پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا نیا مرحلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خاتمہ کے حوالہ سے رٹ کی سماعت طویل عرصہ کے بعد دوبارہ شروع ہونے سے ملک میں رائج سودی قوانین سے نجات کی جدوجہد نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی تحریک انسداد سود پاکستان نے نئی صف بندی کے ساتھ اپنی مہم پھر سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور نے وفات سے چند ہفتے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار ہو گا مگر ان کی ہدایت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا...

مساجد و مدارس اور وقف اداروں کے بارے میں نیا قانون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی مساجد و مدارس اور وقف املاک کے حوالہ سے جو قانون منظور کیا گیا ہے اس پر ملک بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف النوع تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا اصل محرک مالیاتی حوالہ سے بین الاقوامی اداروں کے مطالبات ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے اس قانون کے فوری نفاذ کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے درجہ میں اسلام آباد میں اور وہاں یہ تجربہ کامیاب ہونے کے بعد ملک بھر میں اس قانون کا دائرہ پھیلایا گیا تو پورے ملک میں مساجد و مدارس اور...

تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ پنجاب کا ایک رخ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ جس میں انبیائے کرامؑ، خاتم النبیین ، ازواج مطہراتؓ ، صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین کے ناموں کے ساتھ القابات اور دعائیہ کلمات کو لکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس اعتبار سے ایک اچھی قانونی پیش رفت ہے کہ اسلام میں جو محترم ومقدس اور معتبر ہستیاں ہیں ، جن سے مسلمانوں کی ایک عقیدت وابستہ ہے، ان کا تذکرہ عام دنیاوی رہنماﺅں کی طرح نہ کیا جائے، اسے کچھ اصول وآداب کا پابند بنایا جائے۔ لیکن مذہبی اعتبار سے یہ جتنا حسّاس موضوع ہے ، اس قانون کے مسودے کی نوک پلک سنوارنے والوں نے اس کی نزاکتوں کا احساس کیے بغیر اسے عجلت میں پاس کر...

تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ:ایک جائزہ

ڈاکٹر محمد شہباز منج

تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ کے عنوان سے پنجاب اسمبلی نے گذشتہ دنوں جو ایکٹ منظور کیا ہے، اس کی خبر اور اس کی بعض دفعات کے مندرجات کا تذکرہ پڑھنےسے میرا پہلا تاثر یہ بناتھا کہ یہ ایکٹ جہالت کا بد ترین نمونہ ہے، تاہم میں اس کے متن کو دیکھ کر اس پر کوئی تفصیلی بات کرنا چاہتا تھا۔ اب متن دستیاب ہوا ہے، تو اس کو پڑھ کرمیرا تاثر یہ ہے کہ یہ صرف جہالت نہیں، بلکہ تکبر، ظلم اور فریب کا بھی مرکب ہے۔ آیئے ذرا اس کا مطالعہ کر کےدیکھیے: مذہبی حلقوں میں اس ایکٹ کے حوالے سے جس مسئلے پرنفیاً یا اثباتاً زیادہ بحث ہو رہی ہے، وہ ایکٹ کے سیکشن 3 کی شق ایف اور سیکشن...

قومی اور مذہبی اظہاریوں کا خلط مبحث اور سماج کی تقسیم کاری

ڈاکٹر عرفان شہزاد

قومی ریاستوں کی تشکیل کے دور میں پاکستان ایک قومی مذہبی ریاست کی صورت میں منصہ شہود پر نمودار ہوا۔ قومی ریاستوں کی تشکیل میں جغرافیہ کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ جغرافیہ میں شامل مختلف رنگ و نسل کے لوگ نظریے اور عقیدے کے فرق کے علی الرغم قومی ریاستوں کا حصہ بنے۔ پاکستانی ریاست کی تشکیل بھی اسی اصول پر عمل میں آئی لیکن سیاسی عمل کے دوران میں مذہبیت یا اسلامیت کا عنصر بھی اس میں شامل ہو گیا جو قومی شناخت کی اظہاریوں میں غلبہ پاتا چلا گیا۔ مذہبیت کے اس عنصر نے اس نومولود ریاست کی اکثریتی مسلم کمیونٹی کے احساس میں اس کی ملکیت کا تصور پیدا کر دیا۔...

نظریہ پاکستان اور قومی بیانیہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۹۴۷ء میں اسلامی نظریہ اور مسلم تہذیب وثقافت کے تحفظ وفروغ کے عنوان سے جنوبی ایشیا میں ’’پاکستان” کے نام سے ایک نئی مملکت وجود میں آئی تو یہ تاریخی اعتبار سے ایک اعجوبہ سے کم نہیں تھی کہ اس خطے میں مسلم اقتدار کے خاتمہ کو ایک صدی گزر چکی تھی، جبکہ مغرب میں اسلام کے نام پر صدیوں سے چلی آنے والی خلافت عثمانیہ ربع صدی قبل اپنے وجود اور تشخص سے محروم ہو گئی تھی اور اقتدار اور حکومت وریاست کے حوالے سے مذہب کے کردار کی نفی اور خاتمہ کے دور نے ’’انقلاب فرانس” کے بعد ڈیڑھ صدی گزار لی تھی۔ اس ماحول میں اسلامی تہذیب کی بقا کے عنوان اور حکومت وریاست...

تعلیمی نظام کے حوالے سے چیف جسٹس کے ارشادات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ۷۰ سال ہو گئے ہیں لیکن وطن عزیز میں تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دینی چاہیے تھی، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، پاکستان میں تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کے حوالہ سے آگاہی کی مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پرائیویٹ اسکولوں کے معاملہ کو سن لیں اس کے بعد معاملہ حکومت کے ساتھ ہوگا۔ سرسید احمد خان کو بھی یقین تھا کہ پڑھو گے نہیں تو پیچھے رہ جاؤ گے، ہمیں تعلیم پر توجہ دینی چاہیے، تعلیم ترقی دیتی ہے...

سی پیک منصوبہ : قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سی پیک معاہدات‘‘ کو قومی اسمبلی میں زیربحث لایا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ قرضے ہیں یا سرمایہ کاری ہے؟ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح افغانستان سے مہاجر یہاں آئے تھے اب چینی گوادر میں بہت تعداد میں آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کی معدنیات چین لے جا رہا ہے اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ کتنا سونا اور دوسری معدنیات نکل رہی ہیں۔ چین ہمارا دوست ملک ہے جس نے ہر دور میں اور...

احمدیوں کی مذہبی اور آئینی حیثیت کی بحث

محمد عمار خان ناصر

احمدیوں کی تکفیر اور ختم نبوت سے متعلق امت مسلمہ کے اجماعی عقیدے کے تحفظ کے ضمن میں ہمارے ہاں کی جانے والی قانون سازی گزشتہ دنوں بعض مبینہ قانونی ترمیمات کے تناظر میں ایک بار پھر زیر بحث آئی۔ اس پس منظر میں والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں بعض توجہ طلب سوالات دینی حلقوں کے غور وفکر کے لیے اٹھائے۔ ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ: ’’چوتھی بات اس مسئلہ کے حوالہ سے ان حلقوں کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں جو ۱۹۴۷ء کے بعد سے مسلسل مسئلہ ختم نبوت کے دستوری اور قانونی معاملات کو سبوتاڑ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ بین الاقوامی...

دستور کی اسلامی دفعات اور ’’سیاسی اسلام‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ربع صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ گکھڑ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر? کی مسجد میں دینی جلسہ تھا، اس دور کے ایک معروف خطیب بیان فرما رہے تھے، موضوعِ گفتگو دارالعلوم دیوبند کی خدمات و امتیازات تھا۔ جوشِ خطابت میں انہوں نے یہ فرما دیا کہ دارالعلوم دیوبند نے شاہ اسماعیل شہید جیسے سپوت پیدا کیے۔ جلسہ کے بعد دسترخوان پر ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! دارالعلوم دیوبند کا آغاز 1866ء میں ہوا تھا جبکہ شاہ اسماعیل شہید اس سے تقریباً پینتیس سال قبل بالاکوٹ میں شہید ہوگئے تھے، آپ نے انہیں دارالعلوم دیوبند کے سپوتوں میں...

تقسیم مسلسل سے گزرتی پاکستانی قوم

محمد حسین

برصغیر کی گزشتہ چند دہائیوں کو دیکھ لیا جائے تو تقسیم کا عمل ہمیں قدم قدم پر پہلے سے زیادہ پرتشدد اور پرتعصب نظر آتا ہے۔ مسلم سلطنتوں کی داخلی خلفشار اور کمزوریوں کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی سے شکست ہوئی جس کے خاتمے اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زمام حکومت سنبھالنے کے بعد تقسیم کا عمل پھر سے شروع ہوا۔ پہلے ہندوستانی و برطانوی بنے، اور ہندو مسلم مل کر برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدو جہد کی۔ پھر ہندوستانی بلاک ہندو مسلم میں تقسیم ہو گیا۔ مسلمان بھی دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک متحدہ ہندوستان کے حق میں تھا اور دوسرا مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے...

رؤیت ہلال کا مسئلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(ڈاکٹر محمد مشتاق احمدکی کتاب ’’رویت ہلال: قانونی وفقہی تجزیہ‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)۔ نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔ رؤیت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث ومباحثہ اور اختلاف وتنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو...

قومی بیانیہ اور اہل مدارس

مولانا مفتی منیب الرحمن

بیانیہ یا Narrative ہماری سیاست و صحافت کی نئی اصطلاح ہے جو اکیسویں صدی میں متعارف ہوئی، اس سے پہلے شاید کہیں اس کا ذکر آیا ہو، لیکن ہمارے مطالعے میں نہیں آیا۔ البتہ ایک نئے ’’عمرانی معاہدے‘‘ (Social Contract) کی بات کی جاتی رہی ہے، حالانکہ کسی ملک کا دستور ہی اس کا عمرانی معاہدہ ہوتا ہے اور پاکستان کا دستور اتفاقِ رائے سے 14 اگست 1973ء کو نافذ ہوا اور اْس کے بعد سے اب تک اس میں 22 ترامیم ہوچکی ہیں۔ اٹھارھویں ترمیم نے اِسے فیڈریشن سے کنفیڈریشن کی طرف سرکا دیا ہے۔ 7 ستمبر 2015ء کو وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں قومی بیانیہ ترتیب دینے کے لیے ایک...

وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں جامعہ نعیمیہ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دینی حلقوں کی طرف سے ’’متبادل بیانیہ‘‘ کی جس ضرورت کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ارباب فکر و دانش اپنے اپنے نقطہ? نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی یہ تقریر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ براہ راست سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں جس ضرورت کا اظہار کیا ہے وہ یقیناً موجود ہے لیکن ’’بیانیہ‘‘ کی اصطلاح اور ’’متبادل‘‘ کی شرط کے باعث جو تاثر پیدا ہوگیا ہے وہ کنفیوڑن...

اسلامی ریاست اور سیکولرزم کی بحث

محمد عمار خان ناصر

(گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر پاکستان کی نظریاتی اساس کے حوالے سے جاری بحث میں راقم الحروف نے وقتاً فوقتاً جو مختصر تبصرے لکھے، انھیں یہاں ایک ترتیب کے ساتھ یکجا پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)۔ منطقی مغالطوں میں ایک عامۃ الورود مغالطہ کو اصطلاح میں argumentum ad hominem کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نفس دلیل کی کمزوری پر بات کرنے کے بجائے، دلیل یا موقف پیش کرنے والے کی نیت اور کردار وغیرہ کی خرابی نمایاں کی جائے اور اس سے یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ چونکہ کہنے والا ایسا اور ایسا ہے، اس لیے اس کی بات غلط ہے۔ مذہبی اور سیاسی اختلاف رائے میں اس مغالطے کا استعمال...

ایک نئے تعلیمی نظام کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ دارالعلوم کراچی کے عصری تعلیم کے ادارے ’’حرا فاؤنڈیشن سکول‘‘ کی ایک تقریب کی رپورٹ اخبارات میں نظر سے گزری جو سکول کے اکتیس حفاظ قرآن کریم کی دستار بندی کے حوالہ سے منعقد ہوئی۔ اس میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے علاوہ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور مولانا مفتی محمد نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں اپنے خطاب کے دوران مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ: ’’ہمیں ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جس میں دینی اور دنیوی تعلیم اکٹھی دی جائے، جہاں دین کی بنیادی معلومات سب کو پڑھائی جائیں۔ اس کے بعد...

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی

محمد عامر رانا

ممکن ہے انتہاپسندی اور تشدد سے نمٹنا آسان ہو مگر عسکریت پسند گروہوں پر قابو پانا ہرگز آسان نہیں ہے۔ کم از کم پاکستان کی حد تک تو یہ بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر کالعدم انتہا پسند گروہوں سے نمٹنے کے معاملے میں ہم تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ممنوع تنظیموں کی میڈیا کوریج پر پابندی کے حوالے سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حالیہ نوٹیفکیشن سے مختلف حکومتی محکمہ جات میں اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اس سے جہاں مختلف انتہاپسند تنظیموں کی حیثیت کے بارے...

سود کا خاتمہ : ریاست کی ذمہ داری

حافظ عاکف سعید

سود کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے۔ اخبارات میں آیا ہے کہ میری طرف سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ ہمارے دستور کا آرٹیکل 38 کہتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں سود کا خاتمہ کرے۔ ہمارے دستور میں اسلامی شقیں موجود ہیں، لیکن کچھ چور دروازے بھی ہیں۔ دستور میں اسلام کا اچھا خاصا مواد موجود ہے، مگر جتنا کچھ ہے، افسوس یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد نہیں ہے۔ یہ المیہ ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ سود کتنا بڑا گناہ ہے۔ قرآن مجید میں جو الفاظ سود کی قباحت و شناعت کے بارے میں آئے ہیں، وہ کسی اور گناہ کے لیے نہیں آئے۔ یعنی تم سودی لین دین...

اردو پر کرم یا ستم؟ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

جسٹس ج۔س۔ خواجہ نے اردو کو بطور سرکاری زبان رواج دینے کے دستوری تقاضے کے بارے میں بطور چیف جسٹسً اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز پہلے جو فیصلہ دیا ہے، اس پر تحسین و تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اردو کی دادرسی کا کس حد تک ذریعہ بنتا ہے ، یہ وقت بتائے گا ۔ ماضی تو بہرصورت مایوس کن ہے۔ کوئی بابائے اردو بھی نہیں جو صورت حال کو بدلنے کے لئے میدان لگائے۔ ہم اس فیصلے میں پائے جانے والے inherent omissions پر کچھ کہنا چاہیں گے۔ مقصود بہتری کے امکانات سامنے لانا ہے۔ اردو کا موجودہ کیس سپریم کورٹ میں دو آئینی درخواستوں کا نتیجہ ہے۔ درخواست نمبر ۵۶ سال...

’’اللہ پوچھے گا‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سپریم کورٹ کے محترم جج جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی اپنی مدت ملازمت پوری کر کے عدالت عظمیٰ سے رخصت ہوگئے ہیں مگر جاتے جاتے ملک کے دینی حلقوں کو بے چین اور متحرک کر گئے ہیں۔ سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے رخصت ہوتے ہوئے قومی زبان اردو کے بارے میں تاریخی فیصلہ صادر کر کے ایک کریڈٹ اپنے نام تاریخ میں محفوظ کر لیا تھا، جبکہ جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی نے بھی جاتے ہوئے سودی نظام کے خلاف حافظ عاکف سعید کی رٹ مسترد کر کے اور متنازعہ ریمارکس دے کر ایک ’’کریڈٹ‘‘ اپنے نام ریکارڈ کرا دیا ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے جج کے طور پر فرمایا کہ سودی نظام ختم...

۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات

ادارہ

(اسلامی حکومت کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے ۱۹۵۱ء میں سارے مکاتب فکر کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کردہ ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات۔)۔ ایک مدتِ دراز سے اسلامی دستورِ مملکت کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوتی ہیں۔ اسلام کا کوئی دستورِ مملکت ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کے اصول کیا ہیں اور اس کی عملی شکل کیا ہوسکتی ہے؟ اور کیا اصول اور عملی تفصیلات میں کوئی چیز بھی ایسی ہے جس پر مختلف اسلامی فرقوں کے علماء متفق ہوسکیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے متعلق عام طور پر ایک ذہنی پریشانی پائی جاتی ہے اور اس ذہنی پریشانی میں ان مختلف دستوری...

دستوری سفارشات پر مشاہیر علماء کا تبصرہ اور ترمیمات

ادارہ

پاکستان میں دستور کی اسلامی بنیادوں کے حوالہ سے جنوری 1951ء کے دوران کراچی میں تمام مکاتب فکر کے 31 سرکردہ علماء کرام نے جمع ہو کر ’’22 متفقہ دستوری نکات‘‘ پیش کیے تھے جو کئی بار منظر عام پر آچکے ہیں اور کم و بیش تمام مکاتب فکر کی دینی و سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ مسلسل اتفاق کا اظہار کرتی آرہی ہیں، جبکہ اس کے دو سال بعد جنوری 1953ء میں انہی اکابر علماء کرام کا اجلاس دوبارہ کراچی میں ہوا تھا جو 11 جنوری سے 18 جنوری تک مسلسل جاری رہا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے مجلس دستور ساز کے تجویز کردہ بنیادی اصولوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے...

نفاذِ شریعت کے رہنما اصولوں کے حوالے سے ۵۷ علماء کرام کے متفقہ ۱۵ نکات

ادارہ

چونکہ اسلامی تعلیمات کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار یں اور پاکستان اسی لئے بنایا گیا تھا کہ یہ اسلام کا قلعہ اور تجربہ گاہ بنے لہٰذا 1951ء میں سارے دینی مکاتب فکر کے معتمد علیہ 31علماء کرام نے عصر حاضر میں ریاست و حکومت کے اسلامی کردار کے حوالے سے جو 22 نکات تیار کیے تھے انہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو ٹھوس بنیادیں فراہم کیں اور ان کی روشنی میں پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کے حوالے سے کئی دستور ی انتظامات بھی کر دیے گئے لیکن ان میں سے اکثر زینت قرطاس بنے ہوئے ہیں اور ان پر کوئی...

خاندانی نظام کے لیے تباہ کن ترمیم

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مسلمانوں کے ہاں لے دے کر ایک خاندانی یونٹ بچا ہوا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے سال ۲۰۱۵ میں فیملی کورٹس ایکٹ ۱۹۶۴ء میں ایک ترمیم منظور کی ہے جسے گورنر کی منظوری سے باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ یہ ترمیم خاندانی یونٹ کے لئے انتہائی تباہ کن ہے۔ نتیجہ کے طور پر عدالتوں میں طلاق کے مقدمات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے خلع کے اصول کو مسخ کیا گیا ہے۔ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین، جناب مولانا خان محمد شیرانی کی جانب سے ۲۸ مئی ۲۰۱۵ کے اخبارات میں تفصیلی وضاحت شائع ہوئی ہے۔ یہ وضاحت کونسل کے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کی...

دستور پاکستان اور عالمی لابیاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملک کے دستور و آئین کے خلاف جو قوتیں ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہیں، موجودہ سیاسی بحران کی طوالت سے ان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ شاید اس مہم کا اصل مقصد یہی ہو۔ ہم نہیں سمجھتے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری ارادتاً وطن عزیز کو بے آئین کر کے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور جغرافیائی وحدت کو داؤ پر لگا سکتے ہیں، لیکن غیر شعوری طور پر بہت کچھ ہو سکتا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں ’’عرب بہار‘‘ کے سیاسی اور عوامی ریلے سے عالمی منصوبہ بندوں نے جو نتائج انتہائی انجینئرڈ طریقہ سے حاصل کر لیے ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی نتیجہ...

اقبالؒ کا پاکستان

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا بشیر احمد پسروریؒ کے پوتے مولانا حافظ محمد عثمان نے پسرور ڈسکہ روڈ پر دارالعلوم رشیدیہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وہاں مسجد اقصیٰ کی طرز پر اسی عنوان سے ایک وسیع مسجد کی تعمیر کا پروگرام ہے۔ مولانا محمد عثمان کی خواہش تھی کہ مسجد کے سنگ بنیاد کی اینٹ رکھنے کی سعادت میں حاصل کروں جو میرے لیے اعزاز کی بات تھی اور میں اس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ جبکہ اس سے چند میل کے فاصلہ پر بَن باجوہ میں معہد الرشید الاسلامی کے نام سے ایک دینی مرکز قائم ہے۔ ہمارے محترم دوست بھائی ذوالفقار صاحب اپنے دوستوں کے ہمراہ اس کا نظام...

اسکولوں میں عربی زبان کو لازم قرار دینے کا فیصلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں قرآن کریم کے حفاظ میں انعامات کی تقسیم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ خوش خبری دی ہے کہ اسرکاری سکولوں میں میٹرک تک عربی زبان کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے جس کے لیے اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کی تعلیم کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں اس سلسلہ میں مسلسل بے پروائی سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ مگر اب حکومت نے اس طرف توجہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور میٹرک تک عربی تعلیمی کو لازم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عربی زبان...

سودی نظام کے خلاف دینی حلقوں کی مشترکہ مہم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے ۱۵ جولائی ۱۹۴۸ء کو کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ: ’’میں نہایت اشتیاق کے ساتھ آپ کی ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت موجود بینکنگ نظام کو اسلامی معاشی اور معاشرتی افکار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سعی و کوشش کو دیکھنا چاہوں گا۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے کچھ ناقابل حل مسائل پیدا کیے ہیں اور بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی معجزہ ہی اسے تباہی سے بچا سکتا ہے۔ یہ نظام انسانوں کے مابین معاشی عدل قائم کرنے اور عالمی سطح پر ہونے والی کشمکش کے تدارک میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس کے برخلاف...

آزادی فکر و نظر اور مسلم معاشرے کی صورت حال

مولانا محمد وارث مظہری

آزادی فکر ونظر انسانی فطرت کا لازمی تقاضا ہے۔انسان حیوان ناطق ہے۔اسے عقل اور قوت تفکیر سے نوازا گیا ہے جس کے ذریعے وہ خیر وشر میں تمیز کرتا ہے اور جس کی بنیاد پر اس سے فطرت کا مطالبہ ہے کہ وہ خود اپنی ذات وکائنات میں غور کرکے اپنے وجود کے مقصد کی دریافت کرے ۔قرآن میں درجنوں مقامات پر تقلیدی روش اختیار کرنے کے بجائے انسان کو عقل کے استعمال پر ابھارا گیا ہے اور عقل وفکر کو پس پشت ڈال دینے والوں کو اس معاملے میں جانوروں بلکہ ان سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے۔(الاعراف: 179) اس لحاظ سے دوسرے تمام قابل ذکر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کو عقل و فکر کا مذہب قرار...

قومی نصاب تعلیم میں اصلاح و ترمیم کا مسئلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۲۲ اپریل ۲۰۱۳ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کا موضوع قومی نصاب تعلیم میں اسلامیات کے مضامین اور مواد کو کم کرنے اور نصابِ تعلیم کو مبینہ طور پر سیکولر نصابِ تعلیم کی شکل دینے کے بارے میں بعض اخباری رپورٹوں کا جائزہ لینا تھا۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی نے سیمینار کی صدارت کی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا اللہ وسایا مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا محمد قاسم، مولانا غلام نبی، مولانا محمد عثمان، حافظ محمد عمار خان ناصر، مولانا...

اسلامی نظام کی جدوجہد اور اس کی حکمت عملی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہمارے ہاں پاکستان کی معروضی صورت حال میں نفاذِ اسلام کے حوالہ سے دو ذہن پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ سیاسی عمل اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ اسلام نافذ ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ ہتھیار اٹھائے بغیر اور مقتدر قوتوں سے جنگ لڑے بغیر اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ ایک طرف صرف پارلیمانی قوت پر انحصار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہتھیار اٹھا کر عسکری قوت کے ذریعہ مقتدر قوتوں سے جنگ لڑنے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ دونوں طریقے ٹھیک نہیں ہیں۔ صرف الیکشن، جمہوریت اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ نفاذ اسلام اس ملک میں موجودہ حالات میں...

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۱۲؍ نومبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے چھوٹے بھائی محمد الظواہری نے کہا ہے کہ سینا میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی خبریں گمراہ کن ہیں۔ ہماری جماعت دوسروں کو کافر قرار نہیں دیتی، اس لیے ہم پر تکفیری فرقے کے الزامات بے سروپا ہیں۔ ان اطلاعات میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ ’’اسلامی جہاد‘‘ قاہرہ میں دہشت گرد بم حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایسی خبریں اسلامی جہاد کے خلاف میڈیا میں ہونے والے منفی پراپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ مصری میڈیا اور سیکورٹی اداروں کو سابق...

پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد ۔ قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں ایک عمرانی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

قیامِ پاکستان کے بعد سے اس ملک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد بجائے خود، ایک اجتماعی معاشرتی خواہش (collective social will) کی مظہر رہی ہے کہ اسلام نافذ کیا جائے اور مملکت کے تینوں دساتیر (۵۶، ۶۲، ۷۳) کے بنیادی ڈھانچے ایک حد تک اسی معاشرتی خواہش کے سیاسی نتائج (political output) دیتے چلے آئے ہیں۔ ۱۹۷۳ کے آئین میں تو خیر سے ریاست کو بھی کلمہ پڑھوا دیا گیا ہے کہ اسلام، مملکت کا سرکاری مذہب قرار پایا ہے۔ اس لیے جہاں تک آئین و قوانین کی بات ہے، معاشرتی خواہشات کے سیاسی ثمرات میں ڈھلنے کا تعلق ہے، حالات و واقعات بہت زیادہ سنگین اور تشویش انگیز نہیں ہیں۔ایسے میں سوال پیدا...

تکفیر اور خروج : دستورِ پاکستان کے تناظر میں

محمد مشتاق احمد

موضوعِ زیر بحث کے کئی گوشے ہیں ۔ جو لوگ خروج کے قائل ہیں ان میں سے بعض تو حکمرانوں کے بعض اقوال یا افعال کی بنا پر ان کی تکفیر کرکے ان کی معزولی کو واجب قرار دیتے ہیں جبکہ بعض کا استدلال یہ ہے کہ پاکستان کا دستور ’ کفریہ ‘ ہے اور اس ’کفریہ نظام ‘ میں کہیں کہیں اگر اسلام کی پیوند کاری کی بھی گئی ہے تو اس کے باوجود اسے اسلامی نہیں مانا جاسکتا ۔ پھر بسا اوقات بحث میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کا حوالہ بھی آجاتا ہے ۔ یہ بحث بھی چھڑ جاتی ہے کہ پاکستان دار الاسلام ہے یا نہیں ؟ دستور نے اگر پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دیا ہے تو کیا...

کیا دستور پاکستان ایک ’کفریہ‘ دستور ہے؟ ایمن الظواہری کے موقف کا تنقیدی جائزہ

محمد عمار خان ناصر

القاعدہ کے راہنما شیخ ایمن الظواہری نے کچھ عرصہ پہلے ’’الصبح والقندیل‘‘ کے زیر عنوان اپنی ایک کتاب میں دستور پاکستان کی اسلامی حیثیت کو موضوع بنایا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ’’سپیدۂ سحر اور ٹمٹماتا چراغ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ظواہری دستور پاکستان کے مطالعہ کے بعد ’’پوری بصیرت‘‘ کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’’پاکستان ایک غیر اسلامی مملکت ہے اور اس کا دستور بھی غیر اسلامی ہے، بلکہ اسلامی شریعت کے ساتھ کئی اساسی اور خطرناک تناقضات پر مبنی ہے۔ نیز مجھ پر یہ بھی واضح ہوا کہ پاکستانی دستور بھی اسی مغربی ذہنیت کی پیداوار ہے جو عوام...

قومی خودمختاری کا سوال اور ہماری سیاسی قیادت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مسلسل ڈرون حملوں نے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی خود مختاری پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگا رکھا تھا، مگر شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ کے حوالہ سے ’’ایبٹ آباد آپریشن‘‘ نے اس سوال کے سوالیہ پہلو کو اور زیادہ تاریک کر دیا ہے اور پوری قوم وطن عزیز کی خود مختاری کی اس شرم ناک پامالی پر چیخ اٹھی ہے۔ پوری قوم مضطرب ہے، بے چین ہے اور ایک ’’اتحادی‘‘ کی اس حرکت پر تلملا رہی ہے، مگر حکومتی پالیسیوں کے تسلسل میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آ رہا اور وہ پالیسیاں جن کو ملک کے عوام نے گزشتہ الیکشن میں کھلے بندوں اپنے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا او رمنتخب...

توہین رسالت پر سزا کا قانون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

توہین رسالت کی سزا کے قانون کے خلاف ملک میں مختلف حلقے سرگرم عمل ہیں۔ ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو سرے سے توہین رسالت کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور اس پر کسی سزا کو آزادئ رائے، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کے منافی تصور کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے مغربی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، بلکہ اس پر ظالمانہ قانون اور کالا قانون ہونے کی پھبتی بھی کستے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرز فکر کے نمائندہ دانش ور سیکولر جمہوریت کو عدل وانصاف کا واحد معیار تصور کرتے ہوئے سوسائٹی کے اجتماعی معاملات اور ریاست وحکومت کی پالیسیوں میں مذہب کا کوئی حوالہ قبول کرنے...

۲۹۵ سی : اقلیتوں کا نقطہ نظر

ڈاکٹر کنول فیروز

یادش بخیر! ۲۹۵۔سی کے حوالے سے ہم پہلے بھی اپنی نپی تلی رائے دے چکے ہیں کہ پاکستان کی اقلیتیں خصوصاً مسیحی اس کی روح اور نفاذکے قطعی خلاف نہیں کیونکہ اس قانون کا نفاذ واطلاق اہل اسلام کے دینی اور قلبی جذبات واحساسات کا انتہائی حساس مسئلہ ہے اور شایدا سی لیے جب پہلے پہلے قومی اسمبلی نے اس کی منظوری دی اور پھر بعدا زاں شریعت کورٹ نے اس جرم کی کم از کم سزا موت قرار دی تو اقلیتی حلقوں نے اس سے کوئی تعرض نہ کیا بلکہ اس وقت کے اقلیتی ایم این اے عمانوئیل ظفر نے کریمنل لاء امینڈمینٹ بل ۱۹۸۶ء کی منظوری کے دوران جو وزیرمملکت برائے عدل وپارلیمانی امور میر...

نفاذ شریعت کی جدوجہد: ایک علمی مباحثہ کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر جہاد کی شرعی حیثیت، موجودہ معروضی حالات میں اس کی عملی صورتوں اور دنیا کے مختلف حصوں میں جہادی تحریکات کے طریق کار کے حوالے سے مباحثہ کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے اور کم وبیش اس سلسلے میں رائے رکھنے والے اکثر دوستوں کا نقطہ نظر کسی نہ کسی پہلو سے سامنے آ چکا ہے۔ ہمارا مقصد اس قسم کے مباحث سے یہی ہوتا ہے کہ ملی اور قومی سطح کے مسائل میں علمی اور فکری طور پر رائے رکھنے والے حضرات کا نقطہ نظر قارئین کے سامنے آئے تاکہ انھیں کھلے ماحول میں مسئلہ کے تمام پہلووں کو ملحوظ رکھتے ہوئے رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اس کے ساتھ ہی...

قرار داد مقاصد کا متن

ادارہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ’’اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد و خود مختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ جس کی رو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، روا داری اور عدل عمرانی کے اصولوں کا پورا تباع کیا جائے گا۔ جس کی رو سے...

تمام مکاتب فکر کے ۳۱ اکابر علماء کرام کے طے کردہ متفقہ ۲۲ دستوری نکات

ادارہ

مدت دراز سے اسلامی دستور مملکت کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسلام کا کوئی دستور مملکت ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کے اصول کیا ہیں اور اس کی عملی شکل کیا ہو سکتی ہے؟ اور کیا اصول اور عملی تفصیلات میں کوئی چیز بھی ایسی ہے جس پر مختلف اسلامی فرقوں کے علماء متفق ہو سکیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے متعلق عام طور پر ایک ذہنی پریشانی پائی جاتی ہے اور اس ذہنی پریشانی میں ان مختلف دستوری تجویزوں نے اور بھی اضافہ کر دیا ہے جو مختلف حلقوں کی طرف سے اسلام کے نام پر وقتاً فوقتاً پیش کی گئیں۔ اس کیفیت کو دیکھ کر یہ ضرورت محسوس...

قادیانی مسئلہ

خورشید احمد ندیم

مجلس تحفظ ختم نبوت نے سانحہ لاہور پر جوبیان جاری کیا ہے،اس میں کہی گئی ایک بات بطور خاص اہلِ مذہب اور ریا ست کی تو جہ چا ہتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ قادیانیت کے خلاف ہیں،قادیانیوں کے نہیں۔یہ جملہ اگر ہماری سمجھ میں آجا ئے تو شاید ہم اس آزمائش سے بخیر نکل سکیں،جس کا بطور قوم ہمیں اس وقت سامنا ہے۔ ۱۹۷۴ء سے پہلے قادیانیت ایک سماجی مسئلہ تھا۔جب ریاست نے اس گروہ کو غیر مسلم قرار دیا تواس کے بعد یہ ایک ریا ستی مسئلہ بھی ہے۔گویا اب اس کا ایک پہلو قا نو نی بھی ہے۔ضروری ہے کہ اس معا ملے کی ان دو جہتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے سمجھاجا ئے۔جہاں اس کا تعلق...

قرآن کریم اور دستور پاکستان

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں اس وقت حکومت اور حکمرانوں کے حوالے سے بہت سے مقدمات زیر سماعت ہیں اور اس سلسلے میں عدالت میں پیشی سے صدر اور وزیر اعظم کی استثنا پر ملک بھر میں بحث وتمحیص جاری ہے۔ ایک جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسلامی روایات وتعلیمات کے مطابق حاکم وقت بھی اسی طرح عدالت کے سامنے پیش ہونے کا پابند ہے جس طرح رعیت کے دوسرے لوگ پابند ہیں، جیساکہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش ہو کر اس کا اظہار کیا تھا، جبکہ دوسری طرف سے اس بات پر دلائل دیے جا رہے ہیں کہ حاکم اعلیٰ کی عدالت میں پیشی...

دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دستور پاکستان ایک بار پھر ترامیم کا سامنا کر رہا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک دستور پر نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات منظر عام پر آ چکی ہوں گی۔ ۱۹۷۳ء میں منتخب دستور ساز اسمبلی نے یہ دستور منظور کیا تھا اور اس وقت کی پارلیمنٹ کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا کہ اس نے قیام پاکستان کے ربع صدی بعد ملک کو ایک ایسا متفقہ دستور دیا جو قوم کے تمام طبقوں اور علاقوں کے لیے قابل قبول تھا اور پوری قوم نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے ایک نئی دستوری زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اس دستور کی بنیاد تین امور پر تھی: اسلام، جمہوریت اور وفاق۔ یہی تین دستوری بنیادیں...

پاکستانی عدلیہ: ماضی کا کردار اور آئندہ توقعات

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

پاکستان کی دستوری تاریخ میں، مولوی تمیزالدین کیس پہلا اہم کیس ہے۔ اس کیس کے پس منظر میں اختیار کی وہی لڑائی موجود ہے جو آج تک جاری ہے۔ دستور اور مقننہ توڑنے کے شوق کا اظہار ۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴ کو ہوا اور پھر ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ۷؍اکتوبر ۱۹۵۸ء، ۲۵؍ مارچ ۱۹۶۹ء، ۵؍جولائی ۱۹۷۷ء اور ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کی تاریخوں کو بھی سپہ سالاران فوج نے اسی ہوسِ غصب کا مظاہرہ کیا۔ البتہ ۹؍مارچ ۲۰۰۷ء اور ۳؍نومبر ۲۰۰۸ء کے مشرفی اقدام کا نشانہ ، مقننہ کے بجائے بالترتیب چیف جسٹس اور پھر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس تھے۔ پہلے اقدامات میں مقننہ اور حکومت نشانہ بنتی تھی،...

سزائے موت کے خاتمے کی بحث

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سزاے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان ملک بھر کے دینی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے قانونی نظام میں سزاے موت کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی مطالبہ اور دباؤ بھی موجود ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی کچھ عرصہ قبل یہ قرارداد منظور کر چکی ہے جس میں تمام ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قانونی نظاموں میں سزاے موت ختم کر دیں اور آئندہ کسی شخص کو کسی ملک میں کسی بھی جرم کے تحت...

بجلی کا بحران ۔ چند تجاویز

پروفیسر محمد شفیق ملک

اس وقت ملک عزیز میں جمہوری حکومت کی تشکیل مکمل ہوچکی ہے اور وزیراعظم پاکستان جناب یوسف رضاگیلانی نے مسائل اورپریشانیوں میں مبتلاپاکستان کے شہریوں کے لیے کچھ فوری اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹریڈیونین اور طلبہ یونین کی بحالی کے ساتھ ساتھ ورکرز کی بنیادی تنخواہ چھ ہزار روپے ماہانہ کرنے کااعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت عوام کی توقعات پر پوری اترے گی اور قوم کو خوشحالی کی طرف لے جائے گی۔ انہوں نے توانائی کی بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کااعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کی نیک نیتی شک سے بالاتر ہے، ہماری دعا...

اردو زبان کی ضرورت و اہمیت اور دینی مدارس کے طلبہ

مولانا مفتی محمد اصغر

ملک کے معروف معیاری جرائد ورسائل میں ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں مختلف الخیال لوگوں کے آرا وافکار اورجدید افکار ونظریات رکھنے والے ارباب علم ودانش اور مفکرین کے مضامین ومقالات شائع ہوتے ہیں جس سے ان کے خیالات سے آگاہی ہوتی ہے اورغور وفکر کاموقع ملتا ہے۔ دوسروں کا نقطہ نظر سامنے آتاہے اور ان کے موقف کی کمزوری یابرتری ثابت ہوتی ہے۔ علمی دنیا میں اس کی جتنی ضرورت ہے، شاید ہی کسی صاحب علم کواس سے اختلاف ہو۔ ’’الشریعہ ‘‘میں وقتاً فوقتاً دینی مدارس کے مسائل کوزیر بحث لایاجاتاہے اور نظام تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کی تعلیم...

پاکستان میں تاریخ نویسی کے ابتدائی رجحانات

پروفیسر شیخ عبد الرشید

علمِ تاریخ انسانی معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی افعال کا آئینہ دار ہے۔ اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین اور مفید علوم میں ہوتا ہے۔ یہ محض ماضی کے دلچسپ اور یادگار واقعات کی جستجو ہی کا نام نہیں جیسا کہ ہیروڈوٹس نے کہا تھا، بلکہ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم انسانی تہذیب کے عہد بہ عہد ارتقا کی تصویر دیکھتے ہیں۔ یہ انسانی جدوجہد کی داستان پیش کرتی ہے۔ اگر تاریخ انسانی ز ندگی کے مختلف شعبوں میں گزشتہ نسلوں کے بیش بہا تجربات آئندہ نسلوں تک نہ پہنچاتی تو انسانی تمدن کا کارواں کبھی رواں دواں نہ ہو پاتا اور زمانہ قبل از تاریخ کی تاریک اور کٹھن منزل پر...

پاکستان میں فوج کا سیاسی کردار ۔ وزیر اعظم لیاقت علی خاں سے جنرل ایوب خاں تک

پروفیسر شیخ عبد الرشید

بیسویں صدی کے وسط میں بہت سے ممالک نے طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی مگر کچھ ریاستوں کی جھولی میں یہ آزادی پکے ہوئے پھل کی طرح آ گری جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں سیاسی خلا پیدا ہوا۔ایسی ریاستوں میں کمزور ادارہ سازی کے ماحول میں شروع ہونے والے سیاسی عمل میں سول قیادتیں قومی ضرورتوں کو پورا کرنے میں نا کام رہیں اور سیاسی رہنماؤں کو status quo بدلنے کے لیے طاقت پر انحصار کرنا پڑا ۔مثال کے طور پر پاکستان میں سیاسی اداروں کے بر عکس فوج مربوط، منظم اور طاقتور ادارے کے طور پر طاقت کی علامت بن کر ابھری۔ قیامِ پاکستان کے فوری بعد کے عشرے میں...
1-50 (76) >
Flag Counter