قائد اعظم یا طالبان، کس کا پاکستان؟ / قاضی صاحب پر حملہ / ریاست کے اندر ریاست

خورشید احمد ندیم

قائد اعظم کا تصورِ ریاست ایسا پامال موضوع ہے کہ اب اس پر قلم اُٹھانے کے لیے خود کو آمادہ کرنا پڑتا ہے۔ خیال ہوتا ہے جیسے آدمی پھر سے پہیہ ایجاد کر نے کی کوشش میں ہے۔ لوگ اس باب میں براہین وشواہد کے ساتھ کلام کرچکے۔ اس کے باوصف یہ تاثر ختم نہیں ہو رہا کہ قائد اعظم کے پیشِ نظر ایک سیکولر ریاست کاقیام تھا۔ ایم کیو ایم جب اسے ایک ریفرنڈم کا عنوان بنا رہی ہے تو اس کا مقدمہ بھی یہی ہے۔ اس نا قابل تردید شہادت کے باوجود کہ قائد نے تمام عمر سیکولرزم کالفظ استعمال نہیں کیا اور بارہا اپنے ارشادات میں واضح کیا کہ وہ اسلام کے اصولوں کو ریاست کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں، آخر یہ تاثر ختم کیوں نہیں ہوتا؟ حسنِ ظن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جب میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تو میں کچھ نتائج تک پہنچا ۔ آج ان نتائجِ فکرمیں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔

یہ نقطہ نظر دراصل اہلِ مذہب کے تصورِ ریاست کا ردِ عمل ہے، جنہوں نے بعض تاریخی اسباب سے قائدِ اعظم کے تصورِ اسلام کو خود ساختہ معانی پہنا دیے ہیں۔ لوگ اس مفہوم اور معانی پر معترض ہیں۔ وہ جب قائداعظم کے تصورِ ریاست اور مذہبی طبقے کے پیش کردہ اسلامی ریاست کے تصورِ میں فرق نہیں کر پاتے تو قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ یہ مقدمہ اصلاً کمزور ہے، اس لیے ان کو اس میں پناہ نہیں ملتی۔ یوں وہ خود ذہنی پراگندگی کا شکار ہوتے ہیں اور ساتھ معاشرے کو بھی الجھاتے ہیں۔ میں اس اجمال کی قدرے تفصیل کرتا ہوں۔

جہاں تاریخی اعتبار سے یہ ثابت ہے کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے دوسرے راہنما اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک ریاست تشکیل دینا چاہتے تھے ، وہاں یہ بھی ثابت ہے کہ اس کاکو ئی واضح تصوران کے پاس نہیں تھا۔ان کویہ اعتماد تھاکہ اسلام اس معاملے میں ان کی رہنمائی کرے گا لیکن کیسے، اس کا کوئی شافی جواب ان کو ابھی تلاش کرنا تھا ۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی جیسے صاحبِ دانش نے بھی یہ لکھا ہے کہ ’’ اسلامی دستور کیا ہوتا ہے، اس سوال کو کوئی متعین جواب موجود نہیں تھا‘‘۔یہ بات مسلم لیگ کے ذمہ دارلوگوں پر پوری طرح واضح تھی ۔ ۱۹۳۹ء میں یو پی مسلم لیگ نے نواب محمد اسماعیل خان کی صدارت میں یہ تحریک منظور کی کہ علما کی ایک مجلس سے مفصل نظامِ حکومت مرتب کرایا جائے۔ اس کے نتیجے میں سر احمد سعیدخان چھتاری کی صدارت میں ایک کمیٹی بنی۔ اس کے سیکریٹری سید سلیمان ندوی تھے۔ انہوں نے بہت سے علما کو خطوط لکھے اور تجاویز مانگیں۔ صرف چار افراد نے دستوری خاکے تجویز کیے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر ذاکر حسین اور مولانا آزاد سبحانی۔ انہیں مولانا محمداسحاق سندیلوی نے مرتب کیا اور بعد میں اسے ’’ اسلام کا سیاسی نظام‘‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔ مسلم لیگ نے اپنے تیسویں سالانہ اجلاس (۱۹۴۳ء) میں بھی ’’ مجلسِ تعمیرِ ملی‘‘ کی تجویز پیش کی گئی جو اسلامی ریاست کا خاکہ بنائے۔ یہ مجلس قائم ہی نہ ہو سکی۔ قیامِ پاکستان کے بعد نواب افتخار حسین ممدوٹ مغربی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بنے تو انہوں نے الہیاتِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کے لیے ایک شعبہ قائم کیا۔ محمد اسداس کے ناظم بنائے گئے جن کے نواب صاحب سے دیرینہ مراسم تھے۔ انہوں نے شب و روز کی محنت سے اسلامی دستور کا ایک خاکہ مرتب کیا جو مارچ ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا۔یہ داستان بتاتی ہے کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے قائدین اس باب میں سنجیدہ تھے کہ مسلمانوں کے لیے جو ریاست بنے، اس کے خدو خال کا تعین اسلامی تعلیمات کی روشنی ہو لیکن اس کی عملی صورت کے بارے میں وہ ابہام کا شکار تھے۔ یہ ابہام ۱۹۴۸ء تک مو جود تھا۔

ایسا کیوں نہیں ہو سکا ؟ اس کے بے شمار اسباب ہیں۔ محمد اسد مرحوم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ یہاں اس تفصیل کا موقع نہیں، محض ایک وجہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو خود محمد اسد نے بیا ن کی ہے۔ان کے مطابق، اُس وقت قوانینِ شریعت کا کوئی ایسا جامع ضابطہ(code) موجود ہی نہیں تھاجو قابلِ نفاذ ہو۔ ان پر یہ بھی واضح تھا کہ یہ کام روایتی علما کے بس کا نہیں ہے۔ یہی سبب تھا کہ انہوں نے اپنے ادارے کے ساتھ جن علما کو وابستہ کیا، وہ اس عہد میں اپنی روشن خیالی کے سبب ممتاز تھے، جیسے مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا جعفر شاہ پھلواری اور مظہرالدین صدیقی۔

مسلم لیگ کے متوازی مسلمانو ں کی ایک اور تحریک بھی منظم ہو رہی تھی۔ یہ جماعت اسلامی تھی۔ مسلم لیگ کے برخلاف اس کی قیادت ایک جید عالم کے ہاتھ میں تھی اوروہ اسلامی ریاست کے معا ملے میں کسی ابہام کا شکارنہیں تھے۔ مولانا مودودی نے جدید ریاست کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دین کی تعبیر کی اور اس کے ساتھ اسلامی ریاست کی وضاحت کی۔ ان کے خیال میں اسلام ایک دین ہے اور اگر عصری لغت میں ’’ دین‘‘ کے قریب تر مفہوم رکھنے والا کوئی لفظ موجود تھا تو وہ ’’سٹیٹ‘‘ تھا۔ مسلم لیگ کے ابہام کے مقابلے میں جماعت اسلامی اس باب میں واضح تھی۔ وہ اسلامی ریاست کا مفہوم بتا رہی تھی۔ اس کو برپا کرنے کی حکمت عملی کو دو اور دو چار کی طرح بیان کر رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ جدید ریاستی اداروں کی اسلامی تشکیل کے باب میں بھی ایک نقطہ نظر رکھتی تھی۔

قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ کو جب ایک جدیدریاست کے قیام کا چیلنج درپیش ہوا تو اس کی اسلامی تشکیل کے لیے اس کے پاس کوئی متعین راستہ موجود نہیں تھا۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اس پر اخلاقی دباؤ کا باعث تھی کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں سے یہ وعدہ کر چکی تھی۔ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی جماعت اسلامی اسلامی دستور کے نفاذ کا مطالبہ لے کر کھڑی ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ’’جرم‘‘ میں ’’اسلامی ریاست‘‘ میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جماعت اسلامی نے ایک حد تک دوسرے علما کو بھی اپنا ہم نوا بنا لیا اور اس کے نتیجے میں علما کے بائیس نکات سامنے آ گئے۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں ۱۹۴۹ء میں قراردادِ مقاصد بھی منظور ہو گئی۔ یوں مسلم لیگ دھیرے دھیرے اپنی کمزوری کے سبب پیچھے ہٹتی گئی اور جماعت اسلامی کے تصور اسلامی ریاست نے اس خلا کو بھر دیا جو مسلم لیگ کی فکری نا اہلی کے سبب موجود تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ علامہ اقبال کی فکر پسِ منظرمیں چلی گئی اور اسلامی ریاست کا وہ تصور غالب آ گیا جو مولانا مودودی کی فکر سے پھوٹی تھا۔ جماعت اسلامی نے اپنی ابلاغی صلاحیت سے یہ مقدمہ بھی قائم کر دیا کہ علامہ اقبا ل او قائد اعظم دراصل وہی اسلامی ریاست چاہتے تھے جس کا تصور جماعت اسلامی دے رہی ہے اور یوں تحریکِ پاکستان کے فکری وارث وہی ہے۔ مولانا طفیل محمد مرحوم نے اس ’’ یکسانیت‘‘ کو یوں بیان کیا کہ جماعت اسلامی اس کے سوا کیا ہے کہ مسلم لیگ کا اردو ترجمہ ہے۔

اب جو لوگ جماعت اسلامی یا اس کے خیالات کے مخالف ہیں، وہ اس تاریخی مغالطے کو شاید صحیح تناظر میں سمجھ نہیں پائے۔ وہ اس کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے کہ علامہ اقبال یا قائد اعظم کے تصور اسلامی ریاست کو واضح کرتے ہوئے، اسے جماعت اسلامی کے تصورِ ریاست سے مختلف ثابت کرتے۔ اپنے فکری افلاس کے سبب انہوں نے رد عمل میں قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنا چاہاکیونکہ وہ خود پاکستان کو اسی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات چونکہ خلافِ واقعہ تھی، اس لیے انہیں یہاں کوئی سایہ ء دیوارنہ مل سکا اور انہیں حقائق کی دھوپ کا سامنا کرنا پڑا۔

میرا تاثر یہ ہے کہ اگر اس تاریخی مغالطے کو دور کرتے ہوئے، یہ سمجھنے کی شعوری کوشش کی جائے کہ علامہ اقبال اور قائداعظم کے پیش نظراسلامی ریاست کا تصور کیا تھا تو شاید قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ تاہم جو پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے ہیں، ان کے سامنے ایک راستہ ہے کہ وہ اپنے مطالبے کو قائد اعظم کی فکر سے آزاد کرتے ہوئے پیش کریں۔ اس پسِ منظر میں طالبان اور قائد اعظم کاتقابل بے معنی ہوگا۔ انہیں اس پر ریفرنڈم کرانا چاہیے کہ پاکستانی ریاست کے نظری خدو خال کا تعین اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہوگا یا سیکولر تصورات کی روشنی میں۔ تاریخ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ واقعات سے عبارت ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف نظریات کی بحث دلیل و استدلال کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے۔ سیکولرزم کے علمبر دار اگر پاکستان کی نظری تشکیل کے سوال کو قائد اعظم سے آزاد کرتے ہوئے زیرِبحث لائیں گے تو انہیں آسانی ہوگی۔ پھر بحث عقلی اور فکری دائرے میں ہوگی، تاریخ کے دائرے میں نہیں۔ 

قاضی صاحب پر حملہ

قاضی حسین احمدصاحب کو اللہ نے محفوظ رکھا۔اطمینان کے گہرے احساس کے ساتھ میں نے یہ خبر سنی۔لیکن اس حادثے پرجب محترم قاضی صاحب کا پہلا ردِ عمل سامنے آیاتو مایوسی کی ایک لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔کیا پیش پا افتادہ حقائق پر ان کی نظر نہیں پڑی؟کیا ابھی وقت نہیںآیا کہ وہ اپنا سینہ لوگوں کے سامنے کھول دیں؟

یہ سوالات ذہن میں اس وقت بھی پیدا ہوئے تھے جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا۔جب کراچی اور کامرہ میں نیوی اور ایئر فورس ہدف بنی۔میں کسی ایسے صاحبِ بصیرت ،بلکہ صاحبِ بصارت کی توقع کر رہا تھا جو یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد پکار اُٹھے:

میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روزِ سیاہ
خود دکھایا ہے مرے گھر کے چراغاں نے مجھے

افسوس کہ یہ خواہش کل پوری ہوئی نہ آج۔قاضی صاحب نے فرمایا: حملہ امریکا نے کرایا ہے۔وہ طالبان اور دینی جماعتوں میں فاصلے پیدا کرنا چاہتا ہے۔

امریکا کے خلاف ہمارا مضبوط مقدمہ ہے۔ ہمارا ہی نہیں‘ یہ عالم انسانیت کا مقدمہ ہے۔اس زمین پر بکھری ظلم کی ان گنت داستانیں خود ناطق اور امریکا کے خلاف گواہ ہیں۔ پھر پاکستان میں لوگ امریکا کے خلاف جو جذبات رکھتے ہیں‘ ہمیں ان کی خبر ہے۔امریکا کو سازش اور برائی کی ایک علامت ثابت کرنے کے لیے کسی مزید دلیل کی حاجت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس حادثے کا بھی کیا امریکا سے براہ راست کوئی تعلق ہے؟

میرے نزدیک یہ مسلمان معاشروں کا ایک داخلی مسئلہ ہے۔سیاسی و تہذیبی مغلوبیت کے سبب ان میں اضطراب اور بے چینی ہے۔ وہ اس سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ایک گروہ کے نزدیک اس کے تمام تر اسباب خارج میں ہیں۔ مسائل کی بنیاد امریکا ہے۔ وہ ہمیں زیر تسلط رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے سازشوں کا جال بنااور پھر ہمیں اپنی اقتصادی و تہذیبی گرفت میں لے لیا ہے۔ مسلمان ممالک پر اس کے ایجنٹ مسلط ہیں اور ان سے نجات کے سوابہتری کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس نجات کے لیے جمہوریت اور انتخابات وغیرہ بھی دراصل امریکا اور مغرب کے تجاویز کردہ حل ہیں جن کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس لیے جو لوگ ان راہوں پر چل کر تبدیلی کا خواب دیکھتے ہیں‘ ان کی رائے قابل بھروسہ ہے نہ دیانت۔ نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ دین کے ماننے والوں کے مسلح جتھے بنائے جائیں اور وہ طاقت کے زور پر مسلمان ریاستوں کا انتظام سنبھال لیں۔ اتمامِ حجت کے لیے یہ گروہ حکمرانوں سے کہتاہے کہ وہ شریعت کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ یہاں شریعت سے مراد وہی شریعت ہے جسے یہ گروہ شریعت کہتے ہیں۔ اگر حکمران یہ شرط قبول نہ کریں تو پھر ریاست کے خلاف ان کا اعلانِ جہاد ہے۔ اس معرکے میں جو ریاستی ادارہ‘ عام شہری‘ صحافی‘ عالم ،سیاست دان موجود نظام کا ساتھ دیتا ہے، غیر جانب دار رہتا ہے‘ وہ دراصل طاغوت کو مضبوط کرتا ہے‘ لہذا واجب القتل ہے۔ اس مقدمے میں عوام کہیں زیر بحث ہیں نہ ان کی رائے کی کوئی اہمیت ہے۔

دوسرے نقطہ نظر کے مطابق امریکی ومغربی تسلط کایہ بنیادی مقدمہ درست ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ مسلمانوں کو اس غلبے سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ تاہم اس کا راستہ مسلح جدوجہد نہیں ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ عوام کو ہم نوا بنایا جائے اور پھر ان کی تائید سے اقتدار تک پہنچا جائے۔ چونکہ انتخابات ہی ایک ایسا راستہ ہے جو عوامی رائے جاننے کا مستند ذریعہ ہے۔ اس لیے ہمیں اسی راستے سے تبدیلی کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ یہ نقطہ نظر اگرچہ مسلمان حکمرانوں کو طاغوت ہی کا ایجنٹ سمجھتا ہے لیکن ان کی بالفعل (defecto)حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔ جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام وغیرہ اسی نقطہ نظر کی علمبردار ہیں۔ القاعدہ‘ تحریک طالبان پاکستان کا تعلق پہلے گروہ سے ہے۔

بنیادی مقدمہ ایک ہونے کے سبب دوسرا گروہ پہلے کی مخالفت نہیں کرتا۔ وہ اس حکمت عملی کو غلط کہتا ہے لیکن جب پہلا گروہ کسی کے ساتھ تصادم کی کیفیت میں ہوتا ہے تو جمہوریت پر یقین رکھنے والا گروہ اپنا سارا وزن پہلے گروہ کے پلڑے میں ڈال دیتا ہے۔پہلا گروہ اپنے نظریات میں زیادہ واضح اور حکمت عملی کے باب میں دواور دو چار کی طرح عمل کرنے کا قائل ہے۔ چونکہ وہ جمہوریت کو مغربی تہذیب ہی کا ایک مظہر سمجھتا ہے‘ اس لیے اس کے نزدیک اس کے علمبردار دراصل اسلام کے راستے کی رکاوٹ ہیں‘ قطع نظر اس کے کہ وہ کلمہ گو ہیں یا اسلام پسند۔ اس گروہ کے ہاں اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ میں اپنے ایک کالم میں اس کا ذکر کرچکا کہ ایمن الظواہری صاحب نے اس حوالے سے کس طرح پاکستانی آئین اور ریاست کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال حکیم اللہ محسود صاحب کی تازہ ترین وڈیو ہے جس میں انہوں نے قاضی حسین احمد صاحب کو جہاد فروش قرار دیا ہے اور جمہوریت کی حمایت پر ان کا کا رشتہ یہودی لابی سے جوڑا ہے۔

قاضی صاحب اور اس سے پہلے مولانا فضل الرحمن پر حملوں کے پس منظر میںیہی کش مکش کارفرما ہے۔ پہلا گروہ چونکہ مسلح جدوجہد کو بطور حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں‘ جس کا وہ شرعی اور اخلاقی جواز پیش کرتا ہے‘ اس لیے اس کے نزدیک افراد کا قتل کوئی معیوب بات ہے نہ انہونی۔خود قاضی حسین احمد صاحب اپنے ایک حالیہ مضمون میں اعتراف کرچکے کہ ان طالبان کے ہاتھوں جو لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان کا تعلق جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام سے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ اس واضح اعتراف کے باوجود انہوں نے یہ کیسے مناسب خیال کیا کہ اس خود کش حملے کو امریکا کے نامہ اعمال میں درج کرایا جائے۔

یہ موقع تھا کہ وہ اس قوم کے سامنے اپنا سینہ کھول دیتے۔ وہ قوم کی راہنمائی فرماتے کہ مسلمان سماج آج جس داخلی کشمکش سے گزررہے ہیں،ان پر حملہ دراصل اس کا شاخسانہ ہے۔ یہ تصادم صرف پاکستان میں نہیں ہے۔ جہاں جہاں دوسرا نقطہ نظر موجود ہے وہاں جمہوریت پر یقین رکھنے والے اسلام پسند بھی اس کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ مصر‘ شام‘ تیونیسیا اور انڈونیشیا میں اس تصادم کے بے شمار شواہد موجود ہیں۔ تیونیسیا میں موجودہ حکومت کے خلاف پہلے گروہ نے اعلان جہاد کردیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہاں راشد الغنوشی کی فکری قیادت میں تبدیلی آئی ہے جو اسلام پسند ہونے کے باوصف جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ مصرمیں آنے والے چند دنوں میں ہم یہی منظر دیکھنے والے ہیں۔ پاکستان میں اس کا آغاز ہوگیا ہے اور آئندہ عام انتخابات میں خدشہ یہ ہے کہ اس کے اور مظاہر بھی سامنے آئیں گے۔

کیا جمہوریت پر یقین رکھنے والی مذہبی جماعتوں پر یہ سب واضح نہیں ہے؟ میرا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا ذہن اس حوالے سے بالکل صاف ہے۔ جماعت اسلامی ابہام کا شکار ہے۔ اس کا اظہار خود کش حملے پر قاضی صاحب کے ردعمل سے ہورہا ہے۔ اس سے پہلے ملالہ پر حملے کو انہوں نے جس طرح متنازعہ بنایا اور اپنا وزن طالبان کے پلڑے میں ڈالا‘ اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔سید منور حسن سے جب قاضی صاحب کے بارے میں حکیم اللہ محسود کے تبصرے پر سوال ہوا تو فرمایا:’’یہ حکیم اللہ محسود کون ہے؟‘‘ میرا احساس ہے کہ ان جماعتوں کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ شہادتِ حق کا فریضہ سرانجام دیں۔ وہ قوم پر واضح کریں کہ اسلام کے نفاذ کے دوراستے ہیں۔ ایک جمہوری اور ایک مسلح جدوجہد کے ذریعے۔ مسلمان سماج کو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔بدقسمتی سے دفاعی اداروں کی طرح ایک ابہام مذہبی جماعتوں کے پاؤں کی زنجیر بنا ہوا ہے۔ دفاعی اداروں اور سیاسی مذہبی جماعتوں کو شاید پھر موقع نہ مل سکے۔ اب بھی انہوں نے اگر قوم کو سچ نہیں بتایا اور اس معاملے میں اپنی غلطیوں کا اعتراف نہ کیا تو اس کے بعد خاکم بدہن‘ شاید امید کا کوئی چراغ باقی نہ رہے۔

ریاست کے اندر ریاست

ریاست کے اندر ریاست قبول نہیں۔ مجھے وفاق المدارس کے مؤقف سے پورا اتفاق ہے۔ کسی سیاسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ وہ مدارس کو نوٹس بھیجے اور ان سے کوائف طلب کرے۔ یہ اپنے دائرہ کار سے تجاوز ہے۔ تاہم ریاست کو یہ حق ہے کہ وہ معاشرتی اداروں کی تنظیم کرے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مدارس و مساجد کی تنظیم بھی شامل ہے۔ اس ملک میں مذہب کے نام پر جس طرح انسانوں کی جان لینے کا رحجان پیدا ہوا ہے اور اس کی اعلانیہ وکالت ہو رہی ہے، سماجی امن کے لیے ناگزیر ہے کہ ریاست مذہبی اداروں کی تنظیم میں اپنا کردار ادا کرے۔

پاکستان کا استثنا ہے ورنہ ہر مسلمان ملک میں مذہبی سرگرمیوں کی تنظیم ریاست کرتی ہے۔ سعودی عرب، ایران، ترکی۔ ہر ملک میں مدرسہ اور مسجد کی تعمیر کے لیے ریاست کی اجازت ضروری ہے۔ ائمہ مساجد کا انتخاب بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سعودی عرب میں جمہوریت نہیں لیکن ترکی میں تو ہے۔ وہاں وزارت مذہبی امور کے اہتمام میں ’’دیانت‘‘ کا محکمہ قائم ہے۔ امام مسجد کے لیے ایک متعین معیار ہے۔ ایک سند یافتہ عالم ہی یہ استحقاق رکھتا ہے کہ وہ امامت کے منصب پر فائز ہو۔ مسجد میں اس کا قیام اہل محلہ کی صواب دید پر ہے۔ اگر لوگ شکایت کریں تو حکومت یہ حق رکھتی ہے کہ اسے معزول کر دے۔

تعلیمی ادارے کا قیام، مسجد کی تعمیر، فتویٰ کا اختیار، خلافت راشدہ میں بھی حکومت کے انصرام میں تھا۔ مسلمانوں کی روایت میں نماز جمعہ ہمیشہ مسلمانوں کا سیاسی اجتماع تھا۔ سربراہ حکومت دارالخلافہ میں اور اس کے مقرر کردہ عُمال دوسرے شہروں میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب مسلمان اپنے سیاسی اقتدار سے محروم ہوئے اور ہمارے علما نے اپنی روایت کو زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا تو محض نبابت کے تحت، جمعہ اور مسجد کا ادارہ ان کے پاس چلا گیا۔ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد اس پر علما کے مابین جو مباحث ہوئے، وہ کتابوں میں محفوظ ہیں۔ کہاں جمعہ کا اجتماع ہو سکتا ہے اور کہاں نہیں، فقہ کی ایک معروف بحث ہے۔ تین عشرہ پہلے تک یہاں یہ صورت حال رہی کہ دس بارہ گاؤں میں ایک آدھ ایسا تھا جہاں جمعہ کا اجتماع ہوتا تھا۔اپنے بچپن کی یہ یاد میرے حافظے سے محو نہیں ہوئی کہ ہمارے گاؤں میں جمعے کا اجتماع ہوتا تھا اور ارد گرد کے کم از کم چار گاؤں ایسے تھے جہاں سے لوگ نماز جمعہ کے لیے یہاں آیا کرتے تھے۔ گلی گلی جمعہ کے اجتماعات اصلاً مذہبی طبقے کی معاشی اور مسلکی ضروریات کی ضرورت ہے۔ ہماری روایت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

انگریزوں کے دور میں اس فیصلے کی حکمت واضح تھی۔ علما کا یہ فیصلہ اس عہد کے چیلنج کے پیش نظر درست تھا کہ روایت کو محفوظ بنایا جائے۔ مساجد اور دینی مدارس کا قیام اسی لیے تھا۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست پاکستان میں اس کا جواز ختم باقی نہیں رہا۔ لازم تھا کہ ریاست یہ ذمہ داری سنبھالتی اور معاشرے کی مذہبی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے کوئی انتظام کرتی۔ دو اسباب سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارا حکمران طبقہ دین سے دور ہوتا گیا اور وہ اس صلاحیت سے محروم ہو گیا کہ مذہبی پیش وابن سکے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر جناب زرداری یا ان کی نیابت میں عبدالرحمان ملک صاحب دارالحکومت میں نماز جمعہ کی امامت فرمائیں تو کیا کیفیت ہوتی۔ یا شہباز شریف صاحب اور قائم علی شاہ صاحب لاہور اور کراچی میں اور رئیسانی صاحب کوئٹہ میں یہ فریضہ سر انجام دیں تو کیسے کیسے لطائف جنم لیں گے۔ دوسرا سبب یہ ہوا کہ مذہبی طبقے نے دین و دنیا کی ہم آہنگی سے یہ مراد لیا کہ سیاسی امامت بھی اہل مذہب کا کام ہے۔ یوں انہوں نے اپنی سیاسی ضروریات کے لیے مدرسے اور مسجد کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی ٹھانی۔ گویا اہل اقتدار کی بے توفیقی کے سبب دینی تعلیم اور مساجد کے انصرام کے لیے ایک غیر ریاستی نظام وجود میں آیا۔ علما کا طبقہ معاشرتی ضرورت تو تھا، اس طبقے نے اپنے دائرے کو بڑھا لیا اور مدرسہ و مسجد کا کردار صرف مذہب تک محدود نہ رہ سکا۔ مسجد کو سیاسی تحریکوں اور کاموں کے لیے محاذ بنا دیا گیا۔

ایک المیہ یہ بھی ہوا کہ ریاست نے اپنے مقاصد کے لیے مدرسے اور محراب و ممبر کو استعمال کیا۔ اس کا نقطۂ آغاز اور نقطہ عروج ضیاء الحق صاحب کے دور تھا۔ یہ روایت بعد میں آنے والوں نے بھی قائم رکھی۔ محترم قاضی حسین احمد کی روایت کردہ جناب گل بدین حکمت یار کی اصطلاح مستعار لی جائے تو جب ’بی بی سی‘ کا اتحاد بنا تو انہی مدارس کے لوگ افغانستان میں ریاستی مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے۔ آج اگر کوئی حکومت اس صورت حال کو بدلنا چاہتی ہے تو اسے مداخلت فی الدین کہا جاتا ہے اور ایسی ’’غیر اسلامی‘‘ حکومت کے خلاف تحریکیں اٹھا دی جاتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جنرل مشرف جیسا لبرل حکمران دی بھی یہ جرات نہیں کرتا کہ مذہب کی تنظیم کو ریاست کے دائرے میں لے آئے۔

یہ حق یقیناًکسی سیاست جماعت کو نہیں کہ وہ مدارس کے کوائف جمع کرے لیکن ریاست کو ہے کہ وہ ان کی تنظیم کرے۔ ان کے قیام کو اگر نجی دائرے میں رہنا ہے تو اسے حکومتی ضوابط کے تحت لائے جس طرح عمومی تعلیم کے ادارے حکومت کے قوانین کے تحت قائم ہوتے ہیں۔ میرے علم کی حد تک دینی مدارس کے منتظمین کو بھی اس سے اختلاف نہیں۔ وزیر داخلہ کے ساتھ تنظیمات المدارس کا اتفاق ہو چکا لیکن حسب روایت اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔ ایم کیو ایم کو بجائے خود کوئی اقدام کرنے کے، یہ مطالبہ کرنا چاہے کہ اس معاہدے کی پاس داری کی جا ئے اور اس باب میں ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

دینی تعلیم اور مسجد ہماری سماجی ضرورت ہیں۔ یہ ریاست کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اکثریت کی دینی ضروریات کو پیش نظر رکھے۔ اس حوالے سے ریاست کی غفلت ضرب المثل ہے۔ میں اسلام آباد میں آج بھی دیکھتا ہوں کہ گرین بیلٹ پر مساجد تعمیر ہو رہی ہے۔ میری نظروں کے سامنے محض کچھ مہینوں میں چند اینٹیں ایک مکمل عمارت میں تبدیل ہو گئیں۔ اسلام آباد کی مرکزی سٹرک پر ایک ایک مدرسے کی عبارت میں دگنی توسیع ہو گئی۔ ریاست جب بروقت مداخلت نہیں کرتی تو بعد از خرابی بسیار جو قدم اٹھتا ہے، وہ تباہ کن ہوتا ہے۔ سوات میں فضل اللہ صاحب کی تحریک اور اسلام آباد میں لال مسجد کا سانحہ ریاست کی ایسی ناقابل تلافی غلطیوں کے مظاہر ہیں۔ سوات میں جب فضل اللہ صاحب نے ریڈیو پر اپنے خیالات کی ترویج کا آغاز کیا اور اپنے مرکز کی تعمیر شروع کی تو کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ ۲۰۰۷ء میں، میں جب سوات گیا تو مجھے دوستوں نے بتایا کہ وہ بارہ گھڑ سواروں کے ساتھ تلوار لٹکائے نماز جمعہ کی امامت کے لیے آتے ہیں اور کم و بیش پچاس ہزار کا اجتماع ہوتا ہے، ایسی غفلت کے مرتکب لوگوں کو ملالہ پر رونے کا کوئی حق نہیں۔

ریاست کے اندر ریاست نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بات مدارس، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سمیت سب کے لیے قابل توجہ ہے۔

آراء و افکار

(دسمبر ۲۰۱۲ء)

Flag Counter