پاکستان کا قانون توہین رسالت اور فقہ حنفی

مولانا مفتی محمد زاہد

توہینِ رسالت کے قانون کو ختم یا اس میں تبدیلی کرنے کی جو کوشش نظر آرہی تھی اور جس کے پیچھے ایک خاص لابی بھی موجود تھی جو ہمیشہ پاکستانی عوام کے احساسات وجذبات کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے، یہ کوشش تو دینی جماعتوں کے باہمی اتحاد اور عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت دکھانے سے دم توڑ گئی ہے۔ اس پر یقیناًیہ جماعتیں اور عوام تبریک کے مستحق ہیں۔ اس مسئلے پر گرما گرمی کے دوران میں نے ایک نجی مجلس میں یہ بات عرض کی کہ موجودہ ماحول سے قطع نظر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ۱۹۵ سی کے متعدد پہلو علمی وفقہی لحاظ سے غور کے متقاضی ہیں، نارمل حالات میں علما کو ان پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس پر ایک طالب علم نے سوال کیا کہ کیا نارمل حالات میں علما کو غور کی فرصت ملے گی؟ یہ سوال میرے ذہن کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے اور ابھی تک میرے دماغ میں گدگدی کر رہا ہے۔ دوسری طرف اس مسئلے پر عوامی اجتماعات میں جو طرزِ گفتگو اختیار کیا گیا یا کرنا پڑا، اس کی وجہ سے یہ تاثر عام ہو گیا ہے کہ یہ قانون ہماری قانون کی کتاب پر جس انداز سے موجود ہے، اسی طرح سے یہ اجماعی اور قطعی ہے جس میں کسی پہلو میں نہ تو فقہا کے درمیاں کوئی اختلاف موجود ہے اور نہ ہی کسی اختلاف کی گنجائش۔ عامۃ الناس سے لے کر اچھے خاصے پڑھے لکھوں تک بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں، جبکہ کسی شرعی مسئلے کی درست حیثیت واضح کرنا اہل علم کی ذمہ داری ہے ۔ اس لیے خیال ہوا کہ فقہی عبارات اور اصطلاحات سے بوجھل کیے بغیر عام قاری کے لیے کم از کم فقہ حنفی کی پوزیشن اس مسئلے پر واضح کردی جائے جس پر یہاں کے مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت عمل پیرا ہے۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ فقہ حنفی میں کیا شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے اور یہی متعین سزا ہے تو جواب اثبات میں ہوگا ۔ لیکن دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اس سزا کی فقہ حنفی میں نوعیت کیا ہے؟ یہ سوال بھی کم اہم نہیں ہے ، اس لیے کہ یہ سزا کہاں لاگو ہوگی اور کہاں نہیں، اس کا فیصلہ اسی سوال کے جواب سے ہوگا۔ فقہِ حنفی کے ایک طالب علم کے لیے یہ بات واضح ہے کہ یہ متعین سزا در حقیقت ارتداد کی سزاہے۔ یہی وجہ ہے کہ حنفی کتب میں اس سزا کا تذکرہ عموماً کتاب الحدود کی بجائے کتاب الجہاد کے باب المرتد میں ملتاہے۔ فقہ حنفی سے واقفیت رکھنے والے کے لیے یہ بات حوالہ جات کی محتاج نہیں ۔ سزا کی نوعیت کے اس تعین کے بعد اس پر چند اثرات خود بخود مرتب ہو جاتے ہیں اور ان اثرات کی تصریح بھی فقہ حنفی کی کتب میں موجود ہے، لیکن چونکہ یہ سطور ایک عام قاری کو مد نظر رکھ کرلکھی جارہی ہیں، اس لیے یہاں عبارات پیش کرنے سے گریز کیا جارہاہے۔ ( اہلِ علم کے لیے الشریعہ گوجرانوالہ میں مارچ ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والے مولانا مفتی محمد عیسیٰ صاحب گورمانی اور جناب پروفیسر مشتاق احمد صاحب کے مضامین کا مطالعہ مفید ہوگا)۔

(۱) جب یہ طے ہوگیا کہ یہ سزا ارتداد کے زمرے میں آتی ہے تو یہ بات بھی خود بخود طے ہوجاتی ہے کہ اس سزا کا اطلاق اسی شخص پر ہوگا جو پہلے سے مسلمان ہو۔ جو پہلے سے ہی غیر مسلم ہو، وہ ظاہر ہے کہ مرتد نہیں کہلا سکتا، اس متعین سزا کا اطلاق اس پر نہیں ہوگا۔ غیر مسلم اگر ایسا فعل کرتا ہے تو اس کے ساتھ کیا جائے گا، اس کا جواب ہم آگے چل کر ذکر کریں گے۔

(۲) چونکہ یہ سزا ارتداد کے طور پر دی جارہی ہے، اس لیے جس بات پر یہ سزا دی جائے، اس میں ان تمام احتیاطوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا جو فقہا کے نزدیک کسی شخص کو کافر اور مرتد قرار دینے کے لیے ضروری ہیں۔ 

(۳) مرتد کے بارے میں فقہ حنفی کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اگر وہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ نہ صرف یہ کہ قبول کی جاتی ہے بلکہ قاضی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسے توبہ کی تلقین کرنے کا انتظام کرے اور اسے اس کا موقع دے۔ 

ہمارے ہاں جلسے جلوسوں میں جوشِ خطابت میں یہ بات کثرت سے کہی گئی ہے کہ اس جرم کی کوئی توبہ نہیں اور کسی انسان کو توبہ کی بنیاد پر یہ سزا معاف کرنے کا اختیار نہیں اور یہ کہ یہ بات امت میں ہمیشہ سے مسلمہ چلی آرہی ہے، جبکہ توبہ قبول نہ کرنے کا نقطۂ نظر بعض فقہا نے اختیار ضرور کیا ہے، لیکن فقہ حنفی کا یہ نقطۂ نظر ہر گز نہیں ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی ؒ کی شخصیت سے فقہ حنفی کا کوئی بھی طالب علم ناواقف نہیں ہوسکتا ۔ ان کی کتابوں سے حنفی اہل افتا کے ہاں سب سے زیادہ استفادہ کیا جاتاہے۔ انہوں نے اپنی متعدد کتب میں مسئلے کے اس پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اہلِ علم ان کی کتاب رد المحتار کے باب أحکام المرتدین اور توہین رسالت کے مسئلے پر ان کے مشہور رسالے ’’ تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ ( جو مجموعہ رسائل ابن عابدین میں شامل ہے) کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔ 

نویں صدی ہجری کے ایک حنفی عالم البزازیؒ (وفات: ۸۲۷ھ) نے سب سے پہلے یہ بات لکھی کہ اگر کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو نے کے بعد سچے دل سے توبہ کرلیتا ہے اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کرتاہے، تب بھی اس کی سزا معاف نہیں ہو گی۔ بزازی کے بعد آنے والے بعض حضرات نے بھی ان کی یہ بات اسی طرح سے نقل کر دی، لیکن علامہ شامی ؒ نے البزازی کی اس بات پر شدید رد کیاہے اور یہ بتایا ہے کہ ان سے پہلے فقہ حنفی کا نقطۂ نظر، خواہ وہ کسی حنفی عالم نے بیان کیا ہو یا غیر حنفی نے، سب نے یہی بتایا ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق شاتم رسول کی توبہ قابل قبول ہے۔ فقہ شافعی کا نقطۂ نظر بھی حنفیہ کے قریب قریب ہے۔ فقہ مالکی اور فقہ حنبلی میں بھی ایک ایک قول یہی ملتاہے۔ اہل علم مسئلے کی علمی تفصیل تو مذکورہ حوالوں میں دیکھ سکتے ہیں، البتہ یہاں امام ابوحنیفہؒ کے براہِ راست شاگرد امام ابو یوسف ؒ کی عبارت کا ترجمہ ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتاہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’جو مسلمان مرد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے ، آپ کی تکذیب کرے ، آپ کی عیب جوئی کرے یا آپ کی تنقیص کرے تو اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔ اس کی بیوی اس سے جدا ہوجائے گی ۔ اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک وگرنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔ یہی حکم عورت کاہے، تاہم امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک عورت کو (توبہ نہ کرنے کے باوجود بھی ) قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ( کتاب الخراج ص۱۸۲ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی)

یاد رہے کہ کتاب الخراج در حقیقت امام ابو یوسف کا خلیفہ ہاورن الرشید کے نام خط ہے، اس لیے اس میں جو کچھ وہ تحریر فرمارہے ہیں، اس کی مخاطب ریاست ہے۔

بہر حال شاتمِ رسول کی توبہ قبول نہ ہونے کا قول بزازیؒ سے پہلے حنفیہ میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا۔ گویا نویں صدی ہجری تک فقہ حنفی میں اس بات کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ پھر بزازی ؒ نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے بارے میں علامہ شامی نے تفصیل سے ثابت فرمایا ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ ان کی رائے نہیں ہے بلکہ انہیں بعض عبارات کے سمجھنے میں شدید غلطی ہوگئی ہے۔ تاہم فقہ حنفی ہی کی معروف کتاب ’’الدر المختار‘‘ ( ج۴ص ۲۳۶) میں یہ ذکر کیا ہے کہ ۹۴۴ھ میں یہ امرِ سلطانی جاری ہوا تھا کہ اگر مجرم کی توبہ سچی معلوم ہو، پھر تو حنفیہ کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے توبہ قبول کرلی جائے اور سزاے موت کی بجائے قید وغیرہ تعزیری سزا پر اکتفا کیا جائے اور اگر ایسا شخص ہو جس سے خیر کی کوئی توقع نہ ہو ، توبہ محض بہانہ ہو (جس کا پتا اس جرم کے تکرار سے بھی چل سکتاہے) تو فقہ حنفی کے علاوہ بعض دیگر فقہا کے قول پر عمل کرتے ہوئے اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ۱۹۹۰ء میں اس مسئلے پر وفاقی شرعی عدالت کے معروف فیصلے، جس کی روشنی ہی میں پارلیمنٹ نے اس جرم پر عمرقید کی سزا کو حذف کرکے صرف سزائے موت کو برقرار رکھا تھا، میں بھی اس بات کی صراحت ہے کہ عدالت میں پیش ہونے والے متعدد اہل علم نے بھی یہی موقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون میں توبہ کا موقع ملنا چاہیے۔ ان علما میں دیوبندی مکتبِ فکر سے دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مولانا سبحان محمودؒ ، بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم مفتی غلام سرور قادریؒ اور معروف اہلِ حدیث عالم حافظ صلاح الدین یوسف قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلے میں جو بحث کی گئی ہے، اس بحث کی پوری جھلک کورٹ آرڈر اور اس کی روشنی میں ہونے والی قانون سازی میں نظر نہیں آتی۔ بہتر ہوتا کہ اس وقت یہ مسئلہ اپیل کے لیے سپریم کے شریعت بنچ میں چلاجاتا جہاں اس وقت مفتی محمد تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ ؒ جیسے جید علما موجود تھے۔ اس وقت وفاقی حکومت کی طرف سے اپیل کی بھی گئی تھی، لیکن اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے یہ اپیل واپس لینے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ اس جرم کی سزا اگر موت سے بڑھ کر کوئی ہوتی تووہ تجویز کی جاتی۔ نواز شریف صاحب کا جذبہ قابلِ قدر، لیکن بہر حال وہ باقاعدہ عالم دین نہیں ہیں۔ جناب اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ صاحب نے ایک کتابچے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس وقت وزیرِ اعظم کو پیغام بھیجا تھا کہ یہ اپیل واپس لی جائے ’’وگرنہ مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف بھی مشتعل ہو جائیں گے‘‘۔ اسماعیل قریشی صاحب ہمارے لیے بہت ہی محترم ہیں، خاص طور پر ان کا جذبہ عشق رسول سب کے لیے مشعلِ راہ ہے، لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ کسی شرعی مسئلے کو ماہرینِ شریعت پر مشتمل آئینی فورم پر اس لیے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مزید غور کرلیا جائے تو اس میں جذبات مشتعل ہونے والی کون سی بات تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس مسئلے میں شروع ہی سے صرف ایک نقطہ نظر کو جو کہ یہاں کی اکثریتی فقہ سے بھی مطابقت نہیں رکھتا، ایمان اور عقیدے کا درجہ دے دیاگیا تھا۔ یاد رہے کہ مذکورہ فیصلہ صادر کرنے والے وفاقی شرعی عدالت کے بنچ میں کوئی باقاعدہ عالم دین شامل نہیں تھے ، جبکہ سپریم کورٹ کے شریعت پنج میں مذکورہ دو جید عالم موجود تھے۔

(۴) چوتھا نتیجہ سزا ئے موت کی مذکورہ فقہی نوعیت کا یہ ہوگا کہ امام ابو حنیفہ ؒ کے مذہب کے مطابق اس قانون کے تحت عورت کو سزائے موت نہیں دی جائے گی، جیسا کہ امام ابو یوسف کی عبارت میں گزرا ۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ امام ابویوسفؒ کی مذکورہ تصریح عمومی طور پر مرتد ہ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خاص طور پر شاتمہ رسول کے بارے میں ہے۔

اب تک کی گفتگوکا حاصل یہ ہے کہ فقہ حنفی کی رو سے شاتمِ رسول کے سزائے موت متعین ہے بشرطیکہ جس سے جرم سرزد ہواہے، وہ مسلمان مرد ہو اور توبہ کرنے کے لیے تیار نہ ہو اور جرم کی نوعیت ایسی ہو کہ اسے بلاشک وشبہ ارتداد میں داخل کیا جاسکے۔ اگر کسی مجرم میں ان میں کوئی شرط مفقود ہو، مثلاً توہین کرنے والا غیر مسلم ہو یا ملزمہ عورت ہو توکیا اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایک مسلمان معاشرے اور ملک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک انتہائی سنگین برائی ہے اور اسلامی ریاست کے فرائض میں برائیوں کی روک تھام بھی شامل ہے اور برائیوں کی روک تھام کے لیے سزا پر مشتمل قوانین بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔ مذکورہ شرائط مفقود ہونے کی صورت میں شرعی طور پر کوئی متعین سزا تو موجود نہیں ہے، ایسے موقع پر تعزیری سزا سے کام لیا جاتاہے۔ تعزیری سزا سے مراد وہ سزا ہے جو شریعت نے از خود متعین نہیں کی ہوتی، اس کے بارے ریاست یا ریاستی اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ جرم اور مجرم کی نوعیت دیکھ کر اور حالات اور مصالح کو سامنے رکھ کر جو سزا مناسب سمجھیں، تجویز کرسکتے ہیں۔ناگزیر حالات میں بطور تعزیر سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے، بلکہ جہاں جرم کی نوعیت شدید ہو، وہاں سزائے موت ملنی چاہیے۔ مثلاً وہ علانیہ طور پر بار بار اس جرم کا ارتکاب کرتاہے یا جرم کے انداز میں ڈھٹائی اور سرکشی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔

اس پر بحث ہوسکتی ہے کہ موجودہ حالات میں فقہ حنفی کے نقطۂ نظر کو اختیار کرنا زیادہ مناسب ہوگا یا کسی اور رائے کو۔ موجودہ قانون فقہ حنفی کی بجائے بنیادی طور پر ابن تیمیہؒ کی رائے کی نمائندگی کرتاہے۔ وہ بھی ایک قابلِ احترام رائے ہے، لیکن جس مسئلے میں فقہ حنفی کا اختلاف موجود ہو، اسے مسلمہ اور اجماعی مسئلے کے طور پر پیش کرنا بہر حال ایک دینی مسئلے کی غلط تصویر دکھاناہے۔ تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ ایک اسلامی ملک میں توہین رسالت جیسا سنگین جرم کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں ہے ۔ اس کی روک تھام کے لیے قانون تو ضرور ہو، تاہم اس قانون کی تفصیلات پر دلائل شرعیہ کی روشنی میں غور ہوسکتا ہے ۔اہلِ علم سے یہ درخواست ہے کہ مسئلے کے تمام پہلوؤں کو اور ملک کی معروضی صورتِ حال کو سامنے رکھ کر سنجیدہ غور کا سلسلہ شروع کریں اور بجائے اس کے کہ کوئی موقع دیکھ کر حکومت کوئی لسٹم پسٹم ترمیم لے آئے اور دینی حلقوں کے ساتھ اسی طرح کا ہاتھ ہوجائے جیسا ۲۰۰۷ء میں حدود کے مسئلے پر ہوا تھا، علما کے لیے مناسب ہوگا کہ مختلف طبقات کے جائز تحفظات کو سامنے رکھ کر از خود قرآن وسنت کی روشنی میں کوئی قانونی پیکیج پیش کر دیں۔

جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا، یہاں دلائل کی تفصیل میں جانا مقصود نہیں ہے ۔ تاہم اختصار کے ساتھ اتنا عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں عہدِ رسالت کے جن واقعات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں کچھ لوگ تو ایسے تھے جن کا اسلامی ریاست کا شہری ہونا ہی ثابت نہیں ہے۔ بعض تو محارب ( بر سرِ پیکار ) تھے۔ بعض کے اس جرم کے علاوہ اور بھی کئی جرائم تھے اور یہ بات تو اکثر وبیشتر واقعات میں ہے کہ ان سے یہ جرم ایک آدھ مرتبہ صادر نہیں ہوا تھا، بلکہ بار بار اور عادت کے طور پر انہوں نے یہ وطیرہ اپنایا ہوا تھا۔ اس جرم پر سیاسۃً یا تعزیراً سزائے موت کے سلسلے میں متعدد فقہاء حنفیہ نے اسی صورتِ حال یعنی عادت اور تکرار کا ذکر کیاہے۔ اس سلسلے میں صرف ابوداود کی ایک روایت کی مثال دینا مناسب ہوگا جس کا ہمارے ہاں عام تقریروں میں بکثرت حوالہ دیا گیاہے۔ اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی باندی کو اس وجہ سے قتل کردیا تھا کہ وہ آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ لیکن اسی واقعے میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ باندی بار بار ایساکررہی تھی کہ اور اس صحابی نے اسے کئی بار سمجھا بجھایا بھی، لیکن پھر بھی وہ باز نہیں آئی ۔ اس سے یہ بات بھی نکل رہی ہے کہ اس مسئلے میں سمجھانے بجھانے کا بھی کوئی خانہ موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ نہیں فرمایا کہ اتنی مرتبہ سمجھانے بجھانے میں کیوں لگے رہے، تمہیں تو پہلی مرتبہ اسے سزائے قتل دلوانے کی فکر کرنی چاہیے تھی، کیونکہ اس طرح کی بات ایک دفعہ منہ سے نکلنے کے بعد سزائے موت کے علاوہ کوئی پہلو زیر غور آہی نہیں سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم عہد رسالت کے توہین رسالت کے واقعات کو جب اس انداز پیش کرتے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتاہے کہ ابن خطل جیسے کچھ لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کستاخی کے چند لفظ نکلے تو محض اتنے پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا سخت ایکشن لیا کہ خواہ وہ کتنی معافیاں مانگ لے، اس کے لیے آپ نے معافی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی اور غلافِ کعبہ پکڑے ہوئے ہوں، تب بھی انہیں قتل کرنے کا حکم دیا( کیونکہ ابن خطل جیسے لوگوں کے دیگر جرائم اور شرانگیزیوں کا ہم تذکرہ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہماری خطابتوں کے سیاق وسباق سے عام سیدھا سادہ آدمی یہی تصور کرتا ہے کہ یہ لوگ آسیہ مسیح جتنے ہی مجرم ہوں گے۔) جب اس انداز سے ہم ان واقعات کو پیش کررہے ہوتے ہیں تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی درست تصویر کشی کررہے ہیں اور کیا ہم آپ کی سیرتِ مبارکہ کی خدمت کررہے ہیں؟ یہ سب کچھ جذبۂ محبت میں اور نیک نیتی سے سہی، لیکن غیرشعوری طور پر اپنے نتائج کے اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مغرب کے ملعون کارٹون سازوں کے مقاصدکی تو اس سے تائید نہیں ہو رہی اور ہم کہیں یہ تأثر تو پیدا نہیں کر رہے کہ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ألف مرۃ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے کہ ایک دفعہ بھی جب کوئی ان کے خلاف بات کہہ دیتا تھا تو اسے کسی قیمت پر معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ ہمارے طرزِ عمل کے بارے میں ممکن ہے، میرا یہ احساس درست نہ ہو، تاہم غور کے لیے یہ سوال اہل علم وفکر کی خدمت میں پیش کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوا۔ اگر کوئی صاحب اس نا کارہ کی غلطی پر تنبیہ فرمائیں گے تو خوشی ہوگی۔

آراء و افکار