’’کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ (۱)

مولانا محمد بدر عالم

(افتراق وتفریق کا فکری، نفسیاتی اور سماجی تجزیہ۔)


امت مسلمہ اس وقت گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔ عالمی کفر نے ہر طرف سے اس کو شکنجے میں کس لیاہے۔ ہم معاشی طور پر خدایانِ مغرب کے محتاج اور عسکری طور پر ان کفار کے دست نگر ہیں۔ ہم ان کے سیاسی قیدی اور تہذیبی غلام ہیں۔ جمہوری نظام ہماری آنکھوں کا تارا اور بے دین معاشرت ہمارے سروں کا تاج ہے۔ حالات دِل فگار ہیں۔ ملت کا اجتماعی ڈھانچہ بالکل ٹوٹ چکاہے۔ معدودے چند افراد کے سوا جو امت کی ڈوبتی ناؤ بچانے کی کوشش کررہے ہیں، بہت بڑی اکثریت صرف اپنے مفادات کی سوداگر ہے۔ مفکروں کی دانش بانجھ اور فکر مردہ ہوچکی ہے۔ حکمران اگر کاسہ لیس اور عیارہیں تو سیاستدان ٹوڈی اور مکار ہیں۔ عدالتیں انصاف بیچتی ہیں اور صحافی حرمتِ قلم کا بیوپار کرتے ہیں۔ شعرا اگر کلام کے جادوگر ہیں تو خطبا لفظوں کے بازی گرہیں۔ غریب کادامن زرسے اور امیر کا دل ضمیر سے خالی ہے۔ مزدور کی محنت زربن کر کار خانہ دار کی تجوری میں اترجاتی ہے اور حالات کے جبر سے نکلنے والی اس کی کراہیں دھواں بن کر کارخانے کی چمنیوں سے نکلتی جاتی ہیں۔ کافروں کے ٹکڑوں پر پلنے والے چند بے ضمیروں نے پوری امت کو ان کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ حالات بد سے بدتر اور زوال مزید سے مزید تر ہوجارہاہے۔ 

امت حالات کے ایسے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ اللہ کی اس زمین پر خونِ مسلم سے ارزاں اور کوئی چیز نہیں۔ تڑپتے جسم، بھڑکتے وجود، بے گوروکفن لاشیں، لٹے سہاگ،پٹی عصمتیں، اجڑے دیار، ویران بستیاں، مظلوموں کی فریادیں، بندوقوں کے قہقہے، گولیوں کی مسکراہٹیں، بارود کی بارش، اِس سمت سے اْس سمت تک مسلمان کا لہو۔ کیایہی ملت کا مقدر اوراس کا نصیب ہے؟ یہ دلدوز حالات دیکھ کر آنکھیں خون آلود ہو جاتی ہیں او رسوچ سوچ کر کنپٹیاں سلگتی ہیں۔ دماغ پھٹتا ہے اور ہر درد مند دل پریشان اور غمگین ہو جاتا ہے۔

جس طبقے سے ناخدائی کی امید کی جاسکتی تھی، وہ باہم دست وگریباں ہے۔اس کی صلاحیتیں کسی اور کام پرصرف ہو رہی ہیں۔ بہت سے دوسرے افراد کی طرح راقم بھی اس پر سوچتا رہتا ہے کہ امت کے اس زوال وادبار کا سبب کیاہے؟ ہم دوبارہ عروج کس طرح حاصل کرسکتے ہیں؟قیادت کا فخراور سیادت کا شرف جو ہمارااثاثہ تھا، کس طرح واپس لیاجاسکتاہے؟ یہ مسئلہ امت کے لیے رستا ہوا ناسور اور سلگتا ہوا انگارہ ہے۔ ہر دردمند مسلمان کا دل اس کی ٹیس سے تڑپتا اوراس کی تپش سے جلتاہے۔ اس مسئلے پر بات کرنا گھاؤ پر نشتر لگانا اور سانپ کے ڈسے ہوئے کو اَک کا دودھ پلانا ہے۔ گمان تو اچھا رکھناچاہیے، مگر پھر بھی اس مضمون سے ہو سکتاہے کسی قباکے بخیے ادھڑجائیں، کسی عمامے کے پیچ کھل جائیں، کوئی گریباں چاک ہوجائے، اس لیے تیوریوں کا چڑھنا، پیشانیوں کا شکن آلود ہوجانااورزبانوں کا میرے حق میں بے لگام ہوجاناممکن ہے، لیکن ستائش کی تمنااورصلے کی پروا کیے بغیر اس بات کااظہار کرناخود پر فرض اورامت کا قرض سمجھتا ہوں جو میرے نزدیک حق ودرست ہے۔

اس وقت امت کو جن مسائل کا سامناہے، ان میں ’’فرقہ واریت‘‘ کا مسئلہ اہم ترین ہے۔بہت سے لوگ اسے امت کے زوال کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس سے کلی طورپر تو میں اتفاق نہیں کرتا، البتہ یہ یقین ضرور رکھتاہوں کہ عروجِ امت کے راستے میں یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ فرقہ واریت کے علاوہ اور ایک چیز بھی ہے جو نتائج کے لحاظ سے اگرچہ اس سے کم مہلک نہیں، مگراس کی طرف بہت کم لوگوں کی نظر اٹھتی ہے۔ جو اس کی طرف توجہ کرتے ہیں، وہ بھی اس کی سنگینی کو مکمل طور پر محسوس نہیں کرپاتے۔ نوعیت کے لحاظ سے یہ فرقہ واریت ہی کی فرع اور شاخ ہے۔ اس کانام ہم ’’تفریق‘‘ رکھتے ہیں۔ 

زوال کے اس دور میں عروج سے ہمکنار ہونے کے لیے مختلف النوع کوششیں ہورہی ہیں، لیکن کوئی کوشش بارآور اور کوئی سعی مشکور ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی وجہ کیاہے؟اکثریت نتائج میں اس ناکامی کو امریکہ اوراس کی سازشوں کے کھاتے میں ڈال کر یا دوسرے مخالفین کے سر منڈھ کر خودبری الذمہ ہوجاتی ہے۔اخلاق اس حد تک بگڑ گئے ہیں کہ ہر شخص خود کو ’’مصلح‘‘ اور مخالف کو ’’مفسد‘‘ سمجھتا ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے لوگ یقیناًآٹے میں نمک کے برابر ہوں گے جو حالات کا صحیح اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہوں، جو یہ سمجھتے ہوں کہ نتائج میں ناکامی کی ایک اہم ترین داخلی وجہ ایک طبقے، فرقے اور مسلک میں جماعت بندی، گروپ بندی اور پارٹی بازی یا ’’تفریق‘‘ ہے۔ کوئی فرقہ امت کے مجموعی دھارے سے الگ ہوتاہے اور کچھ ہی عرصے بعد کئی ٹکڑیوں میں بٹ جاتا ہے۔

یہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں اور جماعتیں نکبت اور ادبار سے نکلنے کی بساط بھر کوشش کرتی ہیں، مگر’’تفریق‘‘ ان کی کوششوں پر مٹی ڈال دیتی ہے، کیونکہ ہرایک جماعت دوسری جماعت کی کوششوں کو سبوتاژ کر دیتی ہے۔ ہر ایک کی سمت علیحدہ اور فکر جدا ہوتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جس نے بھی ڈیڑھ اینٹ کی اپنی الگ مسجد بنارکھی ہے، خود کو ملت کا خیر خواہ سمجھتاہے اور دوسرے فریق کو ملت کا بدخواہ گردانتا ہے۔ زبان سے گونہ کہے، مگر اس کا عمل یہ چغلی کھاتاہے کہ جو کام وہ کر رہا ہے، وہی کام ملت کے لیے سب سے اہم اورسب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے اصل کام بس اسی کا ہے۔ اڑھائی ٹٹو لے کر ایک شخص اپنی جماعت بنا لیتاہے اور خو د کو’’الجماعہ‘‘ کا مصداق، امت کا سواد اعظم اور ما انا علیہ و اصحابی کا سچا پیروکار سمجھے لگتاہے۔ ہر میدان میں تفریق نے ملت کی قوتوں کو منتشر اور تتر بتر کردیاہے۔ میری نظر میں تفریق، فرقہ واریت سے بھی بڑھ کر ملت کے لیے سم قاتل ہے۔ اس سے وہی نقصان ہورہاہے جو سیاسی میدان میں مرکزیت یعنی خلافت کے خاتمے کی وجہ سے ہوا۔ 

جمہوریت کے بجائے خلافت کا تصور دے کر اسلام نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو ایک لڑی اورایک وحدت میں پرو دیا۔ پوری دنیا کے مسلمان ایک قوم قرار پائے۔ خلافت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی تاکیدی احکام ارشاد فرمائے۔ یہاں تک بھی فرمایا کہ ایک کی موجودگی میں دوسرا داعئ خلافت ہوتو اسے قتل کردو۔ آپ کے اس مبارک ارشاد کے علی الرغم امت کو جلد ہی دو خلیفوں کی اطاعت کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا پڑا۔ وجوہات کچھ بھی ہوں، بہرحال جس چیز کا سدباب حضورؐ نے اس ارشاد میں کیا تھا یعنی مرکزیت ختم نہ ہو، امت اس پر عمل پیرانہ ہو سکی۔ شاید اسی ارشاد کی خلاف ورزی کا نتیجہ تھا کہ خلافت تو خلافت، اندلس سے مسلمانوں ہی کا بیج ختم ہوگیا۔

خلافت مسلمانوں کاایک مرکز تھی،دینی بھی سیاسی بھی۔اس سے وابستگی عبادت تھی۔ رفتہ رفتہ ایک خاص وجہ سے یہ مرکز کمزور ہونا شروع ہوا۔ یہ وجہ وہی تھی جو ہمارے زوال وادبار کی اصل اور جڑ ہے۔ مرکزی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر کئی علاقوں میں مختلف چھوٹی بڑی خود مختار امارتیں اور بادشاہتیں قائم ہوگئیں۔ اپنی تمام ترخود مختاری کے باوجود یہ امرا اس لحاظ سے دربارِ خلافت کے ماتحت ہی تھے کہ اپنی حکومت کو قانونی بنانے کے لیے دربارِ خلافت سے ان کا سند جواز حاصل کرنا ضروری تھا۔ گو اس وقت بھی مسلمان مختلف خطوں اور ملکوں میں تقسیم تھے، لیکن ملکی وطنی عصبیت نہیں تھی۔ملک تھے، سرحدیں تھیں، اس حوالے سے شناخت بھی تھی، مگر قانون تقریباً یکساں تھا۔ نیشنلٹی اور شہریت کسی خاص ملک اور علاقے تک محدود نہیں تھی۔ ہر مسلمان ہر خطے میں یکساں شہری حقوق کاحقدار سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ عہدوں اور مناصب کی تجویز میں بھی یہ جغرافیائی اختلاف حائل نہ تھا۔ کوئی شخص خواہ کسی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، کسی بھی حکومت کے زیر سایہ ذمہ داری حاصل کر سکتا تھا، بشرطیکہ اس کا اہل ہوتا۔ یہودنصاریٰ نے سازشیں کرکے اور کچھ ناعاقبت اندیش مسلمانوں نے اس مقصد میں ان کا آلۂ کاربن کراس مرکزیت کو ختم کردیا۔ یہ لڑی ٹوٹتے ہی مسلمانوں کی وہ سیاسی وحدت ختم ہوگئی جس نے انھیں ایک قوم بنا رکھا تھا۔

’’تمام دنیا کے مسلمان ایک قو م ہیں‘‘، مذہبی حمیت کے جذبات سے لبریز یہ ایک کھوکھلی بات ہے جو کبھی کبھی محراب ومنبر سے سنائی دیاکرتی ہے یا ایک سیاسی نعرہ ہے جس کے ذریعے عوام کے دینی جذبات سے کھیلا جاتاہے جو ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ قوم ملک ووطن سے نہیں بلکہ دین ومذہب سے بنتی ہے، جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جدید قومیت کی تشکیل میں دین ومذہب کا بنیادی عنصر عملاً ختم کر دیا گیا ہے اوراس کی جگہ ملک ووطن نے لے لی ہے۔ مولانا حسین احمدمدنی کے ایک بیان کی غلط رپورٹنگ پر طوفان اٹھا دینے والے مصور پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کوشاید علم نہیں تھا کہ جدید نظریۂ قومیت کو بتمام وکمال قبول کرنے والی کھیپ میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو ان کے خوشہ چین اوران کے خواب میں تعبیر کا رنگ بھرنے والے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ ہوگا کہ خودان ہی کے کلام سے استشہاد کرتے ہوئے اسے صحیح ودرست قرار دیاجائے گا اور شاید وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ۱۹۳۰ء میں انہوں نے جوخواب دیکھاہے، اس کی تعبیر عنقریب اسی نظریے کو بنیادی فراہم کرنے والی ہے جس کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے فرمایاتھا:

سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است 
چہ بے خبر زمقام محمد عربی است

اور یہ کہ :

اِن تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
ملت کا جو پیراہن ہے وہ اس کا کفن ہے

اپنی کئی داخلی کمزوریوں کے باوجود خلافت نے اس طرح تمام دنیا کے مسلمانوں کو اپنے سایے میں لے رکھاتھا جیسے مرغی اپنے بچوں کو پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے۔ اب مسلمان تسبیح کے بکھرے ہوئے دانے ہیں۔ سیاسی میدان میں ان کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں اور جماعتیں ہیں۔ یہ ٹکڑیاں اور جماعتیں ملک کہلاتی ہیں۔ ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ مسلمانوں کے ستاون ٹکڑے جو آزادی اور خودمختاری کے کھلونے سے کھیل رہے ہیں۔ حالات سازگار اور ہواموافق ہو تو ہر ٹکڑا اسی طرح مزید کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے لیے تیار ہے جیسے ملت فرقوں میں بٹتی ہے اور فرقے مزید کئی ٹکڑیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فرقہ وارانہ تقسیم نے مسلمانوں کو وہ نقصان نہیں پہنچایا جو سیاسی اختلافات اور تفریق سے ہوا اور ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی طاقت تقسیم ہوچکی ہے۔ اپنا ملک، اپنا وطن ان کی شناخت اور پہچان بن گیاہے۔ ملکی عصبیت دلوں میں راسخ ہو چکی ہے۔ ملکی مفاد، ملی مفاد سے مقدم ہوچکاہے۔ ہر ملک اپنے جغرافیائی اور مقامی حالات کے مطابق اپنی پالیسیاں بناتاہے تاکہ اسے تحفظ وترقی حاصل ہو، چاہے ان کے نتیجے میں دوسرے مسلمان ملکوں کا شیرازہ بکھر جائے۔ ہندوستان اور وہاں کے مسلمانوں کی پالیسی پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے تو پاکستان کی ہندوستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے لیے۔ یہی ملکی اوروطن عصبیت تھی جس کے پیش نظر خونخوار ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر افغانستان کے مسلمانوں کی پشت میں خنجر گھونپا۔ یہ عصبیت طبیعتوں میں اتنی زیادہ رچ بس چکی ہے کہ مولانا صاحب بھی یوں دعا فرماتے ہیں ’’اے اللہ! عالم اسلام کی عموماً اور ملک پاکستان کی خصوصاً حفاظت فرما‘‘۔

مرکزیت کے خاتمے اور ملکوں کی بندربانٹ نے مسلمانوں کا شیرازہ بکھیر دیا۔ مثال کے طور پر برصغیر پاک وہند میں ستر کروڑ ہندو ایک جگہ جمع ہوگئے اور لگ بھگ اتنے ہی مسلمان چارحصوں میں تقسیم ہوگئے۔ہر حصے کے تقاضے اور مفادات دوسرے سے جدا اور الگ۔ اگر اتنا ہوتا، تب بھی بہت غنیمت تھا کہ حالات کے جبر نے گو بھائیوں کو جدا کر دیا ہے، مگر ان کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے اور ملاپ ووصال کے لیے تڑپتے ہیں۔ بات اس سے کہیں آگے بڑھ گئی۔ تقسیم کے ساتھ ہی ملکی اور لسانی عصبیتوں نے سراٹھانا شروع کردیا۔ پاکستانی، ایرانی، ترکی، مصری، عربی اور عجمی عصبیتوں کے ساتھ ہی پنجابی، سندھی، بلوچی، مہاجر، مقامی، پختون، فارسی بان وغیرہ عصبیتوں نے بھی جنم لینا شروع کیا۔ ایک شناخت ’’مسلمان‘‘ چھوڑ کر جب جغرافیائی، مقامی اور لسانی شناخت پر اصرار کیا گیا تو پے در پے عصبیتوں کا دروازہ کھل گیا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ خلافت ختم کرنے کے لیے انگریزوں نے پہلے عرب نیشنل ازم کی پری تخلیق کی جس کے لازمی نتیجے میں تُرک عصبیت نے جنم لیا۔ عرب دشمنی اسلام دشمنی میں ڈھل گئی اور ترکی سے خلافت کے ساتھ ساتھ شعائر دین یہاں تک کہ عربی رسم الخط کو بھی دیس نکالا مل گیا۔ آج ملکی وطنی اور لسانی عصبیتوں میں گھرے ہوئے مسلمان ممالک اوران میں بسنے والے مسلمان ترقی اور عروج کے لیے اس شخص کی مانند غوطے لگارہے ہیں جسے چار اندام سے جکڑ کر سمندر میں ڈال دیاگیاہو۔ غلبے اور عروج کے راستے ان پر کھل بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ ان کی فکر منتشر اور سوچ متفرق ہے۔ ان کے رستے جدا اور سمتیں علیحدہ ہیں۔ وطنی عصبیتیں اور ملکی مفادات سب سے پہلے کاجادو سر چڑ ھ کر بول رہاہے۔ قرآن یہودیوں کی بابت بیان کرتاہے: تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعاً وَقُلُوبُہُمْ شَتَّی ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُونَ (الحشر ۵۹: ۱۴)ور مسلمانوں کے صرف دِل ہی متفرق نہیں، ظاہر بھی بکھرا ہواہے۔

مذہبی فرقہ واریت یقیناًایک المیہ اور ہمارا کمزور پہلوہے، لیکن اسلامی سطوت وشوکت توڑنے میں سیاسی فرقہ واریت یا تفریق کاکردار سب سے اہم ہے۔ مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر سر پھٹول ہوجاتی ہے، لوگ باہم دست وگریباں ہوجاتے ہیں، مگر سیاسی مقاصد میں اختلاف سے ایسی جنگوں کی نوبت آتی ہے کہ ہزاروں لاکھوں آدمی اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ان اختلافات نے سلطنتوں کی سلطنتیں مٹادیں۔ اپنی تاریخ اٹھا کر دیکھو، فرقہ واریت کی بنیاد پر جنگ کے اکادکا واقعے ملیں گے، لیکن سیاسی فرقہ واریت پر مبنی جنگ وجدل کاایک طویل سلسلہ نظر آئے گا۔

بات سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کا مختصر طور پر جاننا ہمارے لیے ضروری ہے:

(1)فرقہ کسے کہتے ہیں؟

(2)فرقہ بندی اوراس کے اسباب کیا ہیں؟

(3)فرقہ واریت اوراس کے اسباب کیا ہیں ؟

(4)تفریق اوراس کی وجوہ علل کیا ہیں؟

(5)افتراق وتفریق کے نقصانات ومضمرات کیاہیں؟

(6)اصل کام کیاہے اور کیسے کرنا ہے؟

فرقے کی بنیاد سے واقفیت کے بعد ہی ہم فرقہ واریت سے آگاہ ہوسکیں گے۔ اتنا ہی نہیں، اسی کے ساتھ وہ غلط فہمی بھی زائل ہوجائے گی جو بہت سے لوگوں کے ذہن میں پائی جاتی ہے اور جس کی وجہ سے وہ امت کے ان طبقات کو بھی فرقہ شمار کرتے ہیں جو کہ اصلاً فرقہ نہیں یعنی حنفی مالکی شافعی وغیرہ۔

فرقہ بندی، اصل اور بنیاد سے فی الجملہ علیحدگی ہے۔ بنیاد بالکل ہی علیحدہ ہو جائے تو فرقہ، فرقہ نہیں رہتا، کفر بن جاتا ہے۔ فرقہ نام ہے ایسی جماعت کا جو گمراہ ہو، مگر کافر نہ ہو۔ ایک ہی بنیاد یااس بنیاد کے احاطے میں جوعمارات بھی تعمیر ہوں گی، وہ ایک ہی عمارت ،کوٹھی، مکان یا قلعہ شمار کی جائیں گی۔ ہر اس عمارت کو الگ اور مستقل شمار کیاجاتا ہے جس کی بنیاد الگ ہو۔ اصول وعقائد ہماری دینی بنیادہیں۔ جوگروہ اصول وعقائد میں اختلاف کرکے اپنے اعتقادات کی نئی عمارت بنائے گا، وہ ایک فرقہ شمار کیاجائے گا۔ اس کے مقابلے میں جو اصل اور بنیاد سے جدانہیں ہوا، وہ تقابل وتمایز کی بناپر فرقہ کہاجاتا ہے، ورنہ وہ فرقہ نہیں۔

اس سے واضح ہواکہ فرقہ اصول وعقائدمیں اختلاف کرنے سے بنتاہے نہ کہ اختلاف اعمال سے۔ ہاںیہ ضرور ہے کہ فروعی اعمال میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنالینا قابل مذمت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کا نام میں نے تفریق رکھا ہے، اسی نے ہماری قومی وملی یک جہتی کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ یاد رکھیں کہ جوفرقہ اصل سے جتنا زیادہ اختلاف کرے گا، وہ اتنا ہی اس سے دور ہوگا۔ مثلاً معتزلہ، قدریہ،جبریہ وغیرہ اصل سے اختلاف کر کے ایک مستقل فرقے کی صورت میں اہل حق کے سامنے آئے، مگران کا اختلاف ایسا نہ تھا کہ انہیں کافر قرار دے دیا جاتا، اس لیے بہرحال وہ مسلمان ہیں گو کہ ان کے گمراہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ان کے مقابلے میں مرزا غلام احمد قادیانی اورمحمد علی باب وغیرہ نے اصل سے ایسا اختلاف کیا کہ دائرہ اسلام سے ہی باہر ہوگئے، لہٰذا انہیں ایک مسلمان فرقہ کہنا درست نہیں، گو کہ اپنا مرکز اطاعت جداکرلینے کے بعد بھی وہ خود کو مسلمانوں میں داخل رکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔

جس طرح اسلام کے کچھ ایسے اصو ل ہیں جن سے اختلاف دائرۂ اسلام ہی سے نکال باہر کرتاہے اور کچھ ایسے جن سے اختلاف گمراہی کا سبب توہوتاہے، مگر کفر کا باعث نہیں، اسی طرح ہر فرقے کے کچھ ایسے اصول ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر اس کا قیام ہوتاہے اوران میں اختلاف کرنا فرد کو اس فرقے کی حد سے ہی خارج کر دیتا ہے، اور کچھ نظریات ایسے ہوتے ہیں جو اس کے الگ تشخص کو پروان چڑھاتے ہیں جن میں اختلاف سے تفریق تو ہو جاتی ہے، مگر اختلاف کرنے والا اس فرقے کی حد سے خارج نہیں ہوتا۔ جو جماعت اصول وفروع میں آج تک جادۂ حق سے منحرف نہیں ہوئی اور پہلے کی طرح برابر چلی آ رہی ہے، وہ ہے اہل سنت والجماعت۔ 

ہبوط آدم کے بعد کئی قرن تک لوگ اسی راہ پر چلتے رہے جو آدم علیہ السلام کی وساطت سے انہیں ملی تھی۔ جب اختلاف پیدا ہوا تو نوح علیہ السلام کونئے احکام دیے گئے، وہ دین نوح کہلایا۔اسی طرح سلسلہ چلتارہا۔احکام آتے رہے اور نبی کے نام سے دین موسوم ہوتارہا۔اسی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ ’’ہم گروہ انبیاء علاتی بھائی ہیں، ہمارادین واحد اور شرائع مختلف ہیں۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک مدت تک معاملہ راستی پر چلتا رہا۔ درمیا ن میں اختلاف ہوئے، مگران میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو کہ بنیاد سے علیحدگی پر مبنی ہو اور نہ ان کی بنیاد پر صحابہ نے تفریق ہی پیدا ہونے دی۔ حضرات صحابہ کرام کے اختلافات معروف ہیں۔ یہاں تک کہ امت میں وہ پہلااختلاف رونماہوا جو کہ بنیاد سے فی الجملہ علیحدگی پر مبنی تھا۔ اس کے بعد اسی طرح کے اختلافات بڑھتے گئے۔ جو گروہ اصل سے نہ کٹا اور بنیاد سے جڑا رہا، وہ ان اختلاف کرنے والوں کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت کہلایا۔ اس سے کٹنے والے مختلف ناموں سے موسوم ہوئے، مثلاً شیعہ، خوارج، قدریہ، جبریہ، مرجۂ اور معتزلہ وغیرہ۔ اہل سنت والجماعت کی تعبیر چند احادیث سے لی گئی جن میں سے ایک ما اناعلیہ و اصحابی بھی ہے۔ 

یہاں سے عقائد میں دو تقسیمیں پیدا ہوئیں۔ ایک، وہ عقائد جن کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی یقینی اور متواتر ہے، انہیں ضروریات دین کا نام دیا گیا۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہے۔ دوم، وہ عقائد جن کا ثبوت اس درجہ قطعی نہیں، لہٰذا ان کا انکار گو کفر نہ ہو، ضلالت اورگمراہی بہر حا ل ہے۔ انہیں ضروریات اہل سنت کا نام دیا گیا۔ رہا یہ سوال کہ انہیں ضروریات اہل سنت کیوں کہتے ہیں؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ ان عقائد میں اہل سنت چونکہ راستی پر رہے اور ان کے مقابل گروہوں نے ان عقائد میں حق سے انحراف کیا، اس لیے ان کی اوراہل سنت کی نسبت سے یہ ضروریات اہل سنت سے موسوم ہوگئے۔

چودہ سو سال کی اس طویل مسافت میں کئی فرقے پیدا ہوئے اور جلد یا بدیر یادگاروں میں تبدیل ہوگئے۔آج کے ماحول میں بھی فرقے موجود ہیں اور بظاہر بہت زیادہ نظر آتے ہیں، مگر انہیں ان کی اصلوں کے تحت داخل کیا جائے تو معدودے چند رہ جاتے ہیں۔ مثلاً اہل تشیع کے فرقے، یہ حضرات پہلے اپنی اصل سے جداہوئے، پھرگروہ درگروہ کئی شاخوں میں بٹ گئے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ اورشاہ عبدالعزیزؒ نے ان کی شاخیں ۲۷ تک شمارکی ہے۔اگرچہ یہ شمار میں کافی ہیں، مگریہ سب اپنی ایک ہی اصل شیعہ کے تحت جمع ہوجاتے ہیں۔ ان سب کااصل الاصول تفضیل علی کرم اللہ وجہہ کا عقیدہ ہے۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے آپ کو حضرت عثمانؓ پر فضیلت دی،کچھ وہ ہیں جنہوں نے شیخین کریمین پر،کچھ نے اس کے ساتھ خلافت بلافصل کا قول بھی کیا، بعض نے معاذاللہ چار کے سوا تما م صحابہ کے مرتد ہو جانے کا عقیدہ رکھا، کچھ نے اسی کے ساتھ تحریف قرآن کا عقیدہ اپنایا۔ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور ظاہری اہل سنت ہی کی شاخیں ہیں، فرقے نہیں ہیں۔حیاتی مماتی، دونوں کی ایک اصل ہے، دیوبندی ہونا۔ دیوبندی اور بریلوی، دونوں کی ایک اصل ہے، حنفی ہونا۔اہل حدیث کی تمام جماعتیں ایک اصل، ترک تقلید پر اکٹھی ہیں۔ اسی اصل میں نیچری ، مودودی اور غامدی بھی شامل ہیں۔ ترک تقلید اہل ظاہر کا مسلک ہے اور اہل ظاہر، اہل سنت میں داخل ہیں۔ مگر یادرہے کہ بعض گروہ کسی اعتبار سے اہل سنت میں داخل ہوتے ہیں توکسی دوسرے پہلوکی بناپر اہل سنت سے خارج بھی ہو جاتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں۔ مثلاً بریلوی، دیوبندیوں کے نزدیک حنفی ہونے کے لحاظ سے اہل سنت میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے کئی مسلمات کا انکار کرنے کی وجہ سے خارج بھی ہیں اوردیوبندی، بریلویوں کے ہاں اسلام سے ہی خارج ہیں۔ اہل حدیث ان دونوں کو سنی ماننے کے لیے تیارنہیں۔ بعض فرقے وہ ہیں جنہیں تغلیباً اسلامی فرقوں میں شامل کیا جاتاہے، درحقیقت وہ اس سے خارج ہیں۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ فرقہ سے مراد وہ جماعت ہے جو ضروریات اہل سنت میں اختلاف کرے۔ اسی کو دوسرے معنوں میں کہا جاتاہے کہ جو اہل سنت والجماعت سے کٹتاہے، وہ اگرچہ مسلمان ہے، مگر گمراہ ہے۔

فرقہ کے بعد دوسری اہم چیز جس کا ہمارے دور میں بہت چرچاہے، فرقہ واریت ہے۔ یہ لفظ کافی بدنام ہوچکاہے اور اس کی حقیقت جانے بغیربالخصوص علما کو بدنام کرنے کے لیے بہت سے لوگ یہ لفظ بے محل استعمال کرتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے موقف کی صحت اور مخالف کی تغلیط پر کوئی مدلل علمی گفتگو کرے تو ایسی گفتگوکوبھی فرقہ واریت اورقابل مذمت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اپنے موقف کو ثابت کرنا اور دلائل سے دوسرے کی غلطی واضح کرنا، ہر ایک کا حق ہے۔ یہ فرقہ واریت نہیں، وہ تو اس سے جدا ایک اور ہی شے ہے۔

فرقہ واریت اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اظہارِحق یا ابطال باطل کانام نہیں بلکہ مخالف فرقے کے حق میں عدل وانصاف اور حدود و تہذیب کے دائرے سے باہر نکل جانے کا نام ہے۔ باہمی جدل ومنازعت اور دوسرے کو زک پہنچانے کی کوشش فرقہ واریت ہے۔ دامنِ عدل و انصاف چھوڑ دینے کامطلب ہے مخالف سے تعصب برتنا، اس کے کلام کو غلط معنی پر محمول کرنا، وہ عقائد اس کے سرمنڈھنا جو اس کے نہیں، اس پر الزامات عائد کرنا۔ حدود سے باہر نکلنے کا مطلب ہے اختلاف میں غلو سے کام لینا، اسے اپنے مقام پر نہ رکھنااور معمولی اختلاف کو بھی کفر اسلام کااختلاف بنادینا۔ حلقہ تہذیب سے باہر نکلنے کا مطلب ہے مخالف کو گالیاں دینا، طعن وتشنیع اور تضحیک واستہزا سے کام لینا،نام بگاڑنا، غیر سنجیدہ اور غیر علمی انداز اختیار کرنا، بڑھکیں لگانا، لوگوں کے جذبات ابھارنا کہ وہ نہ صرف اس سے نفرت ہی کریں بلکہ مرنے مارنے پر آمادہ ہوجائیں۔ علمی اختلاف کو بازاری اختلاف بنادینا، اس کے اکابر اور بزرگوں پر سب وشتم کرنا۔ فرقہ واریت کی آگ نفسیاتی پیچیدگی اور اخلاقی کمزوری سے بھڑکتی ہے۔ اس کی جڑ سیاست کاپانی اور سازش کی کھاد ملنے سے خوب برگ وبار لاتی ہے۔

تیسری اہم چیز تفریق ہے جو کہ اپنے نتائج کے لحاظ سے بہت سنگین ہے، مگر لوگ اسے درخور اعتنا نہیں جانتے۔فرقہ بندی اورفرقہ واریت کے بارے میں ایک جان کاری کے بعد تفریق کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہا۔ فکر، مذہب، عقیدہ، نظریہ اور مسلک کی یکسانی کے باوجود الگ الگ گروہوں، گروپوں، جماعتوں اور دھڑوں میں اس طرح تقسیم ہو جانا کہ ایک گروہ کا انتخاب دوسرے کی لغویت، حقارت اور تنفر ونقصان پر مبنی ہو، تفریق کہلاتاہے۔یاد رہے کہ تفریق صرف مذہبی نہیں ہوتی بلکہ فی زمانہ ہمارے ہرشعبے میں، وہ دینی ہو خواہ دنیاوی،تفریق درتفریق کا ایک سلسلہ موجودہے۔ایک ہی شعبے کے لوگ چھوٹے چھوٹے گروہوں اور جماعتوں میں منقسم ہیں جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے شدید کدورت اورنفرت رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ حق وراستی کو اپنی ذات میں منحصر کرتے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیے کہ کیسے سنی یا شیعہ آپس میں ایک دوسرے کو مرتے مارتے رہے،حنبلیوں اورشافعیوں نے کیسے ایک دوسرے کے گلے کاٹے۔

پھرجیسے مذہبی فرقہ بندی سے زیادہ سیاسی فرقہ بندی نے امت کو نقصان دیا، اسی طرح مذہبی تفریق سے زیادہ سیاسی تفریق نے امت کانقصان کیا اور کر رہی ہے۔ جونسبت مذہبی افتراق وتفریق میں ہے، وہی نسبت سیاسی افتراق وتفریق میں بھی ہے اور نقصان اس کا زیادہ ہے۔ سیاسی افتراق کا مطلب ہے دوایسے بالمقابل گروہ بن جاناجن کا نسب علیحدہ ہے، مثلاً بنوامیہ اور بنوعباس۔ یا نظریہ علیحدہ ہے، مثلاً مختاربن عبیدثقفی اورابن زیاد۔ یا قوم علیحدہ ہے، مثلاً سلجوقی وعباسی اور ہندوستان میں خلجی، تغلق، غلاماں اور مغل۔ یا مذہب علیحدہ ہے، مثلاً مصرکے فاطمیین اورزنگی وایوبی یا آل بویہ وبنوعباس یا قاچاری وصفوری اورمغل۔ یاصرف حصول حکومت کا جذبہ ہے، مثلاً تیمور وبایزیدیا بابر وخاندان غلاماں یا عرب وترک یا ترک خلافت پسند اورترک جدت پسند۔ تفریق کا مطلب ہے ہم نسب،ہم قوم،ہم مذہب یا ہم فکر ہونے کے باوجود باہم مخالفت کرنا، مثلاً علویوں وعباسیوں کی چپقلش یا عباسیوںیا خاندان غزنوی کی باہم سرپھٹول یا آخری دور میں شاہان مغلیہ کی باہمی لڑائیاں یا جمعیت علماء ہند کی تفریق یا مسلم لیگ کی تفریق در تفریق یا جے یوآئی کی تفریق وغیرہ۔ 

اس تفصیل کی روشنی میں اگرہم غورکریں گے تو تفریق، فرقوں سے زیادہ نظر آئے گی۔

پاکستان کی حدتک اگرجائزہ لیا جائے تو تفریق در تفریق کا ایک لمبا سلسلہ نظر آتا ہے۔ ہر ہر مسلک کی کئی کئی دینی جماعتیں، پھر ہر جماعت کے کئی کئی حصے اور ہر حصہ دوسرے سے الگ مستقل جماعت۔ کئی سیاسی جماعتیں، خواہ مذہبی ہوں خواہ غیرمذہبی اور اکثر جماعتوں کے کئی کئی جائز وناجائز بچے ایک دوسرے کے راستے میں روڑے اٹکاتے، دوسرے کو ملک دشمن اور غدار قرار دیتے اور اپنے لیے فری ہینڈ کے طالب نظرآتے ہیں۔ یہاںیہ بات ایک دفعہ پھر دہرا دوں کہ تفریق کا مطلب محض اختلاف رائے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد پر اس طرح جماعت بندی، جتھ بندی، گروہ بندی اور پارٹی بازی کرنا کہ کچھ لوگ اکٹھ کرکے اپنا الگ تشخص بنائیں، لوگوں کو دوسروں سے کاٹیں اوراپنی طرف بلائیں، تفریق کہلاتا ہے۔ اس طرح ہر جماعت دوسرے کی ٹانگ کھینچتی اور اسے نیچا دکھا کر خود جگہ بنانے کی فکر میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کسی ایک نکتے یا فکر پر اکٹھے نہیں ہوتے۔

ایک دوسرے رخ سے اس کا مطالعہ کریں تو بھی صورت حال خاصی مایوس کن اور دگر گوں نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ جو لوگ باہمی اتحاد کے لیے کوشاں ہیں، وہ خود کئی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی ایک مسلک کے لوگ جو اس کی تفریق پاٹنے کے لیے کوشش کرتے ہیں، ان میں سے بھی ہر ایک کی سمت فکر ونظر عام طور پر جدا جدا ہوتی ہے۔ ویسے کہنے کو تو ہر ایک یہی کہتاہے کہ اتحاد ہونا چاہیے۔ ان مد عیان اتحاد واتفاق کی کوششیں باہم مربوط نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ ابھی تک وہ یہی طے نہیں کرسکے کہ اتحاد کا لائحہ عمل کیا ہواوراس کے نکات کیا ہوں۔

سیاسی جماعتوں کی اکثریت پہلے نمبر پر ذاتی مفاد کی سیاست کرتی ہے اور ثانوی طور پر ملکی وقومی مفاد کو پیش نظر رکھا جاتاہے وبس۔ بین الاقوامی طور پر مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرونا ان کا مطمح نظرہی نہیں۔ چندایک افراد یا معمولی طائفے ہیں جو اس طرح کی سوچ رکھتے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں، مگرافسوس کہ وہ مسلک سے بالاتر ہو کر نہیں سوچ سکتے، کیونکہ مسلکی تشخص کو نمایاں کرنا بھی ایک نفسیاتی مجبوری ہوتی ہے، یہاں تک کہ اتحاد امت یا اشاعت وحفاظت اسلام وغیرہ کے لیے ان کی یا ان کے ہم مسلک افراد وجماعتوں کی جو کوششیں ہوتی ہیں، وہ بھی بالآخر مسلکی فخر کا روپ دھار لیتی ہیں اور جو بے چارہ اس تشخص سے بالاتر ہو کر کام کرے، وہ اپنے اورپرائے دونوں کی نظروں میں مطعون ہو جاتا ہے۔ پھر یہود ونصاریٰ کی سازشوں کے تحت جنم لینے والی ملکی تقسیم بھی ان کے کام کومحدود کر دیتی ہے۔ وہ ملکی سیاست کے بھنور اور ملکی حالات کے گرداب میں مبتلا رہتے ہیں اور ان مصنوعی سرحدوں کے احاطے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ وجہ یہی ہے کہ ملکی مفاد مقدم رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ توایک بالکل فطری بات ہے کہ جب بھی آپ ایک سے دوسری جماعت یا فورم تشکیل کریں گے جن کی جنس ایک ہی ہو تو کسی بھی وقت ان دونوں کے مفاد میں ٹکراؤ پیدا ہو جائے گا۔ یعنی ہوسکتاہے کہ ایسے کسی فورم کی تشکیل کے بعد ایسا کوئی معاملہ سامنے آجائے جس پر عمل درآمد اگرچہ عالمی طور پر مسلمانوں کے لیے فائد ہ مند ہو، مگر کسی ایک ملک کے نقصان کا سبب ہوتو کون اس کوقبول کرے گا؟ ملکی قوانین اور مفادات سے بالاترہوکر کام کرنا چاہیں تو ریاست سے ٹکر لینا پڑتی ہے۔ ان پرکئی طرح کی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں اور گاہے ریاست کے باغی بھی قرار دے دیے جاتے ہیں۔ ہزاراختلافات کے باوجود اسامہ کا اصل جرم یہی تھاکہ اس نے عرب ممالک سے امریکی اڈے اٹھانے کی بات کی تھی۔ مآل کار اس کی شہریت ہی منسوخ کر دی گئی۔ پوری مسلم دنیا میں ریاستوں اور ملکوں کا انتظام جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جاسکتاہے کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے سامنے ڈٹ کرکھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔

فرقہ، فرقہ واریت اور تفریق کے بارے میں جان کاری کے بعد ان کے اسباب کا جاننا بھی ضروری ہے تاکہ بقدر استطاعت ان کا تدارک کیا جا سکے۔ اسلام نے ہمیں اعتصام بحبل اللہ کا حکم دیا۔ حبل کی ایک تفسیرالطاعۃ والجماعۃ سے بھی کی گئی ہے۔ الطاعۃ یعنی خروج اور بغاوت نہ کرنا اور الجماعۃ یعنی جماعت میں رہنا، تفرقہ نہ کرنا۔خلاف اطاعت سے سیاسی تفریق وانتشارنے جنم لیااور خلاف جماعت سے مذہبی فرقہ بندی پیدا ہوئی۔ فرقہ بندی، فرقہ واریت اور تفریق، ان تینوں کے اسباب تقریباً ایک جیسے ہیں جو کہ خلاف اطاعت وجماعت میں اجمالاً مذکور ہیں، مگر ان کے تفصیلی عوامل کو جمع کرنا خاصا دشوار اور محنت طلب کام ہے۔ یہ مختصر تحریر ان تفصیلات کی متحمل بھی نہیں ہوسکتی۔ سرسری تلاش وفکر سے جو باتیں برقِ بیتاب کی طرح ذہن کی فضا میں مچل رہی ہیں، انھی کو بیان کرنے پر اکتفا کرتاہوں۔اکثر تو اسباب یکساں ہی ہیں، مگر کہیں کوئی منفرد ہے تو اس کا ذکر بھی اسی ذیل میں کیا جائے گا۔

۱۔ عقل پر بے حد اعتماد

یہ فرقہ بندی کی ایک اہم وجہ ہے۔ مسلمان کاکام یہ ہے کہ شریعت کے سامنے منقار عقل کو زیر پر رکھے۔ پیش شریعت عقل کا سپر انداز ہوکر رہنا اس کی خوبی ہے، مگر کئی فرقے ایسے ہیں جن کے بانیوں نے عقل پر بے جا اعتماد کیا۔ نصوصِ قرآن وسنت کے سامنے صحابہ واسلاف کی مانند سر تسلیم خم کرنے کی بجائے عقلی گھوڑے دوڑائے اور عقل نارسا نے جس طرف ان کی راہ نمائی کی، جمہور امت کا راستہ چھوڑ کر اسی طرف چل دیے۔ یوں ایک نیا فرقہ وجود میں آگیا۔ گویا قرآن وسنت کے بجائے انہوں نے عقل کو معیار بنایا اور اس کے ذریعے سے صحیح وسقیم کو جانچتے اور حسن وقبح کو پرکھتے رہے۔خود کو عقل کل سمجھنے سے ہی تفریق بھی پیداہوتی ہے۔

۲۔ خودرائی 

یہ بھی عقل پر اعتماد ہی کی ایک خاص صورت ہے۔ خودرائی میں گرفتار لوگوں نے باب عقائد میں اسلاف کے فہم دین کو معتبر نہ سمجھا یا اس کا اعتبار کرتے ہوئے مزید تحقیق وجستجو سے کام لیا تو نتیجہ فہم سلف یا ظاہر قرآن وسنت کے خلاف نکلا۔ بجائے اس کے کہ وہ نتائج پر نظر ثانی کرتے، انہوں نے اپنی رائے کو معتبرسمجھ کر اسلاف کی تحقیق ونتیجے کو رد کر دیا۔ یہی خودرائی پھر کسی نئے فرقے کے قیام کا سبب بن گئی۔ اس مرض کا شکار افراد تفریق کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، اگر ان کی رائے نہیں مانی جاتی تو اجتماعی یاجماعتی رائے کے سامنے سرجھکانے کے بجائے اپنی مسجد الگ بنا لیتے ہیں۔ خودرائی کا مریض اپنی ہی رائے کودرست اورحق بجانب سمجھتا ہے جس کاتقاضا مخالف رائے کی بے وقعتی اور تردید ہے۔ اب دونوں طرف سے ایک دوسرے کی تردید کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ایک یقیناًحق پر ہوتاہے، کیونکہ بابِ عقائدمیں حق ایک ہی ہوتاہے۔ ایک اپنی رائے کی ہٹ کرتاہے اور دوسرا احقاق حق کا فریضہ ادا کرتاہے۔ یہ بات بھی فرقہ واریت کا سبب بن جاتی ہے۔

۳۔ علمی غرور

کوئی مسئلہ، کوئی عقیدہ سمجھنے میں کسی سے خطا ہوئی مگر حق واضح ہوجانے کے باوجود علمی غرور کی وجہ سے خطا پر اڑا رہا اور اسی خطا کو برحق ثابت کرنے کے لیے پورا زور صرف کر دیا۔ یہ خطا اس کے پیروکاروں کے لیے عقیدہ بن گئی اور ایک نیا فرقہ سامنے آگیا۔ علمی پندار میں مبتلا افراد اپنے سوا کسی کی بات کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے اور تفریق اور فرقہ واریت کا سبب بنتے ہیں۔

۴۔ حب مال و جاہ

کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے مال وجاہ کی طلب میں عمداً راہِ حق سے انحراف کیا۔ عموماً یہ لوگ امرا کے حاشیہ نشین اور سلاطین کے خوشہ چین ہوتے۔ مال ومنصب کے حصول وبقا کے لیے انہوں نے کبھی ان کی غلط باتوں کو شریعت کی سند بخشی اور کبھی از خود فتوے دیے۔ بعدازاں جادۂ حق سے یہ انحراف کسی فرقے کا پیش خیمہ یا تفریق کا سبب بن گیا۔ محب مال اورجاہ پسند آدمی ہمیشہ فرقہ واریت کی بھٹی دہکانے میں لگا رہتا ہے، کیونکہ یہ آگ جتنی زیادہ بھڑکتی ہے، اس کے مال وجاہ میں اتنا ہی اضافہ ہوتاجاتاہے۔ ایسا آدمی اس بات کوبرادشت نہیں کرتاکہ کسی معاملے میں اس کو پیچھے رکھا جائے۔ جب تک اس کی نمبرایک حیثیت برقرار رہتی ہے، وہ ساتھ چلتارہتاہے اور جہاں کہیں اس میں فر ق آتاہے، وہیں وہ اپنا راستہ الگ کر لیتا ہے۔ محب مال وجاہ ان دونوں کی محبت میں حق کو ٹھکراتا اور باطل کو بڑھاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے حق قبول کیایا مخالف کو نہ روکاتو یہ چیزیں مجھ سے چھن جائیں گی۔ پیٹ اور دماغ کی خاطر وہ حق اور اہل حق کی مخالفت شروع کرتاہے اور اس میں آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کرتا تاکہ اس کے دائر ۂ اختیار وحکومت سے ان کا بیج تک نکل جائے۔ ضد اور استقامت کاتصادم فرقہ واریت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

۵۔ سوء فہم

کچھ لوگ ایسے تھے جن کے ظرف تنگ اور عقل گینڈے کی کھال جیسی موٹی تھی۔ ان کا فہم تبخیر سے مغلوب اور خیال پر جنون کا اثر تھا۔ فہم کی خرابی کی وجہ سے بڑے خلوص کے ساتھ انہوں نے کبھی غلط کو صحیح سمجھ لیااور کبھی صحیح کو غلط استعمال کیا۔ ان کے فکروفہم میں خرابی کی روش نے کسی نئے فرقے کو جنم دیا۔ انہوں نے ہمیشہ پوست کو مغز سمجھا۔ کبھی تو انہوں نے مرغے کی ایک ٹانگ پکڑ کر ایک نص کی آڑ میں تمام نصوص کو رد کردیا، کبھی ظاہر وباطن کی تفریق پیداکی اور کبھی قید شریعت کو لغو قرار دے دیا۔ یہ کم فہمی عقائد میں ہوئی تو فرقہ پیداہوا اوردیگر معاملات میں ہوئی تو تفریق پیدا ہوئی۔ جن کے فہم میں کمزوری ہو، وہ مخالف کے کلام کا غلط مطلب لے لیتے ہیں۔ اس کی مراد کچھ ہوتی ہے اوریہ الگ مراد تخلیق کر لیتے ہیں۔ ایسے آدمی کو جب مناسب جگہ مل جائے جہاں سے وہ اپنی بات دوسروں کو پہنچا سکتاہے، خواہ تقریر ہو خواہ تحریر تو پھر اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ تحریر وتقریرسے یہ دوسروں کے لیے دلوں میں نفرت انڈیلتا اور فرقہ واریت میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ فہم کی یہ خرابی ایک اورپہلو سے بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ لوگ عموماً ایک کی بات دوسرے کو جا لگاتے ہیں۔ سیا ق وسباق سے کاٹ کر یا غلط مفہوم کا چولا پہنا کر ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی جاتی ہے۔ کچھ شریر طبع لوگ شر پھیلانے کے لیے اور بعض خرابی فہم کی بنا پر خطاً ایسا کرتے ہیں۔ طرفہ یہ کہ یہ اپنے مسلکی رؤسا کے مقرب اور ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں، اس لیے بلاتامل ان کی بات تسلیم کرلی جاتی ہے، حالانکہ ثقاہت وعلو فہم میں تلازم نہیں۔ کانوں کے کچے زعما تحقیق کیے بغیر ان غلط اطلاعات کو لے اڑتے اور فرقہ واریت کی بھٹی دہکانا شروع کر دیتے ہیں۔

۶۔ متشابہات کی پیروی

قرآ ن وسنت میں اکثر تومحکمات ہیں، مگر کچھ متشابہات بھی ہیں۔ متشابہات سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کی مراد عقلِ نارساکی گرفت میں نہیں آسکتی، اس لیے ان پراسی طرح ایمان لانے کاتقاضا کیاگیا ہے جیسی کہ وہ ہیں۔ ان کی مراد کے درپے ہونا زیغ قلب اور فتنہ پروری کے سو اکچھ نہیں۔ بعض فتنہ پسند طبائع نے آخری حد تک ان کی حقیقت پانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ جادۂ حق سے بھٹک گئے اور حقیقت کھوجتے ہوئے خود بھول بھلیاں میں کھوگئے۔

۷۔ تحقیق پسندی

خوگر تحقیق ہونا کوئی عیب کی بات نہیں، مگر نشتر تحقیق سے جب اسلام کا جگر چاک کرکے 

خودرائی کی پیوندکاری کی جائے تو تضییع اوقات کے علاوہ افتراق کا عفریت جنم لیتاہے۔ امت کا ایک متوارث فہم دین ہے جو اسلاف سے اس نے نسل در نسل حاصل کیاہے۔ تحقیق پسند طبیعتوں کو یہ بات کھلتی ہے کہ اسے من وعن قبول کر لیا جائے اور بالخصوص کوئی بات ان کے عقلی فریم میں ٹھیک نہ بیٹھ سکے تو بس قیامت ہے۔ اپنے قصور فہم اور نقص تحقیق کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کے درپے ہوجاتے ہیں کہ اسلاف سے جو کچھ ہمیں ملاہے، اس میں کیڑے نکالے جائیں۔ ہر کیڑا ایک نیافرقہ ہوتاہے۔ ہمارے اس دور میں تحقیق وجستجو کی یہ ہوا بہت زیادہ چل رہی ہے۔ اسلاف اور ان کے علوم وتحقیق کے لیے متاثر کن اور قابل احترام الفاظ استعمال کرکے بڑے سائنٹفک انداز میں مسلمات امت کو رد کرتے ہوئے نئی ناقص تحقیق مارکیٹ میں لائی جاتی ہے اور غیر محسوس طریقے سے صراط مستقیم سے لوگوں کو بھٹکایا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ ایک الگ فرقہ بن جاتاہے۔

۸۔ سازش

کئی فرقے سازشوں کی کوکھ سے نکلے۔ پہلے یہودی سازشوں نے سراٹھایا، پھر مجوسیت وزردشتیت نے برگ وبار نکالے۔ ازاں بعد نصرانیت بھی ان کے قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی۔ تاریخ اسلام میں پہلے تفرقے کی بنیاد ہی سازش پر رکھی گئی تھی۔ قدیم ایرانی سرزمین میں فتنوں کی خوب گرم بازاری رہی۔ ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جنہوں نے کھلم کھلا زندقہ والحاد کی راہ اپنائی، کچھ نیمے دروں نیمے بروں کا مصداق رہے۔ بعض اہل حق کے قریب نظر آئے اورکچھ کفر کے قریب جا پہنچے۔ مسلمانوں کی وحدت توڑنے کے لیے ان اقوام نے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے مہرے آگے بڑھائے جنہوں نے بابِ عقائد میں بالخصوص من مانے تصرفات کرکے لوگوں کاراستہ جمہور امت سے کاٹ دیا۔ یہ سازشی عناصر آج تک کام کررہے ہیں۔ 

فرقہ واریت پیداکرنے کے لیے بھی سازشوں کو کام میں لایاجاتاہے۔ اسلامی تاریخ میں فرقہ بندی وفرقہ واریت ہر دو کے لیے سازشوں کا سراغ ملتاہے۔ ہمارے زمانے میں ہشت پہلو سازشیں نہایت کثرت سے کی جاتی ہیں۔ ان کا تانا بانااس طرح بناجاتاہے کہ اس کا شکارہونے والایہ محسوس ہی نہیں کرسکتاکہ وہ کسی سازش کا شکار ہوا ہے۔اپنی جگہ وہ اپنے عمل کودین کی بڑی خدمت سمجھتا ہے۔ سازشیں فرقہ بندی اور فرقہ واریت کا اہم عنصر ہیں۔ سازشی عناصر نے صرف فرقے ہی کھڑے نہیں کیے، بلکہ امت کو فرقہ واریت اور اس سے بھی زیادہ تفریق میں مبتلا رکھا۔ باطل پسند قوتوں نے اپنے اہم مذموم مقاصد اکثر وبیشتر سازشوں ہی کے ذریعے حاصل کیے۔ پھر فہم وفراست کی کمی، جذباتی پن، تعصب اورایک پہلو کو سامنے رکھ کر باقی پہلوؤ ں سے غفلت کی نفسیات نے سازشوں کو پنپنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے۔

عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ کسی سازش کا شکار ہوکر اس الاؤ میں مزید ایندھن ڈالنے والے سادہ لوح کسی سازش کے وجود سے بے خبر ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے صرف یہ پہلوہوتاہے کہ بالمقابل باطل کھڑاہے جسے مٹانا اس وقت ہر فرض سے اہم فرض ہے۔ کبھی سازش کا ادراک کرنے کے باوجود بوجوہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ کبھی اس کا تانا بانا انتہائی چابک دستی سے بن کر ایسے حالات پیدا کردیے جاتے ہیں کہ ان حالات میں رد عمل کا اظہار کرو، تب بھی اور نہ کرو، تب بھی نقصان ہوتاہے۔ یہی وہ مقام ہوتاہے جہاں تفریق پیداہوتی ہے۔ ایک فریق ردعمل کا مظاہرہ ضروری سمجھتاہے اور دوسرا چاہتاہے کہ مطلق پروا نہ کی جائے۔ایک انہی حالات کو اصل سمجھ کر اس کے مطابق اس پر توجہ دیتاہے اور دوسرا انہیں کسی دوسرے بڑے مسئلے کی فرع گردانتے ہوئے اس کے مطابق کارروائی کرتاہے۔یہاں دوفریقوں کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ ہر آنے والے نکتے پر ان کا آپس میں فاصلہ بڑھتارہتاہے۔اس خاص مسئلے میں ایک کے اندر سختی ہوتی ہے اوردوسرے کے اندر نرمی۔ایک پرتشدد یا لاقانونیت کا راستہ اختیارکرتاہے، دوسراعدم تشدد یا قانونی چارہ جوئی کا۔

خیر، حالات کے اعتبار سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ان حالات میں کون ساموزوں اور بحیثیت مجموعی مفید ہے، البتہ ہمارے یہاں یہ ذہن بن چکاہے کہ اسلام اور اظہار حق کا نام لے کر جو شخص جتنا زیادہ لاقانونیت کا مظاہرہ کرے، غلو اور تشدد کو اختیار کرے، وہ اتنا بڑا مجاہد اور اسلام کا بطل جلیل ہے، چاہے اس کے نتیجے میں اپنی طاقت کو گنوا دیا جائے، لاشوں کے تحفے ملیں، فتنہ وفساد بڑھ جائے، دشمن چوکنا ہو جائے اور بدامنی پھیل جائے۔ اس کے برعکس جو شخص پرامن رہے، قانون کی حد میں رہ کر کام کرے، حد اعتدال سے باہر نہ نکلے، وہ بزدل اور گنہ گار ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اس تصور نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ میرے خیال میں فی نفسہ لاقانونیت باعث ثواب ہے نہ قانون کی پاسداری، بلکہ یہ دونوں شریعت کے تابع ہیں اوراس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً غیرمسلم مسلمانوں کے ملک پر قبضہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تو اس کے خلاف عسکری جدو جہد کرنا فرض ہے، طاقت کم ہے یا زیادہ۔اگر اس کے ملک پر حملہ کرنا ہے تو پھر طاقت کی فراہمی ضروری ہے۔ اگر وہ قبضہ مکمل کرچکا ہے تودو صورتیں ہیں۔ اگر طاقت ہے تو اس کے آئین وحکومت سے بغاوت جائز ہے۔ اگر طاقت نہیں اوروہ دین اسلام پر عمل کرنے کی اجازت دیتاہے تو وہاں رہنا جائز ہے۔ اگر ایسا بھی نہیں تو ہجرت فرض ہے۔ اگر غیر مسلم ملک میں اس کی اجازت سے مقیم ہیں تو یہ ایک معاہدہ ہے جس کے تحت اس کا قانون توڑنا درست نہیں۔ مسلمان ملک کا قانون غیر اسلامی ہے اور اس میں تبدیلی کا آئینی راستہ موجود ہے تو اس کے مطابق اس کو بدلنے کی کو شش کرنا فرض ہے۔ اگر ایسا کوئی راستہ نہیں تو تبدیلی کی کوشش حصول قوت کے بعد لازم ہے اور عوام کو دین پر عمل کی اجازت ہے تو وہاں رہنا جائز ہے۔ مسلم ملک کا قانون اسلامی ہے تواس کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ ہاں، اگر کوئی شق غیر اسلامی ہو تو اس صورت میں یہ طے کرنا ہوگاکہ قانون شکنی کرنی ہے یا اس کی پاسداری۔ مگر افسوس کہ ایسے مراحل میں ان تما م باتوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے جذبات کو کام میں لایا جاتاہے اور خفتہ جذبات کے اظہارکو احقاق حق کا خوبصورت نام دے دیا جاتا ہے۔

ہندوستان میں تقسیم سے پہلے انگریز حکمران تھے جن کا مشہور زمانہ اصول تھا ’’لڑاؤ اور حکومت کرو۔‘‘اس اصول کو کام میں لاتے ہوئے انہوں نے سیاسی طور پر ہندؤوں، مرہٹوں اور سکھوں کو مسلمانوں سے، پھر مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے لڑایا جس کے نتیجے میں ہندو، مرہٹے ، سکھ اور مسلمان چار الگ الگ قوتوں میں تقسیم ہوگئے۔ اس تفریق کا اثر یہ ہواکہ مسلمانوں کو چومکھی لڑائی لڑنی پڑی۔ ہندؤوں سے، مرہٹوں سے،انگریزوں سے اوراپنے مسلمان بھائیوں سے۔ پھر جو مسلمان ان کے بالمقابل تھے، سازشیں کرکے ان کے اندر سے بندے توڑے جیسا کہ سراج الدولہ، ٹیپو سلطان اور بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہوا۔ یہ توسیاسی تفریق تھی جو انگریزوں نے پیداکی۔ خالص مذہبی میدان میں بھی انہوں نے مسلمانوں کو کئی حصوں میں بانٹا۔ سیداحمد شہید اوران کے رفقا تو ۱۷۳۱ء میں شہیدہو گئے، مگران کی تحریک جاری رہی۔ ان لوگوں نے انگریزوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ عام مسلمانوں سے ان کا رشتہ کاٹنے کے لیے انگریزوں نے بعض علماء سو ء کو ساتھ ملایا اوران کی وساطت سے انہیں وہابی مشہورکرادیا۔اسی طبقے نے آگے چل کرعلماے دیوبند کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی اور ۵۰ سال محنت کرکے امت کو دیوبندی بریلوی فرقوں میں بانٹ دیا۔ اسی دورمیں غیر مقلدین نے برگ وبار نکالے جو کہ انگریزوں کے پشتی بان رہے۔ قادیانیت کا پودا انگریزوں نے کاشت کیا۔

علماء دیوبندکی نمائند ہ تنظیم جمعیت علما ء ہند بھرپور طریقے سے انگریزوں کے خلاف غیر مسلح جدوجہد کر رہی تھی۔ شومئی قسمت کہ جب اتحاد کی سخت ضرورت تھی، اسی وقت یہ قوت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ معلوم نہیں اس کے پس پردہ سازش کارفرما تھی یا حالات کی روشنی میں محض اختلاف رائے تھا جس نے علماء کی قوت تقسیم کرکے دوالگ الگ سمتوں میں لگا دی۔ ایک وقت تھا جب پنجاب میں بالخصوص احراریوں کا طوطی بول رہاتھا، یہاں تک کہ ۱۹۳۵ء میں مسجد شہید گنج کا قضیہ تازہ ہوا۔ اس موقع پر بعض ناعاقبت اندیش یا سازشیوں کے آلہ کار زعمائے ملت آگے آئے اورانہوں نے حالات کی تاروں سے احراریوں کے لیے ایساپھندا تیار کیا کہ اگراحراری اس میں گھستے، تب تو مارے ہی جاتے، نہ گھستے، تب بھی بساط سیاست پر انہیں شہ مات ہوگئی۔

۱۹۷۹ء میں خمینی صاحب کا انقلاب، ایران میں نمودارہوا۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔ ،خمینی صاحب سے مذہبی رشتہ رکھنے والوں کے دلوں کا زہر زبانوں سے ٹپکنے لگا۔ یہاں بھی ایسے ہی انقلاب کی تیاریاں ہونے لگیں۔ اسی کی پشت پناہی سے شیعہ سنی نصاب کی علیحدگی عمل میں آئی۔ شیعہ سنی منافرت پہلے سے موجود تھی اور علماء اس پر کام بھی کر رہے تھے، مگر انقلاب کی آمد نے اس منافرت میں شدت پیدا کر د ی۔ اب دوہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ کچھ پروا نہ کی جائے اورجو جس کام میں لگا ہے، لگا رہے۔ بظاہر تو یہ رویہ اس فتنے کو بڑھانے والی بات تھی، مگراس کے نتائج اہل سنت کے حق میں دور رس ہوتے۔ دوسرا راستہ یہ تھاکہ اس پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی جائے۔ اس کی بھی دو صورتیں تھیں۔ ایک جارحانہ، دوسری مدافعانہ۔ جارحانہ راستہ قانون شکنی کا راستہ تھا اور وہ تمام باتیں اس کے لیے لازم تھیں جو قانون شکنی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ جن حضرات نے اس کا بیڑا اٹھایا، انہوں نے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ ایک تو یہ کہ وہ خود گرم مزاج تھے اور سیاسی سست روی سے ان کی شناسائی نہیں تھی۔ دوم، حالات بھی ایسے بن رہے تھے جو فوری شدید ردعمل کا تقاضا کرتے تھے۔ تیسرایہ کہ انھی کے علاقوں میں صحابہ کرام کے خلاف دریدہ دہنی عروج پر تھی۔ چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی اوربہت کم وقت میں نہ صرف یہ کہ مقبول ہوئی بلکہ تمام حدیں بھی عبور کر گئی۔ ایسی تحریکیں ہمیشہ ساون کی گھٹا، سیلاب کا ریلااورآندھی کا جھکڑ ہوتی ہیں۔ دھواں دھار برستی اور ختم ہو جاتی ہیں۔ جتنی تیزی سے یہ تحریک ابھری، اتنی ہی تیزی سے سمٹ بھی گئی۔ جذبات کا مد بہت جلد سیاست کے جزر کا شکار ہو گیا۔ کثیر تعداد میں جید علماء کرام اور سرفروش کارکنوں کے شہید لاشے اٹھانے کے بعد اس نے اپنا سلوگن ہی تبدیل کر دیا۔ یہ تحریک گو کہ چند موڑ کاٹ کر وہیں آکر رک گئی جہاں دور اندیش نظریں پہلے ہی اسے دیکھ رہی تھیں، مگر کم از کم دیوبندیوں کی قوت اس سے کئی حصوں میں ضرور تقسیم ہوگئی، کیوں کہ ایک بڑاگروہ کسی صورت اس طرح کے اقدامات کے حق میں نہ تھا۔ ایک ہی جیسے حالات میں دو گروہوں نے ایک دوسرے کے الٹ رائے قائم کی اوریہ اختلاف رائے بالآخر تفریق پر منتج ہوا۔ رہے دشمنان صحابہ تو وہ آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔

۲۰۰۷ء میں لال مسجد اورجامعہ حفصہ کے حوالے سے سازش کی گئی اورایسے حالات پیداکردیے گیے کہ اگر علماء اس تحریک کا حصہ بن جاتے، تب بھی نقصان اٹھاتے اورنہ دیتے، تب بھی مطعون ہوتے۔چنانچہ ایساہی ہوا۔ جن علما ء نے یہ تحریک اٹھائی، انہوں نے بھی سیکڑوں بچیوں اور جوانوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا اور جنہوں نے مصالحت اور سدھار کی کوشش کی، وہ بھی مطعون ہوئے اورجن علما نے محتاط ردعمل کا مظاہرہ کیا، وہ بھی مجرم قرار پائے بلکہ وفاق المدارس کے ٹوٹنے یا بٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس کا جو کچھ نتیجہ ہوتا، وہ ظاہر ہے۔

۹۔ تطرف

فرقہ بندی کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔ ایک بات لوگوں کی نظر سے گزرتی ہے، وہ اسے پڑھتے بولتے اور سنتے رہتے ہیں، مگر ان کے لیے اس میں ایسا کوئی سوال نہیں ہوتا جو عقدۂ لاینحل بن جائے۔ مگر اچانک کسی کے دماغ میں شیطان سرنگ بنا لیتاہے۔ شک کے کانٹے اگنے لگتے ہیں۔ ایک چیز جو ہزاروں کے لیے بد یہی تھی، اس کے لیے نظری بن جاتی ہے۔ جو دوسروں کے لیے حقیقت تھی، اس کے لیے مجاز ہوجاتی ہے۔ وہ ایک سوال جو اس کے دماغ میں جنم لیتاہے، اس کے لیے سب کچھ بن جاتا ہے۔ تفویض کا راستہ وہ اختیار نہیں کرتااور جوابات اسے مطمئن نہیں کرتے۔ بالآخر اسے ایک حل سوجھ جاتاہے جو اسے مطمئن کر دیتا ہے۔ وہ زوروشور سے اس کی تشہیر وتبلیغ کرتاہے۔ اگرچہ وہ مزعومہ حل ایک جواب دے کر ہزاروں سوال کھڑے کردے، مگر اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں رہتا۔ بجائے اس کے کہ وہ اس حل پر نظر ثانی کرے، خود اسی کو اصل قرار دے کر باقی تمام مسائل کو اس کے تابع مہمل بنا دیتا ہے۔ ہر مسئلے اور ہر سوال کو وہ اسی کی عینک لگا کر دیکھتا ہے۔ آہستہ آہستہ ایک نیا عقیدہ، نئی تفسیر وجود میں آنے لگتی ہے جو قرآن وسنت کے مجموعی مزاج سے بہت حد تک علیحدہ ہوتی ہے۔ ایک نیا فرقہ پیداہوجاتاہے جو دراصل اس کے بانی مبانی کے تطرف اور انتہا پسند طبیعت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ اگر انتہا پر ہوتا ہے تواس کے مقابلے میں آنے والے متطرفین دوسری انتہا پر پہنچ کر ایک نیا فرقہ، نئی جماعت اور نئی پارٹی تشکیل دے دیتے ہیں۔

۱۰۔ کم علمی

علم میں کمی بھی سبب بن جاتی ہے نئے فرقے کا، خصوصاً اس وقت جب کم علمی چھپانے کے لیے اس بات کا اظہار کیا جائے کہ وہ بہت زیادہ جانتا ہے۔ جب کم علمی کے ساتھ ساتھ انسان احساس برتری کے مرض کا شکار ہو، اس حالت میں وہ اپنی ہی کہے گااوراپنی ہی سنائے گا۔ چنانچہ تاریخ سے بعض ایسے لوگوں کے بارے میں یہ شہادت ملتی ہے کہ اپنی کم علمی بلکہ لاعلمی کے باوجود انہوں نے کسی مسئلے پر اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہوئے اس کااظہار کیااوارانجام کار ایک فرقے کے بانی ہونے کا تمغہ لے کر رخصت ہوئے۔ 

(جاری)


آراء و افکار