.... اور کافری کیا ہے؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲ء میں ہمارے شائع شدہ مضمون ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد: قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں ایک عمرانی مطالعہ‘‘ کی بابت محمد دین صاحب جوہر نے ( نومبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں) نہایت درد مندی سے اپنی فاضلانہ رائے کا اظہار کیا ہے۔ جوہر صاحب کی تنقیدی دفتری کافی موٹی ہے۔ آئندہ سطور میں نوع بہ نوع اس دفتری کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 

۱۔ محترم جوہر صاحب کا پہلا اعتراض:

’’..... میں تو استدراک پر ہی معتکف ہوں اور ابھی تک یہ عقدہ نہیں کھلا کہ یہ کسی متداول اخبار کا تراشہ ہے یا کسی علمی مضمون کا تتمہ؟ ......... اس مضمون کے عنوان میں ’نفاذ‘ کا لفظ برتا گیا ہے۔ یہ لفظ استعمار آفریدہ تعلیم اور اس کے تحت فروغ پانے والے مستریانہ علم کی فضا میں جنم لینے اور پرورش پانے والے شعور کی گھٹی میں پڑا ہے اور اس کا اسم اعظم ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۳۹)

جوہر صاحب غالباً cultural imperialism کی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں اعتراف ہے کہ استعماریت کی یہ شاخ، متنوع جہات اور کثیر مقاصد کی حامل ہے۔ ایڈورڈ سید (۱۹۳۵ء ۔۔۲۰۰۳ء) وغیرہ نے استعماریت کے اس پہلو پر بہت وقیع مباحث اٹھائے ہیں۔ لیکن فی الحال ہم اس بحث میں الجھنے کی پوزیشن میں نہیں کہ لفظ ’’نفاذ‘‘ استعمار آفریدہ تعلیم کا دیا ہوا ہے یا نہیں، اور ہم جیسے استعمار زائیدہ شعور کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے یا نہیں، لیکن ایک بات نہایت عاجزی سے عرض کریں گے کہ ہمارے مضمون (الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲) کا منشا اور مجموعی رجحان، نفاذ پر تنقید کے گرد ہی گھومتا ہے۔ لفظ’’ نفاذ‘‘ کی درگت بنانے سے پہلے اگرہمارے مضمون کے فقط اس جملے:

’’مسئلے کی اخلاقی و فکری اور جمالیاتی نوعیت، نفاذ (implementation) کی نہیں بلکہ نفوذ (penetration)کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘ (الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲: ص۵۳)

پر غور فرما لیا جاتا تو فاضل نقاد لفظ ’’نفاذ‘‘ کو بہ تکلف اسم اعظم بنانے کی زحمت سے یقیناً بچ جاتے۔ یہ جھمیلا انھیں ’’استدراک پر معتکف‘‘ ہونے کے سبب جھیلنا پڑا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ’’نفاذ‘‘ کے حوالے سے ہم نے اپنے مضمون میں جو نکات (الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲: ص ۳۸، ۳۹، ۴۰) بین السطور بیان کیے تھے، انھی کی بعض پرتیں جوہر صاحب نے استعماری کیل کانٹوں سے کھولنے کی کوشش کی ہے، ملاحظہ کیجیے: 

’’نفاذ کی ہر گفتگو ایک ایسے اغماض سے شروع ہوتی ہے جس پر کسی بھی سطح کی علمی دیانت صاد کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نفاذ کا مسئلہ براہ راست جس چیز سے جڑا ہوا ہے ، وہ طاقت یعنی سیاسی طاقت ہے۔ ....... نفاذ کی بحث کو سیاسی طاقت کے structure سے الگ کر کے اور سیاسی نظام میں طاقت روائی کی منہج سے آنکھیں چرا کر نظریے سے جوڑنے کی چابک دستانہ کوشش کرنا ایک گہرا علمی اغماض ہے جو اب ہمارے ہاں کتمان کے درجے کو پہنچا ہوا ہے ....... سیاسی طاقت اور نظریے سے اغماض برت کر نفاذ کی بحث چلانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اسلام کے نفاذ اور اشیائے خوردنی کے نرخوں کے نفاذ کو ایک ہی سطح پر رکھ کر دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۰)

یہاں ہمیں حفظِ ماتقدم کے طور پریہ اعتراف کر لینا چاہیے کہ اقتباس نقل کرنے میں ’’کتمانِ حق‘‘ سے کام لیا گیا ہے کہ صاحبِ مضمون کے استعماری کیل کانٹے مستور کر دیے ہیں۔ بہرحال! کتمان کا بہتان اپنی جگہ، لیکن جوہر صاحب کی کاوش کی داد نہ دینا بخیلی کے زمرے میں آئے گا،کہ انھوں نے سیاسی طاقت اور اس کے لوازمات وغیرہ پر خوب قلم اٹھایا ہے۔

۲۔ ہمارے ممدوح نقاد کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ:

’’...... مضمون نگار کی یہ یہ تحریر کس نوع علم سے تعلق رکھتی ہے؟ یہ ایک بدیہی اور متفقہ بات ہے کہ انسان کا عقلی شعور ہر تہذیب اور ہر عہد میں علم کے standard disciplines and discourses میں اپنی فعلیت کے حاصلات کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے بغیر علم کا کسی بھی طرح کا کوئی تصور سرے سے موجود یا ممکن ہی نہیں ہے۔ ورنہ ہر طرح کی بک بک جھک جھک علم ہی قرار پائے گیاور علم کا استدلالی اور جدلیاتی عمل ممکن نہیں رہے گا۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۰،۴۱)

جوہر صاحب نے اس اقتباس میں ایک ہی سانس میں دو متضاد باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ایک طرف وہ standard disciplines and discourses کے موید و حامی ہیں اور دوسری طرف علم کے ’’استدلالی اور جدلیاتی عمل‘‘ کی وکالت بھی فرما رہے ہیں۔ ہماری ناقص رائے میں dialectic چبائے ہوئے نوالے سے استدلال کرنے کا نام نہیں، کہ اس کی سرشت میں settled paradigm کو چیلنج کرنا رکھا گیا ہے۔ فاضل نقاد نے standard disciplines and discourses جس مقام پر متمکن کر دیے ہیں، اگر وہ واقعی اس مقام کے حق دار قرار پائیں تو انسان کے عقلی شعور پر بمشکل علم کی دھول ہی باقی بچے گی۔

جوہر صاحب علم و حکمت کے موتی بکھیرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :

’’اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں یا موجودہ مغرب کو دیکھیں تو وہاں بھی علم کا بنیادی اسلوب standard disciplines and discourses میں ہی چلنے کا ہے۔ اسلامی تہذیب میں ظاہر ہونے والی علمی روایت سے آدمی کا ختلاف بھلے جو بھی ہو وہ اپنی جگہ، لیکن یہ روایت استناد اور استدلال کے جواز کے فرق کے ساتھ منقولی اور معقولی کی واضح تقسیم رکھتی تھی۔ یہ مضمون اصولِ تفسیر، تفسیرالقرآن، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، علمِ بلاغت، علمِ بیان وغیرہ کے زمرے سے نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی کلامی اور عرفانی کاوش ہے۔ دوسری طرف اس مضمون کا متداول اور عصری علوم میں شجرہ نسب تلاش کرنا بھی ممکن نہیں ہے، مثلاً فلسفہ، ما بعدالطبیعات، عمرانیات، معاشیات، تاریخ، آثاریات یا بشریات وغیرہ۔ ہمیں یہ معلوم کرنے میں دل چسپی ہے کہ قرآن پر جس hermeneutics کو آزمایا جا رہا ہے، وہ کدھر سے آئی ہے؟‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۱) 

ہم نہایت ادب سے گزارش کریں گے کہ علم و فن کا بحرِ بے کنار ہمیشہ سے taken for granted کسی مخصوص discourse یا discipline کا حامل نہیں ہوتا۔ جوہر صاحب اس نکتے پر ضرور غور فرمائیں کہ کوئی unarticulated intellectual discourse کیسے اور کب articulated ہو جاتا ہے؟ ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر تہذیب اور ہر عہد میں بنا بنایا گھڑا گھڑایا standard سامنے آ جاتا ہے۔ حالاں کہ ایسا ہونا محال ہے۔ جیسے کپاس خود بخود نہیں اگتی، اور اس سے کپڑا بھی خودبخود نہیں بنتا، اسی طرح standard disciplines and discourses خود بخود تشکیل نہیں پاتے۔ اپنی تشکیل سے پہلے، یاsettled paradigm میں ڈھلنے سے پہلے وہ لازماً کسیunsettled حالت میں ہوتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جیسے ان کی unsettled حالت مستقل نہیں ہوتی، اسی طرح settled یا standard حالت بھی ہمیشگی کی حامل نہیں ہوتی، کہ علم کا جدلیاتی عمل، یعنی dialectic اسے چیلنج کرنے آن موجود ہوتا ہے۔ یہ dialectic اپنے آغاز میں عام طور پر unarticulated form میں ہوتا ہے۔

جوہر صاحب اسی نقطے کے ضمن میں یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ:

’’قیامِ علم کے تاریخی طور پر دو طریقے موجود رہے ہیں: ایک مذہبی استناد دوسرا عقلی استدلال۔ استعمار کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نیا استناد اور جواز سامنے آیا جس کا تعلق عہدے سے ہے، یعنی سیاسی طاقت سے۔ اب غالب طور پر یہی استناد باقی رہ گیا ہے، یعنی علم کی قلم رو میں مذہبی استناد اور عقلی استدلال کم زور پڑ گیا ہے اور علم، طاقت کی ترجیحات کے مطابق تشکیل پا رہا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ اس مضمون میں علم کے کس استدلال کو کام میں لایا گیاہے؟ اگرتو یہ کوئی ذہنی سفر نامہ ہے تو پھر اس کا جواز یقیناً موجود ہے، کیونکہ سیرِ عقائد و افکار میں اپنے مشاہدات تجربات اور پسند ناپسند کے اظہار کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ ایسی صورت میں اس کو نئی تعریف یا تعبیر کا نام دینا مناسب نہیں ہے۔ اور اگر یہ واقعی کوئی نئی تعریف یا تعبیر ہے تو اس کے علمی منہج کو articulate کرنا از بس ضروری ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۱)

قابلِ غور بات ہے کہ جوہر صاحب نے قیامِ علم کے استعماری نوعیت کے ( تیسرے طریقے کو) نہ صرف قابلِ بیان سمجھا ہے، بلکہ اس کے غلبے کو بھی تسلیم کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تاریخی اور روایتی قسم کے standard disciplines and discourses کی موجودگی میں (تاریخی لحاظ سے ایک غیر موجود) استعماری استناد و جواز کیسے اور کیوں کر جگہ پا گیا؟ اگر یہ جگہ پا گیا ہے اور فی الواقعی پا گیا ہے تو کوئی تیسرا چوتھا ...... استناد و جواز کیسے راہ نہیں پا سکتا؟ 

ہم گزارش کریں گے کہ ہمارے مضمون میں برتا گیا طریقہ علم، مذہبی استناد اور عقلی استدلال کا امتزاج قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا صرف بات کو قابلِ فہم بنانے کے لیے کہا جا رہا ہے ورنہ دانستہ ، کسی خاص طریقہ علم کو نہیں برتا گیا۔ اس لیے جوہر صاحب کی یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ ایک ذہنی سفر نامہ ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ذہنی سفر نامہ کسی newly articulated علمی منہج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس کا پورا پورا امکان موجود ہے کیونکہ حقیقت میں یہ ذہنی سفر نامہ ہی ہوتا ہے جو settled paradigm سے باہر تانک جھانک کرتا ہے۔ لیکن settled paradigm سے باہر جھانکنے کی یہی صلاحیت اسے ان سہولتوں سے بھی محروم کر دیتی ہے جو settled paradigm کا خاصا شمار ہوتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ذہنی اسفار کے standard disciplines and discourses یا settled paradigm میں ڈھلنے کا عمل چند برسوں یا عشروں پر محیط نہیں ہوتا بلکہ اس میں صدیاں صرف ہوتی ہیں اور کئی نسلوں کو خونِ جگر دے کر اسے سینچنا پڑتا ہے۔ جوہر صاحب اس سلسلے میں جس اشکال کا شکار ہوئے ہیں ہم بزبانِ غالبؔ بس یہ عرض کیے دیتے ہیں : ؂

بقدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگ نائے غزل کچھ اور چاہیے وسعت میرے بیاں کے لیے

باقی رہی یہ بات کہ اگر ہمارا مضمون ذہنی سفر نامہ ہے تو ایسی صورت میں اس کو نئی تعریف یا تعبیر کا نام دینا مناسب نہیں ہے، تو ہم نہایت ادب سے عرض کریں گے کہ نہ تو مضمون کے عنوان میں اور نہ ہی مندرجات میں کوئی ایسی بات کہی گئی ہے، البتہ جوہر صاحب نے (نئی تعریف کی تلاش کو نئی تعریف گردانتے ہوئے) ہمارے سر منڈھ ضرور دیا ہے۔ اوپر مذکور اقتباس سے متصل سطروں میں، اَن کہی کو کہی بناتے ہوئے فاضل نقاد فرماتے ہیں کہ:

’’ہم جیسے عام مسلمانوں کے نزدیک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پاک اور قرآن مجید کو نہ تو question کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی redefine کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۱)

ہمارے ممدوح نقاد کو علم ہونا چاہیے کہ نہ صرف اُن جیسے عام مسلمانوں بلکہ ہم جیسے خاص مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ (یہ عام اور خاص کی تقسیم بھی خوب رہی، ...... خیر! جو مزاجِ یار میں آئے)۔ جوہر صاحب اگر مسلمانی کے دائرے میں ہی رہنے کی اجازت مرحمت فرمائیں تو گزارش کریں گے کہ question کرنے، redefine کرنے، اور ....... discover کرنے، re-understand کرنے میں بال برابر نہیں بلکہ زمین آسمان کا فرق ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل نقاد کی باریک بین نگاہوں سے یہ موٹا سا فرق پوشیدہ رہ گیا ہے۔ اب علم و ادب کی درس گاہوں اور صاحبانِ فکر کو اپنی خیر منانی چاہیے کہ قرآن و سنت کی discovery اور re-understanding کا مطلب ’’عام مسلمانوں کے نزدیک‘‘ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر question کرنا اور قرآن مجید کو redefine کرنا ہو گیا ہے۔

ہمارے مضمون کے مندرجات (اور الفاظ) سے جوہر صاحب کی طرح اور بھی کئی صاحبان کو یہ مغالطہ ہو سکتا ہے کہ ہم قرآن و سنت کو question کر رہے ہیں ، یا redefine کرنے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ ہم نے نہایت کھلے لفظوں میں اسلام کے قانونی ایڈیشن(یعنی ایک خاص دور کی پروردہ تعبیر) کو ضرور question کیا ہے کہ یہ ہم عصر ماحول یا موجودہ صورتِ حال کو address نہیں کر پا رہی، فتح یاب ہونا تو دور کی بات ہے۔ اس قانونی ایڈیشن کی ہم عصر صورتِ حال سے یہی لاتعلقی، قرآن و سنت کو ہم عصر صورتِ حال میں دیکھنے کا پوراپورا جوازفراہم کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جیسے اسلام کا قانونی ایڈیشن، قرآن و سنت سے ماخوذ ہے، ایسے ہی قرآن و سنت سے ماخوذ ایک ایسے نئے ایڈیشن کی ازحد ضرورت ہے جو ہم عصر صورتِ حال کو address کر سکے اور اس پر فتح پا سکے۔ 

۳۔ جناب محمد دین جوہر کا تیسرا اعتراض ملاحظہ کیجیے:

’’صحابہ کرامؓ، ائمہ اربعہ اور ان کے بعد امت میں ظاہر ہونے والے علما کی طویل درخشندہ لڑی بہت محترم ہے۔ ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کو معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے، لیکن ہم بزرگوں کی عیب چینی کو دین اور ایمان دونوں کے لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہم علمائے سوء کے وجود سے انکار نہیں کرتے، لیکن اس کی آڑ میں علمائے حق کی نام نہاد ’فکری‘ مخالفت کو بڑی محرومی اور بد نصیبی خیال کرتے ہیں۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۱)

جوہر صاحب کے یہ الفاظ اگر ان کی کسی طبع زاد تحریر کا حصہ ہوتے تو اس سے اتفاق ممکن تھا۔ لیکن ان کے یہ الفاظ ایک خاص تناظر کے حامل ہیں اور وہ تناظر ہمارا مضمون ہے۔ موصوف کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم نے ہمیشہ کھلے بندوں بات کی ہے، کسی آڑ کی آڑ کبھی نہیں لی، اس لیے انھیں اپنے آپ کو ’’محروم اور بدنصیب‘‘ خیال کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ البتہ بزرگوں کی عیب چینی کو دین و ایمان کے لیے خطرہ ...... بلکہ سنگین خطرہ سمجھنے والی بات کافی دل چسپ ہے۔ سوال یہ ہے کہ بزرگوں کے تشکیل کردہ standard disciplines and discourses کو question کرنا اگر عیب چینی ہے اور پھر ایسی عیب چینی ہے جس سے دین و ایمان سنگین خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں تو پھر ............ کافری کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل نقاد چون و چرا کی آڑ میں ما فی الضمیر (بتوں سے امیدیں)دابے بیٹھے ہیں۔

اسلام کی قانونی تعریف سے چمٹے ہوئے علما پر کسی قسم کی تنقید جوہر صاحب کو ایک آنکھ نہیں بھاتی:

’’ہمارے لیے یہ بات سمجھنا ازحد دشوار ہے کہ اسلام کی نئی تعریف متعین کرتے وقت ہمارے روایتی علما کی شامت کیوں آ جاتی ہے؟ آخر انھوں نے ایسی کیا خطا کر دی ہے کہ اسلام کی نئی تعریف پر نکلنے والا ہر مہم جو روایتی علما پر تیر اندازی اپنا اولین فرض سمجھتا ہے؟‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۱)

لطف کی بات یہ ہے کہ موصوف کے لیے جس بات کو سمجھنا از حد دشوار ہے، معجزانہ طور پر متصل سطروں میں ہی اسے سمجھ جاتے ہیں: 

’’یہ بات تو کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے روایتی علما جدید تہذیب کی تفہیم اور تردید کے لیے کوئی علمی اور فکری اسلوب پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس کی وجہ سے یقیناً بہت سے سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں، اور اس معاملے میں ہمیں بھی ان سے سخت شکایات ہیں۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۱،۴۲)

روایتی علما سے ان سخت شکایات کو اپنے تئیں ’’عیب چینی‘‘ کے الزام سے بری سمجھتے ہوئے فوراً سے پہلے پینترہ بدلتے ہیں اور فرماتے ہیں :

’’لیکن ہمارے علما، دین کے روایتی موقف کو باقی رکھے ہوئے ہیں اور اسی کا پرچار کرتے ہیں اور یہی اصل چیز ہے۔ ہمارے خیال میں روایتی علما اپنی تمام تر فروگزاشتوں اور تسامحات کے باوجود سر آنکھوں پر بٹھائے جانے کا قابل ہیں کہ وہ دین کے روایتی موقف اور تعلیم سے ارادتاً دست بردار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ اپنی معاشی اور ثقافتی ابتری اور سیاسی نکبت کے باوجود ہمارے علما ایک گہری شکست میں ہوتے ہوئے بھی دین میں کسی بنیادی رد و بدل پر تیار نہیں۔ یہ ان کا اس امت پر احسان ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۲)

یہاں پھر وہی بات ہے کہ اگر اس تحریر کا تناظر ہمارا مضمون نہ ہوتا تو جوہر صاحب کے نقطہ نظر سے اختلاف بہت مشکل ہو جاتا ۔ لیکن تحریر کا تناظر، وضاحت طلب کر رہا ہے کہ دین کے جس روایتی موقف کو اصل چیز قرار دیا جا رہا ہے، وہ کیا ہے؟ دین میں بنیادی رد و بدل پر تیار نہ ہونے سے کیا مراد ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ فاضل نقاد کی تحریر کا تناظر، جوابات بھی فراہم کر رہا ہے۔ دین کا وہ روایتی موقف جسے اصل چیز قرار دیا جا رہا ہے، وہ اسلام کا (خاص دور کا پروردہ) قانونی ایڈیشن ہے۔ اور دین میں بنیادی رد و بدل پر تیار نہ ہونے سے مراد بھی اسی قانونی ایڈیشن (فقہی تعبیرات) میں رد و بدل سے یکسر انکاری ہونا ہے۔ جوہر صاحب نے جس ’’گہری شکست‘‘ کا کنایہ استعمال کیا ہے، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا خمیر اسی روایتی موقف سے اٹھا ہے۔ رہی بات معاشی اور ثقافتی ابتری اور سیاسی نکبت کی؟ تو وہ تو اس گہری شکست کے نتائج ہیں، اسباب نہیں۔ 

۴۔ فاضل نقاد کا چوتھا اعتراض دیکھیے:

’’اسلام کی نئی تعریف کے منصوبہ ساز دانش ور حضرات کا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے کہ انھیں حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام سے عام مسلمانوں کے تعلق کا روایتی اسلوب پسند نہیں، بلکہ یہ انھیں بڑا outdated لگتا ہے۔ قرآن سے عام مسلمانوں کا تعلق صرف فہم تک محدود اور صرف ذہنی نہیں بلکہ وجودی ہے، اور یہ بھی دین کی نئی تعبیر والوں کو بہت دقیانوسی معلوم ہوتا ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۲) 

جوہر صاحب کی روایتی اسلوب سے مراد اگر ’’دما دم مست قلندر‘‘ جیسے اسالیب ہیں جو ظاہر و باطن میں تضادات کے حامل اور بے عملی و منافقت کے شاہکار ہیں تو ان کی بات یقیناً درست ہے کہ ایسے اسالیب ہمیں outdated لگتے ہیں۔ جہاں تک عام مسلمانوں کے قرآن مجید کے ساتھ تعلق کا تعلق ہے تو جہاں یہ بات درست ہے کہ یہ تعلق صرف ذہنی نہیں بلکہ وجودی ہے، وہاں یہ بات بھی غلط نہیں ہے کہ یہ تعلق صرف وجودی نہیں بلکہ ذہنی بھی ہے۔ ہماری ناقص رائے میں ابتداً وجودی تعلق سے ذہنی تعلق کی رسم و راہ ہم وار ہوتی ہے اور پھر ذہنی تعلق کی استواری اور پختگی کے بعد نہایت اعلیٰ سطح کے وجودی تعلق کی تشکیل ہو جاتی ہے۔ اور انتہاً مومن ’’قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن‘‘ کا عملی نمونہ بن جاتاہے۔ 

۵۔ جوہر صاحب کا پانچواں اعتراض ملاحظہ کیجیے کہ کسی معجزے کی امید پر ایک ہارا ہوا مقدمہ پیش کر رہے ہیں: 

’’ دینی روایت (فقہی احکامات کی تفصیلات اور حدیث) سے رستگاری کے بعد آخر میں قرآن اپنی ظاہری ہیت میں باقی رہ جاتا ہے اور اس کے معانی پر تعبیراتی طبع آزمائی بہت آسان ہو جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر ہم جیسے روایت پسند اور عام مسلمانوں سے مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فقہ، حدیث اور دیگر روایتی علوم کو چھوڑ کر ان کے مہیا کردہ چیتھڑوں پر قناعت کر لیں۔ یہ مطالبہ عام مسلمان کے لیے بہت ہی بڑا اور نا قابلِ تصور ہے۔ 
....... جدید ذہن اپنی تعبیراتی مہمات میں فقہ کو کسی بھی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں:
’’اب جب کہ روایتی فقہ اپنی داخلی روح اور حقیقی جوہر سے محروم ہو چکی ہے، اس کے ظاہری ڈھانچے سے پیچھا چھڑائے بغیر نفاذِ اسلام سے حاصل ہونے والے حقیقی مقاصد تک رسائی ممکن نہیں ہے۔‘‘

فرد جرم اور فیصلہ دونوں قابلِ داد ہیں، جرح غائب ہے۔ بالکل یہی فرد جرم اور فیصلہ خود اسلام پر بھی اب بہت عام ہے، اس کا کوئی حل بھی مصنف تجویز فرمائیں۔ مسئلہ روح و جوہر وغیرہ کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ فقہ کے ڈھانچے سے کیسے جان چھڑائی جائے۔ اگر روح ہی کا مسئلہ ہے تو یہ دین سے فقہ میں پھر سے reintroduce کی جا سکتی ہے۔ لیکن شکر ہے کہ تاریخ نے داخلی روح اور حقیقی جوہر کو ختم کر دیا، اب ہماری ذمہ داری ڈھانچے کی تدفین ہے، کیونکہ یہی ہماری نئی تاریخی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا دینی ذمہ داری سے زیادہ ضروری ہے۔ فاضل مصنف بھول گئے کہ قانون کی کوئی روح وغیرہ نہیں ہوتی اور اس کی حرکت طاقت سے اخذ ہوتی ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۲،۴۴) 

جوہر صاحب کے اعتراض کی ساری تان ’’روایتی فقہ کے دفاع‘‘ پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ ان کے خیال میں ’’عام مسلمان‘‘ اس علمی روایت کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تصور نہ کر سکنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے اذہان میں فقہ کو بطور فقہ نہیں بلکہ اسلام کے طور پر نقش کر دیا گیا ہے۔خود جوہر صاحب یہ فرما کر ’’فرد جرم اور فیصلہ دونوں قابلِ داد ہیں، جرح غائب ہے۔ بالکل یہی فرد جرم اور فیصلہ خود اسلام پر بھی اب بہت عام ہے، اس کا کوئی حل بھی مصنف تجویز فرمائیں‘‘ اسی مخصوص ذہن کی عکاسی اور نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہماری رائے میں امت کے حساس اور بنیادی مسائل میں سے، روایتی فقہ کو ہی اسلام سمجھنے کا مسئلہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

محمد دین صاحب جوہرجب یہ فرماتے ہیں کہ ’’ اگر روح ہی کا مسئلہ ہے تو یہ دین سے فقہ میں پھر سے reintroduce کی جا سکتی ہے‘‘ تو اگرچہ دین اور فقہ میں فرق باور کروا دیتے ہیں، لیکن ان کی اسی بات میں اعلیٰ درجے کی سادگی بھی جھلکتی ہے کیونکہ وہ ذہناً ، روایتی فقہ کو دین کے متوازی اہمیت دے رہے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فقہ میں دینی روح reintroduce کی جا سکتی ہے تو دین کی بنیاد پر از سرِ نو (روایتی فقہ کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے) نئی فقہ کیوں تخلیق نہیں کی جا سکتی؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ فاضل نقاد اور بقول ان کے عام مسلمان روایتی فقہ کو ہی دین سمجھے بیٹھے ہیں۔ اس سلسلے میں جوہر صاحب کا یہ جملہ ’’ مسئلہ روح و جوہر وغیرہ کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ فقہ کے ڈھانچے سے کیسے جان چھڑائی جائے‘‘ ان کے ما فی الضمیر کی چغلی کھا رہا ہے۔ فاضل نقاد کے اس طنزیہ قول ’’لیکن شکر ہے کہ تاریخ نے داخلی روح اور حقیقی جوہر کو ختم کر دیا، اب ہماری ذمہ داری ڈھانچے کی تدفین ہے، کیونکہ یہی ہماری نئی تاریخی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا دینی ذمہ داری سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘ کی ہم تصحیح کیے دیتے ہیں کہ انھیں یہ تاریخی ذمہ داری پوری کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ظاہری ڈھانچے کی تدفین تو عرصہ ہوا ہو چکی ہے۔ ظاہری ڈھانچے سے پیچھا چھڑانے سے ہماری مراد ، درحقیقت اس مجاوری سے گلو خلاصی ہے جو اس ظاہری ڈھانچے کی تدفین کے بعد ہنوز جاری ہے۔

۶۔ جوہر صاحب اپنے چھٹے اعتراض میں، مستشرقین کی آڑ لیتے ہوئے تحریفِ قرآن کی کوشش منسوب کررہے ہیں۔ ذرا دیکھیے تو: 

’’...... اور پھر ’’عمومی عمرانی صورتِ حال‘‘ کا کیا مطلب ہے؟اور قرآن کی چھانٹی اس لیے کی جائے کہ وہ اس چیستاں سے مطابقت لیے ہوئے ہو؟ اور باقی قرآن؟ مصنف لفظی ہیر پھیر سے وہی بات کر رہے ہیں جو مغرب کے جدید دانش ور کھل کر کرتے ہیں کہ قرآن کی از سر نو editing ہونی چاہیے۔ ........ نقاب پوش نظریاتی مہرے بھی قرآن مجید کی تدوین جدید کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جس طرح شارع نے چھانٹی شدہ تاریخ کو قرآن بنا دیا اس طرح امت مسلمہ چھانٹی شدہ قرآن کو ایک بار پھر تاریخ بنا دے۔......... یہاں غور طلب یہ بات ہے کہ اگر قرآن چھانٹی[جس کے لیے جدید لفظ editing ہے۔ نہ جانے مصنف اس سے کیوں احتراز کر رہے ہیں] سے نہیں بچ سکتا تو حدیث کی کیا مجال ہے؟‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۳، ۴۵)

جوہر صاحب غالباً تجاہلِ عارفانہ سے کام نہیں لے رہے، اس لیے یقیناً انھیں مغالطہ ہوا ہے۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ نزولی ترتیب کے لحاظ سے دنیا میں قرآن پاک کا ایک بھی مستند نسخہ موجود نہیں ہے اور کبھی موجود نہیں رہا۔ اس لیے اس وقت ہمارے پاس موجود قرآن مجید نزولی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر اللہ رب العزت کو حتمی ترتیب(موجودہ ترتیب) ہی مقصود تھی تو قرآن اسی ترتیب کے مطابق نازل کیوں نہیں کیا گیا؟ یا پھر نزولی ترتیب ہی کو باقی کیوں نہیں رکھا گیا؟کیا یہ سوال اٹھانا جرم ہو گیا؟ اور اس کا مطلب یہ ہو گیا کہ ہم قرآن مجید کی editing کے خواہاں ہیں؟ بھائی میرے! ! ترتیب بدلنے کو اگر آپ editing کا نام دے رہے ہیں تو یہ ہم نے تو نہیں کی، البتہ اس میں مضمر حکمت تلاش کرنے کی طالب علمانہ کوشش ضرور کی ہے، جو آپ جیسوں کے نزدیک جسارت ٹھہر گئی ہے۔ اس جسارت پر پھر سے ایک نظر ڈالیے اور ہمارے مضمون کے باقی ماندہ مندرجات ذہن میں رکھتے ہوئے ہماری راہنمائی فرمائیے کہ ہم کہاں editing کے مرتکب ہوئے ہیں: 

’’اس بحث کا ایک قابلِ اعتنا پہلو یہ ہے کہ قرآن مجید کی ترتیبِ نزولی کے بدل دیے جانے پر صورتِ حال بدل جاتی ہے۔ اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیبِ نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔ اب اس مخصوص عمرانی صورتِ حال کی حامل تاریخ میں سے نچوڑی عمل کے ذریعے سے حاصل شدہ تاریخ (gist of history)، جو کسی بھی عمرانی صورتِ حال کے موافق ہو سکے، اصولاً (قرآن کے داخل میں) محفوظ کر لی جانی چاہیے تھی۔ اور اسے محفوظ کر بھی لیا جاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جب تاریخی چھانٹی کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں قرآن مجید کی نزولی ترتیب (مخصوص تاریخی تفصیلات اور علائق و قرائن سے اوپر اٹھ کر) بجائے خود چھانٹی شدہ تاریخ کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ جس سے قرآن کی دو حیثیتیں سامنے آتی ہیں:
۱۔ قرآن مجید کی حتمی ترتیب اس کے چھانٹی شدہ تاریخ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
۲۔ یہی حتمی ترتیب کا حامل قرآن لوحِ محفوظ کی زینت ہے۔
قرآن مجید کی پہلی حیثیت ایک اعتبارسے اس امر کی علامت بن جاتی ہے کہ شارع نے تاریخ کی چھانٹی کا عمل قرآن کے داخل میں کر دکھایا ہے، اس لیے قرآن سے باہر خارج (روایات و احادیث وغیرہ) میں بھی تاریخی چھانٹی کا اطلاق، خود انسانوں کو کرنا چاہیے۔‘‘ (الشریعہ ستمبر۲۰۱۲:ص۴۹) 

جوہر صاحب کے درج ذیل اعتراض سے ان کا منشا سامنے آ جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

’’اسلام کی نئی تعریف اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسلام بطور دین کے ہر پہلو کو ازسر نو متعین نہ کر لیا جائے۔ اس کامقصد کسی دینی غایت تک پہنچنا نہیں ہے بلکہ عصری طاقت اور علم کے سامنے معافی تلافی کر کے جان بخشی کرانا ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۳)

ہم گزارش کریں گے کہ اسلام کی نئی تعریف کے لیے اسلام بطور دین کے ہر پہلو کا از سرِ نو تعین بالکل ضروری نہیں ہے، لیکن ان پہلوؤں کا ازسرِ نو تعین انتہائی ناگزیر ہے جو قرآن و سنت کے علاوہ ہیں۔ مسئلہ وہی ہے کہ ہمارے فاضل نقاد قرآن و سنت کے علاوہ باقی ماندہ دینی روایت کو بھی اسی طرح حالتِ استقلال میں دیکھنے کے آرزو مند ہیں جو استقلال قرآن و سنت کو حاصل ہے۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ جب قرآن مجید ایمان والوں سے ایمان لانے کو کہتا ہے اور ایمان میں زیادتی (اضافے) کی بات کرتا ہے تو قرآن و سنت پر ایمان کی ایک موجود حالت کو از سرِ نو دیکھے بغیر کسی نئی اور اعلیٰ حالت تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟ ہمارے فاضل نقاد کیوں کہ standard disciplines and discourses کے حصار میں ہیں اس لیے انھیں ایمان میں اضافے کا یہ عمل قرآن و سنت کا از سرِ نو تعین دکھائی دیتا ہے۔ اگر موصوف کسی طور اس حصار کو توڑنے میں کام یاب ہو جائیں تو انھیں وہ دینی غایت بھی نظر آ جائے گی جس کا سوال جناب نے مذکور جملے میں اٹھایا ہے اور عصری طاقت و علم کے سامنے معافی تلافی کی نوبت بالکل نہیں آئے گی۔ 

۷۔ ساتویں اعتراض میں، اسلام کی نئی تعریف (کی تلاش کی کوشش) کو مہم جوئی گردانتے ہوئے جوہر صاحب ایک اوچھا وار کرتے ہیں:

’’(اسلام کی نئی تعریف کی)اس مہم جوئی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت و مقام کو نہایت غیر محسوس طریقے سے تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ اسوہ کا نیا مفہوم ملاحظہ ہو:
’’مذکورہ بحث کے بین السطور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت کے ’’اسوہ کامل‘‘ ہونے کا ایک درخشندہ پہلو، اپنے دور کی سماجی صورتِ حال اور اس سے منسلک مطالبوں کے مکمل ادارک پر محیط ہے۔‘‘

ذرا دیکھیے کہ مصنف نے ’’درخشندگی‘‘ کہاں ارزانی فرمائی ہے! اور پھر اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۳)

ہمارے ممدوح نے درخشندگی ، ارزانی فرمانے کا طنز تو کر دیا ہے، چلیے طنز کے بعد سہی!! لیکن ایک بار پھر اسے پڑھنے کی زحمت کر لیتے تو انھیں بخوبی علم ہو جاتا کہ ’’ایک درخشندہ پہلو‘‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ درخشندگی کی جس ارزانی کی طرف جناب نے توجہ دلائی ہے وہ بہت عجیب و غریب ہے اور کم از کم ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ کیا موصوف یہ باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ وہ عظیم ہستی (صلی اللہ علیہ وسلم) جو ہر دور کے انسانوں کے لیے اسوہ کامل کی حیثیت رکھتی ہے، اس عظیم ہستی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے دور کے سماج اور سماجی متقضیات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی؟ جوہر صاحب کا ’’اور پھر‘‘ علمی مباحث کی تاریخ میں یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ اس ’’اور پھر‘‘ کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نہ تو نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کا تعلق زمان و مکان سے تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کا نزول کسی زمان و مکان میں ہوا۔ موصوف کی منطق مان لی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا مکی و مدنی دور، غزوات، معاہدات، وغیرہ وغیرہ تاریخ میں نہ ہونے کے سبب (نعوذ باللہ) مفروضہ قرار پاتے ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ جوہر صاحب سے ہاتھ جوڑ کر مودبانہ گزارش ہے کہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کو دیو مالائی داستان نہ بنائیں، ...... کہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام تاریخی حقیقت ہیں، انھیں تاریخی حقیقت ہی رہنے دیں۔ جہاں تک ہمارے جملے ’’اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’تاریخ‘ کی ہو جاتی ہے‘‘ کی معنویت کا تعلق ہے، جوہر صاحب مفروضات کے جوہڑ سے باہر نکل آئیں تو وہ ان پر خود بخود عیاں ہو جائے گی۔ 

۸۔ درج ذیل آٹھویں اعتراض میں محمد دین صاحب جوہر ایک لفظ ’’مطابقت‘‘ کی بابت اشکال کا شکار ہوئے ہیں: 

’’خدا خیر کرے۔ نچوڑی ہوئی یا غیر نچوڑی ہوئی، چھانٹی شدہ یا غیر چھانٹی شدہ تاریخ ہمیشہ اپنے جواز کے لیے ’’کسی عمرانی صورتِ حال‘‘ سے ’’مطابقت‘‘ کی بھیک ہی مانگتی ہے، ورنہ وہ تاریخ ہونے کے شرف سے سرفراز نہیں ہو سکتی۔ اللہ قرآن کو اس انجام سے محفوظ رکھے۔ قرآن مجید تاریخی اور عمرانی صورتِ حال پیدا کرتاہے، اس سے مطابقت تلاش نہیں کرتا۔ اگر مصنف اس مطابقت کی کچھ علمی تفصیلات بھی ارشاد فرما دیتے کہ متن قرآن اور صورتِ حال میں یہ کیسے اور کن شرائط پر قائم ہوتی ہے تو ان کا نظریہ واضح ہو جاتا۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۳)

محترم سے گزارش ہے کہ اگر قرآن تاریخی اور عمرانی صورتِ حال پیدا کرتا ہے تو پھر لازمی طور پر مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی کا ذمہ دار قرآن مجید ہی کو قرار دیا جانا چاہیے، ....... کہ وہی اس تاریخی و عمرانی صورتِ حال کو پیدا کر رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن مجید پر ایک بہتان ہے۔ اس لیے جب ہم قرآن مجید کی عمرانی فعلیت یا عمرانی صورتِ حال سے مطابقت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد درحقیقت یہ ہے کہ عمرانی صورتِ حال کو کما حقہ سمجھا جائے، اس کے بعد مسائل کے موافق محکم قرآنی آیات سے استدلال کیاجائے، جس کے نتیجے میں وہ تاریخی و عمرانی صورتِ حال پیدا ہو گی جس کی طرف فاضل نقاد نے اشارہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ عمرانی صورتِ حال تغٖیر پذیر رہتی ہے، اس لیے اس پر ہر وقت نظر رکھے جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور قابلِ فہم بنانے کی بھی۔ اس کے بر عکس قرآن مجید ایک نا قابلِ تغیر حقیقت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج ہماری کچھ کچھ (ذہنی نہیں، وجودی) نظر قرآن مجید پر تو ہے لیکن عصری عمرانی صورتِ حال ہماری گرفت سے کوسوں دور ہے۔ اسی لیے قرآن مجید تاریخی و عمرانی صورتِ حال پیدا نہیں کر رہا(بلکہ اس کا شکار ہو رہا ہے)۔ 

۹۔ محمد دین صاحب جوہر، معاشرے میں رائج فہمِ اسلام کے دفاع میں بہت سنجیدگی سے مورچہ زن ہیں۔ موصوف اپنے نویں اعتراض میں فرماتے ہیں: 

’’انبیا علیہم السلام کی بعثت کے بارے میں نیا عقیدہ ملاحظہ فرمائیں:
’’یعنی بنیادی طور پر صفاتِ امانت و دیانت کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کا حق دار ٹھہرایا گیا اور قرآن کو پردہ غیب سے ظہور میں لایا گیا۔‘‘

نبی کی بعث کے اس نئے تاریخی معیار کے مضمرات سے مصنف خود ہی ڈر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ’’عام انسانوں کے لیے امانت و دیانت کی اس سطح تک پہنچنا محال ہے۔‘‘ یہ بھی فرما دیتے کہ ان کے تاریخی نظریے کے مطابق کیوں محال ہے؟ ’’ اس لیے عام انسان اپنی دیانت کے بل بوتے پر پردہ غیب سے تو قرآن ظہور میں نہیں لا سکتے۔‘‘ یہ نہیں بتایا کہ کیوں نہیں لا سکتے؟........ ہو سکتا ہے کسی نئے قرآن کی سبیل ممکن ہو جاتی اور سارا ٹنٹا ہی نکل جاتا،...... اس نئی تعریف کی کوشش میں اکابرینِ امت اور علمائے کرام کی عزت بھی جاتی رہی جن پر طعن اس پورے مضمون میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۴)

ہم قطعی طور پر کسی ڈر الجھاؤ کا شکار نہیں ہیں لیکن خود فاضل نقاد اپنی تحریر کے بین السطور کہیں بشریت انبیا سے انکاری معلوم ہوتے ہیں کہ ان (انبیا ؑ )کی انسانوں میں تاریخی موجودگی پر بے معنی حیل و حجت کرتے ہیں اور کہیں عام انسانوں کو مقامِ نبوت پر کمندیں ڈالتے دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ حالاں کہ بہت صاف اور واضح بات ہے کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم صرف نور نہیں بلکہ بشر بھی ہیں۔ جب کہ عام انسان بشر ہونے کے سبب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے توسط سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامِ نور کا عرفان حاصل کرتے ہیں، خود نور نہیں ہو سکتے۔ واقعہ یہ ہے کہ فاضل نقاد کو اصل دکھ، اکابرینِ امت اور علمائے کرام کی عزت کی پامالی کا ہے جو بقول ان کے ہمارے مضمون میں جا بجا بکھری ہوئی ہے۔ ہم عرض کریں گے موصوف اپنے مضمون کے بین السطور، اکابرینِ امت کو جس مقام پر سرفراز کرنا چاہ رہے ہیں وہ ہمارے نزدیک اس لیے قابلِ گرفت ہے کہ قرآن مجید نے تاریخی واقعات کے بیان کے ضمن میں کئی انبیا کرام علیہم السلام کے نام تک نہیں لیے۔ جس کے پیچھے (ہمارے نزدیک) حکمت یہ پوشیدہ ہے کہ تاریخ کی تمام تر تفصیلات کا جاننا اور ان سے استفادہ کرنا ہر دور کے انسانوں کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اسی حکمت کی اتباع میں ہم نے گزارش کی تھی کہ ہمیں بھی اپنی تاریخ کے اکابرین (اور مقابرین) کی چھانٹی کر لینی چاہیے۔ اس چھانٹی سے ان کی عزت و عصمت پر کوئی حرف نہیں آئے گا کہ قرآن مجید میں جن انبیا کے نام بھی نہیں آئے ان کی رسالت، وقار، احترام اور تکریم میں ذراہ برابر فرق نہیں آیا۔ پھر جس طرح اکابر (اور مقابر) پرستی کے جنون میں مبتلا ہو کر ہم خوامخواہ کی تاریخی جزئیات میں الجھ گئے ہیں، اس سلسلے میں بھی قصص القرآن کے اسالیب ہماری راہنمائی کرتے ہیں ....... کہ انبیا کرام علیھم السلام کے مذکور قصوں میں ان کی زندگیوں کی تمام تر تفصیلات کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ اب اگر ہم نے یہ کہہ دیا کہ اس قرآنی اسلوب سے سیکھا جاناچاہیے تو کیا یہ کہنا جرم ہو گیا؟

۱۰۔ جوہر صاحب دسویں اعتراض میں فرماتے ہیں:

’’نفاذ، اطلاق، تطبیق وغیرہ کی دل دادگی بری نہیں، لیکن قرآن کو خلاصہ تاریخ کہہ کر اس کو عمرانی نظریہ قرار دینا بہت سنگین طور پر محل نظر ہے۔ یہاں یہ امر واضح ہونا چاہیے کہ یہاں تاریخ سے کیا مراد ہے؟ کیا انسان کی معلومہ تاریخ ہے جس کا شارع نے خلاصہ بنایا ہے؟ مستشرقین اور جدید مغرب کے اسکالر تو یہ الزام رکھتے ہیں کہ قرآن توریت اور بائبل کا خلاصہ ہے۔ چلو، اس الزام سے رست گاری کی کوئی سبیل نظر آئی اور اب یہ تاریخ کا خلاصہ ہو گیا۔ لیکن قرآن کے لیے یہ نیا اعزاز تو پرانے الزام سے بھی بدتر ہے۔
’’اس لیے ترتیب نزولی کا حامل قرآن تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یعنی ایک لحاظ سے نزول قرآن کا یہ خاص پہلو صراحت کرتا ہے کہ تاریخ نہیں بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ selected history سے ایک حد تک مدد لے کر عصری مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔‘‘

اس اپروچ کے بعد قرآن کی ضرورت ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاعل کے لیے قرآن اور عصری مسائل اب ایک ہی سطح کی چیز ہیں۔ عصری مسائل تو خود تاریخ کی پیداوار ہیں، اور تاریخی تجربے سے انسان ان کے حل میں لگا رہتا ہے۔ اسے اس کے حال پر چھوڑنے میں کیا مضائقہ ہے؟ اگر حق اور تاریخی تجربہ ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں تو ہمیں اپنے دین کی خیر منانی چاہیے۔‘‘(الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۵)

فاضل نقاد کبھی قرآن کی editing کا الزام عائد کرتے ہیں اور کبھی قرآن کو خلاصہ تاریخ قراردینے کی بات ہمارے سر منڈھ دیتے ہیں۔ محترم کے اس نوع کے اعتراضات سے، فیضؔ یاد آ گئے:

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا 
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے

محترم!! قرآن کو خلاصہ تاریخ کہاں کہا گیا ہے؟ کیا محترم کے نزدیک ’’تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں‘‘ اور ’’خلاصہ قرآن‘‘ کہنے میں کوئی فرق نہیں ہے؟ جوہر صاحب کی نیک نیتی پر کوئی شک کیے بغیر عرض کیے دیتے ہیں کہ غالباً وہ ’’چھانٹی شدہ تاریخ(selected history)‘‘ کے الفاظ سے اشکال کا شکار ہوئے ہیں۔ ذرا ہمارے مضمون کے الفاظ دیکھیے ’’ترتیبِ نزولی کا حامل قرآن تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے‘‘ اور اب بتایے کہ جب قرآن مجید نازل ہو رہا تھا تو کیا ما قبل تاریخ میں سے چنیدہ واقعات پیش نہیں کر رہا تھا؟ آخر قصص القرآن کس زمرے میں آتے ہیں؟ چلیے، تفہیم و ابلاغ کی خاطر یوں کہے دیتے ہیں کہ’’ترتیب نزولی کا حامل قرآن قصص القرآن کے جلو میں عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ اگر فاضل نقاد قصص القرآن کی ایسی معنویت سے انکاری ہیں تو ان کے نزدیک یہ بچوں کو سنانے کے لیے محض قصے کہانیاں ہیں۔ پھر ہم نے کہا تھا کہ ’’یعنی ایک لحاظ سے نزول قرآن کا یہ خاص پہلو صراحت کرتا ہے کہ تاریخ نہیں بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ selected history سے ایک حد تک مدد لے کر عصری مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔‘‘ ان الفاظ پر بھی غور کرنے کی زحمت کر لی جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ تاریخ کی بات نہیں ہو رہی بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ(بقول محترم نقاد، خلاصہ تاریخ) کی بات ہو رہی ہے جو کہ ما قبل تاریخ کا جوہر ہے، اور پھر اس سے بھی ’’ایک حد تک‘‘ مدد لے عصری مسائل سے نمٹنے کی بات ہو رہی ہے۔ کیا جوہر صاحب یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن کے قصص نے نزولِ قرآن کے دوران میں، مکی مدنی مسائل و معاملات کے حل میں ’’ایک حد تک‘‘ بھی مدد نہیں دی؟ کیا ان کے نزدیک اس اپروچ کے بعد واقعی قرآن کی ضرورت ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے؟

جوہر صاحب نے یہ بھی خوب فرمایا ہے کہ ’’ عصری مسائل تو خود تاریخ کی پیداوار ہیں، اور تاریخی تجربے سے انسان ان کے حل میں لگا رہتا ہے۔ اسے اس کے حال پر چھوڑنے میں کیا مضائقہ ہے؟‘‘۔ بھلے آدمی! مضائقہ ہے۔ کیوں کہ نہ تو عصری مسائل، صریحاً تاریخ کی پیداوار ہیں اور نہ ہی ہر تجربہ ’’تاریخی تجربہ‘‘ بن پاتا ہے۔ قرآن مجید نے قصص القرآن وغیرہ کے ضمن میں، کسی تجربے کے تاریخی تجربے میں ڈھلنے کی شرائط و خصوصیات بیان کر دی ہیں۔ اس لیے جوہر صاحب کو اپنے دین کی خیر منانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کہ تاریخی تجربے کی قرآنی معنویت سے حق اور تاریخی تجربہ تقریباً ایک ہی سطح کی چیزیں ہو جاتی ہیں۔ 

۱۱۔ محمد دین صاحب جوہر کا گیارہواں اعتراض ملاحظہ کیجیے:

’’مغرب میں ظاہر ہونے والا جدید شعور استعمار آفریدہ جدید شعور کا پدری شعور ہے۔ ’پتا پہ گھوڑا‘ کے مصداق یہ دیسی جدید شعور اس کے کچھ ثقافتی خواص کا حامل ضرور ہے لیکن اس کا وارث شعور نہیں ہے۔ یہ شعور کسی ایسے مسئلے سے نبرد آزما ہی نہیں ہوا جس کا سامنا تہذیب مغرب میں ظاہر ہونے والے جدید شعور کو ہوا۔ ....... reason اس وقت تک اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکتی جب تک انسانی شعور کی یہ طلب (intellect) پوری نہ ہو جائے۔ یہ طلب وہ خدا سے پوری کرے یا کسی بت سے، اس کے بغیر وہ اپنے کام کا آغاز کر ہی نہیں سکتا۔ ..... جدید شعور ماورا کے سوال ہی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۶)

جوہر صاحب ایک ہی سانس میں کئی متضاد باتیں ارشاد فرما رہے ہیں۔ ایک طرف ’’استعمار آفریدہ جدید شعور‘‘ کو مغرب میں ظاہر ہونے والے جدید شعور کے کچھ ثقافتی خواص کا حامل قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف ’پتا پہ گھوڑا‘ کے مصداق اصرار کرتے ہیں کہ استعمار آفریدہ جدید دیسی شعور کو کسی بھی ایسے مسئلے سے نبرد آما نہیں ہونا پڑا، جس کا سامنا تہذیب مغرب میں ظاہر ہونے والے جدید شعور کو ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دیسی شعور میں جدید مغربی شعور کے کچھ ثقافتی خواص کیسے در آئے؟ ظاہر ہے ’’کچھ ثقافتی خواص‘‘ لازمی طور پر اپنے پیچھے ’’کچھ مماثل مسائل‘‘ بھی رکھتے ہوں گے؟ کیا خیال ہے؟ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ عالم گیریت کی موجودہ فضا میں ’’کچھ ثقافتی خواص‘‘ اب زیادہ دیر تک ’’کچھ‘‘ نہیں رہیں گے اس لیے مماثل مسائل بھی ’’کچھ‘‘ کی تنگ نائے عبور کر لیں گے۔ رہی یہ بات کہ مغربی شعور intellect کی فطری طلب، بتوں سے پوری کر رہا ہے تو خیر سے ’’قدیم دیسی شعور‘‘ بھی تو بتوں سے ہی امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ قدیم دیسی شعور کے پروردہ معاشرے میں بد دیانتی اور بے حیائی کا جو طوفانِ بد تمیزی برپا ہے کیا یہ ثابت کرنے کو کافی نہیں کہ اس کے ہاں ’’ماورا‘‘ کا سوال عملی طور پر گول ہو چکا ہے؟ 

۱۲۔ جوہر صاحب کا بارہواں اعتراض:

’’اس تناظر کا دعوی ہے کہ مذہب بھی تاریخ اور ثقافتی حالات یعنی صورتِ حال ہی کی پیداوار ہے، ماورا وغیرہ سب لغویات اور توہمات ہیں۔ دیسی اور کم جرات آزما جدید شعور کے نزدیک ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ [تاریخی] صورتِ حال موجود نہ ہوتی تو قرآن مجید کا نزول نہ ہوتا۔‘‘ (بریکٹ میں لفظ راقم کا اضافہ ہے) نعوذ باللہ، اگر اللہ بھی اس تاریخ کے سامنے مجبور ہے تو ہماری کیا مجال کہ ہم نچوڑی تاریخ سے رہنمائی حاصل نہ کریں؟‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۶) 

جوہر صاحب کی بریکٹی اضافت سے ان کا منشا واضح ہوا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق تاریخی صورتِ حال، کوئی بہت اہم صورتِ حال ہے جس کی عدم موجودگی میں (بقول ہمارے) قرآن نازل ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن ہماری مراد مخصوص صورتِ حال نہیں تھی (جسے جوہر صاحب تاریخی قرار دے رہے ہیں)، بلکہ اس سے ہماری غرض انسانوں کے باہمی میل ملاپ سے تشکیل پائی (کوئی بھی) معاشرتی صورت حال تھی۔ کیونکہ انسانوں کی غیر موجودگی (معاشرتی صورت حال کی عدم موجودگی) میں نزول قرآن کا جواز نہیں رہتا۔ کیا قرآن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی تصدیق نہیں کرتا؟ کیا قرآن نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک معاشرے (انسانوں) میں موجودگی کے دوران میں نازل نہیں ہوا؟ ....... تو کیا قرآن (شان نزول کے بغیر) مجرد حالت میں نازل ہوا ؟ واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے بتدریج نزول کے پیچھے بھی یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ یہ ایک زندہ (تغیر پذیر) معاشرتی صورت حال کو address کرتے ہوئے ۲۳ برسوں کے دوران میں نازل ہوا۔ اس لیے جوہر صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تاریخ کے سامنے مجبور نہیں ہے لیکن اس کی حکمتِ بالغہ، انسانی صورتِ حال کاپورا لحاظ رکھتی ہے،....... کہ قرآن، بنیادی طور پر انسانوں کی ہدایت کے لیے ہی نازل کیا گیا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کو تاریخ کے سامنے طاقت ور دکھلانے کے لیے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو تاریخ کے مقابل طاقت ور دکھانا ہی مقصد ہوتا تو نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت نہ کرنی پڑتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب کی جماعت کھڑی نہ کرتے، بدر و خیبر کے معرکے برپا نہ کرتے۔ مسلمانوں کو غزوہ احد میں عارضی شکست نہ ہوتی، ان کا اتنا جانی نقصان نہ ہوتا، جنگ جمل نہ ہوتی، جنگ صفین سے بچاؤ کی کوئی صورت نکل آتی، اور واقعہ کربلا ہر گز رونما نہ ہوتا۔ 

اسی نکتے کے ضمن میں فاضل نقاد کا کہنا ہے :

’’ہم بات کو غلط رنگ نہیں دیتے، لیکن اب تو صاف ظاہر ہے کہ ’’متن قرآن سے کہیں بڑھ کر صورت حال اہم ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی تاریخ کی اہمیت اول ہے، وحی کی حیثیت ثانوی ہے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۶) 

جوہر صاحب کا فرمایا ہوا چونکہ مستند ہے اس لیے وہ بات کو غلط رنگ تو بالکل نہیں دے رہے، البتہ اول و ثانی کے الفاظ سے سنسنی ضرور پیدا کر رہے ہیں۔ محترم کی خدمت میں عرض ہے کہ قرآن جب یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت کبھی نہیں بدلی جو آپ اپنی حالت نہیں بدلتے، اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ اپنی حالت نہ بدلنا، ایک صورت حال ظاہر نہیں کرتا؟ تو کیا یہاں [نعوذ باللہ] اللہ تعالیٰ مجبور و بے بس ہے؟ 

جوہر صاحب رقم طراز ہیں:

’’پھر وہ فرماتے ہیں کہ ’’متن قرآن نہیں، بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے‘‘ سماجی صورت حال کو تبدیل کر دیا۔یہاں متن قرآن کی تفہیم غیر اہم ہو گئی۔ اہم تر یہ ہے کہ قرآن بھی اپنی معنویت ’’صورتِ حال کی مبنی بر صداقت تفہیم‘‘ سے اخذ کرتا ہے جو اس وقت کا شعور اپنی صلاحیت سے تاریخ سے نچوڑتا ہے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۶)

فاضل نقاد سے گزارش ہے کہ اگر متن سے سماجی صورتِ حال میں بدلاؤ سبھاؤ آ جاتا ہے تو فی زمانہ متن تو موجود ہے، آخر تبدیلی کیوں رونما نہیں ہو رہی؟ کیا گڑبڑ (نعوذ باللہ) متن میں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی متن کا فی نفسہٖ فہم کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے لیکن صورتِ حال سے میل نہ کھانے کے باعث یہ فہم، مطلوب سماجی صورتِ حال پیدا نہیں کر رہا۔ اس لیے ’’صورتِ حال کی واقعیت‘‘ پر بہت گہری نظر ناگزیر ہو جاتی ہے تاکہ متن کا فہم نہ صرف بجائے خود نئی معنویت سمیت جلوہ گر ہو بلکہ نئی عمرانی صورتِ حال کی راہ بھی ہم وار کر سکے۔ 

اس نکتے کے ذیل میں جوہر صاحب نے عارفانہ طرزِ تکلم اختیار کیا ہے، ملاحظہ کیجیے:

’’........ صورتِ حال انسان کا مسئلہ ہے، وحی کامسئلہ نہیں ہے۔ جس طرح صورتِ حال انسان کو روند ڈالتی ہے، اسی طرح وحی اللہ کے رسول میں مجسم ہو کر تاریخی صورتِ حال کو ادھیڑ دیتی ہے اور نتیجتاً پیدا ہونے والی صورتِ حال ہرگز ہرگز مکرر ہرگز تاریخی نہیں ہوتی کیونکہ اس کی پیدائش کے اسباب تاریخی نہیں ہوتے، ماورائی ہوتے ہیں۔ اگر وحی متن بن رہی ہے تو ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں مجسم قرآن بن کر ارضی نمود میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ اپنی صورتِ حال کا کشکول لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے۔ ........۔ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۷)

جوہر صاحب اس تضاد بیانی کی وضاحت فرما دیں کہ اگر صورتِ حال وحی کامسئلہ نہیں ہے تو پھر وحی اللہ کے رسول میں مجسم ہو کر تاریخی صورتِ حال کو ’’کیوں‘‘ ادھیڑ دیتی ہے؟ کوئی اور کام کیوں نہیں کرتی؟ رہی بات نتیجتاً پیدا ہونے والی تاریخی صور تِ حال کی؟؟ تو ان معنوں میں ہم نے کہیں بھی اسے تاریخی نہیں کہا، جو معانی جوہر صاحب اسے پہنا رہے ہیں۔ البتہ ہم نے یہ ضرور عرض کیا تھا کہ قرآن مجید کی نزولی ترتیب کے بدل دیے جانے کے بعد، اسوہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔ 

جوہر صاحب اس داخلی تضاد کی بھی وضاحت فرما دیں کہ وحی متن بن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں مجسم قرآن بن کر ارضی نمود میں ہے تو ایک ہی بار میں مکمل صورت میں نازل کیوں نہیں کر دی گئی؟ (اگر اس کا تعلق صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں مجسم ہو کر ارضی نمود میں ڈھلنے سے ہے)۔ آخر اس میں کیا مضائقہ تھا کہ وحی ایک ہی بار میں مکمل صورت میں نازل کر دی جاتی اور اس کے بعد، تاریخ وقتاً فوقتاً صورتِ حال کے مطابق کشکول لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوتی رہتی؟ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ صورتِ حال وحی کا بھی مسئلہ ہے، اس لیے متن کی تنزیل لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتِ حال کو بھی پیشِ نظر رکھ کر کی گئی۔ تاریخ، صورتِ حال کا کشکول لے کر ایک لمحہ نہیں بلکہ ۲۳ برس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر رہی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذاتی اور بشری حیثیت میں صورتِ حال کا جواب نہیں دیتے رہے بلکہ جو جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا گیا وہی جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے پہنچاتے رہے۔ 

۱۳۔ جوہر صاحب تیرہویں اعتراض میں فرماتے ہیں:

’’یہ کلی تفہیم (۱) صداقت پر مبنی ہونی چاہیے، (۲)غیر جانب دار ہونی چاہیے، (۳)بالائے تعصب ہونی چاہیے، اور(۴)کلی ہونی چاہیے۔ اگر یہ مضمون علمی ہوتا تو مصنف اخلاقی شرائط گنوانے کے بجائے اس تفہیم کی علمی شرائط بیان فرماتے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۸)

جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ علم، اخلاق کے بغیر علمِ محض ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں علمِ محض کے بجائے علمِ نافع کے حصول کی ترغیب دی گئی ہے اور علم، اخلاقی دلالتوں کے بغیر نافع کی سرحدوں میں داخل نہیں ہوتا۔ 

اسی نکتے کے ذیل میں موصوف لکھتے ہیں:

’’پھر ان شرائط کے ساتھ ہونے والی تفہیم تو انسانی نہیں ہو سکتی، (نعوذ باللہ) یہ تو اللہ ہی کر سکتا ہے۔ اور اگر یہ اللہ ہی نے کرنی ہے تو اسے تو کسی تفہیم کی ضرورت نہیں ہے، اگر ہے تو پھر وہ اللہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۸) 

جوہر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ نزول کے وقت (اول درجے میں) یہ خدائی تفہیم ہی تھی۔ انھیں یہ اشکال، وجودی باری تعالیٰ کے صرف تنزیہی پہلو کو پیشِ نظر رکھنے سے ہوا ہے۔ تنزیہی پہلو اپنی انتہا میں (ذاتِ باری تعالیٰ کے ماسوا) جملہ حیات کے ساتھ خدائی تعلق کی نفی کرتا ہے، جس کی وجہ سے انسانی معاملات سے ’’ایک لاتعلق خدا‘‘ کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ذاتِ باری تعالیٰ کی ایسی پہچان، جو انسان اور خدا میں قرب و تعلق پیدا کر سکے، تشبیہی پہلو کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر جوہر صاحب تنزیہ و تشبیہ کے امتزاج سے زیرِ بحث نکتے پر غور فرمائیں تو ان کا اشکال دور ہو جائے گا۔

فاضل نقاد نے اپنے تئیں بات کو قابلِ فہم بنانے کی غرض سے فرمایا ہے:

’’...... دوسرے فقرے میں صرف دو لفظی تصرف سے بات مزید صاف ہو جاتی ہے:’’اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورتِ حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو قرآن پاک کی وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورتِ حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ یہ اصل فقرہ ہے۔ اب دو لفظ تبدیل کرنے سے اصل بات سامنے آ جاتی ہے:’’اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورتِ حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو [اور] قرآن پاک [کو]وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورتِ حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ مسئلہ صرف یہ ہے کہ تاریخ کو وحی پر اور ذہن کو متن قرآن پر غالب رکھا جائے۔ یہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ سب لفظی کھینچ اور معنوی تان صرف اسی لیے ہے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۸)

اس دو لفظی تصرف پر ہم بس یہی عرض کریں گے کہ جوہر صاحب نے ’’اور،کو‘‘ سے وہ کام لیا ہے جو کسی صاحب نے ایک نقطے سے لیا تھا اور محرم کو مجرم بنا ڈالا تھا۔ 

۱۴۔ محمد دین جوہر چودہویں اعتراض میں کہتے ہیں:

’’..... اس سارے کھلواڑ کی ضرورت آخر کیوں پڑتی ہے؟ غایت یہ ہے کہ مثلاً دیانت، امانت اور حیا جیسی اصطلاحات کی دینی معنویت کو anestheize اس لیے کیا گیا تاکہ اصل مقصد حاصل ہو سکے جو یہ ہے کہ:
’’سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حیا کے مذکور معنی میں وہ لوگ[یعنی اہلِ مغرب] با حیا نہیں ہیں؟ اور نتیجتاً دیانت دار نہیں ہیں؟‘‘
....... مطلب یہ ہے کہ ’مذکور معنی‘ میں یہی لوگ باحیا اور دیانت دار ہیں، کیونکہ مذکور معنی کی تلاش اسی مقصد ہی کے لیے تھی۔ اور ’مذکورمعنی‘ میں بیچارے مسلمان تو ہیں ہی بے حیا، بد دیانت اور ......۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۹)

جوہر صاحب کی آدھی بات درست ہے۔ جی ہاں! مذکور معنی میں مسلمان بے حیا اور بد دیانت ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے مضمون میں ایک دو مثالیں بھی پیش کی تھیں، لیکن جوہر صاحب پھر بھی ’مذکور معنی‘ کے بجائے ’اپنے معنی‘ پہناتے ہوئے بات کو غلط رخ پر لے گئے ہیں۔ جہاں تک دینی اصطلاحات کے استعمال کے پیچھے چھپے ’’اصل مقصد‘‘ کا تعلق ہے، تو موصوف اس لیے الزام لگانے سے نہیں بچ سکے کہ standard disciplines and discourses میں ہی ہر بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

فاضل نقاد نہایت درد مندی سے رقم طراز ہیں:

’’وحی کی ہدایت کا فوکس اور مخاطب غالب طور پر انفس انسانی ہے۔ نظری علوم ہر تہذیب کے بنیادی اور اساسی تصور حیات کے ملازم ہوتے ہیں۔ ...... نظری علوم کی عدم موجودگی میں ہم اپنے تاریخی تجربے اور روز کے مشاہدے کی درست تعبیر پر بھی قادر نہیں رہے۔ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ اسلام مغرب سے تہذیبی عینیت اور وجودی مفاہمت پیدا کر چکا ہے اور ہم اپنی مزاحمت کو اپنے انفس میں بھی جاری رکھنے کے وسائل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس منظر نامے میں ضروری ہے کہ دین کا نئے علوم کی رو سے معائنہ کرنے سے پہلے دین کی رو سے نئے علوم کا محاکمہ کیا جائے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۵۰)

جوہر صاحب ذرا غور فرما لیں کہ جہاں وحی کو چوم چاٹ کے بہت احترام سے الگ رکھ دینے کا رواج جڑ پکڑ لے، کیا وہاں کوئی ایسی دینی روح موجود ہو سکتی ہے جس کے توسط سے نئے علوم کا محاکمہ کیا جا سکے؟ جناب کے فرمان:’’ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ اسلام مغرب سے تہذیبی عینیت اور وجودی مفاہمت پیدا کر چکا ہے اور ہم اپنی مزاحمت کو اپنے انفس میں بھی جاری رکھنے کے وسائل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ کا کیا مطلب برآمد ہوتا ہے؟ اگر وحی کی ہدایت کا فوکس غالب طور پر انفس انسانی ہے ،...... تو پھر وحی تو موجود ہے، اس کی موجودگی میں کن وسائل سے محروم ہوا جا رہا ہے؟ کیا جناب کا یہ نکتہ سابقہ نکات کی نفی نہیں کر رہا؟

اپنے تنقیدی مضمون کے آخری پیراگراف میں جوہر صاحب نے بعض مباحث کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ان مباحث کے سرسری جائزے کے لیے بھی کئی صفحات درکار ہیں۔ ان کی اہمیت کے باوجود ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ سرِ دست ان کا تفصیلی تجزیہ پیش کر سکیں۔ آخر میں ہم جوہر صاحب کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ہمارے مضمون پر بے لاگ تنقیدی رائے کا اظہار فرمایا۔ ان کے اظہاریے میں دانستہ و نادانستہ کہیں کثافت در بھی آئی ہے تو پھر بھی لطافت لیے ہوئے ہے۔ امید ہے کثافت سے بھر پور اس جوابی اظہاریے کو وہ بھی لطافت پر محمول کریں گے۔

آراء و افکار

(دسمبر ۲۰۱۲ء)

Flag Counter