جماعتی زندگی کا مفہوم اور اس کی اہمیت

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

بلاشک وشبہ مذہب اسلام نے جماعتی زندگی پر بڑا زور دیاہے اور جماعتی زندگی کے ترک کو اسلامی زندگی کے ترک سے تعبیر کیاہے جس کا نتیجہ سوائے خسران اور عذاب جہنم کے اور کیا ہو سکتا ہے؟ (معاذ اللہ) اور حدیث ’من شذ شذ فی النار‘ (ترمذی، ۲/۲۹ ومشکوۃ ۱/۳۰) کا یہی مطلب ہے اوردوسری حدیث میں واشگاف الفاظ میں رسول برحق حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ :

فانہ لیس احد یفارق الجماعۃ شبرا فیموت الا مات میتۃ جاہلیۃ (متفق علیہ)
’’جو شخض بھی جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوا اوراسی حالت میں اس کی وفات ہوگئی تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔‘‘

اورظاہر ہے کہ ایسی زندگی اسلامی زندگی کے سراسر مخالف ہے، کیونکہ اسلامی زندگی کی روح ہی یہ ہے کہ مومن کی حیات وموت، اس کی عبادت اورعمل صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لیے ہو اور بس۔ اس کا جو قدم بھی اٹھتاہو، اپنے ذوالمنن کے شوق دیدار کے لیے اٹھے، اوراس کے لبوں سے جب بھی کوئی بات نکلے توصرف حق تعالیٰ کی فرمانبرداری کے لیے۔ اورکیوں نہ ہو، اس کو تو سبق ہی یہ ملاہے: ’قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین‘۔

یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہے کہ اسلام کی نگاہ میں جماعتی زندگی کا معنی اور مطلب کیا ہے اور اسلام جماعتی زندگی کس زندگی کو کہتا ہے؟ اسلامی تعلیم کی رو سے جماعتی زندگی یہ نہیں کہ باہم مل کر تفریح طبع کے لیے کوئی کلب بنا لیا جائے اور فرصت کے اوقات میں وہاں جمع ہوکر خوش گپیاں ہانکی جائیں اوردل کی امنگیں نکالی جائیں یا اتفاق کرکے کوئی اکھاڑا اور ورزش گاہ تجویز کرلی جائے جہاں صبح وشا م اکٹھے ہوکر ورزش کی جائے یا کشتی لڑی جائے یا اصلاحی نام پر کوئی ادارہ یاانجمن بنالی جائے اور صلاح مشورہ سے اپنے مزعومہ اور مفروضہ دنیوی اغراض ومقاصد کو بروئے کار لایا جائے، یا کوئی کمیٹی ترتیب دی جائے جس کے ذریعے ووٹوں کی دنیا میں اپنے مقصد پنہاں کو عملی جامہ پہنایا جائے، یا قرآن وسنت اور فقہ اسلامی سے مستغنی ہوکر اپنے خود تراشیدہ اور خانہ ساز اصول کے تحت کوئی سوسائٹی وضع اور اختراع کرلی جائے جس میں ملکی، قومی،سیاسی، اقتصادی، معاشی، اور معاشرتی مفاد کو انجام دینے کی سعی اور کوشش کی جائے یا اسی قسم کی کوئی اوراجتماعی صورت اختیار کرلی جائے جس میں ز ندگی کے لائحہ عمل پر غور وخوض کیا جائے۔ اگرچہ ان تمام صورتوں میں نظر بہ ظاہر اجتماعی زندگی تو موجودہے لیکن اسلامی نقطہ ہائے نظر سے یہ اس اجتماعی زندگی کی مصداق ہرگز نہیں جو اسلام کو مقصود و مطلوب ہے بلکہ اسلام یہ چاہتاہے کہ امت مسلمہ کی یک جہتی واجتماع، اس کا اتفاق واتحاد، اوراس کانظم وضبط محض خداتعالیٰ کی رضاجوئی اوراس کی خوشنودی کے لیے ہو، اورجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کے لیے ہو، قرآن وحدیث کی سربلندی کے لیے ہو، خلافت راشدہ کے قیام اوراس کی بقا کے لیے ہو، سلف صالحین کے بہترین طرز زندگی کے احیا کے لیے ہو، اور ملت کے ایک ایک فردکی کوشش وکاوش، سعی وعمل، تپش وخلش اور سوز وگداز جو ان کے قلب عشق آمیز کی گہرائیوں سے ابھر کر لب آتش نوا تک آپہنچا ہو اورجس کی بدولت جذب واثر کی دنیا رقص کرتی دکھائی دے، صرف اور صرف اطاعت خدا اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو، کتاب وسنت کے لیے ہو، اسلا م کی رفعت اور کامیابی کے لیے ہو۔ 

جس وقت اور جس قدر یہ آرزو بلند اور پاکیزہ تھی، اس وقت یہ ا مت مسلمہ اور اس کا ایک ایک فرد بہمہ تن رضائے خداوندی، پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورتبلیغ اسلام میں منہمک تھا، مگر ان کی تبلیغ وسعی محض زبا ن کی شرینی اورقلم کی روشنائی ہی کی رہین منت نہ تھی بلکہ اس میں خون جگر کی سرخی اوردل کی سوز ش بھی شامل تھی۔ وہ باوجود اختلاف استعداد کے اسلام کے صاف وشفاف چشمہ سے مستفید ہوکر سب عالم کومنور کرنے کے درپے تھے۔ ایک بجلی تھی جو سب میں کوند رہی تھی، ایک بے قرار روح تھی جو سب میں تڑپ رہی تھی، سیماب کی طرح نہ ٹھہرنے والا دل تھاجس نے سب کو بے قرار کر دیا تھا۔ وہ بے سروسامان تھے مگر منظم حکومتیں ان سے لرزتی تھیں، تاج وتخت کے مالک ان سے تھراتے تھے۔ وہ تھوڑے تھے مگر غالب و منصورتھے۔ وہ پیدل تھے مگربرق رفتار تھے۔ وہ بعض دفعہ اکیلے ہوتے مگرہزاروں پر بھاری رہتے تھے۔ نور توحید کاجذبہ، مخلوق خدا کی ہدایت اوراصلاح کاولولہ اور کائنات کی رہنمائی کی فکر ہر ایک قلب میں پیوستہ تھی جس کے سبب خداتعالیٰ کے نام کی سربلندی، اطاعت رسول کاجذبہ، مخلوق کی صحیح ہمدردی اورہر کام میں خداتعالیٰ کی رضا طلبی کا جوش ان میں کام کر رہا تھا۔ وہ جو کچھ بھی تھے، جہاں بھی تھے اورجیسا کچھ بھی کیا کرتے تھے، ان کے ہر کام سے مقصود اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور دنیا کی درستی تھی اور بس۔ ان کی دوستی اور مودت بھی محض خداتعالیٰ کے لیے ہوتی تھی اور ان کی عداوت ود شمنی بھی صرف خداکے لیے ہوتی تھی۔ وہ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کا مجسم پیکر تھے۔ ان کی یہ صفت تھی کہ :

رہ حق میں تھی دوڑاوربھاگ ان کی
فقط حق پہ تھی جس سے تھی لاگ ان کی 
بھڑکتی نہ تھی خود بخودآگ ان کی
شریعت کے قبضے میں تھی باگ ان کی 
جہاں کردیا نرم نرما گئے وہ
جہاں کردیا گرم گرما گئے وہ 
کفایت جہاں چاہیے واں کفایت
سخاوت جہاں چاہیے واں سخاوت 
جچی اور تلی دشمنی اور محبت
نہ بے وجہ الفت، نہ بے وجہ نفرت 
جھکا حق سے جو جھک گئے اس سے وہ بھی 
رکا حق سے جو رک گئے اس سے وہ بھی 

اسلام میں جس اتفاق واتحاد اور جماعتی زندگی کو ملحوظ رکھا گیاہے، وہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیا ن فرمائی ہے:

واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا (آل عمران ؛۳،۱۰۳)
’’اورتم اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑواور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کی اس مضبوط اور متین رسی کو جو قرآن مجید اور دین قیم کے نام سے موسوم ہے، پوری قوت اور طاقت کے ساتھ پکڑو۔ یہ عروہ وثقیٰ اورمحکم رسی ٹوٹ تو سکتی نہیں، لا انفصام لھا، ہاں حرماں نصیبوں کے ہاتھوں سے چھوٹ سکتی ہے۔ اگر مسلمان سب مل کر اجتماعی قوت اور امکانی طاقت سے اس کو پکڑ لیں گے تو کبھی کسی باطل اور طاغوتی طاقت سے بفضلہ تعالیٰ ان کو کوئی گزند اور تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ کوئی شیطان صفت اپنی شیطنت اور شرانگیزی میں کبھی کامیاب ہوسکے گا اورانفرادی زندگی صالح ہونے کے علاوہ امت مسلمہ کی اجتماعی اور قومی قوت بھی بڑی مضبوط اور ناقابل اختلا ل ہوجائے گی اورقرآن وسنت سے تمسک کرنے کی برکت سے تمام بکھری ہوئی قوتیں جمع ہو جائیں گی اور مردہ قوموں کوابدی زندگی اور حیات تازہ حاصل ہوگی۔ آہستہ آہستہ جو اس کیف سے معمور اورشراب حق کے نشہ سے مخمور ہوگا، اس کے دل سے اسلام کی اجنبیت دور اوربے گانگی کافور ہو جائے گی۔ صدائے حق کی کشش اور نوائے صدق کی سریلی بانسری ضرور منیب دلوں پر اثر کرے گی۔ کان والے اسے سنیں گے اورجو سنیں گے سر دھنیں گے۔ اسلام کی رفعت اور سر بلندی کے لیے وہ اپنے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں پہن کر اور اپنے پاؤں میں زنجیروں کے بوجھل حلقے ڈال کر اوراپنے نرم ونازک جسم کو چور چور کروا کر بلکہ اکثر اوقات دار ورسن کے نیچے کھڑے ہوکر بھی وہ ایسی لذت محسوس کرتے ہیں جو شاہ ہفت اقلیم کو سلطنت کا سنہری تاج پہن کر بھی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی، کیونکہ وہ اپنی بقاکا راز ہی اسی میں سمجھتے ہیں کہ :

فنافی اللہ کی تہہ میں بقا کا راز مضمر ہے 
جسے جینا نہیں آتا، اسے مرنا نہیں آتا

(تبلیغ الاسلام، حصہ اول، ص ۳۳ تا ۳۷)

آراء و افکار

اگست ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۸