فقہ / اصول فقہ

فتوی و قضاء میں فرق اور مسئلہ طلاق میں بے احتیاطی

مفتی عبد اللہ ممتاز قاسمی سیتامڑھی

اللہ تعالی نے دین اسلام کو تاقیامت انسانوں کی رہنمائی کے لیے برپا کیا ہے، اس کے انفرادی، خاندانی، معاشرتی،ملکی اور سیاسی زندگی میں دائمی و آفاقی انتہائی منظم ومستحکم اصول موجود ہیں؛ لیکن بہت سی مرتبہ ہمارے ان اصولوں کے صحیح انطباق نہ کرسکنے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بہت سی خرابیاں رونما ہوتی ہیں؛ خصوصا رہنمایان دین وشریعت کی ذرا سی چوک امت میں سخت تباہی وبربادی کا ذریعہ بنتی ہے۔ دنیا کے اندر صدیوں تک اسلامی حکومت برپا رہی ہے اور مسلم حکام اپنی کوتاہیوں کے باوجود اپنے عدالتی نظام کو اسلامی آئین وضوابط کے تحت چلاتے رہے ہیں، خلافت...

افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم کے نظام کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاشرے میں شرعی احکام پر عملداری کا رجحان فروغ دینے کے لیے محنت و کاوش کے مختلف دائرے ہیں جن میں بعض تو حکومت و ریاست سے تعلق رکھتے ہیں مگر زیادہ تر کام وہ ہیں جو حکومت و ریاست کے عمل دخل کے بغیر آزادانہ طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ سارے کام حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے حصے کا کام بھول جاتے ہیں اور سوسائٹی میں دینی ماحول کے کمزور ہوتے چلے جانے کی ساری ذمہ داری سرکار پر ڈال دیتے...

جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۲)

مولانا محمد اشفاق

مذکورہ بالا افعال سے ممانعت کی علتیں فقہاء کی نظر میں: معروف مالکی فقیہ ''القرافی'' ابن رشد کی المقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: وسبب المنع في وصل الشعر وما معه التدليس والغرور قال صاحب المقدمات: تنبيه لم أر للفقهاء المالكية والشافعية وغيرهم في تعليل هذا الحديث إلا أنه تدليس علییى الأزواج ليكثر الصداق، ويشكل ذلك إذا كانوا عالمين به ، وبالوشم فإنه ليس فيه تدليس ، وما في الحديث من تغيير خلق الله لم أفهم معناه فإن التغيير للجمال غير منكر في الشرع كالختان وقص الظفر والشعر وصبغ الحناء وصبغ الشعر وغير ذلك۔ اور بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملانے...

جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۱)

مولانا محمد اشفاق

انسانی جسم میں بعض تصرفات خصوصاً عورتوں سے متعلقہ چند افعال سے احادیث ِ مبارکہ میں سختی سے منع کیا گیا ہے ،اور ان پر لعنت بھی کی گئی ہے ؛جیسے بالوں میں دوسرے بال ( وصل کرنا یا کروانا)لگوانا،جسم کو گودنا یا گدوانا( وشم)، ابرؤوں کو باریک کروانا( نمص) دانتوں کے درمیان فاصلہ کروانا( تفلیج) ۔ انھی میں جدید دور کے بعض جمالیاتی تصرفات کو بھی شامل کیا جاتاہے ،جیسے چہرے کی جھریوں کو ختم کرنے کےلیے یا اس طرح کے دوسرے مقاصد کےلیے سرجری کرواناوغیرہ ۔اس طرح کے افعال سے ممانعت کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس میں اللہ کی بنائی ہوئی جسمانی ساخت میں تبدیلی...

فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہج

محمد عمار خان ناصر

حدیث وسنت سے متعلق اسلامی فقہی روایت میں جو مباحث پیدا ہوئے، ان کے تناظر میں کسی بھی فقیہ یا فقہی مکتب فکر کے زاویہ نظر کو سمجھنے کے لیے تین بنیادی سوالات پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے: ایک یہ کہ سنت کی تشریعی حیثیت اور خاص طور پر اخبار آحاد سے متعلق اس کا موقف کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ اس مکتب فکر میں اخبار آحاد کی تحقیق وتنقید کے لیے کون سے اصول اور معیارات برتے گئے ہیں؟ اور تیسرا یہ کہ حدیث سے احکام کے استنباط اور ان کی تعبیر وتشریح کے ضمن اس کا منہج کیا ہے اور یہ علمی سرگرمی اس کے ہاں کون سے اصولی تصورات اور کن علمی قواعد کی روشنی میں انجام دی جاتی ہے۔...

جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے حوالے سے داعش کا استدلال

محمد عمار خان ناصر

دولت اسلامیہ (داعش) کے ترجمان جریدے ’دابق‘ کے ایک حالیہ شمارے میں جنگی قیدیوں کو غلام اور باندی بنانے کے حق میں لکھے جانے والے ایک مضمون میں یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ جس چیز کا جواز اللہ کی شریعت سے ثابت ہے، اس کو انسان تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس طرز استدلال کے حوالے سے معاصر اہل علم کے ہاں مختلف زاویہ ہائے نگاہ دکھائی دیتے ہیں جن پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا: جدید دور میں جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی ممانعت سے اتفاق کرنے والے مسلم فقہاءعموماً اس پابندی کا جواز “معاہدے” کے اصول پر ثابت کرتے ہیں۔ اس موقف کی رو سے غلامی اصلاً اخلاقی...

طلاق کا اسلامی تصور: اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد شہباز منج

اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے ، حال ہی میں اکٹھی تین طلاقوں پر سزا کی تایید کے حوالے سے طلاق کا مسئلہ ایک دفعہ پھر علمی حلقوں میں زیرِ بحث آیا ہے۔ طلاق کے بارے میں افراط و تفریط پر مبنی رویے بالعموم اس بنا پر سامنے آتے ہیں کہ لوگ اسلام میں طلاق کی حیثیت و مشروعیت اور اس سے متعلق فقہا کے مواقف کو اچھی طرح نہیں سمجھتے۔ راقم نے کچھ عرصہ قبل اس موضوع پر تفصیلی تحقیقی مطالعے کے دوران کچھ نوٹس لیے تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے زیرِ نظر فیصلے پر اپنے تاثرات سے قبل ،حوالوں کی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان نوٹس کو یہاں سادہ انداز...

جدید ریاست میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید ۔ بنیادی خدوخال اور طریق کار (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

بحث دوم : فقہ اسلامی اور تشکیل جدید کا متقاضی حصہ۔ فقہ اسلامی کی تشکیل جدید سے پہلے اس سوال کا جواب معلوم کرنا نہایت ضروری ہے کہ فقہ اسلامی کے کس حصے کی تشکیل جدید وقت کی ضرورت ہے اور کس قسم کے مسائل تجدید کا تقاضا کرتے ہیں ؟تجدید کے بنیادی خدوخال طے کرنے سے پہلے اگر محل ِتجدید کا تعین نہیں ہوا تو قوی امکان ہے کہ عمل تجدید تحریف یا تغییر میں تبدیل ہوجائے ۔اس نکتے پر بحث سے کرنے سے پہلے فقہ اسلامی کے بنیادی شعبہ جات اور فقہی مسائل کی مختلف انواع کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ فقہ اسلامی اور معاصر قانون کے نامور ماہر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ...

جدید ریاست میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید ۔ بنیادی خدوخال اور طریق کار (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

مسلم امت کا دور زوال علوم و فنون کا دور جمود ہے، زوال نے علوم و فنون کے ارتقاء کا سفر روک دیا، ماضی کے ذخیرے کی تشریح، توضیح، تعلیق، اختصار اور تلخیص علمی حلقوں کا مشغلہ بن گیا ہے، فقہ اسلامی علوم و فنون میں سب سے زیادہ زوال سے متاثر ہوئی، خاص طور پر ادارہ خلافت کے ٹوٹنے سے فقہ اسلامی کے وہ شعبے یکسر منجمد ہوگئے، جن کا تعلق مسلم امت کے اجتماعی امور سے ہے، ریاستی امور، عدالتی قضایا، اقتصادی معاملات، بین الااقوامی ایشوز اور معاشرتی نظم و نسق سب سے زیادہ جمود کا شکار ہوئے، اور افتاء و استفتاء عبادات اور عائلی معاملات میں منحصر ہو کر رہ...

قواعد فقہیہ: تعارف و حجیت

مفتی شاد محمد شاد

فقہ کی اساس ’’اصولِ فقہ‘‘پر ہے جس میں قرآن،سنت،اجماع اور قیاس سے متعلق اصولی مباحث ہوتے ہیں اور یہی فقہ کے دلائل ہیں۔فقہ سے متعلق ایک اور مفید اور دلچسپ علم ’’قواعد فقہیہ‘‘کا ہے جس کی طرف متقدمین فقہاء نے کافی توجہ دی ہے اور عصر حاضر میں اس موضوع پر خاصا کام ہوا ہے،خصوصا عرب دنیا میں اس پر بڑا ذخیرہ وجود میں آگیا ہے۔ زیرنظر مضمون میں قواعد فقہیہ کے مفہوم کے بعدان کی حجیت اور دائرہ کار سے متعلق فقہاء کی آرا کو بیان کرنا مقصود ہے۔ قواعد فقہیہ کا مفہوم۔ قاعدہ کا مادہ (ق ع د ) ہے، جس کے بنیادی معنی ثبات و استقرار کے ہیں۔اس کی جمع قواعد آتی ہے...

تین طلاقوں کا مسئلہ

ڈاکٹر مختار احمد

جناب محترم مفتی شبیراحمد صاحب کی ہدایت پراس ناچیز نے جناب ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب کا مضمون "یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ" مطالعہ کیا، لیکن افسوس مجھے شدید مایوسی ہوئی کہ انہوں نے تین طلاقوں کو تین ہی قرار دینے کی کچھ خودساختہ علتیں بیان کی ہیں۔ان علتوں کو طلاق کے مسئلے سے منسلک کرنے کے لیے انہوں نے قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں دی، بلکہ "عرب معاشرے اور سماج" کی کچھ خصوصیات کو اپنی دانست میں تین طلاقوں کے اکھٹے نفاذ کی علت قرار دے دیا ہے اورپھرخود ہی نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا ہے کہ چونکہ آج ہمارے "معاشرے" میں یہ علتیں موجود نہیں ہیں، اس لیے...

تصوف و سلوک اور ماضی قریب کے اجتہادات

سراج الدین امجد

دور حاضر میں تصوف و سلوک کی طرف شعوری رجحان اور عمومی ذوق خوش آئند ہے گو اس کی وجوہات گوناگوں ہیں۔ کچھ کے نزدیک تصوف انسان دوستی اور لبرل اقدار کا ہم نوا مذہب کا ایک جمالیاتی رخ ہے۔ کچھ لوگ اسے طالبانی خارجیت اور داعشی بربریت کا تریاق سمجھتے ہیں۔ کہیں روایتی تصوف کے علمبردار مشہور خانوادوں کے خوش فکر نوجوان نئے اسالیب میں اشغالِ تصوف کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں تو کہیں تصوف فی الواقع روایت دینی کی پر کیف و جمال افروز فکری و نظری جولانگاہ کا حامل ہے۔ تاہم یہ المیہ بھی کچھ کم نہیں کہ بالعموم مروجہ سلوک میں چند رسوم کی بجاآوری ہی طرز ادا ٹھہری...

یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

انڈیا میں سپریم کورٹ نے یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کے بارے میں متبادل قانون سازی کی ہدایت کی ہے جس پر مختلف طبقات کی طرف سے ملا جلا ردعمل آیا۔ کچھ اہل علم نے اسے دین میں مداخلت قرار دیا جبکہ کچھ دوسرے حضرات نے مختلف فقہی آراء میں سے ایک رائے کو ترجیح دینے کا کورٹ کا جائز حق بتایا۔ بالعموم مسلم سماج میں مسائل کو فقہی مذاہب کی روشنی میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور نظری طور پر فریق مخالف کے درست ہونے کے امکان کو ماننے کے باوجود عملاً ہر فریق صرف اپنے فقہی موقف کو ہی درست مانتا ہے۔ ہمارے سماج میں ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کی تلاش میں...

عدالتی فسخ نکاح کی شرعی حیثیت ۔ دینی جامعات کے ایک فتوے کا جائزہ

قاضی محمد رویس خان ایوبی

استفتاء۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ: ۱۔ مسماۃ فائزہ دختر افسر علی شاہ کا نکاح منظور حسین شاہ سے ہوا، مگر لڑکے کے کردار کو دیکھ کر افسر علی شاہ صاحب نے رخصتی نہ کی۔ مطالبۂ طلاق کیا گیا، مگر منظور حسین نے طلاق دینے سے انکار کر دیا اور خود دوسری شادی کر کے بیٹھ گیا۔ ۲۔ اجرائے ڈگری کے بعد رائج الوقت قانون میں مدعا علیہ (خاوند) کو عدالتی فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں 30 دن کے اندر اندر اپیل کرنی چاہیے تھی، مگر اس نے آج مؤرخہ 15-11-2013 تک کوئی اپیل دائر نہیں کی اور نہ ہی فیصلے پر کوئی اعتراض عدالتِ مجاز میں داخل کیا۔ اب دریافت طلب امور مندرجہ...

دورِ جدید کا فقہی ذخیرہ: عمومی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

آٹھویں قسم :ابواب فقہیہ پر تفصیلی کتب۔ عصر حاضر اختصاص و تخصص کا دور ہے۔ پورے فن کی بجائے فن کے مندرجات میں سے ہر ایک پر علیحدہ مواد تیار کرنے کا رجحان ہے ،بلکہ ایک باب کے مختلف پہلووں میں سے ہر پہلو پر الگ الگ کتب لکھنے کا رواج ہے ۔یہ رجحان فقہ اسلامی کے عصری ذخیرے میں بھی نظر آتا ہے۔ پوری فقہ اسلامی پر کتب لکھنے کی بجائے فقہ اسلامی کے ابواب میں سے ہر ایک پر تفصیلی کتب لکھی گئی ہیں ۔ذیل میں مختلف ابواب فقہیہ پر اہم عصری تصنیفات کی ایک فہرست دی جاتی ہے۔ فقہ العبادات پر اہم کتب۔ ۱۔العبادۃ فی الاسلام، مولف :ڈاکٹر یوسف القرضاوی۔ ۲۔مقاصد المکلفین...

دورِ جدید کا فقہی ذخیرہ: عمومی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

فقہ اسلامی زمانہ تدوین سے لے کر عصر حاضر تک مختلف مراحل سے گزری۔اس پر متنوع انقلابات آئے۔ فقہ اسلامی کے طرز تصنیف اور طریقہ تدریس میں نوع بنوع تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ فقہائے کرام نے ہر دور کے مطابق فقہ اسلامی کے گرانقدر ذخیرے کی تہذیب وتنقیح کی، ہر دور کے علمی مزاج و مذاق کے مطابق کتب فقہ کے طرز تصنیف، اسلوب تحریر، ترتیب مباحث، تحریر مسایل اور تقریر ادلہ میں فقہ اسلامی کے دایرے میں رہتے ہوے مفید تبدیلیاں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ اسلامی کی طویل تاریخ پر عمیق نگاہ ڈالنے سے مختلف ادوار سامنے آتے ہیں۔ ان مختلف مراحل سے واقفیت اور ہر دور کی مخصوص خصوصیات...

نشے کی طلاق اور طلاق کے لیے عقل و ہوش کا مطلوبہ معیار

مولانا مفتی محمد زاہد

ذیل کی سطور آج سے پانچ چھ سال قبل لکھ کر ملک متعدد اہلِ افتا کی خدمت میں بھیجی گئی تھیں ٗ تاکہ اس کے ذریعے اس مسئلے پر غور کی دعوت دی جائے۔ تاہم ایک دو کے علاوہ کسی جگہ سے اب تک جواب سے سرفرازی نہیں ہوسکی۔ اب ان گذارشات کو اس لیے شائع کیا جارہا ہے کہ وسیع پیمانے پر اہلِ علم تک پہنچا کر ان کی آراء سے استفادہ کیا جاسکے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے :کل طلاق جائز الاطلاق المعتوہ المغلوب علی عقلہ (جامع الترمذی رقم : ۱۱۹۱)۔ اگرچہ تکنیکی طور پر اس حدیث کی سند پر محدثانہ کلام ہوسکتی ہے اور خود امام ترمذی نے بھی اس حدیث کے ایک راوی عطاء بن عجلان...

ایک مجلس کی تین طلاقیں اور اصلاح کی گنجائش

مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی

اس میں شک نہیں کہ ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دینے کا مسئلہ بعض اوقات بڑی پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے۔ عام طور پر لوگ مسائل سے واقف نہیں ہیں اور طلاق دینا اگر ضروری ہی ہو تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے، اس کو نہیں جانتے۔ ایک مجلس میں ایک دفعہ میں تین طلاقیں دی جائیں تو وہ واقع ہو جاتی ہیں۔ یہ مغلظہ طلاق ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ میاں بیوی کا تعلق ختم ہو کر دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور ان میں میاں بیوی کا تعلق ناجائز ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال میں اصلاح کی کتنی گنجائش ہے، اس پر نظر ڈالتے ہیں۔ پہلی صورت: تین دیں مگر نیت ایک طلاق کی، کی۔ اگر ایک ہی دفعہ ایک...

طلاق کا وقوع اور نفاذ۔ چند اجتہاد طلب پہلو

محمد عمار خان ناصر

شریعت نے میاں بیوی کے مابین نباہ نہ ہونے کی صورت میں رشتۂ نکاح کو توڑنے کی اجازت دی ہے۔ شریعت کی نظر میں اس رشتے کی جو اہمیت ہے، وہ یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کو ختم کرنے کا معاملہ پورے غور وخوض کے بعد اور تمام ممکنہ پہلوؤں اور نتائج کو سامنے رکھ کر ہی انجام دیا جائے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نادانی، جذباتی کیفیت، مجبوری یا کسی بد نیتی کی بنیاد پر طلاق دے دے تو رشتۂ نکاح کے تقدس کے پیش نظر یہ مناسب، بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہوگا کہ اسے غیر موثر قرار دیا جائے یا اس پر عدالتی نظر ثانی کی گنجایش باقی رکھی جائے۔ فقہا کے ایک گروہ کے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے...

شاتم رسول کی توبہ کا شرعی حکم

امام تقی الدین السبکی الشافعیؒ

امام تقی الدین السبکی الشافعیؒ۔ (۹ ویں صدی ہجری کے ممتاز شافعی فقیہ اور مجتہد علامہ تقی الدین السبکیؒ نے اپنی معروف تصنیف ’’السیف المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘ کی ایک مستقل فصل میں اس مسئلے پر مفصل کلام کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو تو ا س کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں۔ امام صاحب نے ایسے شخص کی توبہ قبول کرنے کے حق میں قرآن وسنت سے مثبت طور پر بھی دلائل پیش کیے ہیں اور اس ضمن میں پیش کیے جانے والے اشکالات کا بھی عالمانہ تجزیہ کیا ہے۔ توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے جاری مباحثہ کے تناظر میں، یہاں...

شاتم رسول کی توبہ ۔ سعودیہ کے سابق مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن بازؒ کا فتویٰ

ادارہ

فاذا کان من سب الرب سبحانہ او سب الدین ینتسب للاسلام فانہ یکون مرتدا بذلک عن الاسلام ویکون کافرا یستتاب فان تاب والا قتل من جہۃ ولی امر البلد بواسطۃ المحکمۃ الشرعیۃ وقال بعض اہل العلم انہ لا یستتاب بل یقتل لان جریمتہ عظیمۃ ولکن الارجح ان یستتاب لعل اللہ تعالی یمن علیہ بالہدایۃ فیلزم الحق ولکن ینبغی ان یعزر بالجلد والسجن حتی لا یعود لمثل ہذہ الجریمۃ العظیمۃ وہکذا لو سب القرآن او سب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم او غیرہ من الانبیاء فانہ یستتاب فان تاب والا قتل (http://www.binbaz.org.sa/mat/354)۔ ’’ذات باری یا دین کو برا بھلا کہنے والا اگر مسلمان ہو تو ایسا...

توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کا موقع ۔ حدیث اور فقہ کی روشنی میں

مفتی محمد عیسی گورمانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ وکفی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی۔ اما بعد! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی اقوام سے واسطہ پڑا۔ مشرکین عرب، یہودی کینہ پرور، دیہاتی، ایسے لوگ جن کی فطرت اور خمیر میں فساد تھا، ان کے رگ وریشہ میں شر کا غلبہ تھا اور خیر کا پہلوناپید۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر سے حسب وعدہ ان کو ہلاک کر دیا۔ وہ بیماری میں مبتلا ہوئے جیسے ابو لہب، یا میدان جنگ میں مارے گئے جیسے ابو جہل، عتبہ، عتیبہ، شیبہ، امیہ، عقبہ بن ابی معیط وغیرہم۔ چند اپنی زندگی میں ناکامی، رسوائی اور مایوسی کے عالم میں طبعی موت مر گئے، جیسے رئیس...

فقہ و اجتہاد کے چند اہم پہلو

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

اس مقام پر اصولی طور پر یہ بحث بھلی معلوم ہوتی ہے کہ مخالفت حدیث کا مفہوم کیا ہوتا ہے؟ کیا ہر مقام پر مخالفت سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کی مخالفت مراد ہوتی ہے یا ان الفاظ کے اندر جو معنی اور مدلول پنہاں ہوتا ہے، اس کی مخالفت بھی مراد ہوتی ہے؟ اور اگر کوئی شخص آپ کے ظاہری الفاظ کی تو مخالفت کرتا ہے لیکن ان کے اندر جو معنی مستنبط ہوتا ہے، ا س کی اطاعت کرتا ہے جو بظاہر لفظوں سے متبادر نہیں ہوتا تو کیا اس شخص کو مخالفت حدیث کاملزم قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز سے منع فرمایا ہے تو کیا ہر مقام پر...

شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد

محمد عمار خان ناصر

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ میں اس مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے کہ شریعت کے اوامر ونواہی اور قرآن وسنت کے بیان کردہ احکام وفرائض کا عقل ومصلحت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایک گروہ کا موقف یہ بیان کیا ہے کہ یہ محض تعبدی امور ہیں کہ آقا نے غلام کو اور مالک نے بندے کو حکم دے دیا ہے او ربس! اس سے زیادہ ان میں غور وخوض کرنا اور ان میں مصلحت ومعقولیت تلاش کرنا کار لاحاصل ہے، جبکہ دوسرے گروہ کا موقف یہ ذکر کیا ہے کہ شریعت کے تمام احکام کا مدار عقل ومصلحت پر ہے اور عقل ومصلحت ہی کے حوالے سے یہ واجب العمل ہیں۔...

نماز تراویح سنت موکدہ ہے

مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

نماز تراویح سنت موکدہ ہے۔ (ہدایہ ۱/۹۹۔ شرح نقایہ ۱/۱۰۴۔ کبیری، ۴۰۰) تراویح کے سنت ہونے کا انکار سوائے روافض کے کسی اسلامی فرقے نے نہیں کیا۔ اس کے سنت موکدہ ہونے کے بارے میں بہت سے اہل علم کے اقوال موجود ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’وسننت لکم قیامہ‘ (نسائی ۱/۳۰۸۔ ابن ماجہ، ۹۴۔ مسند احمد ۱/۱۹۱) ’’اور میں نے اس میں قیام (تراویح) کو سنت قرار دیا ہے۔‘‘ امام ابو حنیفہؒ سے روایت ہے کہ تراویح سنت ہیں، ان کا ترک کرنا جائز نہیں۔ (شرح نقایہ ۱/۱۰۴۔ کبیری، ۴۰۰) امام نوویؒ شارح مسلم لکھتے ہیں: خوب جان لو کہ صلاۃ تراویح کے سنت ہونے پر علما...

تین طلاقوں کے بارے میں جمہور علماء کا موقف

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ایک مجلس میں یا ایک جملے میں تین طلاقوں کے وقوع کے بارے میں بحث ایک عرصے سے ’الشریعہ‘ کے صفحات میں جاری ہے اور مختلف حضرات کے مضامین اس سلسلے میں شائع ہو چکے ہیں۔ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاے امت کا موقف یہ ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک جملے سے دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی واقع ہو تی ہیں، جبکہ مستند اہل علم کا ایک گروہ جس کی نمایاں ترجمانی شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے رفقا کرتے ہیں، اس صورت میں ایک طلاق کے واقع ہونے کا قائل ہے۔ اس مسئلے پر جمہور علما کے موقف کی وضاحت کے لیے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے ’’عمدۃ الاثاث...

مسئلہ طلاق ثلاثہ اور فقہائے امت

مولانا افتخار تبسم نعمانی

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک دفعہ تین طلاقیں دے دے تو کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ اس مسئلے میں علماے اہل سنت میں ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک یہ فعل (بیک وقت تین طلاق دینا) حرام ہے، تاہم اگر کسی نے ایسا کیا تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اس کے برعکس فقہا اور محدثین کی ایک قابل لحاظ تعداد اس کی قائل ہے کہ اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہو گی ۔ تمام اہل علم ہمیشہ سے اس مسئلے کو ایک اختلافی مسئلے کے طور پر نقل کرتے آئے ہیں اور کسی نے اس پر اجماع کا یا اس میں اختلاف کی گنجایش نہ ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ اکابر اہل علم کے حوالہ جات حسب...

غصے کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکم

مفتی نایف بن احمد الحمد

سوال: گزشتہ ہفتے میں نے اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دی تھی اور یہ ہماری شادی کے بعد کی تیسری طلاق تھی۔ چند روز کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ شدید غصے کی حالت میں طلاق دینے والے کے بارے میں علماے کرام نے بتایا ہے کہ ایسا شخص غصے کی شدت کے لحاظ سے تین قسم کے حالات سے ہو سکتا ہے: (۱) غصے کی ایسی حالت جس میں طلاق دینے والا وقتی طور پر آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور یہ احساس کھو بیٹھتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں دی جانے والی طلاق نافذ نہیں ہوتی۔ (۲) غصے کی ایسی حالت جو اول الذکر سے کم ہو لیکن بہت ہی شدید غصے کی حالت ہو، اس کیفیت میں دی...

فروعی مسائل میں سہولت و رخصت کا فقہی اصول

ادارہ

(۱) (مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کے نام مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کے ایک خط سے اقتباس) تدوین فقہ پر کام شروع کر دیا گیا تھا۔ ۱۰۰ صفحات سے زیادہ جامعہ عثمانیہ کے ریسرچ جرنل میں شائع بھی ہو چکا تھا۔ اگرچہ اس کی حیثیت بالکل مقدمہ کتاب کی تھی، تاہم لوگوں نے پسند کیا تھا۔ مولانا مودودی صاحب کے غیر مشہور ایک بڑ ے بھائی ابو الخیر مودودی صاحب سے شاید آپ واقف ہوں۔ انھوں نے اس مقدمہ کو چھاپنے کے لیے لاہور سے طلب کیا تھا۔ فقیر نے روانہ کر دیا، لیکن پھر کچھ پتہ نہ چلا کہ کتاب کیا ہوئی۔ آپ جانتے ہوں یا جان سکتے ہوں تو اپنے کچھ لاہوری یا پنجابی عقیدت مند سے...

مسئلہ طلاق ثلاثہ ۔ علماء کرام توجہ فرمائیں

پروفیسر محمد اکرم ورک

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مارچ ۲۰۰۵ کے شمارے میں مولانا سید سلمان الحسینی الندوی کا مضمون ’’اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوا ہے جس میں فاضل مضمون نگار نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے وقوع کی صورت میں مرتب ہونے والے معاشرتی مسائل کی طرف علماء کرام کو توجہ دلائی ہے اور علماء دین اور مفتیان کرام سے تقاضا کیا ہے کہ وہ آج کے معروضی حالات کے تناظر میں اس مسئلہ پر دوبارہ غور فرمائیں۔ مئی ۲۰۰۵ کے شمارے میں مولانا احمد الرحمن نے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگرچہ طلاق ثلاثہ کے موضوع پر احناف اور اہل حدیث مکتبہ فکر...

فقہ اسلامی کے مآخذ قرآن مجید کی روشنی میں

محمد عمار خان ناصر

قرآن مجید دین کا بنیادی ماخذ ہے۔ چنانچہ وہ جہاں دین کے بنیادی احکام بیان کرتا ہے، وہاں ان دوسرے مآخذ کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے جن کی مدد سے عملی زندگی کے مختلف مسائل کے حل کے لیے ایک مفصل ضابطہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ فقہ اسلامی کے تمام بنیادی مآخذ کا ثبوت خود قرآن مجید سے ملتا ہے۔ فقہ اسلامی کے مآخذ دو طرح کے ہیں: نقلی اور عقلی۔ نقلی مآخذ میں قرآن کے علاوہ سنت، اجماع اور سابقہ شریعتیں شامل ہیں، جبکہ عقلی مآخذ کے تحت قیاس، مصالح مرسلہ، سد ذرائع، عرف اور استصحاب حال زیر بحث آتے...

فقہی اختلافات کا پس منظر اور مسلمانوں کے لیے صحیح راہِ عمل

الاستاذ محمد امین درانی

فقہی اختلاف سے مراد شرعی احکام میں علماء امت کا وہ اختلاف رائے ہے کہ کون سا عمل زیادہ درست، زیادہ افضل اور بہتر ہے اور زیادہ مستند ہے۔ اہل السنۃ والجماعۃ کے چاروں مذاہب کا اختلاف بسا اوقات اس پر ہوتا ہے کہ کون سا کام اور کون سا طریقہ سب سے افضل اور بہتر ہے۔ سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ ایک اسلامی عمل کو بہتر طریقے سے ادا کیا جائے۔ وہ ہرگز ایسے نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو اپنا دشمن تصور کریں یا اسے نیچے دکھانے مغلوب کرنے کی کوشش...
1-32 (32)
Flag Counter