دنیائے اسلام پر استشرقی اثرات ۔ ایک جائزہ (۲)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

مفسرین اور ان کے متبعین

عالم اسلام میں تفسیر قرآن کے باب میں بھی استشراقی اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔بہت سے مسلم اہل تفسیر نے اپنی تعبیراتِ قرآنی کو استشراقی نتائج فکر سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ان معروف اہل تفسیر کے بہت سے عقیدت مندوں اور متبعین نے بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور وہی طرز تفسیر اپناتے ہوئے استشراقی تصورات سے تطابق کی سعی کی ہے۔ اس سلسلہ میں دنیائے اسلام کے دو نمایاں ترین افراد یعنی مفتی محمد عبدہ اور سر سید احمد خاں اور ان کے متبعین اور حلقہ فکر کے لوگوں کے تفسیری نکات کا مختصر تذکرہ ضروری آگہی کے لیے کفایت کرے گا۔

عالم عرب میں تجددکا علم بلند کرنے والوں میں سب سے نمایاں نام مفتی محمد عبدہ کا ہے اوریہ کہنا بجا ہے کہ وہاں تجدد پسند مکتب خیال کا وجود ہی ان کا مرہون منت ہے۔ ۶۶؂ انہوں نے جدید تصورات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے قرآنی آیات میں تاویلی امکانات کو نہایت وسیع کر دیا۔ ان کے نزدیک جنات سے جراثیم یا مائیکروب۶۷؂اور آدم سے ہر نسل کا الگ مورث اعلیٰ ۶۸؂مراد لینے میں کچھ مذائقہ نہیں۔ وہ سورہ العصر کی آیت ۳ کی تفسیر میں’صالحات‘ کے تصور کو آفاقیت کا رنگ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ صرف حاملانِ شریعت تک ہی محدود نہیں بلکہ ان اقوام تک بھی ممتد ہے جن میں پیغمبر نہیںآئے اور یہی وہ چیز ہے جسے قرآن ’معروف‘سے تعبیر کرتا ہے۔ ۶۹؂گویا صالح ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔ مفتی صاحب نے سورہ الفیل میں لشکر ابرہہ کی تباہی کے خارق عادت واقعہ کو عقلیت پسندوں کے لیے قابل قبول بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ جن سنگریزوں سے لشکر ابرہہ کی تباہی ہوئی وہ زہریلی خشک مٹی کے ہوں اور ہوا کے ذریعہ یہ مٹی اڑ کر پرندوں کے پاؤں سے چمٹ گئی ہواور پھر جب یہ مٹی لشکر کے افراد پر گری ہو تو ان کے مساموں داخل ہو کر آبلے ڈال دیے ہوں اور یوں اعضائے جسمانی سے گوشت جھڑنے لگا ہو۔۷۰؂ مفتی محمد عبدہ کے نظریات بقول Malcolm H. Kerrآئندہ آنے والے اعتذاری مکتبہ خیال کے افراد کے لیے بنیاد کاکام دینے لگے۔۷۱؂ مصنف مذکور نے حاشیہ میں تصریح کی ہے کہ مفتی کے عقائد وتصورات کو بعد ازاں ان کے شاگردمکمل لادینیت اور سیکولرازم کی طرف لے گئے ۔ ۷۲؂ 

مفتی صاحب کے ایک نامور شاگرد محمد رشید رضاہیں۔ان کا کہنا ہے کہ قرآن بنیادی طور پرایک روحانی کتاب ہے جس میں دنیوی امور سے متعلق بہت کم احکام ملتے ہیں۔ زیادہ تر اختیارات’اولی الامر‘ کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام بہبودعامہ کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کیا کرتے تھے۔ گو بعض اوقات ان کے فیصلے سنت کے خلاف بھی ہوتے۔گویا ان کا عقیدہ یہ تھا کہ شرعی تفصیلات کی بجا آوری ضروری نہیں اور بنیادی مصلحت فلاح عامہ کی رعایت ہے۔۷۳؂ رشید رضا کے نزدیک احادیث بھی بحیثیت مجموعی قابل اعتنا نہیں بلکہ صرف وہی احادیث قابل قبول ہیں جو عملی نوعیت کی ہیں اور جن پرامت مسلمہ میں مسلسل عمل کا ثبوت ملتا ہے۔۷۴؂ معجزات سے متعلق رشید رضا کی رائے تھی کہ اب معجزات کا زمانہ گزر گیا۔یہ اس وقت کا قصہ ہیں جب انسانیت ابھی عہد طفولیت میں تھی۔ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی انسان ذہنی بلوغ کے زمانے میں داخل ہو گیا اور معجزات کا زمانہ جاتا رہا۔ ان کے معجزات و خوارق کو عقلی رنگ دینے کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ سورہ یوسف کی آیت ۹۴کی تفسیر میں خوشبوئے یوسف کے معجزانہ تصور کو قابل التفات نہ سمجھتے ہوئے موقف اختیار کرتے ہیں کہ صاف اور سیدھی سی بات ہے کہ یہ کوئی جنت کی خوشبو نہ تھی بلکہ قمیض کی یہ بو یوسف کے جسم کی بو تھی جیسی کہ بالعموم ہوتی ہے۔۷۵؂ 

مفتی محمد عبدہ کے ایک اور شاگرد قاسم امین نے آزادئ نسواں کا علم بلند کرتے ہوئے حجاب کے خاتمے اور یورپی اخلاقیات کو اپنانے کی دعوت دی ۔ ان کے مطابق مغرب کی اخلاقیات کو اپنائے بغیر وہاں کی سائنس کو اپنانے کا کچھ فائدہ نہیں۔۷۶؂قاسم امین نے دعوی کیا کہ بے پردگی کی دعوت میں دین اسلام سے کوئی مخالفت نہیں پائی جاتی ۔ان کا کہنا تھا کہ شریعت کے وہ احکام جو مروجہ عادات و معاملات پر مبنی ہیں ان میں حالات زمانہ کے مطابق تغیر و تبدل کیا جا سکتا ہے۔۷۷؂ وہ مغربی عورتوں کو اپنی خواتین کے لیے بطور نمونہ پیش کرتے ہوئے ان کی تقلید کی دعوت دیتے ہیں۔۷۸؂ مفتی محمد عبدہ کہ ایک اور معروف شاگرد علی عبدالرزاق ہیں۔ وہ دین و دنیا کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کے تمام احکام مذہبی ضابطہ پر مشتمل ہیں جن کا تعلق تمام تر عبادت الہٰی اورنوع انسانی کی مذہبی فلاح و بہبود سے ہے ۔ جہاں تک شہری قوانین کا تعلق ہے وہ انسان کی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے ہیں اور مذہب کو ان سے کوئی سروکار نہیں۔دنیاوی انتظام وانصرام کی خاطر خدا نے یہی کافی سمجھا کہ ہمیں ذہن و دماغ عطا کر دیے۔۷۹؂ مفتی کے دبستان فکر کے افراد میں سے محمد رفیق صدقی اور شیخ طنطاوی جوہری نے قرآن کو موجودہ سائنس سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آیات قرآنی کی نہایت عجیب وغریب تاویلات کی ہیں ۔۸۰؂ 

قرآن کی جس طرز کی متجددانہ تعبیر کی بنیاد عالم عرب میں مفتی محمد عبدہ نے رکھی تھی ،برصغیر میں اس طرز کی متجددانہ تفسیر قرآن کے بانی سر سید احمد خاں ہیں۔اہل مغرب اور مستشرقین سے تاثر کے نقطہ نظر سے سر سید عبدہ سے بہت آگے نظر آتے ہیں۔انہوں نے قرآنی بیانات کو جدید تصورات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متفق علیہ تفسیری اصولوں کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ان کی’ تفسیر القرآن ‘میں،بقول سید عبداللہ، روایات سے بغاوت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔۸۱؂ انہوں نے ورک آف گاڈ اور ورڈ آف گاڈ کی مطابقت کا اصول پیش کیااور پھر قرآن میں کسی معجزہ یا خوارق کے تذکرہ کے روایتی تصور کویکسر مسترد کر دیا۔ ان کے نزدیک قرآن اور دیگر کتب سماوی میں معجزات کا جو ذکر ہے وہ تمثیلی و استعاراتی یا افسانوی رنگ لیے ہوئے ہے۔ڈاکٹر ٹرول کے مطابق سر سید کو انکار معجزات کی راہ دکھانے میں معجزاتی عناصر پر ولیم میور کی تنقید نے نمایاں حصہ لیا۔میور کی تقلید میں سر سید اس بات کے قائل ہوگئے کہ حضور کی پیدائش سے متعلق بیان کیے جانے والے معجزات سب شاعرانہ تخلیق ہیں۔ ۸۲؂ سر سید نے سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی تفسیر میں حضور کے معراج جسمانی سے متعلق تمام احادیث کو ناقابل اعتبار اور ان کے بیان کو خلاف قانون قدرت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’واقعات خلاف قانون فطرت کے وقوع کا ثبوت اگر گواہان روایت بھی گواہی دیں تو محالات سے ہے‘‘ اور اس کے بعد تفصیلی بحث کرکے معراج رسول ؐ کوخواب میں پیش آنے والا رویاثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔۸۳؂یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ وہ قرآن میں کہیں بھی معجزہ مذکور ماننے سے انکاری ہیں۔اس سلسلہ میں بنی اسرائیل کے عبور دریااور موسیؑ ٰ وعیسیؑ ٰ کے دیگر معجزات کی بھی انہوں نے عجیب وغریب اور دور از کار تاویلات کی ہیں۔۸۴؂ان کا کہنا ہے کہ حضور کے پاس کوئی معجزہ نہ تھا اور حضورؐ کے پاس کوئی معجزہ نہ ہونے سے ضمناً یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انبیائے سابقین میں سے بھی کسی کے پاس کوئی معجزہ نہ تھا۔جن واقعات کو لوگ معروف معنوں میں معجزات کہتے ہیں وہ در حقیقت معجزات نہ تھے بلکہ قانون فطرت کے مطابق وقوع پذیر ہونے والے واقعات تھے۔۸۵؂

سرسید کے نزدیک نبوت ایک فطری چیز ہے۔خدا اور پیغمبر میں بجز اس ملکہ نبوت کے جس کو ناموس اکبر یا جبریل اعظم کہا جاتا ہے،کوئی ایلچی یاپیغام پہنچانے والا نہیں ہوتا۔جس طرح تمام ملکات انسانی کسی محرک کے پیش نظر اپنا کام کرتے ہیں اسی طرح ملکہ نبوت بھی کسی مخصوص امرکے پیش نظر فعال ہو جاتا ہے۔۸۶؂وہ جس طرح جبرئیل کو ملکہ نبوت کہہ کر جبرئیل کے خارجی وجود سے انکار کرتے ہیں ایسے ہی تمام ملائکہ ،شیطان اور جنات کا بھی خارجی وجود تسلیم نہیں کرتے۔ ۸۷؂ تخلیق و ہبوط آدم سے متعلق آیات کو ڈاروینی ارتقائیت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آدم کے شخصی وجود سے انکار کرتے ہوئے بڑے زور دار الفاظ میں کہا’’آدم کے لفظ سے وہ ذات خاص مراد نہیں جس کو عوام اور مسجد کا ملا باوا آدم کہتے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد نوع انسانی ہے۔‘‘۸۸؂ سرسید حدیث، اجماع اور قیاس وغیرہ کو اصول دین میں شامل نہیں سمجھتے ۔ انہوں نے بقول مولانا حالی اپنے جدید علم کلام کا موضوع اور اسلام کا حقیقی مصداق صرف قرآن مجید کو قرار دیا اور اس کے سوا تمام مجموعہ احادیث کو اس دلیل سے کہ ان میں کوئی حدیث مثل قرآن کے قطعی الثبوت نہیں اور تمام علماء ومفسرین کے اقوال وآراء اور تمام فقہاء ومجتہدین کے قیاسات واجتہادات کواس بنا پر کہ ان کے جوابدہ خود علماء ومفسرین اور فقہاء و مجتہدین ہیں نہ کہ اسلام،اپنی بحث سے خارج کر دیا۔۸۹؂

سر سید کے چنداہم معاصرہم خیالوں اور متبعین میں مولوی چراغ علی،ممتاز علی اور سید امیر علی شامل ہیں ۔مولوی چراغ علی کا کہنا ہے قرآن کو کوئی مخصوص ضابطہ حیات یا سماجی و سیاسی قوانین عطا نہیں کرتا ۔اس کا تعلق محض فرد کی زندگی کے اخلاقی پہلو سے ہے۔آنحضورؐ نے کوئی سماجی و قانونی ضابطہ مرتب کیانہ ایسا کرنے کا حکم دیا۔اس کے برعکس مسلمانوں کو ایسے نظام قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی جو ان کے گرد وپیش ہونے والی سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں سے وقت کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔ کلاسیکی اسلامی قانون بنیادی طور پر شریعت نہیں بلکہ وہ رواجی قانون ہے جس کے اندر ایام جاہلیت کے عربی اداروں کے باقی ماندہ اجزا و عناصر یا وہ احادیث شامل ہیں جو اکثر جعلی ہیں اور غلط طور پر پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کر دی گئی ہیں۔۹۰؂ فقہااسلامی قانون کے سلسلہ میں مقصود قرآنی کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے قرآن کی روح کو شرعی عمل سے دبا دیا اور وہ ابتدائی مشرقی روایاتی رسمیں جاری کر دیں جنہیں قرآن درحقیقت مذموم قرار دے چکا تھا۔ ۹۱؂

سرسید کے ایک اور معاصر پیرو ممتاز علی ہیں۔ممتاز علی نے عورتوں کی آزادی کے مسئلہ کو خصوصیت سے موضوع بحث بنایا۔وہ ان روایتی دلائل کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جن کے مطابق مرد جسمانی طور پرزیادہ مضبوط،زیادہ دانش مند،نسبتاً کم جذباتی اور کم توہم پرست ہوتا ہے اور اس بنا پر وہ خدا کے خلیفہ اور نائب ہونے کا اعزاز رکھتا ہے اور کتب سماوی اس کوعورت کے برعکس متعدد شادیاں کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔وہ مرد اور عورت کی مکمل مساوات کے قائل ہیں بلکہ وہ عورت کی مرد پر فوقیت کے حامی ہیں۔ ان کے نزدیک سورہ النساء کی آیت ۳۴میں قوامون اور فضل کے الفاظ کے تناظر میں عورت کے مقابلہ میں مرد کے تفوق کی کلاسیکی تاویلات قرآن کی صحیح ترجمان ہونے کی بجائے ان ادوار کے مروجہ قوانین کی آئینہ دار ہیں۔آیت کا مفہوم یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ عورتیں ان مردوں پر فوقیت رکھتی ہیں جو ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ۹۲؂ممتاز علی کے خیال میں حوا کے مقابلہ میںآدم کی تخلیقی اولیت اوراستحقاقی فوقیت یہودی اور عیسائی عقیدہ ہے نہ کہ قرآنی۔تعدد ازواج کو قرآن نے شرطِ عدل کے ذریعہ ناممکن العمل بنا کر منسوخ کر دیا ہے۔۹۳؂عورت کی آزادی سے معاشرے کے اخلاقی معیارات کے ڈھیلے ہو جانے کے خطرہ کا واویلا کیا جاتاہے حالانکہ خدا نے عورت کو آزاد اور مساوی درجہ پر پیدا کیا ہے۔بد اخلاقی کا تعلق عورت کی آزادی کی بجائے مرد کے مسخ شدہ جذبات سے ہے۔عورت اور مرد کی علیحدگی کے عادی معاشروں کو مخلوط معاشروں کے اخلاقی معیارات پر پورا اترنے کے لیے وقت چاہیے۔۹۴؂

سرسید کے ایک اورنامور معاصر ہم خیال سید امیر علی ہیں۔یہ مولانا حالی کے مطابق مغربی اہل الرائے سے اسلام کی عذر خواہیوں اورتوضیحات میں اور اسلامی معاشرتی اور مذہبی خیالات کی از سر نو تعمیر اور جدید خیالات کی ترویج میں سرسید احمد خاں کے پیرو تھے۔۹۵؂ ان کی مشہور تصنیفThe Spirit of Islam نے صرف مغرب ہی میں قبولیت عامہ حاصل نہیں کی بلکہ برصغیراورمصر کے مغربی تعلیم یافتہ مسلمانوں پر بھی گہرے اثرات ڈالے۔۹۶؂سید امیر علی نے اپنی اسلامی تعبیرات میں استشراقی اور مغربی تصورات سے ہم آہنگی کی جا بجا کوشش کی ہے ۔ فرشتوں اور شیطان کاخارجی وجود اور حشر جسمانی کوتسلیم کرنے سے بچنے کے لیے انہوں نے ان چیزوں سے متعلق قرآنی بیانات کوبلا جھجک شاعرانہ اسلوب بیان اور حضور ؐ کے دینی شعورکے درجۂ کمال سے پہلے کے اور زرتشتی و تلمودی الاصل تصورات سے تعبیر کیا ہے۔سورہ الانفال کی آیت ۹میں بیان کردہ واقعہ کو اسلوب بیان کی ساحری اور شاعرانہ بلاغت سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ فرشتوں کے خدا کی طرف سے جنگ کرنے کے تصور میں جو شاعرانہ عنصر ہے اس کے نقش و نگار کو قرآن میں موئے قلم کی جن سادہ جنبشوں سے ابھارا گیا ہے وہ خوبصورتی اور بلاغت میں زبور کی بلیغ ترین عبارتوں کا مقابلہ کرتی ہے اور دونوں میں ایک ہی طرح کی شعریت ہے‘‘۔۹۷؂ملائکہ ایک داخلی تصور ہے۔جن چیزوں کو آج ہم قوانین فطرت کہتے ہیں پرانے لوگ انہی کو فرشتے یعنی آسمانی کار پرداز خیال کرتے تھے۔ شیطان سے متعلق حضورؐ کے اقوال کا تجزیہ کریں تو بھی ایک موضوعی تصور سامنے آتا ہے جسے آپؐ نے اپنے پیروکاروں کے فہم کے مطابق الفاظ کا جامہ پہنایا۔۹۸؂ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ رسول عربی نے اپنے ماننے والوں سے حسی لذات کی جنت اور عیش وعشرت کے مختلف مدارج کو وعدہ کیا،جہالت اور تعصب کا نتیجہ ہے ۔اس میں شک نہیں کہ درمیانی دور کی سورتوں میں،جب کہ معلم اسلام نے ابھی شعور دینی کا درجۂ کمال حاصل نہیں کیا تھااور جب کہ اس بات کی ضرورت تھی کہ عقبی اور جزا وسزا کے تصورات کو ایسے الفاظ کا جامہ پہنایا جائے جو سیدھے سادھے بادیہ نشینوں کی سمجھ میں آ سکیں۔ جنت و جہنم کے واقعیت نما نقشے،جو زرتشتیوں،صابیوں اور تلمودی یہودیوں کی پادر ہوا قیاس آرائیوں پر مبنی تھے،پڑھنے والے کی توجہ ضمنی حاشیہ آرائیوں کے طور پر اپنی طرف کھینچتے ہیں۔لیکن ان کے بعد قرآن کا جوہر خالص آتا ہے یعنی کمال عجزومحبت سے خدا کی عبادت۔حوریں زرتشتی نژاد ہیں۔اسی طرح جنت بھی زرتشتی الاصل ہے البتہ جہنم عذاب الیم کے مقام کی حیثیت سے ایک تلمودی تخلیق ہے۔ان کے واقعیت نما مناظر کی بنا پر یہ سمجھنا کہ حضور ؐاور آپ کے پیروکار ان کو واقعی مبنی بر حسیت سمجھتے تھے ،محض ایک افترا ہے۔۹۹؂

تعدد ازوج کے حوالے سے سید امیر علی کی رائے ہے کہ یہ مطلق العنان بادشاہوں کے زمانے کی یاد گار ہے جسے ہمارے ترقی یافتہ دور میں بجا طور پر ایک خرابی سمجھا جاتا ہے۔قرآن نے فی نفسہ اس کی ممانعت کر دی ہے۔ترقی یافتہ مسلم جماعتوں میں رفتہ رفتہ یہ تصور پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ یہ چیز تعلیمات محمدی کے بھی اسی قدر منافی ہے جس قدر جدید تمدن و ترقی کے۔ لہٰذا یورپ کو اس سلسلہ میں قدیم مسلم فقہا کی من مانیوں اور مصلحت کوشیوں پر نہیں جانا چاہیے بلکہ جدید اسلام کا تحمل وہمدردی سے مشاہدہ کرنا چاہیے جس میں قدما پرستی کے بندھنوں سے چھٹکارا حاصل کیا جارہا ہے۔۱۰۰؂

ذراآگے چل کر سر سید کے مکتبہ خیال سے متعلق دو نمایاں نام محمد علی لاہوری اور غلام احمد پرویز ہیں۔محمد علی لاہوری نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے بقول سرسید کے لٹریچر اور ان کے تفسیر قرآن کے اسلوب کو پورے طور پر جذب کرلیا تھا۔۱۰۱؂وہ اپنی تفسیر میں مختلف مسائل سے متعلق اسی طرح کی تشریحات پیش کرتے ہیں جو جدید نظریات ومعلومات سے متصادم نہ ہوں۔معجزات وخوارق کا انکار کرتے ہوئے ان کی عقلی تاویلات کرتے ہیں۔مثلاً بنی اسرائیل کے عبور دریا سے متعلق سرسید کا جوار بھاٹے والاانداز استدلال اپناتے ہوئے اسے ایک عام واقعہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔۱۰۲؂ موسیؑ ٰ کو بارہ چشمے معجزانہ طور پر نہیں بلکہ ایلیم کے ایک پہاڑ سے ملے تھے۔۱۰۳؂ سورۃ البقرہ کی آیت ۷۲اور۷۳ کے حوالے سے عام مفسرین یہ خیال کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص نے اپنے چچا کو پوشیدہ طور پر قتل کر دیا تھا اوراس کا راز جانے کے لیے گائے ذبح کرکے اس کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم سے لگانے کے لیے کہا گیا تھاحالانکہ یہ معمولی واقعہ نہیں ۔اس میں حضرت عیسیؑ ٰ کے قتل کی طرف اشارہ ہے۔ بعضھا  کی ضمیر فعل قتل کی طرف جاتی ہے یعنی بعض قتل سے اس کو مار دو یا فعل قتل اس پر پورا وارد نہ ہونے دو۔۱۰۴؂ مسیح تین گھنٹے صلیب پر رہے مگر وفات نہیں پائی ۔بعد ازاں طبعی عمرپوری کر کے وفات پائی۔۱۰۵؂ مسیح کے کشمیرآنے اوربعد از وفات وہاں دفن ہونے کے شواہد موجود ہیں۔۱۰۶؂ حضرت مسیح پیدا بھی معجزانہ طور پر نہیں بلکہ مریم اور یوسف کے صنفی تعلق سے عام بچوں کی طرح ہوئے تھے۔۱۰۷؂ سورہ آل عمران کی آیت ۴۹ میں حضرت عیسیؑ ٰ کے تخلیق طیر سے استعارۃً ایسے لوگ مراد ہیں جوزمیں اور زمینی چیزوں سے اوپر اٹھ کر خدا کی طرف پرواز کر سکیں۔اور احیائے موتی سے روحانی مردوں کا احیا مراد ہے کیونکہ جسمانی طور پر مر جانے والوں کا اس دنیا میں دوبارہ آنا قرآن کی اصولی تعلیم کے خلاف ہے۔۱۰۸؂ حضرت سلیمان کے حوالے سے علمنا منطق الطیر سے پرندوں کی بولیاں جاننا نہیں بلکہ پرندوں کی نامہ بری مراد ہے۔نملہ کوئی چیونٹی نہیں بلکہ وادی نملہ کی باسی قوم تھی۔ ہدہد پرندہ نہیں بلکہ سلیمان کے محکمہ خبر رسانی کا آدمی تھا۔عفریت من الجن قوی الجثہ انسان تھا۔سلیمان کی ماتحتی میں کام کرنے والے جن ان غیر قوموں کے لوگ تھے جنہوں نے بنی اسرائیل کی ماتحتی کا جوا اٹھایا ہوا تھا۔۱۰۹؂

غلام احمدپرویزمغربی فکرسے تاثر اور سر سید کے زاویہ فکر کو اختیار کرکے مخصوص تناظر میں اسے مزید وسعت دینے میں خاصے نمایاں ہیں۔پروفیسر عزیز احمد نے انہیں سرسید سے لے کر لمحہ موجود تک کے تمام جدید پسندوں میں مغربی نقطہ نظر کے سب سے زیادہ قریب قرار دیا ہے۔۱۱۰؂ حدیث کی حجیت وثقاہت کے حوالے سے انہوں جس طرح استشراقی فکر سے ہم آہنگی اختیار کی اس کا مختصر ذکر اوپر گزر چکا ہے ۔لیکن یہ صرف ایک پہلوتھا۔ انہوں نے نہایت وسیع پیمانے پر مغربی نتائج فکر سے تطابق کی کوشش کی ہے ۔اس سلسلہ میں ان کے یہ الفاظ قابل ملاحظہ ہیں کہ’’میں نے انسانی فکر کی اڑھائی ہزار سالہ کدو کاوش کا مطالعہ قرآن کی روشنی میں کیا(یا قرآن کا مطالعہ اس فکر کی روشنی میں کیا )تو قرآن کا ایک ایک دعوی زندہ حقیت بن کر میرے سامنے آگیا۔‘‘۱۱۱؂ مذکورہ تناظر میں پرویز نے متعددموضوعات پر کلام کیا ہے۔ جدیدمغرب میں چونکہ کائنات کے عام مشاہد قوانین میں کسی بھی طرح کی ماورائی مداخلت (جس سے خدا کا قادرمطلق ہونا ثابت ہوتا ہے) کوجہالت ووہم پرستی قرار گیا تھا۱۱۲؂ چنانچہ پرویز صاحب بھی ایسے تصور کو غلط سمجھتے ہیں جس میں خدا کو اختیار مطلق حاصل ہواور وہ کسی قاعدے اور ضابطے کا پابند نہ ہو۔قرآنی الفاظ: کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃ۱۱۳؂کی تشریح میں پابندی و اختیار کے حوالے سے خدااور بندے کی مختلف حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بندے پر جو پابندی لگائی گئی ہے وہ اس کے خلاف کر سکتا ہے جب کہ خدا نے اپنے اوپر جو پابندی لگائی ہے وہ اس کے برعکس نہیں کرتا۔’’اس اعتبارسے دیکھئے توانسان صاحبِ اختیار رہتا ہے اورخدا’’مجبور‘‘۔‘‘۱۱۴؂ 

رسول اللہؐ کوپرویزصاحب نے اپنی تعبیراتِ قرآنی میں نظام حکومت اور مرکزی اتھارٹی کا ہم معنی قرار دیا ہے۔ ایک جگہ لکھا ہے’’حالانکہ نظام سے وابستگی اور اطاعت کا تقاضا ہے کہ ایسی باتوں کو رسول (مرکزی اتھارٹی)یا اپنے افسران تک پہنچایا جائے۔‘‘۱۱۵؂ ملائکہ ان کے نزدیک فطرت کی قوتیں ہیں۔ قصہ آدم میں ملائکہ کا آدم کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا جو ذکر ہے، اس سے مراد در حقیقت فطرت کی قوتوں کابنی نوع انسان کے لیے مسخر کیا جانا ہے۔۱۱۶؂ شیطان کوئی موجود فی الخارج ہستی یا شخصیت نہیں بلکہ انسان کے اپنے فیصلوں،ارادوں اور جذبات سے عبارت ہے۔۱۱۷؂جنات سے قرآن کی مرادجنگلی، صحرائی اور خانہ بدوش انسان ہیں۔۱۱۸؂ جہنم قرآن کی رو سے کسی گڑھے یا ایسے مقام کا نام نہیں جس میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور مجرموں کو اس میں جھونک دیا جائے ۔بلکہ دراصل یہ انسا ن ہی کے قلب سوزاں کی کیفیت اور اعمال بد کے نتیجے میں اس کے اندر پیدا ہو جانے والے اضطرابِ پیہم اور کربِ مسلسل کا نام ہے۔۱۱۹؂ جنت ایسی مثالوں سے عبارت ہے جو قرآن کے اولیں مخاطب عربوں کے لیے متاثر کن تھیں۔گھنے باغات جن میں صاف شفاف چشمے ہوں اور ان کا ٹھنڈا پانی چاروں طرف بہہ رہا ہو،درخت پھلوں سے لدے،دودھ اور شہد کی ایسی افراط کہ گویا ان کی نہریں بہہ رہی ہوں،اعلی درجے کے قالین اور صوفے بچھے ہوئے محلات، جن میں حریر واطلس کے پردے آویزاں،بلوریں آفتابے،چاندی سونے کے ظروف،لطیف گوشت، خوش ذائقہ مشروبات،ہم مزاج ،ہم رنگ،یک آہنگ احباب کی محفلیں۔تپتے ہوئے صحرا ؤں کے باسی عربوں کی زندگی ظاہر ہے اسی طرح کی مثالوں سے سجائی جا سکتی تھی۔۱۲۰؂ انسان اشرف المخلوقات نہیں۔۱۲۱؂ آدم سے کوئی خاص انسان یا بشر مراد نہیں۔ قصہ آدم خودنوع انسانی کی سر گذشت ہے۔۱۲۲؂ معجزہ قانون فطرت کے خلاف ہے اور قرآن کی رو سے کوئی واقعہ خلاف قانون فطرت رونما نہیں ہو سکتا۔ بنا بریں معجزات کا وجود بروئے قرآن غلط ہے۔۱۲۳؂ 

چوری کی سزاہاتھ کاٹناایک انتہائی سزا ہے جس کے عملی اطلاق کاموقع قریب قریب نا ممکن ہے اور قطع ید سے در حقیقت مرادایسا طریق اختیار کرنا ہے کہ چور چوری سے باز آ جائیں۔۱۲۴؂ تعدد ازواج ایسی شرائط سے مشروط ہے کہ یہ قریباً ناممکن العمل ہو کر رہ جاتا ہے۔۱۲۵؂ قرآن نے دراصل ایک وقت میں ایک ہی بیوی کا اصول مقرر کیا ہے۔ اگر کسی وقت بیوی سے نباہ کی صورت نہ رہے توقرآن کی رو سے اس کی موجودگی میں دوسری بیوی کی اجازت نہیں ہاں البتہ اس کی جگہ دوسری بیوی لائی جا سکتی ہے۔ وَاِنْ اَرَدْتُّمُْ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ ۱۲۶؂ کا مفہوم یہ ہے کہ ’’اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چا ہو تو اس کے لیے پہلی بیوی سے معاہدۂ نکاح فسخ کرو . ‘‘ ۱۲۷؂معیشت کے مسئلے کا حل مارکسی فکر میں پنہاں ہے۔۱۲۸؂ رزق کا معاملہ خدا نے اپنے ہاتھ میں نہیں رکھا۔ یہ مذہبی پیشوائیت کی فریب کاری ہے جو عوام کو اس غلط عقیدہ کی افیون دے کر نظامِ سرمایہ داری کی جڑ یں مضبوط کرتی رہتی ہے ۔ صاحبِ اقتدار گروہ وسائلِ پیداوار اپنی ملکیت میں لے لیتا ہے اور پھر دوسرے انسانوں کو روٹی کا محتاج بنا کر ان سے اپنا ہر حکم منواتا ہے ۔ جب بھو کے انسان اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو مذہبی پیشوائیت انہیں یہ کہہ کر سلا دیتی ہے کہ رزق کی تقسیم خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے وہ جسے چا ہتا ہے امیر بنا دیتا جسے چاہتا ہے غریب رکھتا ہے جسے چاہتا رزقِ فراواں عطا کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے بھو کا رکھتا ہے کوئی انسان اس فرق کو مٹانہیں سکتا ۔۱۲۹؂

مرزا غلام احمد قادیانی سے متعلق بھی یہ کہنا بے جا نہیں کہ انہوں نے سر سید احمد خاں اور ان کے مدرسہ فکر سے شہ حاصل کی۔شیخ محمد اکرام کے مطابق مولوی چراغ علی سے مرزا کی خط و کتابت تھی اور جہاد سے متعلق وہ مولوی صاحب کے ہم خیال تھے۔اسی طرح حضرت عیسیؑ ٰ کے متعلق انہوں نے سر سید کے خیالات کی پیروی کی۔۱۳۰؂ نئی نبوت کی گنجائش بھی اہل تجدد نے فراہم کر دی تھی ۔بنا بریں یہ بات ناقابل فہم نہیں کہ مرزاقادیانی نے اس سلسلہ میں انہی کے خیالات سے استفادہ کیا۔تاہم قادیانیت کے ظہور میں نوآبادیاتی نظام اورانگریزوں کا کردار غیر معمولی ہے۔مرزا کا عقیدہ تھا کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک کا تعلق خدا سے ہے اوردوسرے کا امن امان قائم کرنے والی حکومت سے۔امن امان قائم کرنے والی حکومت چونکہ اس وقت حکومت برطانیہ ہے لہذا اس سے سر کشی اسلام سے سرکشی کے مترادف ہے۔ان میں انگریز پرستی کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ وہ اس معاملے میں اپنے مخالفین کو احمق ونادان بلکہ حرامی اور بد کارقرار دیتے تھے۔۱۳۱؂ 

نتیجہ بحث

اوپر کی بحث سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ مستشرقین نے اہل اسلام کواپنے دین سے متعلق شکوک شبہات میں مبتلا کرنے ، تجدد و مغربیت اختیار کرنے اورعہد نو کے تقاضوں کی دہائی دے کر اسلام کوجدید مغربی نقطہ نظر سے ہم آہنگ کرنے پر مائل کرنے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ ان کی یہ کوشش بے نتیجہ نہیں رہی ۔ ان کی فکر نے عالم اسلام میں بہت سے لوگوں کے عقل وشعور اور روح وبدن میں نفوذ حاصل کر لیا۔مسلمانوں میں ایسے بہت سے افراد سامنے آنے لگے جنہوں نے اپنی قوموں کو لفظ و معنی اور حقیقت وشکل ہر اعتبار سے مغربی سانچے میں ڈھلنے کی دعوت دی۔اسلامی ا حکامات وتعلیمات سے بیزاری پیدا ہونے لگی یا ان کی ایسی تعبیرات پیش کی جانے لگیں جو مغربی معیارات سے زیادہ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہوں۔یہ لوگ اسلامی عقائد واحکام میں سے ہر اس عقیدہ و حکم کو تاویل کی سان پر چڑھانے یابدل ڈالنے میں مصروف ہوگئے جواپنی اصلی شکل میں جدید مغربی یامغرب سے متاثرذہن کے لیے قابل قبول دکھائی نہ دیا۔یوں بقول کینٹول سمتھ یہ معذرت خواہ نہ صرف اپنے بلکہ بہت سے دیگر مسلمانوں کے ایمان و یقین میں انتشار وتزلزل کا سبب بنے۔۱۳۲؂ ڈاکٹر رفیع الدین نے تجدد پسندوں کی خواہشِ اجتہادکی حقیقت واضح کرتے ہوئے صحیح کہا ہے کہ ان کی یہ خواہش بالعموم ان کی اسلام سے محبت کا نتیجہ ہونے کی بجائے الٹا اس سے بیزاری اوردیگر افکار و نظریات سے محبت کا ثمر ہے۔ اجتہاد کی اس خواہش کا مقصد اسلام کی بنیادی وحقیقی باتوں کی دریافت ووضاحت نہیں بلکہ اسے دیگر نظریات کے قریب تر لانا ہے تا کہ ان نظریات کے حامل اور دلدادگان کو مطمئن کیا جا سکے۔یہ شریعت کے اندر سے فطری ارتقاء کے نتیجہ میں سامنے آنے والا اصلی اجتہاد نہیں بلکہ امکانی حد تک اسلام میں اپنے پسندیدہ دیگر افکار وخیالات کے دخول اور شریعت کے تکملہ کی سعی ہے۔ ۱۳۳؂ 


حوالہ جات وحواشی

۶۶۔ چارلس سی آدم،حوالہ مذکور،ص۳۹۸۔

۶۷۔ ایضاً،ص۱۹۹۔۲۰۰۔

۶۸۔ ایضاً،ص۲۰۱۔۲۰۲۔

۶۹۔ مفتی محمد عبدہ،تفسیر سورہ العصر،قاہرہ،۱۹۲۶،ص۱۹۔

۷۰۔ وہی مصنف، تفسیر جز عم،مطبع مصر،۱۳۴۱ھ،ص۱۵۸۔

71. Kerr, Malcolm H, Islamic Reforms: The Political and Legal theories of Muhammad Abduh and Rashid Rida, Cambridge, University press, 1961, p.105. 
72. Ibid. p. 106. 

۷۳۔ رشید رضا،تفسیر المنار،جلد ششیم،قاہرہ،۱۳۷۵ھ،ص۵۶۲۔

۷۴۔ وہی مصنف،تفسیر المنار،جلد دوم،۱۳۶۷ھ،ص۳۰۔

۷۵۔ وہی مصنف ،تفسیر سورہ یوسف، قاہرہ، ۱۹۳۶ھ،ص۱۲۰،تفسیر المنار،جلد اول، قاہرہ،۱۳۷۳ھ،ص۳۱۵۔

76. Hourani, Albert, Arabic Thought in the Liberal age, Oxford University press, 1962, pp. 168-169. 

۷۷۔ قاسم امین ،تحریر المرأۃ ،قاہرہ،۱۸۹۹ء،ص۱۶۹۔

۷۸۔ وہی مصنف ، المرأۃ الجدیدہ،قاہرہ،۱۹۰۰ء،ص۱۸۵۔۱۸۶۔ 

۷۹۔ علی عبد الرزاق،الاسلام واصول الحکم ،قاہرہ ، ۱۹۲۵ء،ص۸۴۔۸۵۔

۸۰۔ مثال کے طور پر دیکھیے:طنطاوی جوہری، الجواہر فی تفسیر القرآن،جلد اول،بیروت،۱۹۹۱ء،ص۱۶۱۔۲۳۴، چارلس سی آدم، حوالہ مذکور ، ص ۳۴۸،۳۴۹،۳۵۵۔

۸۱۔ سید عبداللہ،سرسید احمد خاں اور ان کے ناموررفقا کی اردونثر کا فنی و فکری جائزہ،اسلام آباد ،مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۹۴ء ،ص۳۰۔۳۲۔

۸۲۔ ٹرول،ڈاکٹرسی ڈبلیو،سر سید احمد خاں:فکراسلامی کی تعبیر نو(مترجمین ،ڈاکٹر قاضی افضل حسین اور محمداکرام چغتائی)،لاہور ، القمر انٹر پرائزز،۱۹۹۸ء، ۲۰۶۔۲۰۷۔

۸۳۔ تفسیر القرآن مع اصول تفسیر،لاہور،دوست ایسوسی ایٹس،۱۹۹۵ء،ص۱۰۷۵۔۱۱۹۷۔

۸۴۔ ایضاً،ص۱۴۷۔۱۶۲،۳۹۹،۴۱۳،۴۲۶۔۴۲۷۔

۸۵۔ ایضاً،ص۵۸۰۔

۸۶۔ ایضاً،ص۹۰۔۹۶،۵۶۵۔۵۷۸۔

۸۷۔ ایضاً،ص۱۰۶۔۱۰۸،۱۱۷،۶۱۳۔۶۲۵۔

۸۸۔ ایضاً،ص۱۲۴۔

۸۹۔ حالی،مولانا الطاف حسین،حیات جاوید،لاہور،ھجرہ انٹر نیشنل،۱۹۸۴ء،حصہ اول،ص۲۳۱۔

90. Chriragh Ali, The proposed political, legal and social reforms in the Ottoman Empire and other Muhammdan States, Bombay, 1883, pp.10-12. 
91. Ibid.pp.112-113. 

۹۲۔ ممتاز علی ،حقوق نسواں،لاہور،۱۸۹۸ء،ص۵۔۷۔

۹۳۔ ایضاً،ص۷۔۳۷۔

۹۴۔ ایضاً،ص۴۴۔۹۴۔

۹۵۔ حالی، مولانا الطاف حسین،حیات جاوید،حوالہ مذکور،ص۱۶۳۔

۹۶۔ احمد امین،زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث، قاہرہ، ۱۹۴۸ء،ص۱۳۹۔۱۴۵۔

۹۷۔ امیر علی،سید ،روح اسلام(مترجم،محمد ہادی حسین)،لاہور ،ادارہ ثقافت اسلامیہ،۱۹۹۲ء،ص۱۵۲۔

۹۸۔ ایضاً،ص۱۵۳۔۱۵۴۔

۹۹۔ ایضاً،ص۳۲۶۔

۱۰۰۔ ایضاً،ص۳۵۸،۳۶۸،۳۷۰،۳۷۱۔

۱۰۱۔ ابوالحسن علی ندوی،مولانا،قادیانیت:مطالعہ و جائزہ،کراچی،مجلس نشریات اسلام،۱۹۸۱ء،ص۱۸۰۔

۱۰۲۔ محمد علی لاہوری،بیان القرآن،لاہور،احمدیہ انجمن اشاعت اسلام،جلداول۱۳۷۷ھ،ص۶۲،جلددوم،ص۱۲۴۴، جلد سوم،۱۳۴۲ھ،ص۱۳۹۱۔۱۳۹۲۔

۱۰۳۔ ایضاً،جلداول،ص۶۹۔۷۰۔

۱۰۴۔ ایضاً،ص۷۸۔۷۹۔

۱۰۵۔ ایضاً،ص۳۳۱۔۳۳۲،۳۳۴،۳۹۹،۵۷۵۔۵۷۶،جلددوم،ص۷۳۸،۱۲۶۲۔

۱۰۶۔ ایضاً،جلداول،ص۳۱۰،جلددوم،ص۱۳۲۳۔ 

۱۰۷۔ ایضاً،جلداول،ص۳۱۴۔۳۱۵۔

۱۰۸۔ ایضاً،ص۳۲۰۔۳۲۶۔

۱۰۹۔ ایضاً،جلدسوم،۱۴۰۸۔۱۵۳۶۔جلددوم،ص۱۲۷۸۔ 

۱۱۰۔ عزیز احمد،پروفیسر،برصغیر میں اسلامی جدیدیت(مترجم ،ڈاکٹر جمیل جالبی)،لاہور،ادارہ ثقافت اسلامیہ، ۱۹۸۹ء،ص۳۲۲۔۳۲۳۔

۱۱۱۔ پرویز، غلام احمد،انسان نے کیا سوچا،لاہور،طلوع اسلام ٹرسٹ،۱۹۹۱ء،ص۱۵۔

112. Longman,Green & co;Pub.by,Supernatural Relegion, London, 1874,Vol.II.p.480. 

۱۱۳۔ الانعام۶:۱۲۔

۱۱۴۔ پرویز ،غلام احمد ، مطالب الفرقان ،لاہور ،طلوع اسلام ٹرسٹ ،جلد پنجم ،ص۱۲۔

۱۱۵۔ ایضاً ، جلد چہارم ،ص۳۸۴۔

۱۱۶۔ ایضاً ،جلد دوم،ص۶۷۔۷۰۔

۱۱۷۔ ایضاً،ص۵۰۔۵۲۔ 

۱۱۸۔ ایضاً،ص۴۱۔۴۲۔

۱۱۹۔ ایضاً،جلد اول،ص۳۲۷۔۳۲۸۔ 

۱۲۰۔ ایضاً،ص۳۳۳۔۳۳۴۔

۱۲۱۔ ایضاً،جلددوم،ص۴۱۔

۱۲۲۔ ایضاً،ص۶۲۔

۱۲۳۔ ایضاً،جلد چہارم،ص۹۳۔

۱۲۴۔ ایضاً ،ص۵۰۳۔۵۱۰۔

۱۲۵۔ ایضاً ،جلد سوم ، ص۳۴۸۔

۱۲۶۔ النساء۴:۲۰۔

۱۲۷۔ پرویز ،غلام احمد ،مطالب الفرقان ،جلد سوم ، ص۳۴۶۔

۱۲۸۔ ایضاً ،جلد اول ،ص۱۱۵۔۱۱۶۔۱۳۲۔

۱۲۹۔ ایضاً، ص۱۰۷۔

۱۳۰۔ محمد اکرام ،شیخ،موجِ کوثر،لاہور،ادارہ ثقافت اسلامیہ،۱۹۹۲ء،ص۱۷۸۔

۱۳۱۔ قاضی جاوید، سرسید سے اقبال تک،لاہور ،تخلیقات،۱۹۹۸ء،ص۹۳۔

132. Smith, Wilfred Cantwell, Op.Cit.p.122. 
133. Rafi-ud-din,Dr,"The task of Islamic Research",The Pakistan times, Lahore,August 2, 1963. 

آراء و افکار

Flag Counter