حدیث و سنت / علوم الحدیث

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل

مولانا سمیع اللہ سعدی

امام ابن ابی حاتم رازی الجرح و التعدیل میں رقم طراز ہیں : شداد بن سعيد أبو طلحة الراسبي روى عن أبي الوازع جابر بن عمرو وغيلان بن جرير وسعيد الجريري روى عنه أبو معشر البراء وحماد بن زيد وابن المبارك وحرمي بن عمارة ومسلم بن إبراهيم وأبو الوليد وسعيد بن سليمان البصري سمعت أبي يقول ذلك. قال أبو محمد وروى عن قتادة ومعاوية بن قرة - ويزيد بن عبد الله بن الشخير روى عنه إسماعيل ابن علية ووكيع وأبو سعيد مولى بني هاشم وحجاج بن نصير والنضر بن شميل۔ حدثنا عبد الرحمن أنا عبد الله ابن أحمد [بن حنبل - فيما كتب إلى قال قال أبي: أبو طلحة شداد شيخ ثقة روى عنه...

مطالعہ جامع ترمذی (۶)

ادارہ

مطیع سید:حضرت عائشہ سے روایت آتی ہے کہ آپ ﷺ کی وفات سے پہلے تمام عورتیں آپ کے لیے حلال کر دی گئی تھیں۔ (کتاب التفسیر، ومن سورۃ الاحزاب، حدیث نمبر ۳۲۱۶) قرآنِ حکیم میں ایک مقام پر آپ ﷺ کو منع کیا گیا ہے کہ اب آپ مزید کسی سے شادی نہیں کر سکتے، چاہے کوئی عورت آپ کو کتنی ہی بھا جائے ۔ کیا اس روایت میں اس پابندی کو ختم کرنے کا ذکر ہے؟ عمار ناصر: یہ کافی غور طلب روایت ہے۔ سورہ احزاب میں لا یحل لک النساء من بعد (آیت ۵۲) کے جو الفاظ ہیں، ان کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پچھلی آیت میں خواتین کی جن تین چار قسموں سے نکاح کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال...

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۴)

مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعی سنی رجالی تراث ،چند تقابلی ملاحظات۔ 1۔ہر دو مکاتب کے موجود رجالی تراث کی انواع و اقسام سامنے آگئیں ہیں ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کا علم رجال کتنا ایڈوانس اور کتنا جامع و وسیع ہے ، اہل سنت محدثین نے علم رجال کو 32 اعتبارات و زاویوں سے مدون کیا ،جبکہ اہل تشیع نے صرف 10 اعتبارات کے اعتبار سے کتب لکھیں ،ان میں بھی کتب رجال پر حواشی کو مستقل صنف شمار کیا گیا ہے ،جو ظاہر ہے الگ درجہ بندی میں نہیں آتیں اور مصنفین کی فہرست کو بھی رجالی کتب گنا گیا ہے ،حالانکہ علم رجال حدیث اور مصنفین کی فہرست دونوں الگ الگ دائروں سے متعلق ہیں...

مطالعہ جامع ترمذی (۵)

ادارہ

مطیع سید:حضرت سودہ نے حضرت عائشہ کو اپنی باری کا دن دے دیا ،کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں طلاق دے دیں گے۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ النساء، حدیث نمبر ۳۰۴۰) تو آپ ﷺ انہیں کیوں طلاق دینا چاہ رہے تھے ؟ ایسی کیا وجہ تھی؟ عمار ناصر: یہ واقعہ روایتوں میں مختلف انداز سے بیان ہوا ہے۔ بعض میں ہے کہ جب حضرت سودہ عمر رسیدہ ہو گئیں تو انھوں نے خود ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے اب تعلق زن وشو کی حاجت نہیں تو آپ میری باری کا دن بھی عائشہ کے پاس قیام فرما لیا کریں۔ بعض میں یہ ہے کہ ان کی کبر سنی کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ...

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۳)

مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعی رجالی تراث ،انواع و اقسام۔ شیعی علم رجال کا انواع و اقسام کے اعتبار سے جائزہ ایک کٹھن کام ہے ،ان سطور کا راقم یہ لکھنے پر مجبور ہے کہ بلا مبالغہ کئی دن تک سینکڑوں صفحات اور ویب پیجز کھنگالنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ شیعی علم رجال ایک چیستاں ہے ،جس کو کماحقہ سمجھنے کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے ، اولا کتبِ رجال کی درجہ بندی میں حائل مشکلات کا ذکر کیا جاتا ہے ،پھر تتبع و تلاش سے شیعی رجالی تراث کی جو اقسام سامنے آئی ہیں ،ان کا ذکر ہوگا: 1۔شیعی رجالی تراث کی منظم تاریخ ،مرتب تعارف اور کامل ببلو گرافی موجود نہیں ہے ،حیدر حب اللہ نے اپنی...

مطالعہ جامع ترمذی (۴)

ادارہ

مطیع سید : کھڑے ہوکر پانی پینے کے متعلق مختلف اور متضاد روایات آتی ہیں۔ اس میں درست بات کیا ہے؟ عمار ناصر : جی روایات مختلف ہیں۔ بعض میں تو بہت سخت ناپسندیدگی ظاہر کی گئی ہے جو سمجھ میں بھی نہیں آتی۔ مثلا صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر کھڑا ہو کر پانی پینے والے کو پتہ چل جائے کہ اس نے کیا پیا ہے تو وہ قے کردے۔ مطیع سید : حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ایک جگہ پڑھا تھا کہ وہ خاص طورپر کھڑے ہو کر پانی اس لیے پیتے تھے کہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ اس طرح بھی درست ہے۔تو پھر اس کی کیا توجیہ کریں؟ عمار ناصر : احناف کے ہاں یہ رائے ہے کہ آپ...

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

2۔ کتب رجال انواع ا قسام۔ ہر دو مکاتب ِ فکر کے علم رجال کی ابتدائی تاریخ کے تقابل کے بعد دوسری بحث یہ دیکھنے کی ہے کہ دونوں کے ہاں موجود رجالی تراث کا انواع اقسام کے اعتبار سے کیا تقابل بنتا ہے؟اہل علم جانتے ہیں کہ علم رجال کی کتب متنوع اقسام و انواع پر مشتمل ہیں ،جن میں مختلف زاویوں سے رواۃِ حدیث پر بحث کی گئی ہے ، ذیل میں ہم دونوں گروہوں کے علم رجال کی کتب کا اس اعتبار سے ایک جائزہ لیتے ہیں: سنی رجالی تراث :انواع و اقسام۔ اہل سنت کے پاس جو رجالی سرمایہ موجود ہے ،وہ بہت سی انواع پر مشتمل ہے ،ذیل میں ان انواع اور اس کی نمائندہ کتب کا مختصرا...

مطالعہ جامع ترمذی (۳)

ادارہ

مطیع سید : باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (کتاب الدیات، باب ما جاء فی الرجل یقتل ابنہ یقاد منہ ام لا؟، حدیث نمبر ۱۴٠٠) کیا یہ مساوات کے اصول کے خلاف نہیں؟ عمار ناصر: شریعت رشتوں میں تفاوت کی قائل ہے اور اس کی بنیاد پر بہت سے حقوق میں بھی فر ق قائم رکھتی ہے۔ یہ ہم غلط کہہ دیتے ہیں کہ شریعت مطلق مساوات پر مبنی ہے ۔ البتہ مالکیہ اس میں قیاسی طور پر ایک قید شامل کرتے ہیں جو میرے خیال میں قابل غور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اصولا تو یہ ٹھیک ہے کہ باپ کے ہاتھ سے بیٹا مارا گیا تو اس پر وہ حکم نہیں جاری کریں گے جو ایک دوسرے آدمی پر کر سکتے ہیں۔لیکن یہ اس...

مطالعہ جامع ترمذی (۲)

ادارہ

مطیع سید : حرام وحلال نکاح کے درمیان فرق صرف دف اور آواز کا ہے ۔(کتاب النکاح، باب ما جاء فی اعلان النکاح، حدیث نمبر ۱٠۸۸) کیا اس کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شادی بیاہ پر آج کل کا بینڈ باجا بھی درست ہے؟ عمار ناصر: فقہا کا جو عمومی رجحان ہے، وہ تو آپ دیکھیں گے کہ آج کل دف کی بھی اجازت نہیں دیتے۔کہتےہیں کہ مقصد اعلان ہے جو دوسرے طریقوں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔موسیقی کے حوالے سے فقہاکا عمومی رویہ ناپسندیدگی کا ہے۔ مطیع سید : گویا وہ اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کام دف سے آگے نہ بڑھ جائے؟ عمار ناصر : جی، بات بڑھ نہ جائے اور یہ بھی کہ مثلا آپ دف بجا رہے ہیں...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

حدیث کی مقبول و مردود اقسام کے اعتبار سے اہل سنت کے مصطلح الحدیث اور اہل تشیع کے علم الدرایہ کا تقابلی مطالعہ پچھلی دو اقساط میں بالتفصیل بیان ہوا ،اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ اہلسنت کے ہاں مقبول حدیث کے معیارات میں کڑی شرائط بیان کی گئی ہیں ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں اس حوالے سے کافی تساہل سے کام لیا گیا ہے ، اسی طرح مردود حدیث کے سلسلے میں اہل سنت نے جن اقسام کو بیان کیا ہے ،ان کی تطبیق حدیثی ذخیرہ پر بھر پور انداز میں عمل میں لائی گئی ،یہاں تک کہ مردود حدیث کی مختلف اقسام کے مصادر تک کی تعیین کی گئی ہے ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں اہل سنت کی...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

پچھلی قسط میں انواعِ حدیث کے عنوان کے تحت مقبول حدیث اور اس کی اقسام سے متعلق سنی و شیعہ مواقف کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا تھا ،اس قسط میں اسی موضوع کے دوسرے جزو یعنی مردود حدیث کی اقسام کے بارے میں سنی مصطلح الحدیث و شیعہ علم الدرایہ کا تقابلی جائزہ نکات کی شکل میں لیا جائے گا: 1۔اہل سنت کے ہاں ضعیف حدیث کی جملہ اقسام میں ایک منطقی ترتیب ہے ،جس کی تفصیل یہ ہے کہ علمائے اہل سنت ضعیف حدیث کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: پہلی قسم وہ ضعیف حدیث ،جس کا سبب سقط فی السندیعنی سند میں کسی راوی کا سقوط ہو ،پھر سقوط کو بھی دو قسموں میں منقسم کیا...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱٠)

مولانا سمیع اللہ سعدی

2۔مباحث و موضوعات۔ اہلسنت اور اہل تشیع کے علم مصطلح الحدیث کے مباحث،موضوعات کی ترتیب اور اسماء و اصطلاحات کا جائزہ اگر لیا جائے تو حیرت انگیز حد تک مماثلت (بعض جزوی اختلافات کے باوجود ،جن کی تفصیل ہم ان شا اللہ آگے بیان کریں گے )نظر آتی ہے ،یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شیعہ علم حدیث اور سنی علم حدیث اپنے اساسی مفاہیم و مصطلحات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے ،جیسا کہ بحث اول میں ہم اس کو مفصل بیان کر چکے ہیں ،تو پھر علمِ اصولِ حدیث میں موضوعاتی یکسانیت کیونکر پیدا ہوئی؟اس سوال کا جواب خود شیعہ محققین کے ہاں یہ ملتا ہے...

بے اصل فقہی احادیث کی فنی حیثیت اور اصحاب الحدیث کا معتدل اسلوبِ نقد

مولانا محمد عبد اللہ شارق

محدثین کی تخریجات کیا ہیں؟ کسی حدیث کی سند او رحوالہ تلاش کرنے کے عمل کو ”تخریج“ کہتے ہیں۔ اس عمل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ آیا اس حدیث کی کوئی سند ہے بھی یا نہیں، اگر ہے تو وہ کس درجہ کی ہے؟ اس سے حدیث کی فنی پوزیشن واضح ہوجاتی ہے۔ محدثین نے مختلف ادوار میں کئی کتابوں پر مایہ ناز تخریجات لکھیں۔ یہ تخاریج دراصل وہ حواشی ہوتے تھے جو متعلقہ کتاب میں مذکور احادیث کی فنی حیثیت کو واضح کرتے اور مصنف سے کسی بے اصل حدیث کو نقل کرنے میں اگر تساہل ہوگیا تھا تو وہ بھی اس سے واضح ہوجاتا۔ یہ تخریجات محدثین نے خود محدثین کی کتابوں پر بھی لکھیں اور فقہ، تصوف...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۹)

مولانا سمیع اللہ سعدی

بحث دوم : فریقین کے علم اصولِ حدیث کا تقابلی مطالعہ۔ بحثِ اول میں آٹھ اساسی اور بڑے موضوعات کے تحت ان بنیادی مفاہیم و اصطلاحات کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ، جن کی وجہ سے اہل تشیع اور اہل سنت کا حدیثی ذخیرہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہوجاتا ہے ،ان اساسی مفاہیم میں فریقین کے حدیثی ذخیرے کے امتیازات و خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ،تاکہ فریقین کے تراث ِ حدیث کے محاسن و مساوی کا تقابل کیا جاسکے ۔ ان موضوعات کی فہرست یہاں دی جارہی ہے ،تاکہ اقساط کی طوالت کی وجہ سے بحث کی تنقیح اور تسلسل میں جو اخفا رہ گیا ہے ،وہ دور کیا جاسکے ،بحث اول میں ان آٹھ...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ: ایک تقابلی مطالعہ (۸)

مولانا سمیع اللہ سعدی

اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث۔ ان تمام سوالات و ملاحظات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اہل تشیع کے متاخرین نے اہلسنت کے طرز پر مصطلح الحدیث کا جو فن ایجاد کیا ،جو شیعی حلقوں میں علم الدرایۃ کے نام سے موسوم ہے ،وہ متعدد وجوہ سے اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث سے فروتر اور تساہل پر مبنی ہے ،اللہ تعالی اس سلسلے کو مکمل کرنے کی توفیق دے ،اس سلسلے کی ایک بحث میں ہم اہلسنت کے علوم مصطلح الحدیث اور شیعہ متاخرین کے علم درایۃ کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے ، جب تساہل پر مبنی علم الدرایہ کی رو سے الکافی کے دو ثلث ضعیف ہیں ،اگر...

ہدایہ کی بے اصل احادیث اور مناظرانہ افراط وتفریط

مولانا محمد عبد اللہ شارق

تسامحات کی اقسام۔ حدیث وروایت کے معاملہ میں الہدایہ کے مصنف مرغینانی سے جو تسامحات ہوئے ہیں، وہ کئی طرح کے ہیں اور ہمارے علم کے مطابق یہ تسامحات زیادہ نہیں، محض اکا دکا مقامات پر ہوئے: (۱) بعض احادیث کے مضمون میں اضافہ ہوگیا۔ جیسے”ایما صبی حج عشر حج ثم بلغ فعلیہ حجة الاسلام“ یہ حدیث کتبِ حدیث میں موجود ہے، مگر اس میں ”عشر“ کا لفظ نہیں ہے، جس کے ہونے نہ ہونے سے بہرحال معنی اور مفہوم میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا۔(الدرایۃ۔ رقم۳۹۱) (۲)حدیثِ مو قوف کو مرفوع لکھ دیا۔ چنانچہ انہوں نے ایک حدیث ”من ام قوما ....“ کو مرفوع لکھا جوکہ محدثین کے علم کے...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ : ایک تقابلی مطالعہ (۷)

مولانا سمیع اللہ سعدی

نقدِ حدیث کا اصولی منہج ،چند سوالات۔ حدیث کو پرکھنے کے لئے اہل تشیع کے اصولی منہج میں ایک مہیب خلا کا ذکر ہوچکا ہے کہ متقدمین اہل تشیع نے حدیث کی تصحیح و تضعیف کا جو طرز اختیار کیا تھا ،جس میں رواۃ ،قواعد ِجرح و تعدیل ،سند کا اتصال و ارسال جیسے امور کی بجائے اپنے اسلاف سے منقول ذخیرہ اصل بنیاد تھا ،اور اسی منقول ذخیرے کو "صحیح "سمجھتے ہوئے اسے اپنی کتب میں نقل کیا ،(یہی طرز اہل تشیع کے اخباریوں کا تھا )جبکہ ساتویں صدی ہجری اور بعد کے اہل تشیع محدثین نے حدیث کی تصحیح و تضعیف کے سلسلے میں اہل سنت کے طرز کی پیروی اختیار کرتے ہوئے رواۃ اور ان کی...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۶)

مولانا سمیع اللہ سعدی

نقد احادیث کا اصولی منہج۔ اخباری شیعہ کا نقطہ نظر سامنے آنے کے بعد نقدحدیث کے اصولی منہج پر ایک نظر ڈالتے ہیں،اہل تشیع سے جب اخباری شیعہ کے غیر علمی ،غیر منطقی اور محض اعتقاد پر مبنی غیر عقلی موقف کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو سنجیدہ اہل تشیع اصولی منہج کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر اخباری شیعہ نے حدیثی ذخیرے سے متعلق قطعیت کا قول اپنایا ہے،تو اصولیین نے کتب اربعہ سمیت جملہ حدیثی ذخیرے کو قواعد ِجرح و تعدیل پر پرکھنے کی روش اپنائی ہے، اور اس حوالے سے اپنی کتب رجال اور علم درایۃ کی کتب کا ذکر کرتے ہیں ،یوں اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث کی طرح حدیث کو پرکھنے...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ: ایک تقابلی مطالعہ (۵)

مولانا سمیع اللہ سعدی

6۔معیارات ِنقد حدیث۔ اہل تشیع و اہلسنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک بڑا فرق معیارات ِنقد حدیث کا فرق ہے ،اہلسنت کے ہاں مصطلح الحدیث کا ایک منظم و مرتب فن موجود ہے ،جس میں نقد حدیث کے تفصیلی قواعد مذکور ہیں ،حدیث کی اقسام ،راوی کی جرح و تعدیل کے ضوابط ،حدیث سے استدلال کی شرائط ،راویوں کی انواع و اقسام سے متعلق تفصیلات ذکر ہیں ،چنانچہ معروف محقق ڈاکٹر نور الدین عتر نے مصطلح الحدیث کے جملہ فنون کو چھ انواع میں تقسیم کیا ہے : 1۔علوم رواۃ الحدیث یعنی وہ ضوابط جن کا تعلق رواۃ حدیث سے ہیں ۔ 2۔ علوم روایۃ الحدیث ،یعنی وہ فنون و علوم جو حدیث کے تحمل ،ادا...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۴)

مولانا سمیع اللہ سعدی

5۔مخطوطات و نسخ۔ اہل تشیع و اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کے فروق میں سے ایک بڑا فرق کتب ِحدیث کے مخطوطات و نسخ کی تعداد و قدامت کا فرق ہے ،اہل تشیع کے اکثر کتب ِحدیث کے قدیم معتمد نسخ معدوم ہیں ،اسی کمیابی کی وجہ سے ان میں بڑے پیمانے پر تحریفات بھی ہوئی ہیں ،ذیل میں اس حوالے سے چند جید اہل تشیع محققین و علماء کی آرا ذکر کی جاتی ہیں: 1۔معروف شیعہ پیشوا و معتبر عالم سید علی خامنائی اہل تشیع کے کتب رجال کے نسخ و مخطوطات پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "بناء علی ما ذکر الکثیر من خبراء ھذا الفن ان نسخ کتاب الفہرست کاثر الکتب الرجالیۃ القدیمۃ المعتبرۃ الاخری...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۹)

محمد عمار خان ناصر

نصوص کی ظاہری دلالت کے حوالے سے ابن حزم کا رجحان۔ اس بحث میں قرآن مجید کے ظاہری عموم کی دلالت کے حوالے سے ابن حزم کے رجحان کو سمجھنا بھی بہت اہم ہے۔ امام طحاوی کے زاویۂ نگاہ پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے ان کا یہ رجحان واضح کیا ہے کہ وہ احادیث کی روشنی میں کتاب اللہ کے ظاہری مفہوم کی تاویل نہیں کرتے اور آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجاے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہ قائم رکھتے ہیں، جب کہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دیتے یا اگر ناگزیر ہو تو نسخ پر محمول کرتے ہیں۔ اس نوعیت کا رجحان ابن حزم...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۳)

مولانا سمیع اللہ سعدی

تعداد ِروایات۔ اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک بڑا فرق فریقین کے مجموعات ِحدیث میں مدون روایات کی تعداد کا مسئلہ ہے ، اس فرق سے متنوع سوالات جنم لیتے ہیں ،اولا فریقین کے مصادر ِحدیث میں موجود روایات کا ذکر کیا جاتا ہے ، ثانیا اس فرق سے پیدا شدہ بعض اہم نتائج کو سوالات کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ نسخ و طبعات کے فروق کو شامل کرتے ہوئے ہم اس تعداد کو 4000 شمار کر سکتے ہیں ،یوں اہل سنت کی آٹھ کتب میں موجود بلا تکرار و مشترکات کے کل روایات تقریبا 4000 ہیں ،یہی چار ہزار روایات اسانید و تکرار کے ساٹھ باسٹھ ہزار مرویات میں ڈھل جاتی...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعہ حدیثی ذخیرہ قبل از تدوین (تحریری سرمایہ )۔ دوسری طرف قبل از تدوین اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی تحریری شکل و صورت کا مسئلہ بھی (تقریری و تدریسی صورت کی طرح )خفا کے دبیز پردوں میں لپٹا ہے ،یہ سوال بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ تین صدیوں تک ان ہزارہا روایات(صرف کتب اربعہ کی روایات چالیس ہزار سے زائد ہیں) کا مجموعہ کس طرح اور کس شکل میں محفوظ رہا ؟کتب ِاربعہ کے مصنفین نے جمع روایات میں کن ماخذ و مصادر پر اعتماد کیا ؟ اہل سنت میں صرف ایک صدی کے اندر ساڑھے چار سو مجموعات ِحدیث مرتب ہوتے ہیں ،تو اہل تشیع کے ہاں تین صدیوں میں کتنے مجموعے مرتب ہوئے...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

اہل تشیع (خاص طور پر اثنا عشریہ )اسلامی تاریخ کا واحد گروہ ہے ،جنہوں نے اہل سنت کے مقابلے میں جداگانہ، ممتاز اور لاکھوں روایات پر مشتمل اپنا علم حدیث ترتیب دیا ہے ،جو بعض اعتبارات سے اہل سنت کے حدیثی ذخیرے سے بالکل الگ تھلگ ہے ، اہل تشیع نے احادیث ،موضوعات ، کتب کی ابواب بندی ،مضامین ،مفاہیم، اصطلاحات ،رواۃ ،اصول و قواعد سب اپنے ترتیب دیے۔اس مقالے میں اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جائے گا ، اس جائزے کا مقصد فریقین کے حدیثی ذخیرے کے فروق و مشترکات کا تعارف ہے، یہ ایک علمی و تحقیقی سرگرمی ہے ، اس...

دورِ جدید کا حدیثی ذخیرہ : ایک تعارفی جائزہ (۷)

مولانا سمیع اللہ سعدی

دسویں جہت : مناہجِ محدثین۔ دورِ جدید کے حدیثی ذخیرے کی ایک اہم جہت محدثین کے مناہج ،اسالیب اور ان کے طرزِ تصنیف و تالیف کے تعارف و تجزیہ پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل مباحث شامل ہوتے ہیں: 1۔محدثین کے مناہجِ تحمل روایت و ادائے روایت کیا تھے؟ 2۔محدثین کا حفظ احادیث کا منہج کیا تھا؟ 3۔روایات کی توثیق میں محدثین کے مناہج کیا تھے؟ 4۔کتابت حدیث کے کون سے مناہج محدثین کے ہاں رائج تھے؟ 5۔محدثین کے حلقہ دروس کا انداز کیا تھا؟ 6۔محدثین کے تصنیفی مناہج و اسالیب کیا تھے؟ 7۔راوی کی توثیق یا تضعیف میں محدثین کے کیا مناہج تھے؟ ان تمام موضوعات پر فرداً فرداً...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۶)

مولانا سمیع اللہ سعدی

3۔ موسوعات الحدیث بحسب الافراد و الاشخاص۔ موسوعات کی تیسری قسم ان کتب کی ہے جن میں کسی خاص راوی (خاص طور پر صحابہ)کی مرویات کو جمع کیا گیا ہو، یا کسی خاص حدیث کے جملہ طرق کو اکٹھا کیا گیا ہو ۔یہ موسوعات زیادہ تر ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالات کی صورت میں تیار ہوئے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم کاوش یوسف ازبک کی قابل قدر تصنیف مسند علی بن ابی طالب ہے۔ یہ ضخیم موسوعہ دار المامون دمشق سے سات جلدوں میں چھپا ہے، اس کی تصنیف میں معروف سلفی عالم شیخ علی رضا نے بھی تعاون کیا ہے ۔اس کے علاوہ عبد العزیز بن عبد اللہ الحمیدی نے کتب حدیث میں حضرت ابن عباس کی تفسیری روایات...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ ۔ ایک تعارفی جائزہ (۵)

مولانا سمیع اللہ سعدی

پانچویں جہت : اعجازِحدیث۔ معاصر سطح پر حدیث کے حوالے سے اعجازِ حدیث یا اعجازِ سنت کی نئی اصطلاح رائج ہوئی ہے۔ اعجاز کی اصطلاح متقدمین کے ہاں عموماً قرآن پاک کے ساتھ خاص تھی۔ عصر حاضر میں قرآن پاک کے اعجاز اور اس کی وجوہ پر قابل قدر کام ہوچکا ہے، اسی کام کو بعض حضرات نے حدیث نبوی کی طرف متعدی کیا، اور اعجاز کی جن وجوہ کا بیان اعجاز قرآن کے ضمن میں ہوتا تھا، انہی کو حدیث پر منطبق کیا جانے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث مبارکہ جو بلفظہا ثابت ہیں،بلا شبہ بلاغت و فصاحت کے اعلیٰ معیار پر ہیں، لیکن کلام رسول (جو اگرچہ وحی غیر متلو پر...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ ۔ ایک تعارفی جائزہ (۴)

مولانا سمیع اللہ سعدی

۲۔ اردو تراجم، شروحات وتعلقات اور درسی افادات وتقریرات۔ برصغیر میں کتب حدیث پر ہونے والا کام زیادہ تر اردو تراجم وشروحات(عربی شروحات کا بیان پچھلی قسط میں ہوچکا ہے ) اور درسی افادات و تقریرات پر مشتمل ہے ،ان میں درسی افادات و تقریرات زیادہ تعداد میں ہیں ،کیونکہ صحاح ستہ، موطا م امام مالک ،موطا امام محمد اور مشکوۃ المصابیح مدارس دینیہ کے نصاب میں داخل ہیں ،اس لئے ہونہار تلامذہ شیوخ الحدیث کی درسی تقاریر کو منضبط کرتے ہیں ،اور اسے مرتب کر کے افادہ عام کی خاطر شائع کرتے ہیں۔ برصغیر میں کتب حدیث پر ہونے والے کاموں کا ایک جائزہ لیا جاتا ہے۔ ۱۔...

فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۲)

مولانا عبید اختر رحمانی

فقہ راوی کی شرط کی بنیاد کیا ہے؟ رہ گئی یہ بات کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قلیل الفقہ کیوں کہاگیاہے۔اوران کی روایت کیوں مطلقاً قابل قبول نہیں ہے تواس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام سرخسی کہتے ہیں۔ مع ھذا قد اشتھر من الصحابۃ رضی اللہ عنھم ومن بعدھم معارضۃ بعض روایاتہ بالقیاس، ھذا ابن عباس رضی اللہ عنھما لما سمعہ یروی ’’توضؤوا مما مستہ النار‘‘ قال: ارایت لو توضات بماء سخن اکنت تتوضا منہ؟ ارایت لو ادھن اھلک بھن فادھنت بہ شاربک اکنت تتوضا منہ؟ فقد رد خبرہ بالقیاس حتی روی ان ابا ھریرۃ قال لہ: یا ابن اخی، اذا اتاک الحدیث فلا تضرب لہ الامثال،...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۳)

مولانا سمیع اللہ سعدی

۴۔ سنن ابی داود۔ ۱۔سنن ابی داود کی اہم ترین شرح معروف مصری عالم محمود محمد خطاب سبکی مالکی کی المنھل العذب المورود شرح سنن ابی داود ہے ، دس ضخیم جلدوں میں مصر سے چھپی ہے، ترتیب کے اعتبار سے نفیس شرح ہے۔ مصنف ہر حدیث کے تحت شرح السند،معنی،فقہ اور آخر میں حدیث کی تخریج کے عنوانات باندھ کر حدیث کی تشریح و توضیح کرتے ہیں۔یہ شرح نامکمل تھی، اس کا تکملہ مصنف کے صاحبزادے امین محمود سبکی نے فتح الملک المعبود کے نام سے چار جلدوں میں لکھا ہے۔ ۲۔ سنن ابی داود کی دوسری اہم شرح مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کی بذل المجھود فی حل ابی داود ہے ۔ کتاب...

ترکی کی وزارت برائے مذہبی امور اور دینی وقف کا موضوعاتی حدیث منصوبہ: مختصر تعارف

انعام الحق

اس تحریر میں صرف منصوبے اور کتاب کے تعار ف پر اکتفا کیا گیا ہے، تفصیلی نقد وتبصرہ ان شاء اللہ مستقبل میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس تعارف کے لیے تین مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے: (۱) HIKEM ڈیٹا بیس کی ویب سائٹ: http://www.hikem.net/index.html۔ (۲) مطبوعہ کتاب اور (۳) اس کی ویب سائٹ : http://hadislerleislam.diyanet.gov.tr۔ ترکی وزارت مذہبی امور ، اور دینی اوقاف کی جانب سے ۲۰۰۶ میں موضوعاتی حدیث منصوبے پر کام شروع کیا گیا، اور اس کی تکمیل ۲۰۱۳ء میں ہوئی۔ اس منصوبے کی مختصر روداد و تعارف قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔ شرح حدیث کے باب میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد منصوبہ جس کو "موضوعاتی...

فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۱)

مولانا عبید اختر رحمانی

تمہید: احناف پر مختلف قسم کے اعتراض کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک توہین صحابہ یاصحابہ کی تنقیص کا بھی اعتراض ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ بعض فقہائے احناف نے حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ کو فقہ میں غیر معروف یاغیرفقیہ کہاہے، اس سے انہوں نے یہ نتیجہ استخراج کرلیاکہ کسی صحابی کو غیرفقیہ کہنا ان کی توہین وتنقیص ہے؛ چونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی قدر کو بعض مستشرقین اورآزاد خیال افراد نے تنقید کا نشانہ بنایاہے، اس بناء پربعض حضرات اس طرح کا تاثرپیش کرنے لگے کہ ایسے تمام لوگ جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پرطعن وتشنیع کیا ہے، ان کو...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

۳۔ اصول حدیث کے مختلف موضوعات پر خصوصی تصنیفات۔ عصر حاضر تخصص و سپیشلائزیشن کا دور ہے، علوم و فنون کے شعبہ جات پر مستقل کام ہوا ہے ۔مصطلح الحدیث کی انواع پر بھی مستقل تصنیفات لکھی گئی ہیں۔ یہ تصنیفات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں ایک نوع سے متعلق تفصیلی مواد موجود ہوتا ہے اور اس کے جوانب و اطراف کا احاطہ ہوتا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند اہم کاوشیں ذکر کی جاتی ہیں۔ ان کتب کے تذکرے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ جدید دور میں انواع علوم الحدیث پر ہونے والے کام کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے ،بلکہ اصول حدیث کی اہم انواع سے متعلق بعض اہم اور تفصیلی...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

حدیث اسلامی شریعت کا دوسرا اساسی ماخذ ہے۔ حدیث اور اس کے متعلقات پر پہلی صد ی ہجری سے لے کر آج تک بلا تعطل کام جاری ہے اور بلا شبہ امت کے بہترین دماغوں نے علم حدیث کے بے شمار پہلووں پر کام کیا ہے۔ علم حدیث کی تاریخ میں دور جدید بعض وجوہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے ،کیونکہ امت مسلمہ کے دور زوال میں علم حدیث مسلم اور غیر مسلم مفکرین کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے۔ اس مرکزیت کے متعدد اسباب ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے مستقل مضمون درکار ہے ۔اس مضمون میں ہم دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے متنوع کام کا ایک تعارفی جائزہ لیں گے۔ تعارفی جائزے سے پہلے موضوع...

اصالتِ دین کی تلاش میں حدیث کا تاریخی کردار ۔ کائناتی تناظر میں ایک افقی و عمودی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

جب سے انسان نے اس کُرّہ ارض پر قدم رکھا ہے، تب سے گوناں گوں چیلنجزاسے دعوتِ مبارزت دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ہتھیار ڈالنے کے بجائے ڈٹ جانے کی جبلّی صلاحیت نے انسان کو اس کارزارِ حیات میں فتوحات سے نوازا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں کرہ ارض پر انسان کی موجودگی درحقیقت اپنے پیچھے انہی فتوحات کی عظیم الشان داستان لیے ہوئے ہے۔ اس دل گداز داستان میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں، جن میں کہیں تسخیر فطرت کے جھلملاتے تاب ناک مناظر سے سابقہ پڑتا ہے اور کہیں انسان کی ذات (man-himself) سے وابستہ خصوصیات (properties-virtues) کے، مختلف آلات میں منتقل ہونے کے اندوہ ناک واقعات سامنے آتے...

’سنت‘ اور ’حدیث‘: جناب جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر (۱)

سید منظور الحسن

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے ستمبر ۲۰۰۶ کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر کا مضمون ’’غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ‘‘شائع ہوا تھا جو اب ان کی تصنیف ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ سنت کے تصور ،اس کے تعین، اس کے مصداق اور اس کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف عقل و نقل کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ اسی طرح الشریعہ کے جون ۲۰۰۸ کے شمارے میں محترم جناب مولانا زاہد الراشدی نے ’’غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے زیر عنوان اپنی تنقید میں غامدی صاحب کے موقف کی تعبیر یوں کی ہے کہ غامدی...

ترکی میں احادیث کی نئی تعبیر و تشریح کا منصوبہ

محمد عمار خان ناصر

مارچ ۲۰۰۸ ءکے دوسرے ہفتے میں عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی کہ ترکی کی وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام احادیث کے حوالے سے ایک منصوبے پر کام جاری ہے جس کا بنیادی مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط طور پر منسوب کی جانے والی احادیث کی تردید اور بعض ایسی احادیث کی تعبیر نو ہے جن کا غلط مفہوم مراد لے کر انھیں ناانصافی کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ منصوبہ، جس پر پینتیس اسکالر کام کر رہے ہیں، ۲۰۰۶ میں شروع کیا گیا تھا اور توقع ہے کہ حالیہ سال کے اختتام تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ ترکی کی مذہبی امور سے متعلق...

سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت

ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

میرے لیے یہ بڑی خوش قسمتی اور سعادت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر مجھے اس علمی ادارے میں حاضری کا شرف بخشااور آپ حضرات سے ملنے اور آپ حضرات کی زیارت کاموقع مرحمت فرمایا۔ لیکچراور گفتگو تو ایک بہانہ ہوتا ہے، اصل مقصد تو کسی علمی ادارے میں آنا، کسی علمی ادارے کو دیکھنا اور احباب سے ملاقات و گفتگو کرنا ہوتا ہے، اس لیے کہ احباب سے ملاقات اور علمی احباب سے ملاقات بجائے خود ایک علمی مجلس ہوتی ہے اور بجائے خود ایک ثواب کا اور ایک عبادت کا کام ہے۔ باقی یہ کہ میں کیا گفتگو کروں گا؟ میں جو گفتگو کروں گا، وہ یقیناًپہلے سے آپ حضرات کے علم میں...

حدیث نبوی میں ’اخوان‘ کا مصداق

ریحان احمد یوسفی

’’الشریعہ‘‘ کے اکتوبر ۲۰۰۶کے شمارے میں برادرم عمار ناصر صاحب کاایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے مولانا وحید الدین خان صاحب کی ایک تحریر کے حوالے سے ان پر گرفت کی، جس میں مولانا وحیدالدین خان صاحب نے اپنے تشکیل کردہ دعوتی فورم سی پی ایس انٹرنیشنل پر گفتگو کی ہے۔ عمار صاحب کی تنقید مولانا پر دو پہلووں سے ہے۔ ایک یہ کہ انھوں نے مسلم کی اس روایت کاغلط مطلب سمجھا ہے جو مولانا نے نقل کی ہے۔ زیر بحث اصل روایت، اس کے حوالہ جات اور ترجمہ درج ذیل ہے۔واضح رہے کہ محدثین کے نزدیک یہ روایات سنداً صحیح ہے۔ ’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے...

خدمت حدیث: موجودہ کام اور مستقبل کی ضروریات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وحدیث کا تاریخ کے ریکارڈ پر اس اہتمام اور اعتماد کے ساتھ محفوظ رہنا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تاریخی امتیاز واختصاص کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں اسلام کے اعجاز اور اس کی حقانیت وابدیت کی دلیل بھی ہے کہ نہ صرف یہ کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال واقوال اور ارشادات وفرمودات پورے اہتمام اور استناد کے ساتھ موجود ومحفوظ ہیں بلکہ ان کے نقل وفہم اور ان سے استدلال واستنباط کے عمل میں کسی بھی درجہ میں شریک ہونے والے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کے حالات وکوائف بھی تاریخ نے اپنے ریکارڈ میں محفوظ...

حجیت حدیث اور اسلامی حدود کے حوالے سے ایک بحث

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مکرمی جناب مدیر ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ۔ سلام مسنون! آپ کی جانب سے قاری ہونے کا اعزاز بحال فرمانے پر شکر گزار ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ میرا یہ اعزاز آپ کے کرم ہی سے باقی رہ سکتا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے قضیے کے بارے میں سلسلہ مضامین میری دلچسپی سے باہر ہے۔ اس کے باوجود میں نے اسے پوری دلچسپی سے پڑھا ہے۔ اس پر آنے والے تبصرے اور جوابات بھی شوق سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ سب کچھ کافی ذہن کشا ہے۔ خوشی کا باعث یہ بات ہے کہ عزیزم محمد عمار خان صاحب کے اسلوب بیان میں علمی سطح، شائستگی، شستگی، دقت نظر، جدید وقدیم کا امتزاج ایسی خوبیاں ہیں کہ اگر مبالغے کی...

ضعیف اور موضوع احادیث کا فتنہ

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

داعی کے لیے ضروری ہے کہ موضوع ہی نہیں بلکہ ضعیف اور منکر حدیثوں سے بھی اپنے کو دور رکھے۔ علماے امت نے موضوع حدیثوں کی روایت سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ جواز کی صرف ایک صورت ہے جبکہ اس کا مقصد لوگوں کو ان کے خلاف آگاہی دینا ہو اور وہ ساتھ ہی صاف صاف بتاتا جائے کہ یہ روایت ’موضوع‘ ہے تاکہ اس کو پڑھنے اور سننے والے اپنے کو اس سے بچا کر رکھیں۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ موضوع حدیث کی روایت حرام ہے اگر آدمی کو اس کا پتہ ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کا مضمون کیا ہے۔ وہ احکام سے متعلق ہے یا واقعات اور قصص سے یا ترغیب وترہیب وغیرہ سے۔ اس کے جواز کی صرف ایک صورت...

’’برصغیر میں مطالعہ حدیث‘‘ کے عنوان پر سیمینار

محمد عمار خان ناصر

ادارۂ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد نے ’’برصغیر میں مطالعہ حدیث‘‘ کے عنوان پر ۲۱، ۲۲ اپریل ۲۰۰۳ء کو دوروزہ علمی سیمینار کا اہتمام کیا جس کے لیے ادارۂ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی سربراہی میں ان کے رفقا کی ٹیم خاص طور پر ڈاکٹر سفیراختر اور ڈاکٹر سہیل حسن نے خاصی محنت کی۔ سیمینار کی پانچ نشستیں فیصل مسجد اسلام آباد کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئیں جن میں حدیث نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے مختلف پہلوؤں پر بیسیوں مقالات پیش کیے گئے اور ان پر سوال جواب اور بحث ومباحثہ کا بھی اہتمام...

نقد روایت کا درایتی معیار ۔ مسلم فکر کے تناظر میں

محمد عمار خان ناصر

خبر کی اہمیت: انسانی علم کے عام ذرائع میں خبر بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا دائرۂ کار وہ امور ہیں جن تک انسان کے حواس اور عقل کی رسائی نہیں ہے۔ ہم اپنے حواس کی مدد سے صرف ان چیزوں کے بارے میں جان سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہوں اور ہم ان پر دیکھنے، سننے، چھونے، سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہوں۔ اسی طرح ہماری عقل صرف ان معلومات کو ترتیب دے کر مختلف نتائج اخذ کر سکتی ہے جو ہمارے حواس اس تک پہنچاتے...

ارشاداتِ نبویؐ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کا یہ معمول تھا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ جو کچھ سنتے تھے وہ سب لکھ لیتے تھے۔ بعض حضرات صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، کبھی غصہ کی حالت میں گفتگو فرماتے ہیں اور کبھی خوشی کی حالت میں اور تم سب لکھ لیتے ہو؟ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مراجعت کی۔ آپؐ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بخدا اس سے جو کچھ نکلتا ہے اور جس حالت میں نکلتا ہے وہ حق ہی ہوتا ہے سو تم لکھ لیا کرو۔ (ابوداؤد ج ۲ ص ۱۵۸، دارمی ص ۶۷، مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۳ و مستدرک ج...

احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوین

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

بدقسمتی سے آج ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو خود کو مسلمان کہلاتا ہے اور بایں ہمہ احادیث کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا اور ان سے گلوخلاصی کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ احادیث ظنی ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ قرآن کریم سے متصادم ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ عقل کے خلاف ہیں، کبھی کہتا ہے کہ احادیث دوسری تیسری صدی کی پیداوار ہیں، کبھی کہتا ہے کہ یہ عجمیوں کی سازش ہے، اور کبھی جعلی اور موضوع احادیث کو چن چن کر بلاوجہ درمیان میں لا کر ان کی وجہ سے صحیح احادیث پر برستا ہے، کبھی ان کے معانی میں کیڑے نکالتا...
1-46 (46)
Flag Counter