پاکستان ایک غیر اسلامی ریاست ہے

الشیخ ایمن الظواہری

(مصنف کی کتاب ’’الصبح والقندیل‘‘ کے اردو ترجمہ سے اقتباسات۔)


جب سے میں پاکستان سے متعارف ہوا ہوں، مسلسل کئی پاکستانی بھائیوں اور اسلامی جماعتوں کے داعی اور کارکن حضرات کو ایک بات دہراتے سنا ہے۔ ان سب حضرات کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کا نظام حکومت دیگر مسلم ممالک میں قائم نظام ہائے حکومت سے قدرے مختلف ہے، کیونکہ پاکستان کا دستور صحیح اسلامی اساس پر قائم ہے۔ یہ دستور عامۃ المسلمین کو اپنے نمائندے چننے اور شریعت کی روشنی میں اپنے حکام کا محاسبہ کرنے کی مکمل آزادی فراہم کرتا ہے۔ پس مسئلہ دستور یا نظام کا نہیں، بلکہ اس فاسد حکمران طبقے کا ہے جو کبھی بزور قوت اور کبھی دیگر ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اقتدار پر قابض رہتا ہے اور دستور میں درج امور کی پابندی نہیں کرتا۔

یہ باتیں سن کر میرے ذہن میں کچھ سوالات جنم لیتے تھے۔ مثلاً یہ کہ اگر پاکستانی نظام حکومت واقعتا اسلامی بنیادوں پر قائم ہے تو پھر اس سے اس قدر فساد وبگاڑ اور مغرب کی اندھی غلامی کیونکر پیدا ہو رہی ہے؟ اگر پاکستانی نظام واقعتا اسلامی بنیادوں پر قائم ہے تو پھر اس کا نظام تعلیم اس قدر مہلک اور تباہ کن کیوں ہے؟ آخر کیوں اس نظام تعلیم سے ایسی نسلیں تیار ہو رہی ہیں جو اسلام سے جذباتی وابستگی رکھنے کے باوجود قول وعمل میں مکمل طور پر مغربی ثقافت اختیار کر چکی ہیں؟ اگر پاکستان کا نظام واقعتا اسلامی بنیادوں پر قائم ہے تو پاکستان کی فوج، جو اس ملک کی بے تاج بادشاہ ہے، کے لیے امریکی غلامی کو اپنے گلے کا ہار بنانا کیسے ممکن ہو پایا ہے؟ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ پاکستانی نظام اسلامی بنیادوں پر قائم ہو اورپھر بھی ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر جاری اسلام کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی بن جائے؟ یہ اور ایسے کئی دیگر سوالات میرے لیے حیرت وپریشانی کا باعث بنے رہے، لہٰذا میں نے پختہ عزم کر لیا کہ مجھے جب کبھی فرصت ملی، میں دستو رپاکستان کا مطالعہ ضرور کروں گا، لیکن ایک عرصے تک میری مصروفیات اس ارادے کی تکمیل میں حائل رہیں۔ بالآخر جب مجھے دستور پاکستان پڑھنے کا موقع ملا تو مجھ پر ان اوہام وشبہات کی حقیقت کھلی جن کا پاکستان کی دینی جماعتوں میں کام کرنے والے بہت سے بھائی شکار ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان اشکالات کا سبب اس دستور سے عدم واقفیت ہے یا اندھی اتباع کرنے کی روش! ا س مطالعے کے نتیجے میں دستور پاکستان میں موجود واضح تناقضات مجھ پر ظاہر ہوئے جو شریعت کا ادنیٰ سا علم رکھنے والے کسی شخص سے بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔

اس مطالعے کے نتیجے میں مجھے اپنے مذکورہ بالا سوالوں کا جواب بھی مل گیا۔ میں پوری بصیرت کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان ایک غیر اسلامی مملکت ہے اور اس کا دستو ربھی غیر اسلامی ہے، بلکہ اسلامی شریعت کے ساتھ کئی اساسی اور خطرناک تناقضات پر مبنی ہے۔ نیز مجھ پر یہ بھی واضح ہوا کہ پاکستانی دستور بھی اسی مغربی ذہنیت کی پیداوار ہے جو عوام کی حکمرانی اور عوام کے حق قانون سازی کے نظریے پر یقین رکھتی ہے اور بلاشبہ یہ نظریہ اسلام کے عطا کردہ عقیدے سے صراحتاً متصادم ہے۔ 

مغرب کا سیاسی نظام ’’وطنی وقومی ریاست‘‘ (nation-state) کے نظریے پر قائم ہے اور اس نظریے پر قائم ہونے والی ریاست کی تمام تر دوڑ دھوپ کا محور اپنے وطن میں بسنے والی قوم کے مفادات کا تحفظ اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ دنیاوی فوائد ومنافع کا حصول ہوتا ہے۔ یہ وطنی ریاست عوامی اکثریت کی رائے کے سوا کسی اصول وعقیدے اور اخلاق واقدار کی پابند نہیں ہوتی۔ چیزوں کو حلال وحرام قرار دینے سمیت ہر قسم کی قانون سازی کثرت رائے کی بنیاد پر کرتی ہے اور وطنیت کو ہی معیار بناتے ہوئے انسانوں میں تفریق روا رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

مغرب کی ایک الگ تاریخ اور ان خاص تاریخی حالات کے زیر اثر جنم لینے والے کچھ مخصوص تصورات ہیں جنھیں ہم سے یا ہمارے دین سے کوئی ادنیٰ سی بھی مناسبت نہیں، لہٰذا مسلم معاشروں میں پائے جانے والے مغربی تصورات کے حامل افراد اور گروہ قطعاً اس کے اہل نہیں کہ وہ امت مسلمہ کے لیے کسی بھی قسم کا دستور یا قانونی نظام وضع کریں۔ ایسی ہر کوشش کے نتیجے میں کچھ عجیب مضحکہ خیز مرکب اور کفر واسلام کے ملغوبے معرض وجود میں آتے ہیں جن سے فساد اور انحراف میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وہ کہانی ہے جو پاکستان بننے کے بعد سے ساٹھ سال تک دہرائی جاتی رہی ہے۔ پاکستان کی سرزمین ہمیشہ بدلتے موسموں کے ساتھ رنگ بدلتی رہی ہے اور بالآخر آج اسلام کے خلاف لڑی جانے والی عالمی صلیبی صہیونی جنگ میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی اڈے میں تبدیل ہو چکی ہے۔

دستور پاکستان کے بغو رمطالعے سے مجھ پر یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اس دستور کو لکھنے والوں کے پیش نظر کسی اسلامی حکومت یا شرعی نظام کا قیام نہ تھا، بلکہ یہ دستور تو لکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ اس کے ذریعے مغربی طرز حکمرانی پر عمل پیرا ایک ایسی ریاست قائم ہو جو اسلام دشمن ’’بین الاقوامی نظام‘‘ میں ضم ہو سکے، وہ بین الاقوامی نظام جسے عیسائی طاقتوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اس غرض سے قائم کیا تھا کہ وہ پوری دنیا کے انسانوں کو ان کا تابع فرمان بنائے اور ان کے مفادات کا پوری طرح تحفظ کرے۔ یہی وہ باطل بین الاقوامی نظام ہے جس نے امت مسلمہ سے فلسطین چھینا اور یہی وہ نظام آج تک آزادئ کشمیر کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

دستور پاکستان کے مطالعہ سے مجھ پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوئی کہ یہ دستور کچھ ایسے مکر وفریب کے انداز میں لکھا گیا ہے کہ مسلم عوام سے شریعت کے نفاذ کا وعدہ بھی ہو جائے، لیکن وہ وعدہ کبھی وفا بھی نہ ہو سکے۔ مجھے تو تعجب ہوتا ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علماء اور داعی حضرات بھی اس دھوکے کا شکار ہو کر دستور کی تعریف وتقدیس بیان کرتے رہے۔ (ہاں، اس میں کچھ شک نہیں کہ ان حضرات کا اس دستور سے نیا نیا واسطہ پڑا تھا اور ابھی اس کے عملی اثرات بھی پوری طرح واضح نہیں ہو پائے تھے، لہٰذا غلط فہمی میں مبتلا ہو جانے کا امکان شاید موجود تھا۔) البتہ اصل تعجب کے لائق تو ہمارے وہ فاضل دوست ہیں جو نفاذ شریعت کے جھوٹے وعدوں کو ساٹھ (۶۰) سال گزر جانے کے بعد بھی وہی گھسے پٹے اوہام واشکالات دہرائے چلے جا رہے ہیں اور آج تک دستور پاکستان کی اسلامیت کے فریب سے دامن نہیں چھڑا پائے۔

آج یہ بات سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ یہ وہ پاکستان نہیں جس کی تمنا ہند کے مسلمانوں کی اکثریت نے کی تھی۔ یہ وہ سرزمین نہیں جس کے بارے میں خواب دیکھا گیا تھا کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانون کا مرکز اور جائے پناہ بنے گی، بلکہ اس کے برعکس یہ سرزمین تو برصغیر، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑی جانے والی صلیبی جنگ میں سب سے اہم امریکی اڈے کا کام دے رہی ہے۔ آج یہ امر ہر صاحب بصیرت پر عیاں ہو گیا ہے کہ پاکستان پر آغاز سے اب تک فاسد ومفسد طبقات ہی حکمرانی کرتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ مسلمانوں کے قاتل مشرف کے سیاہ دور سے گزرتا ہوا ’’مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ کے لقب سے مشہور، اموال مسلمین لوٹنے والے امریکی غلام زرداری کے عہد حکومت میں داخل ہو گیا ہے۔ (وہ زرداری جسے نہ صرف عسکری قوتوں کی حمایت حاصل ہے، بلکہ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ متعدد دینی جماعتوں نے بھی انتخابات کے موقع پر اسی طرح اس کی تائید کی جیسا کہ اس سے پہلے ان جماعتوں نے پرویز کی آئینی ترامیم اور صدارتی انتخاب کے موقع پر اس کا ساتھ دیا تھا)۔ ۔۔۔۔۔۔

برصغیر پاک وہند کے مسلمان بھی اسی المیے سے دوچار ہوئے جس سے عصر حاضر میں دیگر بہت سے علاقوں کے مسلمانوں کو دوچار ہونا پڑا۔ ’’المیہ‘‘ سے میری مراد یہ ہے کہ قربانیاں تو ہر جگہ عامۃ المسلمین نے دیں، لیکن ان قربانیوں کے ثمرات کوئی اور لے اڑا۔ قربانیوں کے ایک طویل دور کے بعد جب بھی زمام اقتدار سنبھالنے کا مرحلہ آیا تو قیادت پر ایسے طبقات قابض ہو گئے جو امت کے عقائد، امنگوں اور خوابوں میں ان کے شریک نہ تھے۔ ا س بدطینت طبقے نے امت کے ساتھ قدم قدم پر وعدہ خلافی کی اور امت کی قربانیوں سے صریح خیانت کی۔

سید احمد شہید رحمہ اللہ کی برپا کردہ تحریک مجاہدین کمزور پڑ جانے کے بعد شیخ الہند اور سید حسین احمد مدنی رحمہما اللہ نے ازسرنو برطانیہ کے خلاف جہادی تحریک کی بنیادیں ڈالیں، لیکن سلطنت عثمانیہ سے مدد کے حصول میں ناکامی اور سقوط خلافت کے سبب یہ تحریک بھی ناکامی سے دوچار ہوئی اور یہ دونوں حضرات مالٹا میں اسیر ہو گئے۔ پھر ایک مختصر وقفے کے بعد ہند کے مسلمانوں میں ایک عوامی تحریک اٹھی جس نے ہندووں (اور انگریزوں) کے ظلم وجبر سے خلاصی کے لیے ایک الگ، آزاد خطہ زمین کا مطالبہ کیا، لیکن دینی مزاج کی حامل اس عوامی تحریک آزادی میں کوئی ایسے عناصر بھی شامل ہو گئے جو اپنے عقائد وافکار میں عامۃ المسلمین سے بہت مختلف تھے۔

ان عناصر میں انگریزی ثقافت کا تربیت یافتہ اور فرنگی تہذیب کا دلدادہ ایک طبقہ بھی شامل تھا۔ اس طبقے کی ذہنی مرعوبیت کے پیچھے بھی کئی عوامل کارفرما تھے:

(الف) مسلمانوں کی عسکری اور جہادی تحریکیں بظاہر ناکام ہو چکی تھیں اور یہ تو انسانی فطرت ہے کہ وہ طاقت اور صاحب طاقت سے متاثر ہوتا ہے۔

(ب) اس طبقے کی پرورش مغربی نظام تعلیم کے تحت ہوئی تھی اور انسان اسی طرز زندگی کا خوگر ہوتا ہے جس پر اس کی تربیت ہوئی ہو۔

(ج) عالم اسلام سیاسی، اجتماعی اور علمی اعتبار سے شدید بگاڑ کا شکار ہو چکا تھا۔ ظلم وجبر اور خود غرضی عام ہو چکی تھی، اختیار واقتدار زور وزبردستی سے غصب کیا جاتا تھا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض مٹتے جا رہے تھے اور منافقت، مداہنت، چاپلوسی، بے جا طرف داری اور نا انصافی جیسے رذیل اوصاف پھیل چکے تھے۔ بہت سے علما ایسی جامد تقلید اختیار کر چکے تھے کہ امراض ملت کی دوا ڈھونڈنے کی بجائے حالات سے لاتعلقی اختیار کر لینا ہی ان کا شیوہ بن گیا تھا۔

(د) یہ طبقہ مغرب، بالخصوص انگریز کی اس جھوٹی دعوت پر ایمان لے آیا تھا کہ وہ آزادی، انصاف، مساوات اور مظلوموں کی مدد ونصرت کے علمبردار ہیں، حالانکہ اللہ گواہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں مغربی ممالک سے زیادہ ظلم وفساد پھیلانے والا کوئی نہیں گزرا۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ وہ اس بات کی بھی تصدیق کر بیٹھے کہ مغرب کی ظاہری ترقی دین سے دوری اور دین کو محض کلیسا تک محدود کرنے کی مرہون منت ہے۔

مغربی عقائد وافکار کا حامل یہ طبقہ امت کو بھی مغربی تہذیب کا دلدادہ بنانے کے لیے مستقل کوشاں رہا، لیکن اسے مشکل یہ درپیش تھی کہ ہند کے مسلمانوں کی تحریک آزادی ایک خاص وصف کی حامل تھی جو اسے عالم اسلام میں برپا ہونے والی بہت سی دیگر تحریک ہائے آزادی سے ممتاز کرتا ہے۔ اس تحریک کا تو بنیادی نعرہ ہی یہ تھا کہ ایک اسلامی سلطنت قائم کی جائے جو مسلمانوں کی حرمات کی محافظ اور ان کے حقوق کی نگہبان ثابت ہو۔ پس مسلمانان ہند کے اس عمومی دینی مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ مغرب نواز طبقہ اپنے سیکولر عقائد اور مغربی تہذیب سے اپنی محبت وقربت چھپانے پر مجبور ہوا تاکہ مسلمانوں کی صفوں اس کے لیے کچھ جگہ بن سکے۔ یہی نہیں، بلکہ اس طبقے نے مسلمانوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ان کے جذبات سے کھیلا اور طرح طرح کے خوشنما وعدے کر کے انھیں پیچھے چلایا۔ کبھی ایک سراب کی سمت دوڑایا اور کبھی دوسرے کی سمت اور عملاً کتاب وسنت کی حکمرانی قائم کرنے کی بجائے ہمیشہ مستقبل کے عہد وپیماں باندھے۔

چنانچہ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ دستور پاکستان اور ریاست پاکستان کا وجود میں آنا بھی اسی کھیل تماشے کا تسلسل ہے جس کی دلیل طلب کرنے کی بجائے پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ پر نگاہ ڈال لینی چاہیے کہ پاکستان کہاں سے چلا تھا اور کن کن مراحل سے گزرتا ہوا آج کہاں آن کھڑا ہے، بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ کس گڑھے میں جاگرا ہے! آج پاکستان کی حیثیت امریکی فوج اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے لیے خدمات مہیا کرنے والی ایک کمپنی کی سی ہے۔ اس ملک کے قائدین اور سیاست دانوں کی باگ ڈور کا کل مقصود یہ ہے کہ کسی طرح اپنے آپ کو ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر لڑی جانے والی امریکہ ومغرب کی اسلام دشمن صلیبی مہم میں باقیوں سے بڑھ کر امریکہ کا وفادار ثابت کر پائیں۔ امریکہ کی رضا کی خاطر آج دین وعقیدے اور نظریہ پاکستان سمیت ہر شے قربان کی جا چکی ہے۔

پاکستان بننے کے بعد سے اس حکمران طبقے نے نہ صرف نفاذ اسلام کے جھوٹے وعدوں پر مشتمل ایک مغربی طرز کا دستور تشکیل دیا ہے، بلکہ اس دستور میں مرحلہ وار ایسی عبارتیں بھی شامل کروائی ہیں جو ان کی بے راہ روی اور فساد کو تحفظ دے سکیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ’’رشوت‘‘ پاکستان کے سیاسی معاملات میں ایک اہم ترین عامل بن چکی ہے۔ جب بھی کوئی نیا حکمران آتا ہے تو ارکان پارلیمان اور سیاست دانوں کو مٹھی میں لینے کے لیے امت کا مال رشوت کے طور پر بے دردی سے لٹاتا ہے۔ پھر انھی عوامی نمائندوں سے ایسی دستوری ترامیم منظور کرواتا ہے جو اسے ہر قسم کی جواب دہی اور محاسبے سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔

زیر نظر کتاب پر دو بنیادی اشکالات پیش کیے جا سکتے ہیں:

(۱) پاکستان کے آئینی وجمہوری نظام کے خلاف بغاوت دراصل عوام کی حکمرانی کے خلاف بغاوت ہے اور اس کی آڑ میں استبدادی نظام کے غلبے اور فرد واحد کی حکمرانی کی سمت دعوت دینا مقصود ہے اور درحقیقت یہ دین کے نام پر لوگوں کی قسمت، حقوق، اموال اور حرمات پر تسلط کی ایک مذموم کوشش ہے۔

(۲) صاحب کتاب کا موقف ہے کہ پاکستان کے قانونی ودستوری نظام میں اصولی اور مہلک خرابیاں پائی جاتی ہیں، لیکن پاکستان کی بہت سی دینی تحریکوں کے قائدین اور داعیان دین اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستانی نظام اصولی اعتبار سے بالکل ٹھیک ہے اور تمام تر بگاڑ نظام پر قابض حکمران طبقے کا پیدا کردہ ہے۔ یہ لوگ پاکستان کے حالات سے زیادہ آگاہ ہیں اور اصلاح احوال کے طریقہ کار کو زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔ تو پھر مصنف ان سب حضرات کی رائے کو وزن کیوں نہیں دیتے اور اسے کیوں نہیں اپناتے؟ خصوصاً جبکہ پاکستانی نظام کو غیر شرعی قرار دینے کے نتیجے میں تشدد، تصادم اور فتنوں کی آگ بھڑک اٹھنے کا امکان ہے جس سے تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوگا۔

پہلے شبہے کا جواب یہ ہے کہ ہم دین کے نام پر استبدادی نظام کے غلبے اور فرد واحد کی حکمرانی کی دعوت نہیں دے رہے، بلکہ اسے بھی فساد کی ایک شکل اور خلاف اسلام سمجھتے ہیں۔ ہم تو امت کو شوریٰ اور عدل وانصاف کے سنہرے شرعی اصولوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اور تقویٰ وعمل صالح کے علاوہ کسی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کے قائل نہیں۔ ہماری دعوت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف دعوت ہے۔ ہماری تو خواہش ہے کہ حاکم ومحکوم، ادنیٰ واعلیٰ، قوی وکمزور، سب بلا تمیز وتفریق شریعت کے سامنے جھک جائیں، امت اپنے حکمران خود شرعی طریقہ کار کے مطابق چنے اور پھر ان کا محاسبہ بھی اسی انداز میں کرے جیسا کہ خلافت راشدہ کے سنہری دور میں ہوا کرتا تھا۔

البتہ ہمیں اندیشہ اس بات کا تھا کہ پاکستان کا حکمران طبقہ ہماری اس پاکیزہ دعوت کو قبول کرنے کی بجائے حاکمیت شریعت، اسلامی اخوت اور خلافت راشدہ کے احیا کی کوششوں میں روڑے اٹکائے گا اور قومی عصبیت وہوائے نفس کی حاکمیت اور وطنی ریاست کی بقا پر اصرار کرے گا اور آج ہم اسی بات کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔

دوسرے شبہے کا جواب یہ ہے کہ:

(الف) اس کتاب میں کوئی ذاتی رائے نہیں پیش کی گئی بلکہ دستور پاکستان اور پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں ہی سے اس نظام کا اصولی اعتبار سے ایک منحرف وفاسد نظام ہونا ثابت کیا گیا ہے اور بہت سی مثالوں کے ذریعے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پاکستانی دستور وقانون میں شرعی احکامات سے متصادم بہت سا مواد پایا جاتا ہے۔ 

(ب) کتاب میں بیان کردہ موقف کا سب سے بڑا ثبوت خود پاکستان کی عملی صورت حال ہے۔ ایک فاسد دستوری وقانونی نظام پر قائم یہ ریاست اپنے قیام کے ساٹھ سال گزرنے کے بعد بھی بد سے بدتر کی طرف گامزن ہے۔ خائن ملت فوجی اور سیاسی قائدین یکے بعد دیگرے اسی بہانے کے ساتھ اقتدار پر قابض ہوتے رہے ہیں کہ وہ ملکی سیاست سے بدعنوانی ورشوت ستانی کا خاتمہ کرنے اٹھے ہیں، لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد ہر بار وہی مکروہ کھیل دہرایا جاتا ہے۔ یعنی پہلے سرکاری خزانے سے بھاری رشوتیں دے دے کر سیاست دانوں کی وفاداریاں خرید ی جاتی ہیں اور پھر ارکان پارلیمان کی غالب اکثریت کو اپنے ساتھ ملا کر ایک نئی آئینی ترمیم منظور کی جاتی ہے جس کے ذریعے حکمرانوں اور ان کے حاشیہ نشینوں کو ہر قسم کی عدالتی کارروائی اور جواب دہی سے تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ یوں لوٹ مار اور فساد وبگاڑ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے خاتمے کے لیے جلد ہی کوئی دوسرا نجات دہندہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ 

اس سب لوٹ مار کا منطقی نتیجہ یہی نکلا ہے کہ پاکستان اب ایک کرایے کا نوکر بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں سے بھی زیادہ پیسے ملیں، ریاست پاکستان اسی کو اپنی خدمات پیش کرتی ہے۔ چنانچہ آج پاکستان صلیبی لشکروں کا خادم بن کر اپنے مسلمان پڑوسیوں کو، بلکہ اپنے آپ کو بھی تباہ کر رہا ہے اور اس سب کے عوض حکمران طبقے کی جیبیں رشوتوں سے بھر رہی ہیں۔ اب خود ہی بتائیے کہ کیا ان سب حقائق سے انکا رکرنا ممکن ہے؟ کیا ان میں کسی شک وشبہے کی گنجائش موجود ہے؟ کیا پاکستان اسلام کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں؟ کیا پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں مساجد ومدارس کو طلباء وطالبات سمیت ملیا میٹ نہیں کیا گیا؟

(ج) اگر ہم یہ تسلیم کر بھی لیں کہ تمام تر بگاڑ وفساد کا سبب محض حکومت پر قابض حکمران طبقہ ہے تو بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حکمرانوں کے خلاف خروج کرنے والوں کی مدد نہیں کی تھی، حالانکہ وہ حکمران ان پاکستانی حکمرانوں سے ہزار گنا بہتر تھے؟ کیا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے امام زید بن علی رحمہ اللہ اور پھر محمد نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم رحمہم اللہ کی مالی امداد نہیں کی تھی؟ خروج کی یہ تحریکیں تو ایسے حکمرانوں کے خلاف تھیں جو جہاد بھی کرتے تھے، نماز بھی قائم کرتے تھے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر بھی عامل تھے، شریعت کی حاکمیت اور شرعی نظام قضا بھی قائم کر رکھا تھا۔ ان کا قصور تو صرف یہ تھا کہ انھوں نے اختیارات پر ناجائز طور پر قبضہ کر رکھا تھا اور لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے تھے، لیکن اس کے باوجود بھی امام صاحب رحمہ اللہ نے ان کی تائید ونصرت کی۔

پس اگر آپ کلی طور پر ہماری موافقت نہ بھی کریں تو اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ جرات ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے فقہی موقف کی درستی تسلیم کریں اور ان ظالم وفاجر لوگوں کی صفوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیں جو دشمنان دین کے ساتھ بن کر ہمارے مقابل کھڑے ہیں۔ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے صادقین سے جا ملنے کا حکم دیا ہے، اہل حق کا ساتھی بن کر باطل پرستوں سے بھڑ جانے، نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور لوگوں کو اسی کی طرف دعوت دینے کی ہدایت کی ہے۔ پس قبائل میں برسرپیکار مجاہدین کی حمایت کرنا آپ کا شرعی فریضہ ہے۔ آخر یہی تو وہ فی سبیل اللہ مجاہدین ہیں جو نہ صرف امریکہ اور عالمی صلیبی طاقتوں کے مد مقابل ڈٹے ہوئے ہیں، بلکہ اس صلیبی اتحاد کے اساسی رکن، پاکستان کی فوج کے مظالم بھی ثابت قدمی سے برداشت کر رہے ہیں۔ لہٰذا ان حالات میں شریعت کا کم سے کم تقاضا بھی یہ ہے کہ امریکہ کی وفادار اور اسلام سے غدار حکومتوں کے خلاف خروج کرنے والوں کی مخالفت نہ کی جائے۔

آراء و افکار

مارچ ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۳

ابتدائیہ
محمد عمار خان ناصر

اسلام کا تصور جہاد ۔ چند توضیحات
مولانا محمد یحیی نعمانی

جہاد ۔ ایک مطالعہ
محمد عمار خان ناصر

’’پر امن طریق کار‘‘ بمقابلہ ’’پر تشدد طریق کار‘‘
مولانا حافظ محمد رشید

حکمرانوں کی تکفیر اور خروج کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (پہلی مجلس مذاکرہ)
ادارہ

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (دوسری مجلس مذاکرہ)
ادارہ

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (تیسری مجلس مذاکرہ)
ادارہ

پاکستان ایک غیر اسلامی ریاست ہے
الشیخ ایمن الظواہری

عصر حاضر میں خروج کا جواز اور شبہات کا جائزہ
محمد زاہد صدیق مغل

غلط نظام میں شرکت کی بنا پر تکفیر کا مسئلہ ۔ خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مولانا مفتی محمد زاہد

تکفیر اور خروج : دستورِ پاکستان کے تناظر میں
محمد مشتاق احمد

کیا دستور پاکستان ایک ’کفریہ‘ دستور ہے؟ ایمن الظواہری کے موقف کا تنقیدی جائزہ
محمد عمار خان ناصر

پروفیسر مشتاق احمد کا مکتوب گرامی
محمد مشتاق احمد

خروج ۔ کلاسیکل اور معاصر موقف کا تجزیہ، فکر اقبال کے تناظر میں
محمد عمار خان ناصر

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter