خاطرات

محمد عمار خان ناصر

رؤیت ہلال کا مسئلہ اور ہمارے قومی رویے

عید کے موقع پر چاند کی رؤیت کے حوالے سے اہل علم کے مابین بعض فقہی اختلافات عالم اسلام کے کم وبیش تمام حصوں میں موجود ہیں، مثلاً یہ کہ کیا چاند کی رؤیت کا فیصلہ فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر بھی کیا جا سکتا ہے یا اس کے لیے چاند کو آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے؟ اسی طرح یہ کہ کیا ایک علاقے میں چاند کے دیکھے جانے پر دوسرے علاقوں کے لوگ، جہاں چاند نظر نہیں آیا، رمضان یا عید کا فیصلہ کر سکتے ہیں یا ہر علاقے کے لوگوں کے لیے ان کی اپنی رؤیت کا اعتبار ہے؟ وغیرہ۔ تاہم ہمارے ہاں چاند کے دیکھے جانے کا فیصلہ کرنے کے لیے علماء کی سربراہی میں رؤیت ہلال کمیٹیوں کی صورت میں جو نظام بنایا گیا ہے، اس نے اس اختلاف کو مستقل طو رپر ایک ایسی نزاع کی شکل دے دی ہے جو فقہی سے زیادہ سیاسی، مسلکی اور صوبائی تعصبات کے اظہار کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ 

حالیہ عید کے موقع پر بھی یہی ہوا۔ ۱۸؍ اگست کو وزیرستان میں وہاں کے مقامی علما نے بعض ’’گواہیوں‘‘ کی بنیاد پر عید منانے کا فیصلہ کیا تو ایک مضحکہ خیز فیصلہ ہونے کی وجہ سے بدیہی طو رپر اسے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، لیکن خیبر پختون خواہ کی صوبائی رؤیت ہلال کمیٹی نے اپنی سابقہ روایت کے مطابق مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے برعکس ۱۹ ؍ اگست کو عید کا اعلان کر دیا تو حسب سابق مخصوص مسلکی اور علاقائی تعصبات متحرک ہو گئے اور بہت سی ذمہ دار شخصیات کی طرف سے یہ بیانات سامنے آنا شروع ہو گئے کہ چونکہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے خیبر پختون خواہ کی کمیٹی کو موصول ہونے والی شہادتوں کو نظر انداز کر کے چاند نظر نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے یہ جانب دارانہ فیصلہ ہے اور یہ کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو ازسرنو تشکیل دینا چاہیے۔ 

جہاں تک شہادتوں کو نظر انداز کرنے کا تعلق ہے تو ہمارے نزدیک یہ اعتراض علمی واصولی طو رپر زیادہ وزن نہیں رکھتا۔ ماہرین فلکیات کے حسابات کے مطابق ۱۸؍ اگست کی شام کو چاند کی مدتِ پیدائش اس سے کم ہونے کی وجہ سے جو چاند کے دکھائی دینے کے لیے ضروری ہے، پورے جنوبی ایشیا میں کہیں بھی چاند دکھائی دینے کا امکان نہیں تھا۔ علما کا عمومی موقف یہ ہے کہ محض ماہرین فلکیات کے حسابات پر مدار رکھتے ہوئے چاند کی رؤیت کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم علما، ماہرین فلکیات کی رائے کو اس حد تک پورا وزن دیتے ہیں کہ اگر فلکیاتی حسابات کی رو سے کسی مخصوص تاریخ کو کسی مخصوص علاقے میں چاند کے دکھائی دینے کا امکان نہ ہو تو اس علاقے میں چاند کے دیکھے جانے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اس حوالے سے مکہ مکرمہ کی فقہ اکیڈمی میں ہونے والے مباحثات کی جو روداد اپنے ایک حالیہ مضمون میں بیان کی ہے، اس کے مطابق اس وقت عالم اسلام کے ممتاز ترین علما وفقہا کی اکثریت اسی کی قائل ہے، جبکہ فلکیاتی حسابات کی رو سے چاند کی رؤیت ممکن نہ ہونے کے باوجود محض گواہیوں کی بنیاد پر چاند کے دیکھے جانے کا فیصلہ کرنے کی رائے ایک ’’شاذ‘‘ رائے کا درجہ رکھتی ہے۔ اس تناظر میں اگر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے ۱۸؍ اگست کی شام کو چاند کے دکھائی نہ دینے کا اعلان کیا تو یہ فقہی اصولوں کا عین تقاضا تھا، بلکہ ہمارے خیال میں تو اس صورت میں ۱۸؍ اگست کو چاند دیکھنے کا تکلف کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ماہرین فلکیات کی مذکورہ پیش گوئی یوں درست ثابت ہوئی کہ خیبر پختون خواہ کے علاوہ پورے جنوبی ایشیا میں اس تاریخ کو کہیں چاند دکھائی نہیں دیا اور ہر جگہ ۲۰؍ اگست کو ہی عید منائی گئی۔ اس لحاظ سے علمی وفقہی اعتراضات کا ہدف دراصل خیبر پختون خواہ کی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو بننا چاہیے تھا کہ جب ۱۸؍ اگست کو چاند کا دیکھا جانا ممکن ہی نہیں تھا تو وہ آخر کیسے نظر آ گیا، لیکن یہ مسلکی وصوبائی تعصبات کا کمال ہے کہ اعتراض کا ہدف الٹا مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو بنا لیا گیا اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے ساری خرابیوں کا منبع کمیٹی کا موجودہ ڈھانچہ اور خاص طور پر اس کے سربراہ مولانا مفتی منیب الرحمن کی ذات ہے۔

اجتماعیت اور قومی وحدت کسی بھی قوم کے لیے اللہ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے اور عزت وسرفرازی کی علامت بھی، لیکن اس نعمت کا حق دار وہی قوم ہوتی ہے جس کے ذمہ دار طبقات اپنے اندر کچھ مخصوص رویوں اور اخلاقیات کو پیدا کر لیں۔ ان میں سب سے بنیادی اخلاقی اصول یہ ہے کہ اختلاف رائے کے مواقع پر اختلاف کے اظہار کے باوجود عملاً وحدت اور اجتماعیت کو قائم رکھا جائے اور کوئی گروہ اپنی رائے کے تسلیم نہ کیے جانے کو بہانہ بنا کر کوئی الگ راستہ اختیار نہ کرے کہ یہی چیز تفرقہ اور انتشار کے پیدا ہونے کی بنیاد بن جاتی ہے۔ صحابہ وتابعین کے ہاں ہمیں اس کی بڑی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب اپنے عہد خلافت میں حج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے خلفاء کے معمول کے برعکس منیٰ میں ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ادا کرنا شروع کر دیں تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی دو دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ پھر تم لوگوں کے راستے الگ الگ ہو گئے۔ مجھے تو یہی پسند ہے کہ میں چار رکعتوں کی جگہ دو رکعتیں ادا کروں جو (اللہ کے ہاں) قبول ہو جائیں۔‘‘ اس کے باوجود جب نماز کا وقت ہوا تو انھوں نے سب لوگوں کے ساتھ سیدنا عثمان کے پیچھے منیٰ میں چار رکعتیں ہی ادا کیں۔ لوگوں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ افتراق پیدا کرنا شر کی بات ہے۔ (سنن ابی داود، حدیث نمبر ۱۹۶۰) جلیل القدر تابعی امام شعبی سے منقول ہے کہ انھوں نے اس دن کے متعلق جس کے بارے میں لوگ کہتے ہوں کہ یہ رمضان کا پہلا دن ہے (لیکن ارباب حل وعقد کی طرف سے اس کا اعلان نہ کیا گیا ہو)، کہا کہ تم حکمران کے فیصلے سے ہٹ کر ہرگز روزہ نہ رکھنا، کیونکہ (مسلمانوں میں) تفریق کی ابتدا اسی جیسے معاملات سے ہوئی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر ۹۵۹۸)

ہمارے ہاں رؤیت ہلال کے حوالے سے اس اجتماعی اصول کی پامالی نے ایک مستقل اور طے شدہ پالیسی کی شکل اختیار کر لی ہے جس کا مظاہرہ کم وبیش ہر عید کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ فرض کر لیجیے کہ مرکزی کمیٹی کسی موقع پر چاند کے حوالے سے غلط فیصلہ کر لیتی ہے۔ اس کے باوجود دین کی تعلیمات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے فیصلے کی پابندی کی جائے اور ایک اجتماعی معاملے میں اس نوعیت کے اختلاف کو افتراق پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ ویسے بھی اصولی طور پر چاند کے دکھائی دینے یا نہ دینے کے فیصلے کا اختیار مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے پاس ہے اور صوبائی کمیٹیاں اس کی معاونت کے علاوہ چاند کی رؤیت کا اعلان کرنے کا کوئی مستقل اختیار نہیں رکھتیں۔ اس لحاظ سے کسی بھی صوبے کی رؤیت ہلال کمیٹی کی طرف سے ایسا کوئی فیصلہ کیا جانا اجتماعیت کے مذکورہ اصول کی پامالی کے علاوہ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کی بھی ایک افسوس ناک مثال ہے۔

اجتماعیت کا دوسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کسی قومی منصب پر فائز کر دیا جائے اور اسے اس منصب سے متعلق ذمہ داریوں کے دائرے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو شخصی ناپسندیدگی، طبقاتی پس منظر، ذاتی جھگڑوں یا فکری ونظریاتی اختلافات کی وجہ سے اس کے فیصلوں کو قبول کرنے سے گریز کی راہیں تلاش نہ کی جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اجتماعیت کے اس اصول کی تعلیم ان الفاظ میں دی تھی کہ اگر تم پر کسی نک کٹے حبشی غلام کو بھی، جس کا سر کشمش کے دانے کی طرح چھوٹا سا اور سکڑا ہوا ہو، امیر مقرر کر دیا جائے تو تم اس کی بات سننا اور سر تسلیم خم کر دینا۔ ہمارے ہاں اس اصول کی خلاف ورزی بھی ایک اجتماعی ’شعار‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ سیاسی ومسلکی تعصبات کی موجودہ صورت حال میں رؤیت ہلال کمیٹی کی سربراہی اور اس طرح کے دیگر سرکاری عہدوں نے مختلف مسالک اور فرقوں کے مابین ایک مستقل استخوان نزاع کی شکل اختیار کر لی ہے اور کسی ایک مسلک سے تعلق رکھنے والی شخصیت ایسے کسی عہدے پر رونق افروز ہوتی ہے تو دوسرے مسالک کے لوگوں کو یہ بات اچھی نہیں لگتی اور ان کی طرف سے کسی نہ کسی حوالے سے نکتہ چینی اور تنقید کا مشغلہ اختیار کر لیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بین المسالک تعلقات میں تناؤ بھی بڑھتا ہے اور علما کا عمومی وقار بھی معاشرے کی نظروں میں مجروح ہوتا ہے۔ 

مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کا قیام سنجیدہ دینی حلقوں کے تقاضے پر عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد ملک بھر میں رؤیت ہلال کے علاقائی پرائیویٹ حلقوں کے نظام سے پیدا شدہ ملک گیر خلفشار کو ختم کرنا اور مرکزیت پیدا کرنا تھا، کیونکہ اس سے قبل ملک کے کم وبیش ہر بڑے شہر میں یہی صورت حال ہوتی تھی جو اب خیبر پختون خواہ کے بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ افسوس ہے کہ جو نظام خود دینی حلقوں کے تقاضے پر اور ان کی کوششوں سے ملک میں وحدت اور اجتماعیت پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، دینی حلقوں ہی کے غیر متوازن رویوں کی وجہ سے اس کی افادیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے نزدیک اس صورت حال سے یہ بنیادی حقیقت بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ ہمارے ہاں قومی سطح پر پائے جانے والے ہمہ گیر بگاڑ کی اصلاح درحقیقت مختلف قسم کے ’’قومی فورم‘‘ یا ’’اجتماعی ادارے‘‘ بنانے سے نہیں، بلکہ اخلاقی اصولوں کی پاس داری کے حوالے سے قوم کی تربیت کرنے سے ہی ہو سکتی ہے، اس لیے کہ فکر اور مزاج کی درست تربیت کے بغیر اس نوعیت کی ہر کوشش اسی انجام سے دوچار ہوگی جو مثال کے طور پر ہم مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے حوالے سے اس وقت دیکھ رہے ہیں۔

پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں میں اجتماعی رویے محض وعظ وتلقین سے پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ذمہ دار اور مقتدر طبقات کو اپنے عمل سے اس کی مثال پیش کرنی پڑتی ہے اور سب سے پہلے خود ان رویوں اور اخلاقی اصولوں کی پابندی کا مجسم نمونہ بننا پڑتا ہے۔ اس کی ذمہ داری سب سے بڑ ھ کر اہل مذہب پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کہ قوم اپنی مذہبی واخلاقی تربیت کے لیے سب سے زیادہ انھی سے کردار ادا کرنے کی توقع رکھتی ہے اور اس منصب کے مدعی بھی سب سے بڑھ کر وہی ہیں۔ انھیں محسوس کرنا ہوگا کہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے انھیں اپنے قول وعمل کے تضاد کو دور کرنا ہوگا اور جن اخلاقی اصولوں کی پاس داری کی وہ دن رات ساری قوم کو تلقین کرتے ہیں، اپنے طرز عمل سے بھی ان کی پاس داری کا یقین دلانا ہوگا، اس لیے کہ:

گر یہ نہیں ہے بابا، پھر سب کہانیاں ہیں

توہین مذہب کا تازہ واقعہ۔ توجہ طلب امور

اسلام آباد کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک مسیحی لڑکی کی طرف سے مبینہ طو رپر قرآن مجید کے اوراق جلائے جانے کے واقعے نے ایک بار پھر توہین رسالت کے قانون اور اس کے منفی استعمال کو ملکی وغیر ملکی میڈیا میں موضوع بحث بنا دیا ہے۔ ابتدائی اخباری اطلاعات (۲۰؍ اگست) کے مطابق مسلمانوں کے ایک ہجوم کی طرف سے ملزمہ کے گھر کے گھیراؤ کرنے اور اس پر قرآن مجید کے اوراق جلانے کا الزام عائد کرنے پر پولیس نے لڑکی اور اس کے والدین کو اپنی کسٹڈی میں لے لیا ہے اور صدر آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایت پر اس ضمن میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

توہین رسالت یا توہین قرآن کا ارتکاب کرنے والے کسی شخص کو کیا سزا دی جانی چاہیے اور کیا اس نوعیت کے ہر مجرم کے ساتھ ایک ہی انداز کا معاملہ کیا جانا چاہیے؟ یہ ایک الگ بحث ہے اور اس ضمن میں کچھ عرصہ قبل اخبارات وجرائد میں تفصیلی علمی بحثیں شائع ہو چکی ہیں۔ اسی طرح اس سوال کو بھی سردست ایک طرف رکھ دیجیے کہ اسلامی شعائر کے تحفظ واحترام کے تناظر میں کیا یہ رویہ ازروئے حکمت مناسب ہے کہ کسی بھی کونے کھدرے میں رونما ہونے والے ہر واقعے کو مسلمان ازخود منظر عام پر لاتے ہوئے اس کی تشہیر کریں اور جس واقعے کی منفی تاثیر ایک مضافاتی علاقے کی کسی گلی تک محدود تھی، اس کو بڑھا چڑھا کر بین الاقوامی میڈیا کا موضوع بحث بنا دیں؟ ان دونوں سوالوں سے صرف نظر کرتے ہوئے سردست توہین قرآن کے اس تازہ واقعے کے حوالے سے اخباری رپورٹوں کی روشنی میں تین امور ہیں جن کی تحقیق قانون کے مطابق مقدمے کے اندراج اور اس پر عدالتی کارروائی کے لیے بالکل غیر جانب دارانہ طو رپر ضروری ہے:

سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ کیا واقعتا قرآن مجید کے اوراق جلائے گئے ہیں؟ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایک مقامی پولیس افسر قاسم نیازی کا کہنا ہے کہ جب لڑکی کو تھانے میں لایا گیا تو اس کے پاس موجود ایک شاپنگ بیگ میں جزوی طو رپر جلے ہوئے مذہبی نوعیت کے کچھ دوسرے اوراق تو موجود تھے، لیکن ان میں قرآن مجید کے اوراق شامل نہیں تھے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر واقعے میں جتنی سنگینی پائی جاتی ہے، اس کو اسی حد تک محدود رکھنا ملکی قانون اور اسلامی فقہ، دونوں کی رو سے واجب ہے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ کیا ملزمہ کی ذہنی حالت درست ہے اور کیا شرعی، اخلاقی اور قانونی طو رپر اس پر قانون کا نفاذ کیا جا سکتا ہے؟ یہ اس لیے ضروری ہے کہ لڑکی کے والدین کے بیان کے مطابق وہ ذہنی طو رپر بیمار اور ایک مخصوص دماغی بیماری کا شکار ہے۔ یہ دعویٰ خلاف واقعہ ہو سکتا ہے، لیکن قانون کے منصفانہ نفاذ کے لیے اس پہلو کی غیر جانب دارانہ تحقیق بہرحال ضروری ہے۔

تیسری چیز ملزمہ کی عمر کا مسئلہ ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق ملزمہ مبینہ طور پر نوعمر ہے اور اس کی عمر گیارہ سے سولہ سال کے درمیان ہے۔ اگر واقعتا ایسا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ چلاتے ہوئے پاکستان کے قانون کے مطابق اس کی عمر کا لحاظ رکھنا اور بالغ اور نابالغ مجرم کے مابین جس فرق کو دنیا کا ہر قانون ملحوظ رکھتا ہے، اس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

ان تینوں باتوں کی تحقیق نفاذ قانون کی بنیادی شرائط میں سے ہے اور ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر محض عوامی جذبات یا مذہبی طبقات کے سیاسی دباؤ کو اس معاملے میں اصل فیصلہ کن عامل کا درجہ دیا جائے گا تو یہ قانون اور انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہوگا جو پاکستان کے عمومی حالات کے لحاظ سے کوئی نادر الوقوع چیز نہیں۔

ایک مسلمان ریاست میں توہین رسالت یا توہین قرآن پر سزا کے قانون کا موجود ہونا اور جو مجرم فی الواقع سزا کے مستحق ہوں، ان پر اس قانون کا نافذ ہونا ہمارے نزدیک اسلام، جمہوریت اور عقل عام، تینوں کا ایک بدیہی تقاضا ہے، لیکن اسلام اور عمومی اخلاقیات کا اس سے بھی بڑھ کر تقاضا یہ ہے کہ اس قانون کا نفاذ نہایت منصفانہ، غیر جانب دارانہ اور کتاب قانون میں درج شرائط اور ضوابط کے مطابق ہو اور اس میں مذہبی تعصب، فرقہ واریت اور خاص طور پر اقلیتی گروہوں کے احساس تحفظ کو ناروا طور پر مجروح کرنے کا عنصر کسی بھی درجے میں نہ پایا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نفاذ قانون کی اخلاقیات کے حوالے سے عمومی مذہبی ومعاشرتی رویے اس کے بالکل برعکس ہیں اور میں یہ بات نہایت ذمہ داری کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ اس نوعیت کے مقدمات کی ایک بڑی تعداد کے پیچھے اصل عوامل اور محرکات وہی ہوتے ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے تحت اب تک جن افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے، ان میں سے نصف سے زیادہ مقدمات میں ملزم غیر مسلم نہیں بلکہ مسلمان ہیں، جبکہ یہ سامنے کی بات ہے کہ کوئی مسلمان، اسلام پر قائم ہوتے ہوئے بقائمی ہوش وحواس اس جرم کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ ایسے مقدمات عام طو رپر یا تو کسی ایک فرقے سے وابستہ لوگوں کی طرف سے اپنے مخصوص عقائد پر تنقید کی بنیاد پر مخالف فرقے کے کسی فرد کے خلاف درج کرائے گئے ہیں (مثلاً ایک واقعے میں دیوار پر لکھے ہوئے ’’یا رسول اللہ‘‘ کے الفاظ میں سے ’’یا‘‘ کا لفظ مٹا دینے پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کروا دیا گیا، جبکہ ایک دوسرے مقدمے میں مدعی نے کہا کہ ملزم نے میلاد مصطفی کانفرنس کا پوسٹر پھاڑا ہے جو کہ توہین رسالت ہے) اور یا کسی ذاتی یا گروہی عناد اور مخاصمت کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے مخالفین پر توہین رسالت کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔ بعض دینی حلقوں بالخصوص اہل حدیث مکتب فکر کی مختلف جماعتوں کی طرف سے ان تحفظات کا اظہار بھی ہو چکا ہے کہ مسلکی اختلافات کی بنیاد پر توہین رسالت کے متعدد مقدمات درج کرائے گئے ہیں اور ان میں بہت سے لوگوں کو مقدمات اور دار وگیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات بھی موجود ہیں جن میں ملزم کی ذہنی حالت درست نہیں، لیکن نہ تو مدعی اس پہلو کا لحاظ کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ عدالتیں ہی عوامی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے خالص قانونی بنیادوں پر مقدمے کو نمٹانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

غیر مسلموں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات کا معاملہ اس سے بھی زیادہ نازک ہے، کیونکہ اگر کسی مسلمان فرقے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد پر یہ الزام عائد کیا جائے تو اس کی معاشرتی حیثیت اور اثر ورسوخ کے لحاظ سے اسے اپنے طبقے کی طرف سے حمایت اور دفاع کی کچھ نہ کچھ سہولت میسر آہی جاتی ہے، لیکن الزام کسی غیر مسلم پر عائد کیا گیا ہو تو گویا پورا معاشرہ مدعی کی جگہ پر آ کھڑا ہوتا ہے اور بپھرے ہوئے ہجوم عام طو رپر ایسے مواقع پر الزام کی منصفانہ تحقیق اور ملزم کو کسی قسم کی صفائی کا موقع دینے کے بجائے اسی کو اپنے دین وایمان اور مذہبی حمیت کا تقاضا سمجھتے ہیں کہ قانون کو خود ہاتھ میں لے کر بر سر موقع ’’مجرم‘‘ کو نمونہ عبرت بنا دیں۔ 

یہ صورت حال بے حد افسوس ناک ہے اور اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مذہبی طبقات کی طرف سے اس رجحان کی روک تھام کے لیے جس قدر کوشش کی ضرورت ہے، اس کی ادنیٰ خواہش بھی ان کے ہاں دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے نتیجے میں غیر مسلم اقلیتیں، جو اصولی طورپر توہین رسالت پر سخت سزا کے قانون کے خلاف نہیں اور ان کے اعلیٰ سطحی ذمہ دار راہ نما اپنا یہ موقف برملا ظاہر کر چکے ہیں، جب کسی مشکل سے دوچار ہوتی ہیں تو انھیں اپنے حق میں آواز اٹھانے کے لیے مذہبی راہ نما اور علما نہیں، بلکہ غیر مذہبی قائدین ہی میسر آتے ہیں۔ اس صورت حال میں مسیحی راہ نماؤں کا یہ سوال اپنے اندر بے حد وزن رکھتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے مذہبی راہ نما خود اپنے پیروکاروں کے طرز عمل کو حدود کا پابند رکھنے کی عملی ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو وہ مسیحی اقلیت سے یہ مطالبہ کس منہ سے کرتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سیکولر لابیوں کی مہم کو تقویت پہنچانے کے بجائے اپنا وزن اسلام پسندوں کے پلڑے میں ڈال دیں؟

توہین رسالت پر سزا کا مسئلہ اس وقت مغرب اور مغرب سے متاثر فکری طبقات کا خاص ہدف ہے۔ ان کی طرف سے اس قانون کی مخالفت کی بنیادیں فکری اور نظریاتی ہیں، لیکن اس کے خلاف استدلال کے لیے عام طو رپر اس قانون کے غلط اور جانب دارانہ استعمال کی مثالوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے عمومی مذہبی ومعاشرتی رویے اس استدلال کو جواز بھی فراہم کر رہے ہیں اور مسلسل تقویت بھی پہنچا رہے ہیں۔ میں اپنی نجی مجالس میں کئی دفعہ یہ عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے ہاں جس بے دردی سے کسی بھی شخص پر توہین رسالت کا الزام عائد کر دینے کا رجحان فروغ پذیر ہے، اس کے نتیجے میں بعید نہیں کہ کچھ عرصے کے بعد خود مذہبی طبقات اور مذہب سے مخلصانہ وابستگی رکھنے والے عوام بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ اس صورت حال کے مقابلے میں تو اس قانون کو ختم یاعملاً معطل کر دینا ہی باعث عافیت ہے۔ اگر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے تو میں بلا خوف لومۃ لائم یہ کہوں گا کہ اس کی بنیادی ذمہ داری خود اہل مذہب کے غیر متوازن رویوں پر عائد ہوگی، چاہے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے اسے ’’دشمنان اسلام کی سازش‘‘ کا پرفریب عنوان دے دیا جائے۔ 



دعائے صحت کی اپیل

پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر اور ملک کے ممتاز عالم اور محقق حضرت مولانا قاضی رویس خان ایوبی (میر پور، آزاد کشمیر) کچھ عرصہ قبل دماغ کی نس پھٹنے کی وجہ سے علیل اور صاحب فراش ہیں۔ 

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم اور استاذِ حدیث مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے بھی گزشتہ دنوں پتے کا آپریشن کروایا ہے اور بستر علالت پر ہیں۔

قارئین سے درخواست ہے کہ ان حضرات کے لیے خصوصی طور پر اور ان کے علاوہ تمام بیماروں کے لیے عمومی طور پردعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت کاملہ وعاجلہ سے نوازیں۔ آمین

آراء و افکار