مقام عبرت (۲)

مولانا مفتی عبد الواحد

(’’حدود و تعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ پر تنقید و تبصرہ۔)


محمد عمار صاحب اور زنا کی سزا

محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:

’’قرآن مجید میں زنا کی سزا دو مقامات پر بیان ہوئی ہے اور دونوں مقام بعض اہم سوالات کے حوالے سے تفسیر و حدیث اور فقہ کی معرکہ آرا بحثوں کا موضوع ہیں۔
پہلا مقام سورۂ نساء میں ہے۔ ارشاد ہوا ہے:
وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًاo وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْھُمَا فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔ (۴:۱۵، ۱۶)
’’اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کرتی ہوں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ایسی عورتوں کو گھروں میں محبوس کر دو، یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ بیان کر دیں۔ اور تم میں سے جو مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں، انہیں اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے در گزر کرو۔ بے شک، اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔‘‘
سزا کی نوعیت اور حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلاً کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ ایک عبوری سزا تھی جس کی جگہ بعد میں زنا کی سزا سے متعلق حتمی احکام نے لی۔ اس لحاظ سے عملاً یہ آیت اب شریعت کے کسی مستقل حکم کا ماخذ نہیں رہی، تاہم ان آیتوں کے مفہوم کی تعیین میں مفسرین کو بڑی الجھن کا سامنا ہے۔ ان میں سے پہلی آیت میں صرف خواتین کی سزا بیان ہوئی ہے جب کہ دوسری آیت میں زانی مرد اور عورت، دونوں کی۔ بنیادی الجھن یہ ہے کہ خواتین کی سزا کو پہلے الگ ذکر کرنے اور پھر اس کے بعد مرد و عورت، دونوں کی سزا بیان کرنے کا مقصد اور باعث کیا ہے؟‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۲۳، ۱۲۴)

ہم کہتے ہیں: یہ ذکر کرنے کے بعد محمد عمار صاحب نے اس الجھن کے جواب میں بہت سے مفسرین کے اقوال نقل کیے ہیں لیکن ہر قول کو انہوں نے مخدوش قرار دیا۔ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں زنا سے متعلق دو ہی باتیں اہم ہیں:

i- شادی شدہ عورت کا زنا کرنا اور اس پر اس کے شوہر کا زنا کا الزام رکھنا۔

ii- مرد کا غیر شادی شدہ، عورت سے زنا کرنا اگرچہ وہ کنواری ہو یا بیوہ ہو یا مطلقہ ہو۔

اور ان ہی سے متعلق واقعات بھی پیش آئے جو حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ رہی محمد عمار صاحب کی یہ بات کہ اس وقت کے دو اہم مسئلے بدکاری کے اڈے چلانے اور یاری آشنائی کو مستقل شغل بنانے کے تھے تو یہ ان کی محض اختراع کیونکہ اس وقت کے مسلمان معاشرے میں ایسی کوئی خرابی تاریخ سے یا حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

قرآن اور سنت میں ان دونوں ہی کے اعتبار سے احکام دیے گئے ہیں۔ عبوری طور پر پہلی صورت میں یہ حکم دیا کہ عدالت شوہر سے چار گواہ طلب کرے۔ اگر وہ گواہ پیش کر دے تو عدالت کے حکم پر عورت کو گھر میں قید کر دیا جائے۔ دوسری صورت میں یہ حکم دیا کہ ان کا زنا ثابت ہونے پر ان کو تعزیر کی جائے۔

مفسرین کے اقوال پر محمد عمار صاحب نے جو اعتراضات اٹھائے ہیں وہ ہمارے دیئے ہوئے جواب پر نہیں پڑتے کیونکہ ہمارے جواب میں:

۱۔ دونوں آیتیں الگ الگ صورتوں پر محمول ہیں۔

۲۔ پہلی آیت میں خطاب تمام مسلمانوں سے ہے اور ان کی بیویوں سے متعلق ہے لہٰذا حکم دینے اور سزا نافذ کرانے کا تعلق مسلمانوں کے اجتماعی نظم یعنی حاکم یا عدالت و قضا سے ہو گا۔

۳۔ دوسری آیت میں صرف مرد زانیوں کی سزا مراد نہیں بلکہ مرد و عورت دونوں کی سزا مراد ہے۔

۴۔ دونوں آیتوں میں خرچ کا مدار چار گواہوں کے ہونے نہ ہونے پر بھی نہیں رکھا گیا۔

۵۔ فاحشہ کے لفظ سے زنا ہی مراد لیا ہے لواطت نہیں۔

محمد عمار صاحب کی سوچ کا زاویہ اگر صحیح ہوتا تو شاید وہ خود ہی ہمارے جواب تک پہنچ جاتے یا اس سے بھی بہتر جواب سوچ لیتے لیکن سوچ و فکر کا زاویہ غلط ہونے سے ان کو جاوید غامدی صاحب کا ہی فلسفہ پسند آیا ہے۔ اس لیے وہ لکھتے ہیں:

’’جناب جاوید احمد غامدی نے مولانا اصلاحی کی رائے کے اس پہلو سے تو اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت زنا کے ان مجرموں سے متعلق نہیں جو کسی وقت جذبات کے غلبے میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، بلکہ دراصل زنا کو ایک عادت اور معمول کے طور پر اختیار کرنے والے مجرموں سے متعلق ہے، البتہ دونوں آیتوں کے باہمی فرق کے حوالے سے ان کی راے یہ ہے کہ پہلی آیت کا مصداق وہ پیشہ ور بدکار عورتیں ہیں جن کے لیے زنا شب و روز کا شغل تھا، جب کہ دوسری آیت میں ایسے مردوں اور عورتوں کی سزا بیان ہوئی ہے جن کا ناجائز تعلق یا ری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ ان کی رائے میں قرآن مجید نے دوسرے مقامات پر ان میں سے پہلی صورت کو ’مُسٰفِحِیْنَ‘ اور ’مسٰفِحٰتِ‘ جب کہ دوسری صورت کو ’مُتَّخِذِیْ اَخْدَانٍ‘ اور ’مُتَّخِذَاتِ اَخْدَانٍ‘ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔
ہماری رائے میں آیت کی یہ تاویل اس پہلو سے قرین قیاس لگتی ہے کہ اس میں جرم کی جن دو صورتوں کو متعین کیا گیا ہے، ان کا عرب معاشرت میں پایا جانا مسلم ہے، ان کی سزا کو قانون کا موضوع بنانا بھی قابل فہم ہے اور اس سے دونوں صورتوں میں تجویز کی جانے والی الگ الگ سزاؤں کی وجہ اور حکمت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پہلی آیت میں صرف خواتین کی سزا کو موضوع بنانے کی وجہ یہ ہے کہ پیشہ ورانہ بدکاری میں بنیادی کردار خواتین ہی کا ہوتا ہے اور جرم کے سد باب کے لیے اصلاً انہی کی سرگرمیوں پر پہرہ بٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مرد و عورت میں یاری آشنائی کے تعلق کی صورت میں دونوں جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور دونوں ہی کی تادیب و تنبیہ کو قانون کا موضوع بنانا پڑتا ہے۔ مزید براں جہاں تک ہم غور کر سکے ہیں، آیت کے الفاظ اور سیاق و سباق میں کوئی چیز اس تاویل کو قبول کرنے میں مانع نہیں، اس لیے جب تک کوئی قابل غور اعتراض سامنے نہ آئے، یہ کہنا ممکن دکھائی دیتا ہے کہ اس تاویل کی روشنی میں آیت کی مشکل بظاہر قابل اطمینان طریقے سے حل ہو جاتی ہے۔
اوپر کی سطور میں ہم نے سورۂ نساء کی ان آیات کا جو مفہوم متعین کیا ہے، اگروہ درست ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن مجید نے زنا کی عبوری سزا بیان کرتے ہوئے صرف زنا کے عادی مجرموں کو موضوع بنایا ہے، جب کہ اتفاقیہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اصول تدریج کے تناظر میں اس کی حکمت واضح ہے۔ اگر کسی معاشرے میں مناسب اخلاقی تربیت کے فقدان اور زنا کے محرکات کی کثرت کے سبب سے کسی جرم کا سدباب فوری طور پر ممکن نہ ہو تو ابتدائی مرحلے پر ہلکی سزاؤں پر اکتفا کرنا اور سزا کے لیے جرم کو عادت اور معمول بنا لینے والے مجرموں پر توجہ مرکوز کرنا ہر اعتبار سے قابل فہم ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۳۴، ۱۳۵)

ہم کہتے ہیں: محمد عمار صاحب کا جاوید غامدی کے نظریہ کو ترجیح دینا مندرجہ ذیل وجوہ سے غلط ہے: 

۱۔ حدیث میں اس آیت کا حوالہ دے کر جو حکم بیان کیا گیا ہے اس میں پیشہ ور اور غیر پیشہ ور عورتوں کا کوئی فرق نہیں کیا گیا۔

۲۔ یہ امت کے اجماع کے خلاف ہے۔

۳۔ آیت میں مِنْکُمْ سے مراد مسلمان ہیں اور یہ بعید ہے کہ ایک انتہائی صالح مسلمان معاشرہ میں جس کی تربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہوں اس میں ایسے مسلمان افراد بھی ہوں جو بدکاری کے اڈے چلا رہے ہوں یا جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا ہو۔ غرض کوئی بھی با غیرت مسلمان اس تصور کو اپنے دل و دماغ میں جگہ نہیں دے سکتا۔ لیکن غامدی صاحب الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے بمصداق یوں دھونس جماتے ہیں ’’یہی وہ چیز ہے جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ آیت ہماری تفسیروں میں ایک لا ینحل معما بنی ہوئی ہے‘‘۔ (میزان ص ۲۸۷)

۴۔ یہ آیتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور صحابہؓ کے دور میں بھی تھیں اور اس وقت بھی یہ کچھ معنی رکھتی تھیں۔ ان کا جو معنی و ترجمہ عمار صاحب یا غامدی صاحب کر رہے ہیں، کیا یہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا تھا یا صحابہ نے سمجھا تھا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا یہ مذموم تفسیر بالرائے کا مصداق نہیں بن جاتی۔

۵۔ غامدی صاحب خود اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

’’ان (الفاظ) کا اسلوب دلیل ہے کہ یہ قحبہ عورتوں کا ذکر ہے۔ اس صورت میں اصل مسئلہ چونکہ عورت ہی کا ہوتا ہے اس لیے مرد زیر بحث نہیں آئے‘‘۔ (میزان ص ۲۸۷) اور آیت میں جو چار گواہ طلب کرنے کا حکم ہے تو ’’وہ اس بات کے گواہ ہوں کہ وہ فی الواقع زنا کی عادی قحبہ عورتیں ہی ہیں۔‘‘ (میزان ص ۲۸۷)

ہم کہتے ہیں کہ وَالَّذَانِ یَاتِیَانِھَا کا اسلوب بھی بعینہ اسی طرح کا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے لیے قحبہ ہونا اور پیشہ ور ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ ان الفاظ کا ترجمہ وہ یہ کرتے ہیں ’’وہ مرد و عورت جو یہ برائی کریں۔‘‘ اب معلوم نہیں کہ غامدی صاحب نے واقعی خود بھی آیت کے ترجمہ میں ترمیم کر کے اس کی وضاحت میں یہ قید بڑھائی ہے کہ ’’جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا ہو‘‘ یا یہ محمد عمار صاحب کے قلم کی فنکاری ہے۔ غرض اگر غامدی صاحب نے ایسا کچھ نہیں کیا تو غامدی صاحب پر یہ اعتراض ہے کہ ایک ہی اسلوب کے باوجود ترجمہ کا فرق بے بنیاد ہے اور محمد عمار صاحب پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے من گھڑت بات کو غامدی صاحب سے منسوب کر دیا اگر غامدی صاحب یہ قید لگاتے ہیں تو وہ قرن اول کے اسلامی معاشرہ پر ایک اور الزام کا اضافہ کرتے ہیں۔

زنا کی سزا

محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:

’’اس عبوری سزا کے بعد زنا کی حتمی سزا سورہ نور میں بیان کی گئی۔ ارشاد ہوا ہے:
الَزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ وَلَا تَاخُذْکُمْ بِِھِمَا رَافَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُوْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ۔ (سورہ نور: ۲)
’’زانی عورت اور زانی مرد ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔ اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر فی الواقع ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملے میں ان دونوں کے ساتھ ہمدردی دکھانے کا جذبہ تم پر حاوی نہ ہو جائے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۳۶)
’’سورہ نور کی یہ آیت اپنے ظاہر کے لحاظ سے حکم کے جن اہم پہلوؤں پر دلالت کرتی ہے انہیں درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:
ایک یہ کہ یہاں حکم زنا کی ان مخصوص صورتوں تک محدود نہیں رہا جو عبوری سزا کا موضوع بنی تھیں، بلکہ اتفاقیہ زنا کا مرتکب ہونے یا اسے عادت اور معمول بنا لینے کے پہلو سے مجرد کرتے ہوئے فی نفسہ زنا کے جرم کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس طرح یہ حکم اپنے دائرہ اطلاق کے اعتبار سے زنا کی تمام صورتوں کو شامل اور اس میں بیان ہونے والی سزا زنا کی ہر صورت پر یکساں قابل نفاذ ہے۔
دوسرے یہ کہ قرآن نے نفس زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے مجرم کی ازدواجی حیثیت کو بھی موضوع نہیں بنایا اور زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نفس زنا کے ارتکاب پر ہر طرح کے زانی کو چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، بس یہی سزا دینا چاہتا ہے۔۔۔
تیسرے یہ کہ نفس زنا کی سزا کے بیان کو قرآن نے چونکہ یہاں خود موضوع بنایا ہے، اس لیے یہ سزا کسی کمی بیشی کے بغیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو قرآن نے بیان کی ہے۔ جرم کی نوعیت اور اس کی سنگینی اگر تقاضا کرے تو یقیناًمجرم کو اس کے علاوہ کوئی مزید سزا بھی دی جا سکتی ہے۔۔۔
سورہ نساء کی آیت میں زنا کے جن عادی مجرموں کے لیے عبوری سزا بیان کی گئی ان کا جرم چونکہ زنا کے عام مجرموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سنگین تھا اور ان میں سے بالخصوص یاری آشنائی کا تعلق رکھنے والے بدکار جوڑے اس عرصے میں توبہ و اصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئے تھے اس لیے عام مجرموں کے برخلاف زنا کے یہ عادی مجرم بدیہی طور پر اضافی سزاؤں کے بھی مستحق تھے۔ چنانچہ ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
۔۔۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی۔۔۔ تو آپ نے فرمایا مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے راہ پیدا کر دی ہے۔ شادی شدہ زانی شادی شدہ زانیہ کے ساتھ ہے اور کنوارا زانی کنواری زانیہ کے ساتھ۔ شادی شدہ کو سو کوڑے مارنے کے بعد سنگسار کیا جائے جب کہ کنوارے کو سو کوڑے مارنے کے بعد ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔
سورہ نساء کی زیر بحث آیت کے حوالے سے ہم جناب جاوید احمد غامدی کی اس رائے کا ذکر کر چکے ہیں کہ یہاں زنا کے عام مجرم نہیں بلکہ صرف عادی مجرم زیر بحث ہیں۔ اگر یہ رائے درست ہے تو پھر عبادہ بن صامت کی زیر بحث روایت بھی زنا کے عام مجرموں سے متعلق نہیں، بلکہ جیسا کہ خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا کے الفاظ سے واضح ہے، قحبہ عورتوں اور ان زانیوں سے متعلق قرار پائے گی جن کے ہاں یاری آشنائی ایک مستقل تعلق کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ اگر ایسے مجرموں میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی سزا میں تفریق کرنے اور قرآن مجید میں بیان کردہ سو کوڑوں کی سزا کے علاوہ جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں دینے کا حکم دیا گیا ہو تو اس سے قرآن مجید کے ساتھ تعارض کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کسی قسم کے اضافی پہلو سے قطع نظر کرتے ہوئے نفس زنا کی سزا بیان کی گئی ہے۔ تاہم صدر اول سے اہل علم کی غالب ترین اکثریت کا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ عبادہ بن صامت کی روایت اور اس کے علاوہ جلا وطنی اور رجم کی سزا سے متعلق دیگر روایات زنا کے عام مجرموں ہی سے متعلق ہیں اور متعدد روایات سے بظاہر اس رائے کی تائید ہوتی ہے۔ اس رائے کے مطابق ان اضافی سزاؤں کو ہر طرح کے زانی پر قابل اطلاق مانا جائے تو یہ بات بظاہر قرآن مجید کے مدعا سے متجاوز قرار پاتی ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ۱۳۵-۱۳۸ )

اس عبارت میں محمد عمار صاحب کی غلطیاں

محمد عمار صاحب کی یہ طویل عبارت بہت سی خرابیوں پر مشتمل ہے جو یہ ہیں:

پہلی خرابی: 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن افراد کو رجم کی سزا دی یہ نہیں ملتا کہ آپ نے ان کو سو کوڑوں کی بھی سزا دی ہو حالانکہ محمد عمار صاحب کے نظریہ کے مطابق سو کوڑے ان کی سزا کے لازمی جزو ہوتے ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔‘‘

دوسری خرابی: 

اسی طرح یہ بھی نہیں ملتا کہ ان افراد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سو کروڑوں کی سزا دی ہو یا تعزیر کی ہو لیکن ’’وہ توبہ و اصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئے تھے۔‘‘

تیسری خرابی: 

محمد عمار صاحب نے لکھا کہ ’’قرآن نے زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نفس زنا کے ارتکاب پر ہر طرح کے زانی کو چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، بس یہی سزا دینا چاہتا ہے‘‘۔ اس پر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نفس زنا پر سزا دینے میں شادی کے ہونے نہ ہونے کا اعتبار نہیں کرتے تو اضافی سزاؤں میں وہ اس کا اعتبار کیوں کرتے ہیں ؟ کیا ایک جگہ ان کے درمیان فرق کا باعث دوسری جگہ ان میں فرق کا باعث نہیں بن سکتا؟

چوتھی خرابی:

رجم کی سزا کا تعلق جب قحبہ عورتوں اور ان زانیوں سے متعلق ہے جن کے ہاں یاری آشنائی ایک مستقل تعلق کی صورت اختیار کر چکی تھی تو اس کو یہ لازم ہو گا کہ ماعز رضی اللہ عنہ اور غامدیہ خاتونؓ توبہ توبہ انتہائی بد کردار لوگ تھے جنہوں نے توبہ و اصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش نہ بدلی تھی۔ محمد عمار صاحب نے اس بات کو اس طریقہ سے پیش کیا ہے کہ یہ نتیجہ ان کو بس لازم ہی ہو ورنہ ان کے ممدوح اہل علم امین احسن اصلاحی اور حمید الدین فراہی تو ماعز رضی اللہ عنہ کے بارے میں التزام کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی لکھتے ہیں کہ ’’اس کی بد اخلاقی حد سے بڑھی ہوئی تھی‘‘ اور ’’یہ ایک نہایت بدخصلت غنڈا تھا۔‘‘

پانچویں خرابی: 

محمد عمار صاحب کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی اسلامی ریاست کا جو تصور بنتا ہے، وہ ایسا ہے کہ اس میں قحبہ عورتوں کے اڈے قائم ہیں اور مستقل یاری و آشنائی کے مواقع حاصل ہیں اور ان کو ختم کرنے کی اس ریاست میں کچھ طاقت نہیں کیونکہ یہ نہیں ملتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قحبہ عورتوں کے اڈے ختم کرائے ہوں۔

چھٹی خرابی:

محمد عمار صاحب نے لکھا ہے کہ ’’زنا کے یہ عادی مجرم بدیہی طور پر اضافی سزاؤں کے بھی مستحق تھے چنانچہ ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں ’’یہاں عمار صاحب نے متعین اضافی سزاؤں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہدایت (Instruction) بتایا ہے اور چونکہ اس ہدایت میں کوئی قید نہیں ہے لہٰذا ان کی بات کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ عادی مجرموں پر ہر حال میں اضافی سزا نافذ کی جائے گی اور چونکہ وہ اضافی سزا متعین بھی ہے لہٰذا وہ حد کے طور پر ہے، تعزیرکے طور پر نہیں اور اس میں کمی بیشی بھی ممکن نہیں۔ لیکن محمد عمار صاحب جلا وطنی کی سزا پر کلام کرتے ہوئے اپنی اس بات کے تمام تقاضوں کو بھول گئے اور کچھ اور ہی کہنے لگے۔ لکھتے ہیں:

’’فقہاے احناف۔۔۔ کی رائے میں جلا وطنی کی سزا محض ایک تعزیری سزا ہے اور اس کے نفاذ کا مدار قاضی کی صوابدید پر ہے۔۔۔بہرحال، استدلال کی اس کمزوری کے باوجود احناف کا یہ موقف فی نفسہ درست ہے اور سورہ نور کی آیت کے علاوہ دیگر دلائل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سورہ نساء کی آیت ۲۵ ۔۔۔
چونکہ قرآن مجید نے لونڈیوں کی سزا آزاد عورتوں سے نصف بیان کی ہے اس لیے اگر جلا وطن کرنا آزاد عورتوں کی سزا کا لازمی حصہ ہوتا تو قرآن مجید کے مذکورہ حکم کی رو سے لونڈیوں کو بھی چھ ماہ کے لیے جلا وطن کرنا ضروری ہوتا۔۔۔زانی کو جلا وطن کرنے کی احادیث کو روایت کرنے والے بعض صحابہ کے اسلوب بیان سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ وہ اس سزا کو اصل حد کا حصہ نہیں، بلکہ ایک اضافی سزا سمجھتے ہیں۔۔۔ گویا جلا وطن کرنا فی نفسہ زنا کی مستقل اور باقاعدہ سزا نہیں ہے، بلکہ اسے جرم کی نوعیت اور حالات کی مناسبت کے لحاظ سے اصل سزا کے ساتھ تعزیری طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، اور اسی حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر مجرم کو جلا وطن کرنے میں بہتری کے بجائے فساد کا خدشہ ہو تو اسے جلا وطن نہ کیا جائے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابراہیم نخعی کی رائے یہ نقل ہوئی ہے کہ زانی مرد و عورت کو جلا وطن کرنا فتنہ ہے، یعنی اس سے ان کی اصلاح کے بجائے مزید برائی میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ۱۳۸-۱۴۱)

ہم کہتے ہیں: ۱۔ فقہاے احناف تو کسی بھی کنوارے مرد کے لیے زنا کی حد سو کوڑے مانتے ہیں اور حدیث میں جس جلاوطنی کا ذکر ہے اس کو تعزیر پر محمول کرتے ہیں جب کہ محمد عمار صاحب اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ حدیث میں مذکور جلا وطنی کی سزا ان کنوارے مرد و عورت کے لیے ہے جو پکے بد کردار ہوں۔ اور اس کو نافذ کرنے کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کی تھی جس کی وجہ سے وہ پکے بد کردار کنوارے مرد و عورت زانی کے لیے حد کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب کہ تعزیر اور اس کی مقدار تو حاکم و عدالت کی صوابدید پر ہوتی ہے۔اتنے بڑے فرق کے ہوتے ہوئے محمد عمار صاحب نہ جانے کیوں فقہاے احناف کے موقف کو درست کہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ محمد عمار صاحب کہیں کہ انہوں نے فقہائے احناف کے موقف کو صرف اس اعتبار سے درست کہا ہے کہ اتفاقیہ زنا میں ملوث ہونے والے مرد کو جرم کی نوعیت اور حالات کی مناسبت کے لحاظ سے اصل سزا کے ساتھ تعزیر کے طور پر ایک سال کے لیے جلا وطنی کی سزا تجویز کی جا سکتی ہے۔ باقی رہی پکے بدکرداروں کی سزا تو جلا وطنی کی سزا اس کا ایک حصہ ہے جو بہرحال لازمی ہے ۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ :

(ا) فقہاے احناف بھی اور محمد عمار صاحب بھی دونوں ایک ہی حدیث سے اپنا اپنا مطلب نکال رہے ہیں اور دونوں کے مطلب میں زمین و آسمان کا فرق ہے تو محمد عمار اپنے موقف سے متضاد موقف کو کیسے درست کہتے ہیں۔

(ب) محمد عمار صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’قرآن نے نفس زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے جرم کی ازدواجی حیثیت کو بھی موضوع نہیں بنایا اور زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نفس زنا کے ارتکاب پر ہر طرح کے زانی کو چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ بس یہی سزا دینا چاہتے ہیں۔‘‘

یہ ظاہر بات ہے کہ شادی شدہ شخص اگر زنا کرے تو غیر شادی شدہ کے مقابلہ میں اس کے جرم کی نوعیت بڑھ جاتی ہے لیکن محمد عمار صاحب کہتے ہیں کہ ’’زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے ہیں۔‘‘ محمد عمار صاحب کے اس نظریہ کے مطابق تو چاہے کیسے ہی حالات ہوں اور جرم کی نوعیت بھی خواہ کیسی ہی ہو کنوارے مرد زانی کی سزا بس سو کوڑے ہی ہو۔ فقہاے احناف اس پر جلا وطنی کی سزا کو بڑھاتے ہیں تو محمد عمار صاحب اس کو کیسے درست مانتے ہیں۔

(ج) محمد عمار صاحب خود لکھ چکے ہیں کہ زائد سزا اصل سزا کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ ان کی عبارت یہ ہے۔ ’’قرآن نے ہر قسم کے زانی کے لیے زنا کی سزا صرف سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزدیک اصل سزا یہی ہے۔ اب اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اضافی پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی زائد سزا بیان کی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ حد نہیں بلکہ ایک تعزیری سزا ہی ہو سکتی ہے کیونکہ اسے اصل سزا کا لازمی حصہ تصور کرتے ہوئے قرآن کی بیان کردہ سزا کے ساتھ مساوی طور پر لازم مانا تو یہ بات قرآن کے صریح بیان کو ناکافی قرار دینے کے مترادف ہے‘‘۔ (حدود و تعزیرات ص ۱۳۴، ۱۵۵)

ii- محمد عمار صاحب نے لکھا کہ ’’اگر مجرم کو جلا وطن کرنے میں بہتری کے بجائے فساد کا خدشہ ہو تو اسے جلا وطن نہ کیا جائے۔‘‘ ان کی اس بات کو لے کر ہم کہتے ہیں کہ پکے بدکردار غیر شادی شدہ مرد و عورت زانی کی جلا وطنی میں بہتری کے بجائے فسادکا خدشہ ہو تو کیا خدائی ہدایت کے باوجود اس کو جلا وطن نہ کیا جائے گا۔

پھر غور طلب بات یہ ہے کہ اگر عورت کو جلا وطن کیا جائے گا تو اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے گا۔ اگر جلا وطنی کے بجائے تاویل کر کے اس کو قید کرنے پر محمول کیا جائے تو محمد عمار صاحب نے اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ ایسے بدکردار لوگوں کے لیے قید کے مقابلہ میں جلا وطنی آسان ہوتی ہے اور وہ نئی جگہ پر بھی بہت جلد اپنا مشغلہ دوبارہ جاری کر لیتے ہیں۔ اسی لیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو فتنہ کہا۔ تو کیا خدائی ہدایت کے بر خلاف ان کو جلا وطنی سے زیادہ سخت سزا دی جائے گی اور اپنی عقل سے خدائی سزا کو بدل دیا جائے گا۔ 

ساتویں خرابی:

محمد عمار صاحب نے لکھا ہے ’’عام مجرموں کے برخلاف زنا کے یہ عادی مجرم بدیہی طور پر اضافی سزاؤں کے بھی مستحق تھے چنانچہ ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔‘‘

ہم کہتے ہیں: محمد عمار صاحب کی اس بات پر وہ سب اعتراض پڑتے ہیں جو انہوں نے رجم کی سزا کے عنوان کے تحت امین احسن اصلاحی پر وارد کیے ہیں، مثلاً:

’’اس امر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ یہ توجیہ رجم سے متعلق تمام روایات پر پوری طرح منطبق نہیں ہوتی کیونکہ اس توجیہ کی رو سے یہ محض زنا کے سادہ مقدمات نہیں تھے بلکہ ان میں سزا پانے والے مجرموں کو درحقیقت آوارہ منشی اور بدکاری کو ایک پیشے اور عادت کے طور پر اختیار کر لینے کی پادرش میں آیت محاربہ (یا بقول عمار صاحب حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث) کے تحت رجم کیا گیا۔ اب اگر آیت محاربہ کو (یا مذکورہ حدیث کو) رجم کا ماخذ مانا جائے تو یہ ضروری تھا کہ احساس ندامت کے تحت اپنے آپ کو خود قانون کے حوالے کرنے والے مجرم سے در گزر کیا جائے یا کم از کم سنگین سزا دینے کے بجائے ہلکی سزا پر اکتفا کیا جائے جب کہ قبیلہ غامد سے تعلق رکھنے والی خاتون کو خود عدالت میں پیش ہونے اور سزا پانے پر خود اصرار کرنے کے باوجود رجم کیا گیا۔۔۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
لا یحل دم امرئ مسلم یشھد ان لا اِلہ الا اللہ و انی رسول اللہ الا باحدی ثلاثہ النفس بالنفس و الثیب الزانی و المارق من الدین التارک للجماعۃ۔ (بخاری)
’’کسی مسلمان کی جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جان لینا تین صورتوں کے سزا جائز نہیں: جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی اور وہ شخص جو دین سے نکل کر مسلمان کی جماعت کا ساتھ چھوڑ دے۔‘‘
یہاں شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا بیان کی گئی ہے اور روایت میں اسے عادی مجرموں کے ساتھ مخصوص قرار دینے کا کوئی قرینہ بظاہر موجود نہیں۔ یہی صورتحال مزدور کے مقدمے میں دکھائی دیتی ہے اور روایت کے داخلی قرائن یہی بتاتے ہیں کہ یہ کوئی مستقل یاری آشنائی کا نہیں بلکہ اتفاقیہ زنا میں ملوث ہو جانے کا ایک واقعہ تھا۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۶۴)

آٹھویں خرابی: 

حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی اور جاوید غامدی صاحبان نے بے چارے ماعز رضی اللہ عنہ کو اپنی تحقیق میں بہت بڑے گناہ کا مرتکب اور بد خصلت غنڈا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ محمد عمار صاحب بھی اسی گھاٹ کا پانی پیئے ہوئے ہیں تو وہ کیوں پیچھے رہتے، اس لیے وہ بھی یہ فرماتے ہیں:

’’ماعز اسلمی کے جرم کی نوعیت اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں خود پیش ہونے یا پکڑ کر لائے جانے کے حوالے سے روایات الجھی ہوئی ہیں اور تفصیلی تحقیق و تنقید کا تقاضا کرتی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق ماعز کو رجم کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس سے اس کا ایک عادی مجرم ہونا واضح ہوتا ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۶۳، ۱۶۴)

محمد عمار صاحب نے کچھ غور نہیں کیا کہ وہ تفصیلی تحقیق کے بغیر ہی ایک نیک نفس کے بارے میں کیا کہہ گئے ہیں۔ کسی مسلمان پر اور وہ بھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف تھا اور جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک جماعت کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو اس کی نجات کے لیے کافی ہو جائے۔‘‘ پوری تحقیق کے بغیر اتنا بڑا بہتان لگانا اور بدظنی کرنا کیا خود ایک بڑا گناہ اور بری خصلت نہیں ہے۔

بہتان کی حقیقت

اب اس بہتان اور الزام کی حقیقت جاننے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت یہ ہے: 

قال فرجمہ ثم خطب فقال الاکلما نفرنا غازیں فی سبیل اللہ خلف احدھم لہ نبیب کنبیب القیس یمنحاحدھم الکثبۃ اما واللہ ان یمکنی من احدھم الا نکلتہ عنہ۔
’’اس کو رجم کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا آگاہ ہو جب بھی ہم اللہ کے رستے میں غزوے کے لیے نکلتے ہیں ان لوگوں میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور شہوت زدہ بکرے کی طرح آواز نکالتا ہے۔ وہ تھوڑے سے دودھ کی بخشش کرتا ہے۔ خدا کی قسم اگر اللہ نے مجھے ایسے شخص پر قدرت دی تو میں اس کو عبرتناک سزا دوں گا۔‘‘

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطیباً من العشی فقال أوکلما انطلقنا غزاۃ فی سبیل اللہ تخلف رجل فی عیالنالہ، نبیب کنبیب التیس علیٰ ان لا اوتی فعل ذلک إلا نکلت بہ۔ 
’’پھر شام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ جب بھی ہم اللہ کے رستے میں غزوے کے لیے نکلتے ہیں تو کوئی شخص ہمارے عیال میں پیچھے رہ جاتا ہے وہ شہوت زدہ بکرے کی طرح بولتا ہے۔ مجھ پر لازم ہے کہ ایسا شخص جب بھی میرے پاس لایا جائے گا میں اس کو عبرتناک سزا دوں گا۔‘‘

ان حدیثوں سے جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب مسلمان کسی غزوہ کے لیے نکلتے تو کچھ منافقین پیچھے رہ جاتے اور مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کے پردے میں کچھ کھانے پینے کی چیزیں ان کے پاس لے جاتے اور بعض اوقات دبے لفظوں میں کچھ بے حیائی کے کلمات کہہ دیتے۔ ماعز رضی اللہ عنہ کو چونکہ رجم کیا گیا تھا جو خود عبرتناک سزا ہے، اس کی مناسبت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرما دی کہ منافقین ایسی حرکتوں سے باز آ جائیں ورنہ ان کو عبرتناک سزا دی جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اتنی کمزور نہیں تھی اور یہ منافق اتنے جری نہیں تھے کہ اعلانیہ لوگوں کی عزت و آبرو پر ہاتھ ڈال سکیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کر سکیں۔ وہ تو بس دبے لفظوں میں کچھ بے حیائی کے کلمات کہہ دیتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معمولی بے حیائی کو بھی برداشت نہیں کیا اور تنبیہ فرما دی۔

زنا کی سزا کی ترتیب

جو ترتیب محمد عمار صاحب دیتے ہیں، وہ یہ ہے:

i- سب سے پہلے سورہ نساء میں قحبہ عورتوں اور پکے بدکردار لوگوں کے بارے میں عبوری حکم نازل ہوا۔

ii- پھر سورہ نور کی شروع کی دوسری آیت میں نفس زنا کی سزا سو کوڑے مذکور ہوئی۔

iii- پھر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث میں قحبہ عورتوں اور پکے بدکردار لوگوں کے لیے اضافی سزا بیان کی گئی جس کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے کی۔

ہم کہتے ہیں: 

۱۔ اس ترتیب پر ہم بطور تبصرہ محمد عمار صاحب کی وہ بات کچھ ترمیم کے ساتھ نقل کرتے ہیں جو انہوں نے مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کی بات کے جواب میں لکھی ہے:

’’اور اگر خود قرآن کا منشا وہی ہے جو (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی) روایت میں بیان ہوا ہے تو وہی سوال عود کر آتا ہے کہ قرآن خود صاف لفظوں میں اس کی تصریح کیوں نہیں کرتا اور اس کے لیے ایک جگہ زنا کی سزا مطلقا سو کوڑے مقرر کرنے اور دوسری جگہ جلا وطنی اور رجم کی سزا کو حدیث کے حوالہ کرنے) کا پر پیچ طریقہ کیوں اختیار کرتا ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۶۱)

۲۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ اس ترتیب کا سارا دارومدار سورہ نساء کی آیتوں کے اس ترجمہ پر ہے جو عمار صاحب نے امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی کی تقلید میں اختیار کیا ہے حالانکہ خیر القرون میں بھی اور بعد کے زمانوں میں بھی آیت کا یہ ترجمہ اور مطلب کبھی نہیں کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ محمد عمار صاحب کے نزدیک امت کے اب تک مفسرین کو قرآن کی اس آیت کا مطلب نہیں سوجھا اور وہ ایک عظیم غلطی میں مبتلا رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ امت کے حق میں انتہائی خوفناک ہے۔ کہ وہ ایک اہم مسئلہ میں گمراہی کا شکار رہی اور ایسے ہی قرآن پاک کے حق میں بھی کہ وہ ایسا چیستان ہے کہ صرف جاوید احمد غامدی اور محمد عمار جیسے صاحب اسلوب لوگ ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں نہ صحابہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی تابعین۔

محمد عمار صاحب کی بتائی ہوئی ترتیب کے برخلاف ایک ترتیب وہ ہے جو ہم دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ اس پر وہ اعتراض نہیں پڑیں گے جو محمد عمار صاحب نے دوسروں پر وارد کیے ہیں یا جو ہم نے ان پر لگائے ہیں۔ ہماری ترتیب میں تین مرحلے ہیں :

پہلا مرحلہ:

اس مرحلہ میں یہ دو آیتیں نازل ہوئیں:

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا (سورہ نساء: ۱۵)
’’اور جو عورتیں بے حیائی کا کام کریں تمہاری بیویوں میں سے سو تم لوگ ان عورتوں پر چار آدمی اپنوں میں سے گواہ کر لو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو تم ان کو گھروں کے اندر بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کر دے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راہ تجویز فرما دیں۔‘‘
وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْھُمَا فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمَااِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔ (سورہ نساء: ۱۶)
’’اور وہ مرد و عورت جو تم میں سے یہ برائی کریں انہیں ایذاء پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو ان سے در گزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

ان دو آیتوں سے دو حکم ملے:

۱۔ اگر شوہر بیویوں پر زنا کا الزام رکھیں اور ان کے جرم پر چار گواہ بھی لے آئیں تو آئندہ حکم آنے تک ان کو گھروں میں محبوس رکھا جائے۔

۲۔ مرد اور غیر شادی شدہ عورت زنا کریں تو ان کو مناسب تعزیر کی جائے۔

دوسرا مرحلہ:

اس مرحلے میں دوسرا حکم سنت و حدیث میں دیا گیا۔ صحیح مسلم میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل ہے:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا البکر بالبکر جلد مائۃ و نفی سنۃ و الثیب جلد مائۃ والرجم۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان زنا کار بیویوں (اور ان سے ملوث مردوں) کے لیے ضابطہ مقرر فرما دیا ہے۔ غیر شادی شدہ مرد کی غیر شادی شدہ عورت سے بدکاری میں سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔ (یہی حکم ان مردوں اور عورتوں کا ہے جن کا نکاح ہو چکا ہو لیکن صحبت نہ ہوئی) اور شادی شدہ مرد کی شادی شدہ عورت (جو صحبت بھی کر چکے ہوں، ان) کی بدکاری سے سو کوڑے اور رجم ہے۔‘‘

اس حدیث و سنت سے اس بیوی کا حکم بھی معلوم ہوا جس سے صحبت ہو چکی ہو پھر اس نے زنا کیا اور شوہر نے اس پر چار گواہ قائم کر دیئے ہوں کہ اس کی سزا رجم ہے۔

تیسرا مرحلہ: 

تیسرے درجہ میں سورہ نور کی آیات نازل ہوئیں۔ ان کے ساتھ ہی رجم سے متعلق آیت بھی نازل ہوئی۔ ان آیات میں مندرجہ ذیل احکام ملے۔

۱۔ شوہر بیوی پر زنا کا الزام رکھے لیکن چار گواہ پیش نہ کر سکے تو لعان ہو گا۔

۲۔ الزانیۃ والزانی کے الفاظ سے غیر شادی شدہ کا حکم بتایا کہ اس کی سزا صرف سو کوڑے ہے اور ایک سالہ جلا وطنی کو منسوخ کر دیا گیا۔

۳۔ رجم کی آیت بھی نازل ہوئی جس سے رجم کی سزا کو برقرار رکھا گیا اور سو کوڑوں کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا۔ بعد میں اس آیت کے الفاظ منسوخ کر دیے گئے۔

عن ابن عباس قال قال عمر بن الخطاب و ہو جالس علی منبر رسول اللہ ا ان اللہ قد بعث محمداا بالحق و انزل علیہ الکتاب فکان مما انزل علیہ آیۃ الرجم قرأنا ھا و وعینا ھا وعقلناھا فرجم رسول اللہ ا و رجمنا بعدہ فاخشی ان طال بالناس زمان ان یقول قائل ما نجد الرجم فی کتاب اللہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلھا اللہ و ان الرجم فی کتاب اللہ حق علی من زنی اذا احصن من الرجال و النساء اذا قامت البینۃ (رواہ مسلم)
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت عمر نے (اپنے دور خلافت میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھ کر فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر کتاب نازل فرمائی۔ آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا اس میں سے آیت رجم بھی تھی جس کو ہم نے پڑھا اور یاد کیا اور سمجھا (لیکن چونکہ اس کے الفاظ منسوخ ہونے تھے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھوایا نہیں) اور رسول اللہ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔ مجھے ڈر ہے کہ (قرآن میں لکھے نہ ہونے کے باعث) کچھ زمانہ گزرنے پر لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ ہم کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں پاتے اور اس طرح اللہ کے اتارے ہوئے فریضہ کو ترک کرنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں۔ اور یہ (بھی جان لو) کہ کتاب الٰہی میں رجم ثابت ہے اس شخص پر جو شادی شدہ مرد ہو یا عورت زنا کرے جب کہ گواہ قائم ہو جائیں (یا وہ خود اعتراف کر لے)۔‘‘

تنبیہ: 

سورہ نساء کی آیتوں کا غلط مفہوم نکالنے اور زنا کی سزا میں ہماری بتائی ہوئی ترتیب کو اختیار نہ کرنے کی وجہ سے محمد عمار صاحب یا تو خود تردد میں مبتلا ہو گئے ہیں یا ایسا صرف ظاہر کرتے ہیں تاکہ اپنے نظریہ کو تحفظ دے سکیں اور قاری کو تردد میں مبتلا کر کے پھر اپنے مقدمات قائم کر کے اس سے اپنے موقف کو ترجیح دلوائیں۔وہ لکھتے ہیں:

’’مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ اگر قرآن مجید کے ظاہر کو حکم مانا جائے تو زنا کے عام مجرموں کے حوالے سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کرنا بے حد مشکل ہے۔ دوسری طرف اگر روایات کے ظاہر اور ان پر مبنی تعامل کو فیصلہ کن ماخذ مانا جائے تو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کی نفی یا اس کی ایسی توجیہ و تاویل بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتی جس سے روایات کے متبادر مفہوم و مدعا کو برقرار رکھتے ہوئے قرآن مجید کے ساتھ ان کا ظاہری تعارض فی الواقع دور ہو جائے۔ اس ضمن میں اب تک جو تو جیہات سامنے آئی ہیں، وہ اصل سوال کا جواب کم دیتی اور مزید سوالات پیدا کرنے کا موجب زیادہ بنتی ہیں۔ اس وجہ سے ہماری طالب علما نہ رائے میں یہ بحث ان چند مباحث میں سے ایک ہے جہاں توفیق و تطبیق کا اصول موثر طور پر کارگر نہیں اور جہاں ترجیح ہی کے اصول پر کوئی متعین راے قائم کی جا سکتی ہے۔ عقلاً اس صورت میں دو ہی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
ایک یہ کہ روایات سے بظاہر جو صورت سامنے آتی ہے، اس کو فیصلہ کن مانتے ہوئے یہ قرار دیا جائے کہ قرآن مجید کا مدعا اگرچہ بظاہر واضح اور غیر محتمل ہے، تاہم یہ محض ہمارے فہم کی حد تک ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تفصیل اللہ تعالیٰ کے منشا کی تعیین کے حوالے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن کے ظاہر کو حکم مانتے ہوئے یہ فرض کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا یقیناًکوئی ایسا محل ہو گا جو قرآن کے ظاہر کے منافی نہ ہو، لیکن چونکہ قرآن کا مدعا ہمارے لیے بالکل واضح ہے، جب کہ روایات کا کوئی واضح محل بظاہر سمجھ میں نہیں آتا، اس لیے روایات اور ان پر مبنی تعامل کو توجیہ و تاویل یا توقف کے دائرے میں رکھتے ہوئے ان پر غور و فکر جاری رکھا جائے گا تاآنکہ ان کا مناسب محل واضح ہو جائے۔
اس دوسرے زاویۂ نگاہ کے پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ شریعت کے جو احکام قرآن مجید میں زیر بحث آئے ہیں، ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد یا عمل قرآن مجید کے برعکس یا اس سے متجاوز نہیں ہو سکتا اور اگر بظاہر کہیں ایسی صورت دکھائی دے تو اس کی بنیاد قرآن مجید میں تلاش کرنی چاہیے یا توجیہ و تاویل کے ذریعے سے حتی الامکان اس کے صحیح محل کو واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘

اور آخر میں لکھتے ہیں:

’’اس طرح یہ بحث دو مختلف اصولی زاویہ ہائے نگاہ میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کی بحث قرار پاتی ہے۔ ہماری رائے میں یہ دونوں زاویے عقلی اعتبار سے اپنے اندر کم و بیش یکساں کشش رکھتے ہیں اور اس باب میں انفرادی ذوق اور رحجان کے علاوہ کوئی چیز غالباً فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔‘‘

ہم کہتے ہیں:

۱۔ محمد عمار صاحب اگر ہماری بتائی ہوئی ترتیب کو اختیار کریں تو :

i- ان کو توفیق و تطبیق کے کارگر اور مؤثر نہ ہونے کا شکوہ نہ رہے گا۔

ii- اور انہوں نے جو دو عقلی طریقے ذکر کیے ہیں ان کی ضرورت نہ رہے گی۔

۲۔ محمد عمار صاحب نے جو دوسرا عقلی طریقہ ذکر کیا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرض منصبی یعنی تعلیم قرآن اور تبیین قرآن سے جوڑ نہیں کھاتا۔ علاوہ ازیں یہ عقلی طریقہ جن خوفناک غلطیوں پر مبنی ہے ان کو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

۳۔ محمد عمار صاحب لکھتے ہیں ’’ہماری رائے میں یہ دونوں زاویے عقلی اعتبار سے اپنے اندر کم و بیش یکساں کشش رکھتے ہیں۔ اور اس باب میں انفرادی ذوق اور رجحان کے علاوہ کوئی چیز غالباً فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔‘‘ حالانکہ اس سے پہلے انہوں نے پہلی رائے کو کمزور اور بودا دکھانے کی پوری کوشش کی ہے اور دوسری رائے کو ہی جابجا ترجیح دیتے رہے ہیں اور اب دونوں کو یکساں درجہ دے رہے ہیں۔ لیکن خود ان کا اور ان کے مخدوم اہل علم امین احسن اصلاحی کا ذوق اور رحجان تو پہلے ہی واضح ہو چکا ہے۔

۴۔ پھر محمد عمار صاحب کی یہ بات بھی صحیح نہیں کہ ’’اس باب میں انفرادی ذوق اور رحجان کے علاوہ کوئی چیز غالباً فیصلہ کن نہیں ہو سکتی ’’کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے فیصلے اور دیگر حدیثیں اور اجماع امت یہ سب چیزیں ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ محمد عمار صاحب لفظوں کے ہیر پھیر میں بہت خوفناک باتیں کہہ جاتے ہیں لیکن ان کو پوری تسلی ہے کہ کوئی بھی ان کے اسلوب بیان کے آگے کچھ پر نہیں مار سکتا۔ 

آراء و افکار