اخبار و آثار

مدرسہ ڈسکورسز : ایک مرحلے کی تکمیل

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مدرسہ ڈسکورسز کے سمر انٹنسو کا یہ اختتامی سیشن ہے۔ یہ پانچ سال کا پروگرام تھا جس کا پہلا مرحلہ آج مکمل ہو رہا ہے ۔ میں اپنے شرکاء کی یاد دہانی اور اپنے مہمان علماء کی معلومات کے لیے اس پراجیکٹ کی ابتدا ، مختلف مراحل اور اس کے مقاصد کے بارے میں اختصار سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس پروگرام کی ابتدا 2016 کے آخر اور 2017 کے اوائل میں ڈاکٹر ابراہیم موسی نے کی جو بنیادی طور پر جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کی دینی تعلیم ہندوستان کے بعض بڑے مدارس جیسے دار العلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء میں ہوئی ۔ اب وہ تقریبا ربع صدی سے امریکی جامعات میں...

مدرسہ ڈسکورسز کی اختتامی نشست کا احوال

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹینسو 14 جولائی تا 17 جولائی بھوربن مری میں منعقد کیا گیا ۔ ورکشاپ کا عنوان " فلسفہ، کلام اور جدیدیت" تھا۔ ان عنوانات پر ملک کے چنیدہ اہل علم کو اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا جن میں ڈاکٹر سید محسن نقوی ، ڈاکٹر محمد خالد مسعود ، ڈاکٹر زاہد صدیق مغل ، ڈاکٹر حسن الامین اور خورشید احمد ندیم شامل ہیں۔ ۱۴ جولائی کو پہلے سیشن میں ڈاکٹر سید محسن نقوی کی گفتگو کا عنوان تھا Philosophy in Shi’i Intellectual Tradition ۔ اسی دن ظہر کے بعد کے سیشن میں Goodness and Badness in Human Actions کے عنوان پر مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر، مولانا زید حسن اور ڈاکٹر زاہد صدیق مغل...

مولانا وحید الدین خانؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا وحید الدین خانؒ کی وفات اہلِ دین کیلئے باعث صدمہ ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ایک صاحبِ طرز داعی تھے جن کی ساری زندگی اسلام کی دعوت کو عام کرنے اور اپنی فکر کے مطابق دعوت کے ناگزیر تقاضوں کو اجاگر کرنے میں گزری۔ وہ دعوتِ اسلام کے روایتی اسلوب کے بعض پہلوؤں سے اختلاف رکھتے تھے اور اس حوالہ سے کچھ تفردات کے حامل بھی تھے مگر مجموعی طور پر ان کی محنت (۱) دعوتِ دین کے عصری تقاضوں کی نشاندہی (۲) نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے ازالہ (۳) اور افہام و تفہیم کی عصری ضروریات کو سامنے لانے کے لیے ہوتی تھی، اور یہی ان کی وسیع...

الشریعہ اکادمی کی تعلیمی سرگرمیاں

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر انتظام مدرسہ الشریعہ ومسجد خدیجۃ الکبری ٰ ہاشمی کالونی، کنگنی والا میں اور مدرسہ طیبہ ومسجد خورشید، کوروٹانہ میں سرگرم عمل ہیں۔ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہدالراشدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا محمدعمار خان ناصر ہیں، جبکہ مولانا محمدعثمان جتوئی، مولانا عبدالرشید، مولانا طبیب الرحمٰن، مولانا محفوظ الرحمٰن، مولانا عبدالوہاب، ، مولانا سفیراللہ ، مولانا کامران حیدر ،مولانااسامہ قاسم، قاری عمرفاروق اور ڈاکٹر محموداحمد پر مشتمل اساتدہ و منتظمین کی ٹیم ان کے ساتھ مصروف کار ہے۔اور معاونین میں...

مدرسہ طیبہ میں سالانہ نقشبندی اجتماع

مولانا محمد اسامہ قاسم

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سالانہ نقشبندی اجتماع کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمد ہوتے ہیں۔ اس سال یہ دینی فکری اصلاحی نقشبندی اجتماع 21 دسمبر بروز سوموار مدرسہ طیبہ گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ اس مبارک روحانی اجتماع میں حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب ،حضرت مولانا اشرف علی، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا جمیل الرحمٰن اختر، مولانا فضل ہادی ، سید سلمان گیلانی، حافظ فیصل بلال حسان ، مفتی عبید الرحمن، مولانا عثمان رمضان، صاحبزادہ نصرالدین خان عمر اور مولانا امجد محمود معاویہ نے شرکت کی۔ قاری محمد عمر فاروق...

علامہ خادم حسین رضویؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علامہ خادم حسین رضویؒ سے کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں اور ان کے خطابات بھی مختلف حوالوں سے سننے کا موقع ملتا رہا ہے۔ وہ بریلوی مکتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے اور مدرس عالم دین تھے۔ دینی تعلیمات و معلومات کا گہرا ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور تحریکات کے ادراک سے بھی بہرہ ور تھے، اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے کلام کا نہ صرف وسیع مطالعہ رکھتے تھے بلکہ اپنے خطابات میں کلامِ اقبالؒ کو موقع کی مناسبت سے مہارت کے ساتھ استعمال کرتے...

یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی لازمی تعلیم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پنجاب کے گورنر محترم چودھری محمد سرور کی طرف سے یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کریم کو لازمی قرار دینے کی خبر یقیناً سب کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں کسی طالب علم کو ترجمہ قرآن کریم پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی۔ پنجاب حکومت اور اسمبلی کی طرف سے اس قسم کے اعلانات اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر سامنے آتے رہے ہیں۔ بلکہ ہماری یادداشت کے مطابق صوبائی اسمبلی نے ایک مرحلہ میں بل بھی منظور کیا تھا کہ قرآن کریم کا ترجمہ کالجوں میں لازمی پڑھایا جائے گا مگر وہ بل شاید قانون سازی کی منزل حاصل نہیں کر سکا تھا۔ البتہ...

ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کی وفات کی خبر نے نہ صرف ان کے تلامذہ اور معتقدین بلکہ ان کی علمی جدوجہد اور اثاثہ سے با خبر عامۃ المسلمین کو بھی غم و اندوہ کے ایسے اندھیرے سے دوچار کر دیا ہے جس میں دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ علامہ صاحبؒ کی علالت کی خبریں چند دنوں سے آ رہی تھیں اور بستر سے اٹھتے ہوئے گر کر زخمی ہونے کی خبر نے پریشانی میں اضافہ کر رکھا تھا۔ مگر موت نے اپنے وقت پر آنا تھا، وہ آئی اور علامہ صاحبؒ ہزاروں بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے...

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ کی وفات کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مفتی صاحبؒ کی علالت کی خبریں کئی روز سے آرہی تھی، اور آخر عالم اسلام کی یہ عظیم علمی شخصیت، محدث، فقیہ، متکلم اور ہزاروں علماء کرام کے شفیق استاذ اپنا سفر زندگی مکمل کر کے دار باقی کی طرف روانہ ہوگئے۔ مولانا پالنپوریؒ کے تعارف کے لیے اس کے بعد مزید کسی بات کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی علمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے...

آنجہانی جسٹس رانا بھگوان داس کی یاد میں تقریب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آئی پی ایس (انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد) کی طرف سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان آنجہانی رانا بھگوان داس کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات مجھے اچھی لگی کہ ہم ان شخصیات کو یاد رکھیں جنہوں نے اصول، قانون اور انسانی روایات کو زندہ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ یہ تقریب ۱۱ فروری کو منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری تھے۔ جبکہ دیگر مہمانان خصوصی میں محترم راجہ محمد ظفر الحق، جناب محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ...

حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی ؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی کم و بیش پچاسی برس اس جہانِ رنگ و بو میں گزار کر اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ۳۱ دسمبر کو اسلام آباد میں حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی سے ملاقات کا پروگرام طے تھا۔ حضرت سے رات سونے سے قبل رابطہ ہوا تو فرمایا کہ کل ظہر آپ میرے ساتھ پڑھیں گے اور پھر کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ پروگرام طے کر کے ہم سو گئے مگر صبح اذان فجر سے قبل آنکھ کھلی تو موبائل نے صدمہ و رنج سے بھرپور اس خبر کے ساتھ ہمارے دن کا آغاز کیا کہ حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کا رات اسلام آباد میں انتقال ہوگیا ہے،...

پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے آخری صفحہ پر مختصر سی خبر نظر سے گزری کہ افغانستان کے سابق صدر پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ ۹۳ برس کی عمر میں کابل میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس خبر نے ذہن میں ماضی کے بہت سے یادگار مناظر ایک ایک کر کے تازہ کر دیے اور دل سے بے ساختہ مجددی صاحب مرحوم کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا نکلی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ پروفیسر صاحب مرحوم کا تعلق کابل کے معروف روحانی خانوادہ سے تھا اور وہ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کی بزرگ...

مولانا سید واضح رشید ندویؒ

محمد عثمان فاروق

۱۶ جنوری بروز بدھ کی صبح مولانا سید واضح رشید ندوی اپنے رفیق اعلی ٰ سے جا ملے۔ مولانا واضح رشید ندوی ۱۹۳۲ میں تکیہ کلاں، رائے بریلی (اتر پردیش، ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدمحترم سید رشید حسنیؒ درویش منش انسان تھے اور والدہ محترمہ سیدہ امۃ العزیز، خدا ترس خاتون تھیں اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ سے بیعت تھیں۔ مولانا واضح، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کے حقیقی بھانجے تھے۔ آپ کو بچپن سے ہی مولانا علی میاں ندوی کے زیر تربیت رہنے اور کئی علمی ودعوتی سفروں میں رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ نے دینی تعلیم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے حاصل...

حضرت مولانا حمد اللہ آف ڈاگئیؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

استاذ العلماء حضرت مولانا حمد اللہ صاحب آف ڈاگئی کی وفات حسرت آیات کی خبر مجھے کراچی کے سفر کے دوران ملی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے ان پرانے بزرگوں میں ایک اہم شخصیت تھے جنہیں عوام کے ساتھ ساتھ اہل علم میں بھی مرجع اور راہنما کی حیثیت حاصل تھی اور بہت سے مشکل معاملات و مسائل میں ان سے رجوع کر کے اطمینان ہو جاتا تھا کہ متعلقہ مسئلہ و معاملہ کا صحیح رخ کیا ہے۔ مجھے ان کی خدمت میں ڈاگئی حاضری کی سعادت ہوئی اور مختلف علمی و دینی محافل میں ان کے ساتھ استفادہ اور دعاؤں کا تعلق رہا۔ ایک موقع پر جب جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمان...

مدینۃ العلم قطر میں چھ دن ۔ (مدرسہ ڈسکورسز کے ونٹر انٹنسو ۲٠۱۹ء کی روداد)

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

گزشتہ سال بھی مدرسہ ڈسکورسز کا ونٹرانٹینسِو (winter intensive) قطرمیں رکھا گیا تھا اور جامعہ حمدبن خلیفہ ہی نے اس کی میزبانی کی تھی، اس میں راقم شریک نہ تھا۔اب کی باربھی ہمارے انٹینسِوکی ضیافت جامعہ حمدبن خلیفہ نے قبول کی تاہم اِس بارپروگرام کی نوعیت تھوڑی مختلف یوں تھی کہ بجائے مختلف موضوعات پر باہرسے ماہرین کو بلانے کے، اس سال یہ نظم کیاگیاتھاکہ مدرسہ ڈسکورسز کے سال سوم (تحقیق ورسرچ)کے طلبہ اپنے اپنے رسرچ پیپیرزکی پرزینٹیشن دیں گے۔ان کے پیپرزیاان کے خلاصے تمام شرکاءکوپہلے ہی بھیج دیے گئے تھے تاکہ وہ ان کوپڑھ کر،سمجھ کر اور تیارہوکرآئیں اوران...

حضرت حاجی عبد الوہابؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت حاجی عبد الوہابؒ کی وفات کا صدمہ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا اور اصحاب خیر و برکت میں سے ایک اور بزرگ ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب محترم دعوت و تبلیغ کی محنت کے سینئر ترین بزرگ تھے جنہوں نے حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ، حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ جیسے بزرگوں کی معیت و رفاقت کی سعادت حاصل کی اور زندگی بھر اسی کام میں مصروف رہے۔ وہ حقیقی معنوں میں فنا فی التبلیغ تھے اور دعوت و تبلیغ کے تقاضوں، نزاکتوں اور اتار چڑھاؤ کو نہ صرف...

حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۳ نومبر منگل کو جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ میں حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار کا اہتمام تھا جس میں مولانا شہیدؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ عمومی دینی جدوجہد کی صورتحال بھی گفتگو کا موضوع بنی اور کم و بیش اسی رائے کا اظہار کیا گیا جس کا گوجرانوالہ کے حوالہ سے سطور بالا میں ذکر ہوا ہے۔ اس تعزیتی سیمینار میں جمعیۃ علماء اسلام (س) سیالکوٹ کے امیر حافظ احمد مصدق قاسمی، جماعت اسلامی کے راہنما جناب عبد القدیر راہی اور اہل حدیث راہنما مفتی کفایت اللہ شاکر کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے جو گزارشات...

مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹنسو

سید مطیع الرحمٰن

مدرسہ ڈسکور سز کاسمر انٹنسو (جولائی 2018ء) نیپال میں منعقد کیا گیا ۔ یہ انٹنسو بھی گزشتہ وِنٹر انٹنسو(قطر) کی طرح علمی و فکری سر گرمیوں سے بھرپور رہا ۔ یکم جولائی تا 15 جولائی جاری رہنے والےاس پروگرام کے انعقا د کے لئے نیپال کا ایک نہایت پر فضا مقام دُلے خیل منتخب کیا گیا جو کھٹمنڈو سے تقریبا 30 کلو میٹر شما ل کی جانب واقع ہے ۔یہ نہایت حسین اور دلکش علاقہ ہے جہاں جولائی کے مہینے میں بھی گرمی کا احساس نہ ہوا۔ یہ ورکشاپ کئی لحاظ سے نہایت قیمتی تھی ۔ ایک پہلو اس کا علمی و فکری تھا جو سیمینا ر ہال کے اندرکی مختلف سرگرمیوں پر مشتمل تھا،جس میں اساتذہ کے...

مولانا جلال الدین حقانیؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا جلال الدین حقانیؒ کی وفات کی خبر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی گہرے صدمہ کا باعث بنی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اور اس کے ساتھ ہی جہادِ افغانستان کے مختلف مراحل نگاہوں کے سامنے گھوم گئے ہیں۔ مولانا جلال الدین حقانیؒ جہاد افغانستان کے ان معماروں میں سے تھے جنہوں نے انتہائی صبر و حوصلہ اور عزم و استقامت کے ساتھ نہ صرف افغان قوم کو سوویت یونین کی مسلح جارحیت کے خلاف صف آرا کیا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے افغان جہاد میں شرکت کے لیے آنے والے نوجوانوں اور مجاہدین کی سرپرستی کی اور انہیں تربیت و حوصلہ کے ساتھ بہرہ ور کر کے عالم اسلام...

مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹینسِو ۔ ایک علمی ورکشاپ کا آنکھوں دیکھا احوال

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مدرسہ ڈسکورس کا یہ سمر انٹینسِو (intensive) اپنی نوعیت کا بڑا غیر معمولی پروگرام تھا۔ اس کا موضوع تھا: Theology and contingency: Morals, History and Imagination یعنی دینیات کو درپیش نئے مسائل : اخلاق، تاریخ اور تخییل کے حوالہ سے۔ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے 9:40 پر روانہ ہو کر ہم ہندوستانی طلبہ تیس جون کی سہ پہر کو اپنی قیام گاہ ڈھولی خیل رزارٹ پہنچ گئے، پاکستانی طلبہ رات کو آئے جبکہ دوسری جگہوں سے طلبہ اور منتظمین پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے دماغ پر تھوڑا stress تھا جس کی وجہ سے رات بھر نیند نہیں آئی تھی، راستہ کی تکان، الگ لہذا سہ پہر سے کمرے میں لیٹ...

پروفیسر فواد سیزگینؒ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

(گزشتہ دنوں عالم اسلام کے ممتاز محقق اور دانشور پروفیسر فواد سیزگین انتقال کر گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے مختصر حالات زندگی اور علمی خدمات کے تعارف پر مبنی یہ تحریر، جو ان کی حیات میں ماہنامہ ’’افکار ملی’’ دہلی میں شائع ہوئی تھی، مذکورہ مجلہ کے شکریے کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔) بیسویں صدی مسلمانوں کے سیاسی و علمی عروج و زوال کی صدی رہی ہے۔ اس صدی کے پہلے نصف میں مسلمانانِ عالم جہاں علمی و تحقیقی اور سیاسی و معاشی زوال کی انتہا کو پہنچ رہے تھے، وہیں اس صدی کے نصف ثانی میں انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں عروج وارتقاء کی ایک دوسری داستان...

نیپال ۔ چند مشاہدات اور تاثرات

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

نیپال میں دوسری مرتبہ تعلیمی سفر کا موقع ملا ۔ نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے پروفیسر اور ندوۃ العلماء کے فاضل ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی نگرانی میں شروع کیے گئے "مدرسہ ڈسکورسز " میں پاکستان اور انڈیا سے پچاس کے قریب لوگ شریک ہیں ۔ ان دونوں گروپوں کو سمر اور ونٹر انٹینسو میں تعلیمی ورکشاپ کے لیے اکٹھا کیا جاتاہے ۔ پچھلے سال سمر انٹینسونیپا ل کے دار الحکومت کھٹمنڈو میں تھا، ونٹر انٹینسو قطر میں تھا اور اس سال سمر انٹینسو نیپال کے پہاڑی علاقے میں ایک پرفضا مقام پر ہے ۔ یہ علاقہ دھلی خیل ہے جو کہ کھٹمنڈو سے تقریبا تیس کلو میٹر دور پہاڑی مقام ہے ۔...

حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ گزشتہ ماہ انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے علالت میں اضافہ کی خبریں آرہی تھیں، اس دوران ایک موقع پر ملتان حاضری اور بیمار پرسی کا موقع بھی ملا اور ان کے فرزند گرامی مولانا سید عطاء اللہ شاہ ثالث سے وقتاً فوقتاً ان کے احوال کا علم ہوتا رہا مگر ہر آنے والے نے اپنے وقت پر اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے اور شاہ جی محترمؒ بھی ایک طویل متحرک زندگی گزار کر دار فانی سے رخصت ہوگئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب...

حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دارالعلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی علالت کے بارے میں کئی روز سے تشویشناک خبریں آرہی تھیں جبکہ گزشتہ روز کی خبروں نے اس تشویش میں مزید اضافہ کر دیا۔ اسی دوران خواب میں ان کی زیارت ہوئی، عمومی سی ملاقات تھی، میں نے عرض کیا کہ حضرت! دو چار روز کے لیے دیوبند میں حاضری کو جی چاہ رہا ہے مگر ویزے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آرہی، میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا اچھا کچھ کرتے ہیں۔ خواب بس اتنا ہی ہے، اب خدا جانے پردۂ غیب میں کیا ہے، مگر یہ اطمینان ہے کہ خاندانِ قاسمی کی نسبت سے جو بھی ہوگا خیر کا باعث ہی ہوگا، ان شاء اللہ...

چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پرانے رفقاء میں سے کسی بزرگ یا دوست کی وفات ہوتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ جنازہ یا تعزیت کے لیے خود حاضری دوں اور معمولات کے دائرے میں ایک حد تک اس کی کوشش بھی کرتا ہوں مگر متنوع مصروفیات کے ہجوم میں صحت و عمر کے تقاضوں کے باعث ایسا کرنا عام طور پر بس میں نہیں رہتا۔ گزشتہ دنوں چند انتہائی محترم بزرگ اور دوست جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا شفیق الرحمانؒ ہمارے پرانے بزرگوں میں سے تھے، ایبٹ آباد میں کیہال کے مقام پر مکی مسجد اور مدرسہ انوار العلوم میں مدت العمر تدریس و اہتمام کی خدمات سرانجام دیتے رہے، شہر کی مرکزی...

مدرسہ ڈسکورسز : سفر قطر کے احوال و تاثرات

مولانا محمد رفیق شنواری

امریکہ کی ایک معروف کیتھولک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ صاحب نے پاک و ہند کے دینی مدارس کے فضلاء کے لیے " مدرسہ ڈسکورسز" کے عنوان سے ایک تین سالہ کورس متعارف کروایا ہے جو پچھلے سال شروع ہوا تھا اور آئندہ سال اختتام پذیر ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی پیدائش ساؤتھ افریقہ میں ہوئی، دارلعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنو میں دینی تعلیم کی تکمیل کی۔ اس کے بعد لندن میں صحافت سے وابستہ رہے اور اس کے بعد امریکہ منتقل ہوگئے۔ امام غزالی کے فلسفہ لسانیات پر پی ایچ ڈی کی۔ ان کا پی ایچ ڈی کا کام...

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

23 ستمبر کو اپنے آبائی شہر گکھڑ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام منعقدہ ’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ میں حاضری زندگی کا ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی گکھڑ کے صدر میاں راشد طفیل کے والد گرامی میاں محمد طفیل مرحوم مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیری کے حلقہ احباب میں شامل اور تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد میں ان کے سرگرم معاون تھے۔ جبکہ میاں محمد طفیل مرحوم کے بڑے بھائی میاں فاضل رشیدی مرحوم پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک پیپلز پارٹی گوجرانوالہ کے چیئرمین رہے ہیں۔ اور ان کے والد محترم ماسٹر...

علم کلام، فلسفہ تاریخ اور دور جدید کی فکری تحدیات ۔ مدرسہ ڈسکورسز کے تحت تربیتی ورکشاپ کی روداد

حافظ محمد رشید

گزشتہ جنوری میں پاکستان اور انڈیا میں، نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، انڈیانا امریکہ کے ذیلی ادارے the Kroc Institute for International Peace Studies کے زیر اہتمام درس نظامی کے فضلاء کے لیے ’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن تربیتی کورس کا آغاز کیا گیا جس میں تقریباً پندرہ فضلاء انڈیا سے اور اتنے ہی پاکستان سے شریک ہیں۔ ہفتہ میں دو دن آن لائن کلاس ہوتی ہے ، کورس کا مقصد درس نظامی کے فضلاء کو تہذیب و تمدن کے تبدیل شدہ ماحول اور جدید سائنسی نظریات و سائنسی ترقی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سوالات سے روشناس کروانا اور علمی طور پر ان سوالات کا سامنا کرنے کے قابل بنانا ہے۔...

جمعیۃ علماء اسلام کا صد سالہ عالمی اجتماع

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جمعیۃ علماء اسلام کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ میں شرکت کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف کو مولانا فضل الرحمان نے زبانی طور پر یہ کہہ کر دعوت دی تھی کہ آپ حضرات مہمان نہیں بلکہ میزبان ہیں اس لیے ہم دعوت نامہ اور انٹری کارڈ وغیرہ کے تکلف میں نہیں پڑے اور شریک ہونے کا پروگرام بنا لیا۔ چنانچہ مولانا عبدالرؤف ملک، جناب صلاح الدین فاروقی، مولانا احمد علی فاروقی، حافظ شفقت اللہ اور راقم الحروف کانفرنس میں حاضر ہوئے، پنڈال تک پہنچے، اس سے آگے جانے کے لیے ہم سے پاس طلب کیا گیا جو ہمارے پاس نہیں تھا...

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پہلا عالمی اسلامی مفاہمتی اجلاس

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مسلمانان عالم کی دھماکہ خیز صورت حال، باہمی چپقلش اورداخلی نزاعوں کے عالم میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے دنیابھرکے مسلمانوں کے لیے مصالحت اورکلمہ کی بنیادپر وحدت کی آواز مسلسل بلند کی جارہی ہے۔ اس مقصد سے ۳۔۴ اپریل 2017 کو یونیورسٹی کے مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہندکی طرف سے پہلاعالمی اسلامی مفاہمتی اجلاس ہوا۔ مذکورہ مرکز کے صدراوربرج کورس کے ڈائرکٹر پروفیسر راشدشاز، جواِس کانفرنس کے داعی اورروح رواں تھے،نے کانفرنس کے انعقادسے قبل اس کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ایک پریس بیان میں بتایاتھاکہ اس مفاہمتی کانفرنس کاتصوریہ...

استاذ القراء حضرت قاری محمد انور قدس اللہ سرہ العزیز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۱۴؍ فروری کو منعقد ہونے والی پندرہ روزہ فکری نشست میں مولانا زاہدالراشدی نے استاذ القراء حضرت قاری محمد انور صاحبؒ کے بارے میں گفتگو کی جو مولانا زاہد الراشدی کے حفظ کے استاذ تھے اور ابھی پچھلے دنوں ان کا مدینہ منورہ میں انتقا ل ہوا ہے۔ اس نشست میں ان کے حوالے سے کچھ یادداشتیں بیان کی گئیں اور آخر میں ان کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن کریم کی تلاوت اور دعا کی گئی۔)۔ بعدالحمدوالصلوٰۃ! استاذالحفاظ، استاذا لقراء حضرت قاری محمدانور صاحبؒ کاچند روز پہلے مدینہ منورہ میں انتقال ہو گیا ہے ۔آپ ؒ میرے حفظ کے استاذتھے اور...

حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ اور حضرت قاری محمد انورؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کے دوران دو تین دنوں میں یکے بعد دیگرے تین محترم بزرگوں، شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ اور استاذ محترم حضرت قاری محمد انورؒ کی وفات کا صدمہ دینی حلقوں کو سوگوار کر گیا۔ تینوں بزرگوں کا تذکرہ خاصی تفصیل کا متقاضی ہے مگر سرِدست ابتدائی تاثرات ہی پیش کر سکوں گا۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ علماء حق کے قافلہ کے سالار تھے اور انہوں نے علمی، عملی اور مسلکی محاذ پر جو خدمات سرانجام دیں، وہ تاریخ کے ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے اور اپنے...

دینی مدارس کے فضلا کا یورپی ممالک کا مطالعاتی دورہ ۔ مختصر روداد اور تاثرات

مولانا محمد رفیق شنواری

جرمنی کی ایرفرٹ یونی ورسٹی کی طرف سے دینی مدارس کے طلبہ کے بعد وہاں کے ایک تحقیقی ادارے میکس پلانک فاؤنڈیشن (Max Foundation۔Planck ) کی دعوت پر دینی مدارس کے فضلا بھی یورپ کے دورہ سے ہو آئے ہیں۔ اس دورے کی مختصر روداد ، تاثرات اور اس کے انتظام و انصرام کے بارے چند گزارشات پیش کی جاتی ہیں۔ میکس پلانک فاؤنڈیشن کا تعارف اور دورے کا مقصد۔ سب سے پہلے میکس پلانک سوسائٹی کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں جرمنی، بکھرنے کے بعد جب دوبارہ لڑکھڑاتے وجود کے ساتھ ابھرنے لگا تو مختلف شعبوں میں حکومت کو رہنمائی فراہم کرنے کی خاطر 1948ء میں اس ادارے...

مولانا محمد بشیر سیالکوٹیؒ ۔ چند یادیں، چند باتیں

محمد عثمان فاروق

عربی زبان کے استاذ، متعدد کتابوں کے مولف مولانا بشیر سیالکوٹیؒ (۱۹۴۰۔۲۰۱۶ء) طویل علالت کے بعد ۱۶ اکتوبر کو انتقال کر گئے۔ ان کی پوری زندگی علوم اسلامیہ کی تدریس بالخصوص عربی زبان کی تعلیم میں گزری۔ مولانا سیالکوٹی عربی نظم و نثر دونوں میں یکساں اور کمال مہارت رکھتے تھے۔ ان کی دیرینہ آرزو اور والہانہ لگن تھی کہ ملک پاکستان میں لسان القرآن کو فروغ ملے تاکہ لوگوں کا خدا کی کتاب اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے زندہ تعلق قائم ہو۔ مولانا سیالکوٹی کی خدمات کے پیش نظر عالم عرب کے تین جید علماء (دکتور ف عبدالرحیم، دکتور عبدالغفور البلوشی،...

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کی وفات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانیؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق تونسہ شریف کے قریب لتڑی جنوبی سے تھا لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ گوجرانوالہ میں گزرا۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاء میں سے تھے جب نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ تھے۔ بخاری شریف انہوں نے حضرت قاضی صاحبؒ سے پڑھی جبکہ دورۂ حدیث کے دیگر اسباق حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ سے پڑھے۔ حضرات شیخینؒ اور مدرسہ...

جنید جمشیدؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنید جمشیدؒ اپنے دوستوں اور ماحول سے رخصت ہو کر اللہ رب العزت کے حضور پیش ہو چکے ہیں مگر ان کی یاد اور تذکرہ کسی نہ کسی حوالہ سے مسلسل چل رہا ہے۔ طیارہ کے حادثہ میں جاں بحق ہونے والے شہداء کا غم قومی سطح پر منایا گیا ہے، وہ سب ہمارا قیمتی سرمایہ تھے اور ان سب کے لیے پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو ہے کہ اللہ رب العزت ان کے ساتھ کرم کا معاملہ فرمائیں اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ جنید جمشید مرحوم کی جدائی کا غم جس طرح ہر طبقہ اور ہر سطح پر محسوس کیا گیا ہے اس کا رنگ ہی جدا ہے۔ دراصل یہ جنید جمشید نامی...

الشیخ محمد امین: راہِ علم کا ایک مسافر

حافظ محمد رشید

عید الفطر کا دوسرا روز تھا ۔ استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم نے الشریعہ اکادمی میں یاد فرمایا۔ پہنچا تو استاد گرامی کے ساتھ ایک ملائیشی بزرگ تشریف رکھتے تھے ۔ استاد گرامی نے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ یہ ملائیشیا سے سفر کر کے آئے ہیں اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کے علوم وافکار میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انگلش اور عربی جانتے ہیں۔ ان سے یہاں قیام کی ترتیب اور مقصد کے بارے میں تفصیلی معلومات لے لیں۔ میں نے ان سے آمد کا مقصد پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ التفہیمات الالہیۃ کا عربی حصہ میں نظر سے گزار چکا ہوں،مجھے ملائشیا میں فارسی جاننے والا اور...

تبلیغی سہ روزہ کی مختصر روداد

حافظ محمد شفقت اللہ

گزشتہ چندسال سے استادِمحترم مولانازاہد الراشدی صاحب کی یہ ترتیب ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک سالانہ سہ روزہ لگاتے ہیں۔ اس سال ۸ تا ۱۰ نومبر ۲۰۱۶ء کو سہ روزہ ترتیب پایا۔ گوجرانوالہ سے ۳۵ علماء کرام پر مشتمل قافلہ ۸ نومبرکی صبح تبلیغی مرکز میں جمع ہوا۔ امیرتبلیغی مرکز محترم حاجی محمداسحاق صاحب نے روانگی کی ہدایات فرمائیں اور مولانا اسرار صاحب کو امیر مقرر کرنے کے بعدتشکیل سرگودھا میں طے پائی۔ ہماری گاڑی میں استادِمحترم مولانازاہد الراشدی،مولانا طارق بلالی اور مولانا اسرائیل صاحب سوارتھے۔امیرِ سفر مولانامحمد اسرائیل صاحب منتخب...

قاری ملک عبد الواحد کی رحلت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیرانوالہ لاہور کی مجالس میں شریک ہونے والے حضرات کو قاری ملک عبد الواحد ضرور یاد ہوں گے جو ایک دور میں ان محفلوں کا لازمی حصہ اور رونق ہوا کرتے تھے، ان کا گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں ابھی قبرستان کلاں میں ان کا جنازہ پڑھا کر آیا ہوں اور آتے ہی قلم و قرطاس نے ماضی کی بہت سی یادوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ وہ گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے، میرے حفظ قرآن کریم کے دور کے ساتھیوں میں سے تھے، میں نے چند پارے مدرسہ نصرۃ العلوم میں 1958ء اور 1959ء کے دوران استاذ محترم قاری محمد یاسینؒ صاحب سے پڑھے تھے، اس وقت ملک صاحب مرحوم بھی ان...

ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کا سفر آخرت

مولانا سید متین احمد شاہ

30 مارچ 2016 کو اسلامی یونی ورسٹی کے سابق صدر اور ادارہ اقبال براے تحقیق ومکالمہ (IRD) کے سربراہ ڈاکٹر ممتاز احمد انتقال کر گئے۔ آپ کی پیدائش 1942ء/ 1943ء میں گوجر خان ضلع راول پنڈی میں ہوئی۔گورنمنٹ ہائی سکول حضرو ضلع اٹک سے 1957ء میں میٹرک کیا اور گوجر خان سے انٹرمیڈیٹ کر کے کراچی چلے گئے اور جماعت اسلامی کے ادارے معارفِ اسلامی سے وابستہ ہو گئے۔ کراچی یونی ورسٹی سے بی اے اور ایم اے سیاسیات میں کیا۔1965ء میں سرکاری ادارے نیپا (NIPA) سے وابستہ ہوئے۔1969ء میں بیروت کی امریکی یونی ورسٹی سے یک سالہ وظیفہ ملا جہاں Islamic Attitude Towards Modernization کے موضوع پر مقالہ لکھ کر ایم...

ایک سفر اور مولانا طارق جمیل سے ملاقات

محمد بلال فاروقی

۲۹ مارچ ۲۰۱۶ء کو العصر تعلیمی مرکز پیر محل میں اختتام بخاری شریف کی تقریب میں شرکت کی غرض سے استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ہمراہ براستہ فیصل آباد پیر محل کے لیے رخت سفر باندھا ۔ پہلا پڑاو فیصل آباد تھا جہاں جامعہ مدینۃ العلم کے سرپرست اور استاد گرامی کے قدیم رفیق مولانا قاری محمد الیاس سے ملاقات طے تھی۔ مولانا موصوف جمعیت علمائے اسلام کے پرانے راہ نما تھے، لیکن ۹۰ کی دہائی میں عملی سیاست سے کنارہ کش ہو کر امریکہ منتقل ہوگئے۔ وہاں ڈیٹرائٹ میں ایک تعلیمی ادارہ کی بنیاد رکھی جہاں حفظ و ناظرہ اور درس نظامی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔نماز...

سوڈان میں غروب آفتاب

محمد اظہار الحق

سنیچر تھا اور مارچ کی پانچ تاریخ۔ صبح کا وقت تھا جب ڈاکٹر حسن الترابی اپنے دفتر میں بے ہوش ہوگئے۔ انہیں فوراً خرطوم کے رائل انٹرنیشنل ہسپتال میں لے جایا گیا۔ پھر دل کا دورہ پڑا اور سوڈان کا یہ فرزند، جس نے صرف اپنے خطے میں نہیں، پورے عالم اسلام میں بلکہ پوری علمی اور سیاسی دنیا میں اپنا اثرورسوخ قائم کیا تھا، اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوگیا۔ ہم سب نے لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے! حسن الترابی سوڈان کے صوبے کسالہ میں 1932ء میں پیدا ہوئے۔ خرطوم یونیورسٹی سے قانون میں ڈگری حاصل کی۔ پھر انگلستان جا کر پڑھتے رہے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری سوربون یونیورسٹی پیرس...

ڈاکٹر حسن ترابی رخصت ہوئے

خورشید احمد ندیم

ڈاکٹر حسن ترابی دنیا سے رخصت ہوئے۔یہ حسن ترابی کون تھے؟ 2001ء میں امریکہ سے ایک کتاب شائع ہوئی: 'معاصر اسلام کے صورت گر‘ (Makers of Contemporary Islam)۔ اس کتاب میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جن کی تفہیم دین نے دورِ حاضرکی مسلم فکر کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور جنہوں نے عصری اسلوب میں اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حسن ترابی ان ہی میں سے ایک تھے۔ دورِ حاضرمیں مو لانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور سید قطب جیسے اہل فکر کے زیراثر جو اسلامی تحریکیں برپا ہوئیں، انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔چونکہ ان شخصیات نے برصغیر اور مشرقِ وسطیٰ میں جنم...

ڈاکٹر طہ جابر العلوانی ۔ شخصیت اور فکر

مولانا سید متین احمد شاہ

4 مارچ 2016ء بروز جمعہ کو عالم اسلام کے نام ور مفکر اور مصنف ڈاکٹر طہ جابر العلوانی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً 81 سال تھی۔ آپ کی پیدائش 1935ء میں عراق کے شہر فلوجہ میں ہوئی۔ آپ نے عراق میں اعلیٰ سطح کے اہل علم سے تعلیم حاصل کی اور جامعہ ازہر سے 1973ء میں اصولِ فقہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ء سے آپ نے جامعۃ الام محمد بن سعود الاسلامیہ میں اصول فقہ کے استاد کے طور پر دس سال تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ 1981ء میں عالمی ادارہ فکر اسلامی (المعھد العالمی للفکر الاسلامی / The International Institute of Islamic Thought) امریکا میں قائم کیا گیا جس...

مولانا محمد عبید اللہ اشرفی رحمہ اللہ

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

جامعہ اشرفیہ کے مہتمم، سراپا اخلاق و تبسم، زندہ دل، خندہ جبیں، علم و حلم کا حسین امتزاج، شکوہ علم کے بغیر کوہ علم اور زعم تقویٰ سے خالی زبدہ اتقیا ء۔اتنے بے تکلف کہ شاگرد سراپا حیرت رہ جاتے اور اتنے مودب کہ معاصرین کو اساتذہ کا سا درجہ دیتے۔ حدیث کے زیر سایہ منطق کلام تصوف یا فقہی مناظرہ آراء کی تدریس ایک الگ پہلو ہے، لیکن حدیث بحیثیت حدیث کی تدریس میں ان کو تفوق حاصل تھا۔ تاہم نہ صرف یہ کہ کبھی بخاری پڑھانے کی خواہش نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنے کو شیوخ حدیث کے شاگردوں کی سطح پر رکھا۔ صبح صبح ہمیں ابوداود اور پھر طحاوی پڑھانے آتے تو کبھی اس نشست...

مولانا محمد عبید اللہ اشرفی رحمہ اللہ

مولانا مفتی محمد زاہد

حضرت مولانا عبید اللہ صاحب بھی اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا واقعی ان شخصیات میں سے تھے جن کے معاصرین میں سے کسی کو ان کا مماثل نہیں کہا جاسکتا۔ علامہ انور شاہ کشمیری اور مرشد تھانوی سے نیاز حاصل کرنے والی پاکستانی کی شاید آخری شخصیت۔ علم فطانت ، ذہانت، حاضر جوابی ، بڑوں کی نسبتوں کے باوجود امتیاز پسندی کا نام ونشان تک نہیں۔ خشکی قریب سے نہیں گذری تھی۔ خود کو متقی ، عابد وزاہد ثابت کرنے کے لیے بھی کبھی خشک بننے کا تکلف نہیں کیا ہوگا۔ آخر عمر تک دورہ حدیث میں طحاوی کی شرح معانی الآثار کا درس دیتے رہے، حالانکہ...

شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدیؒ

مولانا مفتی منیب الرحمن

۴ فروری ۲۰۱۶ء جمعۃ المبارک کی شب کو آفتاب علم غروب ہو گیا۔ اردو کا محاورہ ہے ’’اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے‘‘، لیکن یہ آفتاب علم تو غروب ہو گیا، مگر تفسیر تبیان القرآن، تفسیر تبیان الفرقان، شرح صحیح مسلم او ر نعمۃ الباری یعنی علوم قرآن وحدیث کے فیضان کی صورت میں اپنا نور پیچھے چھوڑ گیا ہے جو ان شاء اللہ العزیز آنے والی صدیوں تک تشنگان علم کو فیض یاب کرتا رہے گا۔ فارسی کا مقولہ ہے ’’ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است‘‘، یعنی ہر پھول کی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر شخص کا استحقاق ہے کہ وہ علم کی دنیا میں جسے چاہے اپنا آئیڈیل قرار دے،...

شیخ الحدیث حضرت مولانا صدیق احمدؒ

سبوح سید

گذشتہ برس بہاؤالدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں ماس کمیونی کیشن میں ایم فل کے لیے داخلہ لیا تو ملتان جانا ہوا۔ ہفتہ اور اتوار کلاس ہوتی تھی۔ ایک روز جامعہ خیر المدارس کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری برادر بزرگوار محترم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کو فون کیا کہ ملتان میں ہوں، ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی ہیں، لیکن حکم دیا کہ ’’آپ کو ہر صورت خیر المدارس جانا ہے‘‘۔ ہم حکم کی تعمیل میں جامعہ خیر المدارس گئے اور رات وہیں قیام کیا۔ خیر المدارس ملتان شیخ الحدیث مولانا خواجہ خیر محمد جالندھری کا لگایا...

فیصل آباد کا تین روزہ دعوتی و تبلیغی سفر

مولانا محمد عبد اللہ راتھر

حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کا ہر سال عیدالاضحی کی چھٹیوں میں تبلیغی احباب کے ساتھ سہ روزہ لگانے کا معمول ہے۔ اس سال سفر حج کے باعث اس سہ روزہ کی ترتیب ماہ جمادی الاولیٰ میں بنائی گئی اور ۱۶ تا ۱۸ مارچ تین دن کے لیے فیصل آباد میں مفتی زین العابدین رحمہ اللہ والی مسجد میں تشکیل ہوئی۔ منگل کے روز گوجرانوالہ مرکز میں حاجی اسحق صاحب کی ہدایات سننے کے بعد صبح نو بجے بیس علما کا قافلہ مختلف سواریوں پر گوجرانوالہ سے فیصل آبادروانہ ہوا۔ راقم الحروف اسی گاڑی میں تھا جس میں شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی تشریف فرما تھے۔ بات چل نکلی مصحف عثمانی کی...

سیرت کانفرنس پی سی بھوربن کے لیے سفر

محمد بلال فاروقی

استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی کو ۷ جنوری ۲۰۱۶ کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل بھوربن میں منعقدہ سیرت کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ ۶ جنوری کو دوپہر کے وقت ہم اسلام آباد روانہ ہوئے۔ وہاں مولانا سید علی محی الدین کے ہاں قیام تھا۔ مولانا علی محی الدین چند دن پہلے عمرہ کی سعادت حاصل کر کے لوٹے تھے جس پر مولانا زاہد الراشدی نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ عصر کی نماز کے بعد ایک نشست میں، میں نے سوال کیا کہ آپ نے اسلام اور سائنس کے حوالہ سے جو کالم لکھا ہے، اس پر جناب زاہد صدیق مغل نے اشکال کیا ہے کہ ’’ نہ جانے وہ کون سی سائنس ہے جو حقیقت تلاش کر رہی ہے۔ جدید سائنس،...
1-50 (205) >
Flag Counter