خاطرات

محمد عمار خان ناصر

عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف

دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے متعلق عام طور پر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ وہ جدید علوم سے واقفیت حاصل نہیں کرتے اور نتیجتاً دور جدید کے ذہنی مزاج اور عصری تقاضوں کے ادراک سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن میرے نزدیک اس طبقے کا زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ خود اپنی علمی روایت، وسیع علمی ذخیرے اور اپنے اسلاف کی آرا وافکار اور متنوع تحقیقی رجحانات سے بھی نابلد ہے۔ اس علمی تنگ دامنی کے نتیجے میں ا س طبقے میں جو ذہنی رویہ پیدا ہوتا ہے، وہ بڑا دلچسپ اور عجیب ہے۔ یہ حضرات اپنے محدود علمی ماحول میں جو باتیں سنتے اور مطالعے کے لیے اپنے اساتذہ کی طرف سے بڑی احتیاط سے منتخب کردہ کتب میں جو چیزیں پڑھتے ہیں، اس کے علاوہ انھیں ہر چیز گمراہی اور بے راہ روی محسوس ہوتی ہے اور یہ غیر شعوری طو رپر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی باقاعدہ ذہن سازی کی جاتی ہے۔ میرا بارہا کا تجربہ ہے کہ کوئی علمی بات یا نکتہ اس ماحول کے تربیت یافتہ حضرات کے سامنے پیش کیا جائے تو پہلے کہیں پڑھا یا سنا نہ ہونے کی وجہ سے ان کا فوری تاثر یہ ہوتا ہے کہ یہ تو اکابر سے ہٹ کر دین میں ایک ’’نئی بات‘‘ کہی جا رہی ہے اور اگر معاملہ ذرا حساسیت کا حامل ہو تو فوراً اس پر گمراہی اور ضلالت کے فتوے بھی لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس امکان کی طرف ان کا ذہن متوجہ ہی نہیں ہوتا کہ ایسی کسی بات پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے پہلے ماضی کے علمی ذخیرے کی مراجعت کرتے ہوئے اس بات کی تحقیق کر لی جائے کہ ہم نے جو بات اب تک پڑھ یا سن رکھی ہے، اس سے مختلف بھی کوئی رائے اس ذخیرے میں ملتی ہے یا نہیں۔ یوں یہ حضرات اپنے ارد گرد کے چند گنے چنے اکابر سے سنی ہوئی باتوں کو ہی علم کی کل کائنات سمجھتے اور کوئی بھی نئی بات سامنے آنے پر، اپنے اپنے حوصلے اور وسعت دَہن کے مطابق، اس پر گمراہی، تحریف اور تاویل باطل وغیرہ کے فتوے جڑنے میں ذرا جھجھک محسوس نہیں کرتے۔

اس علمی اُتھلے پن کی ایک دلچسپ مثال راقم الحروف پر کی جانے والی بعض حالیہ تنقیدوں میں سامنے آئی ہے۔ میں نے کافی عرصہ قبل مسجد اقصیٰ کی بحث کے ضمن میں عہد نبوی کی دعوتی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا کہ:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی میں تدبیری لحاظ سے بھی ایسی حکمت عملی اختیار فرمائی کہ اہل کتاب میں مسلمانوں کے ساتھ قرب و اشتراک کا احساس پیدا ہو اور انبیاے بنی اسرائیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مابین اتحاد اور یگانگت کے پہلو اجاگر ہو جائیں۔ ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تدبیری کوششوں کی وجہ سے اہل کتاب کو تعصبات اور نفسیاتی الجھنوں سے صاف ماحول میں پوری ذہنی آزادی کے ساتھ آپ کی دعوت کو سمجھنے کا موقع ملا اور آپ کے دعواے نبوت کی حقانیت ان پر پوری طرح واضح ہو گئی، چنانچہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، البتہ وہ آپ کو صرف بنی اسماعیل کا نبی قرار دیتے ہوئے خود کو آپ پر ایمان لانے کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے تھے۔‘‘ (براہین ص ۳۸۶، ۳۹۸)

اقتباس کے آخری خط کشیدہ جملے کے ماخذ کے طور پر راقم نے سورۂ بقرہ کی آیات ۷۶ اور ۹۱ کا حوالہ دیا ہے۔ یہ آیات، بالترتیب، حسب ذیل ہیں:

وَإِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا، وَإِذَا خَلاَ بَعْضُہُمْ إِلَیَ بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَہُم بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْْکُمْ لِیُحَآجُّوکُم بِہِ عِندَ رَبِّکُمْ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
’’اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لائے۔ اور جب باہم تنہا ہوتے ہیں تو (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ کیا تم ان لوگوں کو وہ باتیں بتا دیتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ یہ اس کے ذریعے سے تمھارے رب کے ہاں تمھارے خلاف حجت پیش کر سکیں؟ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘
وَإِذَا قِیْلَ لَہُمْ آمِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا وَیَکْفُرونَ بِمَا وَرَاءَ ہُ
’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر اتارا گیا اور اس کے علاوہ (اللہ کے اتارے ہوئے باقی کلام) کا انکار کر دیتے ہیں۔‘‘

گویا میری رائے میں مذکورہ دونوں آیتوں میں یہود کے کسی منافق گروہ کا نہیں، بلکہ اس مخصوص گروہ کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا نبی تسلیم کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کر کے خود کو آپ کی پیروی سے مستثنیٰ قرار دیتا تھا کہ آپ کی بعثت خاص طور عرب کے امیوں کی طرف ہوئی ہے، جبکہ یہود تورات کی پیروی کو چھوڑ کر آپ پر ایمان لانے کے مکلف نہیں ہیں۔ پہلی آیت میں ’قَالُوا آمَنَّا‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہود کا یہ گروہ مسلمانوں کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، اللہ کا رسول ہونے کا اقرار کرتا تھا جس پر اسے اپنے ہم مذہبوں کی طرف سے زجر وتوبیخ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جبکہ دوسری آیت میں ’نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا‘ کا جملہ اس گروہ کے اس استدلال کو واضح کرتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہوئے خود کو صرف تورات کی اتباع کا مکلف تصور کرتے اور اس سے ہٹ کر قرآن مجید کی اتباع قبول کرنے کا پابند نہیں سمجھتے تھے۔

میری اس رائے پر نقد کرتے ہوئے ایک تو اس کو یہ مفہوم پہنایا گیا ہے کہ جیسے میں یہود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار وتکذیب کے جرم سے بری ثابت کرنے اور یوں ان کی ایک خوبی اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، حالانکہ اوپر نقل کردہ اقتباس سے صاف واضح ہے کہ یہاں مقصود یہود کی کوئی خوبی یا ان کی ایمان داری کا وصف بیان کرنا نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی حکمت عملی کا یہ پہلو اجاگر کرنا مقصود ہے کہ آپ نے حق بات کو اپنے مخاطبین تک پہنچانے اور ان پر اتمام حجت کرنے کا ایسا حکیمانہ اسلوب اختیار کیا کہ اس کے نتیجے میں یہود کے ایک گروہ کے لیے آپ کی صریح تکذیب ممکن نہ رہی اور انھیں یہ تسلیم کرتے ہی بنی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ 

بہرحال، اس اقتباس میں کہی گئی یہ بات کہ عہد رسالت کے بعض یہود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسماعیل کی طرف اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہوئے خود کو آپ کی اتباع سے مستثنیٰ تصور کرتا تھا، صاحب تنقید کے لیے ایک نئی بات ہے اور اتنی نئی ہے کہ اس کے لیے انھیں ’’تحریف‘‘ سے کم تر کوئی عنوان نہیں سوجھا۔ ملاحظہ فرمائیں:

’’احقر نے جب وہ آیت کھولی جس سے خان صاحب نے یہ استدلال کیا تو وہ حزن انگیز انکشاف ہوا جس کا اوپر تذکرہ ہوا۔ میں تسلیم نہیں کرسکتا کہ کوئی بھی صاحب علم بقائمی ہوش وحواس اس آیت کا یہ متضاد ترین مطلب لے سکتا ہے۔ یہ یقیناً ’’یحرّفون الکلم عن مواضعہ‘‘والی برادری کا کارنامہ ہے۔ آپ بھی یہ آیت پڑھیے جس میں قرآن کریم یہود کے کفرونفاق پر حجت قائم کررہا ہے اور برملا اطلاع دے رہا ہے کہ ان کا ایمان کا دعویٰ خالص فریب ونفاق ہے اور خان صاحب اسی آیت سے یہ ثابت کررہے ہیں کہ یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تھے۔‘‘ (’’بولتے نقشے‘‘، ہفت روزہ ضرب مومن، ؟؟ اپریل ۲۰۱۳ء)

دوسری آیت کے حوالے سے فرمایا گیا ہے:

’’قرآن پاک کی یہ آیت بھی۔۔۔ جس سے خان صاحب نے قارئین کو یہ باور کرانا چاہا کہ یہود آپ کو نبی سمجھتے تھے لیکن صرف بنی اسماعیل کا۔۔۔ یہود کے کفر کی صریح گواہی دے رہی ہے اور صاف بتارہی ہے کہ وہ نہ بنی اسماعیل میں آنے والے نبی کو مانتے ہیں نہ بنی اسرائیل میں آنے والے انبیائے کرام کو، ورنہ انہیں قتل کیوں کرتے؟ گویا قرآن پاک کی جو آیت یہود کے جس دعوے کی تردید دلائل کے ساتھ کررہی ہے، خان صاحب اسی دعویٰ کی تصدیق اسی آیت سے کرنے کی سعی فرمارہے ہیں۔‘‘ (ایضاً)

یہاں دو نکتے توضیح طلب ہیں:

ایک یہ کہ کیا عہد رسالت میں یہود کا کوئی ایسا گروہ موجود تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تو تسلیم کرتا ہو، لیکن خود کو آپ پر ایمان لانے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہو؟ 

دوسرا یہ کہ کیا سورۂ بقرہ کی محولہ بالا آیات میں اسی گروہ کی طرف اشارہ ہے؟

اگر صاحب تنقید ان دونوں نکتوں کی تحقیق کے لیے نادر ونایاب مآخذ کی نہیں، بلکہ صرف تفسیر طبری اور صحیح بخاری کی مراجعت کر لیتے تو اس علمی نکتے سے ان کی ذہنی اجنبیت کم سے کم اتنی نہ رہتی کہ وہ اس پر چھوٹتے ہی ’’تحریف‘‘ کا الزام عائد کر دیں۔ 

صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد یہودی سے (جو اس وقت تک اسلام نہیں لایا تھا) یہ پوچھا کہ کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ جواب میں ابن صیاد نے کہا:

اشہد انک رسول الامیین (بخاری، رقم ۵۸۲۱) 
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں۔‘‘

اس کی شرح میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:

فیہ اشعار بان الیہود الذین کان ابن صیاد منہم کانوا معترفین ببعثۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، لکن یدعون انہا مخصوصۃ بالعرب (فتح الباری، ۶/۱۱۹)
’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی، جن سے ابن صیاد کا تعلق تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کا اعتراف کرتے تھے، لیکن ساتھ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ آپ کی نبوت اہل عرب کے ساتھ مخصوص ہے۔‘‘

جہاں تک قرآن مجید کی مذکورہ آیات میں اس گروہ کی طرف اشارے کا تعلق ہے تو اگرچہ مفسرین نے عام طور پر ’قالوا آمنا‘ کو یہود میں سے ایک منافق گروہ کا مقولہ قرار دیا ہے جو اہل ایمان کو دھوکہ دینے کے لیے ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعتراف کر لیتا تھا، لیکن امام طبری نے اسی آیت کی ایک دوسری تفسیر کے طور پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا درج ذیل قول بھی نقل کیا ہے:

عن ابن عباس: و اذا لقوا الذین آمنوا قالوا آمنا ای بصاحبکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولکنہ الیکم خاصۃ (طبری، سورۃ البقرۃ، آیت ۷۶)
’’ابن عباس سے و اذا لقوا الذین آمنوا کی تفسیر یہ مروی ہے کہ یہودی یہ کہتے تھے کہ ہم تمھارے صاحب، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں (یعنی انھیں نبی تسلیم کرتے ہیں)، لیکن ان کی بعثت خاص طور پر تمھاری (یعنی اہل عرب کی) طرف ہوئی ہے۔‘‘

میری طالب علمانہ رائے میں بقرہ کی آیت ۹۱ میں ’نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا وَیَکْفُرونَ بِمَا وَرَاءَہُ‘ کے الفاظ بھی اسی گروہ کے موقف کو بیان کرتے ہیں، نہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مطلقاً انکار کرنے والے یہود کے موقف کو۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں آمِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ کے الفاظ سے انھیں قرآن مجید سمیت اللہ کی تمام کتابوں پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے جواب میں ’نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا‘ کا جملہ اسی صورت میں موزوں ہو سکتا ہے جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا بالکلیہ انکار نہ کرتے ہوں، کیونکہ اگر وہ قرآن مجید کو سرے سے اللہ کا نازل کردہ کلام ہی تسلیم نہ کرتے تو یہ کہتے کہ ہم تو اللہ کے اتارے ہوئے ہر کلام پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن چونکہ قرآن منزل من اللہ نہیں ہے، اس لیے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اس کے بجائے ان کا یہ کہنا کہ ہم تو بس اپنی طرف نازل کردہ کلام پر ایمان لاتے ہیں، میری ناقص رائے میں یہ مفہوم رکھتا ہے کہ اللہ کے اتارے ہوئے ہر کلام کی پیروی ہم پر لازم نہیں، بلکہ ہم صرف اس کلام یعنی تورات کی اتباع کے پابند ہیں جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم


امیر عبد القادر الجزائری: شخصیت وکردار کا معروضی مطالعہ 

کچھ عرصہ قبل راقم الحروف نے انیسویں صدی میں الجزائر کے عظیم مجاہد آزادی، عالم اور صوفی، امیر عبد القادر علیہ الرحمہ کی شخصیت کو اردو دان قارئین کے ہاں متعارف کروانے کے لیے جان کائزر کی کتاب کے اردو ترجمے کی اشاعت کے حوالے سے جو قدم اٹھایا تھا، بحمد اللہ اس کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور نہ صرف یہ کہ قارئین کا ایک بہت بڑا حلقہ، جو اس سے قبل ان کا نام بھی نہیں جانتا تھا، ان کی شخصیت سے فی الجملہ متعارف ہو چکا ہے، بلکہ ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے اور ان کے تاریخی کردار سے زیادہ گہری آگاہی حاصل کی خواہش بھی بڑے پیمانے پر پیدا ہو چکی ہے۔ خدا کا کرنا یہ ہے کہ اس تعارف کو وسیع پیمانے پر عام کرنے اور الجزائری کے متعلق تحقیق وتجسس کے جذبے کو ابھارنے میں بے حد اہم کردار حال میں سامنے آنے والی بعض ایسی معاندانہ تحریریں ادا کر رہی ہیں جن میں الزام تراشی اور افترا پردازی کی صلاحیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے الجزائری کی شخصیت کو مجروح کرنے اور ایڑی چوٹی کا زور لگا کر انھیں تاریخ کا ایک یکسر ناقابل اعتنا اور بے وقعت کردار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

جہاں تک الجزائری کی شخصیت، افکار ونظریات اور تاریخی کردار کے مختلف پہلوؤں کے تنقیدی جائزے کا سوال ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی ضرورت واہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ چیز تاریخی شخصیات کے مطالعے کے عمل کا ایک ناگزیر حصہ ہے اور خود راقم الحروف نے الجزائری کے تصور جہاد کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے اور ان کے طرز جدوجہد کو اسلام کی معیاری تعلیمات کا نمونہ قرار دیتے ہوئے بہت سوچ سمجھ کر اور بہ تکرار ’’بڑی حد تک‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض پہلو ایسے بھی ہیں جن پر میں خود اطمینان محسوس نہیں کرتا اور کسی مثبت اور مناسب علمی فضا میں گفتگو ہو رہی ہو تو مجھے ان پہلوؤں کی نشان دہی میں بھی کوئی جھجھک نہیں ہوگی۔ تاہم زیر بحث تنقیدیں الجزائری کی شخصیت کے موضوعی مطالعے یا غیر جانب دارانہ ومنصفانہ تجزیے کے جذبے سے پیدا نہیں ہوئیں۔ ان کا واحد محرک یہ خوف ہے کہ ہمارے ہاں ایک خاص جذباتی فضا میں ایک مخصوص طبقے کی طرف سے جن حضرات کوشخصیت وکردار کی ذاتی بلندی کے بجائے اصلاً امریکہ دشمنی کے جذبات کے زیر اثر جہادی ہیروؤں کا درجہ دے دیا گیا ہے، ان کا قد الجزائری کی شخصیت کے سامنے بے حد پستہ دکھائی دینے لگے گا اور جہادی مساعی کا کوئی بھی ایسا نمونہ سامنے آنے سے جس میں اولو العزمی کے ساتھ ساتھ حکمت وفراست، معروضی حالات کے فہم اور جنگی اخلاقیات کی پاس داری کے اصول نمایاں ہوتے ہوں، جہاد کے اس مسخ شدہ تصور پر زد پڑے گی جو اول وآخر سطحیت اور جذباتیت سے عبارت ہے اور قدم قدم پر شرعی اصولوں اور اعلیٰ انسانی اخلاق وکردار کی پامالی کے ناقابل دفاع نمونے پیش کرتا ہے۔

جو طبقہ اس وقت الجزائری کی داستان سے سامنے آنے والے تصور جہاد سے نفور محسوس کر رہا ہے، اس کی ذہنی ونفسیاتی ساخت کو سمجھنے کے لیے اس تصور جہاد کو سامنے رکھنا ضروری ہے جس سے یہ طبقہ مانوس ہے اور اس سے ہٹ کر جہاد کے کسی تصور میں اپنے غصے اور انتقام کے جذبات کی تسکین کا سامان نہیں پاتا۔ اس تصور جہاد کے نمایاں خط وخال یہ ہیں: مسلمانوں کی ایک ریاست میں بیٹھ کر وہاں کے ارباب حل وعقد کی اجازت اور رضامندی کے بغیر ایک غیر مسلم ملک کے خلاف عسکری کارروائیاں کرنا، دشمن کی فوجی طاقت کو ہدف بنانے کی صلاحیت کے فقدان کا بدلہ دشمن کی عام آبادی کو نشانہ بنا کر لینا اور اس کے لیے احمقانہ شرعی جواز گھڑنا، چند برخود غلط جہادی نظریہ سازوں کا اپنی ذات کو لاکھوں مسلمانوں کی جان ومال سے زیادہ اہم سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کرنے کے بجائے پوری کی پوری قوم کو جنگ کے بے پناہ مصائب وآلام کا شکار بنا دینا، عالمی طاقتوں کو اس ملک پر حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کرنے کے بعد اپنے غیور میزبانوں کے ساتھ میدان جنگ میں ٹھہرنے اور ان کے شانہ بشانہ دشمن سے لڑنے کے بجائے وہاں سے فرار ہو کر ایک پڑوسی ملک میں پناہ لے لینا اور اس طرح اپنے وجود نامسعود سے اس ملک کے عوام اور فوج کو بھی جنگ کے شعلوں کی نذر کر دینا، پھر اپنی اور اپنے ہم نوا عناصر کی موجودگی کے خلاف اس ملک کی افواج کی طرف سے مجبوراً فوجی آپریشن کیے جانے پر پوری فوج کو مرتد قرار دینا اور اس بنیاد پر وہاں کے عوام کو اپنی ہی فوج کے خلاف برسر پیکار کر دینا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دو مسلمان ملکوں میں قتل وغارت اور فساد کی یہ ساری آگ لگانے کے بعد خود ’’شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن‘‘ کی تصویر بن کر بیوی بچوں سمیت کسی پرفضا مقام کی خفیہ سکونت اختیار کر لینا۔

ظاہر ہے کہ اس فکری واخلاقی سطح کے تصور جہاد سے متاثر کوئی ذہن اگر الجزائری یا ان جیسی کسی دوسری شخصیت پر تنقید کا بیڑہ اٹھائے گا تو یہ توقع رکھنا کہ وہ تنقید تاریخی شخصیات کے معروضی مطالعے کے اصول وقوانین اور علمی اخلاقیات پر مبنی ہوگی، محض ایک بے کار توقع ہوگی۔ ایسے ذہن سے اگر توقع کی جا سکتی ہے تو اسی طرز تنقید کی جس کا نمونہ ہمیں الجزائری سے متعلق زیر بحث تنقیدوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثلاً یہ کہ الجزائری ایک عیاش اور بد کردار انسان تھے جنھوں نے نہ صرف اپنے حرم میں چار سے زیادہ بیویاں رکھی ہوئی تھیں، بلکہ اخلاق باختہ اور آوارہ مغربی عورتوں کے ساتھ بھی ناجائز تعلقات میں ملوث تھے، یہ کہ وہ دراصل ایک یہودی گماشتہ تھے اور ان کی ساری جدوجہد اسی وابستگی سے متاثر اور اسی وفاداری کا عکاسی کرتی ہے اور یہ کہ انھوں نے جدوجہد کے آخری مرحلے میں فرانس کے مقابلے میں شکست تسلیم کرتے ہوئے باقی زندگی کے لیے فرانس کی شہریت اور وفاداری اختیار کر کے الجزائر کی جدوجہد آزادی کے ساتھ ’’غداری‘‘ کی (اور گویا یہ الجزائری قوم کی نری کم عقلی ہے کہ وہ انھیں اپنا قومی ہیرو تصور کرتی ہے، انھیں جدید الجزائر کا بانی قرار دیا جاتا ہے، الجزائر کی حکومت بڑے فخر کے ساتھ ان کا تعارف قیدیوں کے حقوق سے متعلق جدید بین الاقوامی قوانین کے پیش رَو کے طور پر کراتی ہے، اقوام متحدہ میں الجزائر کا سفارتی مشن ان کی حیات وخدمات کے تعارف کے لیے عالمی نمائش منعقد کرتا ہے، حکومت الجزائر کے تحت امیر کی حیات سے متعلق ایک تاریخی فلم کی تیاری کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے، صدر الجزائر کی زیر نگرانی بین الاقوامی انسانی قانون کے میدان میں امیر کی خدمات کے تعارف کے لیے ایک مستقل ویب سائٹ http://emirabdelkaderdih.com/ قائم ہے اور الجزائر کی وزارۃ التعلیم العالی کے زیر انتظام قسنطینہ میں ان کی یاد میں ایک مستقل یونیورسٹی ’’جامعۃ الامیر عبد القاد ر للعلوم الاسلامیۃ‘‘ کے نام سے کام کر رہی ہے)۔ 

الزامات کی اس فہرست میں جو تازہ اضافہ کیا گیا ہے، وہ بھی اسی طرز فکر کا عکاس ہے۔ الجزائری کے تصور جہاد کا ذکر کرتے ہوئے جان کائزر نے اپنی کتاب میں ان کے اور ان کے ساتھیوں کے اس جرات مندانہ کردار پر روشنی ڈالی ہے جو انھوں نے ۱۸۶۰ء میں دمشق میں مسلم مسیحی فسادات کے موقع پر ہزاروں بے گناہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے مشتعل ہجوم سے بچانے کے لیے ادا کیا تھا۔ اس واقعے میں امیر کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ امیر عبد القادر نے جن مسیحیوں کو بچانے کی کوشش کی، وہ ’’جزیہ‘‘ کی ادائیگی سے انکار کرنے کی وجہ سے ’’باغی‘‘ تھے (اور گویا مسلمانوں کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں اجتماعی قتل کے پورے پورے حق دار تھے)، جبکہ الجزائری نے ان کے دفاع کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ بالکل غلط تھا اور اس سے الجزائری کے، مغربی طاقتوں کا آلہ کار ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے: 

’’موصوف کا تیسرا کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے کافروں کے خلاف جہاد نہ کرنے کا عہد کر لینے کے بعد ’’کافروں کے دفاع میں جہاد‘‘ شروع کر دیا تھا اور یہی وہ چیز ہے جو آج کل عالمی غاصب مغربی طاقتیں چاہتی ہیں۔ ۔۔۔ شام کے عیسائیوں کے پیچھے (غزوۂ تبوک کے پس منظر کی طرح آج بھی) یورپی طاقتیں تھیں اور ترک حکمران عیسائیوں کو ان کی سرکشی کی سزا دینا چاہتے تھے۔ ان دنوں میں ممدوح موصوف نے بالکل ویسے ہی عیسائیوں کے تحفظ کے لیے بے مثال خدمات پیش کیں جیسے برصغیر میں ۱۸۵۷ء کے جہاد آزادی کے دوران انگریزوں کے تحفظ کے لیے ڈپٹی نذیر احمد دہلوی نے پیش کی تھیں۔‘‘ (’’بولتے نقشے‘‘، ہفت روزہ ضرب مومن، ۹ ؍مئی ۲۰۱۳ء)

میں یہاں اس حوالے سے کوئی شرعی وفقہی اور قانونی بحث نہیں اٹھاؤں گا کہ کیا مسیحیوں کی طرف سے ٹیکس کی ادائیگی سے انکار فی الواقع کسی ایسی ’’بغاوت‘‘ کا حکم رکھتا تھا جس پر انھیں قتل کر دینا شرعاً جائز ہو یا یہ کہ ان ’’باغیوں‘‘ کو سزا دینے کا فیصلہ ترک حکام کی طرف سے قانونی اور سرکاری سطح پر کیا گیا تھا جس کی راہ میں امیر عبد القادر بلا وجہ رکاوٹ بن گئے یا، اس کے برعکس، عوام کا ایک مشتعل ہجوم خون کی ہولی کھیلنا چاہتا تھا جسے روکنے کے لیے امیر نے نہایت ذمہ دارانہ کردار ادا کیا یا پھر یہ کہ ’’باغیوں‘‘ کو سزا دیتے ہوئے بلا امتیاز عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور راہبوں تک کو قتل کر دینا آخر کس شریعت کی رو سے جائز ہے جو اس موقع پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔ میں یہ سب سوالات اس لیے نہیں اٹھاؤں گا کہ جو ذہن اس وقت مخاطب ہے، اس کے ہاں اس طرح کے سوالات کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس کی نظر میں واحد قابل لحاظ نکتہ یہ ہے کہ اس کشمکش میں ایک طرف مسیحی تھے جن کی پشت پناہی مغربی طاقتیں کر رہی تھیں اور دوسری طرف مسلمان تھے جو سیاسی وقانونی حقوق کے ضمن میں مسیحیوں کے بڑھتے ہوئے مطالبات پر نالاں تھے، اس لیے اس ذہن کے نزدیک اسلامی غیرت وحمیت کا تقاضا اس کے علاوہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ مسلمان جس طریقے سے بھی ان سرکش مسیحیوں کو ’’ٹھیک‘‘ کرنا چاہتے، امیر عبدالقادر ان کا ساتھ دیتے اور ہزاروں مسیحیوں کا قتل عام کر کے اسلام کی سربلندی کی ایک درخشاں مثال قائم کر دیتے۔

مذکورہ سوالات کو رکھیے ایک طرف اور یہ دیکھیے کہ مذکورہ صورت حال میں امیر کے موقف اور کردار کو واضح کرنے کے لیے علمی دیانت کا کس درجے میں اہتمام گیا ہے۔ کائزر نے متعلقہ باب میں جہاں مسیحیوں کو قتل وغارت سے بچانے کے لیے امیر کے جرات مندانہ کردار کا ذکر کیا ہے، وہاں یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ان کی طرف سے ٹیکس دینے سے انکار کو درست نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے قابل تعزیر جرم تصور کرتے تھے، البتہ انھیں اس طریقے سے اختلاف تھا جو احمق اور عاقبت نا اندیش ترک حکام مسلمان عوام کو مشتعل کر کے ان کے ہاتھوں مسیحیوں کے قتل عام کی صورت میں تجویز کر رہے تھے۔ یہ سطور ملاحظہ کیجیے:

’’عبدالقادر کی نظر میں قانون بالکل واضح تھا۔ عیسائی باشندے حفظ وامان میں لیے گئے لوگ تھے، لیکن وہ بہر حال قانون کا احترام کرنے کے پابند تھے۔ قانون کی نافرمانی کے معاملے میں وہ غلطی پر تھے۔ وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے تھے اور انہیں سزا ملنا ضروری تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں نے بھی اندھا دھند اور سفاکانہ طریقے سے انہیں ’’ٹھیک‘‘ کر کے غلط کیا۔۔۔۔ فرانسیسی ملاقاتی امیر کے منہ سے اس طرح کی سخت گیر باتیں سن کر بہت حیران ہوئے اور گمان غالب ہے کہ وہ ان نئی پیچیدگیوں سے آگاہ نہیں تھے جو ان اصلاحات سے پیدا ہوئی تھیں۔‘‘ (ص ۴۳۳)

چونکہ الجزائری کو اس واقعے میں مغربی طاقتوں کا آلہ کار ثابت کرنا مقصود ہے، اس لیے ان کا یہ پورا موقف دانستہ قارئین کے سامنے نہیں لایا جاتا اور قلم کار مطمئن ہے کہ آخر قارئین میں سے کون اتنا فارغ ہوگا جو اس کے لکھے پر اکتفا نہ کرتے ہوئے اپنے طو رپر بھی تحقیق کی ضرورت محسوس کرے۔ اسی طرز تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے قارئین کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ صرف یورپی دنیا تھی جس نے اس موقع پر امیر کے پر عظمت کردار کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ مجال ہے کہ قاری کو اس بات کی بھنک بھی پڑنے دی جائے کہ کائزر کی اسی کتاب میں الجزائری کے معاصر اور وسطی ایشیا کے عظیم مجاہد امام شامل کے اس خط کا اقتباس بھی نقل کیا گیا ہے جس میں انھوں نے اس واقعے میں الجزائری کے کردار کی تحسین اور مسلمانوں کے عمومی طرز عمل کی پرزور الفاظ میں مذمت کی تھی: 

’’شامل نے ان مسلمانوں کی مذمت کی جنھوں نے عیسائیوں کے ساتھ اتنا قابل نفرت رویہ اپنایا اور اپنے مذہب کو بدنام کیا: ’’میں ان حکام کی کور چشمی پر بھونچکا رہ گیا جنھوں نے ایسی زیادتیاں کیں اور اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث فراموش کردی کہ: ’’جس کسی نے بھی اپنے زیر امان رہنے والے کے ساتھ ناانصافی کی، جس کسی نے بھی اس کے خلاف کوئی غلط حرکت کی یا اس کی مرضی کے بغیر اس سے کوئی چیز لی، وہ جان لے کہ روز محشر میں خود اس کے خلاف مدعی بنوں گا۔‘‘آپ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا عملی نمونہ پیش کیا ہے ..... اور خود کو ان لوگوں سے الگ کر لیا ہے جو ان کے اسوے کو رد کرتے ہیں۔ ..... خدا آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے جو اس کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘‘ (ص ۴۲۷)

یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ الجزائری کے اس کردار کی تعریف میں امام شامل کی آواز کوئی تنہا آواز نہیں، بلکہ اسے گزشتہ ڈیڑھ صدیوں میں اسلامی وغیر اسلامی دنیا میں مسلمہ پذیرائی حاصل رہی ہے اور الجزائری کی حیات وخدمات پر گفتگو کرنے والا کوئی مسلم یا غیر مسلم قلم کار ان کے اس روشن کردار کی تعریف وتوصیف کیے بغیر آگے نہیں بڑھتا۔ مثلاً دیار عرب کی عظیم احیائی تحریک ’’الاخوان المسلمون‘‘ کی سرکاری ویب سائٹ پر جو انسائیکلوپیڈیا فراہم کیا گیا ہے، اس میں ’’اعلام الحرکۃ الاسلامیۃ‘‘ کے سلسلے کے تحت امیر عبدالقادر الجزائری کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور دمشق کے مسیحیوں کو قتل عام سے بچانے کے ضمن میں ان کی مساعی کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے:

’’اس شورش میں امیر عبد القادر کے اسلامی اور انسانی کردار کی بازگشت عالمی حلقوں میں سنائی دی اور دنیا بھر کے بادشاہوں اور عالمی ممالک کے سربراہوں کی طرف سے انھیں تمغوں اور نشانات اعزاز کے ساتھ شکریے کے خطوط موصول ہوئے۔ بڑے بڑے عالمی اخبارات نے ان کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے عالی اخلاق اور انسان دوست کردار کی تعریف کی۔ امیر کے، مسیحیوں کی حفاظت کا کارنامہ انجام دینے کا محرک محض اپنے دین کی تعلیمات کی پیروی تھا جو مسلمانوں پر ان کے ملک میں مقیم اہل ذمہ کی حفاظت کو لازم ٹھہراتا ہے۔ امیر عبد القادر دین کا گہرا فہم رکھتے، اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو جانتے اور اہل ذمہ کے حوالے سے مسلمانوں کی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف تھے، یعنی ان کو پرامن ماحول اور حفاظت مہیا کرنا اور ان کی جانوں، اموال، عزت وآبرو، عبادت گاہوں اور ہر اس چیز کی حفاظت کرنا جو معاہدۂ ذمہ میں طے کی گئی ہوں۔‘‘ 

(عبد_ القادر_ الجزائری=http://www.ikhwanwiki.com/index.php?title)

ہمارے ہاں پنجاب یونیورسٹی کا شائع کردہ ’’اردو دائرۂ معارف اسلامیہ‘‘ اسلام اور عالم اسلام کے حوالے سے ایک مستند علمی ماخذ کا درجہ رکھتا ہے۔ ’’عبد القادر بن محی الدین‘‘ کے عنوان کے تحت مذکورہ واقعے میں امیر عبد القادر کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے:

’’انھوں نے (اپنی نیک دلی اور عالی ظرفی) کا عملی ثبوت اس طرح پیش کیا کہ جب دروز قبائل عیسائیوں کا قتل عام کرنے پر کمربستہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے تو انھوں نے فرانسیسی قونصل کو ان کے پنجے سے نجات دلائی اور کئی ہزار اشخاص کی جان بچائی۔‘‘ (ج ۱۲، ص ۹۲۳)


الجزائری کی شخصیت وکردار کے ناقدانہ مطالعے کی یہ سطحی کوششیں، جیسا کہ میں نے واضح کیا، ایک منفی ذہن اور خوف کی نفسیات کی پیداوار ہیں، اس لیے ان میں معروضیت، دیانت یا توازن کی توقع کرنا بدیہی طو رپر بے کار ہے۔ ان کی جگہ تاریخ کا کوڑا دان (dust bin) ہے اور چند دنوں میں ان کا ’ہباء ا منثورا‘ ہو جانا نوشتہ دیوار۔ تاہم الجزائری کی داستان حیات کے سنجیدہ، معروضی اور متوازن تنقیدی مطالعات کی نہ صرف گنجائش بلکہ اہمیت وافادیت مسلم ہے اور حالیہ بحث ومباحثہ کے نتیجے میں سنجیدہ اہل فکر جس طرح اس موضوع کی طرف متوجہ ہوئے ہیں، اس سے مجھے مستقبل میں الجزائری کی شخصیت کے، تجزیہ وتنقید کے معروضی اصولوں کے تحت موضوع بحث بنائے جانے کے امکانات بہت روشن دکھائی دیتے ہیں۔ خود راقم الحروف کو اس موضوع پر مزید کام کرنے کی فرصت اور موقع میسر ہوا تو ان شاء اللہ میں بھی اپنا حصہ ضرور ڈالوں گا، تاہم اس موضوع کی طرف متوجہ ہونے والے دیگر اہل فکر کے سامنے چند گزارشات پیش کرنا اس مرحلے پر مناسب خیال کرتا ہوں۔

ایک یہ کہ کسی بھی شخصیت کے طرز فکر سے استفادہ کرنے اور اس کے کردار کی عظمت تسلیم کرنے کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ انسانی کردار کے ہر ہر پہلو کے لحاظ سے معصوم عن الخطا ہو اور اس کی داستان حیات میں کہیں بھی انگلی رکھنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ پیغمبروں کے علاوہ کسی بھی دوسرے انسان کی شخصیت کو عظمت کے اس معیار پر پرکھنے کی کوشش کسی بھی لحاظ سے دانش مندی یا قرین انصاف نہیں کہلا سکتی۔ عام انسانی شخصیات کے فکر اور کردار کے مطالعے کا درست طریقہ یہ ہے کہ انھیں خوبیوں اور خامیوں، کمالات اور نقائص، اور پختگی اور کمزوری، دونوں طرح کے عناصر کا مجموعہ سمجھا جائے اور کسی بھی شخصیت کے مقام ومرتبہ اور تاریخی کردار کا مجموعی وزن ان دونوں عناصر کے باہمی تناسب کی روشنی میں متعین کیا جائے۔ کسی شخصیت کو ہر طرح کی کمزوری اور خامی سے پاک دکھانا اور اس کی ہر ہر بات کے دفاع پر کمر کس لینا یا اس کے برعکس بعض ناہمواریوں کی بنا پر پوری شخصیت کو ناقابل اعتبار اور مجروح ٹھہرانا، یہ دونوں روشیں حقیقت پسندی اور معروضیت کے خلاف ہیں اور غیر متوازن طرز فکر کی نشان دہی کرتی ہیں۔

اس ضمن میں مثال کے طور پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ سیدنا خالد بن ولید کو خود زبان رسالت سے ’’سیف من سیوف اللہ‘‘ کا لقب عطا ہوا، جبکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر ان کے جنگی اقدامات سے یوں براءت ظاہر کی کہ ’اللہم انی ابرا الیک مما صنع خالد بن الولید‘ ،’’اے اللہ! خالد بن ولید نے جو کچھ کیا، میں اس سے تیرے سامنے براء ت ظاہر کرتا ہوں‘‘۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بنو جذیمہ کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجا۔ آپ نے انھیں ان کے خلاف جنگ کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن خالد بن ولید نے ان کی طرف سے ہتھیار ڈال دینے اور قبول اسلام پر آمادگی ظاہر کرنے کے باوجود انھیں باندھ کر قتل کر دیا۔ (صحیح بخاری، رقم ۶۷۶۶۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/۳۶۳)

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اسی نوعیت کے بعض دیگر اقدامات بھی تاریخ وسیرت کی کتابوں میں نقل ہوئے ہیں۔ (مثلاً مالک بن نویرہ کے قتل کا واقعہ۔ دیکھیے: ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ ۶/۳۲۲)

اب بڑا نادان ہوگا وہ شخص جو خالد بن ولید کی شخصیت کے اس پہلو کے پیش نظر ان کے اس عظیم مجاہدانہ کردار ہی کی نفی کر دے جو انھوں نے ’’سیف اللہ‘‘کی حیثیت سے اسلام کی سربلندی کے لیے انجام دیا اور اسلام کے ایک جلیل القدر ہیرو کے طور پر ان کی تعریف وتوصیف سن کر یہ اعتراض کرنے لگے کہ اچھا، تم ایسے شخص کو آئیڈیل بنا کر پیش کر رہے ہو جس کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں!!

میری دوسری گزارش یہ ہے کہ انسانی طبائع اس قدر گوناگوں، تاریخی حالات اس قدر رنگا رنگ اور انسانی فیصلوں کے لیے بنیاد بننے والے نفسیاتی و واقعاتی عوامل اور مذہبی واخلاقی اصول اس قدر متنوع ہیں کہ ہر طرح کے افراد کے لیے ہر طرح کے حالات میں اپنے لیے لائحہ عمل متعین کرنے کا کوئی یک رنگ معیار اور کوئی بے لچک ضابطہ وضع کرنا ممکن ہی نہیں۔ مثلاً دیکھیے، انبیائے بنی اسرائیل میں ہمیں سیدنا سلیمان علیہ السلام جیسی شاہانہ جلال اور شان وشکوہ رکھنے والی شخصیت بھی نظر آتی ہے جو قوم سبا کی ملکہ کی طرف سے بھیجے جانے والے قیمتی تحائف کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں اور ملکہ کے بذات خود میرے دربار میں حاضر ہونے سے کم تر کوئی بات قبول نہیں اور ان کی ایک دھمکی پر ملکہ سبا اپنی پوری کابینہ کے ساتھ ان کے دربار میں حاضر ہو جانے میں ہی عافیت محسوس کرتی ہے، جبکہ انھی انبیائے بنی اسرائیل میں سیدنا مسیح علیہ السلام بھی شامل ہیں جو اس دور میں پیدا ہوتے ہیں جب رومیوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی خود مختار حکومت کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا اور اس سوال کے جواب میں کہ کیا قیصر کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں، یہ فرما کر بنی اسرائیل کو رومی سلطنت کی اطاعت اور وفاداری کی تعلیم دیتے ہیں کہ ’’جو قیصر کا ہے، وہ قیصر کو اور جو خدا کا ہے، وہ خدا کو دو‘‘۔ بدیہی طور پر یہ حالات کا فرق ہے جو بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر کے لیے ایک طرح کے جبکہ اسی قوم کے ایک دوسرے پیغمبر کے لیے دوسری طرح کے طرز عمل کا جواز مہیا کرتا ہے۔

پھر یہ کہ کسی مخصوص صورت حال میں لائحہ عمل کی تعیین میں اذواق وطبائع اور زاویہ نگاہ کے فرق کے پیش نظر اجتہادی اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ میرے نزدیک تاریخی شخصیات اور ان کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس نکتے کی اہمیت غیر معمولی ہے اور اسے کسی حال میں نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔ مثلاً ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں برصغیر میں جہاں علماء کی ایک بہت بڑی جماعت انگریزی حکومت کے ساتھ مصالحانہ روش اختیار کرنے کے خلاف تھی، وہاں سرسید احمد خان جیسے حضرات بھی موجود تھے جنھوں نے انگریزی سرکار کی وفاداری کا دم بھرنے اور مسلمانوں کو بحیثیت قوم اس طرز فکر کی طرف مائل کرنے کو اپنا مقصد حیات قرار دے رکھا تھا۔ سرسید کے اس مسلک سے یقیناًسخت اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے ان کے مخالفین کی زبان طعن ہمیشہ ان پر دراز رہی ہے، تاہم مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:

’’سید احمد بڑے حوصلے کا آدمی تھا، مگر انھوں نے خواہ مخواہ دین میں ٹانگ اڑا کر اپنے آپ کو بدنام کیا، ورنہ ان کو تو لوگ دنیا کا تو ضرور ہی پیشوا بنا لیتے۔ بڑے محب قوم تھے۔ دین میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔ اسی سے نقصان ہوا۔ ....... یہ جو مشہور ہے کہ وہ انگریزوں کا خیر خواہ تھا، یہ غلط ہے بلکہ بڑا دانش مند تھا۔ یہ سمجھتا تھا کہ انگریز برسر حکومت ہیں۔ ان سے بگاڑ کر کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان سے مل کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت، ج ۱۱، ص ۲۶۷۔ ۲۶۹)

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرسید کے زاویہ نظر کی تائید کرنے والے حضرات خود علماء کی صفوں میں بھی موجود تھے۔ ذرا درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’اگر غور کر کے دیکھو تو فی الحقیقت جس زمانہ میں انگریز ہندوستان میں آتے ہیں، اس وقت اسلامی سلطنت ہندوستان میں برائے نام رہ چکی تھی اور پنجاب میں سکھوں کا نہایت تسلط ہو گیا تھا۔ اگر انگریز ان کا قلع قمع نہ کرتے تو آج تمام ہندوستان میں سکھوں کا ڈنکا بجتا۔ ان کا طرز حکومت جو کچھ تھا اور جو کچھ وہ اسلام اور اسلامیات کی مزاحمت کرتے تھے، وہ آپ سے مخفی نہیں۔ اگر خدا نخواستہ ہندوستان پر ان کی سلطنت ہو جاتی تو آج مسلمانوں سے بھنگیوں اور چماروں کی طرح بیگار لی جاتی۔ میرے خیال میں تو خدا کی رحمت مسلمانوں پر ہوئی کہ انگریز آئے اور انھوں نے سکھوں کا قلع قمع کیا اور ایک مہذب سلطنت قائم ہو گئی جس نے مذہب کی آزادی کو اپنا اولیں فرض قرار دیا۔ یہ تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے دماغ سلطنت کے قابل نہ رہے تھے اور اگر عام مسلمانوں نے کچھ قلیل سی کوشش کی بھی ، کیونکہ تقدیر موافق نہیں تھی، کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔‘‘

یہ اقتباس، جس میں انگریزی حکومت کو ’’خدا کی رحمت‘‘ قرار دیا گیا ہے، انگریزی تہذیب سے مرعوب کسی تجدد زدہ شخص کی تحریر سے نہیں، حلقہ دیوبند کے نامور محدث اور سنن ابی داود کے شارح مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کے ایک خط سے ماخوذ ہے۔ اس کا حوالہ دینے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ صورت حال کو سرسید کی نظر سے دیکھنے والے حضرات خود علماء کے اندر بھی موجود تھے اور اس زاویہ نظر کی تائید نہیں تو کم سے کم ان کی پوزیشن کو ہمدردی سے سمجھ کر انھیں ’’انگریز کا ایجنٹ‘‘ کہنے سے گریز کرنے والے تو تھے ہی، جیسا کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے سرسید مرحوم کے متعلق لکھا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ہر بات کا اپنا ایک محل ہوتا ہے اور وہ اپنے محل میں ہی اچھی لگتی اور جچتی ہے۔ پھر اس بات میں انسانی طبائع اور فہم کے لحاظ سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے کہ کون سا موقع غیرت وشجاعت اور عزم وہمت کے اظہار کا ہے اور کون سا حکمت اور تحمل سے کام لینے کا اور تدبیر سے زیادہ تقدیر پر بھروسہ کرنے کا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ جب تک کسی واضح اخلاقی وشرعی اصول کی پامالی کا مسئلہ نہ ہو، ہم لوگوں کے لیے اپنے اپنے حالات اور اپنے اپنے طبائع کے لحاظ سے اپنی حکمت عملی خود متعین کرنے کا حق تسلیم کریں اور خواہ خواہ اپنے آپ کو ’’حکم‘‘ کے منصب پر فائز کرنا ضروری نہ سمجھیں۔

تیسرا اور آخری نکتہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ الجزائری کی داستان حیات پر کائزر کی کتاب کوئی حرف آخر نہیں، بلکہ صرف ’’ایک‘‘ کاوش کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ کوئی بھی مصنف جب کسی شخصیت کی داستان حیات لکھتا ہے تو واقعات کی تحقیق اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں اپنے فکری پس منظر، ذاتی رجحانات وتعصبات اور پسند وناپسند سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ کائزر بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ وہ ایک مغربی اور مسیحی پس منظر رکھنے والے مصنف ہیں اور بنیادی طور پر یہ کتاب بھی مغربی قارئین کے فکر ومزاج کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ اس لحاظ سے ان کا الجزائری کی شخصیت اور طرز فکر میں ایسے پہلو تلاش کرنا اور انھیں اجاگر کرنے کی کوشش کرنا جو رواداری اور وسعت نظر کے مغربی انداز فکر کے قریب تر ہوں، بدیہی طور پر قابل فہم ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود سے الجزائری کی دلچسپی کے تناظر میں ان کے افکار سے یہ تاثر لیا ہے کہ وہ وحدت ادیان یعنی سارے مذاہب کے یکساں طور پر برحق ہونے کے نقطہ نظر کے قائل تھے۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک ایسا استنتاج ہے جس کی توثیق الجزائری کی اصل تحریرات اور افکار کی مراجعت کیے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اسی تناظر میں کائزر کی کتاب کے مقدمے میں اپنا اختلافی نوٹ ان الفاظ میں درج فرمایا ہے کہ:

’’امیر عبد القادر الجزائری کو شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کا پیروکار، ان کے علوم کا شارح اور ان کے فلسفہ وحدت الوجود کا قائل ہونے کی وجہ سے ان کے فکر کے ڈانڈے ’’وحدت ادیان‘‘ کے تصور سے ملانے کی کوشش کی گئی (جس کی جھلک جان کائزر کی زیر نظر کتاب میں بھی دکھائی دیتی ہے)، حالانکہ وحدت الوجود اور وحدت ادیان میں زمین وآسمان کا فرق ہے اور شیخ اکبرؒ کے نظریہ وحدت الوجود کا مطلب وحدت ادیان ہرگز نہیں ہے۔‘‘

اس نوعیت کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو اردو ترجمے پر نظر ثانی کرتے ہوئے مجھے کھٹکی تھیں، لیکن علمی دیانت داری کا تقاضا یہ تھا کہ کائزر نے الجزائری کی شخصیت کو جیسے سمجھا اور پیش کیا ہے، اسے اسی طرح رہنے دیا جائے اور اس میں اپنے خیالات کی آمیزش نہ کی جائے۔ مزید برآں اس نکتے کو بھی ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے کہ کائزر نے الجزائری کی داستان حیات کو ایک دلچسپ قصے یا یوں کہہ لیجیے کہ ناول کے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کے، بطور ایک ادبی صنف کے، اپنے کچھ تقاضے اور ضروریات ہوتی ہیں۔ ملتان سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’نقیب ختم نبوت‘‘ میں کائزر کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ کوئی مستند واقعاتی کتاب نہیں، بلکہ ایک ناول ہے۔ مجھے اس بات سے کلی اتفاق تو نہیں، لیکن اتنی بات میں نے بھی اپنی تعارفی تحریر میں لکھی ہے کہ یہ کتاب بحیثیت مجموعی مستند واقعات پر مبنی ہوتے ہوئے ’’کسی حد تک ناول کے انداز میں‘‘ لکھی گئی ہے۔ اب یہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے محققین کا کام ہے کہ وہ الجزائری کی داستان حیات کے اصل مآخذ سے رجوع کریں اور اپنی تحقیق کے نتائج قارئین کے سامنے لائیں کہ علم وتحقیق کی دنیا میں پڑھنے والوں کی درست تر نتائج تک راہ نمائی کا طریقہ یہی ہے۔

مجھے امید ہے کہ اگر امیر عبد القادر الجزائری یا کسی بھی تاریخی شخصیت کے طرز فکر اور کردار کا مطالعہ ان گزارشات کو ملحوظ رکھ کر کیا جائے گا تو مطالعے کے نتائج حقیقت پسندی اور معروضیت سے قریب تر ہوں گے اور اس سے ہمیں اس شخصیت کا ایک بہتر اور متوازن تجزیہ کرنے میں مدد ملے گی۔ 

آراء و افکار