کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں

محمد اظہار الحق

(۱)

یہ ریاست ہاے متحدہ امریکہ کے شمال کا ایک شہر تھا جہاں اسے ملازمت ملی۔ ہجرت کر کے آنے کے بعد تارکین وطن کے سامنے یوں بھی امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ جہاں بھی روزگار مل جائے، وہیں سے آغاز کرنا پڑتا ہے۔ چند ہفتوں کے اندر ہی اسے احساس ہو گیا کہ پاکستانیوں کی تعداد وہاں کم ہے، بہت ہی کم۔ اور ان میں سے بھی زیادہ تر وہ قادیانی تھے جو مذہبی بنیادوں پر پناہ (Asylum) لے کر آباد ہوئے تھے۔ اس کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ ان کا مقاطعہ کرے، کسی تقریب میں جائے نہ ان سے میل ملاپ کرے۔ دوسرا یہ کہ وہ ان لوگوں سے ملے اور جہاں، جب بھی موقع ہو، بات چیت کرے۔ اس نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ تقاریب میں جاتا، دعوتوں میں شریک ہوتا اور تفریحی پروگراموں میں شرکت کرتا۔ نماز کا وقت ہوتا تو وہ الگ نماز پڑھتا۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ لوگ اپنی نام نہاد جماعت کرانے لگتے تو اسے دوسرے کمرے میں الگ سے جاے نماز خود ہی بچھا دیتے۔

چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن اسے ایک ٹیلی فون آیا۔ دوسری طرف ایک قادیانی نوجوان تھا۔ یہ تقاریب میں اسے ملتا رہتا تھا۔ اس نے اس کے گھر آنے کی اجازت چاہی۔ وقت مقرر کیا گیا۔ وہ نوجوان آیا، کئی گھنٹے گفتگو کرتا رہا۔ جاتے وقت اس نے پاکستان کے دو معروف علما کے ای میل ایڈریس جاننا چاہے اور یہ بھی کہا کہ اس کی اس ملاقات کا ذکر اس کی کمیونٹی کے کسی فرد سے نہ کیا جائے۔

چند ہفتوں کے بعد نوجوان پھر اس کے پاس آیا۔ اب کے نشست طویل تر تھی۔ اس دفعہ اس نے قادیانیت کے بارے میں گفتگو کی۔ اس کے خیالات اپنی کمیونٹی اور اپنے مذہب کے بارے میں ’’غیر روایتی‘‘ تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے پہلی بار یہ موقع میسر آیا ہے کہ ایک پڑھے لکھے اور مذہب کا علم رکھنے والے ایسے شخص سے گفتگو کر سکے جو اس کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔ چند ملاقاتیں اور ہوئیں جن میں نوجوان سے کھل کر گفتگو ہوئی۔ آخر کار اس نے خالص دلائل کی بنیاد پر اقرار کیا کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی نہیں تسلیم کرتا۔

یہ ایک سچا واقعہ ہے اور اس کے بیان میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کی گئی۔ اس کے لکھنے کا سبب ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا ستمبر ۲۰۱۱ء کا ایشو بنا ہے۔ اس پرچے میں کچھ مضامین اور خطوط ایسے ہیں جنھیں پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں مذہب کے نام لیوا کس دنیا میں رہ رہے ہیں، ان کے رویے کیسے ہیں اور وہ اختلاف راے کا سامنا کرنے کے بجائے کس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں!

سچی بات یہ ہے کہ جب پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو اس کے بعد اس سلسلے میں ایک نیا دور شروع ہونا چاہیے تھا۔ یہ دور سختی کا، مار دھاڑ کا، چیخ پکار کا اور لعن طعن کا نہیں، بلکہ ترغیب، تحریص اور تبلیغ کا ہونا چاہیے تھا۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قادیانی پاکستان سے بھاگنے لگ گئے۔ آج وہ پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ گھٹن اور خوف کے ماحول کی بنیاد پر انھیں ہر جگہ پناہ (Asylum) مل رہی ہے۔ ان ملکوں میں چونکہ مذہبی آزادی ہے، اس لیے ان کی سرگرمیاں روز افزوں ہیں۔ سرکاری سطح پر فنڈ بھی مل جاتے ہیں، ان کے عبادت خانے بن رہے ہیں، اجتماع ہو رہے ہیں اور وہ پوری آزادی اور یکسوئی سے اپنے عقائد کا پرچار کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ نئے آنے والے ’’پناہ گزینوں‘‘ (Asylum Seekers) کے لیے مدد اور رہنمائی کے مرکز کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔

اقلیت قرار دلوانے کے بعد پاکستان کے ان حلقوں کو جو قادیانیت کا تعاقب کر رہے تھے، اپنا کردار اور انداز بدل لینا چاہیے تھا۔ جو لوگ بیرون ملک رہ رہے ہیں یا رہے ہیں یا انھیں زیادہ سفر کرنے کے مواقع ملے ہیں اور انھوں نے قادیانیوں کے اندر جھانک کر دیکھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ قادیانی، بالخصوص ان کی نئی نسل، دو حوالوں سے جراحت پذیر (Vulnerable) اور اثر پذیر (Susceptible) ہے۔ ایک یہ کہ انھیں قادیانی عقائد کی تفصیل نہیں بتائی جاتی۔ اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ مرزا غلام احمد نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر قرار دیا ہے۔ اس بے علمی پر تعجب اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ قادیانی جماعت ایک ایسا بند گروہ (Cult) ہے جس کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ آمریت کایہ عالم ہے کہ ’’ارکان‘‘ کی زندگی کے ذاتی پہلو بھی باقاعدہ ’’اوپر‘‘ سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال ورجینیا میں چالیس قادیانیوں کو جماعت سے اس بنا پر خارج کر دیا گیا کہ انھوں نے کسی شادی کی تقریب کے دوران رقص کی محفل میں شرکت کر لی تھی۔ قادیانیوں کی نئی نسل اس حقیقت کو ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کے نبی کو نبی نہ ماننے والے کافر ہیں۔ بالخصوص جو قادیانی نوجوان مغربی ملکوں کی آزاد اور انفرادی آزادی سے بھرپور فضا میں سانس لے رہے ہیں، ان کا رویہ اس ضمن میں قادیانیوں کی اس نسل سے بالکل مختلف ہے جو قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لندن میں بیٹھی اس گروہ کی ہیئت مقتدرہ حقائق کو نئی نسل سے چھپانے کی اور نئی نسل کو بے خبر رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ قادیانیوں کا خاندانی نظام مربوط اور مضبوط برادری سسٹم پر قائم ہے۔ قادیانیت سے تائب ہونے والے شخص کے لیے، بالخصوص ایک نوجوان شخص کے لیے، اس مضبوط خاندانی نظام اور برادری کے جال سے نکلنا ازحدمشکل ہے۔

ان دونوں پہلووں کو سامنے رکھ کر ضرورت اس بات کی تھی کہ تبلیغ کے حوالے سے ایسی پالیسی بنائی جاتی کہ ایک طرف تو قادیانیوں کی نئی نسل کو اصلیت سے آگاہ کیا جاتا اور انھیں مطلع کیا جاتا کہ ان کے نام نہاد نبی نے مسلمانوں کے لیے کیا کچھ کہا ہے اورکون سی زبان استعمال کی ہے اور دوسری طرف ایسے ادارے بنائے جاتے جو قادیانیت سے تائب ہونے والے لوگوں کو سماجی اور مالی سہارا دیتے اور انھیں برادری کو خیر باد کہنے کا حوصلہ ہوتا۔ یہ سارا مسئلہ جوش سے زیادہ ہوش کا متقاضی تھا۔ قادیانیت کے عقائد غیر منطقی ہیں اور ان کی بنیاد اس قدر کمزور ہے کہ اگر ختم نبوت کے محافظین اور مجاہدین قادیانیوں کی نئی نسل کو قریب لانے کی کوشش کرتے تو یہ گروہ برف کی طرح پگھلنا شروع ہو جاتا، لیکن سختی، شور وغوغا، حکمت اور تدبر کی کمی اور مار دھاڑ نے ایک طرف تو ان کی نئی نسل پر منفی رد عمل طاری کر کے اسے اس بے بنیاد مذہب پر پختہ کر دیا اور دوسری طرف ان پر نوکریوں اور دیگر حقوق کے دروازے بند کر کے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ یوں کُبّے کو لات لگی اور پاکستان سے باہر کی دنیا میں ان کے وارے نیارے ہو گئے۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا جیسے شہر سے باہر، مجرا کرنے والوں کی الگ تھلگ بستی پر صالحین ڈنڈے اور سوٹے لے کر پل پڑیں اور مجرا کرنے والی طوائفیں بھاگ کر محلوں اور گلی کوچوں میں ٹھکانے بنا لیں جہاں انھیں پہچاننا ممکن ہو نہ نکالنا۔

اس ضمن میں اصل مقصدیہ ہونا چاہیے تھاکہ دامے درمے سخنے قادیانیوں کو واپس اسلام کی طرف لایا جائے، لیکن بدقسمتی سے مکمل مقاطعہ کی پالیسی اپنائی گئی۔ سارا زور Non-issues (غیر اہم معاملات) پر دیا گیا۔ مثلاً گزشتہ سال جب لاہور میں قادیانیوں کی عبادت گاہ پر بم کا دھماکہ ہوا جس میں ستر افراد ہلاک ہوئے تو میاں نواز شریف نے ایک سیاسی بیان میں کہا کہ قادیانی ہمارے بھائی ہیں۔ نواز شریف کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا، لیکن اگر انھوں نے سیاست دان ہونے کے حوالے سے کہہ دیا تو یہ ایسا مسئلہ نہیں تھا جس پر ہنگامہ برپا کر کے وقت اور وسائل ضائع کیے جاتے۔ تقسیم سے پہلے جب مسلمان، ہندو اور سکھ اکٹھے رہتے تھے تو بھائی بہن کے الفاظ کا استعمال عام تھا۔ مسلمان بچے ہندو اور سکھ خواتین کو محلوں اور گلیوں میں خالہ کہتے تھے، سہیلیاں بہنیں بنی ہوئی تھیں اور ہندو اور سکھ بابے مسلمان بچوں کو بیٹا کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ کبھی کسی نے نہیں کہا تھاکہ اسلام پر آنچ آ رہی ہے۔

ان سطور کے لکھنے والے کو یقین ہے کہ ہمارے عقاب (Hawks) اس پر شدید گرفت کریں گے اور لکھنے والے کے پرخچے اڑا دیے جائیں گے، لیکن اس کے باجود حقیقت یہی ہے کہ یہ نان ایشوز ہیں۔ان معاملات پر طوفان کھڑا کر کے ہم اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔

یہاں ایک لطیفہ نما واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ہمارے سینئر دوست او رمعروف سفر نامہ نگار جناب مستنصر حسین تارڑ نے بیجنگ کے ایک ریستوران کا حال لکھا کہ ان کے چینی رہنما نے، جو اردو بولنے پر دسترس رکھتا تھا، ایک خاص ڈش کھانے سے منع کیا کہ یہ گدھے کا گوشت ہے۔ تارڑ صاحب نے کہاکہ وہ فلاں فلاں اصحاب تو کھا رہے ہیں۔ اس پرچینی گائیڈ نے جواب دیا کہ ہاں، وہ کھا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ گدھے ہی کا گوشت ہے۔ غیر اہم معاملات کے دفاع میں شور قیامت بھی برپا کر دیا جائے تو پھر بھی وہ غیر اہم ہی رہیں گے۔

اس پس منظر میں الشریعہ کے مدیر محمد عمار خان ناصر کی وہ سطور دیکھیے جن پر الشریعہ کے ستمبر کے شمارے میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے:

’’قادیانی قیادت اور ان کے تاویلاتی جال میں پھنس جانے والے عام سادہ لوح مسلمانوں کے مابین جو فرق حکمت دین کی رو سے ملحوظ رکھا جانا ضروری تھا، وہ نہیں رکھا گیا اور عام لوگوں کو ہمدردی اور خیر خواہی سے راہ راست پر واپس لانے کے داعیانہ جذبے پر نفرت اور مخاصمت کے جذبات نے زیادہ غلبہ پا لیا۔ میرے نزدیک قادیانی گروہ کو قانونی طور پر مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم گروہ قرار دے دیے جانے سے امت مسلمہ کے تشخص اور اس کی اعتقادی حدود کی حفاظت کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور اس کے بعد مسلمانوں کے علما اور داعیوں کی محنت اور جدوجہد کا ہدف اصلاً یہ ہونا چاہیے کہ وہ دعوت کے ذریعے سے ان عام قادیانیوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کریں جن کے حوالے سے قادیانی قیادت کا مفاد بھی یہی ہے کہ وہ مسلمانوں سے الگ تھلگ اور اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف رہیں اور معلوم نہیں کن ضرورتوں یا مجبوریوں کے تحت ہماری مذہبی قیادت بھی انھیں مسلمانوں سے دور ہی رکھنے کو اپنی ساری جدوجہد کا ہدف بنائے ہوئے ہے۔ ‘‘

اس تحریر میں کون سی چیز خلاف اسلام ہے یا قادیانیوں کے حق میں ہے جس کی بنیاد پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے؟ اس افسوس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے!

(۲)

ستمبر ہی کے شمارے میں مولانا زاہد الراشدی کا مضمون ’’دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات‘‘ ہماری اوپر لکھی ہوئی گزارشات کی تصدیق کر رہا ہے۔ قادیانیت کے ضمن میں تیر وہاں برسائے جا رہے ہیں جہاں ہدف نہیں ہے۔ یہ رویہ Don Quixote کی یاد دلاتا ہے جو ہوا میں تلواریں لہرانے والا ہیرو تھا۔ قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو جانے والے شخص کو قادیانی کہنا اور پھر اس پر اصرار کرنا، اور مولانا منظور احمد چنیوٹی جیسے انتہائی سینئر اور بزرگ عالم دین کا محض سنی سنائی بات پر مسلمان افسروں کو قادیانی قرار دینا اس حقیقت کا غماز ہے کہ ہمارے علماء کرام اس ضمن میں ایک ایسی انتہا پر جا پہنچے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے صریحاً متحارب ہے۔ 

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِن جَاءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا أَن تُصِیْبُوا قَوْماً بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ (الحجرات ۴۹:۶) 
’’اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔‘‘

رہی بلیک میلنگ کہ اپنا کام نکلوانے کے لیے مسلمان کو قادیانی کہہ دینا، جیساکہ ایک مولوی صاحب نے مولانا زاہد الراشدی کی موجودگی میں کیا، تویہ بہت سے پیشہ ور مولوی حضرات کا معمول ہے۔ مرکزی اور صوبائی دار الحکومت میں باقاعدہ ایسے گروپ بنے ہوئے ہیں جو جمعے کے خطبے کی دھمکی دے کر بیوروکریسی سے کام نکلواتے ہیں اور کام نہ ہونے کی صورت میں منبر ومحراب اور آلہ مکبر الصوت سمیت ساری سہولتیں جو دین حق پھیلانے کے لیے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کی گئی ہیں، ’’مجرم‘‘ کو ’’سزا‘‘ دینے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ چند دلچسپ واقعات اس فقیر کے علم میں بھی ہیں۔

(۳)

ستمبر کے ’الشریعہ‘ میں خاصے کی چیز ایک خط ہے جو حافظ صفوان محمد کے مضمون ’’سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ (الشریعہ، جولائی ۲۰۱۱ء) کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ اس خط کے چند فقرے ملاحظہ کیجیے:

’’حافظ صفوان کس بنیاد پر اپنا قد بڑھانے کے لیے یہ شگوفے چھوڑ رہے ہیں۔‘‘
’’شراب کی بوتل پر زم زم کا لیبل چپکانا اور سور کے گوشت کوبکری کے گوشت سے تعبیر کرنا .......‘‘
’’..... یہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کے طرز فکر کو اپنانے جیسا فعل ہے۔‘‘
’’فکری وذہنی انتشار کی عکاس یہ طویل تحریر پڑھ کر صفوان چوہان صاحب کے ژولیدہ فکر ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔‘‘
’’..... انھوں نے جو دست تطاول درازکیا ہے، یہ ان کے چرغینہ پن پہ دلالت کرتا ہے۔‘‘
’’انھوں نے جس چترائی سے دینی حلقوں پہ ہاتھ صاف کیا ہے۔‘‘
’’یہ گھناؤنا انداز اور یہ پھکڑ بازیاں کس مکروہ اور کثیف سوچ کی عکاس ہیں۔‘‘
’’آپ اپنا ہودہ و بے ہودہ ان کے نام منسوب کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یہ واہیات ارشاد فرمانے ہی ہیں تو براہ کرم کسی اور کندھے کو تلاش کیجیے۔ الفاظ آپ کے، سوچ آپ کی اور منسوب کر رہے ہیں سید ذوالکفل بخاری شہید کی طرف! یہ دوست کشی اور محسن کشی کی انتہا ہے۔‘‘
’’آپ کے مضمون کی ہر سطر کا ہر لفظ شاہد عدل اور شاہد اہل ہے کہ نہ تو آپ کو مذہب کے بارے میں مطالعے کا موقع ملا ہے اورنہ ہی تاریخ سے آپ کو کچھ مس ہے۔‘‘
’’آپ تو نرے پروفیسرو ڈاکٹر ہیں، بلکہ اب تو اِس دال میں بھی کچھ کالا محسوس ہوتا ہے۔‘‘
’’پرویز مشرف اور آپ کی سوچ میں کتنی مماثلت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔‘‘
’’یہ واہیات لفظ چیخ چیخ کر پکاررہاہے کہ آپ ہی کے دہن شریف سے نکلا ہے۔‘‘
’’شریعت اور قانون میںیہ در اندازی انتہائی واہیات ہے۔‘‘

جنابِ من! اپنی حیثیت کا تعین کر لیجیے۔

’’ایسی واہیات اور مکروہ باتیں ان کی طرف منسوب کر کے ان کی روح مبارکہ کو اذیت تو نہ پہنچائیں۔‘‘

اگر شمار کرنے میں غلطی نہیں ہوئی تو اس خط میں واہیات کا لفظ چار مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ جس خط میں دلیل ایک بھی نہیں دی گئی اور واہیات، سور کا گوشت، چرغینہ پن، چترائی، پھکڑ بازیاں، ہودہ وبے ہودہ جیسے الفاظ بار بار استعمال کیے گئے ہیں، اس کی اشاعت ایک دینی پرچے میں کیوں ضروری تھی اور اس کے شائع نہ ہونے سے کون سی صحافتی اقدار مجروح ہو رہی تھیں، لیکن اس سے قطع نظر، اس خط میں حافظ صفوان محمد پر ایک انتہائی سنجیدہ الزام لگایا گیا ہے۔ مکتوب نگار نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’’اپنا ہودہ وبے ہودہ‘‘ اور ’’واہیات اور مکروہ باتیں‘‘ سید ذو الکفل بخاری مرحوم کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ امکانات دو ہی ہیں۔ اگر مکتوب نگار سچا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حافظ صفوان محمد نے دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو مکتوب نگار نے حافظ صاحب پر بہتان باندھا ہے۔

مکتوب نگار کو میں نہیں جانتا۔ہاں حافظ صفوان محمد مجھے ہمیشہ ایک نیک اور پرہیزگار انسان لگے ہیں۔ تاہم سید ذوالکفل بخاری مرحوم اس گنہ گار کے بھی دوست تھے۔ میں ملتان جب بھی گیا، ان سے ضرور ملاقات ہوئی۔ میرے اعزاز میں انھوں نے اپنے گھر چند بار دوستوں کو جمع کر کے ملاقات کو تقریب کی شکل بھی دی۔ کئی بار ملنے ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس تشریف لائے تو مشہور شاعر خالد مسعود خان بھی ان کے ساتھ تھے۔ 

۲۰۰۹ء کے وسط میں، میں ایک تقریب کے سلسلے میں جدہ گیا۔ مکہ مکرمہ پہنچا تو شاہ صاحب میرے منتظر تھے۔جتنی دیر میں عمرہ میں مصروف رہا، وہ حرم ہی میں رہے۔ بعد میں انھوں نے کے ایف سی سے مجھے کھانا کھلایا۔ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔ حرم سے نکل رہے تھے تو معروف شاعر انور مسعود بھی مل گئے۔ وہ سید ذو الکفل بخاری سے ان کے نانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ ذو الکفل نے عطاء اللہ شاہ بخاری کا وہ لازوال فقرہ سنایا جو انھوں نے علی گڑھ میں تقریر کرتے ہوئے اردوے معلی میں فرمایا تھا: ’’برس دن گزرے ......‘‘۔ افسوس کہ مجھے فقرے کا آخری حصہ یاد نہیں رہا۔ انور مسعود اس پر بہت دیر تک سر دھنتے رہے۔ میں سہ پہر کو جدہ واپس چلا گیا۔ اسی شام یا اگلی شام شاہ صاحب خاص طور پر میری حوصلہ افزائی کے لیے جدہ تشریف لائے اور تقریب میں شرکت کی۔ اس شام کی ایک یادگار تصویر بھی ہے جس میں ذو الکفل کے ساتھ میں، افتخار عارف اور مختار علی کھڑے ہیں۔ مختار علی خطاط اور شاعر ہیں اور ملتان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے شاہ صاحب کے ساتھ خصوصی مراسم رکھتے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، یہ تصویر مختار علی نے فیس بک پر بھی لگائے رکھی۔

جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں، یہ ہے کہ ۲۰۰۹ء کے اوائل میں سید ذو الکفل بخاری مرحوم اسلام آباد تشریف لائے تو ایک رات میرے ہاں قیام فرمایا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو اسی شام معروف صحافی ہارون الرشید بھی تشریف لائے اور کافی دیر محفل برپا رہی۔غالباً دوسرے دن صبح انھوں نے باتوں باتوں میں اپنے کسی دوست یا عقیدت مند کا ذکر کیا جو ایک ملازمت اس لیے قبول نہیں کر رہے تھے کہ اس میں کوٹ پتلون پہننا پڑتا تھا۔ شاہ صاحب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ان صاحب کو تلقین کی کہ وہ یہ ملازمت ضرور کریں۔ ظاہر ہے،مجھے ان کا ارشاد لفظ بہ لفظ یاد نہیں، لیکن جو کچھ انھوں نے کہا، اس کا واضح مطلب یہ تھاکہ کوٹ پتلون پہنناکوئی غیر اسلامی حرکت نہیں۔

حافظ صفوان محمد پر عورتوں کی دکانداری کرنے، عورتوں کے مسجد میں آ کر نماز باجماعت میں شریک ہونے اور ’’اسلامی‘‘ لباس کے ’’تمسخر اڑانے‘‘ کے حوالے سے اعتراض ہوا ہے، اگرچہ دلیل کوئی نہیں دی گئی۔اس میں دلچسپ ترین مسئلہ لباس یا اسلامی لباس کا ہے۔ اسلامی لباس کی آج تک کوئی تعریف نہیں کی جا سکی۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے، وہ وہی لباس پہننا جاری رکھتے تھے جو قبول اسلام سے پہلے پہنتے تھے۔ آپ نے لباس کے بنیادی اصول، ستر کے لحاظ سے مقرر فرمائے، لیکن کسی لباس کی تخصیص نہیں فرمائی۔ اس ضمن میں مولانا محمد منظو رنعمانی ؒ نے بہت دل نشین پیرایے میں وضاحت کی ہے۔

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لباس کے بارے میں ان حدود واحکام کی پابندی کے ساتھ جو مذکورہ بالا احادیث* سے معلوم ہو چکے ہیں، اسی طرح کے کپڑے پہنتے تھے جس طرح اور جس وضع کے کپڑوں کا اس زمانے میں آپ کے علاقے اور آپ کی قوم میں رواج تھا۔ آپ تہبند باندھتے تھے،چادر اوڑھتے تھے،کرتا پہنتے تھے، عمامہ اور ٹوپی بھی زیب سر فرماتے تھے اور یہ کپڑے اکثر وبیشتر معمولی سوتی قسم کے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی دوسرے ملکوں اور دوسرے علاقوں کے بنے ہوئے ایسے بڑھیا کپڑے بھی پہن لیتے تھے جن پر ریشمی حاشیہ یا نقش ونگار بنے ہوتے تھے۔ اسی طرح کبھی کبھی بہت خوش نمایمنی چادریں بھی زیب تن فرماتے تھے جو اس زمانے کے خوش پوشوں کا لباس تھا۔ اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ زبانی ارشادات وہدایات کے علاوہ آپ نے امت کو اپنے طرز عمل سے بھی یہی تعلیم دی کہ کھانے پینے کی طرح لباس کے بارے میں بھی وسعت ہے۔ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کی پابندی کے ساتھ ہر طرح کا معمولی یا قیمتی لباس پہنا جا سکتا ہے اور یہ کہ ہر علاقے او رہر زمانے کے لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ شرعی حدود واحکام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا علاقائی وقومی پسندیدہ لباس استعمال کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے ان اصحاب صلاح وتقویٰ نے بھی جن کی زندگی میں اتباع سنت کا حد درجہ اہتمام تھا، یہ ضروری نہیں سمجھا کہ بس وہی لباس استعمال کریں جو رسول اللہ استعمال فرماتے تھے۔ دراصل لباس ایسی چیز ہے کہ تمدن کے ارتقا کے ساتھ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور ہوتی رہے گی۔ اس طرح علاقوں کی جغرافیائی خصوصیات اور بعض دوسری چیزیں بھی لباس کی وضع قطع اور نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگوں کا لباس یکساں ہو یا کسی قوم یا کسی علاقے کا لباس ہمیشہ ایک ہی رہے۔ اس لیے شریعت نے کسی خاص قسم اور خاص وضع کے لباس کا پابند نہیں کیا ہے۔ ہاں، ایسے اصولی احکام دیے گئے ہیں جن کی ہر زمانے میں ہر جگہ بہ سہولت پابندی کی جا سکتی ہے۔‘‘ (معارف الحدیث، حصہ ششیم، صفحہ ۴۲۴)

ہمارے علماء کرام جو لباس زیب تن فرماتے ہیں، وہ اس علاقے کا یعنی برصغیر اور افغانستان کا لباس ہے۔ مشرقی بھارت، بنگلہ دیش ، ملایشیا اور انڈونیشیا کے مسلمان جو لنگی (تہمند) باندھتے ہیں، برما کے غیر مسلم بھی وہی پہنتے ہیں بلکہ یہی لنگی برما کا قومی لباس ہے۔ اس سلسلے میں بعض لوگوں کا اصرار کہ پتلون پہننا ناجائز یا غیر اسلامی لباس ہے، سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر الاسکا یا نیوزی لینڈ کا کوئی باشندہ اسلام قبول کرے تو کیا وہ پتلون پہننا چھوڑ دے؟ اور اگر ایسا کرے تو وہ کون سا لباس پہنے؟ وہ لباس جو عرب علما پہنتے ہیں؟ یا وہ جو افغانستان یا پاکستان کے علما پہنتے ہیں؟ یا وہ جو بنگلہ دیش کے یا ملایشیا کے علماء کرام پہنتے ہیں؟ دوسری طرف حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے، انھوں نے طیلسان کا بنا ہوا ایک کسروانی جبہ نکال کر دکھایا۔ اس کا گریبان ریشمی دیباج سے بنوایا گیا تھا اور دونوں چاکوں کے کناروں پر بھی دیباج لگا ہوا تھا۔ حضرت اسماءؓ نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مبارک ہے۔ یہ میری بہن عائشہ صدیقہؓ کے پاس تھا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں نے لے لیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زیب تن فرمایا کرتے تھے اور اب ہم اس کو مریضوں کے لیے دھوتے ہیں اور اس سے شفا حاصل کرتے ہیں۔

دین کے نام پر لوگوں پر ایسی پابندیاں عائد کرنا جن کا حکم اللہ نے دیا نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے، ایسا رویہ ہے جسے نرم ترین الفاظ میں بھی غلط ہی کہا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ملک کے ایک کثیر الاشاعت روزنامے میں ایک معروف عالم دین ہر جمعہ کے روز سوالات کے جوابات دیا کرتے تھے۔ ایک بار کسی نے میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانے کے حوالے سے سوال پوچھا۔ مولانا نے جواب میں اسے بدعت قرار دیا کہ اللہ کے رسول کے زمانے میں عرب میں میز کرسی کا وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت صوفہ سیٹ، فوم والے بیڈ، ایئر کنڈیشنر، ہوائی جہاز، ٹیلی ویژن، موبائل فون اور لاؤڈ اسپیکر کا وجود بھی نہیں تھا۔کار،بجلی اور گیس بھی نہیں تھی۔ پھر صرف میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانا ہی کیوں بدعت ہو؟ میر تقی میر نے یہ شعر کہتے وقت ضرور کانوں کو ہاتھ لگایا ہوگا۔ 

کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں

حواشی

* یہ احادیث ان موضوعات کے بارے میں ہیں: عورتوں کے لیے زیادہ باریک لباس کی ممانعت، لباس میں تفاخر اور نمائش کی ممانعت، مردوں کے لیے ریشم اور سونے کی اور شوخ سرخ رنگ کی ممانعت، مردوں کو زنانہ اور عورتوں کو مردانہ لباس کی ممانعت۔

آراء و افکار