نفاذ شریعت کی حکمت عملی: ایک فکری مباحثے کی ضرورت / مورث کی زندگی میں کسی وارث کی اپنے حصے سے دست برداری / ایک غزل کے چند اشعار

محمد عمار خان ناصر

نفاذ شریعت کی حکمت عملی: ایک فکری مباحثے کی ضرورت

۲۰۰۹ء میں جن دنوں سرحد حکومت اور سوات کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے مابین ’’نظام عدل ریگولیشن‘‘ کے نفاذ کی بات چل رہی تھی، مجھے ۱۰ اور ۱۱ مارچ کے دو دن پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے بھیجے جانے والے ایک وفد کے ہمراہ، جس میں دو درجن کے قریب سول اور سیشن جج صاحبان کے علاوہ ہائی کورٹ کے ذمہ دار افسران بھی شامل تھے، سوات کے شہر مینگورہ میں گزارنے کا موقع ملا۔ مجھے بتایا گیا کہ سرحد حکومت اور مولانا صوفی محمد کے مابین سوات میں امن وامان کے قیام اور شرعی نظام عدل کے نفاذ کے سلسلے میں جو معاہدہ ہوا ہے، اس پر عمل درآمد کے لیے ججوں کی ایک دو روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی جا رہی ہے جس میں دوسرے مقررین کے علاوہ، مجھے بھی حدود وتعزیرات کے اہم پہلووں پر گفتگو کرنا ہوگی۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ اس ورک شاپ میں ججوں کے علاوہ علاقے کے علما اور خود مولانا صوفی محمد اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے راہنما بھی شریک ہوں گے، جبکہ اسلام کے نظام قضا کے مختلف پہلووں پر نصف درجن سے زائد ماہرین دو روز تک لیکچر دیں گے۔ میرے لیے اس سفر میں دلچسپی کا پہلو ایک تو یہ تھا کہ اس طرح مجھے حدود وتعزیرات اور اسلام کے نظام قضا سے متعلق بعض اجتہاد طلب امورپر اپنے نتائج فکر، جس کی تفصیل میں نے اپنی کتاب ’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ میں بیان کی ہے، قضا کے شعبے سے عملی طور پر متعلق جج صاحبان اور ان کے علاوہ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے طرز فکر کے علما کے سامنے پیش کرنے اور ان کا رد عمل جاننے کا موقع ملے گا اور دوسرا یہ کہ اس طرح اس علاقے کی صورت حال کو زیادہ قریب سے اور ایک بہتر سطح پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا موقع ملے گا، چنانچہ میں نے طبیعت کی ناسازی اور سفر کے ممکنہ خطرات کے باوجود، ابتداءً تردد ظاہر کرنے کے بعد، اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ ان دنوں میں سوات کی طرف زمینی سفر چونکہ زیادہ محفوظ تصور نہیں کیا جا رہا تھا، اس لیے ہمیں پشاور سے مینگورہ لے جانے اور پھر وہاں سے واپس لانے کے لیے پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز کی مدد حاصل کی گئی اور یوں مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹر کے سفر کا بھی تجربہ ہوا۔

اس سفر میں بعض رفقاے سفر کے ساتھ تبادلہ خیال کے نتیجے میں علاقے کی صورت حال اور اس کی پیچیدگیوں کا تو کسی حد تک یقیناًاندازہ ہوا، تاہم سفر کا جو اصل مقصد بتایا گیا تھا، اس کے حوالے سے ارباب اقتدار کے غیر سنجیدہ اور غیر حکیمانہ طرز عمل کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ دو درجن کے قریب افراد پر مشتمل یہ وفد سوات لے جانے کا مقصد سرے سے نہ تو کسی شرعی نظام قضا کی تربیت دینا تھا اور نہ اس نظام کے نفاذ کے سلسلے میں کوئی عملی پیش رفت کرنا، چنانچہ دو دن مینگورہ ایک ہوٹل میں گپ شپ کرنے اور دوسرے دن ڈیڑھ دو گھنٹے کے لیے ایک رسمی سی نشست کے انعقاد کے علاوہ اس موضوع پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ یہ سارا تکلف صرف مولانا صوفی محمد کو مطمئن کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ ان کے ساتھ نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کا جو معاہدہ کیا گیا ہے، حکومت اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ججوں کی ٹریننگ شروع کر دی گئی ہے۔ 

مولانا صوفی محمد سوات میں نظام عدل کے قیام کا جو نقشہ ذہن میں رکھتے تھے، اس میں دستور پاکستان کی پابندی قبول کرنے اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو اعلیٰ عدالتی اتھارٹی تسلیم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ان کا مطالبہ مملکت کے دستور اور مروجہ نظام سے بالکل ہٹ کر ایک متوازی نظام عدل کے قیام کا تھا۔ سرحد حکومت سوات کے طالبان کی طرف سے اٹھائی گئی نفاذ شریعت کی پرتشدد تحریک کا راستہ روکنا چاہتی تھی اور اس مقصد کے لیے اسے مولانا صوفی محمد کے تعاون کی ضرورت تھی، لیکن ظاہر ہے کہ آئین کے حدود سے ماورا اس نوعیت کا کوئی قانونی انتظام اس کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ اس بنیادی الجھن کو درست طریقے سے سلجھانے کے بجائے، جو ظاہر ہے کہ ہنگامی نوعیت کی سطحی کوششوں سے نہیں ہو سکتا تھا، صوفی محمد کو ابہام میں رکھ کر کام چلانے اور سیاسی انداز میں ’’وقت گزارو‘‘ قسم کے اقدامات کرنے کی کوششیں کی گئیں جو ظاہر ہے کہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکیں اور پھر انگریزی محاورے کے مطابق: The rest is history۔

میری اس سے پہلے بھی یہ سوچی سمجھی رائے تھی اور اس سارے معاملے سے بھی اس کی تائید ہوئی کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی وعدالتی نظام کے خلاف مذہبی استدلال کی بنیاد پر عدم اعتماد کی موجودہ پر تشدد تحریک سے نبرد آزما ہونے کے لیے سیاسی وعسکری اقدامات سے کہیں زیادہ ضرورت ایک عمومی فکری ونظریاتی مباحثے کی ہے جس میں موجودہ نظام کی خامیوں، قباحتوں اور منافقتوں کا بھی بے باک تجزیہ کیا جائے اور اس کی اصلاح کی درست اور موثر حکمت عملی کے بنیادی اصول، اہداف، خط وخال اور عملی حدود بھی علمی وفکری بنیادوں پر ازسر نو طے کیے جائیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں کی اعلیٰ سطحی مذہبی قیادت نے نفاذ اسلام کے ضمن میں اپنی جدوجہد کو جمہوری سیاسی دائرے میں محدود رکھنے کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اور جو بنیادی طور پر بالکل صائب اور درست تھا، بہت سے اسباب وعوامل اور خاص طور پر جہاد، اسلامی حکومت اور امارت وخلافت کے ایک مخصوص تصور کے فروغ نے اس فیصلے کو فکری واخلاقی بنیادوں پر چیلنج کر دیا ہے۔ اس ذہنی وفکری لہر نے جو سوالات اٹھا دیے ہیں، حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ پاکستان کے اہل علم زیادہ دیر تک ان سے صرف نظر کرنے کے متحمل نہیں ہو سکیں گے اور جلد یا بدیر انھیں واضح فکری بنیادوں پر ان سوالات کے حوالے سے اپنا متعین جواب قوم کے سامنے رکھنا ہوگا۔ اب تک مختلف مواقع پر اس حوالے سے جو کچھ کہا گیا ہے، وہ محض یہاں کی جمہوریت پسند مذہبی قوتوں کے ’’موقف‘‘ کا بیان ہے جس کا ان طبقات کی نظر میں کوئی وزن نہیں جو عسکریت کے راستے کو اختیار کر چکے ہیں یا اس کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ یہ فکری معرکہ کسی قسم کے انفرادی یا اجتماعی فتوے جاری کرنے یا وقتاً فوقتاً قراردادوں کی صورت میں اپنا موقف بیان کر دینے سے کسی انجام تک نہیں پہنچے گا۔ اس کے لیے مباحثہ ومکالمہ کے ایک عمومی، وسیع اور ہمہ جہت عمل کا آغاز کرنا ضروری ہے جس میں بحث کے تمام فریقوں کو اپنا موقف اور استدلال واضح کرنے کا آزادانہ موقع دیا جائے اور استدلال کی قوت ہی یہ فیصلہ کرے کہ کس کی بات میں کتنا وزن ہے۔ کیا ہمارے اکابر علما، اہل فکر ودانش اور مذہبی سیاسی قائدین وقت کی اس اہم ترین ضرورت پر توجہ مرکوز کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟

مورث کی زندگی میں کسی وارث کی اپنے حصے سے دست برداری

ہمارے ہاں عام فقہی تصور یہ ہے کہ مرنے والے کی وفات سے پہلے کسی وارث کا وراثت میں سے اپنے حصے کو چھوڑ دینے کا کوئی اعتبار نہیں اور یہ کہ اگر کوئی وارث مرنے والے کی زندگی میں اپنے حق سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کر لے تو بھی مورث کی وفات کے بعد وہ اپنا حصہ وصول کر سکتا ہے۔ اس کی بنیاد اس قانونی نکتے پر ہے کہ وارث کا حق مورث کے مال سے دراصل متعلق ہی اس وقت ہوتا ہے جب مورث مر جائے، اس لیے کسی مال کے ساتھ حق متعلق ہونے سے پہلے اس سے دست بردار ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔ خالص قانونی نقطہ نظر سے اس استدلال میں وزن دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کے مقابلے میں دیگر اہم تر شرعی وسماجی مصالح یہ تقاضا کرتے ہیں کہ مورث کی زندگی میں کیے جانے والے اس نوعیت کے انتظامات اور تصرفات کو قانونی وزن دیا جائے۔ اس تناظر میں سیدنا عثمان کا درج ذیل اثر بڑی اہمیت کا حامل ہے:

شعبی نے نقل کیا ہے کہ ام البنین بنت عیینہ بن حصن، عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ جب باغیوں کی طرف سے ان کامحاصرہ کیا گیا تو عثمان نے اسے طلاق دے دی۔ انھوں نے اسے پیغام بھیج کر اس سے اپنی وراثت میں سے اسے ملنے والا آٹھواں حصہ خریدنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس نے انکار کر دیا جس پر سیدنا عثمان نے اسے طلاق دے دی۔ جب سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا تو ام البنین علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انھیں یہ واقعہ بتایا۔ علی نے کہا کہ عثمان نے اسے چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ جب موت کے قریب پہنچ گئے تو اسے طلاق دے دی! چنانچہ علی نے ام البنین کو ان کا وارث قرار دیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ۱۹۳۸۱)

وراثت کا حصہ خریدنے سے مراد یہ ہے کہ عثمان یہ چاہتے تھے کہ ام البنین معاوضہ لے کر اپنے اس حصے سے دست بردار ہو جائے جو ان کی وفات کے بعد ام البنین کو ان کی بیوی ہونے کی حیثیت سے ان کی وراثت میں سے ملنا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مورث کی وفات سے پہلے ورثا میں سے کسی کے، اپنے حصے سے دست بردار ہو جانے کو درست اور مورث کی وفات کے بعد قانوناً نافذ العمل سمجھتے تھے اور اسی لیے انھوں نے اپنی بیوی کو معاوضہ دے کر اپنی وراثت میں سے ملنے والے حصے سے دست بردار کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہمارے معاشرے میں وراثت کی تقسیم کے معاملے میں لوگوں کو جن چند در چند پیچیدگیوں سے سابقہ پیش آتا ہے، ان میں سے بہت سی الجھنوں کا تعلق اس نکتے سے بھی ہے کہ مورث کے لیے بسا اوقات اپنی زندگی میں عملاً مال کی تقسیم کرنا ممکن نہیں ہوتا، جبکہ اپنی وفات کے بعد پیدا ہونے والے نزاعات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر وہ اپنی زندگی میں ورثا کے مابین ان کی رضامندی سے کوئی تصفیہ کرنا چاہے جو اس کی وفات کے بعد موثر ہو تو اسے اس کی وفات کے بعد فقہی طور پر موثر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں اگر سیدنا عثمان کے مذکور اثر کی روشنی میں مناسب فقہی اجتہاد کیا جا سکے تو ہمارے خیال میں یہ اسلام کے قانون وراثت کی روح اور اس کے مقاصد کے عین مطابق ہوگا۔

ایک غزل کے چند اشعار

شعر وشاعری سے لگاؤ اور کسی حد تک، تک بندی کی مشق زبان وادب سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے ایک معمول کی بات ہے۔ شاعری کو ایک مستقل مشغلے کے طو رپر اختیار کرنے کے لیے جس قسم کا مزاج، افتاد طبع اور ذہنی یکسوئی درکار ہے، وہ تو مجھے نصیب نہیں۔ البتہ طبیعت موزوں ہونے پر کبھی کبھی غزل کے انداز میں دو چار اشعار جوڑ لینے کی مشق زمانہ طالب علمی سے چلی آ رہی ہے۔ چند ماہ قبل اسی طرح دو تین شعر موزوں ہوئے تو میں نے بے تکلفی کا رشتہ رکھنے والے چند حضرات کو بھی بھیج دیے۔ بزرگوارم جناب احمد جاوید صاحب (ڈپٹی ڈائریکٹر اقبال اکادمی، لاہور) ان حضرات میں سے ہیں جو عمر اور علم وفضل میں اپنی بزرگی کے باوجود مشفقانہ توجہ اور محبت سے نوازتے ہیں۔ انھوں نے یہ اشعار دیکھے تو اسی وزن اور قافیے میں فی البدیہ چند اشعار مزید عنایت فرما دیے۔ تبادلہ اشعار چونکہ SMSکے ذریعے سے ہوا تھا اور احمد جاوید صاحب کی افتاد طبع کے لحاظ سے یقین ہے کہ انھوں نے اپنے ان اشعار کو کہیں محفوظ کرنے کا اہتمام نہیں کیا ہوگا، اس لیے حفاظت کی غرض سے انھیں یہاں درج کر رہا ہوں۔ قارئین اس سے یہ بھی اندازہ کر سکیں گے کہ ٹاٹ میں مخمل کا پیوند کیسے لگایا جاتا ہے۔

میرے اشعار:

سفر کیسا، کہاں منزل! غبارِ راہ ہے جس سے
الجھنے کا تکلف بس دلِ ناشاد کرتا ہے
نہ ہونے سے کبھی جن کے یہ محرومِ محبت ہے
مرا دل اُن ملاقاتوں کو اکثر یاد کرتا ہے
’’بھروسہ کر نہیں سکتا غلاموں کی بصیرت پر‘‘
وہی کرتا ہوں جو ایک بندۂ آزاد کرتا ہے

اضافہ از احمد جاوید صاحب:

جو معنی آفرینی اور سخن ایجاد کرتا ہے
مری کج مج بیانی پر بھی دیکھو صاد کرتا ہے
ہو جس کی خامشی ظرف آشنائے قلزمِ معنی
وہی ویرانہ صوت وصدا آباد کرتا ہے
جنوں قلب وخرد پر ملتفت ہوتا ہے جب ناصر
اِسے مجذوب، اُس کو صاحب ارشاد کرتا ہے

آراء و افکار

(جولائی ۲۰۱۲ء)

Flag Counter