سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

جاوید اکبر انصاری / زاہد صدیق مغل 


اس مضمون کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی تفہیم کے لیے چند مطلوب بنیادی مباحث کو مربوط انداز میں پیش کرنا ہے۔ سرمایہ داری یا کسی بھی نظام زندگی پر بحث کرتے وقت مفکرین کا نقطہ ماسکہ اجتماعی زندگی اور اسکے لوازمات کی تشریح و تنقیح رہتی ہے اور وہ انفرادیت جو ان تمام اجتماعی معاملات کو جنم دیتی ہے نظروں سے اوجھل رہتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی فرد کے تعلقات کے مجموعے کے سواء اور کچھ بھی نہیں (۱)۔ انسانی زندگی ایک مربوط عمل ہے۔ انسان کی سوچ، عمل اور تعلقات میں گہرا ربط ہے۔ عمل اور تعلقات سوچ کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ سوچ کی بنیاد احساس ہے۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ان معنوں میں ہے کہ وہ لامحالہ اپنی انفرادی حیثیت میں یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خیر اور شر کیا ہیں؟ اس دنیا میں اس کا مقام کیا ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اس کو کیسے اعمال و افعال اختیار اور کیسے تعلقات استوار کرنے چاہئیں؟ اسی بنیادی انفرادی ذمہ داری کا یہ اظہار ہے کہ ہر شخص اپنی انفرادی موت سے دو چار ہوتا ہے اور اس کو انفرادی طور پر اپنی قبر میں اپنے اعمال کا جواب دینا ہوتا ہے۔ اپنی انفرادیت کے تعین کے لیے ہر شخص اس سوال کا جواب دینے پر مجبور ہے کہ ’میں کون ہوں؟‘ آج کل کے زمانہ میں اس سوال کے دو جوابات مقبول ہیں: (۱) میں مسلمان ہوں ، (۲) میں آزاد ہوں۔ ان میں سے جو جواب بھی دیا جائے گا وہ ہر چند قبل از احساس اور قبل از فکر پر مبنی مفروضات پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی چیز کو ’’ایمان‘‘ کہتے ہیں۔ ایمان دلیل اور وجدان پر منحصر نہیں، دلیل اور وجدان ایمان پر منحصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نظام الدین اولیا ؒ کسی شخص کے ایمان لانے کو معجزہ کہا کرتے تھے (آپ کے دست مبارک پر ہزاروں لوگ ایمان لائے)۔ کوئی شخص محض اپنے احساسات یا اپنی سوچ کی بناء پر ایمان نہیں لاتا۔ نہایت عظیم مفکر ین اور روحانی پیشوا مثلاً ارسطو، گاندھی، ووکانندا، کانٹ، آئن اسٹائن وغیرہ ایمان نہیں لائے کیونکہ ایمان کی دولت اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم کے نتیجے میں ملتی ہے۔ 

امام غزالیؒ المنقذ من الضلال میں فرماتے ہیں کہ علوم شرعی و عقلی کی تفتیش میں جن علوم میں میں نے مہارت حاصل کی اور جن طریقوں کو میں نے اختیار کیا ان سب سے میرے دل میں اللہ کی ربوبیت، نبوت اور یوم آخرت پر ایمان بیٹھ گیا۔ ایمان کے یہ تینوں اصول کسی دلیل خاص سے میرے دل میں راسخ نہیں ہوئے تھے بلکہ ایسے اسباب اور قرائن اور تجربوں سے راسخ ہوئے تھے جن کی تفصیل احاطہ حصر میں نہیں آسکتی۔ مزید فرماتے ہیں کہ جس شخص نے یہ گمان کیا کہ کشف حقیقت مجرد دلائل پر موقوف ہے تو اسنے اللہ کی وسیع رحمت کو نہایت تنگ سمجھا۔ احساس اور فکر کی بنیاد ایمان پر ہوتی ہے۔ اسی چیز کو صوفیاء تصورِ حال سے تعبیر کرتے ہیں۔ جو شخص اسلام پر ایمان لایا اس کے احساسات اور افکار اسی کے ایمان کا پر تو ہوتے ہیں اور اعمال و تعلقات اپنے احساس اور تفکرات ہی کا اظہار ہیں۔ چنانچہ اجتماعی تعلقات فرد کے مخصوص احساسات کا مظہر ہوتے ہیں اورانکا اظہار معاشرے اور ریاست کی دو سطحوں پر ہوتا ہے۔ معاشرہ ان تعلقات کے اجتماع کو کہتے ہیں جو افراد بغیر جبر و اکراہ اپنی انفرادیت کے اظہار کے لیے قائم کرتے ہیں اور چونکہ انفرادیت کا تعین مختلف ہے، کچھ لوگ مسلمان ہیں اور کچھ کافر لہٰذا معاشرے بھی مختلف النوع ہوتے ہیں۔ معاشرہ رضاکارانہ (voluntary) صف بندی سے وقوع پذیر ہوتا ہے یعنی معاشرے میں مختلف ادارے وجود میں آتے ہیں، مثلاً خاندان، مسجد، بازار، محلہ، قبیلہ، برادریاں، مدرسہ، مدینہ، نظامِ شفع وغیرہ۔ ان اداروں کے قیام کی بنیاد تاریخی روایات کا تسلسل ہوتاہے اور ہر ادارہ معاشرتی تسلسل کا مظہر ہوتا ہے۔ وہ انہی اقدار کی غمازی کرتا ہے جو قدیم زمانے سے معتبر تسلیم کیے جاتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ان اقدار میں تبدیلی آتی ہے معاشرتی ادارتی تنظیم بھی تغیر پذیر ہو تی ہے۔ مثلاً مسلم معاشرے میں خانقاہی نظام تقریباً مکمل طور پر معطل ہوگیا ہے، بالخصوص بازار کی زندگی پر خانقاہ کا اثر تقریباً ختم ہوگیا اور اس کی جگہ Chamber of Commerce نے لے لی ہے۔ اسی طرح یورپی معاشرے میں خاندان اور برادری کا ادارہ ناپید ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ Cohabitation اور NGOs نے لے لی ہے اور اسی کی مماثل تبدیلیاں عبادت و محافل ذکر ونعت کی جگہ Entertainment industry اور فنون لطیفہ وغیرہ کا فروغ ہے۔ 

اس نوعیت کی تبدیلیاں جبر کی بنیاد پر وقوع پذیر نہیں ہوتیں۔ کراچی اور لاہور کے تاجروں نے بہ رضا و رغبت بغیر کسی جبر کے خانقا ہوں سے اپنے قدیم تعلقات آہستہ آہستہ منقطع کرلئے ہیں۔ نیویارک کا نوجوان زنا کو نکاح پر ترجیح دیتا ہے کوئی اس کو زنا کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ معاشرتی تغیر (Social Change) کے عمل کی بنیاد اقدار کی تبدیلی ہے جبر نہیں ہے(۲)۔ ہر معاشرے کو ایک نظامِ جبر کی ضرورت ہے، اس نظامِ جبر کوریاست کہتے ہیں۔ ریاست سے مراد افراد کے جبری تعلقات کا مجموعہ ہے اور ریاست معاشرتی اقدار کی بنیاد پر جائز و ناجائز حلال اور حرام کے ان تصورات اور پیمانوں کو نافذ العمل بناتی ہے جن کو معاشرتی سطح پر مقبولیت حاصل ہے یا جن کو معاشرہ برداشت کرنے پر آمادہ ہے۔ ریاست محض نظامِ جبر نہیں بلکہ اقتدار کا وہ نظامِ جبر ہے جس کو عام مقبولیت یا عام برداشت حاصل ہو۔ ریاست مقبول اور برداشت کی جانے والی معاشرتی اقدار کو نافذ العمل بنانے کے لیے جبری صف بندی عمل میں لاتی ہے۔ 

اس گفتگو سے واضح ہوا کہ انسانی حیات کا اظہار تین سطحوں پر ہوتا ہے: 

(۱) انفرادی سطح پر جہاں فرد اپنی ایمانیات کا تعین کرتا ہے اور ان ایمانیات کی بنیاد پر اپنے حال اور مقام کا تعین کرتا ہے۔

(۲) معاشرتی سطح پر جہاں ان اقدار کے فروغ کے لیے جو افراد نے غیر اکراہی طور پر اختیار کی ہیں انکے لئے غیر اکراہی یا رضاکارانہ صف بندی عمل میں لاتے ہیں ۔

(۳) ریاستی سطح پر جہاں جبری مقبول عام یا عام طور پر برداشت کیے جانے والے اقدار کو قانون اور قوت کے ذریعہ نافذ العمل بنایا جاتا ہے ۔

ان تینوں سطحوں کے ارتباط کو ’نظامِ زندگی‘ کہتے ہیں یا اسے ’تہذیب‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔ ہر تہذیب ایک مخصوص انفرادیت، ایک مخصوص معاشرت اور ایک مخصوص ریاست کو فروغ دیتی ہے، اور ہم انفرادیت، معاشرت اور ریاست کو الگ الگ خانوں کے طور پر تصور نہیں کرسکتے (۳)۔ ایک خاص انفرادیت ایک مخصوص معاشرت اور مخصوص ریاست ہی میں پنپ سکتی ہے، غیر مسلم معاشرے اور ریاست میں اسلامی انفرادیت عام نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے بلا ضرورت شرعی غیر مسلم علاقوں میں سکونت اختیار کرنے سے منع فرمایاہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہئے کہ سرمایہ داری محض کسی ’معاشی نظرئیے ‘ کا ہی نام نہیں، بلکہ ایک نظام زندگی ہے جس کا ایک خاص تصور فرد،معاشرہ اور ریاست ہے اور یہ تینوں تصورات باہم مربوط ہیں جو مل کر مذہب سے متصادم تہذیب وجود میں لاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ عقلیت اور سرمایہ دارانہ عمل معاشی جدوجہد تک محدود نہیں رہ سکتے، آج دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں سرمایہ دارانہ معیشت ترقی کررہی ہو لیکن خاندان تباہ نہ ہو رہے ہوں،زنا عام نہ ہو رہا ہو، ادب اور ثقافت دھوکہ ،غلیظ ترین اور فحش ترین رجحانات کی عکاسی نہ کر رہا ہو، استبداد، ظلم اور جعل سازی عام نہ ہو ۔ سرمایہ داری سے ہماری مراد وہ نظم زندگی ہے جہاں عقلیت اور فیصلوں کی بنیاد آزادی (یعنی حرص و حسد) کا فروغ ہو۔ چنانچہ سرمایہ داری : 

  • فرد کو انسان (عبد) سے ہیومن بینگ (Human being) بنا دیتی ہے ۔
  • معاشرے کو مذہبی معاشرت سے سول سوسائٹی میں تبدیل کردیتی ہے ۔
  • ریاست کو خلافت سے ریپبلک (Republic) بنادیتی ہے ۔

سرمایہ داری کی مکمل تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ تصور انفرادیت، معاشرت و ریاست تینوں کا جائزہ لیں۔ البتہ اس مضمون میں ہمارا ہدف صرف تصور انفرادیت کی تفصیل بیان کرنا ہے۔ تصور انفرادیت کی بحث اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ قیام دین کی جدوجہد میں بنیادی حیثیت فرد کی ہے، یعنی ہم فرداً فرداً ہر شخص کو اس کا وہ عہد یاد دلانا چاہتے ہیں جو اس کی روح نے اللہ تعالی سے کیا تھا کہ ’تو ہی ہمارا رب ہے‘(۴)۔ یہ دعوت ہر شخص کی اصلاح اور اسے جنت کا مستحق بنانے کی دعوت ہے۔ ہماری دعوت کی بنیاد یہی ہے کہ دنیا کا ہر شخص اس بات کا مستحق ہے کہ ہم کوشش کریں کہ وہ جنت میں جائے۔ انہی معنی میں اسلامی تحریکات ایک روحانی دعوت دیتی ہیں اور انکی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ دعوت دینے اور قبول کرنے والوں کے حال و میلانات اور قلبی کیفیات تبدیل ہوجائیں۔ اس مضمون میں ہماری کوشش ہوگی کہ اس انفرادیت و شخصیت کے خدوخال بیان کریں جس کے تعلقات کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی نمو پزیر ہوتا ہے۔ تصور انفرادیت کی تفہیم کے ضمن یاد رکھنا چاہئے کہ تعیین انفرادیت کی بنیاد احساس پر قائم ہوتی ہے اور یہی بنیادی نکتہ سمجھنے سے تصوف کی ضرورت و اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ اس مرکزی بحث کے بعد ہم سرمایہ دارانہ شخصیت کا حال بیان کریں گے اور پھر تعمیر شخصیت کے ضمن میں اصلاح اسلامی کے کام کی نوعیت کو بیان کریں گے۔ وما توفیقی الا باللہ 

۱۔ تعیین و تعمیر انفرادیت میں احساس کی اہمیت 

تعمیر شخصیت میں احساس (feelings)کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مغربی معاشرتی علوم اور فلسفہ احساس کی عقلی اور مادی تشریح اور تعبیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اسی نہج علم کی پیروی کرتے ہوئے ماہرین نفسیات نے احساس کے عقلی و مادی تجزئیے کے لیے متعدد سائنسی طریقے مرتب کیے ہیں۔ مغربی علوم کا مرکزی دھارا (۵) احساس سے بالاتر ہو کر حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کا دعوی کرتا ہے اور احساس کو علم کا ذریعہ تصور نہیں کرتا بلکہ اس کے مطابق احساسات اور میلانات عقلی تحقیق اور جستجو کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ اسی لئے مغربی عقلیت و علمیت یہ عمومی دعوی کرتی ہے کہ تمام ایمانیات، احساسات و جذبات سے اوپر اٹھ کر ہی انسان حقیقت کا معروضی (objective)مطالعہ اور مشاہدہ کرسکتا ہے (۶) ۔ اس کے برعکس علوم اسلامی میں احساس کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ احساس کا سرچشمہ قلب ہے اور آقائے دوعالمﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جان لو کہ انسانی جسم میں خون کا ایک لوتھڑا ہے کہ وہ اگر درست ہوجائے تو سارا جسم درست ہوجائے اور اگر فساد کا شکار ہوجائے تو سارا جسم فساد کا شکار ہوجائے، آگاہ رہو کہ وہ قلب ہے‘‘ (متفق علیہ)۔ اسلامی عقلیت قلب کی فوقیت کو تسلیم کرتی ہے۔ قرآن مجید حضورﷺ کے قلب پر اتارا گیا اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے قلوب میں محفوظ رہا۔ یاد رہنا چاہئے اسلامی دعوت بنیادی طور پر قلب کو مخاطب کرتی ہے اور اسی لئے اہل دل ہی دعوت اسلامی کے فطری امام ہیں ۔ امام غزالیؒ نے فرمایا: ’معرفت کی صلاحیت و استعداد قلب کو عطا کی گئی ہے اور اوامرو نواہی کا مخاطب قلب ہے‘۔ امام صاحبؒ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ قلب سے مراد ایک روحانی لطیفہ ہے جسکا جسمانی قلب سے تعلق ہے اور یہی لطیفہ مدرک (یعنی ادراک کرنے والا) بھی ہے اور عالم بھی۔ یہاں ہم یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ احساسات کیونکر حصول علم اور تعمیر انفرادیت میں بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں نیز یہ کہ عقلیت دماغی (Reason of the mind) یعنی خرد درحقیقت قلبی عقلیت (Reason of the heart) کے تابع ہے۔ 

قلب و عقل کے اس تعلق کو سمجھنے کے لیے جاننا چاہئے کہ احساسات عقل سے ما قبل ہوتے ہیں اور انکے بغیر دماغی عقل فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ ایک شخص کسی موذی حیوان مثلاً شیر کے سامنے جو بھی رویہ اختیار کرتا ہے وہ مخصوص احساسات کا اظہار ہوتا ہے۔ مثلاً عقل شیر سے بچنے کی کوئی تدبیر تب سجھاتی ہے کہ جب فرد کے نفس میں خوف کی کیفیت پیدا ہو، لڑنے کا طریقہ کار تب سکھاتی ہے جب نفس میں بہادری کا احساس اجاگر ہو وغیرہ۔ الغرض اگر احساسات کو فرد سے منہا کردیا جائے تو اس کی زندگی انتشار کا شکار ہوکررہ جائے گی اور وہ کبھی یہ فیصلہ نہ کرسکے گا کہ مخصوص حالات میں اسے کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ چنانچہ احساسات فرد کے لیے یہ فیصلہ کرنا ممکن بناتے ہیں کہ مخصوص حالات میں لامتناہی ممکنہ افعال میں سے دماغی عقل کو کن افعال کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ دماغی عقل قلبی عقل کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہے (۷) ۔ درحقیقت احساسات ہی وہ شے ہیں جسے دماغی عقل بطور ’معیار عقل ‘ پہچانتی ہے، دوسرے لفظوں میں احساسات بذات خود معقول یا غیر معقول ہوتے ہیں۔ درج ذیل دو مثالوں پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوسکے گی: 

(۱) کسی روز تین بجے زید کے ساتھ آپکی ملاقات ہونا طے ہے۔ فرض کریں آپ تین منٹ تاخیر سے پہنچنے پر معذرت پیش کرتے ہیں مگر زید آگ بگولہ ہوکر آپ پر بری طرح برس پڑتا ہے اور آپ کو غیر ذمہ دار اور سخت سست کہتا ہے 

(۲) زید کو فون آتا ہے کہ اس کے والد سخت زخمی حالت میں ہسپتا ل لائے گئے ہیں اور اس وقت وہ ICU میں داخل ہیں۔ فرض کریں زید کہتا ہے ’اوہو، آج تو مجھے کرکٹ میچ دیکھنے جانا تھا، چلو اب ہسپتال ہی چلتے ہیں‘ 

دونوں مثالوں میں زید کے رویے کو ’غیر معقولیت ‘ سے تعبیر کیا جائے گا۔ پہلی مثال میں اس کا رویہ غیر معقول ہے کیونکہ اسنے ’مطلوبہ مقدار سے زیادہ‘ جذبات کا اظہار کیا جبکہ دوسری مثال میں ’مطلوبہ مقدار سے کم ‘ ۔ دونوں صورتوں میں اس کا رویہ معقول تب کہا جائے گا جب وہ ’ مناسب مقدار میں مناسب جذبے ‘ کا اظہار کرے۔ دوسرے لفظوں میں کسی مخصوص حالات میں جس رویے کو معقول کہا جاتا ہے وہ مخصوص احساسات یعنی قلبی عقلیت کا ہی اظہار ہوتا ہے۔ 

اب یہ جاننا چاہئے کہ عقل اور قلب جس طریقے سے کسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں ان میں بنیادی نوعیت کا فرق ہے اور دعوت کے کام کو سمجھنے کے لیے ان دونوں کا فرق سمجھنا نہایت اہم ہے۔ احساس قلبی عقلیت کے اظہار کا ذریعہ ہے اور یہ حقیقت کے مکمل ، فوری اور بلاواسطہ ادراک کا وسیلہ ہیں۔ خرد مشاہدے (observation)کے ذریعے علم حاصل کرتی ہے جبکہ قلب و احساس کا ذریعہ علم شرکت (participation)ہے۔ قلب کسی چیز کا علم اسے اپنا کر حاصل کرتا ہے۔ مشاہدے میں کوشش یہ ہوتی ہے کہ مشاہد (observer)خود کو مشہود (observed) سے جتنا دور کرسکے اتنا بہتر ہے، نیز مشاہد اور مشہود کے درمیان جتنے تعلقات ہیں ان سے صرف نظر کیا جا سکے۔ اس کے برعکس احساسات کے ذریعے جو علم حاصل ہوتا ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ مشاہد و مشہود ایک دوسرے کے درمیان کس قسم کا تعلق قائم کرپاتے ہیں اور کس قدر ایک دوسرے کے وجود میں شرکت اختیار کرسکتے ہیں۔ مشاہد حقیقت کو ایک خارجی شے (reality as an external observer) کے طور پر پہچاننے کی کوشش کرتا ہے جبکہ احساس کے ذریعے ہم کسی شے میں شرکت کرکے اس کی حقیقت کا ادراک حاصل کرتے ہیں۔ مشاہدے کے ذریعے کسی شے کی حقیقت کی وہ داخلی بصیرت (insight) حاصل نہیں ہوسکتی جو اسمیں شرکت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ ایک ہی شے کے بارے میں ہمارا ادراک حقیقت شرکت سے پہلے اور بعد یکسر مختلف ہوا کرتا ہے۔ کسی اجنبی شخص کی موت کا معنی موت کی اس حقیقت سے یکسر مختلف ہواکرتا ہے کہ جب کوئی اپنا عزیز فوت ہوتا ہے جسکی وجہ صرف یہ ہے کہ اپنے عزیز رشتہ دار کی ہستی میں ہم احساس محبت کے ذریعے شرکت کرتے ہیں۔ ایک شخص کسی قریبی عزیز کے مر نے کے بعد کس کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے اس کا ادراک بطور مشاہد ممکن نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے اس کی ذات میں شرکت کرنا ضروری ہے۔ گویا کسی کیفیت میں مبتلا ہونے سے پہلے اور اس میں شرکت کے بعد ہم دو مختلف چیزوں کا ادراک حاصل کرتے ہیں اور یہ تبدیلی در حقیقت ہمارے ان احساسات کی مرہون منت ہوتی ہے جسکے ذریعے ہم اس شے سے اپنا تعلق قائم کرتے ہیں۔ جب ہم کسی کو دیکھتے ہیں تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں لیکن جب ہم کسی کے لیے محسوس کرتے ہیں تو ہم اس کا مشاہدہ نہیں کرتے بلکہ ہم اس سے یا تو محبت کرتے ہیں یا نفرت کرتے ہیں۔ اگر ہم لاتعلق ہیں تو کسی کے لیے محسوس نہیں کرتے بلکہ صرف مشاہدہوتے ہیں۔ جذبات کے ذریعے کلی مشاہدہ صرف ان معنوں میں نہیں ہوتا کہ ہم اس کو سمجھ لیتے ہیں بلکہ اس چیز سے ہمیں اپنا تعلق سمجھ میں آجاتا ہے اور وہ ہماری ہستی کو مکمل کرنے میں ایک اہم جزو کی حیثیت حاصل کرلیتی ہے۔ چنانچہ احساسات یہ طے کرتے ہیں کہ مخصوص حالات میں ہم خود کو کیسے پاتے ہیں (how do we find ourselves in a given situation) اور کسی شے کے بارے میں میری بصیرت کا انحصار اسی شے پر ہے کہ اس شے کے ساتھ میں خود کو کیسا پاتا ہوں یعنی میرا اس کے ساتھ کیسا تعلق ہے۔ جب ہم کسی کے لیے محسوس کرتے ہیں تو من و تو کے فاصلے عبور ہوتے ہیں اور ہمارے اور اس کے درمیان تعلق قائم ہوکر ایک ہستی (shared-subjectivity) وجود میں آتی ہے جس میں وہ اور ہم بیک وقت شریک ہوتے ہیں اور اس شرکت کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔ علمیاتی (epistemologically) طور پر وہ علم جو شرکت کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے وہ اس علم سے بالکل مختلف ہے جو ہم مشاہدے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ شرکت کے ذریعے حاصل کردہ علم مقدم اور بنیادی ہے۔ 

چنانچہ عقلیت قلبی اور خرد میں یہی بنیادی فرق ہے۔ خرد آہستہ آہستہ ، قدم بقدم ، جزواً جزواً حقیقت کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اطلاع اور مشاہدے کی بنیاد پر بتدریج معلومات کو جمع کرکے ان سے منطقی نتائج اخذ کرتی ہے اور اپنی اس کوشش میں کلی حقیقت کو اجزاء میں تحلیل کرکے سمجھنے کی نامکمل سعی کرتی ہے۔ اس کے برعکس احساس کے ذریعے ان بنیادی معروضات کا براہ راست اور کلی مشاہدہ ممکن ہوپاتا ہے جو دماغی عقلیت کی رسائی سے پرے ہیں۔ جس شخص کے احساسات پاک ہوں گے اس کا حال درست ہوگا اور جس کا حال درست ہوگا وہ ان ماورائی حقائق تک وجدانی (intuitive) رسائی حاصل کرسکتا ہے جو یا تو خرد کی دسترس سے کلیتاً باہر ہیں یا ان کے قریب پہنچنے کے لیے دماغی عقلی مباحث نہایت پیچیدہ اور عمیق ہیں اور مکمل تیقن کے ساتھ کبھی ان ما بعدالطبعیاتی حقائق کا اثبات نہیں کرسکتے۔ مثلاً خدا کے وجود کی کوئی بھی ایسی دلیل نہیں جسکو دماغی عقلیت کی بنیاد پر رد نہ کیا جاسکتاہو۔ اس کے برعکس جس وقت نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کے سامنے دعوت پیش کی تو آپؓ نے اسے یوں قبول کیا گویا وہ اس کے منتظر تھے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپؓ کی قلبی کیفیت نہایت پاکیزہ تھی۔ صدیق اکبرؓ نے جن احساسات کی بنیاد پر اپنی دماغی عقل کو استعمال کیا وہ انکی قلبی طہارت کے غماز ہیں اور ابوجہل نے جن جذبات کی بنیاد پر حضور پر نورﷺ کی دعوت کو مٹانے کے لیے اپنی دماغی عقلیت کو استعمال کیا وہ اس کی قلبی کثافت کے عکاس ہیں۔ قبل از اسلام بیشتر صحابہؓ اسی حال میں تھے جس میں ابوجہل تھا لیکن صحابہؓ کے حال بدل گئے مگر ابوجہل کی قلبی کیفیات نہ بدلیں، اس کی دماغی عقلیت اس کے کافر دل کے تابع رہی تاآنکہ وہ جہنم واصل ہوگیا۔ یہ بات اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ لوگ ایمان دل میں تبدیلی کی وجہ سے لاتے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ فرمایا کرتے کہ جب کوئی شخص صدق دل سے ایمان لاتا ہے تو معجزہ رونما ہوتا ہے (۸)۔ چونکہ ایمان دل کے بدلنے کا متقاضی ہے اس لئے احساسات کو پاک کرنا اور اس کے ذریعے لوگوں کے حال کو بدلنا دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں کے لیے اشد ضروری ہے۔ حال یعنی احساسات کی دستگی کے بغیر دماغی عقلیت کو اسلامی خطوط پر پروان چڑھانا ناممکن ہے۔ 

احساس کو سمجھنے کے لیے تعلق کا استوار کرنا لازم ہے۔ مادی تغیرات کا مشاہدہ صرف خارج سے ممکن ہے جیسے ایک ڈاکٹر ایک مریض کے جسم کا مطالعہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر مریض کے جذبات و احساسات سے جتنا دور اور لاتعلق ہوگا اس کی تشخیص اتنی ہی سائنسی اور معروضی سمجھی جاتی ہے (۹)۔ لیکن اگر ڈاکٹر مریض کے احساسات کو سمجھنا چاہتا ہے تو خارجی مشاہدہ کافی نہ ہوگا، اسے مریض سے ہمدردی اور انسیت کا ایک ایسا تعلق پیدا کرنا ہوگا جسکے نتیجے میں ڈاکٹر مریض کی زندگی پر اثر انداز ہونے کے قابل ہوجائے گا۔ جن ہستیوں میں ایسے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں وہ ایک دوسرے کے وجود میں شرکت کرلیتی ہیں۔ دماغی عقلیت محض اجسام کا مشاہدہ کرسکتی ہے، اس کے ذریعے کسی کے احساسات کا ادراک ممکن نہیں ہے۔ احساسات کے ادراک کے لیے غیر کو اپنانا ہوگا اور انہیں سمجھنے کے لیے خارجی سطح سے اوپر اٹھ کر روحانی تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔ اس روحانی تعلق کو محبت کہتے ہیں جسکا مطلب غیر کی ذات کو اسطرح اپنا لینا ہے کہ اس کی خوشی و غم اپنے وجود کا حصہ بن جائے۔ محبت کرنے والوں کے وجود بلاشبہ جدا ہوتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے کے وجود میں شرکت اختیار کرکے مشترکہ ہستی قائم کرتے ہیں (۱۰) ۔ خارجی مشاہدے کے ذریعے احساسات کا ادراک ممکن نہیں اس کے لئے شرکت ناگزیر ہے جسکی بنیاد یا محبت ہوتی ہے اور یا نفرت۔ نفرت کرنے والا شاہد مشہود کے وجود کو تباہ کرتا ہے جبکہ محبت کرنے والا شاہد اسے نمو بخشتا ہے۔ احساسات کے ذریعے حقائق کا داخلی مطالعہ ممکن ہوپاتا ہے اور ہم حقائق تک رسائی وجود میں شریک ہوکر حاصل کرتے ہیں۔ اسی کیفیت کو قرآن مجید میں ’ادخلوا‘ (۱۱) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی اسلام کو محض خارجی طور پر سمجھنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اسلام میں داخل ہونا ضروری ہے۔ اسلام میں داخل ہونے کے لیے انسان کے افعال اور احساسات (یعنی حال) وہ ہونے چاہئیں جو اسکو کائنات کے اساسی حقائق تک رسائی کے قابل بناسکیں۔ اگر وہ احساسات پیدا نہ ہوں تو سالہا سال کے مطالعے اور مشاہدے کے باوجود فرد محض اسلام کا مداح بن سکے گا لیکن اس میں داخل نہ ہوسکے گا، جیسا کہ دور حاضر میں مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا حال ہے کہ وہ اسلام کو پسند تو کرتے ہیں اور اس کے حق میں عقلی دلائل بھی دیتے ہیں مگر اسمیں داخل نہیں ہوتے۔ 

پس واضح رہنا چاہئے کہ احساس کی پرورش کے لیے تعلقات کا قیام و تسلسل نہایت ضروری ہے۔ تصوف سے فیض کسی شیخ کی توجہ اور تصرف فی الذات کے بغیر ممکن نہیں ہے، جب تک پیر ومرید اپنی ذاتی انفرادیت کوبرقرار رکھتے ہوئے وجود میں شریک نہ ہوں وہ احساسات مرتب نہیں ہو سکتے جو تصوف کو دخول اسلام کا ذریعہ بنادیں (۱۲) ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افراد جو صوفی تعلیمات و کردار کا محض خارجی مطالعہ کرتے ہیں اور انکو محسوس نہیں کرتے انکے ذریعے اسلام میں داخل نہیں ہوپاتے۔ امام غزالیؒ المنقذ من الضلال میں فرماتے ہیں کہ طریقہ تصوف کی خاص الخاص باتیں سیکھنے سے نہیں آسکتیں بلکہ وہ درجہ حال و تبدیلی صفات سے پیدا ہوتی ہیں۔ کس قدر فرق ہے ان دوشخصوں میں جن میں سے ایک صحت و شکم سیری اور ان کے اسباب و شرائط کو جانتا ہے اور دوسرا فی الواقع تندرست اور شکم سیر ہے۔ جو شخص صحت مند ہے تعریف صحت اور اس کے علم سے ناواقف ہے وہ خود حالت صحت میں ہے لیکن اسے علم نہیں، دوسرا شخص صحت مند نہیں ہے مگر وہ اسباب صحت سے خوب واقف ہے۔ طبیب حالت مرض میں گو تعریف صحت ، اس کے اسباب اور اس کی دوائیں جانتا ہے مگر صحت سے محروم ہے۔ اسی طرح اس بات میں کہ تجھے حقیقت زہد اور اس کے شرائط و اسباب کا علم حاصل ہو جائے اور اس بات میں کہ تیرا حال عین زہد بن جائے اور نفس دنیا سے ذہول ہوجائے بہت فرق ہے۔ غرض صوفیاء صاحب حال ہوتے ہیں نہ کہ صاحب قال۔ 

اب تک کی بحث سے یہ نکتہ واضح ہوجانا چاہئے کہ ادراک حقیقت میں انسان کے احساسات یعنی اس کے حال کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ احساس اسی چیز کا نام ہے کہ ہم خود کو اس دنیا میں کس حال میں پاتے ہیں (۱۳) ۔ ’تمہارا حال کیا ہے؟‘ کا معنی یہی ہے کہ تمہارے احساسات کی کیفیت کیا ہے، تم کن خواہشات کے قابو میں ہووغیرہ ۔ احساسات کائنات میں شرکت کا ذریعہ ہیں، اور جس طریقے سے ہم کائنات میں شریک ہوتے ہیں وہ اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ ہمارا مشاہدہ کیا ہے بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہمارا حال کیا ہے۔ ایک مسلمان اور سائنسدان کے نزدیک زلزلے کی معنویت میں جوفرق ہے وہ انکے مشاہدے کے نہیں بلکہ حال میں فرق کی بناء پر ہوتا ہے (مسلمان کو زلزلہ خدائی عذاب یا تنبیہ دکھائی دیتا ہے جبکہ سائنسدان کو انسانی آزادی کی حد، مسلمان کی عقلیت زلزلے سے توبہ و اصلاح کا سبق سیکھتی ہے جبکہ سائنسدان کی عقلیت زلزلہ پروف گھر بنانے کا)۔ چنانچہ حال اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ اس کائنات کے بارے میں ہماری بنیادی بصیرت (insight)کیا ہے۔ گویا حال ہمارے احساسات کی خاص ترتیب اور کیفیت (quality) کا آئینہ دار ہوتا ہے، جس قسم کی ہماری کیفیات اور احساس ہوں گے ویسا ہی ہمارا حال ہوگا۔ چونکہ مومن، کافر اور فاسق کے نفوس کی حالت جدا جدا ہوگی اس لئے انکا حال یعنی دنیا سے انکا تعلق بھی جدا ہوگا۔ 

۱۔ مومن اطمینان کی حالت میں ہوگا، وہ اپنے رب کے تمام فیصلوں سے راضی ہوگا اور اس کی رضا کی جستجو میں ہوگا۔ وہ صابر اور شاکر ہوگا ۔

۲۔ کافر اضطراب کی حالت میں ہوگا۔ وہ خود کو قدرت کے جبر سے مغلوب تصور کرے گا۔ وہ شہوت اور غضب کے ذریعے اس قدرتی نظام میں فساد پھیلاکر اپنی خدائی قائم کرنے کی پیہم جستجو کرے گا ۔

۳۔ فاسق گو مگو کی کیفیت میں ہوگا۔ اس پر کبھی ایمانی جذبات غالب ہوں گے اور کبھی کافرانہ۔ اگر کافر یا فاسق کو مومن کی توجہ میسر آجائے اور وہ انکے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرے (یعنی انکی ذات میں تصرف کرے) تو عین ممکن ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے انکا حال بدل جائے ۔

جس طرح ان تینوں کے حال میں فرق ہے اسی طرح انکے مقام بھی مختلف ہیں: 

۱۔ مومن کا مقام عبدیت کاہے۔ مومن کو اللہ نے خلافت فی الارض سے سرفراز فرمایا ہے ۔

۲۔ کافر کا مقام باغی و سرکش کا ہے۔ وہ زمین میں فتنہ و فساد برپا کرتا اور اسے قائم رکھتا ہے ۔

۳۔ فاسق ایک گستاخ اور حکم ٹالنے والا ملازم ہے۔ وہ اللہ کو اپنا مالک تصور کرتا ہے اور اپنی عبدیت کا انکار نہیں کرتا لیکن مالک کے حکم کو بجا لانے سے جی چراتا ہے اور گاہے بگاہے اپنے نفس کی بندگی بھی کرتا ہے ۔

واضح ہوا کہ مومن و کافر اپنے زمانی و مکانی حال اور مقام کو احساس کی بنیاد پر متعین کرتے ہیں۔ مغربی عقلیت کا یہ دعوی کہ مابعد الطبعیاتی حقائق تک خرد کے ذریعے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے ایک باطل اور جھوٹا دعوی ہے۔ مغربی فلسفے کے پاس ایسی کوئی دلیل اور سائنس کے پاس ایساکوئی مشاہدہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر وجہ تخلیق کائنات اور کائنات میں انسان کے مقام کا تعین کیا جا سکے۔ ادراک حقیقت کا واحد معتبر ذریعہ تعلیمات انبیاء پر ایمان لانا اور ان کے مطابق احساسات کی تطہیر کرنا ہے جس کے بعد ہی ان حقائق تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔ 


حواشی 

* مضمون میں ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب کے مضامین ’حال و مقام‘ ، ’فرد، معاشرہ و ریاست‘ اور ’عالم اسلام اور مغرب کی کشمکش: نئے تناظر میں‘‘ سے جا بجا مدد لی گئی ہے اور ان کے اقتباسات نقل کیے گئے ہیں ۔

۱۔ اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ معاشرتی تعلقات بھی احساسات پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ان تعلقات کے نتیجے میں فرد اپنی ذات کا ادراک کرلیتا ہے کہ وہ کون ہے اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے ۔

۲۔ یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ ریاست اپنے جبر کے ذریعے مخصوص اقداری تبدیلی کو ممکن اور سہل بنا دیتی ہے ۔

۳۔ جو لوگ انسانی زندگی کی کلیت کو سمجھنے سے قاصر رہے انہوں نے مذہبی تعلیمات کو اصل اور اضافی کے خانوں میں بانٹ کر یہ کہا کہ وہ تعلیمات جنکا تعلق فرد کی ذاتی زندگی سے ہے وہی شریعت کا اصل مدعا ہیں، باقی رہیں اجتماعی تعلیمات تو انکی حیثیت اضافی اعمال کی ہے نیز انکے قیام کا فرد سے کوئی لازمی مطالبہ نہیں۔ اس فلسفے کے تحت انہوں نے فریضہ اقامت دین کو سرے سے ساقط ٹھرا دیا اور یہ دعوے کیے کہ ’اسلام مکمل بندگی کا نام ہے نہ کہ مکمل نظام کا‘۔ نجانے انسانی زندگی کے مکمل نظام کو خدائی اطاعت کا پابند بنائے بغیر مکمل بندگی اختیار کرسکنے کا کون سا طریقہ ممکن ہے؟ 

۴۔ قرآنی آیت ’انا ربکم الاعلی قالوا بلی‘ کی طرف اشارہ ہے ۔

۵۔ مغربی فلسفے کے مرکزی دھارے سے مرادفکر تنویر (Enlightenment) ہے جسکا آغاز سترہویں صدی میں ڈیکارٹ سے ہوا اور جسے لاک، ہیوم، کانٹ، ہیگل اور مارکس وغیرہ نے مرتب کیا ۔ مغربی فکر کا دوسرا دھارا تحریک رومانویت (Romanticism)تھی جسے تحریک تنویر کے مقابلے میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہوسکی ۔

۶۔ یہ تصور سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ کانٹ نے پیش کیا ۔

۷۔ ہیوم کا مشہور قول ہے کہ 'Reason is the slave of passions'

۸۔ معجزہ وہ چیز ہے جس کی توجیہہ دماغی عقلیت کے لیے ناممکن ہو۔ چونکہ نو مسلم کے قلب میں تغیر واقع ہوتا ہے اور قلبی تغیر کی وجوہات دماغی عقلیت کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں اس لئے ایک معجزہ ہوتی ہیں ۔

۹۔ یہاں یاد رکھنا چاہئے گو سائنس میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ سائنسی طریقہ علم (scientific method) سے حاصل کردہ علم محض دماغی عقلیت کا مظہر ہوتاہے اور جو شخصی خصوصیات سے ماوراء ہوتا ہے مگر یہ دعوی غلط ہے کیونکہ سائنٹفک میتھڈ بذات خود مخصوص (سرمایہ دارانہ ) انفرادیت ہی کا اظہار ہے۔ سائنسی مشاہدے کے لیے سائنسی تناظر اختیار کرنا لازم ہے بصورت دیگر سائنسی مشاہدہ ممکن نہیں ہوتا۔ سائنٹفک میتھڈ ان معنی میں اور بھی زیادہ خطرناک ہے کہ یہ شخصیت کو بھی جامد (fix) کردیتا ہے اور ہر وہ شخص جو اس طریقہ علم کو اختیار کرتا ہے لازماً اس مخصوص انفرادیت میں ڈھل جاتا ہے ۔

۱۰۔ وجود اور ہستی میں فرق کرنا لازم ہے۔ وجود اللہ تعالی کی نعمت ہے جو اس نے ہر فرد کو عطا فرمائی۔ وجود ہر شخص کا جدا ہے اور اس کی انفرادیت قائم رکھنا نہایت ضروری ہے ، اسی لئے شریعت پر عمل ہر حال میں لازم ہے۔ ہستی تعلقات کے اس مجموعے کا نام ہے جس کے ذریعے انسان دوسرے افراد سے، کائنات سے اور خدا سے اپنے تعلق کو سمجھتا بھی ہے اور قائم بھی رکھتا ہے۔ ہستی کو قائم کرنے کا بنیادی ذریعہ ذکر یعنی یاد ہے اور اسی وجہ سے ذکر اللہ کی اہمیت بیان فرمائی گئی ہے ۔

۱۱۔ سورۃ آل عمران کی آیت ادخلوا فی السلم کافۃ کی طرف اشارہ ہے ۔

۱۲۔ تصور شیخ کی بحث اور اس کی اہمیت کو اس تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے ۔

۱۳۔ حال ظاہری اعمال و قلبی کیفیات دونوں کے مجموعے کا نام ہے ۔

(جاری)

آراء و افکار

(جولائی ۲۰۱۲ء)

Flag Counter