سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

جاوید اکبر انصاری / زاہد صدیق مغل 


۲۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت (Capitalist Subjectivity) 

اب ہم دیکھیں گے کہ سرمایہ دارانہ یعنی موجودہ مغربی تہذیب کا عام باشندہ عقائد اور حال کے فساد کا شکار ہے۔ پہلی صدی عیسوی کے آخر تک بیشتر عیسائیوں نے ان عقائد کے ایک حصے کو رد کردیا جنکی تبلیغ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمائی اور جنہیں انکے حواریوںؓ نے قبول کیا تھا۔ دوسری سے چودھویں صدی عیسوی تک کی مغربی عیسائیت حضرت مسیح علیہ السلام اور یونانی افکار کا ایک مرکب بن گئی تھی۔ تحریک نشاۃ ثانیہ اور تحریک اصلاح مذہب (Renaissance and Reformation) نے مسیحی عقائد کو تقریباً مکمل طور پر رد کردیا اور یونانی عقائد و افکار کی ایک مسیحی تشریح پیش کی۔ انقلاب فرانس کے بعد اس ظاہری نمائشی عیسائی ملمع کاری کو بھی ترک کردیا گیا (۱۴) اور ہیوم جیسے فلسفیوں نے دہریت کے عقائد کی وکالت کی جو فی العمل یورپی عوام پر اثر انداز ہوئی۔ یورپی عوام کافر تو ہمیشہ سے تھے لیکن مسیحی تعلیمات کے زیر اثر قرون وسطی میں وہ بہیمیت اور دہریت سے قدرے محفوظ رہے اور ان میں عبدیت کا احساس موجود رہا گو کہ یہ احساس صرف مذہبی امور تک ہی محدود تھا۔ اٹھارویں صدی کے آخر تک یہ احساس نہایت مجروح ہوگیا اور ہیوم اور کانٹ کے فلسفوں نے عبدیت کو بے دخل کرکے آزادی یعنی بغاوت (۱۵) کو یورپی عوام کا اساسی عقیدہ اور احساس بنا دیا۔ یوں ایک عام یورپی کا حال اور مقام تبدیل ہوگیا۔ اس کی زندگی میں اضطرار (frustration / anxiety) نے اطمینان کی جگہ لے لی اور وہ عبدیت کے مقام سے گر کر مذہبی دائرے میں بھی خدا کا باغی بن گیا۔ اس مراجعت کی وجہ یہ تھی کہ ایک عام یورپی کانٹ اور ہیوم وغیرہ کے فلسفوں پر اسی طرح ایمان لے آیا جس طرح ایک عیسائی انجیل پر ایمان رکھتا ہے(۱۶)۔ واضح رہنا چاہئے کہ کانٹ اور ہیوم کے فلسفوں کے ما بعد الطبعیاتی مفروضے بھی ان کے احساسات پر نہ کہ کسی دماغی عقلیت کے فراہم کردہ شواہد اور دلائل پر قائم تھے۔ 

سرمایہ دارانہ شخصیت کی اساسی اقدار: آزادی، مساوات اور ترقی 

الحاد پرستی پر مبنی مغربی فلسفے کے مرکزی دھارے یعنی تحریک تنویر (Enlightenment) کا کلیدی تصور "Humanity" ہے۔ "Humanity" کا ترجمہ ’’انسانیت‘‘ کرنا غلط ہے۔ ’’انسانیت‘‘ کا درست انگریزی ترجمہ "Mankind" ہے۔ یہی لفظ انسانی اجتماعیت کے لیے انگریزی زبان میں ۱۸ ویں صدی سے قبل رائج تھا۔ "Humanity" کا تصور ’’انسانیت‘‘ کے تصور کی رد ہے۔ Humanity انسانیت کے تصور کا ان معنوں میں رد ہے کہ human being عبدیت اور تخلیقیت کا اصولاً اور عملاً رد ہے۔ Kant کے مطابق human being کا بنیادی وصف اور اس کی اصل "autonomy" یعنی خود ارادیت اور خود تخلیقیت ہے۔ انسان اپنے رب کے ارادے کا مطیع ہوتا ہے جبکہ human being خود اپنا رب ہوتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے اسے کر گزرنے کا مکلف سمجھتا ہے۔ چنانچہ تصور humanity نے جس قدر کو فرد کا مقصد وجود قرار دیا وہ تھا آزادی۔ آزادی کس سے ؟ خدا کی بندگی سے۔ آزادی کی طلب گار انفرادیت کیا چاہتی ہے؟ یہ کہ جو چاہنا چاہے چاہ سکنے اور اسے حاصل کرنے کا حق۔ آزادی کا مطلب ہے ارادہ انسانی کے اظہار کے ’حق‘ کو ’خیر‘ پر فوقیت دینا یعنی خیروشر کا تعین کرنے کا مساوی حق ہر انسان کو ہونا چاہئے ما ورائے اس سے کہ انسان اس حق کو استعمال کرکے اپنے لئے خیر وشر کا کونسا پیمانہ طے کرتا ہے کیونکہ اصل خیر یہی ہے کہ انسان خود خیر وشر طے کرنے کا مکلف و مجاز ہو ۔ چنانچہ فرد اپنی ترجیحات کی جو بھی ترتیب مرتب کرے گا وہی اسکے لئے خیر ہوگا۔ اگر ہنری پتے گننے کو اپنی زندگی کا مقصد بنالے تو یہی اسکے لئے خیر ہوگا، اگر ابرار گلوکار بننا چاہتا ہے تو یہی اسکا خیر ہوگا اور اگر عبداللہ مسجد کا امام بننا چاہتا ہے تو یہ اسکا خیر ہوگا۔ الغرض اصل بات یہ نہیں کہ وہ اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے بلکہ اصل خیر یہ ہے کہ وہ اپنے لئے خیر وشر طے کرنے کا حق استعمال کرنے میں آزاد ہو۔ دوسرے لفظوں میں آزادی کا مطلب ہے choice of choice (جو چاہنا چاہوں چاہ سکنے کا حق)، یعنی کوئی عمل فی نفسہ اچھا یا برا نہیں اور نہ ہی ہیومن کے ارادے کے علاوہ کوئی ایسا پیمانہ ہے جسکے ذریعے کسی عمل یا شے کی قدر (value)متعین کی جاسکے، human being معیارات خیر وشر خود متعین کرتا ہے۔ 

Kant کے مطابق خیر و شر کے تعین کے لیے human being کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ کیا وہ عمل صفت آفاقیت (Universalisation) کا متحمل ہوسکتا ہے یا نہیں، یعنی کیا تمام افراد کو اس عمل کی اجازت دینے کے بعد بھی اس عمل کو کرنا ممکن ہوگا یا نہیں؟ اس اصول کے مطابق ایک فرد کا ہر وہ فعل اور خواہش قانوناًجائز ہے جسے وہ خواہشات میں ٹکراؤ پیدا کیے بغیر تمام انسانوں کو کرنے کی اجازت دینے پر تیار ہوسکتا ہے۔ کانٹ کے اصول کی طرح نظریہ افادیت (Utilitarianism) نے بھی قدر کے تعین کا ایک پیمانہ پیش کیا ہے اور وہ ہے شدت لذت (Intensity of Pleasure) ۔ مثلاً اگر ہنری زنا کرنے سے زیادہ اور کتاب پڑھنے سے کم لذت حاصل کرتا ہے تو وہ زنا کو بدرجہ کتاب زیادہ قدر دے گا لیکن اسے بش کا یہ حق تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ کتاب پڑھنے سے حاصل شدہ لذت کو زنا سے حاصل شدہ لذت کے مقابلہ میں زیادہ قدر دے۔ تعین قدر کے ان دونوں تصورات میں human being آزاد ہے کہ وہ قدر کو اپنے ارادہ کے مطابق متعین کرے، لیکن قدر کا تعین اس طریقہ سے کیا جائے گا کہ ہر human beingکو قدر کا تعین اپنے ارادے کے مطابق کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ 

واضح ہوا کہ Humanist تصورِ انفرادیت آزادی کے بعد جس قدر کو مرکزی اہمیت دیتی ہے وہ ہے مساوات (Equality) ، یعنی یہ ماننا کہ چونکہ ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے قدر کا جو پیمانہ چاہے طے کرلے، لہٰذا ہر شخص کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ دوسروں کے اس مساوی حق کو تسلیم کرے کہ وہ بھی اپنی زندگی میں خیر اور شر کا جو پیمانہ چاہیں طے کرلیں اور اس با ت کو مانے کہ خیر و شر کے تمام معیارات مساوی (Equal)ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص کے تعین قدر کی ترتیب کو یکساں اہمیت دی جائے اور کسی بھی فرد کے معیار خیر وشر اور اقداری ترجیحات کی ترتیب کو کسی دوسرے کی ترتیب پر فوقیت نہیں دی جانی چاہئے۔ پس خود ارادیت اور خود تخلیقیت (autonomy) کا ہر human being یکساں مکلف ہے اور سرمایہ دارانہ شخصیت کی تعمیر کے لیے صرف آزادی کافی نہیں بلکہ مساوی آزادی (equal freedom) کوتسلیم کیا جانا ضروری ہے۔ معلوم ہوا کہ آزادی کچھ نہیں بلکہ یہ عدم محض (empty space OR nothingness) ہے، یعنی یہ صرف اس ’صلاحیت ‘ کا نام ہے جو مجھے میری ’ہر چاہت‘ حاصل کرسکنے کا مکلف بنا دے، ماورائے اس سے کہ وہ چاہت کیا ہے۔ ہیومن یا سرمایہ دارانہ انفرادیت کیا چاہتی ہے؟ یہ کہ ’میں جو چاہنا چاہوں چاہ سکنے کا حق ‘ (preference for preference itself) نہ کہ کوئی مخصوص چاہت ، کیونکہ جونہی میں کسی مخصوص چاہت کو اپنی ذات کا محور و مقصد بناتا ہوں آزادی ختم ہوجاتی ہے جسے یوں بیان کرتے ہیں کہ "his self can possess ends but cannot be constituted by them" ۔ جمہوریت سرمایہ دارانہ انفرادیت کے سیاسی اظہار کا نام ہے جسکا مقصد ایسی ریاستی صف بندی فراہم کرنا ہے جسکے ذریعے ہر شخص کے لئے یہ ممکن ہوسکے کہ وہ جو چاہنا چاہے چاہ سکنے اور اسے حاصل کرسکنے کا مکلف ہوجائے۔ البتہ مغربی تہذیب کا یہ دعوی کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ’جو‘ چاہنا چاہے چاہ سکے ایک جھوٹا دعوی ہے کیونکہ فرد کو آزادی یعنی سرمایہ دارانہ نظام زندگی رد کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ میں اگر گوشت کھانا چاہتا ہوں تو چاہوں، ہمہ وقت کھیلنا چاہتا ہوں تو چاہوں، مگر میں ایسا کچھ نہیں چاہ سکتا جس سے اصول آزادی یعنی دوسروں کا اپنی چاہت چاہنے اور اسے حاصل کرنے کا حق سلب ہوجائے۔ مثلاً میں یہ نہیں چاہ سکتا کہ کسی شخص کو شرعی منکر (مثلاً زنا) سے روک دوں کیونکہ جونہی میں اپنی اس چاہت پر عمل کرتا ہوں اصول آزادی کی خلاف ورزی ہوگی اور جمہوری ریاست مجھے ایسا کرنے سے بذریعہ قوت روک دے گی (۱۷) ۔ چنانچہ فرد اپنے کسی مخصوص تصور خیر مثلاً اظہار مذہبیت پر ’بطور ایک حق‘ عمل تو کرسکتا ہے مگراسے دیگر تمام تصورات خیر پر غالب کرنے کا ارادہ نہیں کرسکتا کہ ایسا کرنا اصول آزادی کے خلاف ہے اور اگر اصول آزادی ہی رد کردیا گیا تو پھر میرا یہ حق کہ میں جو چاہنا چاہوں چاہ سکتا ہوں خود بخود فسخ ہوجائے گا۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ہر فرد اپنی انسانیت ترک کرکے ہیومن بننے پر مجبور ہوتا ہے، وہ آزادی کے سواء اور کچھ نہیں چاہ سکتا۔ فرد کی ہر وہ خواہش قانوناً اور اخلاقاً ناجائز اور قابل تنسیخ ہے جو اصول اظہار آزادی کے خلاف ہویعنی جسکے نتیجے میں دوسروں کی آزادی چاہنے کی خواہش میں تحدید ہوتی ہو۔ مشہور لبرل مفکر Rawls کہتا ہے کہ مذہبی آزادی کو لبرلزم کے لئے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وہ مذہبی نظریات جو لبرل آزادیوں (یعنی فرد کے تعیین خیر وشر کے حق) کا انکار کریں ان کو عملاً کچل دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا امراض کو ختم کرنا ضروری ہے۔ 

مساوی آزادی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ human being اپنے ارادے کو غیر human اشیاء پر مسلط کر کے انہیں اپنے ارادے کا تابع کرے (ان غیر human موجودات میں غیر human انسان اور فطری قوتیں دونوں شامل ہیں)۔ Human ارادے کے اس کائناتی تسلط کو progress یا ترقی کہتے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی اور انفرادیت کی تیسری اہم قدر ہے۔ Progress کا ذریعہ سرمایہ کی بڑھوتری ہے۔ محمد مارماڈیوک پکتھالؒ نے سرمایہ کو تکاثر کے مماثل کہا ہے اور اپنے ترجمہ قرآن میں تکاثر کے انگریزی معنی "Rivalry in Wordly Increase" بیان فرمائے ہیں۔ سرمایہ میں بڑھوتری آزادی کے فروغ کی عملی شکل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص اپنے human ہونے کو تسلیم کرتا ہے تو وہ خواہشات کی زیا دہ سے زیادہ تکمیل (maximum satisfaction) کو مقصد حیات کے طور پر قبول کرتا ہے اور ارادہ انسانی کی یہی منتہا تکمیل ترقی کا جوہر ہے ۔ وہ سرمایہ کی بڑھوتری کو اپنی زندگی کے اولین مقصد کے طور پر قبول کرتا ہے کہ آزادی کا مطلب ہی سرمایہ کی بڑھوتری ہے اس کاکوئی دوسرا مطلب نہیں، جو شخص آزادی کا خواہاں ہے وہ لازماً اپنے ارادہ سے اقدار کی وہ ترتیب متعین کرے گا جس کے نتیجے میں اس کی آزادی میں اضافہ ہو کیونکہ سرمایہ ہی وہ شے ہے جو میری اس صلاحیت میں اضافے کو ممکن بناتا ہے کہ میں جو چاہنا چاہوں چاہ سکوں۔ ترقی درحقیقت وہ طریقہ ہے جسکے ذریعے آزادی اور مساوات کا اظہار ممکن ہوتا ہے، یعنی اگر کوئی معاشرہ آزادی اور مساوات کے اصول پر زندگی گزارنا چاہتا ہے تو وہ واحد طریقہ جسکے نتیجے میں ہر فرد اپنی خواہشات کی ترتیب طے کرنے اور اسے حاصل کرسکنے کا مکلف بن سکتا ہے ترقی یعنی سرمائے میں لامحدود اضافہ کرنے کی جدوجہد ہے۔ Rawls کہتا ہے کہ human being کی زندگی میں صرف چار مقاصد اصل خیر ہوتے ہیں، (ا) دولت، (۲) آمدنی، (۳) قوت اور (۴) اختیار۔ یہی اقدار خیر مطلق (absolute goods) ہیں اور ان میں اضافے کی جدوجہد ہی حاصل زندگی ہے۔ چنانچہ سرمائے میں لامحدود اضافے کے علاوہ اور کوئی ایسا مقصد ہے ہی نہیں جسے سرمایہ داری کے اندر تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہو۔ یہی وہ واحد شے ہے جو ہر تصور خیر کے پنپنے کے امکانات ممکن بنا تی ہے لہٰذا اصل خیر جس سے ہر ہیومن منسلک (committed) ہوتا ہے وہ سرمائے میں لامحدود اضافے کی خواہش ہے اور اسی کیلئے وہ اپنا تن من دھن سب کچھ وار دیتا ہے۔ ہر تصور خیر کے پنپنے کے مواقع میں اضافہ (maximization of opportunities)جمہوری ریاست کااصل مقصد (end in itself)ہوتا ہے ماورائے اس سے کہ وہ مواقع کس شے کے اظہار کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ مواقع کے بدستور اضافے کے اس عمل کا اظہار ہمیشہ معاشی اعدادوشمار (economic indicators) کی کارکردگی کی صورت میں ناپا جاتا ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ سرمائے میں اضافے کا مجموعی عمل کس رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ مواقع اور سرمائے کا اضافہ ہی ارادہ محض کے اظہار کا واحد ممکن اور جائز طریقہ ہے۔ 

سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کا معیار عقلیت 

جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا کہ دماغی عقلیت یعنی خرد مخصوص احساسات ہی کو بطور معیار عقل قبول کرتی ہے، سرمایہ دارانہ عقلیت کے نزدیک بھی عقلیت کا معیار آزادی سے ماخوذ شدہ احساسات ہیں۔ چنانچہ علم معاشیات فرد کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ اپنی انفرادیت (یاآزادی) کا اظہار عمل صرف (Consumption) کے ذریعے کرتا ہے یعنی وہ جتنی اشیاء صرف (Consume) کرتا ہے اتنی ہی زیاد ہ خواہشات کی تسکین کر سکتا ہے اورایک صارف (Consumer) زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تسکین تبھی کر سکتا ہے جب اس کے پاس زیادہ سے زیاد ہ اشیاء خریدنے کے لیے آمدنی (Income) ہو۔اسی طرح معاشیات کا مضمون یہ بھی کہتا ہے کہ human being کی خواہشات لامحدود (Infinite) ہونی چاہئیں اور وہ انہیں پورا کرنے کا مکلف بھی ہے۔ مگر چونکہ ان خواہشات کو پورا کرنے کے ذرائع لامحدود نہیں ہیں، لہٰذا زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ فرد اپنے ذرائع کو اپنے وجود کی ممکنہ حد تک بڑھانے کی کوشش میں لگارہے اور ذرائع میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کی اس خواہش ہی کو ماہرین معاشیات عقلیت (Rationality) کا معیار کہتے ہیں ، یعنی عقلمند شخص (Rational agent) وہی ہے جو سرمائے میں لامحدود اضافے کی خواہش رکھتا ہو۔ سرمایہ دارانہ عقلیت ہر human being سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اس طرح مرتب کرے کہ ان کے حصول (realisation) کی جدوجہد سرمایہ کی بڑھوتری کے فروغ میں ممد اور معاون ہو۔ خواہشات کی ہر وہ ترتیب جو انسان کو سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کا آلہ کار نہیں بناتی، اس عقلیت کے خلاف ہے یعنی irrational ہے۔ معلوم ہوا کہ سرمایہ دارنہ انفرادیت کا نفس جن دو بنیادی اقدار و احساسات سے مغلظ ہوتا ہے وہ حرص اور حسد ہیں۔ یعنی سرمایہ دارانہ معیارعقلیت کے مطابق فرد کو ہر وقت اپنا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ مادی ذرائع کے حصول کی خواہش اور کوشش کرتے رہنا چاہئے، نیز چونکہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں ہر شخص لامحدود خواہشات کی تکمیل کیلئے محدود ذرائع کے حصول میں سرکرداں ہے لہٰذا حصول ذرائع کیلئے ہر فرد دوسرے شخص سے مسابقت میں مصروف رہے ۔ فرد کو محض زیادہ کی خواہش پر اکتفا نہیں کرناچاہئے بلکہ ’دوسرے سے زیادہ‘ کو اپنی جدوجہد کا محور بنانا چاہئے۔ اتنا ہی نہیں کہ افراد محض عمل تکاثر ( حسد) میں مصروف ہوں بلکہ وہ اس عمل سے بھی لذت حاصل کریں اور اس عمل کو بالذات مقصد اور عقلمندی کا تقاضا سمجھیں۔ حرص و حسد کا فروغ ہی سرمایہ دارانہ عقلیت کا اصل وظیفہ ہے اور انہی کا فروغ human being کے تمام فیصلوں کی بنیاد ہے ۔ جیسا کہ امام غزالی ؒ نے تہافۃ الفلاسفہ میں فرمایا کہ عقلیت کے کئی جاہلانہ تصورات ہیں، سرمایہ دارانہ عقلیت وہ جاہلانہ عقلیت ہے جو human being کے ارادہ محض (یعنی سرمایہ کی بڑھوتری) کو اصل الاصول اور اصل مقصد کے طور پر فرض (presume) کرتی ہے اور ہر عمل اور شے کی قدر اس فاسد اور باطل مقصد (یعنی سرمایہ کی بڑھوتری) کے حصول کے ذریعہ کی حیثیت کی بنیاد پر متعین کرتی ہے۔ مگر سرمایہ دارانہ عقلیت درحقیقت جہالت ہے جیسا کہ امام صاحبؒ فرماتے ہیں کہ عقلمندی تو خدا کا خوف ہے۔ حدیث شریف میں ارشاد ہوا راس الحکمۃ مخافۃ اللہ یعنی اللہ کا خوف دانش مندی کی بلند ترین چوٹی ہے۔ 

سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کے تعلقات 

دھیان رہے کہ آزادی کا مطلب ہے خود کفیل (autonomous or self-sufficient) ہو جانے کا دعوی کرنا (۱۸) یعنی تمام تعلقات کی نفی کرنا ۔ چونکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت خواہشات کی تمام ترجیحات کو برابر تسلیم کرتی ہے نیز اسکے پاس خواہشات کی قدر متعین کرنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں، لہٰذا یہ محبت اور ذات میں شرکت کی نفی کرتی ہے۔ محبت کیلئے ضروری ہے کہ دوسرے کی خواہشات کو اپنا لیا جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب خواہشات میں ترجیح کا پیمانہ قائم کرنا ممکن ہو۔ تعلیمات انبیاء کے سواء نفس کے پاس ایسا کوئی پیمانہ و اصول موجود نہیں جسکی بنیاد پر وہ خواہشات کو جانچ سکے۔ آزادی کی پرستار انفرادیت غیر کو اپنا نہیں سکتی کیونکہ وہ وسیع سے وسیع تر احاطہ میں اپنی ربوبیت قائم کر نا چاہتی ہے۔ لہٰذا دوسرا فرد لازماً ’اسکا غیر ‘ ہے اور ان معنوں میں اسکا مدمقابل ہے کہ غیر کا وجود اس کی آزادی (جو چاہنا چاہے چاہ سکنے کی خواہش) کی تحدید کرتا ہے۔ بقول سارتر 'hell is other people' (Sartre) (یعنی جہنم کیا ہے، میرے علاوہ دوسرے لوگ ہی میری جہنم ہیں)۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے پاس اپنے جیسے دوسرے افراد کے ساتھ بسنے کیلئے تعلقات کے بجائے معاہدے (contract) کا تصور ہوتا ہے(۱۹) ۔ یہ انفرادیت خود اپنے آپ اور دوسروں کو ’مجرد فرد ‘ (ahistorical and asocial anonymous individual ) کے طور پر پہچانتی ہے نہ کہ ماں پاب، بھائی بہن، استاد شاگرد، میاں بیوی، پڑوسی وغیرہ کے ۔ اس فرد مجرد کے پاس پہچان (identity) کی اصل بنیاد ذاتی اغراض ہوتی ہیں، یعنی وہ یہ تصور کرتا ہے کہ میری طرح ہر فرد کے کچھ ذاتی مفادات ہیں اور ہمارے تعلقات کی بنیاد اور مقصد اپنے اپنے مفادات (self-interests)کا حصول ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ ان اغراض کی تکمیل کیلئے وہ معاہدے پر مبنی تعلقات استوار کرتا ہے جنکی بنیاد اس کی اپنی اغراض (interests)ہوتی ہیں اور انہیں اغراض اور حقوق کے تحفظ کی خاطر وہ جدوجہد کرتا ہے۔ چنانچہ اس کی معاشرت میں ہر شخص اپنے مفادات کے تحفظ و حصول کیلئے اپنی اغراض کی بنیاد پر interest-groups (اغراض پر مبنی گروہ) بناتا ہے، مثلاً مارکیٹ کمیٹیاں، مزدور تنظیمیں، اساتذہ و طلبہ تنظیمیں، صارفین و تاجروں کی یونین، عورتوں اور بچوں کے حقوق کی تنظیمیں و دیگر این جی اوز وغیرہ اسکے اظہار کے مختلف طریقے ہیں جہاں تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی یا محبت نہیں بلکہ انکی اغراض ہوتی ہیں۔ ذاتی اغراض کی ذہنیت (rationality) در حقیقت محبت کی نفی ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت دوسرے شخص سے صرف اسی وقت اور اتناہی تعلق قائم کرتی ہے جو اس کی اپنی اغراض پوری کرنے کا باعث بنیں۔ ایک مذہبی معاشرے میں استاد کا تعلق اپنے شاگرد سے باپ اور مربی کا ہوتا ہے،اس کے مقابلے میں مارکیٹ (یا سرمایہ دارانہ) سوسائٹی میں یہ تعلق ڈیمانڈر اور سپلائیر (demander and supplier) کا ہوتا ہے یعنی استاد محض ایک خاص قسم کی خدمت مہیا کرنے والا جبکہ طالب علم زر کی ایک مقررہ مقدار کے عوض اس خدمت کا طلب گار ہوتا ہے اور بس۔ شاگرد سے فیس لینے کے علاوہ استاد کو اس کی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور یہی حال شاگرد کا ہوتا ہے۔ ہر وہ تعلق جس کی بنیاد طلب ورسد (demand and supply)اور زر (money and finance)کی روح پر استوار نہ ہو سرمایہ دارانہ معاشرے میں لایعنی، مہمل، بے قدرو قیمت اور غیر عقلی (irrational)ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیار عقلیت کے مطابق عقل مندی (rationality) اسی کا نام ہے کہ آپ ذاتی غرض کی بنیاد پر تعلق قائم کریں۔ معاہدات پر مبنی یہ معاشرت خاندان کو تباہ و برباد کردیتی ہے کیونکہ خاندان اور برادری کی بنیاد محبت و صلہ رحمی ہے نہ کہ ذاتی اغراض کی تکمیل۔ لازم تھا کہ ہم سرمایہ دارانہ معاشرے (سول سوسائٹی) کی خصوصیات پر مزید کچھ گفتگو کرتے کیونکہ یہی وہ معاشرت ہے جہاں سرمایہ دارانہ انفرادیت نشونما پاکر دوام اختیار کرتی ہے لیکن یہ بحث ہمارے موضوع سے براہ راست تعلق نہیں رکھتی۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ معاشرتی تعلقات اور صف بندی کی نوعیت کو سمجھنا نہایت اہم ہے کیونکہ یہ تعلقات وہ جال ہیں جن کے اندر شامل ہوکر فرد اپنی شناخت کرتا ہے کہ ’میں کون ہوں؟‘ معاشرتی تعلقات کی بنیاد پر فرد ایک خاص قسم کی اغراض اور شخصیت کو قبول کرلیتا ہے۔ 

سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کے بنیادی احساسات 

آزادی کے طلب گار مغربی فرد کا المیہ احساس کی کثافت ہے۔ اس کا قلب شہوت اور غضب کے احساسات سے مغلوب ہے اور یہی حال ان لوگوں کا ہے جو مغرب سے متاثر ہیں۔ اس پر اضطرار اور یاسیت (frustration and boredom) کی کیفیات بالعموم طاری رہتی ہیں۔ احساس محرومی اور تنہائی نے اسے ابدی طور پر گھیر لیا ہے۔ عیسائی تعلیمات کے مطابق اضطرار انسان کا وہ ابدی ورثہ ہے جو اسنے پہلے گناہ (original sin) کی وجہ سے اپنے اوپر مسلط کرلیا ہے۔ عیسائی مفکرین مثلاً کیرکگارڈ (Kirkegard) کے بقول آدمؑ جنت میں اپنی تنہائی کی وجہ سے اضطرار کا شکار ہوئے اور پہلا گناہ کر بیٹھے۔ لہٰذا تنہائی اور اضطرار کا احساس مقدم اور دائمی ہے اور ان احساسات سے دنیاوی زندگی میں نجات ناممکن ہے۔ مغربی دہریت بھی احساس اضطرار و تنہائی کا اقرار کرتی ہے۔ یہ دہریت فرد کو آزادی حاصل کرنے یعنی خدا (الصمد) بن جانے کی تلقین کرتی ہے۔ مگر آزادی کا مطلب ہی تعلقات کی نفی کرناہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ آزادی احساس تنہائی کا دوسرا نام ہے۔ انسان جتنا تنہا ہوگا اس کی آزادی اتنی بڑھے گی۔ چونکہ اضطرار اور یاسیت کی وجہ تنہائی ہے، اس لئے : 

  • جیسے جیسے آزادی بڑھے گی ویسے ویسے تنہائی بڑھے گی 
  • جیسے جیسے تنہائی بڑھے گی اضطرار اور یاسیت بڑھے گی اور انسان کا احساس محرومی اور اسکا غضب و شہوت قلب کو مسخر کرے گا 

چنانچہ اضطرار مغربی انسان یعنی ہیومن کا اساسی احساس ہے اور مغربی مفکرین مثلاً ہائیڈیگر اور سارت وغیرہ کے نزدیک یہ انسان کی فطری کیفیت ہے۔ ہائیڈیگر کہتا ہے کہ ’اضطرار بالکل غیر معین ہے اور یہ عدم محض کی تلاش اور جستجو کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے‘۔ پھر آزادی کا حصول بھی ناممکن ہے جسکی چار بڑی وجوہات ہیں: 

(۱) مغربی فرد وجود کی لامعنویت کا قائل ہے، وہ وجود کا واحد مقصد حصول آزادی قرار دیتا ہے اور چونکہ آزادی خود کچھ نہیں بلکہ عدم محض اور تعلقات کے عدم وجود کا نام ہے لہٰذا وجود کچھ حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ اسلئے اسکے نزدیک زندگی محض کھیل تماشا ہے جس میں معنویت انسانی خواہشات پیدا کرتی ہیں اور چونکہ ہر خواہش ان معنی میں لایعنی ہے کہ اس کی کوئی قدر نہیں لہٰذا وہ زندگی کو معنی دینے کیلئے اظہار ذات کے نت نئے طریقوں کی تلاش میں رہتا ہے (۲۰) ۔ مگر چونکہ آزادی عدم محض ہے، لہٰذا اسکا قلب لامعنویت اور اضطرار کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا رہتا ہے اور اسے کبھی اطمینان کی دولت نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اطمینا ن تو کسی شے کے حصول اور اسپر راضی ہوجانے کے بعد نصیب ہوتا ہے اور اسکا واحد منبع ذکر الہی ہے جو انسان کو اسکے ابدی مقام کی مسلسل یا ددلاتا ہے 

(۲) پھر کوئی شخص بھی اپنے جینیاتی (genetic)ورثہ اور اپنے تاریخی وقوع (historical situation) کو خود متعین نہیں کرسکتا۔ میں محمد صدیق کا بیٹا اور مرد ہونے پر مجبور ہوں۔ میں اپنے ارادے کے بغیر مجبوراً یکم دسمبر ۱۹۷۸ کو کراچی کے ایک مسلمان اور متوسط آمدنی کے گھرانے میں پیدا ہوگیا۔ نہ میں اپنا زمان و مکان خود متعین کرسکتا ہوں اور نہ اپنی صلاحیتیں خود منتخب کرسکتا ہوں۔ ان تمام مجبوریوں کے پیش نظر میری آزادی کس قدر محدود ہے 

(۳) ان سب سے بڑھ کر آزادی کو محدود کرنے والی شے موت ہے کہ میں عنقریب اپنے کسی ارادے کے بغیر مرجاؤں گا، پھر آزادی کا کیا مطلب؟ 

(۴) اور پھر آزادی طلب کرنے کیلئے فرد کو آزادی یعنی سرمائے کا جبر قبول کرنا پڑتا ہے۔ آزادی (choice of choice) چاہنے کیلئے ضروری ہے کہ میں سرمائے کو چاہوں کہ یہی وہ شے ہے جو ہر تصور خیر کے پنپنے کے امکانات ممکن بنا تی ہے۔ لہٰذا اصل خیر جس سے ہر ہیومن کو منسلک (committed) ہونا پڑتا ہے وہ سرمائے میں لامحدود اضافہ کرنے کی خواہش ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے وضع کی جانے والی ادارتی صف بندی (institutionalization) کو اسے قبول اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔ فرد اس دھوکے میں رہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو خود اپنی مرضی سے معنی دے رہا ہے جبکہ حقیقتاً وہ اپنی خواہشات کو اسی طرح ترتیب دینے پر مجبور ہے جسکی مارکیٹ اسے اجازت دیتی اور مواقع فراہم کرتی ہے (اور مارکیٹ اخلاق رزیلہ ہی کے اظہار کے مواقع فراہِم کرتی ہے) 

ان خیالات کو قبول کرکے جو بھی شخص آزادی کی جستجو میں ہے اپنی زندگی کو لایعنی بنا لیتا ہے۔ مشہور جرمن فلسفی ہائیڈیگر کہتا ہے کہ ’انسان اشیاء کو پاتا ہے انہیں تخلیق نہیں کرسکتا، وہ کائنات میں پھینک دیا جاتا ہے ‘ (we are thrown into the universe)۔ بقول سارت کون کس وقت کیوں کائنات میں پھینکا گیا یہ ہم نہیں جان سکتے اور چونکہ انسان کائنات میں پھینک دیا جاتا ہے، چونکہ وہ کائنات میں تنہا ہے، چونکہ اسکے وجود کو ایک دن ختم ہوجانا ہے، چونکہ وہ واقعیت (facticity) کی جکڑ بندیوں میں ازلی ابدی طور پر جکڑا ہوا ہے، چونکہ واقعیت کی جکڑ بندیاں صرف یہی نہیں کہ وہ اپنے جینیاتی ورثہ اور تاریخی وقوع کے بارے میں مجبور ہے بلکہ واقعیت اس بات کا بھی احاطہ کرتی ہے کہ وہ نیک ہے یا بد، جس طرح وہ جینیاتی اور تاریخی وقوع کے اعتبار سے مجبور ہے اسی طرح میلانات کی پاکیزگی یا کثافت کے اعتبار سے بھی مجبور ہے، لہٰذا نیکی اور بدی کے پیمانے بھی ازلی اور ابدی نہیں ہیں ۔ موت وجود کو ختم کردیتی ہے اور مغربی تصورات خیروشر انفرادی موت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر موت وجود کو ختم کردیتی ہے تو خیروشر کے ایسے پیمانے جو ذاتی اخلاقیات پر محیط ہوں پیش نہیں کئے جاسکتے، بالخصوص ان حالات میں جب فرد حصول آزادی کو مقدم رکھتا ہو۔ ہر وہ انفرادی فعل جائز ہوگا جس کے ذریعے موت کو موخر یا بھلایا جاسکے ۔ مغربی انفرادیت کے پاس خیر کا کوئی substantive (مثبت،منجمدیا حقیقی ) تصور سرے سے موجود ہی نہیں، کیونکہ جس آزادی کو وہ خیر اعلی گردانتا ہے اسکا مافیہ کچھ نہیں بلکہ وہ عدم محض ہے۔ یہاں خیر ’کوئی مخصوص چاہت ‘ نہیں بلکہ ’کسی بھی چاہت کو اختیار کرسکنے کا حق‘ ہے۔ دوسرے لفظوں میں مغربی تصور خیر درحقیقت عدم خیر (absence of any good) ، یعنی ہر خیر کی نفی کا نام ہے اور یہ عدم خیر ہی اسکے خیال میں خیر اعلی ہے۔ انہی معنی میں مغربی تصور خیر اصلاً شر محض (absolute evil)ہے کیونکہ شر درحقیقت عدم خیر ہی کا نام ہے اسکااپنا علیحدہ کوئی وجود نہیں۔ اسی لئے مارماڈیوک پکتھال فرمایا کرتے تھے کہ مغربی تہذیب در حقیقت تہذیب نہیں ’بربریت‘ (savagery) یعنی تہذیب کی ضد ہے، اور مغربی انفرادیت یعنی ہیومن درحقیقت ابلیس (۲۱) ہے۔ 

سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کا تصور علم 

معلوم ہوا کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت حالت اضطرار میں اس لئے مبتلا ہے کیونکہ وہ شہوت و غضب کا شکار ہے۔ جس شے کو وہ مفروضے اور عقلمندی کے طور پر قبول کرتی ہے وہ آزادی یعنی ارادہ انسانی کی بالا دستی یا حصول لذات و غضب کو زندگی کا مقصد سمجھنا ہے۔ اس بیماری کی حالت میں جس شے کا علم وہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ دنیا ہے۔ ادراک ذات کے امکان کو وہ سرے سے ناممکن سمجھتی ہے کیونکہ ادراک ذات کیلئے ضروری ہے کہ خواہشات میں ترجیح کا پیمانہ قائم کیا جائے جو اسکے لئے ممکن نہیں ہے۔ Rawls  کہتا ہے کہ تم جو کچھ بھی چاہتے ہو وہ ٹھیک ہے یعنی اس بات کو حتمی سمجھو کہ انسان جو چاہتا ہے وہ اس کا مکلف ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ تم کہہ سکو کہ انسان کو کیا چاہنا چاہئے اور ہر انسان اس چاہنے کے حق میں برابر ہے۔ گویا یہ لاعلمی لازم جانو کہ ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے جو یہ بتائے کہ انسان جو چاہتا ہے اسے چاہنا چاہئے یا نہیں۔ پس جتنا زیادہ وہ دنیا پر تصرف کرتا ہے اتنی ہی زیادہ تسکین حاصل کرسکتا ہے۔ لہٰذا ایسا فرد جس شے کو علم سمجھتا ہے وہ دنیا کے بارے میں اس کی وہ اطلاع ہے جو اسکے کلیات (faculties) مثلاً حواس اسے فراہم کرتے ہیں۔ وہ اپنے رب کا باغی ہے اور سمجھتا ہے کہ علم اور معنی کا منبع اس کی ذات ہے۔ دنیا کے علاوہ ہر علم کا وہ انکاری ہے، مگر ہم اس کی معلومات کو علم نہیں مانتے کیونکہ جیسا کہ امام غزالیؒ نے فرمایاکہ علم تو خدا کا ڈر ہے یعنی جو معلومات خشیت پیدا کرے وہ علم ہے اور جو ایسا نہیں کرتی وہ جہالت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء یعنی علم رکھنے والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، معلوم ہوا کہ علم کا حاصل تقوی ہے ۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے پاس دنیا کی چیزوں کی اطلاعات بہت ہیں لیکن یہ اسے کوئی علم مہیا نہیں کرتیں۔ جو بھی اطلاعات اسے ملتی ہیں صرف ان چیزوں سے متعلق ہیں جو محسوسات سے تعلق رکھتی ہیں اور ظاہر ہے محض محسوسات کی بناء پر جو اطلاعات فراہم ہوتی ہیں انکی یہ حیثیت نہیں کہ فرد کے اندر خوف خدا پیدا کردیں ۔ خوف خدا پیدا ہونے کیلئے ضروری ہے کہ فرد ان تمام اطلاعات کا مشاہدہ کرنے کیلئے صحیح مقام (عبدیت) پر ہو، بصورت دیگر وہ اطلاعات اسے محض اس بات پر تقویت دیں گی کہ وہ ایک خدا ہے جو کہ اس کی قلبی بیماری ہے۔ گویا اس کے پاس اطلاعات تو ہیں لیکن چونکہ وہ مشاہدہ درست مقام سے نہیں کرتا، اسلئے اسکے پاس علم نہیں آتا بلکہ وہ ان تمام اطلاعات کو ترتیب دیکر اپنی لذات کی تسکین اور غلبے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن نے اس حقیقت سے یوں پردہ اٹھایا فاعرض عن من تولی عن ذکرنا ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا ذالک مبلغہم من العلم  (جو لوگ میرے ذکر سے منہ موڑتے ہیں اور صرف دنیاوی زندگی کے طالب ہیں ان سے اعراض کرو، ان کے علم کا مقصد و محور بس اتنا ہی ہے)۔ یاد رکھو کہ علم کی بنیاد ما بعد الطبعیات پر مبنی مفروضات ہوتے ہیں، جاننے کا عمل محض جاننے کیلئے نہیں بلکہ ’کسی لئے جاننا ‘ ہوتا ہے۔ یعنی جانناعالم و معلوم کے درمیان ایک تعلق کا نام ہے اور اس تعلق کی نوعیت عالم کے مقصد سے متعین ہوتی ہے ۔ اگر مقاصد جدا ہونگے تو جاننا بھی جدا ہوگا۔ میرے استاد اور باس کے مجھے جاننے میں جو فرق ہے وہ ان کے مقاصد کے فرق کی بناء پر ہے۔ میرے باس میری ذات کو بطور یونیورسٹی میں علم معاشیات کے مضامین پڑھانے والے ایک وجود کی حیثیت سے پہچانتے ہیں جبکہ میرے اساتذہ مجھے تحریکات اسلامی کے ایک کارکن کے طور پر پہچانتے ہیں کہ خدمت اسلام کے ضمن میں مجھ سے کیا کام لینا ممکن ہے۔ مغربی انفرادیت کے نزدیک جاننے کا مطلب رضا ئے الہی کے حصول کا طریقہ جان لینا نہیں بلکہ جاننے کا واحدجائز مقصد تصرف فی الارض و تسخیر کائنات یعنی ارادہ انسانی کو کائنات پر مسلط کرنا ہے کیونکہ اسکے نزدیک زندگی کے معنی ہی ارادہ انسانی کی تکمیل ہے۔ اسکا علم اس جاہلانہ ذہنیت و جنون کو پروان چڑھاتا ہے کہ عقل انسانی کو استعمال کر کے فطرت کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا نا نیز انسانی ارادے کو خود اسکے اپنے سواء ہر بالا تر قوت سے آزاد کرنا عین ممکن ہے ۔ کانٹ کہتا ہے کہ انسانی ذات (self) کے اندر ایسا نظام (structure) اور ترتیب (order) موجود ہے جو انسانی تجربے کو ہئیت (form) اور معنی (meaning) فراہم کرتا ہے، ذات کے اس اندرونی نظام کے بغیر تجربہ ممکن نہیں ہوسکے گا۔ کائنات اپنے اندر کوئی معنی نہیں رکھتی، جب ذات کے اندر موجود نظام کو اس پر مسلط کیا جاتا ہے تو اس میں معنی پیدا ہوتے ہیں۔ کائنات کو ایک معقول کائنات کے طور پر سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے ذات کے نظام کے ذریعے سمجھا جائے، یعنی تعقل، معانی، ربط و ضبط، نظام زندگی ہر چیز کا منبع انسانی ذات ہے اور اس منبع نور کے علاوہ علم کا اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ کانٹ کے نزدیک ذات کی اس صلاحیت پر ایمان لانے کے بعد ہم ایسے عمومی اصول وقوانین و ضع کرسکتے ہیں جو آفاقی ہوں، اسکے لئے کسی شریعت کی ضرورت نہیں۔ اسکے خیال میں انسانی نفس جانتا ہے اور جاننے کا ذریعہ ہے، مگر ذات خود اپنی حقیقت کے ادراک کے سوال پر مکمل خاموش ہے ۔ ہاں انسانی ذات کے نظام کو درست طریقے سے استعمال کرکے (جسے scientific methodکہتے ہیں) ایسا مثالی اور عادلانہ معاشرہ ترتیب دینا ممکن ہے جسے کانٹ Kingdom of Endsسے تعبیر کرتا ہے ، جہاں ریاست ہر فرد کا یہ اختیار تسلیم کرلے کہ وہ خود مختار (autonomous)اور قائم بالذات (self-determined)ہے، جہاں ہر شخص اس بات کا تعین کرسکے گا کہ وہ کیسی زندگی گزارے گا یعنی جہاں ہر شخص کیلئے خیر وشر کی تعیین اور اپنے ارادے کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔ 

سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کی مختلف تعبیرات 

انسان جب عبدیت کا انکارکرتا ہے تو خدا کہ جگہ یا تو اپنی ذات کو رکھتا ہے اور یا پھر اپنی نوع کو۔ یاد رکھو کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے اظہار کی بعض تعبیرات انفرادی ہیں اور بعض اجتماعی۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کا اظہار بطور نوع کے دو بڑے نظریات ہیں، ایک اشتراکیت اوردوسرا قوم پرستی ۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ انفرادیت کی خدائی بطور ذات کے بڑے نظریات لبرل ازم اور انارکزم (Anarchism)ہیں(۲۲) ۔ ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ سب آزادی کے طلب گار اور خدا کے باغی ہیں جبکہ فرق کرنے والی شے آزادی کے حصول کا طریقہ ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی جو تفصیل اوپر بیان کی گئی وہ لبرل مفکرین اور قائدین کی فکر سے ماخوذ ہے۔ لبرل مفکرین فرداً فرداً ہر شخص کو الوہیت انسانی کا مکلف سمجھتے ہیں، یعنی انکے خیال میں یہ حق ہر ’فرد‘ کا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی جو ترتیب متعین کرنا چاہے کرے۔ یہ مفکرین فرد کو تاریخ اور معاشرے سے ماوراء وجود کی حیثیت سے پہچانتے ہیں اور الوہیت انسانی کے مقصد کے حصول کیلئے ذرائع پیداوار میں اضافے کو ہدف قرار دیکر انہیں مارکیٹ نظم کے تابع کردینا چاہتے ہیں کیونکہ یہی نظم انکے خیال میں فرد کی منتہا آزادی کا محافظ ہے۔ وہ جمہوری معاشرہ اور ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں کہ یہی معاشرتی و ریاستی تنظیم ا س بات کو ممکن بناتی ہے کہ فرد جو چاہنا چاہے چاہ سکے۔ اشتراکی اور قوم پرست سرمایہ داری کے مفکرین بھی تحریک تنویر کے ورثاء ہیں جن میں سب سے نمایاں نام Hegal, Marx اور Neitzshe وغیرہ کے ہیں۔ یہ تینوں بھی الوہیت آدم کے قائل ہیں اور ان کا مشن بھی انسان کو human being بنانا ہے۔ یہ بھی آزادی، مساوات اور ترقی کو اقدار کے طور پر قبول کرتے ہیں اور بڑھوتری سرمایہ کو ان مقاصد کے حصول کے ایک ناگزیر اور لازمی ذریعہ سمجھتے ہیں۔ قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ داری کے فلاسفر ہیگل، مارکس اور نطشے humanity کو بحیثیت نوع الوہیت کا مکلف سمجھتے ہیں۔ لبرل مفکرین کے برخلاف یہ فلاسفہ کہتے ہیں کہ Human being انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی وجود کا اظہار ہے۔ Human being اپنی الوہیت کا اظہار تاریخی عمل میں کشمکش کے ذریعہ کرتی ہے۔ قوم پرست مثلاً نطشے کہتا ہے کہ یہ کشمکش مختلف اقوام کے درمیان ہوتی ہے جبکہ اشتراکی سرمایہ داری کے وکیل مثلاً مارکس اس کشمکش کو طبقاتی سمجھتے ہیں۔ اشتراکیوں کا خیال ہے کہ طبقاتی کشمکش کے ذریعے تاریخ کے آخری سرے پر ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ہر خواہش کی تسکین ممکن ہوگی۔ ایسے معاشرے کے حصول کیلئے ذرائع پیداوار اور قوت کو استحصالی طبقے سے چھین کر مظلوم طبقے کے قبضے میں کرنے کی سعی لازم ہے اور یہی وہ جدوجہد ہے جسکے نتیجے میں وہ انفرادیت (specie being) پیدا ہوگی جو اشتراکی معاشرے کو قائم کرے گی۔ اس معاشرے میں اخلاقیات کی بحث لایعنی ہوگی کیونکہ وہاں مکمل آزادی ہوگی اور کسی فعل پر قدغن کا سوال نہیں ہوگا۔ انسان ہر اس چیز کی خواہش کرسکتا اور اس کی تکمیل کرسکتا ہوگا جسکی وہ خواہش کرنا چاہتا ہے۔ یہ سوال کہ انسا ن کو کس چیز کی خواہش کرنا چاہئے اشتراکی ، لبرل یا قوم پرست نقطہ نگاہ سے ایک ناقابل تفہیم سوال ہے۔ چونکہ ان تینوں نظریات کے مطابق حصول آزادی واحد مقصد حیات ہے اور چونکہ وہ انسان کو خدائی صفات کا مکلف گردانتے ہیں لہٰذا انکے نزدیک ہر شخص کو مساوی حق ہے کہ وہ جو چاہتا ہے چاہے۔ چونکہ خواہشات لا محدود ہیں لہٰذا اشتراکی، لبرل یا قوم پرست مثالی معاشرے کا کوئی واضح تصور ممکن نہیں۔ بقول نطشے وہ محض لامعنویت کی ابدیت (eternalisation of absurdity) ہے۔ قوم پرست فکر میں لامعنوی ابدیت کے حصول کیلئے ایک فوق البشر (super man) یا فوق البشر قومیت کی تعمیر ضروری ہے، ایک ایسی شخصیت یا قوم کا وجود جسکے پاس تمام کائناتی قوت مجتمع ہو اور جو خود خیروشر کی تخلیق کرے۔ الغرض دونوں قسم کے مفکرین کی رائے ہے کہ اس تاریخی کشمکش میں جو قوم یا طبقہ (class) غالب آتا ہے وہی human being کا اصل نمائندہ (representative) ہوتا ہے اور وہی اپنے ارادہ کے نفاذ کے ذریعہ الوہیت human being کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ پوری human نسل کا فرض ہے کہ وہ اس غالب قوم یا طبقے کی اطاعت کرے۔ یہی غالب قوم یا طبقہ خیر اور شر کی تعبیر اور تنفیض کا حق دار ہے اور تمام human انفرادیتوں کو اسی غالب قومی یا طبقاتی انفرادیت میں ضم ہوجانا چاہیے۔ یہ غالب قومی یا طبقاتی انفرادیت ان تمام خصوصیات کی حامل ہوتی ہے جو لبرل مفکرین شخصی انفرادیت کے ضمن میں بیان کرتے ہیں۔ اس غالب قوم یا طبقے کا مقصد وجود آزادی اور ترقی کا حصول ہوتا۔ یہ غالب قوم یا طبقہ آزادی اور قوت کے اضافے کی تگ و دو میں انتہا درجہ کا حریص اور حاسد ہوتا ہے اور اپنی آزادی اور ترقی کے لیے سرمایہ کی بڑھوتری ہی کو اصل ذریعہ سمجھتا ہے ۔ وہ اپنی آزادی اور ترقی کے لیے لوٹ مار، قتل و غارت اور بدترین سفاکیت اور بہیمیت کو نہ صرف جائز بلکہ فرض عین گردانتا ہے کیونکہ اسی قتل و غارت، لوٹ مار اور دھوکہ اور فریب کے ذریعہ ہی اس کی آزادی اور ترقی ممکن ہوتی ہے اور اس طبقے اور قوم کا غلبہ ہی الوہیت ہیومن بینگ [human being] کا اظہار ہے حق صرف وہ ہے جو اس اظہار کو ممکن بناسکے(۲۳)۔ اشتراکی، قوم پرست اور لبرل نظریات کسی ابدی اخلاقیات کی نشاندہی نہیں کرسکتے۔ ان کا مقصد حصول آزادی ہے اور چونکہ آزادی کچھ نہیں صرف عبدیت اور دیگر تعلقات کی نفی ہے لہٰذا قدر کا اثبات کرنے سے قاصر ہے۔ قدر کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان یہ سوال اٹھاسکے کہ اسے کیا چاہنا چاہئے اور کیا نہیں، کیا اہم ہے اور کیا غیر اہم۔ ان نظریات میں اخلاقیات کی بنیاد صرف انسانی خواہشات ہیں۔ مگر یہ واضح ہے کہ نفس لوامہ خواہشات کو صرف احکام الہی کے سامنے تول کر ہی پرکھ سکتا ہے اور اگر احکامات الہی سے انکار کرکے انسان خدا بن بیٹھے تو روح اور نفس کا تعلق کمزور پڑ جاتا ہے اور نفس امارہ نفس لوامہ پر غالب آجاتا ہے۔ ہائیڈیگر کہتا ہے کہ مغربی علمی تناظر میں ’نفس لوامہ کی بحث صرف خاموشی ہے‘ (discourse of discriminatury self is pure silence)۔ وہ نفس جسکے احکام کی بنیاد خواہشات ہوں قدر کی پہچان اور علم و عرفان کے حصول سے قاصر رہتا ہے۔ قدر کا تعین صرف احکام الہی کی بنیاد پر ممکن ہے۔ امام غزالیؒ کا ارشاد ہے کہ علم خشیت الہی سے حاصل ہوتا ہے اور اسی خشیت کو پروان چڑھا کر مومن اپنے حال پر مطمئن اور مقام سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہی آگاہی اسے بندگی کیلئے تیار کرتی ہے۔ صوفیاء کا مشہور قول ہے ’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘۔ اپنے نفس کی حقیقت کی آگاہی انسان کو عبدیت پر راضی کرتی ہے۔ اب ہم مختصراً اس کام کی نوعیت بیان کرتے ہیں جسے اصلاح انفرادیت کے ضمن میں تحریکات اسلامی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ 


حواشی

۱۴۔ آزادی کی پرستار انفرادیت اظہار ذات کے تمام طریقوں کے سامنے پیش کی جانے والی ہر قسم کی رکاوٹوں (مذہبی، معاشرتی، ریاستی وغیرہ) کو ہٹا دینا چاہتی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ یہ تمام رکاوٹیں یک جنبش ختم ہوجاتی ہیں بلکہ یہ تدریجی عمل ہوتا ہے جیسا کہ عیسائی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہے کہ سب سے پہلے باغی انفرادیت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مذہب کی معتبر تاریخ کو ترک کرکے اصلاح و تعبیر مذہب کے نام پر نئے تقاضوں کی مذہب میں گنجائش پیدا کی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ جب نفس پرست انفرادیت کے نفس امارہ کی خوب پرورش ہوجاتی ہے اور وہ منکرات کا رسیا ہوجاتا ہے تو وہ رہی سہی مذہبیت کا بھی انکاری ہوجاتا ہے۔ یہی حال موجودہ دور میں متجدیدین کا ہے کہ بجائے نفس پرست انسان کی تطہیر قلب کی فکر کرنے کے وہ نئے تقاضوں کی روشنی میں اسلام کی تشریحات کرکے فنون لطیفہ وغیرہ کا جواز فراہم کرنے میں مصروف ہیں 

۱۵۔ آزادی کیلئے قرآنی اصطلاح بغی ہے جیسا کہ سورۃ نحل میں فرمایا ’ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربی وینہی عن الفحشاء والمنکر والبغی‘ 

۱۶۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے ورود میں انقلابات برطانیہ و فرانس ، استعماری دور میں ہونے والی لوٹ مار، عیسائی تعلیمات کی کمزوری اور عیسائی علماء کے نفاق وغیرہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ تفصیلات کیلئے دیکھئے ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کا مضمون ’عالم اسلام اور مغرب کی کشمکش: نئے تناظر میں‘ ، ماہنامہ ساحل شمارہ اگست ۲۰۰۶ 

۱۷۔ مجاہدین لال مسجد کے ساتھ ہونے والا سلوک اس کی واضح مثال ہے جہاں ریاست نے زنا کاری پھیلانے والے عناصر کی خبر لینے کے بجائے اصول آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے مجاہدین پر مظالم توڑ کر ہیومن رائٹس کا تحفظ کیا 

۱۸۔ کانٹ کہتا ہے کہ انسان قائم بالذات (autonomous) ہے، وہ کہتا ہے کہ Enlightement کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان اپنی صمدیت (self-sufficiency) کو پہچانے اور ہر بیرونی سہارے کو رد کرے، جو ایسا نہیں مانتا وہ کم عقل (immature) ہے اور ہیومن کہلانے کا اہل نہیں 

۱۹۔ سوشل سائنسز میں خلوص، محبت، صلہ رحمی، گناہ وغیرہ کی اصطلاحات کلیتاً غائب ہیں کیونکہ انکی جگہ ’عمرانی معاہدے ‘ کے تصور نے لے لی ہے 

۲۰۔ فیشن کا مطلب ہے بے معنی کاموں میں معنی تلاش کرنا ۔ کیونکہ مغربی فرد وجود کی لامعنویت کا قائل ہوچکا لہٰذا وہ ہر اس طریقے سے اپنی خودی کا اظہار کرتا ہے جسے لوگ عام طور بے معنی سمجھتے ہیں۔ اس طرز عمل کی بین مثالیں اچھوتے لباس، داڑھی اور سر کے بالوں کے مختلف انداز، نت نئے کھیلوں کی ایجاد ، گانے بجانے کے بے ڈھنگ طریقوں، فنون لطیفہ کے فروغ وغیرہ کی شکل میں نظر آتی ہیں۔ الغرض خبط پن کے ہر طریقے کو ذات کے با معنی اظہار کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے 

۲۱۔ انگریزی میں ابلیس کا لغوی معنی the frustrated one ہیں یعنی وہی کیفیت جسکا مغربی فرد شکار ہے 

۲۲۔ سرمایہ داری کوئی نظریہ نہیں بلکہ نظام زندگی ہے جسکے مختلف نظریات اور تعبیرات (لبرلزم، قوم پرستی، اشتراکیت) ہیں۔ ہر تعبیر کی تفصیلات میں اختلاف ہے البتہ مقصد سب کے نزدیک یکساں ہے (یعنی انسانی ارادے کی بالادستی )۔ یہ اسی بات کا اظہار ہے کہ لبرل ممالک (مثلاً امریکہ یا یورپ) ہوں یا اشتراکی (مثلاً روس یاچین)، ہر جگہ اخلاق رزیلہ سے متصف ایک ہی جیسی انفرادیت پروان چڑھتی ہے نیز ہر جگہ یکساں نوعیت کی غلیظ معاشرت عام ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک معاشرے میں ولی اللہ ، عبادت گزار اور متقی پیدا ہوتے ہیں اور دوسری جگہ فساق و فجار۔ نہیں بلکہ ان میں سے جو بھی نظریہ کسی معاشرے پر غالب آیا وہاں بلا کسی استثناء خدا کی باغی اور جہنمی اعمال کرنے والی انفرادیت عام ہوئی 

۲۳۔ قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کا نظام اقتدار (state) لبرل نظام اقتدار سے مختلف ہوتا ہے۔ اس نظامِ اقتدار میں غالب قوم یا طبقہ کی نمائندگی ایک رہبر (ہٹلر، اسٹالن) یا ایک پارٹی (نازی یا کمیونسٹ) کرتی ہے۔ اس فرد یا جماعت کا حق ہے کہ وہ خیر اور شر کی تعبیر و تشریح کرے جو اس کی آزادی اور ترقی کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو اور اس غالب فرد یا جماعت کا فائدہ ہی پوری قوم اور طبقہ کا فائدہ تصور کیا جاتا ہے۔ دیگر افراد کا فرض ہے کہ وہ اپنی انفرادیت، غالب پارٹی یا رہنما کی انفرادیت میں ضم کر دیں۔ اس عمل میں مہمیز دینے کے لیے چین میں ۱۹۶۶ء میں مشہور ثقافتی انقلاب (Cultural Revolution) برپا کیا گیا اور نازی جرمن اور سویت یونین کی ثقافتی پالیسی سوپرمین (Superman)، نیومین (New man)اور سوویٹ مین(Souvait man) کو وجود میں لانے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا جب سرمایہ کی بڑھوتری مقصد وجود کے طور پر اجتماعی سطح پر قبول کیا جاتا ہے تو بیشتر افراد کی زندگی فاسد اور رذیل رجحانات سے ملوث ہوجاتی ہے جس کا اظہار نظام اقتدار اور غالب قائد یا پارٹی کرتی ہے۔ لہٰذا قوم پرست یا اشتراکی انفرادیت کو عام آدمی ہیجانی ادوار کے علاوہ کبھی بھی قبول نہ کرسکا اور غالب قیادت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں ایک آدمی کی زندگی میں ہوس، حرص، شہوت رانی، دنیا پرستی، خود غرضی اور سفاکیت نے فروغ پایا اور اس کو اشتراکی اور قوم پرست نظام اقتدار کے فروغ اور استحکام کے لیے ریاستی استبداد کے ذریعہ عام آدمی کو مسلسل مجبور کرنا پڑا۔ جیسے جیسے ریاستی استبدادی گرفت ڈھیلی پڑی، عام آدمی نے اشتراکی نظام سے چھٹکارا حاصل کر کے بدترین اخلاقی رزائل کو اپنا لیا۔ لوٹ مار، جھوٹ، دھوکہ اور فریب، جنسی بے راہ روی اور فحاشی کا جو سیلاب مشرقی یورپ، روس اور چین کے ساحلی شہروں میں آیا ہوا ہے اس کی مثال تو یورپ اور امریکہ کے غلیظ ترین معاشرہ میں بھی نہیں ملتی۔ اس سے ثابت ہوا کہ اشتراکی یا قوم پرست انفرادیت کوئی علیحدہ چیز نہیں سرمایہ دارانہ انفرادیت وہ انفرادیت ہے جو: 

  • الوہیت human being کی طالب ہے
  • جس کے احساسات اور خواہشات پر حرص اور حسد شہوت اور غضب حاوی ہوجاتے ہیں 
  • اور جو اپنی عقل کو ان ہی رذائل کے اظہار کے لیے بذریعہ بڑھوتری سرمایہ استعمال کرتی ہے 

یہ انفرادیت شخصی بھی ہوسکتی ہے اور اجتماعی (قومی طبقاتی) بھی، دونوں صورتوں میں اس انفرادیت کو پنپنے کے لیے سرمایہ دارانہ معاشرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

(جاری)

آراء و افکار