چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

کل مضامین: 24

نیشنل جوڈیشل پالیسی پر پنجاب بار کونسل کا رد عمل

پالیسی کے بارے میں کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس کے بعد دو فیصلے سامنے آئے ہیں- ایک قتل کیس کا چار دن میں فیصلہ اور دوسرے ۲۲- الف ب کی درخواستوں کی عدالتوں سے پولیس کے شکایت سیل منتقلی- پہلے فیصلے پر پنجاب بار کونسل کا ردِ عمل یہ آیا ہے کہ یہ دستور کے تحت منصفانہ فیئر ٹرائیل کے حق کی نفی ہے اور احتجاج کے طور پر جمعہ ہڑتال منائی جائے گی۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی کی شروعات جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فرمائیں- اس پر مفصل تبصرہ ہم حقیر سی کاوش “انصاف کرو گے ؟”میں کر چکے ہیں- بعد کی جاری کردہ پالیسی اقدامات پر بار کونسل کا ردِ عمل اوپر ذکر ہو چکا ہے- مزید کے طور...

ارباب اقتدار اور قومی زبوں حالی

چند روز قبل معروف کالم نویس جناب جاوید چوہدری کا کالم ’’ذمہ دار ‘‘نظر سے گزرا۔ موصوف نے لکھنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ کالم کا خلاصہ یہ تھا کہ مہاتر محمد کو دل کا عارضہ لاحق ہوا۔ اس وقت وہ ملائشیا کے وزیر اعظم تھے۔ ہارٹ اٹیک میں بے ہوش ہو گئے۔ فسٹ ایڈ کے بعد تشخیصی مراحل میں طے کیا کہ ان کا بائی پاس ہو گا۔ ان کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ بائی پاس کے لیے بیرون ملک جائیں۔ وہ اس پر آمادہ نہ تھے۔ ڈاکٹروں نے اپنے مشورے پر اصرار کرتے ہوئے بیرونی ملک سہولیات کا حوالہ دیا۔ جناب مہاتر محمد نے جواب میں کہا کہ وہ بیرون ملک علاج کے لیے چلے جائیں اور ان کے ملک کے...

اردو پر کرم یا ستم؟ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ

جسٹس ج۔س۔ خواجہ نے اردو کو بطور سرکاری زبان رواج دینے کے دستوری تقاضے کے بارے میں بطور چیف جسٹسً اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز پہلے جو فیصلہ دیا ہے، اس پر تحسین و تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اردو کی دادرسی کا کس حد تک ذریعہ بنتا ہے ، یہ وقت بتائے گا ۔ ماضی تو بہرصورت مایوس کن ہے۔ کوئی بابائے اردو بھی نہیں جو صورت حال کو بدلنے کے لئے میدان لگائے۔ ہم اس فیصلے میں پائے جانے والے inherent omissions پر کچھ کہنا چاہیں گے۔ مقصود بہتری کے امکانات سامنے لانا ہے۔ اردو کا موجودہ کیس سپریم کورٹ میں دو آئینی درخواستوں کا نتیجہ ہے۔ درخواست نمبر ۵۶ سال...

خاندانی نظام کے لیے تباہ کن ترمیم

مسلمانوں کے ہاں لے دے کر ایک خاندانی یونٹ بچا ہوا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے سال ۲۰۱۵ میں فیملی کورٹس ایکٹ ۱۹۶۴ء میں ایک ترمیم منظور کی ہے جسے گورنر کی منظوری سے باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ یہ ترمیم خاندانی یونٹ کے لئے انتہائی تباہ کن ہے۔ نتیجہ کے طور پر عدالتوں میں طلاق کے مقدمات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے خلع کے اصول کو مسخ کیا گیا ہے۔ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین، جناب مولانا خان محمد شیرانی کی جانب سے ۲۸ مئی ۲۰۱۵ کے اخبارات میں تفصیلی وضاحت شائع ہوئی ہے۔ یہ وضاحت کونسل کے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کی...

امن کی راہ پر؟

پشاور میں آرمی پبلک سکول کے قتل عام کے سانحے کے بعد اس مرض کا علاج جنگی بنیادوں پر کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ سانحہ کے بعد تو جیسے پوری قوم کے پاؤں تلے سے زمین کھنچ گئی ہو۔ ہماری خوبصورت ،نرم و نازک سول حکومت تو گویا حواس باختہ ہو گئی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم جو سورج اور چاند کی طرح دن رات مدور رہتے تھے، وہ اپنے سارے دورے بھول بھال کے درپیش صورت حال میں قید ہو گئے ہیں۔ ہمارے آرمی چیف طبعاً فعال و سر گرم شخص ہیں۔ اتنا سرگرم و فعال آرمی چیف شاید ہماری قومی فوج کے حصے میں پہلے نہیں آیا۔ صورت حال میں پہلی دوسری اور تیسری اے پی سی ہوئی۔ ان سب میں آرمی چیف...

’’میری تحریکی یاد داشتیں‘‘ (چوہدری محمد اسلم کی خود نوشت)

پبلشر: ادارہ معارف اسلامی منصور، لاہور۔ صفحات : ۳۴۴۔ سال اشاعت: ۲۰۱۰ء۔ خود نوشت سوانح انتہائی دلچسپ فن ہے۔ ایسی بے شمار سوانح پڑھ چکا ہوں۔ اسلوبِ بیان ہر سوانح میں مختلف ہو سکتا ہے۔ خود نوشت میں عام طور پر صاحبِ تالیف اپنی زندگی کے واقعات بیان کرتا ہے۔ بیان میں سیاق و سباق اتنا مربوط ہوتا ہے کہ بیان کی درستی کا تاثر ہمیشہ گہراہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ گمان باقی رہے گا کہ واقعات کے بیان میں مولف نے اپنے آپ کو صاف طور پر پیش کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ اس طرح بیان میں ڈنڈی مارنے کی کسی حد تک گنجائش بھی ہوتی ہے۔ لیکن بعض مولفین نے اپنی زندگی کے ایسے...

جماعت اسلامی کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندویؒ کی نظر میں (۲)

کوئی بھی جماعتی نظام حرکت و جمود دونوں کو سمو نہیں سکتا۔ یہ دونوں باہم متضاد ہیں۔ نظام حرکت کو فروغ دینے والا ہو گا تو اس میں جمود کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔ اگر نظام کی بنیادوں میں جمود پیدا کرنے والے محرکات کو شامل کیا گیا تو پھر حرکت کے تمام امکانات ختم اور جمود روز بروز مستحکم ہو گا۔ جناب ندوی صاحب نے بہت سے پہلوؤں سے جماعت کے اندر جمود کے محرکات کا جائزہ لیا ہے مگر ان کی نظر جمود کے زیادہ گہرے اسباب تک نہیں پہنچی۔ انہوں نے جماعت کے اندر قیادت سازی کے نظام کو جماعتی استحکام کا سبب قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہی نظام مکمل جمود تک پہنچا دینے کا...

جماعت اسلامی کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندویؒ کی نظر میں (۱)

مولانا سید وصی مظہر ندویؒ کے منتخب مقالات ومکتوبات کا ایک مجموعہ ’’صریر خامہ‘‘ کے عنوان سے جناب محمد ارشد نے مرتب کر کے گزشتہ سال شائع کیا ہے۔ (صفحات:۶۳۷۔ ناشر: فکر و نظر پبلشنگ، ۴۳ ہائی بری سی آر، کچنر او این این ۲این ۳ پی ۶، کینیڈا۔ سب آفس حیدرآباد پاکستان)۔ مولانا سید وصی مظہر ندوی ۲۶ ستمبر ۱۹۲۴ء کو لکھنؤ میں پیدا اور ۲ جنوری ۲۰۰۶ء کو کینیڈا میں فوت ہوئے۔ زیر تبصرہ کتاب کے آخر پر مولانا سید وصی مظہر کا ایک خط تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کے نام شامل ہے۔ اس خط میں انہوں نے اپنے بارے میں درج ذیل تعارفی سطور لکھیں: ’’میں تقریباً...

’’حیات سدید‘‘ کے چند ناسدید پہلو (۳)

یہ کہنا کہ ’’علامہ کا مطمح نظر دارالاسلام میں فقہ اسلامی کی تدوین نو تھا، جب کہ حضرت مولانا فقیہ نہیں تھے۔ ویسے بھی انہیں اس کام میں دلچسپی نہ تھی۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا۔‘‘ (حیات سدید صفحہ نمبر ۱۷۳) مولانا مودودی اور اقبال دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اقبال نے بہر حال مولانا کو اس کام کی ابتدائی تیاری کے لیے دارالاسلام منتقل ہونے کے لیے کہا تھا۔ وہ اس انتخاب کے لیے موزوں نہیں تھے تو مطلب یہ ہوا کہ اقبال کا انتخاب غلط تھا۔ مولانا مودودی اپنے خط نمبر ۹ مورخہ ۲۶۔مارچ ۱۹۳۷ء بنام چوہدری نیاز علی میں حیات سدید کے صفحہ نمبر ۴۹۹، ۵۰۰ پر لکھتے ہیں:...

’’حیات سدید‘‘ کے ناسدید پہلو (۲)

کتاب پر تفصیلی اظہار سے پہلے اپنے تاسف کا اظہار کرنا پڑتا ہے کہ کتاب کی ترتیب میں جناب اعظم صاحب کی محنت و ریاضت اور جناب مجید نظامی کی پیش لفظی سطور نے جو مجموعی تاثر، کم از کم میرے ذہن پر چھوڑا ہے، وہ یہ ہے کہ کتاب کی ترتیب کا منشا سید مودودی کی شخصیت کو مجروح کرنا ہے۔ اس غرض کے لیے جنابِ مولف نے پوری فنی مہارت سے کام لیا ہے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے بنیادی مواد (خطوط) کی مکمل فائل کا جماعت کے مرکز میں پہنچنے کا سراغ لگا یا ہے اور پھر اس کی عدم دستیابی کا تاثر دیا۔ ساتھ ہی جماعت کے ایک دوسری سطح کے مگر نہایت بلند قامت و پختہ کردار کے بزرگ جناب محمد...

’’حیات سدید‘‘ کے چند ناسدید پہلو (۱)

(ہمارا تبصرہ کتاب ’’حیات سدید‘‘ پر ہے، زیر بحث شخصیت پر نہیں۔ کتاب میں زیر بحث شخصیت کا ہمیں پورا احترام ہے۔ البتہ سوانحی کتاب کے عنوان اور پھر اس پر تبصرہ کے لیے ہمارے عنوان سے شبہہ ہو سکتا ہے کہ ہم چوہدری نیاز علی کی حیات سے نا سدید پہلو پیش کر رہے ہیں۔ خاکم بدہن ایسا کیسے ممکن ہے۔البتہ کتاب کے مولف نے کتاب میں جو ناسدید سمت اختیار کی ہے، ہم نے اس پر گرفت کی ہلکی سی کوشش کی ہے۔ متوقع شبہہ کے ازالے کے لیے شروع ہی میں وضاحت لکھ دی ہے۔ مصنف)۔ ابتدائیہ۔ حیات سدید چوہدری نیاز علی خان کی سوانح ہے۔ یہ کتاب، حال ہی میں نشریات، ۴۰۔اردو بازار لاہور...

گوجرانوالہ میں توہین قرآن کا واقعہ: چند حقائق

ہمارا محلہ کھوکھر کی گوجرانوالہ کا بہت پرانا محلہ ہے۔ یہاں عیسائی اور مسلم آبادی باہم شیر وشکر رہتی ہے۔ سیالکوٹ روڈ کے پار عیسائیوں کے بڑے بڑے عبادت خانے موجود ہیں۔ عیسائی مسلم کشیدگی کی صورت کبھی سننے میں نہیں آئی۔ انٹر نیٹ پر عیسائی زعما نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اس محلے اور اس کی مضافات (عزیز کالونی، گلزار کالونی، اسلام کالونی) میں ایک سو پچیس سال سے عیسائی اور مسلمان بھائیوں کی طرح پر امن رہ رہے ہیں۔ یہاں عیسائی خاندانوں کی تعداد تین ہزار بیان کی جاتی ہے۔ وہ پر امن رہے ہیں اور امن و امان کی چادر تلے خوش و خرم ہیں۔ کبھی انتظامی...

تاریخ کی درستی: بھٹو سے فیض تک

سلمان تاثیر کے قتل کے بعد، توہین رسالت کیس کو تبدیل کرنے کے بارے میں حکومت پر بین الاقوامی دباؤ ختم ہوا، چنانچہ کم و بیش ہر روز زعیمان مملکت قانون میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کا یقین دلاتے رہے۔ رحمان ملک کی یقین دہانی کو تو کوئی مانتا نہیں تھا۔ آخر کار وزیر اعظم صاحب نے پارلیمنٹ کے بھرے اجلاس میں یقین دلایا۔ اس کے باوجود پبلک احتجاج جاری رہا۔ اسی اثنا میں ریمنڈ ڈیوس کا قصہ شروع ہو گیا۔ حکومت پھر دباؤ میں آگئی۔ دو اڑھائی مہینے تک دباؤ چلتا رہا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہی نہیں، فوج، آئی ایس آئی اور عدلیہ نے بھی ڈیوس کی رہائی اور پاکستان سے...

کورٹ میرج: چند قانونی اور معاشرتی پہلو

ہمارے ہاں کورٹ میرج کا ایک عام تصور پھیلا ہوا ہے، حالانکہ اس کا نہ قانونی وجود ہے اور نہ ہی کوئی بنیاد۔ (البتہ ایک رائے کے مطابق non-believers یعنی غیر اہل ایمان کا چونکہ کوئی خاندانی نظام دویعت شدہ نہیں ہوتا، ان کے لیے بعض نظائر کی بنیاد پر کورٹ میرج کا تصور موجود ہے۔ یہ واضح رہے کہ غیر اہل ایمان میں مسلمان، ہندو، سکھ، یہودی اور عیسائی شامل نہیں۔ اس طرح پاکستان میں ایسے غیر اہل ایمان کی تعداد چوونکہ برائے نام بھی نہیں، لہٰذا اگر اس رائے کے مطابق ایسا کو تصور ہو بھی تو اس کی اہمیت باقی نہیں رہتی۔) اس کے باوجود یہ تصور عام سطح سے لے کر اچھے خاصے پڑھے...

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ

فرمائش پر لکھنا رقص پا بہ زنجیر کی طرح ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک ایسی شخصیت پر جس کی صرف تصویر ہی دیکھی ہو۔ جناب محمود غازی کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے، مگر ان کو دیکھنے اور سننے کا موقع نہیں ملا۔ ایک بار الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے، مگر میں اس روز حاضر نہ ہو سکا۔ البتہ ان کی بعض تحریریں پڑھی ہیں۔ لا کالج کے میرے زمانہ تدریس میں، اسلامی اصول فقہ کا مضمون ملا تو جناب محمود غازی کی محاضراتِ فقہ اپنے مہربان دوست ڈاکٹر محمد اکرم ورک سے مستعار لی۔ اپنی عادت کے مطابق مطالعہ کے دوران میں کتاب کے اہم حصوں کو مختلف رنگین مارکرز کی مدد سے نشان...

ایک تحریک بغاوت کی ضرورت

محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا مضمون الشریعہ کے اپریل ۲۰۱۰ء کے شمارے میں دیکھا تو بڑی الجھن ہوئی۔ دقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے پرانی یاد اللہ ہے۔ وہ سید مودودی کے فکری حلقے سے متعلق ہیں۔ غامدی صاحب کے ساتھ بھی ان کو بحث کرتے دیکھا۔ سید مودودی نے انقلاب کی جو چنگاری ان کے ذہن میں سلگا دی، وہ ابھی تک سرد نہیں ہوئی۔ وہ تعلیم و تدریس کے شعبہ سے متعلق ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس شعبے میں ان کی کارکردگی غیر معمولی ہو، مگر سید کے حلقے میں فکری اور عملی لحاظ سے انہیں قبولیت نصیب نہیں ہوئی۔ لہٰذا وہ نوابزادہ نصراللہ کی طرح اتحادی ذہن کو بروے کار لانے کی جانب...

تعارف و تبصرہ

’’مسلمان مثالی اساتذہ ، مثالی طلبہ‘‘۔ مولف: سید محمد سلیمؒ۔ ناشر: زوار اکیڈیمی پبلیکیشنز،۴۔۱۷ ناظم آباد نمبر ۴ کراچی۔ پروفیسر محمدسلیمؒ نامور استاد اور تنظیم اساتذہ پاکستان کے رہنماؤں میں سے تھے۔ موضوع بالا پر ان کا قلم اٹھانا ان کا حق اور منصب ہے۔ کتاب طلبہ اور اساتذہ کے لیے رہنما حیثیت رکھتی ہے۔ مستند مواد کی مدد سے با کمال ترتیب سے پیش کی گئی ہے۔ اس میں ان کا قلم رسا بھی پوری شان کے ساتھ کار فرما ہے۔ یہ مختصر سی کتاب ہے مگر اپنے اندر بے پناہ تاثیر رکھتی ہے۔ کتاب پڑھ کر، گردو پیش پر نظر ڈالی جائے تو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ اساتذہ اور...

پاکستانی عدلیہ: ماضی کا کردار اور آئندہ توقعات

پاکستان کی دستوری تاریخ میں، مولوی تمیزالدین کیس پہلا اہم کیس ہے۔ اس کیس کے پس منظر میں اختیار کی وہی لڑائی موجود ہے جو آج تک جاری ہے۔ دستور اور مقننہ توڑنے کے شوق کا اظہار ۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴ کو ہوا اور پھر ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ۷؍اکتوبر ۱۹۵۸ء، ۲۵؍ مارچ ۱۹۶۹ء، ۵؍جولائی ۱۹۷۷ء اور ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کی تاریخوں کو بھی سپہ سالاران فوج نے اسی ہوسِ غصب کا مظاہرہ کیا۔ البتہ ۹؍مارچ ۲۰۰۷ء اور ۳؍نومبر ۲۰۰۸ء کے مشرفی اقدام کا نشانہ ، مقننہ کے بجائے بالترتیب چیف جسٹس اور پھر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس تھے۔ پہلے اقدامات میں مقننہ اور حکومت نشانہ بنتی تھی،...

تعارف و تبصرہ

’’مولانا مودودیؒ کی تحریک اسلامی‘‘ چند تاثرات واحساسات۔ نام کتاب: مولانا مودودی کی تحریک اسلامی مع جماعت اسلامی اور اسلامی دستور۔ مصنف: پروفیسر محمد سرور۔ ناشر: دار الکتاب، کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور۔ سال اشاعت: جولائی ۲۰۰۴ء۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔ سید مودودیؒ کا دور (۱۹۰۳ تا ۱۹۷۹) برصغیر ہند و پاک کی تاریخ میں بڑا اہم دور تھا۔ مسلمانوں میں رہنماؤں کے قحط کا رونا پرانا رونا ہے، مگر اس دور میں مسلمانوں ہی میں بڑے سر برآوردہ رہنما سامنے آئے۔ سرسید، عبیداللہ سندھی، جمال الدین افغانی، محمد علی جوہر، علامہ اقبال، ابو الکلام آزاد،...

اسلام، جمہوریت اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

حاکم خان کیس میں اکثریتی نقطہ نظر یہ ہے کہ قرار داد مقاصد دستور کے دیباچے میں تھی تو اس کی کوئی موثر حیثیت نہیں تھی، دیباچے سے اٹھا کر اس کے متن میں موثر (substantive) طور پر شامل کر دی گئی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑا۔ ( ۱) یہ پہلے بھی فضائل ومواعظ کی طرح تھی اور اب بھی اس کی حیثیت نمائشی سے زیادہ نہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ جنرل ضیا ء الحق کا دستور میں ترمیمی حکم اور پھر قومی اسمبلی کی جانب سے آٹھواں آئینی ترمیمی حکم ۱۹۸۵ء محض بیکار مشق ہے۔ ایک باقاعدہ دستوری ترمیم کے بارے میں اس طرح کا فیصلہ صادر فرماناکتنا تعجب خیز ہے، لیکن ہمارے ہاں سپریم کورٹ بیچاری فوجی بوٹوں،...

علماء ججوں کے ایک فیصلے کا تقابلی جائزہ

برا ہمسایہ کتنا بڑا عذاب ہوتا ہے، اس کا تجربہ محلوں اور آبادیوں میں رہنے والوں کو آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ: قال ما زال جبرئیل یوصینی بالجار حتی ظننت انہ سیورثہ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ جبریل، پڑوسی کے حق کے بارے میں مجھے برابر وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کہ وہ اس کو وارث قرار دے دیں گے۔‘‘ اسلام میں شفعہ کے حق کی بنیاد جائیداد کے ساتھ الحاق اور ہمسایگی پر رکھی گئی ہے۔ رواج کی بنیاد پر شفعہ کے حق کو بیع اور معاہدے...

غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردار

اجتہاد کی عام فہم تعریف کریں تو اسے ’’ماہرین قانون و شرع کی، متعینہ اصولوں کی روشنی میں، مسائل اور احکام معلوم کرنے کی پر خلوص اور انتہائی کاوش کا نتیجہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح یہ منصب یقینی طور پر علماے کبار اور ماہرین کا ہے۔ اس پر ہمیں ان کا منصب ہر لحاظ سے تسلیم ہے۔ وہ اس بارے میں کسی اجارہ داری کا دعویٰ کریں یا نہ کریں، ہم ان کی یہ حیثیت بلا شرکت غیرے مانتے ہیں۔ اس تسلیم و رضا کے ساتھ ساتھ سوال، بحث اور جائزے کا حق بھی اہل حق تسلیم کریں گے۔ اس طرح اجتہادی مسائل کی دو سطحیں ہیں: علمی اور طالبانہ۔ علمی سطح پر یہ حق اہل علم و فن آپس میں استعمال...

مجلس عمل کی سیاسی جدوجہد ۔ چند سوالات

مجلس عمل کی پارلیمانی جد و جہد کے چار سال پورے ہو چکے ہیں۔ ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کے جون ۲۰۰۶ء کے شمارے میں ایک مفصل رپورٹ میں مجلس کی کاردکردگی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کی ترتیب بالکل ایسے ہے جیسے سرکاری ترجمانی کا حق ادا کیا جا رہا ہو۔ رپورٹ پڑھ کر میں نے ’ترجمان القرآن‘ کے مدیر کے نام خط لکھا اور رپورٹ کے بارے میں چند سوالا ت اٹھائے۔ مذکورہ جریدہ نے میرا خط شائع نہیں کیا۔ میں نے وجہ دریافت کی تو کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ غالباً ارباب ترجمان اپنے قارئین کو اندھے، بہرے اور گونگے خیال کرتے ہیں۔ وہ اپنے صفحات قارئین کے لیے صرف اتنا...

حجیت حدیث اور اسلامی حدود کے حوالے سے ایک بحث

مکرمی جناب مدیر ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ۔ سلام مسنون! آپ کی جانب سے قاری ہونے کا اعزاز بحال فرمانے پر شکر گزار ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ میرا یہ اعزاز آپ کے کرم ہی سے باقی رہ سکتا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے قضیے کے بارے میں سلسلہ مضامین میری دلچسپی سے باہر ہے۔ اس کے باوجود میں نے اسے پوری دلچسپی سے پڑھا ہے۔ اس پر آنے والے تبصرے اور جوابات بھی شوق سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ سب کچھ کافی ذہن کشا ہے۔ خوشی کا باعث یہ بات ہے کہ عزیزم محمد عمار خان صاحب کے اسلوب بیان میں علمی سطح، شائستگی، شستگی، دقت نظر، جدید وقدیم کا امتزاج ایسی خوبیاں ہیں کہ اگر مبالغے کی...
1-24 (24)