ہم ۔ دنیا بھر کے تنازعات کے امپورٹر!

مولانا مفتی محمد زاہد

عالمِ عرب میں اس وقت جو عوامی تحریکیں چل رہی ہیں، وہ جہاں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں، وہیں پاکستان سمیت عالم اسلام کی ان سے دلچسپی ایک فطری امر ہے۔ تاہم ان تحریکوں نے خلیجی ریاستوں میں پہنچ کر کسی قدر فرقہ وارانہ رنگ بھی اختیار کرلیاہے یا یہ رنگ انہیں دے دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر اس مسئلے کے حوالے سے کسی قدر کشیدگی کا عنصر بھی آرہا ہے۔ پہلے تو بحرین اور سعودی عرب کے بعض واقعات یا مسائل کی وجہ سے ایک فریق نے سعودی عرب کے فرماں روا خاندان کے خلاف نفرت آمیز بینرز لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے جواب میں دوسرے فریق نے نہ صرف یہ کہ سعودی حکومت اور نظام کی حمایت میں بلکہ ایک مخصوص فرقے اور پاکستان کے ایک ہمسایہ ملک کے خلاف ایک مہم شروع کردی۔ مئی کے مہینے میں پاکستان میں جو سنگین واقعات رونما ہوئے، ان کے نتیجے وقتی طور پر تو یہ مسئلہ دب گیا ہے، لیکن اخبارات کے اندرونی صفحات کی بعض چھوٹی چھوٹی سرخیوں سے، جنہیں بعض اوقات نظر انداز کرنا آسان یا مناسب نہیں ہوتا، یہ خدشہ پیدا ہورہاہے کہ کہیں یہ سلسلہ دوبارہ نہ چل نکلے۔ مجھے خود اس مسئلے کے بارے میں کسی موقف کی حمایت یا مخالفت میں تو کچھ عرض نہیں کرنا، البتہ مسئلے کی نوعیت اپنے ملک کے عمومی رویے، جس کا تعلق فریقین کے ساتھ ہے، کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے ۔

اس مسئلے کے اہم فریق ایران اور سعودی عرب سمیت خلیج کی بعض دولت مند سنی ریاستیں ہیں۔ دونوں فریقوں کے حوالے سے مسئلے کے کچھ تو بین الاقوامی پہلوہیں اور کچھ کا تعلق ان ملکوں کے اندرونی حالات سے ہے۔ ایران جس خطے میں واقع ہے، وہاں دنیا کی ایک عظیم سلطنت یعنی کسریٰ کی سلطنت یا ساسانی سلطنت قائم رہی ہے۔ اس سلطنت کا اردگرد کے علاقوں پر اثر ورسوخ بھی رہاہے۔ خصوصاً خلیج کی متعدد ریاستوں کے علاقے تاریخی طور پر اس سلطنت کے زیرِ اثر رہے ہیں۔ ایران کی قومی نفسیات میں یہ بات اب بھی جاگزیں ہے، اس کے اثرات ظاہر ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ اتفاق ہے کہ موجودہ ایران کی آبادی کا بڑا حصہ اہل تشیع سے تعلق رکھتاہے اور شیعیت ہی ایران کا سرکاری مذہب یا فرقہ ہے۔ لیکن ایرانی نفسیات کے مذکورہ پہلو کو فرقہ وارانہ کی بجائے اس کے قومی یا نسلی تناظر میں دیکھنا شاید زیادہ مناسب ہو۔ چنانچہ ایران ایک سیکولر سٹیٹ بھی بن جاتاہے، تب بھی بظاہر یہ بات اس کی سائیکی کا کسی نہ کسی طرح حصہ رہے گی کہ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ساسانی سلطنت جیسی عظیم سلطنت قائم کی تھی جو خلیج کے بیشتر حصوں پر اپنا اثر ورسوخ رکھتی تھی۔ یہی پہلو ایران کے حوالے سے عرب ریاستوں میں خطرے کا احساس پیدا کرتاہے۔ خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ملالی جائے کہ عرب خلیجی ریاستوں کے مقابلے میں معاشی اعتبار سے کمزور ہونے کے باوجود فوجی طاقت اور سائنس وٹیکنالوجی میں ایران ان ریاستوں سے کہیں فائق ہے۔ فوجی اور سائنسی طور پر مضبوط ایران کا ایک قومی احساسِ تفاخر اور عربوں کا اسے اپنے لیے خطرہ محسوس کرنا موجودہ مسائل کی ایک وجہ ہے۔

اگر اس مسئلے کے داخلی پہلو کو دیکھیں تو ایران اگرچہ ایک جمہوریہ کہلاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انقلاب کے بعدسے وہ ایک مذہبی ریاست ہے ،بلکہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ایک طرح سے تھیوکریسی کی حامل ریاست بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں بڑی تعداد میں وہ طبقہ بھی موجود ہے جو موجودہ سیٹ اپ یا نظام سے خوش نہیں ہے اور وہ ایران میں زیادہ شخصی آزادیوں کااور ایک خاص فرقے ہی کے مذہبی طبقات کے ریاستی امور میں گہرے اثر ورسوخ میں کمی کا خواہاں ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اصلاح پسند کہلاتے ہیں اور بظاہر وہاں کی غیر شیعہ آبادی کی ہمدردیاں بھی اصلاح پسندوں ہی کو حاصل ہوں گی۔ اصلاح پسندوں کی طاقت کا اندازہ صدر احمدی نژاد کے دوسرے انتہائی متنازعہ انتخابات سے لگایا جاسکتاہے۔ وہی ایران جو بعض دیگر ملکوں میں جمہوریت اور شخصی حقوق کی بات کرتاہے، خود اس میں حکومت کے خلاف بات کرنے والوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کی تفصیل یہاں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایران میں خود ایک منتخب صدر مذہبی اشرافیہ کے سامنے کتنا بے بس ہے، اس کا اندازہ گذشتہ ہفتوں کے واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے اور اس سے پتا چلتاہے کہ وہاں کتنی جمہوریت ہے اور کتنی تھیوکریسی۔ ظاہر ہے اس ساری صورتِ حال پر وہاں کے عوام نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگلے انتخابات میں وہ اپنا کوئی بھی فیصلہ دے سکتے ہیں۔ جو عوام رضا شاہی بادشاہت ختم کرسکتے ہیں، وہ کسی وقت آیت اللہی بادشاہت بھی ختم کرسکتے ہیں۔ حاصل یہ کہ ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے لیے اندورنی حقیقی عوامی خطرہ موجودہے، ایسے میں خطے میں فرقہ وارانہ تناؤ کی فضا اس اسٹیبلشمنٹ کے لیے بہت ساز گار ہے۔ اس سے وہ اپنے ملک کے اکثریتی فرقے کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ ان کے ہم مذہب لوگوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور موجودہ سیٹ اپ ان خطرات میں اس فرقے کی بھر پور مدد کررہاہے۔ اس طرح سے اصل اندرونی مسئلے سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے میں اسٹیبلشمنٹ کو سہولت ہوجاتی ہے۔

اندرونی حالات کے اعتبار سے تقریباً یہی معاملہ عرب ملکوں کاہے۔طویل عرصے سے ان ملکوں میں شخصی حکومتوں کی موجودگی کی وجہ سے وہاں شخصی آزادیوں کی صورتِ حال ناقابلِ رشک ہے۔ ایک عرصے تک تو دولت کی فراوانی اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر کام چلتا رہا، لیکن جدید ترین ذرائعِ ابلاغ و مواصلات اور نئی نسل کے باہر کی دنیا سے رابطے اور تأثر کے نتیجے میں بالخصوص بغیر تیل کے عرب ملکوں کی حالیہ عوامی تحریکات نے تیل والے عرب ملکوں کے نوجوانوں کے ذہن میں بھی ایک نئی بیداری پیداکی ہے جسے زیادہ عرصے تک شاید نظر انداز نہ کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں عورت کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی ہے۔ پچھلے دنوں ایک خاتون نے جو یقیناسعودی عرب سے باہر کسی ملک میں رہی ہوگی اور وہیں سے ڈرائیونگ سیکھی ہوگی، خود کار ڈرائیو کرکے اس کی ویڈیوکو یوٹیوب پر اپ لوڈ کردیا جس پر اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ قائم ہوا۔ مقدمے میں ذکر کردہ جرائم میں ملک کو بدنام کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ اس کے بعد یہ خبر آئی ہے کہ کچھ خواتین نے ایک اور وقت متعین کرکے یہی کام کیاہے۔ اب ان کے خلاف کیا ہوگا ، یہ معلوم نہیں، لیکن ظاہر ہے کہ سعودی نظام کب تک نئی نسل کو یہ باور کرائے گا کہ عورت کا ڈرائیونگ کرنا خلافِ اسلام ہے؟ سعودی عرب نے جو فہم دین دوسروں ملکوں کو سپلائی کیا ہے، اس کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ کسی کے اجتہاد یا استنباط کو ماننے کی بجائے خود قرآن وحدیث سے حکمِ شرعی جاننا چاہیے۔ اب ظاہر ہے کہ نوجوان نسل یہ پوچھے گی کہ عورت گاڑی نہیں چلاسکتی، یہ کون سی آیت یا حدیث میں آتاہے؟ یہ تو محض ایک مثال ہے، وگرنہ شخصی آزادیوں پر قدغنوں اور دینی امور پر ایک خاص طبقے کی اجارہ داری پر بہت کچھ کہا جاسکتاہے۔ 

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عرب ممالک میں شخصی آزادیوں کے حوالے سے موجودہ نظام سے اکتاہٹ پیدا ہونا یہ حقیقی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کا ایک آسان راستہ وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کے پاس یہ ہے کہ کسی بیرونی خطرے کا ہوا کھڑا رہے۔ اس کے لیے موجودہ شیعہ سنی یا عرب ایران تناؤ کافی کار آمد ہوسکتاہے۔ چنانچہ چند ہفتے پہلے راقم الحروف نے حرمین شریفین کی حاضری کے موقع پر اس کے اثرات محسوس کیے۔ پہلی حاضریوں کے موقع پر عموماً وہاں پر موجود پاکستانیوں کی زبان پر مواطن (سعودی شہری) اور اجنبی کے درمیان روا رکھی جانے والی تمیز ہوتی تھی اور اس حوالے سے وہ کافی شکوہ کناں نظر آتے تھے، لیکن اس دفعہ کم از کم دینی ذہن رکھنے والے پاکستانیوں کی زبان پر شیعہ خطرے کی بات تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ تناؤ کی اس صورتِ حال نے ان کے لیے حقوق کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورتِ حال کسی بھی ملک کے حکمران سیٹ اپ کے لیے آئیڈیل ہوتی ہے۔حا صل یہ کہ موجودہ تناؤ کی کیفیت ایران اور تیل والے عرب ملکوں دونوں کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے اندرونی مسائل کے حوالے سے سود مندہے۔

یہاں جو بات اصل میں عرض کرنا مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ مسئلہ ان ملکوں کے اندرونی مسائل کا ساخشانہ ہے یا بعض علاقائی مسائل کا۔ ایک پاکستانی کو کسی بھی وجہ سے ان میں سے ایک فریق سے ہمدردی بھی ہوسکتی ہے، اس حوالے سے وہ اظہار رائے بھی کرسکتاہے، لیکن بہر حال بنیادی طور پر یہ پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ ماضی کے تجربات کے پیش نظر جس چیز کا خطرہ ہے اور جس حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ کہیں یہ جنگ پاکستان کی سرزمین پر منتقل نہ ہوجائے۔ ایرانی ہوں یا عرب، وہاں کے شیعہ ہوں یا سنی، انہیں اپنے معاملات میں کسی پاکستانی شیعہ یا سنی کی مدد یا اس کے جلسے جلوس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے ان کے اپنے ’طریقے‘ ہیں جنہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کی سرزمین پر پہلے ہی اتنے مسائل اور اتنے تنازعات موجود ہیں کہ ہم مزید کسی تنازعہ کو درآمد کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

ایک صاحب سے، جو اس سارے معاملے کو شیعہ سنی تناظر ہی میں دیکھ رہے تھے، میں نے کہا کہ اگر واقعی یہ سنی شیعہ مسئلہ ہے تو سعودی عرب جیسے ملکوں کو چاہیے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا جیسے ملکوں سے آئے ہوئے مسلمانوں کو، خاص طورپر جو بیسیوں سالوں سے وہاں مقیم ہیں، جلد از جلد اپنے ہاں کی شہریت دے دیں کیونکہ ان کی بڑی اکثریت سنی ہے، اس لیے اس سے وہاں سنیوں کو تقویت حاصل ہوگی۔ حرمین کا صدیوں سے یہ کردار رہا ہے کہ جو لوگ مشاہیر اہل علم سے ان کے اوطان میں جاکر استفادہ نہیں کرسکتے تھے، حج وعمرہ ایسے علما سے ایسے لوگوں کے استفادے کا پڑا اہم ذریعہ ہوتا تھا۔ اب موجودہ نظام میں نہ صرف یہ کہ حرمین کا صدیوں کا یہ کردار نہیں رہا بلکہ ا س کی شدت سے حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ مخصوص سوچ کے حامل لوگوں کے علاوہ، خواہ وہ کتنا بھی بڑا عالم ہو، اس سے سرسری ملاقات، زیارت یا محض مصافحہ کرنے والوں کی کچھ تعداد ہوجائے تو وہاں کے ادارے چوکنا ہوجاتے ہیں۔ پہلے بھی یہ صورتِ حال تھی، لیکن اس دفعہ کی حاضری میں راقم الحروف نے اس حوالے سے مشاہیر اہل علم کوپہلے سے کہیں محتاط پایا کہ حتی الامکان میل ملاقات سے گریز کیا جائے۔ خواہ یہ بات ایران اور سعودی عرب دونوں کو حامیوں کو کڑوی لگے، لیکن حقیقت بہر حال یہی ہے کہ ایران اپنے انقلاب کو اسلامی انقلاب کہتا ہے، لیکن عملاً وہاں اسلام کی نہیں، ایک مخصوص فرقے کی حکومت ہے۔ اسی طرح سعودی عرب لاکھ اپنے ہاں مکمل شریعت نافذ کرنے کا دعویٰ کرے، وہاں شریعت کی نہیں، اسلام اور شریعت کے حوالے سے محض ایک سوچ کی حکمرانی ہے۔ 

ایک عرصے سے پاکستانی معاشرہ دنیا بھر کے تنازعات کا بہت بڑا امپور ٹر بنا ہوا ہے۔ ہمارے دو پڑوسی ملکوں میں الگ الگ وقتوں میں انقلاب آئے، ان دونوں کو خالص اسلامی اور مثالی انقلاب قرار دے کر پاکستان میں در آمد کرنے کی کوشش یا بات کی گئی۔ اسّی کی دہائی میں ایران عراق یا ایران عرب جنگ شروع ہوئی۔ یہ جنگ ایران عراق سرحد پر اتنی شدت سے نہیں لڑی گئی جتنی پاکستان کے گلی محلوں میں لڑی گئی۔ ان دو ملکوں کی سرحد پر جنگ ختم ہونے کے باوجود بھی ہمارے ہاں یہ لڑائی جاری رہی اور اس میں اتنی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا جو محتاجِ بیان نہیں۔ امریکا نے عرب دنیا میں اپنے بعض مہروں کے ذریعے ایسے حالات پیدا کیے جنہیں بہانہ بہا کر اس نے خطے میں اپنی فوجیں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ سعودی عرب سمیت بعض عرب ملکوں نے اپنی کئی مجبوریوں کی وجہ سے امریکی فوجوں کو اڈے دیے، یہ اس خطے میں امریکا کے حسی وجود(physical existence) کی سب سے پہلی شکل تھی۔ اس پر ایک سعودی مجاہد اسامہ بن لادن ؒ نے صدائے احتجاج بلند کی اور بجا طور پر کہا کہ اگر محض صدام کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی فوجوں کو اڈے دیے گئے ہیں تو اس مسئلے کے کئی متبادل حل بھی موجود ہیں۔ لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی ، بلکہ اس کے شاہی خاندان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ اسامہ کا اصل درد جزیرۂ عرب سے امریکی فوجوں کو نکالنا تھا، لیکن یہ وہاں کے شاہی نظام کا کرشمہ تھا کہ امریکیوں کی بجائے خود اسے جزیرۂ عرب سے نکل کر اور جزیرۂ عرب سے غیر مسلم فوجوں کے نکالنے کا مشن لے کر در بدر ہونا پڑا۔ دوسری طرف مصرمیں جمال عبد الناصر اور اس کے ’خلفا‘ کے ہاتھوں الاخوان المسلمون اور دیگر اسلام پسندوں کو جس وحشیانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑا، اس کے ردِ عمل میں ایک تکفیری سوچ وجود میں آئی۔ اس سوچ کی خود مصر میں دال نہ گلی اور خود اخوانیوں نے پر امن جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی اور آج انہیں اپنی بروقت درست پالیسیاں اختیار کرنے پر فخر اور خوشی ہے، اس لیے کہ مصر میں آنے والی تبدیلی میں، جس کی تائید القاعدہ بھی کرتی ہے، اخوان کا بڑا حصہ ہے۔ لیکن سعودی عرب اور مصر میں پیدا ہونے والی اس سوچ اور آئیڈیالوجی کو، جسے اپنی سرزمین میں خاص جگہ نہیں ملی، ہمارے خطے نے بخوشی در آمدکرلیا اور یہ دیکھنے کی بھی زحمت گوار ا نہیں کی کہ اس آئیڈیالوجی کا ہماری اپنے برصغیر کی دینی جدو جہد کی روایت اور سوچ سے کتنا تعلق ہے۔ جزیرۂ عرب سے امریکیوں کے انخلا کا مشن درمیاں میں رہ گیا اور بات پتا نہیں کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ سعودی عرب اور مصر جہاں سے یہ سوچ اور شخصیات آئیں، آج وہ ملک اطمینان سے بیٹھے ہیں اور ہم سب کچھ بھگت رہے ہیں۔ ہم چونکہ ہر کوالٹی کے مال کے امپور ٹر ہیں، اس لیے آج جو لوگ اسامہ کو ایک ہیرو قرار دے کر ان کی شہادت پر احتجاج کررہے ہیں، وہی لوگ اسامہ کی بات نہ ماننے والے، اسے سعودی عرب کی شہریت سے محروم کرنے والے، اس کے اثاثے منجمد کرنے والے اور آخر میں اس کی لاش تک کو وصول کرنے سے انکار کرنے والے نظام کے حق میں بھی جلسے جلوس کررہے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ بھی ہمارے ہیروزہیں جو موجودہ مسلمانوں حکومتوں کے خلاف خروج تک کو جائز کہتے ہیں اور اس نظام کے بھی حامی نظر آتے ہیں جو اپنے علما سے یہ کہلواتا ہے کہ کسی حکومت کے خلاف پر امن مظاہر ہ کرنا بھی گناہ ہے۔ دونوں باتوں میں تضاد سہی، لیکن ہیں تو دونوں امپورٹڈ اور ہم ٹھہرے امپورٹڈ مال کے سب سے بڑے قدر دان اور خریدار۔

ہمارے اربابِ علم ودانش حضرات کے لیے یہ بات سوچنے اور ہمارے نوجوانوں کے ایک طبقے کو سمجھانے کی ہے کہ کب تک ہم دنیا بھر کے تنازعات کو اپنے ہاں درآمد کرتے رہیں گے؟ کیا خود اپنے پاس بجلی ، گیس وغیرہ کی طرح تنازعات کی بھی قلت ہوگئی ہے کہ ہم نے سوچا کہ اگر ہم کہیں سے بجلی اور گیس درآمد نہیں کرپارہے تو کم از کم تنازعات درآمد کرکے اس خلا کو تو پورا کرلیں تاکہ بجلی اور گیس وغیرہ کی قلت سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کو اپنا ابال نکالنے کا کوئی ذریعہ توملے! تفنن بر طرف، واقعی ہمارے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ بے تحاشا در آمد کی اس پالیسی نے ہمارے ملک کو کس حد تک پہنچا دیا ہے۔ کیااس ملک کی اس ناگفتہ بہ حالت کے اثراتِ بد دینی تعلیم ودعوت پر نہیں پڑیں گے؟

(بشکریہ ماہنامہ قیام، اسلام آباد)

آراء و افکار