اسلامی تحریکات اور حکمت عملی

تعلیمی نظام اور تحریکی تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کافی عرصہ کے بعد جامعہ فریدیہ میں حاضری اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی ہے اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ کچھ گزارشات بھی کروں اس لیے تعمیل حکم میں چند باتیں عرض کر رہا ہوں۔ جامعہ فریدیہ ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے اور مختلف حوالوں سے اپنی ایک الگ تاریخ رکھتا ہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی محنتوں کا ثمرہ اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان و رفقاء نے اس علمی ادارہ اور مرکز کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور جامعہ فریدیہ آزمائشوں کے مختلف مراحل سے گزرا...

اسلامسٹ کیسے اسلام کو منہدم کر رہے ہیں؟

مصطفٰی اکیول

’’جب مذہب ابدی حقائق کی ارفع اقلیم کو ترک کر دیتا ہے، اور نیچے اتر کے دنیاوی جھمیلوں میں دخل اندازی شروع کر دیتا ہے، تو وہ اپنی اوردنیا و مافیہا کی ہر شے کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے‘‘ (عثمانی سیاست دان ، مصطفیٰ فاضل پاشا ، 1867)۔ دس اپریل ، 2018ء کو قومی قانون ساز مجلس (پارلیمنٹ) سے اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران ترکی کے طاقت ور صدر طیب اردگان اور ان کے وزیر تعلیم عصمت یلماز کے مابین ایک مختصر گفتگو ہوئی ،جس کے کچھ ٹکڑے نادانستگی میں ٹیلی ویژن پر نشر ہو گئے حالانکہ مائیکروفون کو بند رکھنے کا اہتمام تھا [1]۔ یہ ایک دلچسپ منظر تھا ۔ اپنے خطاب کے...

اسلامی تحریکوں کی کارکردگی / برما کے مسلمانوں کی حالت زار / شام کا بحران

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پاکستان شریعت کونسل ایک فکری و علمی فورم ہے جس میں نفاذ شریعت کے شعبے میں انتخابی سیاست سے ہٹ کر فکری و نظریاتی حوالے سے باہمی تبادلہ خیالات ہوتا ہے اور جو بات سمجھ میں آئے، اس کا علمی و عوامی حلقوں میں جب موقع ملے، اظہار کر دیا جاتا ہے۔ اس بار مدرسہ تعلیم القرآن، لنگرکسی بھوربن، مری میں امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت ۱۶۔۱۷ جون ۲۰۱۲ء کو منعقد ہونے والے دو روزہ اجلاس میں مختلف مسائل زیر بحث آئے جن میں دو امور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور ان پر ہونے والی بحث کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلا مسئلہ تو مسلم...

موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج

مولانا مفتی محمد زاہد

گزشتہ دنوں بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پراس کے ایک نامہ نگار کا ایک شذرہ شائع ہوا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے اپنی بات کا آغاز اسی کو نقل کرنے سے کیا جائے: ’’بائیس اور تیئس مئی کے دو روز میں نے اتر پردیش کے قصبے دیوبند میں گزارے، وہی دیوبند جس نے گزشتہ ڈیڑھ سو برس میں ہزاروں جید سنی علماء پیدا کیے، جن کے لاکھو ں شاگرد بر صغیر اور دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ آج بھی دارالعلوم دیوبند سے ہر سال چودہ سو کے لگ بھگ طلباء عالم بن کر نکل رہے ہیں۔ دیوبند، جس کی ایک لاکھ سے زائد آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ساٹھ فیصد ہے، وہاں پہنچنے سے قبل میرا تصور یہ...

احیائے ثقافت اسلامی کی تحریک

حافظ صفوان محمد چوہان

دعوت و تبلیغ کا کام اپنے معروف معنوں میں حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے سے شروع ہوتا ہے۔ جتنی انسانی آبادی اُن کی حیات تک موجود رہی وہ اُس سب کے باپ اور مربی تو تھے ہی، اُن کے نبی اور رسول بھی تھے۔ اپنی اولاد کو خالقِ کائنات کا تعارف کرانا، اُس کی مرضیات پر چلنے یعنی اطاعت و عبادت پر آمادہ کرنا، زخارفِ دنیا میں الجھ کر راہ گم کردینے کے بجائے آخرت کو مطمحِ نظر بنائے رکھنے پر لانا، وغیرہ، سب امور اُن کے فرائضِ منصبی تھے۔ اِن فرائض کو ایک باپ اور ایک نبی کی حیثیت سے ادا کرتے کرتے وہ اپنے اللہ کے حضور حاضر ہوگئے۔ اللہ رب العزت نے حضرت...

اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

موجودہ دور کو بجا طور پر مغربی فلسفہ وفکر اور علوم وفنون کی بالا دستی کا دور کہا جا سکتا ہے۔ آج پورے کرۂ ارضی پر مغربی افکار ونظریات اورانسان وکائنات کے بارے میں وہ تصورات پوری طرح چھائے ہوئے ہیں جن کی ابتدا آج سے تقریباً دوسو سال قبل یورپ میں ہوئی تھی اور جو اس کے بعد مسلسل مستحکم ہوتے اور پروان چڑھتے چلے گئے۔ آج کی دنیا سیاسی اعتبار سے خواہ کتنے ہی حصوں میں منقسم ہو، فکر اور سوچ کے دائرے میں ایک ہی طرز فکر اورنقطۂ نظر پوری دنیا پر حکمران ہے۔ بعض سطحی اور غیر اہم اختلافات سے قطع نظر، ایک ہی تہذیب اورایک ہی تمدن کا سکہ پوری دنیا میں جاری ہے۔...

تبلیغی جماعت اور دین کا معاشرتی پہلو (۱)

سید جمال الدین وقار

تبلیغی جماعت کو کارکنوں کی تعداد اور جغرافیائی پھیلاؤ کے لحاظ سے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اسلامی تحریک کہا جاتا ہے۔ یہ جماعت ہر اس ملک میں متحرک ہے جہاں مسلمان کسی بھی قابل لحاظ تعداد میں بستے ہیں۔ اس کی بنیاد ۱۹۲۰ء میں شمالی بھارت کے علاقے میوات میں رکھی گئی تھی اور اس نے عامۃ الناس کی سطح پر اسلامی تعلیمات سے آگاہی اور شعور کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ چند سال قبل بمبئی میں میری ملاقات چند تبلیغی بھائیوں سے ہوئی جنھوں نے مجھے تبلیغی کام کے لیے کچھ وقت نکالنے کی ترغیب دی۔ آئندہ سالوں میں، میں نے کئی تبلیغی دورے کیے اور دور دراز...

تبلیغی جماعت اور دین کا معاشرتی پہلو (۲)

اوریا مقبول جان

عصر کی نماز کے بعد یا مغرب کی نماز سے ذرا پہلے گھروں کے دروازوں پر دستک دیتے قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کی طرح کے چہرے جن کے ماتھوں پر محراب، سر پر عمامہ، ٹوپی یا رومال، لباس کی وضع قطع شریعت کے قواعد وضوابط کے مطابق اور گفتگو میں تحمل پایا جاتا ہے، آپ کو یقیناًنظر آتے ہوں گے۔ اپنے لڑکپن سے آج تک میں دین کی محنت میں لگے ہوئے لوگوں کو دیکھتا آ رہا ہوں۔ آپ چاہے ناگواری کا اظہار کریں، تمسخر اڑائیں یا توجہ سے بات نہ سنیں، ان کی جبین پر شکن تک نہیں آتی۔ یہ لوگ بلا کے ہیں۔ ایسے لگتا ہے ان کو اپنے پڑوس کی، شہر کی، ملک کی بلکہ پوری دنیا کے عوام کی فکر کھائے...

اسلامی تحریکات کا ہدف، ریاست یا معاشرہ؟

مولانا محمد عیسٰی منصوری

اسلام اور قرآن کا مطلوب اسٹیٹ ہے یا انسانی بہبود کے لیے سرگرم معاشرہ؟ یہ اس وقت مسلم دنیائے فکر وفلسفہ کا ایک بڑا سوال ہے۔ دونوں میں سے جس کو بھی نصب العین قرار دیا جائے، ذہن وفکر سعی وجہد اور نتائج بالکل مختلف اور جداگانہ ہوں گے۔ نزول قرآن کے بعد تقریباً ۱۳سو سال تک یہ سوال پیدا نہیں ہوا تھا ۔یہ سوال گزشتہ صدی کے اوائل میں دنیا میں مغرب کے عالمی اقتدار، سیاسی غلبہ اور فکروفلسفے کی حاکمیت کی دین ہے ۔اس سے پہلے مسلم معاشرہ ہر دور میں قر آن وسنت اور سیرت نبویﷺ سے غذا وطاقت اور ہدایت وراہنمائی حاصل کرکے بنی نوع انسان کی فلاح وبھلائی کے نصب العین...

احیائی تحریکیں اور غلبہ اسلام

ڈاکٹر محمد امین

میں اس مجلس کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے یہاں مجھے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا۔ جیسا کہ کنوینر صاحب نے واضح کیا ہے کہ اس مجلس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز میں قیام نظام خلافت اور نفاذ اسلام کے لیے جو بہت سی جماعتیں کام کر رہی ہیں، ان کے اتحاد کے بارے میں غور کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ان میں اتحاد کے موانع کیا ہیں اور ان موانع کا سدباب کیسے ہو سکتا ہے۔ نیز ان میں اتحاد کے لیے موثر لائحہ عمل تجویز کیا جائے۔ اس مجلس میں مجھ سے پہلے مختلف احیائی تحریکوں کے مندوبین نے، جو بلاشبہ بہت سمجھ دار، پڑھے لکھے اور جہاں دیدہ افراد...

خواب جو بکھر گیا! ’طالبان‘ کی شکست کے اسباب وعوامل کا ایک جائزہ

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

اس دنیا میں کامیابی اور ناکامی کے اصول وقوانین ہر کسی کے لیے یکساں ہیں۔ مومنین کو کامیابی حاصل کرنا ہو، تب اور غیر مومنین اس کے خواہاں ہوں، تب۔ دونوں کو انہیں قواعد کی راہ سے گزرنا ہوگا جو اس عالم کے خالق نے متعین فرما دیے ہیں اور تجربات کی روشنی میں وہ ہر دانا وبینا پر واضح ہو چکے ہیں۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس ارادے اور اعلان کے ساتھ ہوئی کہ آپ کے ذریعہ دین حق کا بول بالا دنیا میں کیا جائے گا اور کفار ومشرکین خواہ کتنا ہی زور مخالفت میں لگائیں، اللہ کا یہ ارادہ پورا ہی ہو کر رہے گا۔ (ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی...

اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل

راشد الغنوشی

کسی بھی معاشرے کے مسائل کا حل معاشرے کے اپنے پاس موجود ہوتا ہے تاہم دیگر عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ اس وقت مغرب کا کردار منفی ہے اور اس کی وجہ ان کا یہ خیال ہے کہ اگر (احیاے اسلام کے نتیجے میں مسلم ممالک میں) تبدیلی آئی تو متبادل، اسلام ہوگا اور یہ کتنا ہی معتدل کیوں نہ ہو، ان کو پسند نہیں ہے۔ لیکن تبدیلی ناگزیر ہے۔ یہ اللہ کی مرضی سے واقع ہوگی۔ یہ اللہ ہے، نہ کہ مغرب، جو، جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ دنیا میں کئی سیاسی تبدیلیاں آئی ہیں اور وہ سب مغرب کو پسند نہ تھیں لیکن مغرب کو انہیں حقیقت تسلیم کرنا پڑا۔ عوامی جمہوریہ چین...

اسلامی تحریکات کا تنقیدی جائزہ (۴)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

یہ نکتہ بھی تحریک اسلامی کی اہم کمزوریوں میں سے ایک ہے کہ اجتہاد سے ڈرتی ہے، حالات اور وقت کی مناسبت سے دین کے دائرے کے اندر تجدیدی عمل کو پسند نہیں کرتی اور عمل وفکر کے اعتبار سے انقلابی راہیں اختیار کرنے پر مائل نہیں ہوتی۔ فقہی معاملات میں کسی قدر اجتہاد کی قائل ہوتے ہوئے بھی یہ تحریک فکر وحرکت وعمل میں تقلیدی رجحان ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ہر قدم کو بحالہ قائم رکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ اس نے بعض وسائل واشکال کو گلے سے لگا رکھا ہے، خواہ یہ وسائل واشکال اس کی دعوت کے فروغ ووسعت کی راہ میں ایسا پتھر ثابت ہوں جن سے مسلسل ٹھوکر لگ رہی ہو، نیز ان...

احیائے امت کے چند بنیادی تقاضے

پروفیسر میاں انعام الرحمن

معاصر اسلامی دنیا بیدار ہو چکی ہے۔ اپنے حقوق اور تشخص کی بازیافت کے لیے ہر مسلمان کسی نہ کسی محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ اس صورت حال میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے موجودہ سفر کے راستے کا تعین کریں اور اس سفر کے تقاضوں سے کماحقہ واقف ہوں۔ ذیل میں اس حوالے سے ایک طالب علمانہ کاوش کی گئی ہے۔ اگر ہم کائناتی تناظر میں زندگی پر غور وفکر کریں تو اس کی بے ثباتی عیاں ہو جاتی ہے۔ فانی دنیا ہے اور فانی انسان۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری تگ ودو اور دوڑ دھوپ کس لیے ہے کیونکہ ہماری اپنی زندگی تو نہایت محدود ہے کہ سانس کا کیا بھروسہ! ہماری محدود زندگی کی ’’تحدید‘‘...

اسلامی تحریکات کا تنقیدی جائزہ (۳)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

عقل ومنطق اور علم وتدبیر پر جذبات کے غالب آجانے کا یہ ایک اور بڑا اور منفی نتیجہ ہوتا ہے۔ عجلت کار شخص میں تحمل وبردباری اور صبر اور ٹھہراؤ کی خوبی نہیں ہوتی۔ وہ چاہتا ہے کہ آج بوئے اور کل صبح ہی کاٹ لے بلکہ صبح پودا لگائے اور شام کو اس کا پھل پا لے۔ یہ چیز نہ تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہے اور نہ دنیا میں ایسا کوئی اصول کارفرما ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ وہ اس بات پر قادر تھا کہ ’’کن‘‘ کہہ دیتا اور ‘‘فیکون‘‘ کی صورت میں نتیجہ سامنے آجاتا لیکن اللہ نے چاہا کہ وہ اس سنت کے ذریعے سے تامل اور تحمل کی تعلیم دے۔...

اسلامی تحریکات کا ایک تنقیدی جائزہ (۲)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

تحریک اسلامی جس طرح کے بگاڑ کا شکار ہو رہی ہے‘ اس کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ عقلی اور علمی پہلو پر جذبات کی دھندچھا رہی ہے۔ تحریک کی راہوں میں بلاشبہ جذبات کا ایک رول ضرور ہے۔ اس حد تک جذبات کی اہمیت سے انکار نہیں۔ جذبات وکیفیات قلبی کی لطیف لہروں کو یکسر مسدود کر دینا مقصود نہیں ہے اور نہ یہ منشاہے کہ عقل کو اتنا غلبہ حاصل ہو جائے کہ تحریک اسلامی عقلیت کے تابع ہو کر رہ جائے۔ یہ چیز نہ صرف تحریک کے مزاج کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے مزاج سے بھی اس کو کوئی مطابقت نہیں۔ اسلام عقل کا احترام سکھاتا ہے اور فکر ونظر کو کام میں لانے کی دعوت دیتا ہے لیکن یہ کوئی...

اسلامی تحریکات کا ایک تنقیدی جائزہ (۱)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

اسلامی تحریک نہ کمزوریوں سے مبرا ہے نہ تنقید ونصیحت سے بالا وبے نیاز‘ جیسا کہ اسلامی تحریکوں کے بعض مخلص پیروکاروں نے تصور کر لیا ہے۔ اس تصور کے حاملین تحریک اسلامی اور اسلام کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تحریک پر ناقدانہ نگاہ ڈالنے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسلام پر تنقید ہو رہی ہے۔ یہی کچھ بعض لادین عناصر بانداز دیگر کرتے ہیں۔ وہ تحریک کی خطائیں گنواتے ہیں تو انہیں براہ راست اسلام سے منسوب کر دیتے ہیں اور اسلام اور اس کے احکام میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں۔ یہ تحریک بہرحال انسانوں کی تحریک ہے جو اسلام کے غلبے اور اس کے پیغام کو پھیلانے کے...

اسلامی تحریکیں اور مغربی بلاک

پروفیسر میاں انعام الرحمن

بیسویں صدی کے آخری دو عشرے اس لحاظ سے بہت اہمیت کے حامل ہیں کہ اس دوران میں عالمی سیاست کے رجحانات میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئیں ۔ کمیونزم کی توسیع اور گرم پانیوں تک رسائی کے لیے سوویت یونین کی افغانستا ن میں مداخلت، سوویت یونین کی شکست وریخت، کشمیر کی تحریک آزادی میں شدت، اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کے لیے مغربی طاقتوں کی نام نہاد کوششیں، یوگوسلاویہ کا زوال اور بوسنیا کے مسلمانوں پر شرم ناک ظلم وستم۔ اگر ہم درج بالا امور کو ذہن میں رکھیں تو تبدیلی کی نہج اس طرح ترتیب...

مسلم اجتماعیت کے ناگزیر تقاضے

مولانا ابوالکلام آزاد

۱۹۱۶ء کے لیل و نہار قریب الاختتام تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ حقیقت اس عاجز پر منکشف کی اور مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک یہ عقدہ حل نہ ہو گا ہماری کوئی سعی و جستجو کامیاب نہ ہو گی۔ چنانچہ اسی وقت سے سرگرم سعی و تدبیر ہو گیا (ص ۳۱)۔ ۱۹۱۶ء کی بات ہےکہ مجھے خیال ہوا کہ ہندوستان کے علماء و مشائخ کو عزائم و مقاصدِ وقت پر توجہ دلاؤں، ممکن ہے چند اصحابِ رشد و عمل نکل آئیں۔ چنانچہ میں نے اس کی کوشش کی لیکن ایک شخصیت کو مستثنٰی کر دینے کے بعد سب کا متفقہ جواب یہی تھا کہ یہ دعوت ایک فتنہ ہے ’’ائذن لی ولا تفتنی‘‘۔ یہ مستثنٰی شخصیت مولانا محمود...

اسلامی بیداری کی لہر اور مسلم ممالک

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۰ فروری ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں ہانگ کانگ کی ڈیٹ لائن سے ’’ایشیا ویک‘‘ کی ایک رپورٹ کا خلاصہ خبر کے طور پر شائع کیا ہے جس میں مغربی ممالک میں مسلمانوں کی آبادی اور ان کے مذہبی رجحانات میں روز افزوں اضافہ کو ’’مغرب میں اسلام کی خوفناک پیش قدمی‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں: صدیوں قبل اسلام مغرب میں صلیبی جنگوں کے حوالے سے داخل ہوا تھا اور پھر نکل بھی گیا تھا لیکن اب اسلام مغرب میں عقیدہ کی تبدیلی، نقل مکانی اور شرح پیدائش میں اضافہ کے حوالہ سے پیش قدمی کر...

امت مسلمہ کی کامیابی کا راز

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم تعداد میں گو کثیر ہیں مگر افسوس کہ ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں اور من مانی اور انفرادی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم بظاہر اگرچہ ایک دوسرے سے واقف اور قریب تر ہیں لیکن درحقیقت ایک دوسرے سے بے گانہ اور دور ہیں۔ ہر شخص اپنی اپنی مفاد پرستیوں کے محور کے گرد گھومتا ہے اور حیاتِ ملّی کا نصب العین نگاہوں سے اوجھل ہے، اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ قوموں کی ہستی اور بقا کا مدار ان کی مرکزیت اور اجتماع پر ہوتا ہے، ان کی انفرادی اور جداگانہ حیثیت اور امتیازی خصوصیت اسی نقطۂ ماسکہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ان کی جماعتی اور تنظیمی زندگی اور مرکزیت...
1-21 (21)
Flag Counter