مجلس عمل کی سیاسی جدوجہد ۔ چند سوالات

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مجلس عمل کی پارلیمانی جد و جہد کے چار سال پورے ہو چکے ہیں۔ ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کے جون ۲۰۰۶ء کے شمارے میں ایک مفصل رپورٹ میں مجلس کی کاردکردگی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کی ترتیب بالکل ایسے ہے جیسے سرکاری ترجمانی کا حق ادا کیا جا رہا ہو۔ رپورٹ پڑھ کر میں نے ’ترجمان القرآن‘ کے مدیر کے نام خط لکھا اور رپورٹ کے بارے میں چند سوالا ت اٹھائے۔ مذکورہ جریدہ نے میرا خط شائع نہیں کیا۔ میں نے وجہ دریافت کی تو کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ غالباً ارباب ترجمان اپنے قارئین کو اندھے، بہرے اور گونگے خیال کرتے ہیں۔ وہ اپنے صفحات قارئین کے لیے صرف اتنا ہی کھولنا چاہتے ہیں کہ بحث کا کوئی راستہ پیدا نہ ہو۔ بہر صورت وہ اپنی پالیسی کے مالک ہیں۔ میں اپناخط معمولی تصرف کے ساتھ یہاں پیش کر رہا ہوں۔

تازہ شمارے میں ’’مجلس عمل کی پارلیمانی جد و جہد کے چار سال‘‘ ملاحظہ کیے۔ ’ترجمان‘ کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا اس پرچے میں پروپیگنڈے اور یک طرفہ رپورٹ کی سطح کی چیزوں کے لیے گنجایش موجود ہے؟ میں پینتالیس سال سے ’ترجمان‘ کا قاری ہوں۔ یہ ماہنامہ یقینی طور پر ایک علمی، دینی اور نظریاتی پرچہ ہے۔ اس کا مقام رہنمائی کا ہے۔ اگر کسی وجہ سے پروپیگنڈے اور رپورٹ نوعیت کی چیزوں کو جگہ دینا ناگزیر ہو تو ان کو کھلے اور عام مباحثے کی دعوت کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہاں تو صورت یہ ہے کہ ایک سو سولہ صفحات کے پرچے میں قارئین کے خطوط کے لیے دو صفحے ہیں۔ تین سطروں سے گیارہ سطروں پر مشتمل چھ خطوط ان دو صفحات میں کھپائے گئے ہیں۔ معاف فرمائیے، اسے نرم ترین الفاظ میں قارئین کے استحصال کی بد ترین مثال ہی کہا جا سکتا ہے۔ پرچے کی توسیع اشاعت کی لگا تار اپیلیں سر آنکھوں پر، مگر پرچے کو کم از کم معیار اور مقصدیت پر قائم و استوار کرنا تو ارباب ترجمان کی ذمہ داری ہے۔ بھرتی کی خاطر صفحات سیاہ کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں ہونا چاہیے۔

اس تمہید کو چھوڑتے ہوئے آٹھ صفحات کی مفصل اور چار سالہ کارکردگی رپورٹ پر مفصل تبصرے سے آپ کی تنگ دامانی کے پیش نظر گریز کی خاطر صرف چند سوالات پیش کر دینا چاہتا ہوں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ مجلس میں چار بڑے قائدین، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، پروفیسر سینیٹر ساجد میر اور قاضی حسین احمد کے ما بین چار سال بعد بھی نمائشی یکجہتی کے سوا کیا سامنے آیا ہے؟ قاضی صاحب محترم ان کو جمع کر کے ٹوکرے تلے یکجا کرتے کرتے بوڑھے ہو گئے ہیں۔ (۲ جون کومحترم قاضی صاحب نے گوجرانوالہ کے عام جلسہ میں فرمایا کہ ان کی ٹانگیں قبر میں ہیں)۔ مجلس عمل کے جس اتحاد کی بات رپورٹ میں بڑے کرو فر کے ساتھ کی گئی ہے، آئندہ چند مہینے میں اس کی حقیقت سامنے آنے میں کوئی کسر رہ گئی ہے؟ ۱۹۶۳ء کے سی اوپی، پھر پی ڈی ایم، ڈی اے سی، پھر بھٹو دور میں یو ڈی ایف، پی این اے، ضیاکے عہد میں ملی یکجہتی کونسل اور شریعت محاذ، بے نظیر دور میں آئی جے آئی کو بنتے بگڑتے ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا ہے۔ ہر بار آخر دم تک اتحاد کے پختہ تر ہونے کے اعلانات سامنے آتے رہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر چار سال بعد اتحاد کے نام پر لوگوں کودھوکہ دینے کا سلسلہ تواتر سے جاری رہا اور جاری ہے۔ نہ معلوم ایسے ایسے تماشے ہمیں دیکھنے کو کب تک ملیں گے۔ کیا ان تجربات سے اعلیٰ کردار اور نظریہ اور مسائل کی جانب پیش رفت ہوئی ہے یا ترقی معکوس؟ کیا ترجمان ایسے کھلے مباحثے کا اہتمام کر سکتا ہے جس میں ہم اتنے طویل سیاسی عمل کا بالکل اسی طرح جائزہ لیں جس طرح مولا نا مرحوم نے ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں مسلمانوں کی تاریخ کا لیا ہے؟ اگر ایسا اہتمام آپ کریں تو یہ عظیم خدمت ہو گی۔ بحث و مباحثے سے سٹیٹس کو اور جمود ٹوٹے گا ، ذہن کھلیں گے، راہیں پیدا ہوں گی، سفر پیچھے کے بجائے منزل کی جانب استوار ہو گا اور واقعتاسفر ہوگا۔ صرف ہو گا ہی نہیں، ہوتا نظر بھی آئے گا۔

چار سال میں پبلک کے مسائل پر ہماری پارلیمانی پارٹی نے، جو تاریخی لحاظ سے ہماری سب سے بڑی اور سب سے زیادہ باصلاحیت نمائندگان پر مشتمل پارٹی ہے، کوئی ترجیحات طے کیں اور ان کے لیے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا ہے؟ وردی کے سوال پر قریباً سال بھر بینچ بجانے کے سوا کیا کیا اور نتائج کیا رہے؟ آغا خان بورڈ جیسے قوانین کو جس طرح آنکھیں بند کر کے تحفظ دیا گیا، آخر اس کی ذمہ داری کس پر آئے گی؟ کہا جائے گا کہ جرنیل نے دھوکہ دیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ دھوکہ کھانے پر فخر کرنے کا کوئی مقام ہے؟ جرنیلوں کو ہم نے کبھی دیکھا نہیں؟ ضیا کی وردی میں تو ہم کابینہ میں بیٹھ کر بھی دیکھ چکے تھے۔

علما و فضلا اور ڈاکٹروں پر مشتمل اتنی بڑی پارٹی چار سال میں کیا کارنامہ انجام دے سکی؟ قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز ہونے کے لیے بھی ہمیں ۲۵ مئی ۲۰۰۴ء تک انتظار کرنا پڑا۔ اس کامیابی کے لیے کیا قیمت ادا کرنا پڑی؟ ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا طعنہ تاریخ میں پہلی بار ہمارے حصے ہی آنا تھا۔ کیا اپوزیشن ہمیں اپنا حصہ سمجھتی ہے؟

اتنی بھاری بھرکم پارلیمانی پارٹی نے کوئی ایک دو پارلیمینٹیرین ایسے تیار کیے ہوں جو ہاؤس پر پورے عرصے میں چھائے محسوس ہوتے ہوں؟ جو بزنس رولز پر کمانڈ کے ساتھ ساتھ پورے ہوم ورک کے ساتھ ہاؤس میں اپنا مقام تسلیم کرائیں؟ میری مراد حاجی سیف اللہ، حمزہ، خواجہ صفدر، ملک اختر جیسے کسی ایک کی ہے۔

اس مرحلے پر یہ سوال بھی محل نظر ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مجلس عمل کے نمائندوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اپنے خرچ سے انتخابی مہم چلا کر منتخب ہوا ہو۔ لوگوں یا جماعتوں نے ان کی انتخابی مہم کے اخراجات بھی برداشت کیے اور اپنی توانائیاں اور قیمتی اوقات بھی قربان کیے۔ مجھے یقین ہے کہ ان میں شاید ہی کوئی ایسا نمائندہ ہوگا جس نے جیت کی خوشی میں مبارکباد دینے کا منہ لہی میٹھا اپنی جیب سے کرایا ہو۔ ان میں ایسے درویش بھی منتخب ہوئے کہ جب وہ اپنے کاغذات نامزدگی اور ان کے ساتھ شامل جائیداد اور اثاثوں کے گوشواروں کی پڑتال کے لیے ریٹرننگ افسروں کے سامنے پیش ہوئے تو افسران اثاثوں سے خالی گوشواروں کو دیکھ کر حیران ہو گئے اور اپنی حیرانی دور کرنے کے لیے طرح طرح کے سوالات کرتے رہے۔ امیدواروں کے جوابات سے ریٹرننگ افسران کی حیرانی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا رہا۔ آخر کار چشم فلک نے ایسا منظر بھی دیکھا کہ سراپا درویش قسم کے لوگوں کی بڑی تعداد قانوں ساز اداروں میں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ ایسے درویشوں کو اپنی نمائندہ حیثیت میں قومی خزانے سے مشاہرے وصول کرنے کا کیا حق ہے؟ درویشی کا تقاضا یہ نہیں کہ یہ لوگ دیگر جماعتوں کے لوگوں سے مختلف اور مثالی طرز عمل اختیار کرتے؟ وہ اپنے قیام وغیرہ کا انتظام کسی نہ کسی طرح فیصل مسجد ہی میں کر لیتے، اس طرح کم سے کم اخراجات میں اپنے فرائض ادا کرتے اور قومی خزانے پر بوجھ نہ ڈالتے؟ کم سے کم اخراجات کا انتظام ان کی جماعتوں کی طرف سے کیا جاسکتا تھا۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی تھی کہ وہ یہ مشاہرے وصول کر کے ایک فنڈ کی شکل میں جمع کر کے کم سے کم اخراجات کے بعد بچنے والی رقوم کو پبلک مقاصد کے لیے خرچ کر دیتے۔

رپورٹ کے صفحہ ۵۳ پر جو اعداد و شمار دیے گئے ہیں، ان کے ساتھ یہ بھی بتا دیا جاتا کہ قریباً پینسٹھ ارکان قومی اسمبلی اور چھبیس سینیٹرز نے چار سال کے عرصے میں غریب مملکت کے قومی خزانے سے کس قدر مجموعی مشاہرہ وصول کیا۔ ارکان نے ہاؤس میں مجموعی دورانیے میں سے کس نسبت سے حاضری دی اور کتنا وقت فلور پر بات کی۔ اس طرح فی منٹ گفتگو کے لیے خزانے سے کتنی ادائیگی ہوئی۔

وردی کو سب سے بڑا مسئلہ بنایا گیا، یہ بہر صورت عوام کا مسئلہ نہیں۔ سیاسی لیڈرز کے لیے بھی یہ مسئلہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب وردی والے صاحب براہ راست اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی گرفت قائم کر لیتے ہیں۔ عوام کے چند مسائل میں سرسری طور پر ترجیحات قائم کی جائیں تو اردو کو سرکاری سطح پر دستوری میعاد گزرنے کے باوجود رواج نہ دینا، انصاف کی فراہمی میں کورٹ فیس کا خاتمہ، امن و امان، مہنگائی وغیرہ ہیں۔ 

سیاسی جد و جہد میں عوامی مسائل پر عملی اور موثر جد و جہد اہم ترین ہوتی ہے۔ اس پر مناسب سنجیدہ ترجیحات کے ساتھ موثر لائحہ عمل،تسلسل اور تواتر سے جد و جہد کی جاتی ہے۔ مگر ہم نے کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں۔ مثلاً چینی اور سیمنٹ کی بلا جواز اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں کو ہی لے لیں۔ ہمارے لیڈرز کے طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے لیے یہ مسائل کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ چینی چالیس روپے کے بجائے ایک ہزار روپے کلو بھی ہو تو قاضی حسین احمد اور فضل الرحمن صاحب کے لیے مسئلہ نہیں ہوگی۔ وہ اس مسئلہ پر عوام کو میدان میں نہیں لائیں گے، منافع خور جو مرکزی کابینہ میں بیٹھے ہوں گے، ان کے خلاف دھرنا اور گھیراؤ کی بات آخر کیوں نہیں ہو تی؟ ان کے خلاف قومی اسمبلی میں کوئی ہنگامہ ہو گا اور نہ ہی تواتر سے ڈیسک بجا کر ان کا کافیہ تنگ کیا جائے گا۔

نظریاتی اعتبار سے شریعت یا دستور کی بالا دستی کے بجائے پارلیمنٹ کی بالا دستی کا ڈھنڈورا خوب پیٹا گیا۔ کیا ہمارے پاریلیمینٹیرینزنہیں جانتے کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی بالکل ہی لا یعنی بات ہے۔ مملکت کے ہر ادارے کو دستور میں متعینہ دائرے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ کوئی ادارہ بھی بالا دست نہیں ہو سکتا۔ بالا دستی صرف اور صرف دستور کی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح آئندہ جو صورت در پیش ہے، اس میں ایسے سمجھوتوں اور میثاقوں کی بات ہو رہی ہے جس میں آرٹیکل ۲۔الف، شریعت کورٹس، اسلامی حدود اورِ ’’بی بی‘‘ ’’بیبا‘‘ کے مزید وزیر اعظم بننے پر پابندی کو چلتا کر کے ہماری قومی تاریخ کے بدعنوان ترین وزرائے اعظم کو دوبارہ تخت اقتدار پر بٹھانے کے راستے کھولے جائیں۔مجلس عمل کے نمائندگان، ’’بفضلہ تعالیٰ ‘‘ کرپشن کے الزامات سے بچے ہوئے ہیں مگر ملک کو دیوالیہ کر دینے والوں کی واپسی کے لیے ہماری بے چینی بڑی تعجب خیز ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سمجھوتوں کی سیاست پر نظر ثانی کر کے اصولوں کی بنیاد پر اعلیٰ کردار کی مدد سے واضح ترجیحات اور موثر لائحہ عمل کے ساتھ مثالی نوعیت کی جد و جہد کی ابتدا کی جائے۔ اس کے لیے سیر حاصل، عام اور کھلی بحث کی شدید ضرورت ہے۔

اس مرحلہ میں ایک سوال مجلس کے بجائے جماعت کے حوالے سے پیش خدمت ہے کہ موروثیت کی روایت کس اصول کے تحت قائم کی گئی؟ محترم امیر جماعت کی بیٹی، قیم جماعت کی زوجہ محترمہ کا قومی اسمبلی کے لیے کس میرٹ پر انتخاب ہوا؟ علیٰ ہذالقیاس ضلعی ناظم کے طور پرمحترم قاضی صاحب اپنے بیٹے کے لیے یا اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر کتنے ہفتے نوشہرہ میں قیام پذیررہے؟ اس موقع پر جوڑ توڑ اور خرید و فروخت کے تمام امور ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں، لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہو کرہمارے جدید امیج کومرتب کر چکے ہیں۔ 

آخر میں دینی مدارس کے سلسلے میں مجلس نے جوکردار ادا کیا ہے، اس کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔

ایسے ہی سوالات کارکنوں اور لوگوں کے ذہنوں میں جاگزیں ہیں۔ کوئی موقع ایسا نہیں کہ ان پر کھل کر بات ہو سکے۔ ترجمان میں ان سوالات کی وضاحت کے ساتھ کھلے عام مباحثے کا اہتمام کرایا جائے، ورنہ رپورٹ کی اشاعت پر معذرت کر کے آئندہ اس طرح کی کوتاہی نہ کرنے کا یقین دلایا جانا چاہیے۔ ’ایشیا‘ اور ’ترجمان‘ میں بہر صورت فرق باقی رکھا جانا چاہیے۔ 

آراء و افکار

(ستمبر ۲۰۰۶ء)

تلاش

Flag Counter