیں اور انہیں سوجھتا ہی نہیں کہ وہ کیا ارشادات فرما رہے ہیں۔ اب تو ہمارے ہاں صاحب علم کہتے ہی اسے ہیں جس کو standard disciplines and discources کی ہوا تک نہ لگی ہو اور جو ان کے وجود سے ہی انکار کر تا ہو۔ آج کل ہمارے ہاں جدید مذہبی دانشور یا محض دانشور کہتے ہی اسے ہیں جو الل ٹپ ہو، مثلاً ‘‘ہائی انرجی فزکس اور توحید’’، ‘‘انٹروپی اور قیامت’’، ‘‘نیورانز پر وضو کے اثرات’’ وغیرہ وغیرہ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف نوکری کے حصول میں سنجیدہ ہوتے ہیں، اور پچھلے دو سو سال سے نوکری کے حصول کے لیے کسی نہ کسی discipline- standard- میں ڈگری کا حصول ہمارا سب سے بڑا انسانی اور تہذیبی آدرش ہے۔ یعنی ہمارے ہاں ریاستی اختیار رکھنے والے اہلکاروں کو بھی اس بات کا پتہ ہے کہ نوکری کے لیے کسی نہ کسی standard discipline میں ڈگری ہونا ضروری ہے۔ لیکن میاں صاحب کی طرح کے ہمارے اہل علم مباحث کی حرمت سے قطعاً بے خبر ہیں۔ ان کا رہنما قول یہ ہے کہ نوکری لینی ہو تو standard- discourse- میں گھس جاؤ، اور اگر علم بگھارنا ہو تو صحافت میں گھس جاؤ۔ یہ تو زور آوروں کے ہتھکنڈے ہیں جو ہر حال میں اور طاقت کے زور پر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں میاں صاحب کا ایک جواہر ریزہ مزید ملاحظہ فرمائیں: ’’ایک طرف وہ standard discipline اور discourses کے مؤید اور حامی ہیں اور دوسری طرف علم کے استدلالی اور جدلیاتی عمل کی وکالت بھی فرما رہے ہیں‘‘۔ اب جس آدمی نے غصّے اور عقل کے ساتھ ساتھ مذہبی استناد اور عقلی استدلال کے حسین امتزاجات سے حاصل شدہ دریافتوں کا پشتارہ اٹھا رکھا ہو، اس سے اسی طرح کے جواہر ریزوں ہی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس میں ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ علم جدلیاتی عمل کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ جدلیاتی عمل standard discourses اور disciplines میں واقع ہوتا ہے۔ اس میں حتمی بات ہم نے عرض کر دی تھی کہ ’’جس استدلال سے نظری علوم قائم ہوتے ہیں، اسی سے منہدم بھی ہوتے ہیں۔‘‘ اب یہ بات پوری دیانت سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ فقرہ میاں صاحب کی امتزاجی سمجھ سے بالاتر ہے، لہٰذا ہم پر ان کی اسیری کا الزام کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اب یہ بات میاں صاحب کی خدمت میں کون عرض کرے کہ ہدایتِ حق اور نظری علوم میں بنیادی امتیازات قائم کیے بغیر علم کی کوئی گفتگو قائم نہیں ہو سکتی۔ مذہبی متون کو نظری علوم کے برابر کر دینا اور نظری علوم کا ہدایت سے خلطِ مبحث پیدا کرنا جدید مذہبی دانشوروں کا خاصّہ ہے۔ وہ ہدایت کو نظری علوم سمجھتے ہیں اور نظری علوم کو حق کا بیان سمجھتے ہیں۔ یہی وہ حسیں امتزاج ہے جس کا میاں صاحب نے اعتراف کیا ہے اور یہی ان کا کل سرمایہ ہے۔

اگر میاں صاحب اپنے غصّے پر قابو پاتے ہوئے ہماری ایک درخواست پر غور کر سکیں تو الطافِ عمیم ہو گا۔ بقول ان کے اسلام کا روایتی قانونی اڈیشن جدید عمرانی صورت حال کو اڈریس نہیں کر پا رہا۔ اگر وہ اس حوالے سے نقد قارئین کے سامنے لا سکیں، تو ان کی بڑی نوازش ہو گی۔ اس طرح ہمیں یہ معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کا یہ قانونی اڈیشن ہماری کون کون سی ضروریات کو پورا نہیں کرتا اور میاں صاحب کا نیا اڈیشن ان ضروریات کو کس طرح سے پورا کرے گا۔ اس میں اہم تر بات یہ ہے کہ میاں صاحب نے اسلام کے قانونی اڈیشن پر جو اعتراضات اٹھائے ہیں، اگر وہی اعتراضات خود اسلام پر لائے جائیں، جیسا آج کل عام ہے، تو وہ اس کا کیا جواب دیں گے؟ لیکن یہ تو بڑے productive کام ہیں اور عرق ریزی کا تقاضا کرتے ہیں، اس لئے جدید مذہبی دانشور اس طرح کی چیستاں میں نہیں پڑتے۔ وہ بس کچھ لفظوں کو گیندوں کی طرح سروں اچھالتے رہتے ہیں تاکہ اپنے شعبدوں سے ناظرین کو متاثر کر سکیں۔ ہمارے تمام جدید اور جعلی مذہبی علوم بھلے وہ شریعت کی جدید تعبیرات ہوں یا جدید تصوف کی لغویات ہوں وہ سب اس لئے پیدا ہوئی ہیں کہ ہم نے علمی مباحث کی بنیادی شرائط کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ انہیں منہدم کر دیا ہے۔ مباحث کی موت دراصل انہدام شعور ہی کا دوسرا نام ہے۔ جدید مذہبی دانشوروں اور اسکالروں کے سامنے آپ standard discourses اور disciplines کا نام لیتے ہی مطعون ہو جاتے ہیں اور وہ خود ہذیان میں چلے جاتے ہیں۔ ان کا پسندیدہ ترین شعبہ صحافت اور ابلاغیات ہے جس میں ہر طرح کی لغویات، ہفوات، اباحیات اور شطحیات کا دور دورہ ہوتا ہے اور جہاں آج کا سچ کل کا جھوٹ اور کل کا جھوٹ آج کا سچ ہوتا ہے۔

آراء و افکار