اسلام کی نئی تعریف؟

محمد دین جوہر

میاں انعام الرحمن صاحب نے الشریعہ کے ستمبر ۲۱۰۲ء کے شمارے میں ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدو جہد‘‘ کے عنوان سے ایک طویل مضمون تحریر کیا ہے۔ ذیل کی گزارشات اسی ضمن میں پیش کی جار ہی ہیں۔ ہم میاں صاحب کے اس مضمون کا ایک تجزیہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہیں گے، لیکن تمہید ہی میں یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمیں ا س مضمون کے مشمولات سے نہایت بنیادی نوعیت کااختلاف ہے، کیونکہ قلب ہدایت تک نظریے کی جارحانہ رسائی کو ہم کوئی مستحسن اقدام نہیں سمجھتے۔ اگر خود نظریہ اپنے اظہار کا کوئی علمی اسلوب رکھتا ہو تو اس سے گفتگو میں آسانی ہو جاتی ہے، یہاں تو کیا تکوین اور کیا تاریخ، اور کیا صورت حال اور کیا وحی، سب ایک دوسرے سے اس طرح الجھے ہوئے ہیں کہ تفہیم سربگریباں ہے۔ ان گزارشات کی ضرورت کو بھی میں ابتدا ہی میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مضمون میں نظری اور نظریاتی کاوش کے سوتے جہاں سے پھوٹ کر تعبیر بن رہے ہیں ، وہ سوتے یا تو بالکل ہی .. unarticulated .. ہیں، یا ان کی ..articulation.. بہت ہی خفیف ہے۔ ہم اپنی کوشش کو زیادہ تر ان کی ..articulation.. پر مرکوز رکھیں گے۔ اس تجزیے کے آخر میں استعمار آفریدہ جدید شعور کے علمی پیچ و تاب کی طرف کچھ اشارات کرنے کی ضرور جسارت کریں گے تاکہ عصر حاضر میں اس کے اسلوب فعلیت کو متعین کرنے کی طرف پیش رفت کو ممکن بنایا جا سکے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مضمون کا عنوان ’’نفاذ اسلام‘‘ کو اجاگر کرتا ہے، لیکن نفس مضمون میں ’’نفاذ‘‘ ضمنی حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور صاحب مضمون ’’اسلام کی نئی تعریف‘‘ کی طرف بہت دور نکل جاتے ہیں، اس قدر دور کہ لوٹ کے ہی نہیں آتے، بس ایک استدراک چھوڑ جاتے ہیں۔ میں تو استدراک ہی پر معتکف ہوں اور ابھی تک یہ عقدہ نہیں کھلا کہ یہ کسی متداول اخبار کا تراشہ ہے یا کسی علمی مضمون کا تتمہ؟ اس ادھیڑ بن میں یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ ’’اسلام کی نئی تعریف ‘‘ پر دین کی عمارت کہاں استوار ہوئی یا پرانے دین کے ملبے پر نئی تعریف کا علم کہاں بلند ہوا؟ 

اس مضمون کے عنوان میں ’’نفاذ‘‘ کا لفظ برتا گیا ہے۔ یہ لفظ استعمار آفریدہ تعلیم اور اس کے تحت فروغ پانے والے مستریانہ علم کی فضا میں جنم لینے اور پرورش پانے والے شعور کی گھٹی میں پڑا ہے اور اس کا اسم اعظم ہے۔ بعد ازاں، استشراق نے اس شعور کی گود گیر ی مکمل کر کے بہت محنت اور لگن سے اس کی رضاعت کی ذمہ داریوں کو نبھایا ہے۔ پھر نفاذ کا تصور استعماری صدیوں میں پیدا ہونے والے ہمارے زیادہ تر جعلی اور جدید مذہبی علم کا محور بھی ہے۔ نفاذ کی ہر گفتگو ایک ایسے اغماض سے شروع ہوتی ہے جس پر کسی بھی سطح کی علمی دیانت صاد کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نفاذ کا مسئلہ براہ راست جس چیز سے جڑا ہوا ہے، وہ طاقت یعنی سیاسی طاقت ہے، نظر (theory) یا نظریہ (ideology) یا مذہب نہیں ہے۔ نفاذ کا نظریے یا مذہب سے تعلق براہِ سیاسی طاقت ہے براہ راست نہیں ہے۔ نفاذ کی بحث ثانوی، ضمنی، ذیلی اور تحتانی ہے۔ بنیادی بحث یہ ہے کہ قائم شدہ عصری سیاسی طاقت کا.. structure ..کیا ہے؟ اس سیاسی طاقت کا مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی ..structure.. کس نے تشکیل دیا ہے؟ جدید عصری سیاسی طاقت کا اسٹرکچر کن اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے بنایا گیا ہے؟ پھر سیاسی طاقت کی عصری تشکیل عالمگیر سطح پر کیا منہاج رکھتی ہے اور اس کی ساخت روایتی سیاسی طاقت کی ساخت سے کس طرح مختلف ہے؟ سیاسی طاقت کس تاریخ کی کوکھ سے برآمد ہورہی ہے او راس تاریخ کی حرکیات کی تفہیم کے لیے کون سے نظری علوم اور علمی طریقہ ہائے کار فراہم ہیں؟ نفاذ کی بحث کو سیاسی طاقت کے ..structure.. سے الگ کر کے، اور سیاسی نظام میں طاقت روائی کی منہج سے آنکھیں چرا کر نظریے سے جوڑنے کی چابک دستانہ کوشش کرنا ایک گہرا علمی اغماض ہے جو اب ہمارے ہاں کتمان کے درجے کو پہنچا ہوا ہے۔ اگر قانون اور نفاذ کی بحث ہمیں فوری طور پرمتداول سیاسی طاقت کے تجزیے کی طر ف نہیں لے جاتی تو ہمیں اپنی فکر کرنے کی ضرورت ہے ، کسی نا زائیدہ فکر کے امکانات کی پڑتال بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے کہ جدید سیاسی طاقت اپنی تشکیل ..(constitution) ..اور ترسیل.. (deployment).. میں ما فوق الفطرت اثر انگیزی، اثر اندازی اور سفاکی حاصل کر چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں جدید سیاسی طاقت نظریے کی سترپوشی کے بغیر فرمانروائی کا تصور بھی نہیں کر سکتی اور نظریہ ..(ideology).. ہی جدید سیاسی طاقت کی جوازکاری.. (legitmization) .. کا سب سے بنیادی، مؤثر اور طاقتورٹول ہے۔ لہٰذا علمی دیانت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے ہاں اور عالمگیر سطح پر قائم سیاسی طاقت کے ..structure.. کا مطالعہ متداول علوم میں رہ کر کریں ، اور اس کے منتہائی نتائج پر غور کر نے کے بعد سیاسی طاقت اور نفاذ کے باہمی مسئلے کو حل کریں۔ یہاں ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ طاقت کی بحث نظریے کے خلا میں آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ پھر نظریے اور مذہب پر جو بحوث چل رہی ہیں ان میں شریک ہو کر ہمیں نظریے اور مذہب کا تعلق طے کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی طاقت اور نظریے سے اغماض برت کو نفاذ کی بحث چلانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اسلام کے نفاذاور اشیائے خوردنی کے نرخوں کے نفاذ کو ایک ۔ہی سطح پر رکھ کر دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جب جدید علم اور جدید طاقت کا تجزیہ موجود نہ ہو، تو جدید اور بے سروپا نظریا ت کے محاصرے میں مذہبی متون ایک ٹول بن جاتے ہیں۔ 

ایک بات جس کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ فاضل مضمون نگار کی یہ تحریر کس نوع علم سے تعلق رکھتی ہے؟ یہ ایک بدیہی اور متفقہ بات ہے کہ انسان کا عقلی شعور ہر تہذیب اور ہر عہد میں علم کے ..standard disciplines and discourses.. میں اپنی فعلیت کے حاصلات کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے بغیر علم کا کسی بھی طرح کا کوئی تصور سرے سے موجود یا ممکن ہی نہیں ہے۔ ورنہ ہر طرح کی بک بک جھک جھک علم ہی قرار پائے گی اور علم کا استدلالی اور جدلیاتی عمل ممکن نہیں رہے گا۔ ہمار ے ہاں تو غدر مچا ہوا ہے اور موج لگی ہوئی ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں یا موجودہ مغرب کو دیکھیں تو وہاں بھی علم کا بنیادی اسلوب ..standard.disciplines.and discourses ..میں ہی چلنے کا ہے۔ اسلامی تہذیب میں ظاہر ہونے والی علمی روایت سے آدمی کا اختلاف بھلے جو بھی ہو وہ اپنی جگہ، لیکن یہ روایت استناد اور استدلال کے جواز کے فرق کے ساتھ منقولی اور معقولی کی واضح تقسیم رکھتی تھی۔ یہ مضمون اصول تفسیر، تفسیر القرآن، اصول فقہ، اصول حدیث ، علم بلاغت ، علم بیان وغیرہ کے زمرے سے نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی کلامی اور عرفانی کاوش ہے۔ دوسری طرف اس مضمون کا متداول اور عصری علوم میں شجرہ نسب تلاش کرنا بھی ممکن نہیں ہے، مثلاً فلسفہ، مابعد الطبیعات ، عمرانیات، معاشیات، تاریخ ، آثاریات یا بشریات وغیرہ۔ ہمیں یہ معلوم کرنے میں بہت دلچسپی ہے کہ قرآن پر جس ..hermeneutics..کو آزمایا جا رہا ہے وہ کدھر سے آئی ہے؟ اور وہ ہے کیا؟ اور جن خیالات کو قرآن کے نظریۂ تاریخ کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، ان کی واضح تفصیل کیا ہے؟ اور ان کی قرآن کریم، نظریہ سازی کے طریقۂ کار کی شرائط، تاریخ نگاری اور اصول تاریخ سے کیا نسبت اور کیا تعلق ہے؟

قیام علم کے تاریخی طور پر دو طریقے موجود رہے ہیں: ایک مذہبی استناد اور دوسرے عقلی استدلال۔ استعمار کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نیا استناد اور جواز سامنے آیا جس کا تعلق عہدے سے ہے، یعنی سیاسی طاقت سے۔ اب غالب طور پر یہی استناد باقی رہ گیا ہے، یعنی علم کی قلم رو میں مذہبی استناد اور عقلی استدلال کمزور پڑ گیا ہے اور علم طاقت کی ترجیحات کے مطابق تشکیل پا رہا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ اس مضمون میں علم کے کس استدلال کو کام میں لایا گیا ہے؟اگر تو یہ کوئی ذہنی سفرنامہ ہے تو پھر اس کا جواز یقیناًموجود ہ ہے کیونکہ سیر عقائد و افکار میں اپنے مشاہدات، تجربات اور پسند ناپسند کے اظہار کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ ایسی صورت میں اس کو نئی تعریف یا تعبیر کا نام دینا مناسب نہیں ہے۔ اور اگر یہ واقعی کوئی نئی تعریف یا تعبیر ہے تو اس کی علمی منہج کو ..articulate.. کرنا ازبس ضروری ہے۔ 

ہم جیسے عام مسلمانوں کے نزدیک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پاک اور قرآن مجیدکو نہ تو ..question.. کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ..redefine.. کیا جا سکتا ہے۔ صحابۂ کرامؓ، ائمہ اربعہ اور ان کے بعد امت میں ظاہر ہونے والے علما کی طویل درخشندہ لڑی بہت محترم ہے۔ ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلمکے علاوہ کسی کو معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے، لیکن ہم بزرگوں کی عیب چینی کو دین اور ایمان دونوں کے لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہم علمائے سوء کے وجود سے انکار نہیں کرتے، لیکن اس کی آڑ میں علمائے حق کی نام نہاد ’فکری ‘مخالفت کو بڑی محرومی اور بدنصیبی خیال کرتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ بات سمجھنا از حد دشوار ہے کہ اسلام کی نئی تعریف متعین کرتے وقت ہمارے روایتی علما کی شامت کیوں آ جاتی ہے؟ آخر انہوں نے ایسی کیا خطا کر دی ہے کہ اسلام کی نئی تعریف پر نکلنے والا ہر مہم جو روایتی علما پر تیر اندازی اپنا اولین فرض سمجھتا ہے؟ جدیدیت پسند دانشوروں اور نام نہادمتجددین نے دین اور اس امت مرحومہ پر جو احسانات فرمائے ہیں، ہم ان کی گوشہ وار تفصیل سے بھی باخبر ہیں۔ یہ بات تو کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے روایتی علما جدید تہذیب کی تفہیم اور تردید کے لیے کوئی علمی اور فکری اسلوب پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس کی وجہ سے یقیناًبہت سے سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں، اور اس معاملے میں ہمیں بھی ان سے سخت شکایات ہیں۔ لیکن ہمارے علما دین کے روایتی موقف کو باقی رکھے ہوئے ہیں اور اسی کا پرچار کرتے ہیں اور یہی اصل چیز ہے۔ ہمارے خیال میں روایتی علما اپنی تمام تر فروگزاشتوں اور تسامحات کے باوجود سرآنکھوں پر بٹھائے جانے کے قابل ہیں کہ وہ دین کے روایتی موقف اور تعلیم سے ارادتاً دستبردار ہونے کے لیے ہر گز تیار نہیں۔ اپنی معاشی اور ثقافتی ابتری اور سیاسی نکبت کے باوجود ہمارے علما ایک گہری شکست میں ہوتے ہوئے بھی دین میں کسی بنیادی رد و بدل پر تیار نہیں۔ یہ ان کا اس امت پر احسان ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔ 

اسلام کی نئی تعریف کے منصوبہ ساز دانشور حضرات کا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے کہ انہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عام مسلمانوں کے تعلق کا روایتی اسلوب پسند نہیں، بلکہ یہ انہیں بڑا ..outdated.. لگتا ہے، قرآن سے عام مسلمانوں کا تعلق صرف فہم تک محدود اورصرف ذہنی نہیں بلکہ وجودی ہے،اور یہ بھی دین کی نئی تعبیر والوں کو بہت دقیانوسی معلوم ہوتا ہے۔ پھر فقہی احکامات کی تفصیلات بھی غیر ضروری معلوم ہوتی ہیں، اور حدیث کا بیان بھی نامکمل محسوس ہوتا ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ بڑی احتیاط سے دین سے جڑی ہوئی چیزوں کو منقطع کرنا شروع کرتے ہیں ۔ دینی روایت سے رستگاری کے بعد آخر میں قرآن اپنی ظاہری ہیئت میں باقی رہ جاتاہے اور اس کے معانی پر تعبیراتی طبع آزمائی بہت آسان ہو جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر ہم جیسے روایت پسند اور عام مسلمانوں سے مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فقہ، حدیث اور دیگر روایتی علوم کو چھوڑ کر ان کے مہیا کردہ چیتھڑوں پر قناعت کر لیں۔ یہ مطالبہ عام مسلمان کے لیے بہت ہی بڑا اور ناقابل تصور ہے۔

اب تین اقتباس ایک تسلسل میں ملاحظہ فرمائیے:

’’ (۱)..اس مطالعے کے دوران میں ایک اساسی نکتہ دھیان میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ کتاب اور صاحب کتاب کی اس نوع کی تفصیلات ، قرآنی نظریۂ تاریخ کی روشنی میں کھنگال لینی چاہئیں۔ یعنی ان تفصیلات میں ترجیحی طور پر ان امور کوزیر بحث لانا چاہیے جو کسی بھی عمومی عمرانی صورت حال سے مطابقت رکھے ہوئے ہوں۔ ایک لحاظ سے یہ وہی کام ہے جو شارع نے خود نزول قرآن کے وقت ، ما قبل تاریخ کی چھانٹی اور نچوڑ کی صورت میں کیا تھا، اب اس کام کی ذمہ داری امت مسلمہ کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ ۔۔۔
(۲).. اب مخصوص عمرانی صورت حال کی حامل تاریخ میں نچوڑی عمل کے ذریعے سے حاصل شدہ تاریخ ..(....gist of history) .. جو کسی بھی عمرانی صورت حال کے موافق ہو سکے، اصولاً (قرآن کے داخل میں) محفوظ کر لی جانی چاہیے تھی ، اور اسے محفوظ کر بھی لیا جاتا ہے۔۔۔۔
(۳).. قرآن مجید کی پہلی حیثیت اس اعتبار سے اس امر کی علامت بن جاتی ہے کہ شارع نے تاریخ کی چھانٹی کا عمل قرآن کے داخل میں کر دکھایا ہے۔‘‘ 

یہاں صرف ایک بات رہ گئی ہے کہ شارع کو شاباش نہیں دی کہ اس نے اپنا ..homework.. مکمل کر کے بہت اچھی ..assignment.. تیار کی ہے۔ اور پھر ’’عمومی عمرانی صورت حال‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ اور قرآن کی چھانٹی اس لیے کی جائے کہ وہ اس چیستاں سے مطابقت لیے ہو ئے ہو؟ اور باقی قرآن؟ مصنف لفظی ہیر پھیر سے وہی بات کر رہے ہیں جو مغرب کے جدید دانشور کھل کر کرتے ہیں کہ قرآن کی از سر نو ..editing.. ہونی چاہیے۔ یہاں عمرانی صورت حال، چھانٹی شدہ تاریخ، قرآن میں موجود نچوڑی تاریخ، صورت کی کلی تفہیم، ترتیب نزولی اور ترتیب حتمی کی الل ٹپ بحث، وغیرہ وغیرہ کے نقاب پوش نظریاتی مہرے بھی قرآن مجید کی تدوین جدید کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جس طرح شارع نے چھانٹی شدہ تاریخ کو قرآن بنا دیا اس طرح امت مسلمہ چھانٹی شدہ قرآن کو ایک بار پھر تاریخ بنا دے۔ 

اسلام کی نئی تعریف اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسلام بطور دین کے ہر پہلو کو از سر نو متعین نہ کر لیا جائے۔ اس کا مقصد کسی دینی غایت تک پہنچنا نہیں ہے بلکہ عصری طاقت اور علم کے سامنے معافی تلافی کرکے جان بخشی کرانا ہے۔ اس مہم جوئی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت و مقام کو نہایت غیر محسوس طریقے سے تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ اسوہ کا نیا مفہوم ملاحظہ ہو:

’’مذکورہ بحث کے بین السطور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت کے ’’اسوہ کامل‘‘ ہونے کا ایک درخشندہ پہلو، اپنے دور کی سماجی صورت حال اور اس سے منسلک مطالبوں کے مکمل ادراک پر محیط ہے۔‘‘ 

ذرا دیکھیے کہ مصنف نے ’’درخشندگی‘‘ کہاں ارزانی فرمائی ہے! اور پھر ’’اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم واور قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔‘‘ اگر دین کی نئی تعبیر کے بین السطوری ایجنڈے کی مکمل ..articulation.. ہو جائے تو اصل صورت حال واضح ہو جائے گی، لیکن اہل نظر اس سے خوب واقف ہیں کہ دین کا کوئی پہلو اس بین السطوری شب خون سے بچ نہیں سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کا تاریخ، تقدیر اور تکوین سے کیا تعلق ہے؟ ہم اس بحث میں پڑے بغیر یہ عرض کریں گے کہ جہاں ’’اسوہ کامل‘‘ نعوذ باللہ تاریخ کی گرد بن کے بھی زیب داستان کے لیے ’’کامل‘‘ ہی رہا، وہاں بیچارے قرآن پر کرم گستری بھی ملاحظہ ہو: 

’’لیکن قرآن اپنی اس حیثیت میں ، کہ یہ نچوڑی ہوئی چھانٹی شدہ تاریخ ہے، اپنے جواز کے لیے کسی عمرانی صورت حال سے مطابقت کا مطالبہ کرتا ہے۔‘‘ 

خدا خیر کرے۔ نچوڑی ہوئی یا غیر نچوڑی ہوئی ، چھانٹی شدہ یا غیر چھانٹی شدہ تاریخ ہمیشہ اپنے جواز کے لیے ’’کسی عمرانی صورت حال‘‘ سے ’’مطابقت‘‘ کی بھیک ہی مانگتی ہے، ورنہ وہ تاریخ ہونے کے شرف سے سرفراز نہیں ہو سکتی۔ اللہ قرآن کو اس انجام سے محفوظ رکھے۔ قرآن مجید تاریخی اور عمرانی صورت حال پیدا کرتا ہے، اس سے مطابقت تلاش نہیں کرتا۔ اگر مصنف اس مطابقت کی کچھ علمی تفصیلات بھی ارشاد فرما دیتے کہ متن قرآن اور صورت حال میں یہ کیسے اور کن شرائط پر قائم ہوتی ہے تو ان کا نظریہ واضح ہو جاتا۔

اس مضمون میں فاضل مصنف نے جدیدریاست کے جو معنی فراہم کیے ہیں:[کہیں وہ (اکثریتی قانونی مسلمان)اس غلط فہمی میں تو مبتلا نہیں کہ ریاست ، افراد سے بالکل الگ تھلگ ..(isolated)..کوئی مافوق الفطرت ہستی ہے؟ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ریاست تو افراد کے مجموعہ کا نام ہے اور یہ افراد کے ایسے مجموعی منشا..(collective will).. کی نمائندگی کرتی ہے جو افراد معاشرہ میں فرد فرد بکھری ہوئی ہوتی ہے۔]، اس کے بعد ہم بہت سے ایسے خیالات پر گفتگو کو مفید خیال نہیں کرتے جہاں انہوں نے جدید اصطلاحات کو ..deploy.. کیا ہے، کیونکہ جو کام وہ دینی اصطلاحات کے ساتھ کررہے ہیں، وہی حشر یہاں جدید علمی اصطلاحات کا بھی ہورہا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے بارے میں نیا عقیدہ ملاحظہ فرمائیں: 

’’یعنی بنیادی طور پر صفاتِ امانت اور دیانت کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کا حق دار ٹھہرایا گیااور قرآن کو پردۂ غیب سے ظہور میں لایا گیا۔‘‘ 

نبی کی بعثت کے اس نئے تاریخی معیار کے مضمرات سے مصنف خود ہی ڈر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ’’عام انسانوں کے لیے امانت و دیانت کی اس سطح تک پہنچنا بہت محال ہے۔‘‘ یہ بھی فرما دیتے کہ ان کے نئے تاریخی نظریے کے مطابق کیوں محال ہے؟ ’’اس لیے عام انسان اپنی دیانت کے بل بوتے پر پردۂ غیب سے تو قرآن ظہور میں نہیں لا سکتے۔‘‘ یہ نہیں بتایا کہ کیوں نہیں لا سکتے؟ ان کے ’’قرآنی نظریۂ تاریخ‘‘ کی روشنی میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ جدید انسان تو اب خلاؤں اور سیاروں سے پتہ نہیں کیا کیا سنگ و خشت اٹھا کے لا رہا ہے، تاریخ اور عمرانیات کے ساتھ ساتھ جدید سائنس کو ..enlist.. کرنے سے شاید کوئی نیاقرآن بھی ہاتھ لگ جاتا۔ ’’تاریخ‘‘ اور ’’عمرانیات‘‘ کے سرکس میں تو بہت کچھ چلتا ہے اور مصنف کو بھی چاہیے تھا کہ اپنے نئے تاریخی اور عمرانی معیار کی پاسداری میں کچھ لوگوں کو اس کا موقع ضرور دیتے۔ ہو سکتا ہے کسی نئے قرآن کی سبیل ممکن ہو جاتی اور سارا ٹنٹاہی نکل جاتا اور جدید ذہن نے قرآن کو جس طرح تختہ مشق بنایا ہوا ہے، اس مشقت ہی سے جان چھوٹ جاتی! اس نئی تعریف کی کوشش میں اکابرین امت اور علمائے کرام کی عزت بھی جاتی رہی جن پر طعن اس پورے مضمون میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔ 

جدید ذہن اپنی تعبیراتی مہمات میں فقہ کو کسی بھی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں: 

’’اب جب کہ روایتی فقہ اپنی داخلی روح اور حقیقی جوہر سے محروم ہو چکی ہے، اس کے ظاہری ڈھانچے سے پیچھا چھڑائے بغیر نفاذ اسلام سے حاصل ہونے والے حقیقی مقاصد تک رسائی ممکن نہیں ہے۔‘‘ 

فرد جرم اور فیصلہ دونوں قابل داد ہیں، جرح غائب ہے۔ بالکل یہی فرد جرم اور فیصلہ خود اسلام پر بھی اب بہت عام ہے ، اس کا کوئی حل بھی مصنف تجویز فرمائیں۔ مسئلہ روح و جوہر وغیرہ کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ فقہ کے ڈھانچے سے کیسے جان چھڑائی جائے۔ اگر روح ہی کا مسئلہ ہے تو یہ دین سے فقہ میں پھر سے ..reintroduce.. کی جا سکتی ہے۔ لیکن شکر ہے کہ تاریخ نے داخلی روح اور حقیقی جوہر کو ختم کر دیا ، اب ہماری ذمہ داری ڈھانچے کی تدفین ہے، کیونکہ یہی ہماری نئی تاریخی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا دینی ذمہ داری سے زیادہ ضروری ہے۔ فاضل مصنف بھول گئے کہ قانون کی کوئی روح وغیرہ نہیں ہوتی اور اس کی حرکت طاقت سے اخذ ہوتی ہے۔ پھر حدیث کا بھی کوئی بندوبست ہونا چاہیے کیونکہ 

’’واقعہ یہ ہے کہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے کتاب اور صاحب کتاب کی تفصیلات جمع کرنے میں اگرچہ تساہل نہیں برتا، لیکن ابھی تک ان تفصیلات کی چھانٹی قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں قابل اطمینان حد تک نہیں ہونے پائی۔‘‘ 

یہ تاریخی ’’اگرچہ‘‘ ائمہ محدثین پر سب سے بڑے احسان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، لیکن جدید محدثین کو اس قرآنی نظریہ تاریخ کی خدمت گزاری میں بھرتی ہو کر اطمینان رسائی کے لیے مستعد ہونے کی فوری ضرورت ہے۔ یہاں غور طلب یہ بات ہے کہ اگر قرآن چھانٹی [جس کے لیے جدید لفظ ..editing.. ہے۔ نہ جانے مصنف اس سے کیوں احتراز کررہے ہیں۔] سے نہیں بچ سکتا تو حدیث کی کیا مجال ہے ؟ 

فاضل مصنف نے مضمون میں ’’قرآنی نظریۂ تاریخ‘‘ کا اطلاق پورے دین پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں نفاذ اسلام کا مسئلہ اسلام پر ایک نظریے کے نفاذکی کاروائی میں تبدیل ہو جاتاہے۔ نفاذ، اطلاق، تطبیق وغیرہ کی دلدادگی بری نہیں، لیکن قرآن کو خلاصۂ تاریخ کہہ کر اس کو عمرانی نظریہ قرار دینا بہت سنگین طور پر محل نظر ہے۔ یہاں یہ امر واضح ہونا چاہیے کہ یہاں تاریخ سے کیا مراد ہے؟ کیا انسان کی معلومہ تاریخ ہے جس کا شارع نے خلاصہ بنایا ہے؟ مستشرقین اور جدید مغرب کے اسکالر تو یہ الزام رکھتے ہیں کہ قرآن توریت اور بائبل کا خلاصہ ہے۔ چلو، اس الزام سے رستگاری کی کوئی سبیل نظر آئی اور اب یہ تاریخ کا خلاصہ ہو گیا۔ لیکن قرآن کے لیے یہ نیا اعزاز تو پرانے الزام سے بھی بدتر ہے۔

’’ اس لیے ترتیب نزولی کا حامل قرآن تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔یعنی ایک لحاظ سے نزول قرآن کا یہ خاص پہلو صراحت کرتا ہے کہ کہ تاریخ نہیں بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ ..(selected history ).. سے ایک حد تک مدد لے کر عصری مسائل سے نمٹا جا سکتاہے۔‘‘ 

اس اپروچ کے بعد قرآن کی ضرورت ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاعل کے لیے قرآن اور عصری مسائل اب ایک ہی سطح کی چیز ہیں۔ عصری مسائل تو خود تاریخ کی پیداوار ہیں، اور تاریخی تجربے سے انسان ان کے حل میں لگا رہتا ہے۔ اسے اس کے حال پر چھوڑنے میں کیا مضائقہ ہے؟ اگرحق اور تاریخی تجربہ ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں تو ہمیں اپنے دین کی خیر منانی چاہیے۔ مصنف کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اصل نظریات کی ..articulation.. کے بغیر ان کا اطلاق کیا ہے۔ ابھی تاریخ کا مسئلہ حل نہیں ہوا تھا کہ چھانٹی شدہ تاریخ کا نیا مسئلہ نمودار ہو گیا۔ اور انہوں نے تاریخ کا نچوڑ تیار کرنے کے نسخے کا اظہار اپنے تجاہل عارفانہ میں قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ شاید مریض کی حالت ابتر ہے، اس لیے نچوڑ پلانے کی جلدی ہے۔ اب ہمارے جدید دینی مطب سے یہی کچھ ہاتھ آتا ہے ، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ 

فاضل مصنف کا عمرانی مطالعہ اب ایک نئی تفہیمی منزل پر پڑاؤ ڈالتا ہے۔ ہم گفتگو کی خاطر پورا اقتباس درج کرنا چاہیں گے: 

’’ اب ذرا توقف کرکے غور کیجیے کہ اصلاً کوئی نہ کوئی ’’صورت حال ‘‘ ہی آیات کے نزول کا سبب بنتی رہی۔اس سارے عمل میں سے صورت حال کو خارج کر دیا جائے تو نزول آیات کا جواز..(rationale).. ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صورت حال موجود نہ ہوتی تو قرآن مجید کابھی نزول نہ ہوتا۔ اگر بات کو غلط رنگ نہ دیا جائے تو ہمیں کہنے دیجیے کہ اس تناظر میں متن قرآن ..(text. .of Quran)..سے کہیں بڑھ کر صورت حال.. (the given situation).. اہم ہو جاتی ہے۔ متن قرآن تو لوح محفوظ میں پہلے سے موجود تھا۔ اس کے بتدریج نزول کی اہمیت یہی ہے کہ اسے اس صورت حال کی مطابقت میں نازل کیا گیا۔ صورت حال نے اس مجرد شکل میں اپنے سر نہیں لیا۔ یہاں نکتے کی بات یہ ہے کہ متن قرآن اور صورت حال میں مطابقت کی بنیادی شرط اس صورت حال کی صداقت پر مبنی غیر جانبدارانہ بالائے تعصب کلی تفہیم تھی۔ اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو قرآن پاک کی وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورت حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ 

محولہ بالا پیراگراف نہایت اہم ہے اور مصنف کے مافی الضمیر کو بہت بہتر انداز میں منعکس کرتا ہے۔ دین میں کارفرما جدید شعور کا ایک اہم مسئلہ روایتی معاشرے میں اس کے اپنے تاریخی تجربے سے پیدا ہونے والا خوف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مذہب کی بابت اپنے اساسی تعبیری قضایا کا بہت واضح اظہار نہیں کرتا۔ لیکن اب تو عصری تاریخ کا ہر قدم ان کے رخ اور حمایت میں ہے، اس لیے انہیں ذرا جرأت سے کام لینا چاہیے اور اپنی اساسی فکر کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے۔ گزارش یہ ہے کہ مغرب میں ظاہر ہونے والا جدید شعور استعمار آفریدہ جدید شعور کا پدری شعور ہے۔ ’پتا پہ گھوڑا‘ کے مصداق یہ دیسی جدیدشعور اس کے کچھ ثقافتی خواص کا حامل ضرور ہے لیکن اس کا وارث شعور نہیں ہے۔یہ شعور کسی ایسے مسئلے سے نبردآزما ہی نہیں ہوا جس کا سامنا تہذیب مغرب میں ظاہر ہونے والے جدید شعور کو ہوا۔ مختصراً یہ کہ مذہب کے حتمی انکار کے بعد مغربی شعور کو ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہوا جس کا تعلق ..origin..سے ہے، کائنات، حیات اور شعور کے ..origin.. کا۔ انیسویں صدی میں یہ مسئلہ گھمسان کا سماں رکھتا ہے۔ یہ سوال علمی یا عقلی نہیں ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ انسانی شعور اپنی اس طلب کو پورا کیے بغیر ..functional.. نہیں ہو سکتا۔ یہ ..reason.. کے دائرہ کار سے متعلق نہیں ہے، یہ اعلیٰ شعور یعنی ..intellect.. کی فطری طلب ہے اور ..reason..اس وقت تک اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکتی جب تک انسانی شعور کی یہ طلب پوری نہ ہو جائے۔ یہ طلب وہ خدا سے پوری کرے یا کسی بت سے، اس کے بغیر وہ اپنے کام کا آغاز کر ہی نہیں سکتا۔ جدید مغربی شعور نے اس کا حل یہ نکالا کہ ہر چیز کا ..origin..تاریخ ..(history)..، ثقافت یعنی کلچر، ..آثاریات.. (archaeology).. اور استخوانی زمانیات ..(palaentology).. میں تلاش کیا جائے، اور ماورا کے سوال اور امکان ہی کو ختم کر دیا جائے کیونکہ عقل اسے ماننے کے لیے تیار ہی نہیں، کیونکہ جدید شعور ماورا کے سوال ہی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ بعد میں یہ تصور مذہب کے تاریخی اور ثقافتی منشا ..(origin).. کی صورت میں مذہبی مطالعات میں سامنے آیا اور آج تک قائم ہے۔ 

اس تناظر کا دعویٰ یہ ہے کہ مذہب بھی تاریخ اور ثقافتی حالات یعنی صورت حال ہی کی پیداوار ہے ، ماورا وغیرہ سب لغویات اور توہمات ہیں۔ دیسی اور کم جرأت آزما جدید شعور کے نزدیک ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ [تاریخی] صورت حال موجود نہ ہوتی تو قرآن مجید کا نزول نہ ہوتا۔‘‘(بریکٹ میں لفظ راقم کا اضافہ ہے۔) نعوذباللہ، اگر اللہ بھی اس تاریخ کے سامنے مجبور ہے تو ہماری کیا مجال کہ ہم نچوڑی تاریخ سے رہنمائی حاصل نہ کریں؟ ہم بات کو غلط رنگ نہیں دیتے، لیکن اب تو صاف ظاہر ہے کہ ’’متن قرآن سے کہیں بڑھ کر صورت حال اہم ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی تاریخ کی اہمیت اول ہے ، وحی کی حیثیت ثانوی ہے۔ پھر وہ فرماتے ہیں کہ ’’متن قرآن نہیں، بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی پر صداقت تفہیم نے‘‘ سماجی صورت حال کو تبدیل کر دیا۔ یہاں متن قرآن کی تفہیم غیر اہم ہو گئی۔ اہم تر یہ ہے کہ قرآن بھی اپنی معنویت ’’صورت حال کی مبنی بر صداقت تفہیم‘‘ سے اخذ کرتا ہے جو اس وقت کا شعور اپنی صلاحیت سے تاریخ سے نچوڑتا ہے۔ اب تو بات صاف ہو گئی۔ لیکن صدر اول میں یہ کارہائے نمایاں کس کس نے کب سرانجام دیے ، اگر مصنف ان کا نام بھی ارزانی فرما دیتے تو آج تاریخ کے محاصرے میں آئے ہوئے مسلمانوں کا بہت بھلا ہو جاتا۔ اب تو تاریخ کی تفہیم بھی وہیں سے آ رہی ہے جن کے قبضے میں تاریخ ہے۔ قرآن تو گیا نہ جانے اب ہماری تاریخی صورت حال کی تفہیم کا کیا ہوگا؟ دراصل ’’صورت حال‘‘ شان نزول کا جدید ترجمہ ہے۔ شان نزول کی اہمیت تو ہمارے علما ہی بہتر بتا سکتے ہیں، لیکن صورت حال بنتے ہی اسے تاریخ ہڑپ کر لیتی ہے۔ 

’’صورت حال‘‘ کی بابت مصنف کی مزعومہ ’’کلی تفہیم‘‘ بھی محل نظر ہے۔ حیرت ہے کہ کوئی تفہیم کلی بھی ہو سکتی ہے۔ صورت حال کی تفہیم لابدی نظری ہو گی، لہٰذایہ اعتباری اور کسری ہی ہو گی۔ علم تصور سازی کے اصول اور ادراک کے اصول کو متعین کیے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔ قیام علم کی شرط اول امتیاز اور حصر ہے۔ صورت حال سے میرا خیال ہے کہ مصنف ..human situation.. .مراد لے رہے ہیں، اور کہیں بھی..human condition.. مراد نہیں لے رہے، کیونکہ ان دونوں کے معنوی احتمالات مختلف ہیں۔ انگریزی کا ایک مشہور ناول نگارجان فاؤلز ..situation.. ہی کو خدا قرار دیتا ہے، کیونکہ یہ بقول اس کے انسان پر اسی طرح غالب اورقادر ہے جس طرح کوئی مفروضہ خدا ہو سکتاہے۔ تاریخی صورت حال لحظہ لحظہ انسانی ارادے اور تقدیر کی نمود ہے۔ صورت حال انسان کا مسئلہ ہے، وحی کا مسئلہ نہیں ہے۔ جس طرح صورت حال انسان کو روند ڈالتی ہے، اسی طرح وحی اللہ کے رسول میں مجسم ہو کر تاریخی صورت حال کو ادھیڑ دیتی ہے اور نتیجتاً پیدا ہونے والی صورت حال ہر گز ہر گزمکرر ہر گز تاریخی نہیں ہوتی کیونکہ اس کی پیدائش کے اسباب تاریخی نہیں ہوتے، ماورائی ہوتے ہیں۔ اگر وحی متن بن رہی ہے تو ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں مجسم قرآن بن کر ارضی نمود میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ اپنی صورت حال کا کشکول لے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے۔ آپ ہی نے اس صورت حال کو معنویت عطا کرنی ہے ، آپ نے اس سے کوئی تفہیم تھوڑی اخذ کرنی ہے۔ اسی بارگاہ سے جب تاریخ کو تقدس اور استناد حاصل ہوتا ہے تو یہ روایت بن جاتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ حضور حق میں علم گستاخی اور مرضی بغاوت بن جاتی ہے۔اس لیے کہ علم اور مرضی تاریخ ہی کے مظاہر ہیں۔ اس کا علاج عمل صالح ہے جو تاریخ کی نفی ہے اور حضور حق رہتے ہوئے میں علم اور ارادے کی ..synthesis.. ہے۔ حضور حق میں کسی کے ذہن کی کیا مجال کہ وہ صورت حال کی کلی تفہیم حاصل کرتا پھرے، تاریخ کی گرد کو چھانا کرے، اور ارادے کی کیا مجال کہ تفہیم کو رہنما بنا کر صورت حال کو قابو میں کرتا پھرے۔ 

یہاں ہم ’’صورت حال‘‘ کی جدید نظری بحث سے دانستہ احتراز کرتے ہوئے یہ گزارشات پیش کر رہے ہیں، لیکن محولہ بالا پیراگراف میں دو فقرے تو درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ ان کا اعادہ تجزیے کے لیے ضروری ہے۔پہلا فقرہ یہ ہے: ’’یہاں نکتے کی بات یہ ہے کہ متن قرآن اور صورت حال میں مطابقت کی بنیادی شرط اس صورت حال کی صداقت پر مبنی غیر جانبدارانہ بالائے تعصب کلی تفہیم تھی۔‘‘ اب اس میں تین چیزوں کا ذکر ہے جو اصل مقصد کے لیے درکار ہے:

۱: متن قرآن

۲: صورت حال

۳: کلی تفہیم

یہ کلی تفہیم(۱) صداقت پر مبنی ہونی چاہیے،(۲) غیر جانبدارانہ ہونی چاہیے،(۳)بالائے تعصب ہونی چاہیے، اور (۴) کلی ہونی چاہیے۔ اگر یہ مضمون علمی ہوتا تو مصنف اخلاقی شرائط گنوانے کے بجائے اس تفہیم کی علمی شرائط بیان فرماتے۔ پھران شرائط کے ساتھ ہونے والی تفہیم تو انسانی نہیں ہو سکتی ، (نعوذ باللہ) یہ تو اللہ ہی کر سکتا ہے۔اور اگر یہ اللہ ہی نے کرنی ہے تو اسے تو کسی تفہیم کی ضرورت نہیں ہے، اگر ہے تو پھر وہ اللہ نہیں ہو سکتا۔ اگر نعوذ باللہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنی ہے تو چلیے تفہیم تو ہو گئی، اب قرآن لوح محفوظ سے نکلوانے کا مسئلہ درپیش ہو گا، اس کا کیا حل ہے؟ اگر نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صورت حال کی کلی تفہیم تو کر لی تو اب جبرئیل علیہ السلام کی ذمہ داری دوہری ہو گئی کہ ادھر سے ’’کلی تفہیم‘‘ لے کے جا رہے ہیں اور ادھر سے ’’لوح محفوظ سے قرآن‘‘ نکلوا کے لا رہے ہیں۔صورت حال علت اور نزول قرآن معلول ہو گیا۔ ہم تو تاریخ کے قرآن پر غلبے پر نوحہ کناں تھے ، یہاں تو تاریخ ملائے اعلیٰ تک کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ نعوذ باللہ ایسے میں یہ جاننا بہت دلچسپ ہو گا کہ اللہ کی مصروفیت کیا رہی ہو گی؟ یہ معاملہ بھی اس نئی الٰہیات میں مذکور ہونا چاہیے تھا۔ فاضل مصنف کے مضمون سے متبادر ہوتا ہے کہ یہ سارا معاملہ ’’خودکار‘‘ رہا ہوگا۔ ہم سے تو ابھی اس کلی تفہیم کا مسئلہ ہی حل نہیں ہو پا رہا، مطابقت کی کیا مدح سرائی کریں گے۔ ہم نے اس ذہن کا ذکر یہاں احتیاطاً نہیں چھیڑا جو اس ہفت خواں کو طے کرے گا، کیونکہ فاضل مصنف نے اس تفہیم کے ابھی صرف اخلاقی اصول متعین فرمائے ہیں، اس تفہیم کی تصوراتی اور ادراکی شرائط کا ذکر نہیں کیا۔ اگر وہ بھی ہو جاتا تو شاید بات کسی سرے لگ جاتی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ صورت حال، عقل ، تفہیم اور متن کا آپسی تعلق کیا ہوتا ہے؟ اور اس تعلق کو طے کیے بغیر یہاں اس کی تطبیق کا کیااخلاقی یا علمی جواز ہے؟ دوسر ے فقرے میں صرف دو لفظی تصرف سے بات مزید صاف ہو جاتی ہے: ’’اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو قرآن پاک کی وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورت حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ یہ اصل فقرہ ہے۔ اب دو لفظ تبدیل کرنے سے اصل بات سامنے آ جاتی ہے: ’’اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو[اور] قرآن پاک [کو] وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورت حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ مسئلہ صرف یہ ہے کہ تاریخ کو وحی پر اور ذہن کو متن قرآن پر غالب رکھا جائے۔ یہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ سب لفظی کھینچ اور معنوی تان صرف اسی لیے ہے۔ 

اس مضمون میں سامنے آنے والی نظرسازی..(theorization).. میں ہمارے لیے یہ مسئلہ تو اپنی جگہ ہے کہ جناب مصنف نے دینی اصطلاحات کی داخلی معنویت کو بدلنے کی کوشش کی ہے ، وہاں اس سے بھی سنگین ترمسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے جدید اصطلاحات کو نیا پیرہن دے کر حریم ہدایت میں ان کے فاتحانہ داخلے کی راہ ہموار کی ہے۔ 

اب ہم آخر میں کچھ گزارشات جدید شعوراور اس کے علمی پیچ و تاب[یہ امام رازیؒ کے پیچ وتاب کی قبیل سے نہیں ہے۔] کے بارے میں پیش کرنا چاہیں گے۔ اس جدید شعور سے وہ ذہن مراد نہیں ہے جو مغرب میں ظاہر ہوا، بلکہ وہ شعور مراد ہے جس کی تولید اور تنویم اسلامی جغرافیہ میں استعمار اور استشراق نے کی ہے۔ یہ استعمار زائیدہ اور استشراق پروردہ شعور ہے۔ اس کے حاصلات قطعی غیر اہم ہیں، اورگزشتہ دوصدیوں میں اس کے حاصلات کے سامنے کوڑی ایک خزانہ ہے۔ اہم تر اس کی ساخت یعنی اس کے احوال ہیں۔ مذکورہ مضمون میں اسلام کی نئی تعریف متعین کرنے کی کوشش اس شعور کی کلاسیک مثال ہے۔ لیکن نئی تعریف کی منزل روایت اور اس کے تمام تر محتویات کو بلڈوز کیے بغیر حاصل ہونے والی نہیں۔ جیسا کہ ہم اس مضمون میں دیکھتے ہیں کہ فاضل مصنف نئی تعریف کے خدوخال بھی واضح نہیں کر پائے اور تھوڑی سی نئی ..space.. پیدا کرنے کی خاطر انہیں دین کی ہیئت اور پوری معنوی کائنات پر تیشہ چلانا پڑا۔ انہوں نے تہذیب لفظ کے سارے آداب ، حرمت معنی کی ہر رہ گزر اور منقولہ اور جدید علوم کے سارے سنگ میل بدل دیے، پھربھی نئی تعریف کی منزل التوا میں ہے۔ اس سارے کھلواڑ کی ضرورت آخر کیوں پڑتی ہے؟ غایت یہ ہے کہ مثلاً دیانت ، امانت اور حیا جیسی اصطلاحات کی دینی معنویت کو ..anesthetize.. اس لیے کیا گیا تاکہ اصل مقصد حاصل ہو سکے جو یہ ہے کہ:

’’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حیا کے مذکور معنی میں وہ لوگ [یعنی اہل مغرب] باحیا نہیں ہیں؟ اور نتیجتاً دیانت دار نہیں ہیں؟‘‘

یہاں’ حیا‘ کی جگہ دین کی کوئی اصطلاح یا کوئی تعلیم رکھ کر ’مذکور معنی‘ کا کلبوت چڑھا دیں تو اصل بات سامنے آ جاتی ہے۔ محولہ فقرے کا مطلب یہ ہے کہ ’مذکور معنی‘ میں یہی لوگ باحیااور دیانت دار ہیں، کیونکہ مذکور معنی کی تلاش اسی مقصد ہی کے لیے تھی۔ اور’مذکور معنی‘ میں بیچارے مسلمان تو ہیں ہی بے حیا، بدیانت اور بے غیرت کیونکہ ابھی اپنی بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کیساتھ بدکاری کرنا ان کا شعار نہیں ہے۔ اگرمسلمان حیا اور دیانت کے مغربی معیار پر فائز ہو جائیں گے تو پھر شاید یہ بھی مہذب کہلا سکیں۔ ہمارے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ جدید شعور جب دین کے روبرو درپے تعبیر آتا ہے تو اس کا مقصد محض اور محض مغربی طاقت، مغربی علم اور جدید انسان کی نفسی ترجیحات کو ..accommodate .. کرنا ہوتا ہے، کیونکہ جدید شعور کے لیے مغرب بیک وقت ایک ..ideal .. بھی ہے اور ..norm.. بھی، اور استعمار کے زیر اثر یہ اس شعور کے تشکیلی عناصر ہیں۔ دین کی الوہی جہت کو ایک فکری ..ideal.. بنانا اور دین کے ہر شعار کو مغربی..norm.. کے تابع کرنا جدید شعور کی سب سے بڑی آرزو ہے۔جدید شعور کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ خود اس کی تولید و تنویم جس اساس اور مبادی پر ہوئی ہے، وہ ان کا فکری تجزیہ کرنے اور ان کی ..articulation.. کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور جب اس کے پیدا کردہ جعلی ..discourses.. کے مضمرات کو ..articulate.. کیا جاتا ہے تو نوبت خراب ہو جاتی ہے۔ 

ہمارے خیال میں تہذیب جدید اپنے استعماری ورژن میں جب ہم پر غالب آئی تو اس سے ایک نہایت سنگین تاریخی صورت حال پیدا ہو گئی۔ اس سنگین صورت حال کا اظہار ہماری تاریخ کے ہر سنگ میل پر مل جاتاہے۔اگر اکبر الہ آبادی اور اقبال کو بیک نظر دیکھیں تو ان کے ہاں اس کا ..fullest.expression.. موجود ہے۔ مغرب کے روبرو ہماری مزاحمت کا اسلوب یا تو سیاسی رہا ہے یا جمالیاتی۔ ہمارا سیاسی ارادہ اور جمالیاتی شعور ہماری مذہبی روایت میں تشکیل پانے والے اخلاقی شعور کا پروردہ ہے۔ ہمارے اخلاقی شعور کے کمزور ہوتے ہی دونوں طرح کی مزاحمت بھی کمزور پڑ گئی۔ اس میں سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں نظری علوم پیدا ہی نہیں ہو سکے جن کی طرف اقبال نے اپنی ’تشکیل جدید‘ میں پیشرفت کی ناکام کوشش کی تھی۔ دنیا ، تاریخ اور معاشرے کو سمجھنے کے لیے ، یعنی آفاق کی تفہیم کے لیے نظری علوم از بس ضروری ہیں۔ وحی کی ہدایت کا فوکس اور مخاطب غالب طور پر انفس انسانی ہے۔ نظری علوم ہر تہذیب کے بنیادی اور اساسی تصور حیات کے ملازم ہوتے ہیں۔ ہماری خوش فہمی یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے اساسی بیان سے نمود لانے اور نمو لینے والے نظری اور مستریانہ علوم اسلامی تہذیب کی بڑی خدمت بجا لائیں گے۔ یہ ہمارے انہدام شعور کی آخری منزل ہے، کیونکہ نظری علوم کی عدم موجودگی میں ہم اپنے تاریخی تجربے اور روز کے مشاہدے کی درست تعبیر پر بھی قادر نہیں رہے۔ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ اسلام مغرب سے تہذیبی عینیت اور وجودی مفاہمت پید اکر چکا ہے اور ہم اپنی مزاحمت کو اپنے انفس میں بھی جاری رکھنے کے وسائل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس منظرنامے میں ضروری ہے کہ دین کا نئے علوم کی روسے معائنہ کرنے سے پہلے دین کی رو سے نئے علوم کا محاکمہ کیا جائے۔ اب دین ہمارے سرکا تاج نہیں رہا، ہمارے پاؤں کی زنجیر بن گئی ہے۔جدید شعور کے سارے ہتھکنڈے اس زنجیر سے پیچھا چھڑانے کے لیے ہیں۔ ہم نے نئے نظری علوم کے گھوڑے جس طرح دین پر تعبیراتی مہم جوئی کے لیے روانہ کیے ہوئے ہیں ، اس سے زیادہ شدو مد سے ہم دینی متون پڑھ کر اس بات کا ادعا کرتے ہیں کہ مغرب کی ترقی کا ہر ٹیکنالوجیائی اور ادارہ جاتی ثمر دین کے عین مطابق ہے، کیونکہ انہوں نے یہ سارا کچھ اسلام ہی سے لیا ہے۔ ہمیں فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ مغرب کی کوئی چیز، سوائے چند ایک اخلاقی افعال کے، دین کی رو سے غلط ثابت نہ ہوجائے۔ہمارے ہاں نئی تعلیم اور کلچر کا پروردہ شعور نفس دین پر نئی تعبیرات کی پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور روایتی تعلیم میں پروردہ شعور مغرب کے تقریباً ہر پہلو کو دین کی سند جواز دینے کے لیے تڑپتا رہتا ہے۔ جدید آدمی یہ کام معاشرے میں روشن خیال اور دانشور بننے کے لیے کرتا ہے، اور کچھ مولوی حضرات کو بھی روشن خیالی کے ہم قدم رہنے کی فکر ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں اس ملی بھگت سے محفوظ رکھے۔

آخر میں ہم میاں صاحب سے گزارش کریں گے کہ ’نفاذاسلام‘ وغیرہ کا بورڈ لگائے بغیر وہ ہمیں یہ بتائیں کہ قرآن کا نظریۂ تاریخ کیا ہے؟ اس میں ہمارا التماس ان سے یہ ہے کہ ان کی بحث متداول ..discourses.. کی شرائط پر ہوئی چاہیے۔ ہم یہ مطالبہ ہر گز نہیں کر رہے کہ وہ ان ..discourses.. کے نتائج کو قبول کرنے کے پابند ہیں، ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ جس استدلال سے نظری علوم قائم ہوتے ہیں، اسی سے منہدم بھی ہوتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ مذہب کو ایک طرف رکھ کر ہمیں یہی بتا دیں کہ نظریۂ تاریخ ہوتا کیا ہے؟ اور اس کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ تاریخ سے کیا مراد ہے؟ کیا کوئی نظریہ علمی بھی ہوتا ہے یا محضwill to truth کا اظہار ہوتا ہے؟ وہ تھیوری اور آئیڈیالوجی میں فرق کس طرح سے قائم کرتے ہیں؟ کیا وحی اور تاریخ کے باہمی تعلق کو زیر بحث لائے بغیرقرآن کو نچوڑی تاریخ کہنا اور پھر اسی کو قرآن کا نظریۂ تاریخ قرار دینا جائز ہے؟ پھر انہیں یہ بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ علم کی جدید بحث میں وحی کی کیا گنجائش نکلتی ہے؟ ہمارا خیال ہے، اللہ نے انہیں جتنے علمی وسائل عطا کیے ہیں وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔اس سے ہمیں رائے تبدیل کرنے اور درست موقف اختیار کرنے میں آسانی ہوگی۔

آراء و افکار

نومبر ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۱۱

عمل تدریس میں استاد کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملالہ یوسف زئی پر حملہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اے عاشقانِ رسول، تم پر سلام !
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

احترام انسانیت اور امت مسلمہ کے لیے راہ عمل
غلام حیدر

خاطرات
محمد عمار خان ناصر

جماعت اسلامی کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندویؒ کی نظر میں (۲)
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

اسلام کی نئی تعریف؟
محمد دین جوہر

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ / مولانا مفتی محمد اویسؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برطانیہ میں طب اسلامی کا تذکرہ
حکیم محمد عمران مغل

Flag Counter