جعلی مجاہد کی اصلی داستان

مفتی ابو لبابہ شاہ منصور

قارئین کرام! آپ کو علم ہوگا کہ ضرب مومن میں کتابوں پر تبصرے شائع نہیں کیے جاتے یا بہت ہی کم شائع کیے جاتے ہیں۔ نیز یہ بھی علم ہوگا (راقم الحروف پہلے بھی لکھ چکا ہے) کہ احقر کتابوں کا تعارف یا تقریظ لکھنے سے حتی الامکان کتراتا ہے۔ اپنی کتابوں پر بھی اپنے بڑوں کو تقریظ لکھنے کی زحمت دینا اچھا نہیں سمجھتا۔ مروجہ تقاریظ، کتاب، مصنف اور صاحب تقریظ سب کی ساکھ گرانے کا باعث لگتی ہیں۔ کتاب چاولوں کی دیگ نہیں کہ چند چاول دیکھ کر ساری دیگ کو دم لگ جانے کی خوشخبری سنا دی جائے، لیکن آج ا س اصول کو توڑتے ہوئے ہم اپنے آپ کو ایک انوکھی مجرمانہ کتاب کا تعارف کروانے پر مجبور پاتے ہیں۔ اس کتاب پر تبصرے کا خیال بھی ہمیں پیدا نہ ہوتا اگر ہمیں پاکستان میں جدید شرعی واخلاقی اقدار کے علمبردار چند سو کا عدد اشاعت رکھنے والے ایک رسالے کا تازہ شمارہ دیکھنے کو نہ ملتا جس میں خیر سے ایک ’’سچے مجاہد کی داستان حیات‘‘ قسط وار دی گئی ہے جو ایک ایسی کتاب سے ماخوذ ہے جس کے مترجم وناشر اس کے نسب کی ذمہ داری قبول کرنے پر تیار نہ تھے، لیکن آخر کار یہ تہمت ثبوتوں کے ساتھ سچی ثابت ہوئی اور یہ ناجائز تخلیق ان کے ذمہ لگ رہی۔

یہ کتاب ہمیں کچھ عرصے پہلے ایک مہربان دوست خالد جامعی صاحب نے دکھائی جو مطالعے کے انتہائی شوقین ہیں۔ خود کئی کتابوں کے مصنف ومترجم ہیں اور لکھنا پڑھنا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ بندہ نے پہلی نظر میں بھانپ لیا کہ انگریزی میں لکھی گئی اس کتاب کا مصنف ایوارڈ یافتہ فری میسن ایجنٹ ہے۔ کتاب کا موضوع جو شخصیت ہے، وہ بھی سند یافتہ فری میسن ایجنٹ ہے۔ کتاب کے مترجم کا نام غائب ہے اور اسے جس ناشر نے چھاپا ہے، اس سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ کتاب اس کے ادارے کے نام سے کسی اور نے چھاپی ہے اور وہ نہیں جانتے کہ شائع کنندگان کے مقاصد کیا ہیں؟ مزید کھوج لگائی گئی تو پتا چلا کہ اس کتاب کی تعارفی تقریب لاہور کے ایک ہوٹل میں امریکی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری کی سربراہی میں منعقد ہوئی تھی اور تقریب کی نظامت ہمارے ممدوح ’’غامدی اصغر‘‘ کر رہے تھے۔ وہی اس کتاب کے ناشر ہیں اور انھوں نے اپنی ایک اور ناجائز تخلیق جو مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ہے، بھی اس ادارے کے نام سے اسی جبری نام لگوائی والے طریق کار کے تحت چھپوائی ہے۔

راقم کو اس پر ذرا بھی تعجب نہیں ہوا، کیونکہ وہ ایک انھی صاحبزادے کو نہیں، صاحبزادگان کی ایک ایسی کھیپ کو جانتا ہے جو ’’اس جیسے کام اس جیسے انداز میں‘‘ انجام دینے کے لیے بیرونی سفارت کاروں کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے، البتہ تعجب اس ڈھٹائی اور بے باکی پر ہوا کہ غامدیت کے اس نوخیز ترجمان نے پچھلے دنوں اپنے تحریفی اقدار کے علمبردار رسالے میں یہ بحث شائع کی تھی کہ افغانستان کا جہاد اعلیٰ اخلاقی اقدار کے تحت کیا جانے والا جہاد نہیں ہے، موجودہ شمارے میں اسی کتاب میں ’’سچے مجاہد کی داستان‘‘ کو قسط وار کیسے شائع کر دیا؟ کیا قلم کی دنیا اور علم کی قلم رو میں شرم ومروت کا اتنا بھی گزر نہیں رہا کہ انسان اپنے پڑوس میں ہونے والے جہاد عظیم کے بارے میں دو اچھے لفظ نہ کہے اور پچھلی صدی میں مصدقہ یہودی گماشتے [اس کی ناقابل تردید تصدیقات خود زیر نظر کتاب سے بھی آ رہی ہیں] کے شکست خوردہ جہاد کو ’‘سچے جہاد‘‘ کا نام دے۔ یہودیت کی خانہ ساز غامدیت کے علمبردارو! خدا کا واسطہ ہے، کچھ تو لحاظ کرو۔ کوئلوں کی دلالی میں کیوں اپنا آپ کالا کرتے ہو؟؟

جو بھی شخص دنیا میں ایسے واقعات کے پیچھے نادیدہ ہاتھ تلاش کرتا ہے جو سمجھ میں آ کے نہیں دیتے، اسے دنیا کو مصائب وآلام میں مبتلا کرنے والی پھٹکاری تنظیم ’’فری میسن‘‘ تک سراغ جاتے دکھائی دیتے ہیں اور جو شخص بھی فری میسن کی آلہ کار شخصیات سے واقفیت رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ امیر عبد القادر جزائری نام کا نام نہاد مجاہد فری میسن ایجنٹ بن گیا تھا۔ یہودی آلہ کاروں پر کام کرنے والے ایک سے زیادہ محققین کا حوالہ میرے پاس ہے جنھوں نے اسے یہود کا گماشتہ لکھا ہے۔ مجھے ان کو پیش کرنے کی ضرورت پڑتی تو ان کے استناد پر بحث شروع ہو جاتی، لیکن خدا کا کرنا یہ کہ ’’سچے جہاد کی داستان‘‘ نامی اس کتاب میں ہی اس کی تصدیق مل گئی ہے، لہٰذا اب اس کی خارجی توثیق کی ضرورت نہیں۔ غامدی صاحبان شاید کتاب دیکھے بغیر اس کی ’’سمساری‘‘ قبول کر لیتے ہیں اور پھر حق نمک ادا کیے بغیر اس کا جائزہ لینے سے پہلے چھاپ بھی دیتے ہیں تاکہ ان کی حماقت اور خیانت کی سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔

کتاب کے وقیع پیش لفظ میں ہماری ایک انتہائی موقر علمی شخصیت نے اس کتاب کا بے نام ونسب اردو ترجمہ پاکستان میں شائع کرنے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

 ’’امیر عبد القادر الجزائریؒ مغربی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلمانوں کے جذبہ حریت اور جوش ومزاحمت کی علامت تھے اور وہ اپنی جدوجہد میں جہاد کے شرعی واخلاقی اصولوں کی پاس داری اور اپنے اعلیٰ کردار کے حوالے سے امت مسلمہ کے محسنین میں سے ہیں۔ ان کے سوانح وافکار اور عملی جدوجہد کے بارے میں جان کائزر کی یہ تصنیف نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کرانے میں یقیناًمفید ثابت ہوگی۔ ‘‘ (ص ۱۱)

آئیے، دیکھتے ہیں جہاد کے شرعی واخلاقی اصولوں کا پاسدار امت مسلمہ کا یہ محسن کون تھا؟ اور نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کروانے کے مقاصد کیا ہیں؟ ہم دور نہیں جاتے، اسی کتاب کے ص ۴۳۸ پر سچے مجاہد کے پیچھے موجود جھوٹے پشت پناہوں کا صاف ستھرا سراغ ملتا ہے۔ مصنف رقم طراز ہے: ’’جب جنرل اوٹ پول اپنے تصور میں امیر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تو پیرس میں فرانسیسی میسونی لاج ’’ہنری چہارم‘‘ کی ایک کمیٹی بڑی احتیاط سے امیر کے نام ایک خط تیار کر رہی تھی اور اس کے ساتھ موزوں عبارت والا ایک قیمتی زیور بھی منتخب کیا جارہا تھا۔ تقریباً ایک مہینے کی عرق ریزی کے بعد سولہ نومبر کو میسونی تنظیم کی علامت سے ڈھکے سبز جڑاؤ تمغے کے ہمراہ یہ خط ’’انتہائی عزت مآب جناب عبدالقادر‘‘کی خدمت میں ڈاک سے روانہ کر دیا گیا۔ تنظیم کا نشان دائرے کے اندر دو چوکھٹوں پر مشتمل تھا جس سے ایک ہشت پہلو شکل بنتی تھی جس سے روشنی کی شعاعیں خارج ہو رہی تھیں۔ عین درمیان میں فیثا غورث کی مساوات کندہ تھی۔‘‘ [یہودیوں کی مخصوص پسندیدہ علامت اس مساوات کا کچھ بیان آگے چل کر آئے گا]۔

مسجع ومقفع انداز میں لکھی گئی عبارت کے آخر میں امیر کو تنظیم کا رکن بننے کی دعوت دی گئی تھی:

 ’’بہت سے دل ایسے ہیں جو آپ کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں، بہت سے بھائی ایسے ہیں جو آپ کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ سے محبت کرتے ہیں اور اگر وہ آپ کو اپنی تنظیم کا رکن شمار کر سکیں تو انہیں بہت فخر ہوگا۔‘‘ (ص ۴۳۸، ۴۳۹)
’’عالمی برادری‘‘ میں شمولیت کی اس دعوت کو قبول کرنے میں سچے غامدی مجاہد نے دیر نہیں لگائی۔ چنانچہ ’’۱۸۶۴ء میں امیر کو دمشق میں شام کے میسونی لاج کا اعزازی گرینڈ ماسٹر نامزد کیا گیا۔ اس کے ایک برس بعد جب عبدالقادر فرانس گیا تو اسے فرانسیسی لاج ’’ہنری چہارم‘‘ میں شامل کر لیا گیا جس میں بنجمن فرینکلن، لاپلاس، لافاییٹ، وولٹیئر، سوٹ، مونجے، تالے راں، پرودوں اور دیگر ایسی ممتاز ہستیاں موجود تھیں جن کے لیے مظاہر فطرت، عقل اور اخلاقی قانون سب ایک الوہی تخلیق کار کے باہم موافقت رکھنے والے مظاہر تھے۔ ‘‘ (ص ۴۴۱)

ملاحظہ فرمائیے! عالمی سطح پر مسلم دشمن بلکہ انسانیت دشمن بدنام زمانہ تنظیم کے گرینڈ ماسٹر کو سچا مجاہد بنا کر پیش کرنے والے ’’فہم دین‘‘ اور ’’تفہیم شریعت‘‘ کے داعیوں کے متعلق اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ بھی ’’مظاہر فطرت، عقل اور اخلاقی قانون کے الوہی تخلیق کار کے باہم موافقت رکھنے والے مظاہر‘‘ میں سے ہیں تو کیا یہ غلط گمان ہوگا؟

راقم جب مصر گیا تو نہر سوئز دیکھنے کے لیے پاپڑ بیل کر پہنچ ہی گیا۔ غرض فقط اتنی ہی تھی کہ وہاں کھڑے ہو کر امرؤ القیس کے دوستوں کی طرح دو آنسو بہائے۔ شاید ہمارے اجتماعی گناہوں کو دھو ڈالیں۔ نہ پوچھیے، حسرت اور کرب کا کیا عالم تھا؟ بات صرف اتنی نہ تھی کہ دنیا کی یہ معاشی شہ رگ ایک مسلمان ملک میں ہوتے ہوئے غیر مسلموں کے قبضے میں ہے۔ دکھ اس کا تھا کہ یہ درحقیقت امریکا، برطانیہ، فرانس کے قبضے میں نہیں، قوم یہود کے قبضے میں ہے۔ ہماری غامدی برادری کے ممدوح سچے مجاہد کی اس داستان سے اس کا بھی ثبوت مل گیا کہ اس نہر کی تعمیر میں ایک مخصوص برادری بھی شریک تھی جو الجزائر سے لاہور تک ایجنٹ تلاش کرتی رہتی ہے۔ یہ عبارت ملاحظہ فرمائیے جیسے سمجھنے کے لیے چور کے ہاتھ میں دھرے چراغ کی روشنی اسے پہچاننے کا کام دے رہی ہے۔

’’سترہ نومبر ۱۸۶۹ء کو جب نہر سویز کھولنے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تو امیر کو بھی گرینڈ پیولین میں نپولین کی بیوی، ملکہ یوجین، آرچ ڈیوک وکٹر آف آسٹریا، شاہ ہنگری اور ساری دنیا سے آئے ہوئے سفیروں اور اہم شخصیات کے ساتھ بٹھایا گیا۔ ۔۔۔ مشرق اور مغرب کے سمندروں کو آپس میں ملانے کا خواب پورا کرنے میں عبدالقادر نے فرانس کے فردیناں دے لیسپس (Ferdinand de Lesseps) کی کچھ کم مدد نہیں کی تھی۔ ۔۔۔ امیر کے یہ کردار ادا کرنے پر آمادہ ہونے کی بہت سی وجوہات تھیں۔ ۔۔۔لیکن سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ نہر سویز کی تشہیر کرنے والوں میں بھائی چارے کا احساس نظر آتا تھا۔ ان میں بہت سے مقدس سائمن کے پیروکار اور میسونی تھے جن کے مقامی لاج کے طرف سے لہرائے جانے والے بینرز پر ’’پرخلوص دوستی‘‘، ’’پیار اور سچائی‘‘ اور ’’سمندروں کا اتحاد‘‘ جیسے الفاظ درج تھے۔ ۔۔۔ تقریب میں دوستی اور تمام لوگوں کے مابین بھائی چارے کے گیت گائے گئے۔ یہ مقدس سائمن کے اور میسونی نظریات تھے جو عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان پل تعمیر کرنے اور یورپی مادہ پرستی کو اسلام کی روحانیت سے متوازن کرنے کی عبدالقادر اپنی خواہش سے مکمل مطابقت رکھتے تھے۔ ممکن ہے چار سال پہلے پیرس کا دورہ کرتے ہوئے میسونی لاج ’’ہنری چہارم‘‘ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرنے کی بڑی وجہ یہی رہی ہو۔‘‘ (ص ۴۴۲، ۴۴۴)

عالمی میڈیا امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد بارک اللہ فی حیاتہ کو امیر کہنا پسند نہیں کرتا، لیکن امیر عبد القادر کی کتابیں جن کا ترجمہ نگار اپنا نام نسب ظاہر کرنے سے شرماتا ہے، کی کتابیں شائع کر کے سستے داموں پھیلاتا ہے؟ آخر کیوں؟ اس لیے کہ ملا عمر مجاہد نے آخری دم تک دشمنوں کے آگے سر نہ جھکایا، جبکہ الجزائری امیر نے تو اپنی مہر میں بھی یہودی نشان بنا رکھا تھا۔ مذکورہ کتاب کے پشتی سرورق پر اس مہر کا نقش موجود ہے جس میں چھ کونوں والا ستارہ پکار پکار کر تحریک غامدیت پر مہر یہودیت ثبت کر رہا ہے۔ کتاب کے ص ۲۸۵ کے حاشیے پر لکھا ہے:

’’ امیر کی مہر دو مثلثوں پر مشتمل تھی جن میں ایک سیدھی اور دوسری معکوس تھی۔ دونوں مثلثیں ایک دوسرے کے اوپر تھیں جس سے چھ کونوں والے ستارے کی شکل بن جاتی تھی۔ ان کے ارد گرد ایک دائرہ تھا۔ اوپر کی طرف نوک والی مثلث روحانی طاقت کی علامت تھی جب کہ نیچے کی طرف نوک والی مثلث دنیاوی اقتدار کی نمائندگی کرتی تھی۔ دائرہ الوہی رحمت کی علامت تھا۔‘‘ 
جب فری میسنری کی غلامی قبول کر لی گئی تو یہودی سرمایہ دار ایسے شخص کی حمایت سے کیوں پیچھے رہتے؟ مشہور زمانہ یہودی خاندان ’’روتھ شیلڈ‘‘ ہمارے ممدوح مجاہد کی مدد کو آ گیا۔ سنیے اور سر دھنیے: ’’وقت گزرنے کے ساتھ فرانسیسی حکومت کی مدد سے عبدالقادر نے زرعی زمینیں حاصل کر لیں تاکہ اپنے الجزائری لوگوں کی مدد کے لیے پیسے کمائے جائیں۔ پھر ایک وقت آیا جب وہ اتنی بڑی زرعی جاگیر کا مالک بن گیا جو مغرب میں بحیرہ طبریہ (Sea of Galilee)تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے دمشق اور بیروت کے درمیان پل تعمیر کرایا اور جیمز روتھ شیلڈ کی شراکت سے محصول چونگی بھی قائم کی۔‘‘ (ص ۴۰۶)

کتاب کے عالمانہ تعارف میں اس کی اشاعت کی ایک اور غرض بھی بیان کی گئی ہے:

 ’’ایسی شخصیات کے ساتھ نئی نسل کا تعارف اور ان کے کردار اور افکار وتعلیمات سے آگاہی استعماری تسلط اور یلغار کے آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ ہے اور اس سمت میں کوئی بھی مثبت پیش رفت ہمارے لیے ملی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘ (ص ۱۱)

آئیے دیکھتے ہیں وہ کون سا کردار ہے جو آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے؟ اور فحاشی وبے حیائی کی اس سمت میں ہم مثبت پیش رفت کریں تو کس اہم ملی ضرورت کو پورا کر سکیں گے؟ اس حوالے سے اس کتاب کی چند عبارتیں بلا تبصرہ پیش خدمت ہیں۔ ان سے معلوم ہوگاکہ ہم میں فقط امریکہ نظریہ جہاد سے ہی متعارف نہیں کروایا جا رہا، بلکہ ہماری نئی نسل کو شہوت پرستی، نسوانیت پرستی اور زنخا پرستی میں بے دریغ دھکیلا جا رہا ہے۔ سچے مجاہد کی حد سے بڑھی ہوئی شہوت پرستی کو یوں بیان کیا گیا ہے:

 ’’ایسا لگتا تھا کہ اپنی ذات کی سختی سے نفی کرنے والے عبدالقادر کی زندگی میں واحد استثنا عورت تھی اور اس کا مسلسل وسیع ہوتا ہوا حرم سفارت کاروں کے لیے تھوڑے بہت نہیں بلکہ شدید حسد کا باعث تھا۔‘‘ (ص ۳۹۱)

مسلسل وسیع ہونے والے حرم کا اندرونی حال بھی سن لیجیے: 

’’اسے ایک بار امیر کے حرم کا جائزہ لینے کا بھی موقع ملا۔ یہ افواہ گرم تھی کہ امیر ہر سال نئی شادی کرتا ہے جو عموماً سرکیشیائی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کی عمر پندرہ سال سے زیادہ نہیں ہوتی، لیکن جین کی رپورٹ یہ تھی کہ اگر اس نے ان میں سے بیشتر کو طلاق دے کر رخصت نہیں کر دیا تو پھر یہ افواہ غلط ہے۔ اسے وہاں صرف پانچ بیویاں نظر آئی تھیں*، لیکن یہ تعداد بھی اسلامی شریعت میں دی گئی اجازت کی حد سے ایک زیادہ بنتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی بیوی خیرا کے بارے میں، جس کی امیر سب سے زیادہ قدر کرتا تھا، جین کا کہنا تھا کہ ’’انتہائی موٹی اور جسمانی طور پر بدصورت تھی، لیکن وہ پورے وقار اور پرسکون تحکم کے ساتھ حرم کی سربراہی کرتی تھی۔‘‘ (ص ۴۵۱)

کوئی کہہ سکتا ہے کہ پانچویں عورت بیوی نہیں، لونڈی ہوگی، لیکن اس کا کیا کریں کہ ایسی عورتوں سے تعلقات کے ثبوت بھی اس سچی داستان میں موجود ہیں جو انگلستان جیسے مادر پدر آزاد ماحول میں بھی بدنام تھیں:

 ’’عبدالقادر برطانیہ کی دو ایسی شخصیات کا دوست اور معترف تھا جو اپنی ثقافت سے باغی تھیں۔ ایک وہ آزاد خیال روایت شکن جس نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں تعاون کیا اور جس کے پسندیدہ موضوعات میں پرشہوت عورتیں، جسم فروشی اور زنخا بنانے کے طریقے شامل تھے، جب کہ دوسری شخصیت اخلاق باختہ سمجھی جانے والی ایک خود پسند اور بدنام عورت تھی جس نے اپنی جنسی مہم جوئی کے لیے اپنا بچہ تک چھوڑ دیا۔‘‘ (ص ۴۵۲)

جنسی مہم جوئی کے لیے اپنا سگا بچہ چھوڑنے والی ہمارے سچے مجاہد صاحب سے کیا تعلق رکھتی تھی اور ان کے ڈیرے پر باقاعدگی سے کس لیے حاضری دیتے تھی؟ ملاحظہ فرمائیں:

 ’’جین ڈھلتی ہوئی عمر کے عبدالقادر کی بھی منظور نظر بن گئی تھی جس نے احتیاط سے خضاب لگی ہوئی سیاہ داڑھی کے ساتھ اپنی جوانی کا تاثر قائم رکھا ہوا تھا۔ جین باقاعدگی سے نقیب ایلی آنے والے مہمانوں میں شامل تھی اور گرمیوں میں اکثر ان مہمانوں میں شامل ہوتی تھی جو امیر کی رہائش گاہ پر دریائے برادا کا نظارہ کرتے ہوئے پودینے کی چائے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ جین نے اپنے شوہر میدجوئیل المرزگ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ سال میں چھ ماہ یورپی طرز کے مطابق زندگی بسر کرے گی۔ ۔۔۔ میدجوئل المرزگ کے ساتھ شادی نے ڈگبی جین کی اس دھماکہ خیز رومانی زندگی کا خاتمہ کردیا جس نے اسے سارے انگلینڈ میں بدنام کر رکھا تھا۔ ‘‘ (ص ۴۴۹، ۴۵۰)

اس کتاب کے ذریعے ہمیں کون سے اسلام اور کس طرح کی شریعت اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، اس کا کچھ اندازہ ذیل کی عبارت سے ہو جاتا ہے:

 ’’امیر کے پاس تو صرف ایک ہی سمت نما تھا اور وہ تھا اسلام۔ تنگ نظری پر مبنی فرقہ وارانہ اسلام نہیں بلکہ اس سے کہیں وسیع تراسلام، فطرت کا اسلام ، ہر اس جاندار کا اسلام جو خدا کے قانون کے آگے سر جھکا دے۔ امیر کا اسلام ایک ایسے خدا پر یقین رکھتا تھا جو ’’عظیم تر‘‘ تھا، جو اس کے حقیر بندوں اور اسلام سمیت اس کے کسی بھی مذہب کے تصور سے بھی عظیم تھا۔ ’’ہر شخص اسے اپنے مخصوص انداز میں جانتا اور اس کی عبادت کرتا ہے اور وہ دوسرے طریقوں سے مکمل طور پر لاعلم رہتا ہے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں ہم سب غلط ہیں۔ اب عبدالقادر کے ذہن پر صرف ایک ہی دھن سوار تھی کہ خدا کی وحدانیت کو ان طریقوں کے تنوع کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے جن سے اس کے پیدا کیے ہوئے بندے اس کی عبادت کرتے ہیں۔‘‘ (ص ۳۷۶)

اب ہم ایک آخری حوالہ نقل کر کے رخصت چاہیں گے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اس کتاب کے ذریعے ہمیں اسلام کی جو تعبیر اور قرآن کی جو تشریح سکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ ’’برادری‘‘ کا پرانا حربہ ہے۔ خدا ان لوگوں کو ہدایت دے جو ایسے لوگوں کے آلہ کار بن کر اپنا نام چھپاتے اور کارنامے گنواتے پھرتے ہیں: ’’۱۸۶۰ء کے موسم خزاں میں پیرس میں سولہ صفحات پر مشتمل ایک پمفلٹ گردش کر رہا تھا جس کا عنوان تھا: ’’عبدالقادر، عرب شہنشاہ‘‘۔ اس کتابچے میں لکھا تھا کہ عظیم تر شام کے تخت پر بٹھانے کے لیے عربوں کو حقیقی صلاحیتوں کا مالک ایک رہنما چاہیے اور اس کے لیے عبدالقادر کا نام تجویز کیا گیا تھا۔ اس تحریر کے مطابق عبدالقادر مغرب اور مسلمانوں کو یہ سکھائے گا کہ ’’قرآن کے الفاظ کی صحیح تشریح کیا ہے اور ایک سچے مومن کو ان کی تعبیر کس طرح کرنی چاہیے۔‘‘ (ص ۴۳۵)

جھوٹے مجاہد کے جعلی ترجمان

’’امیر عبد القادر الجزائری‘‘ کے حالات پر مشتمل جان ڈبلیو کائزر کی کتاب کا ترجمہ ’’دار الکتاب‘‘ لاہور کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ ’’دار الکتاب‘‘ لاہور علمائے دیوبند کی فکری کا وارث ہے اور انقلابی جہادی تحریکوں سے متعلق کتابیں شائع کرتا ہے، لہٰذا یہ بات ہمارے لیے ناقابل یقین تھی کہ انقلابی مجاہدین کے جہادی کارناموں کو عام کرنے والا ادارہ ایک ایسی کتاب کیسے شائع کر سکتا ہے جو جہادی تحریکات کا تمسخر اڑاتی ہو، مجاہدین کو دہشت گرد اور مسلمانوں کو خونی درندے ثابت کرتی ہو۔ لہٰذا ہم نے اس بات کی تحقیق ضروری سمجھی کہ جہاد کی مخالفت کرنے والی اور مجاہدین کو دشمن انسان اور دشمن انسانیت اور دشمن رحمت ورافت ثابت کرنے والی کتاب کس نے شائع کروائی۔

اس سلسلے میں ۱۹؍ اپریل بروز جمعہ دن ۱۱ بجے دار الکتاب کے مالک سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے ہمارے ایک مہربان بزرگ جناب خالد جامعی صاحب کو یہ بتایا کہ امیر عبد القادر الجزائری والی کتاب پر ان کے ادارے کا نام تو ضرور ہے، لیکن وہ نہ تو اس کتاب کے ناشر ہیں اور نہ ہی انھیں اس بات کا علم ہے کہ ترجمہ کس نے کیا، نیز شائع کرنے والوں کے مقاصد کیا ہیں؟ ان سے جب گفتگو کی تفصیلات معلوم کی گئیں تو انھوں نے بتایا کہ یہ کتاب عمار خان ناصر صاحب نے شائع کروائی اور ہمیں فون پر اطلاع دے دی کہ یہ کتاب ہم نے آپ کے نام پر شائع کروائی ہے۔ بالکل اسی طرح عمار خان ناصر کی کتاب ’’براہین‘‘ بھی جبراً شائع ہوئی۔ کتاب عمار ناصر نے خود چھپوائی اور اس پر ہمارا نام شائع کروا دیا۔

ہمارے ایک اور دوست نے بتایا کہ امیر عبد القادر والی کتاب کی تعارفی تقریب لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی امریکی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری تھے۔ نظامت کے فرائص عمار خان ناصر انجام دے رہے تھے۔ اس تفصیل کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ کتاب پر تبصرہ سے پہلے کتاب کی اشاعت وطباعت وترسیل وتقسیم کی طلسماتی کہانی خود ہی اس کتاب کی حقیقت، ماہیت، حیثیت، پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر کو بتانے کے لیے کافی اور شافی ہے۔

کتاب کے سرورق کی پشت پر ایک ویب سائٹ کا نام دیا گیا ہے: www.truejihad.com ۔ اس ویب سائٹ کا نام ہی مغرب کے مقاصد، اہداف، ارادوں اور عزائم کی ترجمانی کرتا ہے۔ جہاد تو جہاد ہوتا ہے۔ True Jihad  کیا ہوتا ہے؟ عصر حاضر میں جب بھی کوئی یہ کہے کہ ’’حقیقی اسلام، حقیقی جہاد،حقیقی فقہ، حقیقی اجتہاد‘‘ تو اس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ غیر حقیقی اسلام، غیر حقیقی جہاد، ایسا اسلام اور ایسا جہاد جو صرف اور صرف مغرب کے استعماری غلبے، عالمی تسلط اور مسلمانوں کی تباہی وبربادی کو ممکن بنا سکے۔ 

بروز جمعہ ۱۹؍ اپریل ۲۰۱۳ء کو ۳۰:۱۱ بجے ہم نے truejihad  نامی ویب سائٹ کا مطالعہ کیا تو اس ویب سائٹ سے ہمیں دو مضامین میسر آئے۔ 

(۱) Some words about true and false jihad جو A4 سائز کے بارہ صفحات پر مشتمل ہے۔

(۲) The Abd el-Kader Education project 2011 in Review جو A4 سائز کے 7صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کے مطالعہ کے بغیر اس کتاب کی حقیقت آشکار نہیں ہو سکتی۔

عبد القادر ایجوکیشن پراجیکٹ کا تعارف کراتے ہوئے اس پروجیکٹ کے پس منظر کے بارے میں درج ذیل معلومات مہیا کی گئی ہیں۔ ان معلومات پر کسی قسم کے تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں۔

امیر عبد القادر الجزائری کی خدمات کے اعتراف کے سلسلے میں Iowa سینٹر) امریکہ کے شہر Iowa City میں قائم کیا گیا۔ 

بنیادی سوال یہ ہے کہ مجاہد عالم اسلام کا ہے اور اس کی تقدیس، تکریم، تحسین اور تشہیر امریکا والے کر رہے ہیں۔ این چہ بو العجبی است؟ 

امیر عبد القادر کی یاد منانے کے لیے ’’القادر اوپیرا ہاؤس‘‘ میں مقررین خطاب فرماتے ہیں اور اس کے بعد روایتی مغربی تفریحات کا اہتمام ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ پر ایک اور ویب سائٹ www.abdelkaderproject.org  موجود ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا کے تمام تعلیمی اداروں کو امیر عبد القادر کے بارے میں معلومات اور نصابی مواد مہیا کرنا ہے تاکہ اسکول میں امیر عبد القادر نصاب کا حصہ بن جائے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل عبارت ملاحظہ کیجیے:

Provides learning tools & curriculum materials to help educators in corporate abdel-kader's stay & his example in the days's calm zoom.

بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان کسی مجاہد یا عظیم ہستی کو اپنے اسکول یا مدرسے کے ہر طالب علم کو واقف کرانا پسند کریں تو دو مجاہدوں کو کسی قیمت پر فراموش نہیں کر سکتا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ، یہ ایسے مجاہدین تھے جن کے صرف اسلام پر ہی نہیں، پوری تاریخ انسانیت پر بے شمار احسانات ہیں۔ مغرب نے ان دو سپہ سالاروں کو منتخب کرنے اور ان کی تعلیمات اور طرز زندگی کو طلبہ تک پہنچانے کے بجائے امیر عبد القادر کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ بہت سادہ سا مسئلہ ہے۔ 

امریکا کے Iowa شہر کے اور ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو Elkader کے نام سے موسوم ہے۔

آخر امریکی جو مسلمانوں پر آگ اور خون کی بارش برسانے میں سب سے آگے ہیں، ایک مسلمان کو اتنی عزت دینے پر کیوں مجبور ہو گئے؟اس فراخ دلی کا راز ہر صاحب عقل پر آشکارا ہے۔ امیر عبد القادر الجزائری جس قسم کے مجاہد تھے، امریکا اور اس کے مغربی حمایتی اسی قسم کے کرزئی مجاہدین کو آگے لانا چاہتے ہیں جنھیں جب چاہیں، ماڈرن اسلام اور ماڈرن جہاد کے مثالی نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ اور شہید المومنین شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ جیسی صاحب عزیمت واستقامت شخصیات، مجاہدین کے آئیڈیل بن سکیں۔ مغرب کی اس ذہنیت کے تناظر میں ان حضرت کے ذہنی ونظریاتی رشتوں کو بھی سمجھا جا سکتا ہے جو اس قسم کی کتابیں شائع کرا کر ہمارے یہاں ’’سچے جہاد‘‘ کی اشاعت چاہتے ہیں۔ 

(بشکریہ ہفت روزہ ’’ضرب مومن‘‘ کراچی)

آراء و افکار

Since 1st December 2020

Flag Counter