توہین رسالت کی سزا: ایک اجتہادی و اختلافی مسئلہ

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

(۱۹۸۷ء تا ۱۹۹۰ء میں وفاقی شرعی عدالت میں توہین رسالت کی سزا پر بحث کے دوران میں عدالت کے فاضل مشیر جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے عدالت کے سامنے جو بیان دیا، اس کا ایک حصہ محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کی کتاب ’’ناموس رسول اور قانون توہین رسالت‘‘ کے شکریے کے ساتھ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


جہاں تک اس مسئلے میں مذاہب کے اختلاف کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں عرض ہے کہ جمہور کا مسلک تو وہی ہے جس کا اثبات ابن تیمیہ نے ’’الصارم المسلول‘‘ میں کیا ہے، تاہم اس میں کچھ اختلاف بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ راقم نے بھی اپنے مقالے میں اول الذکر نقطہ نظر کو زیادہ اہمیت دی ہے، لیکن کل کی بحث سن کر احساس ہوا کہ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ اسے بھی بیان کیا جائے کیونکہ اس دوسرے نقطہ نظر کا تقریباً انکار کر دیا گیا ہے۔

یہ اختلاف فقہاے احناف کا ہے جن کا مذہب یہ ہے کہ سب رسول کا مرتکب اگر مسلمان ہے تو اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اگر ذمی ہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نقض عہد نہیں ہوگا۔ (اس کے لیے ملاحظہ ہو ہدایہ، کتاب السیر، باب الجزیہ۔ فتح القدیر لابن الہمام، باب مذکور۔ الصارم المسلول ص ۳۰۲-۳۱۳۔ احکام اہل الذمۃ لابن القیم، ج ۲، ص ۸۱۰۔ المحلیٰ، آخری جلد، مسئلہ ۱۳۱۲، باب حکم من سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ فتح الباری، کتاب استتابۃ المرتدین، باب ۴، ص ۳۰۸، مطبوعہ مصطفی بابی الحلبی، ۱۹۵۹ء۔ عبارت فتح الباری: ان کان ذمیا عزر وان کان مسلما فہی ردتہ۔ نیل الاوطار ج ۷، آخری باب، طبع منیریہ مصر)

صحیح بخاری سے حنفی مذہب کی تائید

دلچسپ بات یہ ہے کہ حنفی مذہب میں ذمی کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا، اس کا اثبات ہدایہ میں علامہ ابن الہمام نے صحیح بخاری کی ان روایات سے کیا ہے جن میں آتا ہے کہ یہودی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیک کہنے کی بجائے السام علیک  کہتے اور انھی احادیث [سے] امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کسی مسلمان یا ذمی نے سب رسول کا ارتکاب صراحتاً نہیں بلکہ تعریضاً کیا ہے تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس باب سے امام بخاری اور فقہاے احناف نے یہ استدلال کیا ہے کہ سب رسول اگر صراحتاً نہیں، تعریضاً ہے تو اس کا مرتکب واجب القتل نہیں ہے۔ یہ مسلک دلائل کی رو سے کیسا ہے؟ اس پر بحث کی جا سکتی ہے، لیکن اس کا انکار علمی دیانت کے منافی ہے۔

جب اس مسئلے میں اختلاف ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس کو اتفاقی مسئلہ کیوں لکھا ہے، جیسا کہ امام شوکانی کے حوالے سے بھی گزر چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ جب زیادہ اہمیت کا حامل ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ اتفاقی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، حتیٰ کہ بعض دفعہ اختلافی نقطہ نظر کو بالکل نظر انداز کر کے اتفاق واجماع کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے اور جزوی اختلافات کا ذکر نہیں کیا جاتا، جیساکہ متعدد مثالیں اس کی کتب فقہ سے پیش کی جا سکتی ہیں۔ اور بعض دفعہ کسی فعل کی شناعت وقباحت کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنے کے لیے بھی ایسا کیا جاتا ہے۔ سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شناعت وقباحت تو محتاج بیان ہی نہیں۔ اسی کیفیت کو نمایاں کرنے کے لیے اختلاف کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ 

علاوہ ازیں جن علما نے یہ لکھا ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کر دیا جائے، اگر اس کو محمول کر لیا جائے اس شخص پر جو کنایتاً نہیں بلکہ سب صریح کا ارتکاب کرتا ہے، جس میں ظاہر ہے کہ اس کی نیت بالکل واضح ہے، اس لیے ایسے شخص کو من غیر استتابۃ قتل کر دیا جائے اور اس کے برعکس صورتوں میں توبہ کا موقع دیا جائے، یہ تطبیق کی ایسی صورت ہے کہ جس سے متعارض دلائل میں توافق وتطابق ہو جاتا ہے، کیونکہ راقم اب تک کی پوری بحث کی سماعت میں شریک رہا ہے اور وہ دیکھتا آ رہا ہے کہ متعارض دلائل کی رو سے فاضل عدالت کے ذہن میں ایک اشکال چلا آ رہا ہے جسے پورے زور بیان کے باوجود دور نہیں کیا جا سکا ہے اور وہ اشکال یہی ہے کہ بعض آیات وواقعات حدیث سے توبہ کا موقع دینے کا جواز نکلتا ہے اور بعض سے ا س کے برعکس ثبوت مہیا ہوتا ہے۔ تو کیوں نہ ان احادیث کو جن میں من غیر استتابۃ قتل کا ذکر ہے، سب صریح پر یا بار بار اس کا اعادہ کرنے والے پر محمول کر لیا جائے اور جن احادیث میں تعریضاً سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قتل کا حکم نہیں دیا گیا، وہاں دیگر دلائل شرعیہ کے اقتضا کے مطابق قصد ونیت کو بھی دیکھا جائے کہ ’انما الاعمال بالنیات‘ سے ٹکراؤ نہ رہے اور صفائی کا بھی پورا موقع دیا جائے اور محض واہمے اور مفروضے پر سزا سے اجتناب کیا جائے کہ یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ادرء وا الحدود عن المسلمین ما استطعتم فان وجدتم للمسلم مخرجا فخلوا سبیلہ فان الامام ان یخطئ فی العفو خیر من ان یخطئ فی العقوبۃ  (عن عائشۃ، الجامع الصغیر للسیوطی مع شرح فتاویٰ، ج ۱، ص ۲۱، طبع مصر، ۱۹۵۴ء، صححہ الحافظ السیوطی)

آراء و افکار