پروفیسر میاں انعام الرحمن

کل مضامین: 78

امت کا فکری بحران ۔ تاریخی بیانیے کا ایک تنقیدی مطالعہ

امتِ مسلمہ پچھلی کئی صدیوں سے زوال کا شکار ہے۔ زوال و انحطاط کی مدہوشی میں اس کے ہوش و حواس پر ایک ہی منظر چھایا ہوا ہے۔ اس منظر کا نام ’شان دار ماضی‘ ہے۔ شان دار ماضی میں اسلاف ہیں اور اسلاف کے عظیم کارنامے ہیں۔ یہ منظر اپنی مجموعی کلی حیثیت میں پورے کا پورا چھایا ہوا نہیں ہے۔ شان دار ماضی کے حصے بخرے ہو گئے ہیں۔ سیاست، معیشت، فلسفہ، قانون، تصوف، سائنس، عمرانیات، اخلاقیات، الہیات اور زندگی کے دیگر پہلوؤں میں حاصل کی گئیں کامیابیاں اور کامرانیاں الگ الگ خانوں میں بٹ چکی ہیں۔ اگر ان خانوں کو جدا جدا کرنے کا مقصد، انکشافِ حقیقت کی غرض سے یہ...

.... اور کافری کیا ہے؟

الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲ء میں ہمارے شائع شدہ مضمون ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد: قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں ایک عمرانی مطالعہ‘‘ کی بابت محمد دین صاحب جوہر نے ( نومبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں) نہایت درد مندی سے اپنی فاضلانہ رائے کا اظہار کیا ہے۔ جوہر صاحب کی تنقیدی دفتری کافی موٹی ہے۔ آئندہ سطور میں نوع بہ نوع اس دفتری کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ۱۔ محترم جوہر صاحب کا پہلا اعتراض: ’’..... میں تو استدراک پر ہی معتکف ہوں اور ابھی تک یہ عقدہ نہیں کھلا کہ یہ کسی متداول اخبار کا تراشہ ہے یا کسی علمی مضمون کا تتمہ؟ ......... اس مضمون کے عنوان میں ’نفاذ‘ کا لفظ...

پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد ۔ قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں ایک عمرانی مطالعہ

قیامِ پاکستان کے بعد سے اس ملک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد بجائے خود، ایک اجتماعی معاشرتی خواہش (collective social will) کی مظہر رہی ہے کہ اسلام نافذ کیا جائے اور مملکت کے تینوں دساتیر (۵۶، ۶۲، ۷۳) کے بنیادی ڈھانچے ایک حد تک اسی معاشرتی خواہش کے سیاسی نتائج (political output) دیتے چلے آئے ہیں۔ ۱۹۷۳ کے آئین میں تو خیر سے ریاست کو بھی کلمہ پڑھوا دیا گیا ہے کہ اسلام، مملکت کا سرکاری مذہب قرار پایا ہے۔ اس لیے جہاں تک آئین و قوانین کی بات ہے، معاشرتی خواہشات کے سیاسی ثمرات میں ڈھلنے کا تعلق ہے، حالات و واقعات بہت زیادہ سنگین اور تشویش انگیز نہیں ہیں۔ایسے میں سوال پیدا...

اصالتِ دین کی تلاش میں حدیث کا تاریخی کردار ۔ کائناتی تناظر میں ایک افقی و عمودی مطالعہ

جب سے انسان نے اس کُرّہ ارض پر قدم رکھا ہے، تب سے گوناں گوں چیلنجزاسے دعوتِ مبارزت دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ہتھیار ڈالنے کے بجائے ڈٹ جانے کی جبلّی صلاحیت نے انسان کو اس کارزارِ حیات میں فتوحات سے نوازا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں کرہ ارض پر انسان کی موجودگی درحقیقت اپنے پیچھے انہی فتوحات کی عظیم الشان داستان لیے ہوئے ہے۔ اس دل گداز داستان میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں، جن میں کہیں تسخیر فطرت کے جھلملاتے تاب ناک مناظر سے سابقہ پڑتا ہے اور کہیں انسان کی ذات (man-himself) سے وابستہ خصوصیات (properties-virtues) کے، مختلف آلات میں منتقل ہونے کے اندوہ ناک واقعات سامنے آتے...

تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ

تقسیم ہند سے تقریباً نوے برس قبل ۱۸۵۷ میں لڑی جانے والی جنگ آزادی کا اصل مقصد، اسلام کا نفاذ نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف، اپنے علاقے سے غیر ملکیوں کو کھدیڑنا تھا۔ اس لیے اس جنگ میں متحدہ ہند کی تمام قوموں نے بلا تفریق مذہب و ملت، رنگ و نسل مقدور بھر حصہ لیا تھا۔ شاید اسی لیے اس واقعہ کی بابت یہ بحث تو ہوتی رہی کہ یہ جنگ ہے یا غدر۔ لیکن، یہ جہاد ہے یا نہیں؟ اس زاویے سے کوئی سنجیدہ بحث ہمارے علم کی حد تک کبھی نہیں چھڑی۔ جن لوگوں نے اسے ’جنگِ آزادی‘ قرار دیا اور جنہوں نے اسے ’غدر‘ گردانا، دونوں ہی اپنے اپنے موقف کے تاریخی اثرات سے پوری طرح آگاہ نہ...

تعارف و تبصرہ

’’قلم کے چراغ‘‘۔ برِ عظیم پاکستان و ہند کی مزاحمتی تاریخ جن قدآور شخصیات کے ذکر کے بغیر ہمیشہ ادھوری سمجھی جائے گی، ان میں ایک بڑا نام آغا شورش کاشمیری مرحوم کا ہے۔جن لوگوں نے آغا صاحب کا عہد دیکھا ہے، آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے اس فانی دنیا سے اٹھتے جا رہے ہیں۔ اب ایسی محافل ایسی مجلسیں اور ایسی نشستیں کبھی کبھار ہی منعقد ہوتی ہیں جن میں آغا شورش کی شخصی خوبیوں اور ان کے کردار کے متعلق گفتگو ہوتی ہو، انگریز سامراجیت سے ان کی نفرت و حقارت کا بیان ہوتا ہو، ایوبی آمریت کے خلاف ان کی للکار یاد کی جاتی ہو اور ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر ان کی ولولہ...

’’موجودہ عالمی استعماری صورتِ حال اور فیض کی شاعری‘‘

پاکستان میں اقبالؔ کے بعد جن شعرا کوقبولیتِ عامہ ملی ہے، ان میں فیض احمد فیضؔ نے نئی نسل کو غالباً سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ فیضؔ نے دست یاب صورتِ حال میں (in the given situation) جس متانت و سنجیدگی اور مدھر و دھیمے لہجے میں ترقی پسندانہ خیالات کا شاعرانہ اظہار کیا، تمام حلقوں نے ہمیشہ اس کا اعتراف اور احترام کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے ۲۰۱۱ کو ’فیض کا سال‘ قرار دیا ہے۔ اکادمی ادبیات نے اس سلسلے میں فیض کانفرنس منعقد کر کے فیض احمد فیضؔ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کانفرنس میں پڑھے گئے مقالات فیضؔ کو خراجِ تحسین کے...

ریمنڈ ڈیوس کیس کے تناظر میں اسلامی فوجداری قانون کا ایک مطالعہ

اس وقت ہر طرف شور و غل برپا ہے کہ پاکستان کی ایک عدالت نے پاکستانیوں کے ایک امریکی قاتل کو باعزت بری کر دیا ہے۔ یہ بات سو فی صد غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک عدالت کے ایک ’قاضی‘ نے پاکستانی مسلمانوں کے ایک غیر مسلم امریکی قاتل کو ’دیت‘ لے کر چھوڑ دیا ہے۔ وطن عزیز کے اسلام پسندوں کو خوشی کے شادیانے بجانے چاہییں کہ امریکہ بہادر کم از کم ایک اسلامی قانون کی ’حکمتوں‘ کا قائل ہو گیا ہے اور یہی امر سیکولر لبرل حلقوں کے لیے باعث تشویش ہونا چاہیے کہ اسلامی قوانین کی حکمتیں اگر اسی انداز میں جلوہ افروز ہوتی رہیں تو وہ دن دور...

ایک تلافی نامے کا معذرت خواہانہ جائزہ

واقعہ کچھ یوں ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان، پنجاب شاخ لاہور کے زیرِ اہتمام ۸ مئی ۲۰۱۰ بروز ہفتہ ’’صوفی ازم کی عوامی بنیادیں‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان بھر سے ممتاز دانش وروں نے’’ گراں قدر‘‘ مقالات پڑھ کر صوفیا کو ایصالِ ثواب کیا۔ غالباً ثواب کے ایصال میں کافی کمی رہ گئی تھی جس کی تلافی کی ذمہ داری یونی ورسٹی آف گجرات کے سپرد کی گئی۔ اس وقت ہمارے زیرِ نظر یہی’’تلافی نامہ‘‘ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ تلافی نامے کا سرورق کیا ہے؟ اچھا خاصا طلسم کدہ ہے۔ پھر ہماری کیا مجال کہ اس کے سحر میں ڈوبے بغیر صوفیانہ...

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ

اپنی کلاسیکل علمی روایت کے ساتھ شعوری وابستگی عصرِ حاضر میں جن اصحاب کے حصے میں آئی ہے، ڈاکٹر محموداحمد غازی مرحوم ان میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ مرحوم کے محاضرات خواص و عوام میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ اگر مسلم علمی روایت کے اس پہلو کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ اس میں زبان و بیان، قلم و قرطاس پر چھائے رہے تو ڈاکٹر غازی ؒ اس روایتی پہلو کے جدید ترین نمائندہ تھے۔ ان کے محاضرات کا توضیحی و تنقیحی اسلوب گواہی دے رہا ہے کہ انہوں نے ’’نگہ بلند،سخن دل نواز،جاں پرسوز‘‘ کے ساتھ اسلاف کے علمی کارنامے نئی نسل تک پہنچانے کا حق ادا کر دیا۔ اللہ ان کی مغفرت...

قرآن مجید میں قتلِ خطا کے احکام ۔ چند توجہ طلب پہلو

’’کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، سوائے یہ کہ اس سے خطا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو ایک مومن گردن آزاد کر ے اور مقتول کے گھر والوں کودیت دے مگر یہ کہ وہ صدقہ کردیں۔ لیکن اگر وہ مومن مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس کے ساتھ تمہارا میثاق ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہادیا جائے گا اورایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہو گا۔ پھر جو نہ پائے، وہ پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۳)

کسی سماجی مسئلے کی گتھی سلجھانے کے لیے مصلح کا غیر جانب دار ہونا نہایت ضروری ہے۔ یہ صفت مصلح کوتحریک دیتی ہے کہ زیرِ بحث مسئلے کا معروضی جایزہ لے۔ معروضی تجزیے کی یہ روش، مسئلے کے متعلق درست زاویے سے سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ہماری رائے میں کسی مسئلے کے قابلِ قبول حل کے لیے پہلا قدم،اس کے متعلق درست سوال اٹھانا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ خالد سیف اللہ صاحب نے آج کے ایک سنجیدہ مسئلے کو کتنے معروضیت پسندانہ اسلوب سے اڈریس کیا ہے: ’’سوال یہ ہے کہ کم عمری کا نکاح زیادہ نقصان دہ ہے یا کم عمری کے جنسی تجربات؟ یقیناََ بے قید جنس پرستی زیادہ مضر...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۲)

خالد سیف اللہ صاحب خواہ مخواہ کی قانونی موشگافیوں میں الجھنے کے بجائے اسلامی تعلیمات اور صدرِ اسلام کے واقعات سے استدلال کرکے چھوٹے چھوٹے نتایجِ فکر ، قارئینِ کے سامنے رکھتے جاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی نظامِ حیات کا کوئی ایسا واحد بڑا سچ نہیں ہوتا جس کے بل بوتے پر مقصود سماج کی تشکیل کی جا سکتی ہو ، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے سچ اکھٹے ہوکر ایک بڑی سچائی کے ظہور کا سبب بنتے ہیں ۔ اس لیے ہمارے ممدوح کا طرزِ استدلال عملی مثالی اور قابلِ تحسین ہے ۔ اس سلسلے کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے: ’’جب مدینہ میں ۸۰؍اشخاص نے اسلام قبول کیا تو آپ...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۱)

خالد سیف اللہ رحمانی ، ہندوستان کے معروف عالمِ دین ہیں ۔ ان کے مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کے مجموعے عوامی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں ۔ اب ان مجموعوں کا مجموعہ ، پاکستان میں زم زم پبلشرز کراچی نے ’راہِ عمل ‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ راہِ عمل دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کے پانچ حصے ہیں ۔ جلد اول میں تین اور جلد دوم میں دو حصے ہیں۔ ان حصوں کے عنوانات بالترتیب (۱) نقوشِ موعظت، کل صفحات ۳۶۶ (۲) حقائق اور غلط فہمیاں، کل صفحات ۲۱۲ (۳) نئے مسائل ، اسلامی نقطہ نظر، کل صفحات ۲۷۰ (۴)عصرِ حاضر کے سماجی مسائل، کل صفحات ۲۲۴(۵) دینی و عصری تعلیم اور درس گاہیں:مسائل...

خواجہ حسن نظامی کی خاکہ نگاری

اردو ادب میں شاید ہی کوئی دوسرا انشاپرداز ہو جو خواجہ حسن نظامی مرحوم (۱۸۷۸۔۱۹۵۵) سے بہتر طور پر ’آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ‘ کا مصداق ہو ، حال آں کہ خواجہ صاحب کا شمار اردو ادب کے ان خاکہ نگاروں میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے اس ادبی صنف کو بال و پر عطا کیے اور یہ صنف ’فن‘ سمجھی جانے لگی ۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری نے ’’خواجہ حسن نظامی: خاکے اور خاکہ نگاری ‘‘ کے عنوان سے تالیف پیش کرکے اس اوجھل پہاڑ کو منظرِ عام پر لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس مدون تالیف میں ڈاکٹر معین الدین عقیل کے حوصلہ افزا وقیع پیش لفظ کے بعد ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری...

قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۳)

وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً (النساء ۴:۹۳)۔ ’’ اور وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔‘‘ اس آیت کی تفہیم سے قبل ایک مقدمہ کا سمجھنا ضروری ہے کہ: النساء آیت ۹۲ میں ، مومن کو خطا سے قتل کرنے کا ذکر ہے ، البقرۃ آیت ۱۷۸ کے آغاز میں (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ...

قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۲)

’’قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہوتو بے شک ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے ، ضرور اس کی مدد کی جائے گی۔‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷/ ۳۳)۔ اس آیت کے آغاز میں وَلا تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّکے بیان سے یہ واضح تاثر ملتا ہے کہ مقتول کو خون کے بدلے یا فساد فی الارض کے بجائے کسی اور وجہ سے قتل کیا گیا ہے اور یہ تاثر زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ دیتا ہے کہ قتل ، قتلِ حق نہیں ، بلکہ قتلِ ناحق ہے۔لیکن قرآنی اسلوب پکار پکار کر قاری...

قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۱)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،لکھا گیاہے اوپر تمہارے برابری کرنامارے گیوں کے بیچ ، آزاد بدلے آزاد کے اور غلام بدلے غلام کے اور عورت بدلے عورت کے ، تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی ہو، تو پیروی کرنا ہے ساتھ اچھی طرح کے ، اور ادا کرنا ہے طرف اس کے ساتھ نیکی کے ، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت ، اس کے بعد جو زیادتی کرے ، تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اور قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے اے اہلِ عقل تاکہ تم(قتل و خون ریزی سے، یعنی اللہ کے غضب سے کہ قتل و خون ریزی غضب کی ایک صورت ہے ) بچو‘‘۔ سورۃ البقرۃ کی آیت۱۷۸...

عدالتی فیصلہ اور استاد منگو

۲۰ جولائی ۲۰۰۷ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فل کورٹ ۱۳ رکنی بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں عدلیہ کا افتخار بحال کر دیا۔ پاکستان میں عدالتی افتخار کی زبوں حالی دوچار مہینوں کا قصہ نہیں بلکہ کم ازکم نصف صدی پر محیط داستان ہے ۔ پچاس کی دہائی میں سندھ ہائی کورٹ کے باعث افتخار فیصلے کو بے افتخار کرنے کا ’’کارنامہ‘‘ جسٹس منیر کی سربراہی میں فیڈرل کورٹ نے سرانجام دیا جس کے نتیجے میں عدلیہ نہ صرف انتظامیہ کی رکھیل بن کر رہ گئی بلکہ ابن الوقتی ایک قومی قدر کا روپ دھار گئی ۔مولوی تمیزالدین کے مذکورہ کیس سے لے کرسپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے تک کی طویل...

مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت میں قرآن و سنت کی اہمیت

مسلم تاریخ کے بیشتر ادوار میں مسلم تہذیب، اسلامی شناخت سے بہرہ مند رہی ہے اور اسلامی شناخت کے عناصر ترکیبی ہمیشہ قرآن اور سنت رہے ہیں۔ پچھلی چند صدیوں سے اسلامی شناخت کے عناصر ترکیبی ( قرآن و سنت) اگرچہ مسلم تہذیب میں موجود ہیں، لیکن ان کی اہمیت کافی حد تک دھندلا سی گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم تہذیب میں جب قرآن ا ور سنت کی اہمیت، عملی طور پر پہلے جیسی نہیں رہی تو پھر وہ کون سے عناصر ترکیبی ہیں جن پر مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت کا ٹھپہ لگایا جا رہا ہے؟ دوسرے...

’دشتِ وصال‘ پر ایک نظر

رگِ خواب، قربِ گریزاں اور حریم حمد کے بعد منیر الحق کعبی کا نیا مجموعہ کلام دشتِ وصال کے نام سے منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ اس شعری مجموعے میں اگرچہ تخیل اور اسلوب کی چند نئی جہتیں پر پرزے نکالتی محسوس ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود کعبی کے شعری سبھاؤ کی روایتی پرچھائیاں دشت سے لے کر وصال تک پھیلتی چلی گئی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: ’’تازہ ہوائے صبح پھر دل کو خطاب کر گئی، باغ کی ہر کلی کھلی ، کھل کے گلاب کر گئی۔ یاد کے شاخسار پر گل جو کھلے بکھر گئے، خانہ خراب سوچ کا خانہ خراب کر گئی۔ تھل کے ہر ایک ذرے میں پنوں کا عکس دیکھ کے، سسی وصال کے لیے خود کو کباب کر گئی۔‘‘...

سید مدنی، تجدد پسندی اور قدامت پسند حلقے

ماہنامہ ’الشریعہ‘ فروری ۲۰۰۷ کے شمارے میں ہمارے شائع ہونے والے مضمون ’’ سید حسین احمد مدنی ؒ اور تجدد پسندی ‘‘ پر قدامت پسند حلقے کی طرف سے شدید منفی ردِ عمل سامنے آیا ہے ۔ مضمون کی ابتدائی سطروں ہی میں ہم نے لکھا تھا کہ’’ اگر مذہبی اصطلاح ’’ اجماع ‘‘ کو مستعار لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اکبر کی ’’تجدد پسندی‘‘ کے خلاف مسلمانوں کے قدامت پسند حلقے کا اجماع ہو چکا ہے ‘‘۔ہمیں یہ قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ قدامت پسند، علمی اعتبار سے اس حد تک زوال کا شکار ہو چکے ہیں کہ ان کے مفتی صاحبان بھی ’’ مستعار ‘‘ کے معنی جاننے سے قاصر ہیں ۔ مفتی...

جناب وحید الدین خان کا علمی تفاخر

بھارت کے مذہبی اسکالر جناب وحید الدین خان کا نام ہم نے سنا ہوا ہے، لیکن ان کی فکر سے استفادہ کرنے کا ہمیں کبھی موقع نہیں ملا۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ماہنامہ تذکیر لاہور کا شمارہ ۱، جلد ۲۰، جنوری ۲۰۰۷ عنایت کیا۔ اس شمارے میں ’’ ایک علمی برائی ۔۔ دعویٰ بلا دلیل‘‘ کے زیرِ عنوان مراسلت کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ اس مراسلت کے مطالعے سے ہمیں حیرت ہوئی کہ کوئی مذہبی اسکالر علمی برائی کے رد میں علمی بڑائی کا خود پسندانہ اظہار اس حد تک بھی کر سکتا ہے۔ وحید الدین صاحب کا متشددانہ اصرار ہے کہ ’دارالدعوۃ ‘ کی اصطلاح صرف ان کے’ مجتہدانہ ذہن‘ کی پیداوار...

سید حسین احمد مدنیؒ اور تجدد پسندی

برصغیر پاکستان و ہند کی مقتدر مسلم شخصیات میں سے سلطان محمود غزنوی( متوفیٰ اپریل ۱۰۳۰ ) اورمغل بادشاہ اکبر ( م اکتوبر ۱۶۰۵ )ایک عرصے سے متنازعہ چلے آ رہے ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیر (م مارچ ۱۷۰۷ ) کو بھی بآسانی ایسی شخصیات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک محمود غزنوی لٹیرا ہے اور بعض کی نظر میں بت شکن۔ اسی طرح اگر ایک طرف اورنگ زیب کی پارسائی کے گن گائے جاتے ہیں تو دوسری طرف اسے ظالم بیٹا تصور کیا جاتا ہے جس نے اپنے سگے باپ کو برسوں قلعے میں محصور کیے رکھا۔ مغل بادشاہ اکبر کا معاملہ قدرے جدا ہے۔ اگر مذہبی اصطلاح ’’ اجماع ‘‘ کو مستعار لیا...

قدامت پسندوں کا تصورِ اجتہاد: ایک تنقیدی مطالعہ

’’قدامت پسندی‘‘ ایک مبہم اصطلاح ہے ،اس کی حدود قیود اور خصوصیات کے متعلق کوئی ایک رائے نہیں پائی جاتی۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ ، زندگی کے کسی ایک پہلو کے متعلق بے لچک رویے کا مظاہرہ کر رہا ہو اور کسی دوسرے پہلو کے حوالے سے اس کا رویہ نرمی اور لچک لیے ہوئے ہو ۔ لیکن اس امر سے شاید ہی کسی کو انکار ہو گا کہ ماضی کے ساتھ انسان کا فطری لگاؤ ہوتا ہے اور وہ کسی بھی پیش آمدہ اور ممکنہ تبدیلی کو فوراََ قبول نہیں کرتا بلکہ اس کی راہ میں عموماََ مزاحم ہوتا ہے ۔ اس لیے ایک خاص ذہنی سطح کے لوگ جوخود بھی طبعاََ جمود پسند ہوتے ہیں...

اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد

انسانی زندگی گونا گوں پہلووں سے عبارت ہے اور ان تمام پہلووں پر تاریخ کی بسیط چادر تنی ہوئی ہے ۔ صرف اسی ایک فقرے کو بغور دیکھیے کہ اس کے دو ٹکڑے ہیں۔ ’’ اور ‘‘ نے ان ٹکڑوں میں ربط اور معانی پیدا کیے ہیں ۔ اگر ’’ اور ‘‘ کے بعد والا ٹکڑا بے معنی ہے تو اس کا ذمہ دار ’’ اور ‘‘ سے پہلے والا ٹکڑا ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر ہی دوسرے ٹکڑے کی تخلیق ممکن ہوئی ہے ، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسرا ٹکڑا ’’ تخلیق ‘‘ ہوتے ہوئے بھی، پہلے ٹکڑے سے الگ، اپنی ذات میں کوئی آزاد معنی نہیں رکھتا ۔ اسی طرح اگر ’’ اور ‘‘ کے بعد والا ٹکڑا ہمیں نئے مفاہیم سے روشناس کراتا...

معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید

مسلم دانش وروں کے علاوہ غیر مسلم اہلِ قلم کے ہاں بھی آج کی مسلم دنیا کی سیاسی و معاشی میدانوں میں پس ماندگی اور زبوں حالی دلچسپی کا باعث اور موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ لیکن ایسے صائب الرائے افراد انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو مسلم دنیا کی سیاسی و معاشی پس ماندگی کے اسباب تلاش کرتے کرتے اس کے تہذیبی انحطاط تک جا پہنچیں ۔اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ سوشلزم کے زوال کے بعد مغربی دانش وروں کے ایک مخصوص حلقے نے پچھلے تقریباََ ایک عشرے سے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے تصادم کا نظریہ گھڑ کر ایک طرف مسلم دنیا کی سیاسی و معاشی پس ماندگی کی ان وجوہات کو چھپانے...

ذکر ندیم

بیسویں صدی سامراجی اقوام کے غلبے کے خلاف بغاوت کی صدی تھی۔ بغاوت اور انقلاب کے لیے محکوم اقوام کو جس سطح کے جوش و جذبے اور اعتماد کی ضرورت تھی، ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے سے اسی سطح کے جوش و جذبے اور حریت پسندی کو محکوم اقوام کا شعار بنا دیا۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف کا اردو ادب بھی ایسی تخلیقی کاوشوں کا آئینہ دار ہے۔ اسی صدی کے دوسرے نصف میں نو آزاد اقوام کے سامنے اپنی آزادی کی بقا کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت کی دریافت کا مہیب مسئلہ آ کھڑا ہوا تو ادیبوں اور شاعروں نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کرنے کے بجائے ایک بار پھر اپنا کردار...

’’قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ‘‘ ۔ تنقیدات پر ایک نظر

ماہنامہ الشریعہ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ہمارے شائع شدہ مضمون ’’ قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ ‘‘ پر چند تنقیدی آرا سامنے آئی ہیں۔ مارچ ۲۰۰۶ کے شمارے میں یوسف جذاب صاحب نے اپنے خط میں مضمون کے پہلے حصے پر ناقدانہ نظر ڈالی ہے، لیکن زیادہ تر احباب کی تنقید ہمارے مضمون کے دوسرے حصے کے متعلق ہے جس میں بطور کیس سٹڈی ’’ ذبیح کون ‘‘ کی بحث پر قرآنی سیاق میں نقد اور قرآنی منشا کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ہم یہاں یوسف صاحب کی تنقید سے صرفِ نظر کرتے ہیں اور ’’ذبیح کون‘‘ کی بحث کی ضرورت اور افادیت پر مبنی...

کسرِ کعبہ کی حضوری

پروفیسر منیرالحق کعبی بطور مصنف ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں ۔ نثر ، تنقید ، شاعری ...... غرض اردو ادب کی تقریباََ تمام اصناف پر موصوف نے خامہ فرسائی کی ہے اور خوب کی ہے ۔ ان کا موجودہ حمدیہ کلام بعنوان ’’ حریمِ حمد ‘‘ اس وقت پیشِ نظر ہے ۔ کعبی جیسے شخص کا حمد کی طرف اس قدر جھکاؤ کہ پوری تصنیف منظرِ عام پر آجائے ، حیرت انگیز نہیں ہے بالخصوص اس تناظر میں کہ پچھلے چند سالوں سے ان کی طبع پٹڑی بدلتی دکھائی دیتی ہے ۔ان کے سابقہ مجموعہ ہائے کلام ’’ رگِ خواب‘‘ اور ’’ قربِ گریزاں ‘‘ کی غزلیات سے کسی بھی قاری پر آشکارا ہو جاتا ہے کہ انھوں نے غمِ دنیا کے...

سیرت نبوی اور ہجرت: ایک معنویاتی مطالعہ

ہجرت، قدیم دور سے ہی انسانی زندگی کا لازمہ رہی ہے۔ تاریخ عالم کی کسی بھی کتاب کی ورق گردانی کر لیجیے، اس میں آپ کو حضرت انسان بار بار رختِ سفر باندھتا دکھائی دے گا۔ کہیں انسان کی بے بسی کے دل دوز مناظر ملیں گے تو کہیں عزم و ہمت کی تاریخ ساز داستانوں سے واسطہ پڑے گا۔ لیکن یہ صرف انسان ہی نہیں ہے جس کے نصیب میں مسلسل سفر لکھا ہے، بلکہ ہجرت کا مظہر چرند پرند سے لے کر نباتات اور جمادات تک پھیلا ہوا ہے۔ تند و تیز ہوائیں ، نباتاتی بیجوں اور پرندوں کو زبردستی اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہیں۔ بعض جانور اور پرندے خود بھی صحرا نوردی اور جہاں گردی کا...

بعثتِ نبوی ﷺ کے عصری مکاشفے

کم ہی لوگوں کو اس بات سے اختلاف ہو گا کہ اسلام کے ظہور کی صدی تاریخی ادوار کی تقسیم کے لحاظ سے زرعی دور میں شامل کی جا سکتی ہے۔ یہ ساتویں صدی کے بہت عرصہ بعد ہوا کہ صنعتی انقلاب جیسے طاقتور خارجی مظہر سے نوعِ انسانی کا واسطہ پڑا۔ اس انقلاب نے جہاں معاشی اعتبار سے ترقی کا راستہ ہموار کیا، وہاں انسانی زندگی کی ان قدروں کو بھی اتھل پتھل کر دیا جن کی بنیادیں زرعی دور کے انسانی رویوں میں پوشیدہ تھیں۔ اقدار کی تبدیلی سے طرزِ زندگی میں تبدیلی رونما ہوئی اور پھر نئے طرزِ زندگی نے انسانی رویوں کی ایک ایسی صورت کو جنم دیا جس سے آج ہمارا اپنا عہد (اکیسویں...

قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ

دنیا کی کوئی فکر، کوئی فلسفہ یا کوئی نظامِ حیات ، معاشرتی سطح پر اپنے نفوذ کی خاطر متعلقہ معاشرت اور کلچر کا لحاظ کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ یہ آدھا سچ ہے ۔ بقیہ آدھا سچ یہ ہے کہ متعلقہ معاشرت اور کلچر کا لحاظ اگر حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ نظامِ حیات یا فلسفہ اپنے مخصوص اور منفرد منہج سے ہٹ کر محدودیت اور تنگ نظری کو فروغ دینے والی معاشرتی کہاوتوں کو بھی، جن کے پیچھے اصلاً نفسیاتی عوارض کار فرما ہوتے ہیں، اپنی بنیادی صداقتوں میں شمار کرنے لگتا ہے اور انہیں ازلی سچ گردانتے ہوئے اپنی علمیات (Epistemology) سے کچھ اس طرح خلط ملط کرتا ہے کہ نہ صرف جھوٹ...

مِتھ کی بحث پر ایک نظر

محترمہ شاہدہ قاضی ، جو جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغِ عامہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ، ان کا روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والا ایک مضمون نہایت دلکش ترجمے کی صورت میں ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مئی ۲۰۰۵ کے شمارے کی زینت بنا۔ یہ مضمون مجموعی طور پر بہت عمدہ اور مضبوط دلائل پر مشتمل تھا ۔ محترمہ کے پیش کردہ بعض تاریخی حقائق میں ’افسانوی رنگ‘ ڈھونڈنے کی ’جسارت‘ روزنامہ ’جسارت‘ کے کالم نگار جناب شاہ نواز فاروقی نے کی۔ ’الشریعہ‘ نے بحث کے مختلف، متنوع اور متضاد پہلوؤں کو سامنے لانے کی درخشندہ روایت برقرار رکھی اور ’جسارت‘ کی جسارت کو جولائی...

پاکستان، اسرائیل اور مسئلہ فلسطین

1897 کی بیسل کانفرس میں یہودیوں نے اپنی جدا گانہ آزاد ریاست کے قیام کے لیے منصوبہ بندی کر لی تھی اوراس کے بعد سے وہ اسے عملی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ انہی دنوں انگریزوں نے پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے ’انعام کے طور پر عربوں کو آزاد اور خود مختار علاقے دینے کا وعدہ کر رکھا تھا، لیکن سلطنتِ عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر نے میں عربوں کے تعاون کے باوجود برطانوی وزیرِ خارجہ بالفور نے ۱۹۱۷ء میں یہودیوں سے فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا وعدہ کر لیا۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ادھر برِ صغیر پاک و ہند میں مسلمان اپنے...

اسلام اور نظریہ ارتقا

ماہنامہ الشریعہ کے ستمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد آصف اعوان صاحب کا مضمون ’’ انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن ‘‘ نظر سے گزرا۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے مختلف اہلِ قلم کی آرا کی روشنی میں انسان کے حیاتیاتی ارتقا کو جیسے تیسے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ غیر ارضی مظاہر (جیسا کہ انسان کی تخلیق) کو ارضی سیاق و سباق میں کیسے اور کیونکر سمجھا جا سکتا ہے ؟ اس مضمون کے مندرجات صاف چغلی کھا رہے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے ذہن میں ڈارون کا نظریہ ارتقا ہی غوطے کھا رہا ہے ، جسے اب علمی حلقوں میں متروک خیال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اگر ماہرِ حیاتیات...

غیر مادی کلچر میں عورت کے سماجی مقام کی تلاش

جب سے یہ کائنات بنی ہے اور جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے ، تب سے اس ارضِ رنگ و بو میں خیر و شر کا معرکہ برپا ہے ۔ اب تک کی معلوم تاریخ کی یہی مختصر داستان ہے۔ اگر ہم انسانی تاریخ کے مخصوص احوال و ظروف پر عمیق نظر رکھتے ہوئے اس کی معنوی شناسائی کے درپے ہوں تو معلوم تاریخ، انسانیت کی جستجو سے عبارت دکھائی دے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ نوعِ انسانی کئی صدیوں سے اپنی ضروریات کے جبر اور تخیلات کی پرواز کے ذریعے مادی کلچر کو منصہ شہود پر لا رہی ہے۔ تلوار، ٹینک، بندوق، ہل، ٹریکٹر، جہاز اور میزائل سے لے کر تفریحی کھیلوں اور آرٹ کے متجسم نمونوں تک انسانی ترقی...

مغرب کی ابھرتی ہوئی مذہبی شناخت اور اس کی تشکیل میں مسلمانوں کا کردار

شمالی امریکہ میں نائن الیون کے اندوہ ناک حادثے کے بعد مغربی یورپ میں سیون سیون کے بم دھماکوں نے ایک بار پھر پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ اگرچہ مغربی میڈیا نے حسبِ روایت چیخ پکار کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ حیرت زدگی اقوامِ عالم کو اس شدت کے ساتھ ماتم پر مجبور نہیں کر سکی جس کی توقع اہلِ مغرب کے یک رخی سوچ کے حامل افراد کر رہے تھے۔ اس قسم کے حادثات جہاں آنے والے وقت کی سختی اور پیچیدگی کو ظاہر کر رہے ہیں، وہاں مغربی استعماریت کے داخلی ڈھانچے کے دیمک زدہ ہونے کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ہماری رائے میں...

تغیر پذیر دنیا اور مسلم ثقافت کی داخلی نفسیات

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۵ کے شمارے میں جناب لوئ ایم صافی کا نہایت فکر انگیز مضمون نظر سے گزرا۔ فاضل مضمون نگار نے معروضیت کے تقاضے نبھاتے ہوئے مسلم ثقافت کی داخلی نفسیات کی مختلف پرتوں کو بہت تدبر، بصیرت اور گہرائی سے کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ پوسٹ ماڈرن کلچر سے مسلم ثقافت کی اثر پذیری کے حوالے سے دو متضاد رویوں کے حامل گروہوں یعنی روایت پسندوں اور ترقی پسندوں کے نقطہ ہائے نظر اور پھر ان کی تحلیل بھی لوئ ایم صافی نے کمال غیر جانب داری سے کی ہے۔ ہماری رائے میں عالمگیریت کی موجودہ فضا میں ان دو متضاد رویوں کا تجزیہ وتنقیح ایک اور زاویے...

قربِ گریزاں کی ایک غزل

چناب کی سر زمین گجرات سے تعلق رکھنے والا منیر الحق کعبی بہل پوری بطور کہنہ مشق شاعر و ادیب اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے ۔ حمدیہ کلام میں تغزل کی آمیزش سے: ’’گنگ حرفوں کو زباں دی تو نے، مجھ کو توفیقِ بیاں دی تو نے‘‘۔ کہنے والا شاعر قومی کینوس پر شاید اس لئے نہیں آسکا کیونکہ اس کا تعلق نہ تو لاہور ، کراچی جیسے بڑے شہروں سے ہے اور نہ ہی اسے ’’ پی آر ‘‘ کے لوازمات کے’’ سلسلوں ‘‘پر قدرت حاصل ہے: ’’عذاب ٹھہرا ہر اک سے یہ سلسلہ رکھنا، خدا کے ساتھ بتوں سے معاملہ رکھنا‘‘۔ کعبی کا یہ شعرمومن کے اس شعر کی یاد دلا تا ہے جس کے عوض مرزا غالب اپنا...

اسلامی حکومت کا فلاحی تصور

سرد جنگ میں سرمایہ دارانہ بلاک کی فتح کے بعد اشتراکیت کے توسط سے آنے والے فلاحی تصور کی بنیادیں کھوکھلی ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ اب ایک طرف دنیا بھر میں قومی اداروں کی نج کاری سے بے روزگاری میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے، امریکہ میں سوشل سکیورٹی سسٹم بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف سیکولر ازم اور جمہوریت کی توسیع کے لیے اسی نوعیت کے تشدد اور عدم رواداری کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے خاتمے کے لیے ہی مذہبیت کے بالمقابل سیکولر ازم اور بادشاہت کے مقابلے میں جمہوریت کے تصور ات پروان چڑھے تھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے! اب سیکولر عدم رواداری اور...

ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہ

’’چلو جگنو پکڑتے ہیں‘‘ کلیم احسان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں اس شعری روایت کی ’’ترفیع‘‘ جھلکتی ہے ، جو میرو ناصر کے ادوار سے گزر کر موسمِ گل کی حیرانگی میں رونما ہوئی اور خود اس مجموعے میں جا بجا بکھر گئی: ’’دل ہمارا اجاڑ بستی میں، ایک خالی مکان لگتا ہے‘‘۔ مریدِ میر، رفیقِ حزن کہتا جا رہاہے: ’’مرا دیوان ہوتا جا رہا ہے، کہ غم آسان ہوتا جا رہا ہے‘‘۔ ہو سکتا ہے بعض اصحاب کو اس سے اتفاق نہ ہو کہ شعروسخن کے دیپ ، خونِ جگر سے جلتے ہیں اور خونِ جگر ’’روحِ غم‘‘ ہے۔ کم از کم راقم کی نظر میں تو پر مسرت لمحوں کی اچھل کود ، ہوا کے اس...

نائن الیون کمیشن رپورٹ ۔ ایک امریکی مسلم تنظیم کے تاثرات کا جائزہ

نائن الیون کے افسوس ناک واقعہ کی تفصیلات، محرکات اورمستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے، تشکیل دیے گئے امریکہ کے نیشنل کمیشن کی تیرہ ابواب(۵۸۵ صفحات بشمول پیش لفظ ، ضمیمہ جات، نو ٹس وغیرہ ) پر مشتمل رپورٹ ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ کو منظرِ عام پر آنے کے بعد بحث و تمحیص کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کی تیاری میں بے شمار دستاویزات (2.5 ملین صفحات) سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کل اکتالیس( ۴۱) سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کا آن لائن ایڈیشن www.9-11commission.gov/report پر دستیاب ہے ۔ امریکی مسلمانوں نے بحیثیت امریکی شہری اس رپورٹ کی بابت اپنے تاثرات کا اظہار...

قربانی کی رسم کا نفسیاتی پہلو

قربانی کا تصور شاید اتنا ہی قدیم ہے جتنی انسان کی معلوم تاریخ ۔ تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں قربانی کی رسم موجود رہی ہے ۔ یہ رسم اپنے ظاہر میں متنوع ہونے کے باوجود کسی ایسے یکساں جذبے یا داخلی تحریک کی علامت ہے جو تمام انسانوں میں فطری طور پر موجود ہے۔ تاریخ کے صدیوں پر محیط سفر سے ان گنت مثالیں دینے کے بجائے ہم صرف اسی مثال پر اکتفا کریں گے کہ اہلِ روم دوسری پیونک جنگ تک دیوتاؤں کے حضور انسانوں کی قربانی پیش کیا کرتے تھے۔ قربانی کے اس سفاک مظہر کو معاشرے میں عمومی قبولیت حاصل تھی کیونکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کے ایک فطری داخلی جذبے کی...

جناب احمد البداوی کے خطاب کا ایک جائزہ

یکم اکتوبر ۲۰۰۴ کو وزیرِ اعظم ملائشیا جناب عبد اللہ احمد بداوی نے میگڈیلن کالج آکسفرڈ یونیورسٹی (برطانیہ ) کے آکسفرڈ مرکز برائے مطالعہ اسلامیات میں خطاب کیا۔ اس خطاب میں پیش کیے گئے نکات کی عمومی نوعیت شاید ہمارے لیے اس اعتبار سے اہم نہ ہو کہ یہ معمول کی باتیں ہیں اورہمارے ہاں زیرِ بحث آتی رہتی ہیں، لیکن جناب عبداللہ احمد بداوی کی فکر کا اظہار چونکہ ایک ایسے پلیٹ فارم پر ہو رہا تھا جو نہ صرف علومِ حاضرہ کے ایک مستند ادارے کی شاخِ زریں ہے بلکہ اس کی بین الاقوامی اہمیت بھی مسلّم ہے، اس لیے اس خطاب کی نوعیت، عمومیت کے دائرے سے باہر آجاتی ہے۔ خطاب...

یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا مسئلہ

۱۹۵۲ میں چھ ریاستوں ( بیلجیم، فرانس ، جرمنی ، اٹلی، لکسمبرگ اور نیدر لینڈ) سے جنم لینے والی یورپی یونین، ۱۹۷۳ میں پہلی توسیع ( ڈنمارک، آئر لینڈ، یو ۔کے)، ۱۹۸۱ میں دوسری توسیع (یونان)، ۱۹۸۶ میں تیسری توسیع (پرتگال ، سپین)، ۱۹۹۵ میں چوتھی توسیع (آسٹریا ، فن لینڈ اور سویڈن)، اور ۲۰۰۴ میں پانچویں توسیع (قبرص، چیک ری پبلک، اسٹونیا ، ہنگری، لیٹویا ، لیتھونیا، مالٹا ، پولینڈ، سلوویکیا اور سلووینیا) سے گزر کر ۲۰۰۷ میں چھٹی توسیع (بلغاریہ ، رومانیہ) سے ہمکنار ہوگی کہ بلغاریہ اور رومانیہ سے رکنیت کی بابت مذاکرات (Accession negotiations) ۲۰۰۰ سے شروع ہو چکے ہیں۔ ایشیا...

بین المذاہب کانفرنس : چند تاثرات

اس وقت کی دنیا میں بدامنی اور نا انصافی کا چال چلن ہے اور مختلف مفاداتی گروہ اپنے منفی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد ، جبر اور ظلم و ستم کی راہ اپناتے ہوئے ان مقا صد کے گرد الہیاتی تقدس کا لبادہ لپیٹ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کی دنیا میں مذہب کے نام پر تشدد اور ظلم وستم کے بڑھتے ہوئے اسی رجحان کو بھانپتے ہوئے مذہبی حلقوں نے مذہب کی اصل ا سپرٹ کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں قاری محمد حنیف جالندھری اور بشپ آف رائے ونڈ کی کاوشوں سے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کو نیشنل لائبریری اسلام آباد میں بین المذاہب کانفرنس برائے امن و عدل اجتماعی منعقد...

آئیے! اپنا کتبہ خود لکھیں

تمدنی زندگی کی گہما گہمی میں ہمارے پاس سوچ بچار کے لیے عموماً وقت نہیں ہوتا ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ویسے بھی غور و فکر کے تقریباً سبھی راستے مسدود کر دیے ہیں ۔ آخر معلومات کے سیلاب میں بہنے والوں کو توقف و ٹھہراؤ کی فرصت کہاں ! جدید عہد کی یہی بربریت ہے۔ ہر شخص کے پاس معلومات کا ڈھیر ہے اور تقریباً ہر شخص بے شعور ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا معلومات ، شعور و آگہی کا بدل ہو سکتی ہیں ؟ مثلاً لوگ جانتے ہیں کہ امریکی صدر کے لیے کم از کم ۳۵ سال کا ہونا ضروری ہے اور پاکستان میں ۱۹۷۳ کے دستور کے تحت صدر کی کم از کم عمر ۴۵ سال ہے۔ اسے ہم معلومات کے زمرے میں شمار...

شوق سفر تا حشر

سید افضل حسین مرحوم سے ناچیز کی براہ راست تو کوئی شناسائی نہیں لیکن ان کے فرزند سید وقار افضل سے نیاز مندی کے توسط سے مرحوم کی شخصیت سے واقفیت کا سلسلہ ضرور شروع ہوا ہے۔ جناب وقار افضل کی وضع داری اور ان کی گفتگو کاربط وضبط ہمیں کافی حد تک ان کے پدر محترم کا خاکہ فراہم کر دیتا ہے کہ بیٹا ایسا ہے تو مرحوم خود کیسے ہوں گے، لیکن ’’منزل آوارگاں‘‘کے منظر عام پر آنے سے ان کے شخصی خاکے کو تکمیل رنگ تو ملا ہی ہے، ہم جیسوں کے لیے بھی یقینا آسانی پیدا ہوگئی ہے۔ اس شعری مجموعے کا خالق شخص بلاشبہ ایسی نفسیات کا حامل ہے جس کے ہاں روایات اور تہذیبی اقدار...

دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت

معاشرے میں چھائی ہوئی ابتری کے پیشِ نظر ہمارے ہاں ایک جملے کی مقبولیت کا گراف مسلسل بلند ہوتا جا رہا ہے۔ وہ مقبولِ عام جملہ یہ ہے کہ ’’لوگ بے دین ہو گئے ہیں ‘‘۔ حالانکہ یہ بات صریحاً غلط ہے، کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ جس سوچ کو دین کا نام دیا جا رہا ہے، وہ دین نہیں ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ وہ دین کی فقط ایک جہت ہے۔ اسی کی وجہ سے معاشرتی ابتری بڑھ رہی ہے نہ یہ کہ بے دینی اس کا سبب ہے۔ راقم کی نظر میں ہمارے محترم علما جب بھی دین کی بات کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں حقیقتاً ’’ فقہ‘‘ ہوتی ہے اور فقہ کی بھی جزئیات (۱) یہ ایک عظیم فروگزاشت ہے جو تسلسل سے ہو...
1-50 (78) >