آراء و افکار
در جواب آں غزل
― امجد علی شاکر
ضرورت سے زیادہ پڑھنا اپنے ساتھ ظلم وزیادتی ہے اورضرورت سے زیادہ لکھنا دوسروں سے، اس لیے راقم کا مطالعہ خاصا محدود ہے۔ سوئے اتفاق کہ جناب زاہد الراشدی خان صاحب کے رسالہ الشریعہ کا فروری ۲۰۰۷ء کا شمارہ دیکھنے کا اتفا...
غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ
― حافظ محمد زبیر
’المورد اسلامک انسٹی ٹیوٹ ‘کے سرپرست ‘ماہنامہ ’اشراق ‘کے مدیر اور’ آج ‘ٹی وی کے نامور اسکالر جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے دو اہم اصولوں ’سنت ابراہیمی ‘ اور ’نبیوں کے صحائف ‘ کا تنقیدی اورتجزیاتی مطالعہ ماہنامہ...
حدود کی بحث اور علمائے کرام
― خورشید احمد ندیم
حدود آرڈیننس اور اس ضمن میں اٹھنے والی بحث میرے لیے ایک سیاسی نہیں ‘سنجیدہ علمی و مذہبی مسئلہ ہے اور میں نے اسے ہمیشہ اس زاویے سے سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔ مذہبی سیاست دانوں کے بیانات سے مجھ پر کبھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے...
قدامت پسندوں کا تصورِ اجتہاد: ایک تنقیدی مطالعہ
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
’’قدامت پسندی‘‘ ایک مبہم اصطلاح ہے ،اس کی حدود قیود اور خصوصیات کے متعلق کوئی ایک رائے نہیں پائی جاتی۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ ، زندگی کے کسی ایک پہلو کے متعلق بے لچک رویے کا مظاہرہ کر رہا...
مجلس عمل کی سیاسی جدوجہد ۔ چند سوالات
― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
مجلس عمل کی پارلیمانی جد و جہد کے چار سال پورے ہو چکے ہیں۔ ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کے جون ۲۰۰۶ء کے شمارے میں ایک مفصل رپورٹ میں مجلس کی کاردکردگی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کی ترتیب بالکل ایسے ہے جیسے سرکاری...
غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ
― حافظ محمد زبیر
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر دور اور ہر قوم میں اپنے انبیا و رسل بھیجے اور ان کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ۔اس وحی کے نزول کے دو طریقے ہیں : (۱) بعض اوقات یہ وحی لفظاً ہوتی ہے یعنی اس...
محترم جاوید غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی توضیحات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’الشریعہ‘ کے جولائی ۲۰۰۶ کے ادارتی صفحات میں حدود آرڈیننس پر ملک میں ایک عرصہ سے جاری بحث ومباحثہ کے حوالے سے حدود آرڈیننس پر معترض حلقوں کے موقف پر اظہار خیال کرتے ہوئے راقم الحروف نے اپنے دو محترم دوستوں، محترم...
ویڈیو کیمرے کی فقہی حیثیت
― ادارہ
(ویڈیو کیمرے سے بنائی جانے والی تصویر کا مسئلہ ہمیشہ سے اختلافی رہا ہے۔ اہل علم کا ایک گروہ اسے ناجائز قرار دینے پر مصر ہے جبکہ دوسرا طبقہ فی نفسہ اس کے مباح ہونے کا قائل ہے۔ اس ضمن میں شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان...
قورح، قارون: ایک بے محل بحث
― ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی
دسمبر ۲۰۰۵ ء کے ’الشریعہ‘ میں میرا ایک دعوتی واصلاحی نوعیت کا مضمون ’’قرآن کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں‘‘ شائع ہو اتھا جس میں ضمناً قارون کو بائبل (توراۃ) کا قورح بتایا گیا تھا اور اس کے لیے کوئی حوالہ...
مذہبی انتہا پسندی اور اس کا تدارک
― پروفیسر اختر حسین عاصم
صاحب کتاب جناب ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس نے اپنی کتاب’’مذہبی انتہا پسندی اور اس کا تدارک تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں‘‘ میں اس دور کا ایک انتہائی حساس موضوع چھیڑا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع پر خوب غوروفکر کیاجائے...
اصولوں پر تنقید
― طالب محسن
حافظ زبیر صاحب کا ایک طویل مضمون ’الشریعہ‘ (مئی ۲۰۰۶) میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں حافظ صاحب نے استاد محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے ’’اصولوں‘‘ پر تنقید کی ہے اور بعض اطلاقی مسائل کو بھی بطور مثال زیر بحث لائے...
غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ
― حافظ محمد زبیر
’الشریعہ‘ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون کے جواب میں غامدی صاحب کی تائید میں لکھی جانے والی دو تحریریں نظر سے گزریں ، جن کے حوالے سے کچھ گزارشات اہل علم کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ جناب طالب...
قورح، قارون اور کتاب زبور
― محمد یاسین عابد
ماہنامہ الشریعہ کے دسمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ: ’’توراۃ میں بھی قارون کا ذکر ہے لیکن اس میں اس کا ذکر بالکل مختلف انداز سے ہے۔ اس میں اس کی فراوانی دولت کے ساتھ ساتھ یہ بات...
بائبل کا قورح ہی قرآن کا قارون ہے
― ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی
محمد یاسین عابد صاحب نے ’الشریعہ‘ کے فروری ۲۰۰۶ کے شمارے میں میرے ایک مضمون’’قرآن کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں‘‘ (الشریعہ، دسمبر ۲۰۰۵) کو تنقید سے نوازا ہے اور متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ افسوس کہ ان کا...
کیا ’قارون‘ اور ’قورح‘ ایک ہی شخصیت ہیں؟
― محمد یاسین عابد
’الشریعہ‘ دسمبر ۲۰۰۵ء میں ’’اسلام کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں‘‘ کے زیر عنوان ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی صاحب کا مضمون نظر سے گزرا۔ اس مضمون کے بعض مندرجات ہمارے نزدیک محل نظر ہیں جن کی وضاحت درج ذیل سطور...
ماہنامہ ’الشریعہ‘ اور جناب جاوید احمد غامدی
― آصف محمود ایڈووکیٹ
(۱) کیا جناب جاوید احمد غامدی مرزا غلام احمد قادیانی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور کیا تعبیر دین میں وہ مرزا غلام احمد کی متعین کردہ راہوں کے راہی ہیں؟ جناب مولانا زاہد الراشدی جیسے جید عالم دین کی زیر نگرانی شائع ہونے...
آفتاب عروج صاحب کے خیالات پر ایک نظر
― محمد شکیل عثمانی
ماہنامہ الشریعہ اکتوبر ۲۰۰۵ میں اہل تشیع کی تکفیر کے سلسلے میں آفتاب عروج صاحب کا مضمون پڑھا۔ موصوف غلام احمد پرویز صاحب کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور منیر رپورٹ سے استدلال، بحیثیت مجموعی طبقہ علما کی مذمت اور...
ناقدین کی خدمت میں
― طالب محسن
استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی کے افکار وآرا پر بہت سی تنقیدیں لکھی گئی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جائیں گی۔ عام طور پر یہ تنقیدیں محض دشنام طرازی، طعن وتشنیع اور تضحیک واستہزا پر مبنی ہوتی ہیں۔ کچھ اندیشوں اور خدشات...
ناقدین کی خدمت میں
― حافظ محمد عثمان
’الشریعہ‘ کے دسمبر کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون ’اسلام اور تجدد پسندی‘ پڑھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں مغربی تہذیب کے حوالے سے تین رویوں کا ذکر کیا ہے اور ان میں سے دوسرے رویے پر اظہار خیال کرتے ہوئے...
مِتھ کی بحث پر ایک نظر
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
محترمہ شاہدہ قاضی ، جو جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغِ عامہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ، ان کا روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والا ایک مضمون نہایت دلکش ترجمے کی صورت میں ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مئی ۲۰۰۵ کے شمارے کی زینت...
انسان کا حیاتیاتی ارتقا: نظریہ یا حقیقت؟
― پروفیسر محمد عمران
سائنسی اصطلاح میں ارتقا ایک ایسا عمل ہے جس میں موجودہ دور کے پودے اور جانور ماضی کی اقسام سے، مختلف اور بتدریج تبدیلیوں کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔ ارتقا کے بارے میں مختلف لوگوں نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں، لیکن عام...
اہل تشیع کی تکفیر کا مسئلہ
― ادارہ
(۱) ماہنامہ الشریعہ شمارہ مئی ۲۰۰۵ میں محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون بعنوان ’’شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل‘‘ نظر نواز ہوا۔ سب سے پہلے تو میں محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کی خدمت اقدس میں سلام پیش کرنا...
اسلام اور نظریہ ارتقا
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
ماہنامہ الشریعہ کے ستمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد آصف اعوان صاحب کا مضمون ’’ انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن ‘‘ نظر سے گزرا۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے مختلف اہلِ قلم کی آرا کی روشنی میں انسان کے حیاتیاتی ارتقا کو...
تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت
― یوسف خان جذاب
جولائی ۲۰۰۵ کے ’الشریعہ‘ میں شاہ نواز فاروقی صاحب کی تحریر، جو انھوں نے پروفیسر شاہدہ قاضی کے مضمون ’’تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت‘‘ کے جواب میں لکھی ہے، نظر سے گزری۔ پروفیسر شاہدہ قاضی صاحبہ نے اپنے مذکورہ مضمون...
انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن
― ڈاکٹر محمد آصف اعوان
قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ارتقا سنتِ الٰہی ہے اور کارخانہ قدرت میں ہر سو اسی کی کارفرمائی ہے ۔اللہ اپنی ربوبیت سے مختلف انواع کو پیدا کرتا ،انہیں تاریخی مراحل سے گزارتا اور اکملیت کی جانب...
غیر مادی کلچر میں عورت کے سماجی مقام کی تلاش
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
جب سے یہ کائنات بنی ہے اور جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے ، تب سے اس ارضِ رنگ و بو میں خیر و شر کا معرکہ برپا ہے ۔ اب تک کی معلوم تاریخ کی یہی مختصر داستان ہے۔ اگر ہم انسانی تاریخ کے مخصوص احوال و ظروف پر عمیق نظر رکھتے...
عوامی مفاد کے لیے قبرستان اور مسجد کی جگہ کا استعمال
― قاضی محمد رویس خان ایوبی
میر پور میں بطور ضلع مفتی فرائض کی انجام دہی کے چودہ سالہ عرصہ میں بہت سے مسائل سامنے آئے جن پر راقم نے وقتاً فوقتاً شریعت مطہرہ کی روشنی میں جوابات دے کر اور شرعی فتاویٰ جاری کر کے فقہاء اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا۔ ان...
میڈم شاہدہ قاضی کے افسانے اور حقیقت
― شاہ نواز فاروقی
ان دنوں پاکستان میں اسلام، اسلامی تاریخ اور تاریخ پاکستان کے ’’مزے‘‘ آئے ہوئے ہیں۔ کوئی اسلام کو مشرف بہ اعتدال کرنے پر لگا ہوا ہے، کسی نے اسلامی تاریخ کو مشرف بہ حقیقت کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور کوئی تاریخ پاکستان...
تغیر پذیر دنیا اور مسلم ثقافت کی داخلی نفسیات
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۵ کے شمارے میں جناب لوئ ایم صافی کا نہایت فکر انگیز مضمون نظر سے گزرا۔ فاضل مضمون نگار نے معروضیت کے تقاضے نبھاتے ہوئے مسلم ثقافت کی داخلی نفسیات کی مختلف پرتوں کو بہت تدبر، بصیرت اور گہرائی...
’’سر اقبال‘‘ بنام ’’حسین احمد‘‘ ۔ ماضی کی ایک کہانی کا معما ڈاکٹر جاوید اقبال کی کتاب کی روشنی میں
― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
کتابیں لکھے اور چھاپے جانے کی موجودہ گرم بازاری میں اگر کوئی واقعی ’’کتاب‘‘ ہاتھ آ جائے تو کچھ زیاہ ہی اچھی معلوم ہونا قدرتی بات ہے۔ علامہ اقبال کے سوانح حیات میں علامہ کے فرزند ارجمند جسٹس (ریٹائرڈ) ڈاکٹر جاوید اقبال...
تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت
― پروفیسر شاہدہ قاضی
کیا دیو مالا کا تاریخ سے کوئی تعلق ہے؟ کیا دیو مالا اور تاریخ ہم معنی الفاظ ہیں؟ یا کیا تاریخ دیومالا ہی کا نام ہے؟ یہ بات مانی جاتی ہے کہ دونوں کے مابین فرق بہت باریک سا ہے۔ نا معلوم زمانے سے انسان اپنی اساسات کی تلاش...
’’حدود آرڈیننس: کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ ۔ ’’فکر و نظر‘‘ کے تبصرے کا جائزہ
― ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
فکر ونظر کے شمارہ اکتوبر۔دسمبر ۲۰۰۴ میں راقم کی کتاب ’’حدود آرڈیننس: کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ پر ادارۂ تحقیقات اسلامی کے نامور محقق جناب ڈاکٹر محمد طاہر منصوری کا انتہائی وقیع تبصرہ شائع ہوا جس میں جہاں انھوں نے...
امریکی تعلیمی اداروں میں آزادی فکر کی صورتحال
― بشارہ دومانی
آپ کو کوئی کتاب خریدنی یا لائبریری سے جاری کروانی ہے تو ذرا سوچ سمجھ کر کروائیے۔ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی، آرویلین نیمڈ پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت آپ کی نگرانی کر سکتا ہے۔ اس قانون کی ایک اور شق کے مطابق اس بات کا بھی خطرہ...
قربانی کی رسم کا نفسیاتی پہلو
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
قربانی کا تصور شاید اتنا ہی قدیم ہے جتنی انسان کی معلوم تاریخ ۔ تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں قربانی کی رسم موجود رہی ہے ۔ یہ رسم اپنے ظاہر میں متنوع ہونے کے باوجود کسی ایسے یکساں جذبے یا داخلی تحریک کی علامت...
شیعو اور سنیو! تاریخ سے سبق سیکھو
― علامہ سید فخر الحسن کراروی
اللہ کو ایک ماننے والو! اسلام نے تمھیں مومن اور مسلم کہا، تم نے اپنے آپ کو شیعہ اور سنی کہنا شروع کر دیا۔ اسلام نے اقرار توحید اور اقرار رسالت کو مدار اسلام قرار دیا، تم نے قبول اسلام کے لیے شرائط میں اپنی طرف سے نئے نئے...
جناب احمد البداوی کے خطاب کا ایک جائزہ
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
یکم اکتوبر ۲۰۰۴ کو وزیرِ اعظم ملائشیا جناب عبد اللہ احمد بداوی نے میگڈیلن کالج آکسفرڈ یونیورسٹی (برطانیہ ) کے آکسفرڈ مرکز برائے مطالعہ اسلامیات میں خطاب کیا۔ اس خطاب میں پیش کیے گئے نکات کی عمومی نوعیت شاید ہمارے لیے...
تحریکِ استشراق اور اس کے اہداف و مقاصد
― حافظ محمد سمیع اللہ فراز
استشراق (Orientalism) کی اصطلاح قدیم عربی لغات میں مفقود ہے اور موجودہ مفہوم میں بھی عربوں میں کبھی اس کا استعمال نہیں رہا، بلکہ یہ لفظ غیرمسلم مفکرین کا وضع کردہ ہے جس کے لیے عربی میں ’استشراق ‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔...
آئیے! اپنا کتبہ خود لکھیں
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
تمدنی زندگی کی گہما گہمی میں ہمارے پاس سوچ بچار کے لیے عموماً وقت نہیں ہوتا ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ویسے بھی غور و فکر کے تقریباً سبھی راستے مسدود کر دیے ہیں ۔ آخر معلومات کے سیلاب میں بہنے والوں کو توقف و ٹھہراؤ کی...
شیعہ سنی تعلقات اور متوازن رویہ ۔ ایک شیعہ عالم کے خیالات
― ڈاکٹر یوگندر سکند
مولانا کلب صادق انڈیا کے ممتاز اثنا عشری شیعہ راہنما ہیں۔ ان کا تعلق لکھنو کے ایک ایسے علمی خانوادے سے ہے جس نے ماضی میں کئی علما پیدا کیے۔ ایک ممتاز عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی...
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
― مولانا محمد یوسف
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۴ء کے شمارے میں پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ کے توسط سے ان کے تازہ ترین افکار سے آشنائی ہوئی۔ موصوف نے اپنے مضمون میں آرٹ کی...
مسئلہ فلسطین یہودی مذہبی پیشوا کی نظر میں
― مولانا حبیب نجار
گزشتہ دنوں رابطۃ العالم الاسلامی کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ارض فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک یہودی مذہبی پیشوا یسرائیل ڈیوڈ کا انٹرویو نظر سے گزرا تو ماہنامہ الشریعہ ستمبر/اکتوبر...
دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
معاشرے میں چھائی ہوئی ابتری کے پیشِ نظر ہمارے ہاں ایک جملے کی مقبولیت کا گراف مسلسل بلند ہوتا جا رہا ہے۔ وہ مقبولِ عام جملہ یہ ہے کہ ’’لوگ بے دین ہو گئے ہیں ‘‘۔ حالانکہ یہ بات صریحاً غلط ہے، کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ...
SDPI کی رپورٹ کا ایک جائزہ
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
پاکستان کی تاریخ محض سیاسی کشمکش کی تاریخ نہیں ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے اسے مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ان مسائل کی نوعیت مختلف ہونے کے باوجود ’’تعلیم ‘‘ ہمیشہ موضوع بحث ہونے کے باعث ہر دور کا مشترکہ مسئلہ رہی۔ یہ...
برصغیر کی مذہبی فکر کا ایک تنقیدی جائزہ ۔ عالمی سیاست ومعیشت کے تناظر میں
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
اس وقت عالمِ اسلام اور وطنِ عزیز کی ناگفتہ بہ حالت کے معروضی تجزیے کے لیے جس اخلاقی جرات اور تاریخی شعور کی ضرورت ہے، شاید اس سے دیدہ و دانستہ پہلو تہی برتی جا رہی ہے۔ نتیجے کے طور پر قومی و ملی مورال گرتا جا رہاہے۔ عوام...
ارضی نظام کی آسمانی رمز
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
جدید دور کے ریاستی و جمہوری نظام کی فکری آبیاری ہابس (۱)، لاک(۲) اور روسو (۳)نے کی تھی ، پھر کارل مارکس(۴) نے اپنے عہد کے مخصوص احوال و ظروف کے طفیل اسے ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ ان مفکرین کے پیش کردہ نظریات اور ان کے...
فکری و مسلکی تربیت کے چند ضروری پہلو
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
کل سے مختلف مسائل پر گفتگو چل رہی ہے۔ ہم نے صبح کی نشست میں نصاب اور اساتذہ کی تدریسی اور تربیتی مشکلات کے حوالے سے بات کی، جس کے نتیجے میں تفصیلی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ اس نشست میں میری گفتگو کا عنوان ہے ’’فکری ومسلکی...
مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق دار کون؟
― مولانا محمد یوسف
روئے زمین پر سب سے محترم ومقدس مقامات مساجد ہیں۔ جناب نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: احب البلاد الی اللہ مساجدہا ۔ ان مساجد میں سے بعض ایسی ہیں جن کو کسی نہ کسی وجہ سے امتیازی مقام حاصل ہے۔ روئے زمین پر قائم تین مساجد...
’’مسجد اقصیٰ ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ ۔ ناقدین کی آرا
― ادارہ
مدینہ منورہ اور خیبر میں یہود کی بستیوں پر قبضہ اور انہیں جلاوطن کرنے کے بعد ان کی تمام عبادت گاہیں ختم ہو گئی ہیں اور ان کی جگہ مسلمانوں کے مکانات اور عبادت گاہیں تعمیر ہوئی ہیں۔ اسی طرح نجران سے عیسائیوں کی جلاوطنی...
کیا علاقائی کلچر اور دین میں بُعد ہے؟
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
ماہنامہ الشریعہ کے نومبر ۲۰۰۳ء کے شمارے میں رئیس التحریر جناب ابو عمار زاہد الراشدی کا مضمون بعنوان ’’خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام‘‘ شائع ہوا۔ راشدی صاحب کے طرز استدلال اور وسعت بیان کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس...
سماجی تبدیلی کے نئے افق اور امت مسلمہ
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
اپنے ظہور کے بعد سے انسانی معاشرہ نوع بہ نوع تبدیلیوں سے ہمکنار ہوتا چلا آ رہا ہے۔اکیسو یں صدی میں یہ تبدیلیاں رفتار اور نوعیت کے اعتبار سے منفرد کہی جا سکتی ہیں۔اس وقت انسانی آبادی کی بہتات اور اس سے جنم لیتے مختلف...
| < | 301-350 (385) | > |