قائد اعظم یا طالبان، کس کا پاکستان؟

خورشید احمد ندیم

قائد اعظم کا تصورِ ریاست ایسا پامال موضوع ہے کہ اب اس پر قلم اُٹھانے کے لیے خود کو آمادہ کرنا پڑتا ہے۔ خیال ہوتا ہے جیسے آدمی پھر سے پہیہ ایجاد کر نے کی کوشش میں ہے۔ لوگ اس باب میں براہین وشواہد کے ساتھ کلام کرچکے۔ اس کے باوصف یہ تاثر ختم نہیں ہو رہا کہ قائد اعظم کے پیشِ نظر ایک سیکولر ریاست کاقیام تھا۔ ایم کیو ایم جب اسے ایک ریفرنڈم کا عنوان بنا رہی ہے تو اس کا مقدمہ بھی یہی ہے۔ اس نا قابل تردید شہادت کے باوجود کہ قائد نے تمام عمر سیکولرزم کالفظ استعمال نہیں کیا اور بارہا اپنے ارشادات میں واضح کیا کہ وہ اسلام کے اصولوں کو ریاست کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں، آخر یہ تاثر ختم کیوں نہیں ہوتا؟ حسنِ ظن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جب میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تو میں کچھ نتائج تک پہنچا ۔ آج ان نتائجِ فکرمیں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔

یہ نقطہ نظر دراصل اہلِ مذہب کے تصورِ ریاست کا ردِ عمل ہے، جنہوں نے بعض تاریخی اسباب سے قائدِ اعظم کے تصورِ اسلام کو خود ساختہ معانی پہنا دیے ہیں۔ لوگ اس مفہوم اور معانی پر معترض ہیں۔ وہ جب قائداعظم کے تصورِ ریاست اور مذہبی طبقے کے پیش کردہ اسلامی ریاست کے تصورِ میں فرق نہیں کر پاتے تو قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ یہ مقدمہ اصلاً کمزور ہے، اس لیے ان کو اس میں پناہ نہیں ملتی۔ یوں وہ خود ذہنی پراگندگی کا شکار ہوتے ہیں اور ساتھ معاشرے کو بھی الجھاتے ہیں۔ میں اس اجمال کی قدرے تفصیل کرتا ہوں۔

جہاں تاریخی اعتبار سے یہ ثابت ہے کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے دوسرے راہنما اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک ریاست تشکیل دینا چاہتے تھے ، وہاں یہ بھی ثابت ہے کہ اس کاکو ئی واضح تصوران کے پاس نہیں تھا۔ان کویہ اعتماد تھاکہ اسلام اس معاملے میں ان کی رہنمائی کرے گا لیکن کیسے، اس کا کوئی شافی جواب ان کو ابھی تلاش کرنا تھا ۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی جیسے صاحبِ دانش نے بھی یہ لکھا ہے کہ ’’ اسلامی دستور کیا ہوتا ہے، اس سوال کو کوئی متعین جواب موجود نہیں تھا‘‘۔یہ بات مسلم لیگ کے ذمہ دارلوگوں پر پوری طرح واضح تھی ۔ ۱۹۳۹ء میں یو پی مسلم لیگ نے نواب محمد اسماعیل خان کی صدارت میں یہ تحریک منظور کی کہ علما کی ایک مجلس سے مفصل نظامِ حکومت مرتب کرایا جائے۔ اس کے نتیجے میں سر احمد سعیدخان چھتاری کی صدارت میں ایک کمیٹی بنی۔ اس کے سیکریٹری سید سلیمان ندوی تھے۔ انہوں نے بہت سے علما کو خطوط لکھے اور تجاویز مانگیں۔ صرف چار افراد نے دستوری خاکے تجویز کیے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر ذاکر حسین اور مولانا آزاد سبحانی۔ انہیں مولانا محمداسحاق سندیلوی نے مرتب کیا اور بعد میں اسے ’’ اسلام کا سیاسی نظام‘‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔ مسلم لیگ نے اپنے تیسویں سالانہ اجلاس (۱۹۴۳ء) میں بھی ’’ مجلسِ تعمیرِ ملی‘‘ کی تجویز پیش کی گئی جو اسلامی ریاست کا خاکہ بنائے۔ یہ مجلس قائم ہی نہ ہو سکی۔ قیامِ پاکستان کے بعد نواب افتخار حسین ممدوٹ مغربی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بنے تو انہوں نے الہیاتِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کے لیے ایک شعبہ قائم کیا۔ محمد اسداس کے ناظم بنائے گئے جن کے نواب صاحب سے دیرینہ مراسم تھے۔ انہوں نے شب و روز کی محنت سے اسلامی دستور کا ایک خاکہ مرتب کیا جو مارچ ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا۔یہ داستان بتاتی ہے کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے قائدین اس باب میں سنجیدہ تھے کہ مسلمانوں کے لیے جو ریاست بنے، اس کے خدو خال کا تعین اسلامی تعلیمات کی روشنی ہو لیکن اس کی عملی صورت کے بارے میں وہ ابہام کا شکار تھے۔ یہ ابہام ۱۹۴۸ء تک مو جود تھا۔

ایسا کیوں نہیں ہو سکا ؟ اس کے بے شمار اسباب ہیں۔ محمد اسد مرحوم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ یہاں اس تفصیل کا موقع نہیں، محض ایک وجہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو خود محمد اسد نے بیا ن کی ہے۔ان کے مطابق، اُس وقت قوانینِ شریعت کا کوئی ایسا جامع ضابطہ(code) موجود ہی نہیں تھاجو قابلِ نفاذ ہو۔ ان پر یہ بھی واضح تھا کہ یہ کام روایتی علما کے بس کا نہیں ہے۔ یہی سبب تھا کہ انہوں نے اپنے ادارے کے ساتھ جن علما کو وابستہ کیا، وہ اس عہد میں اپنی روشن خیالی کے سبب ممتاز تھے، جیسے مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا جعفر شاہ پھلواری اور مظہرالدین صدیقی۔

مسلم لیگ کے متوازی مسلمانو ں کی ایک اور تحریک بھی منظم ہو رہی تھی۔ یہ جماعت اسلامی تھی۔ مسلم لیگ کے برخلاف اس کی قیادت ایک جید عالم کے ہاتھ میں تھی اوروہ اسلامی ریاست کے معا ملے میں کسی ابہام کا شکارنہیں تھے۔ مولانا مودودی نے جدید ریاست کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دین کی تعبیر کی اور اس کے ساتھ اسلامی ریاست کی وضاحت کی۔ ان کے خیال میں اسلام ایک دین ہے اور اگر عصری لغت میں ’’ دین‘‘ کے قریب تر مفہوم رکھنے والا کوئی لفظ موجود تھا تو وہ ’’سٹیٹ‘‘ تھا۔ مسلم لیگ کے ابہام کے مقابلے میں جماعت اسلامی اس باب میں واضح تھی۔ وہ اسلامی ریاست کا مفہوم بتا رہی تھی۔ اس کو برپا کرنے کی حکمت عملی کو دو اور دو چار کی طرح بیان کر رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ جدید ریاستی اداروں کی اسلامی تشکیل کے باب میں بھی ایک نقطہ نظر رکھتی تھی۔

قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ کو جب ایک جدیدریاست کے قیام کا چیلنج درپیش ہوا تو اس کی اسلامی تشکیل کے لیے اس کے پاس کوئی متعین راستہ موجود نہیں تھا۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اس پر اخلاقی دباؤ کا باعث تھی کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں سے یہ وعدہ کر چکی تھی۔ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی جماعت اسلامی اسلامی دستور کے نفاذ کا مطالبہ لے کر کھڑی ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ’’جرم‘‘ میں ’’اسلامی ریاست‘‘ میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جماعت اسلامی نے ایک حد تک دوسرے علما کو بھی اپنا ہم نوا بنا لیا اور اس کے نتیجے میں علما کے بائیس نکات سامنے آ گئے۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں ۱۹۴۹ء میں قراردادِ مقاصد بھی منظور ہو گئی۔ یوں مسلم لیگ دھیرے دھیرے اپنی کمزوری کے سبب پیچھے ہٹتی گئی اور جماعت اسلامی کے تصور اسلامی ریاست نے اس خلا کو بھر دیا جو مسلم لیگ کی فکری نا اہلی کے سبب موجود تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ علامہ اقبال کی فکر پسِ منظرمیں چلی گئی اور اسلامی ریاست کا وہ تصور غالب آ گیا جو مولانا مودودی کی فکر سے پھوٹی تھا۔ جماعت اسلامی نے اپنی ابلاغی صلاحیت سے یہ مقدمہ بھی قائم کر دیا کہ علامہ اقبا ل او قائد اعظم دراصل وہی اسلامی ریاست چاہتے تھے جس کا تصور جماعت اسلامی دے رہی ہے اور یوں تحریکِ پاکستان کے فکری وارث وہی ہے۔ مولانا طفیل محمد مرحوم نے اس ’’ یکسانیت‘‘ کو یوں بیان کیا کہ جماعت اسلامی اس کے سوا کیا ہے کہ مسلم لیگ کا اردو ترجمہ ہے۔

اب جو لوگ جماعت اسلامی یا اس کے خیالات کے مخالف ہیں، وہ اس تاریخی مغالطے کو شاید صحیح تناظر میں سمجھ نہیں پائے۔ وہ اس کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے کہ علامہ اقبال یا قائد اعظم کے تصور اسلامی ریاست کو واضح کرتے ہوئے، اسے جماعت اسلامی کے تصورِ ریاست سے مختلف ثابت کرتے۔ اپنے فکری افلاس کے سبب انہوں نے رد عمل میں قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنا چاہاکیونکہ وہ خود پاکستان کو اسی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات چونکہ خلافِ واقعہ تھی، اس لیے انہیں یہاں کوئی سایہ ء دیوارنہ مل سکا اور انہیں حقائق کی دھوپ کا سامنا کرنا پڑا۔

میرا تاثر یہ ہے کہ اگر اس تاریخی مغالطے کو دور کرتے ہوئے، یہ سمجھنے کی شعوری کوشش کی جائے کہ علامہ اقبال اور قائداعظم کے پیش نظراسلامی ریاست کا تصور کیا تھا تو شاید قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ تاہم جو پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے ہیں، ان کے سامنے ایک راستہ ہے کہ وہ اپنے مطالبے کو قائد اعظم کی فکر سے آزاد کرتے ہوئے پیش کریں۔ اس پسِ منظر میں طالبان اور قائد اعظم کاتقابل بے معنی ہوگا۔ انہیں اس پر ریفرنڈم کرانا چاہیے کہ پاکستانی ریاست کے نظری خدو خال کا تعین اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہوگا یا سیکولر تصورات کی روشنی میں۔ تاریخ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ واقعات سے عبارت ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف نظریات کی بحث دلیل و استدلال کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے۔ سیکولرزم کے علمبر دار اگر پاکستان کی نظری تشکیل کے سوال کو قائد اعظم سے آزاد کرتے ہوئے زیرِبحث لائیں گے تو انہیں آسانی ہوگی۔ پھر بحث عقلی اور فکری دائرے میں ہوگی، تاریخ کے دائرے میں نہیں۔ 


آراء و افکار

(دسمبر ۲۰۱۲ء)

دسمبر ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۱۲

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مذہبی تعلیم سے وابستہ چند فکری پہلو
محمد عمار خان ناصر

قائد اعظم یا طالبان، کس کا پاکستان؟
خورشید احمد ندیم

عالم اسلام کے معروضی حالات میں اصل مسئلہ
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

نابالغی کا نکاح اور سیدہ عائشہؓ کی عمر ۔ چند نئے زاویے (۱)
مولانا محمد عبد اللہ شارق

.... اور کافری کیا ہے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن

ریاست کے اندر ریاست
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قاضی صاحب پر حملہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’مقالاتِ جاوید‘‘ پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

ٹی بی ۔ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
حکیم محمد عمران مغل

Flag Counter