دہشت گردی: چند مضامین کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر محمد فاروق خان

ہمیشہ کی طرح ماہنامہ الشریعہ کے نومبر دسمبر کے شمارے میں بڑے اہم مضامین شائع ہوئے ہیں۔ بالخصوص جناب محمد مشتاق احمد اسسٹنٹ پروفیسر اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد اور حافظ محمد زبیر ریسرچ ایسوسی ایٹ قرآن اکیڈمی لاہور کے مضامین انتہائی قیمتی اور غوروفکر کے مستحق ہیں۔ لیکن ان دونوں مضامین پر صرف تبصرہ کرنے سے پہلے میں محترم رئیس التحریر مولانا زاہدالراشدی کے انٹرویو پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں جو صفحہ نمبر۵پر شائع ہوا ہے۔ مولاناخودکش حملوں کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’خودکش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ استعمال کرتی آرہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعمال کیا تھا اور ۱۹۶۵ء کی جنگ نے پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاظ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہوتو جائز ہے، لیکن پُرامن ماحول میں اس کا استعمال ناجائز ہوگا‘‘ مولانا کے اس نقطہ نظر سے مجھے بصد ادب واحترام اختلاف ہے۔ حسن بن صباح کسی مظلوم گروہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اسی طرح دوسرے جنگ عظیم میں جاپان بھی کوئی مظلوم قوم نہیں تھی۔ جاپانیوں نے اپنے پائلٹوں کے ذریعے دشمن کے بحری جہازوں پر جو خودکش حملے کئے تھے، اُس کا اصل نقصان بدرجہ آخر جاپانیوں ہی کو پہنچا۔ وہ اس طرح کہ اُن کے پاس پائلٹوں کی قلت ہوگئی اور یوں وہ اس اعتبار سے کمزور ہوکر رہ گئے۔ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ برطانیہ نے بھی کبھی خودکش حملہ کیا ہو۔ جہاں تک ۱۹۶۵ء کی جنگ کا تعلق ہے، چونڈہ کے محاذ پر اُس وقت موجود جنگی کمانڈر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کبھی کسی سپاہی کو خودکش حملے کا آرڈر دیا ہو۔ میرے نزدیک جس طرح حالت جنگ میں معصوم لوگوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا ممنوع ہے، اسی طرح خودکش حملے بھی ممنوع ہیں۔ قرآن وحدیث نے اس ضمن میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا۔ اگر کسی بھی معاملے میں خودکش حملوں کے جواز کا فتویٰ دیا جائے تو پھر یہ معاملہ کہیں پر بھی نہیں رُکے گا، بلکہ ہر گروہ اپنے آپ کو حالت جنگ میں تصور کرکے اپنے مخالف کے خلاف اس بدترین ہتھیار کا استعمال کرے گا۔ پاکستان کے اندر خودکش حملوں کے جاری رہنے میں ایک عامل علما کی طرف سے اسی طرح کا استثنا دینا ہے۔

مولانا نے مزید فرمایا کہ اُنہیں عسکریت پسندوں کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ ملک بھر میں اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں شرعی نظام نافذ کیا جائے۔ مولانا کی یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قانون بہت حد تک اسلام کے مطابق ہے۔ اصل مسئلہ جلد اور سستے انصاف کا ہے جو بہر حال اسلام کا نہیں بلکہ طریق کار کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ عسکریت پسند شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ آج تک کسی عسکریت پسند تنظیم نے عورتوں کے حق وراثت کے متعلق عملاً کچھ نہیں کہا یا کیا۔ یہ سب تنظیمیں عورتوں کی تعلیم کی سخت مخالف ہیں۔ ان کے خیال میں دین کے اُس حصے کو بھی لوگوں پر جبراً نافذ کرنا ضروری ہے جس حصے کو حضورؐ سے لے کر آج تک جبراً کسی نے نافذ نہیں کیا۔ کیا عسکریت پسندوں کے اس فہم شریعت سے مولانا کو اتفاق ہے؟ 

مولانا نے یہ بھی کہا کہ ’’امریکہ اسرائیل اور بھارت اس میں ملوث ہوکر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نیز بہت سے جرائم پیشہ لوگ بھی اپنی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اس تحریک میں شامل ہوگئے ہیں‘‘۔ میرے خیال میں یہ دونوں باتیں صحیح نہیں ہے۔ دراصل یہ بات عسکریت پسندوں کے جرائم کی پردہ پوشی کے لیے کی جارہی ہے۔ قبائلی علاقوں میں عرب، اُزبک، چیچن اور دوسری قومیتوں کے حامل مسلح جنگجو تو یقیناًموجود ہیں لیکن بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک کی عملی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس ضمن میں دیے جانے والے شواہد سطحی ہیں۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ ایسے مسلح جنگجو بھی موجود ہے جن کا بعد ازمرگ معائنہ کیا گیا تو وہ غیر مختون تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بھارت سے تعلق رکھتے تھے۔ اس ضمن میں اصل حقیقت یہ ہے کہ وزیرستان میں آج سے بیس برس قبل ختنے کا رواج نہیں تھا۔ آج بھی وہاں صرف پچاس فیصد بچوں کے ختنے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ سب وہی لوگ ہیں نہ کہ بھارتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بھارتی سپاہی یہاں کی زبان پر مکمل عبور حاصل کرلے، اور پھر اپنا گھربار چھوڑ کر، صرف اور صرف بھارتی مفاد کی خاطر اپنے آپ کو خودکشی یا جنگ میں مرنے کے لیے پیش کردے۔ یہ بھی واضح ہے کہ عسکریت پسند باقاعدہ اپنی زبان سے سکولوں اور ہسپتالوں کو جلانے اور لوگوں کے قتل کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں، چنانچہ ان جرائم کو کیسے اور کے سرتھوپا جائے؟ البتہ یہ بات یقیناًصحیح ہے کہ جب ہم اپنے ہاتھوں حالات کو آخری حد تک بگاڑ دیتے ہیں تو دوسرے ممالک بھی اس گرم تندور میں اپنی روٹی پکانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ 

مولانا نے یہ بھی کہا کہ ’’قبائلی علاقوں کا مسئلہ فوجی آپریشن کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے‘‘۔ مذاکرات کی اہمیت سے بھلا کس کو انکار ہے، لیکن اگر مولانا کا مطلب یہ ہے، جس طرح کہ کچھ مذہبی سیاسی لیڈر مطالبہ کررہے ہیں، کہ ان علاقوں سے فوری طور پر فوج کو نکالا جائے، تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چند ہفتوں کے اندر اندر سوات سمیت سارے قبائلی بیلٹ پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ہوجائے گا اوریوں ایک نیا ملک وجود میں آجائے گا۔ کیا مولانا کی نظر اس ناگزیر نتیجے پر ہے؟ 


اس کے بعد مجھے آداب القتال سے متعلق جناب مشتاق احمد صاحب کے مضمون کا جائزہ لینا ہے۔ اس مضمون پر جناب مشتاق صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ یہ نہایت عرق ریزی اور دقت نظر سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں صفحہ ۱۴۵، ۴۶پر امام سرخسی کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کسی ملک کے کچھ مسلح گروہ کسی دوسرے ملک میں کارروائی کریں لیکن اُنہیں حکومت نے باقاعدہ اجازت نہ دی ہو تو قانوناً پوزیشن یہ ہے کہ جب حکومت نے باوجود علم کے انہیں جانے دیا تو یہ اُس کی جانب سے خاموش تائید ہے جو صریح اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایسے مسلح گروہوں کی کارروائی جائز ہے‘‘ پروفیسر مشتاق صاحب سرخسی کے اس تجزئے سے اتفاق کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کی روشنی میں جہادی تنظیموں کی صحیح حیثیت باآسانی متعین ہوجاتی ہے۔ گویا اُن کے نزدیک پاکستانی سرزمین کو استعمال کرکے اگر کوئی گروہ دوسرے ممالک میں مسلح کاروائیاں کرتا ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ اسے حکومت کی خاموش تائید حاصل ہے۔ 

اس راقم کے نزدیک یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے امام سرخسی نے جس وقت یہ بات تحریر کی تھی اُس وقت بین الاقوامی قانون آج کی طرح مدون نہیں ہوا تھا۔ آج کے زمانے میں یہ بات ضروری ہے کہ ایک ملک اپنے شہریوں کی جانب سے کسی دوسرے ملک میں کی جانے والی مسلح کارروائی کی باقاعدہ ذمہ داری لے یا اُس سے انکار کرے۔ اگر کوئی ملک علا نیہ کہتا ہے کہ وہ دوسرے ملک کے ساتھ برسرِ جنگ نہیں ہے اور وہ اپنے کسی بھی مسلح گروہ کو دوسرے ملک میں فوجی کارروائی کے لیے نہ تو بھیج رہا ہے اور اس کی اجازت دے رہا ہے، اور دوسری طرف یہی ملک عملاً یہ کام کررہا ہوتا ہے تو یہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ دھوکہ دہی ہے۔ اسی ریاست کی طرف سے کسی دوسری ریاست میں صرف اُس وقت کوئی مسلح گروہ بھیجنے کا جواز موجود ہے جب دونوں ممالک کے درمیان امن کا معاہدہ نہ ہو، اور یہ ملک اپنے مسلح افراد کی پوری ذمہ داری قبول کرے۔ اگر اس کے برعکس کوئی مسلمان ریاست اعلان کرے کہ وہ نہ تو کسی مسلح گروہ کی سرپرستی کررہا ہے، نہ اُس کو سرحد پار کرنے کی اجازت دے رہا ہے اور نہ ہی اُن کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو اس صورت میں اسلامی تعلیمات کی رو سے اس حکومت کے پاس کسی دوسری حکومت کے خلاف اس طرح کی کارروائی کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اسی طرح کسی شہری کے پاس بھی کسی دوسرے ملک کے خلاف کسی کارروائی کا جواز موجود نہیں ہے۔ 

پروفیسر مشتاق صاحب نے صفحہ ۴۶، ۴۷ پر اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ ’’اگر کبھی اسلامی ملک پر حملے کے نتیجے میں وہاں کی حکومت کا عملاً خاتمہ ہوجائے اور ابھی جنگ جاری ہو تو دفاع کا فریضہ ادا کرنے کے لیے اسی جگہ نظم حکومت قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ مزاحمت کرنے والے آپس میں کسی کو امیر چُن کر اُس کی اطاعت کا اقرار کریں تو یہ حکومت کا بدل ہوجائے گا‘‘۔ 

میرے نزدیک اس نقطہ نظر پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہاں بھی اگر چند ایک چیزیں موجود ہوں تو جنگ جاری رکھی جاسکتی ہے، ورنہ نہیں۔ وہ شرائط یہ ہیں کہ ساری مزاحمتی قوت ایک لیڈر کے تحت منظم ہو، ایک ایسا خطہ زمین موجود ہو جس میں مزاحمتی قوت امن وامان قائم کرسکے اور قانون کا نفاذ کرسکے، رائے عامہ اُس کی پشت پر ہو اور لڑائی جیتنے کی پوری طاقت موجود ہو۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط پوری نہ ہو تو مسلح مزاحمت صحیح نہیں۔ میرے نزدیک یہ سب شرائط قرآن وسنت میں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ مسلسل تجربے نے سب جنگی ماہرین کو بھی اسی نتیجے تک پہنچنے پر مجبور کردیا ہے۔ 

اپنے مضمون میں آگے صفحہ ۵۶پر پروفیسر مشتاق رقم طراز ہیں کہ اگر چار شرائط پوری کردی جائے تو اسلامی شریعت کی روسے خودکش حملہ جائز ہے۔ اگرچہ یہ چار شرائط ایسی ہیں کہ آج کا کوئی بھی خود کش حملہ ان پر پورا نہیں اترتا۔ گویا ان چار شرائط کو مان کر بھی خودکش حملہ عملاً ناممکن ہوجاتا ہے، تاہم میری عاجزانہ رائے میں اصل الاصول یہ ہے کہ خودکش کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ قرآن وحدیث نے اس معاملے میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا اور عقلِ عام سے بھی اس ضمن میں کوئی استثنا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ گویا یہ طریقہ جنگ، اگر اسے کوئی طریقہ جنگ کہا جائے تو، مکمل طور پر ممنوع ہے۔ 


اب مجھے حافظ محمد زبیر صاحب کے مضمون پر تبصرہ کرنا ہے۔ اس مضمون کے صفحہ نمبر ۸۲پر اُن کا موقف ہے کہ ’’وزیرستان کا جہاد ایک دفاعی جہاد تھا جو کہ حکومت پاکستان نے قبائیلوں پر مسلط کیا تھا‘‘۔ میرے نزدیک یہ موقف نظرثانی کا محتاج ہے۔ ریاست پاکستان کی آئینی، سرکاری اور بیان کردہ پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان کے اندر کسی کو بھی مسلح تنظیم کھڑی کرنے کی اجازت نہیں، پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، کسی غیر ملکی باشندے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ قانونی طور پر اجازت نامہ لیے بغیر پاکستان کی سرزمین میں داخل ہو اور پاکستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرے۔ یہ ریاست پاکستان کا وہ عہد نامہ ہے جو اُس نے بین الاقوامی طور پر کیا ہے۔ اب اگر ریاست پاکستان خود اپنے عہد نامے کی خلاف ورزی کرتی ہے تو یہ غلط ہے، اور اگر کوئی فرد یا کوئی گروہ اس غلطی میں حکومت پاکستان کا ساتھی بنتا ہے تو یہ بھی شریعت کی رو سے غلط ہے۔ دینی اعتبار سے وزیرستان کے باشندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ریاست پاکستان کی بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی بسر کریں۔ آئین کی رو سے پاکستانی افواج کو ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے قبائلی علاقوں میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ فوج نے کبھی بھی وہاں کے رسم ورواج میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ چنانچہ یہ کہنا کہ وزیرستان کے لوگوں کو حکومت پاکستان کے خلاف دفاعی جہاد کا حق تھا (اور ہے، کیونکہ یہ لڑائی تو جاری ہے)، صحیح موقف نہیں ہے۔ 

حافظ صاحب نے تحریک طالبان کے اس بیان کے حوالے سے کہ ’’ہم پاکستان میں سیکورٹی فورسز کے خلاف کاروائیاں نہیں کریں گے‘‘، اُن کی بہت تعریف وتوصیف کی ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ محض ایک بیان تھا جس پر ایک دن کے لیے بھی عمل نہیں ہوا۔ سکولوں کو نذر آتش کرنا، سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنا اور باقی کاروائیاں بدستور جاری ہیں۔ پر واضح بات یہ ہے کہ ریاست پاکستان کے اندر رہنے والے کسی بھی انسان یا گروہ کو کسی بھی بہانے کو جواز بناکر کسی علاقے پر قبضہ کرنے یا کسی مسلح کارروائی کی کوئی اجازت نہیں۔ 

آگے صفحہ نمبر ۸۳پر حافظ صاحب نے یہ تجزیہ پیش کیا ہے کہ’’ اس طالبان تحریک کو امریکہ نے کھڑا کیا ہے‘‘۔ میرے نزدیک امریکہ نے عراق اور افغانستان میں بڑے مظالم کیے ہیں لیکن اس کا مطلب بھی نہیں کہ ہم اپنی ہر غلطی کو بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہوجائیں اور بلاوجہ امریکہ کو مطعون کرنے لگیں۔ میرے نزدیک تحریک طالبان پاکستان کا موقف اور طریقہ کار سراسر غلط ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس تحریک سے تعلق رکھنے والے تمام افراد انتہائی مخلص، پُرعزم اور اپنے مقصد کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار رہنے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگوں کے ذہن وشعور سے اُٹھی ہوئی ایک اندرونی (Indigenous)تنظیم ہے۔ ذہن سازی کا یہ عمل جنرل ضیاء الحق کے دور میں شروع ہوا تھا اور اس کو ابھی تک مسلسل پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ذہن سازی کا یہ عمل ہمارے ملک ہی کے بعض مذہبی اور سیاسی گروہ اورہمارے کچھ دوسرے ’مہربان‘ انجام دے رہے ہیں۔ 

آگے صفحہ ۸۵پر حافظ صاحب رقم طراز ہیں کہ ’’سیکورٹی فورسز کے جن اہلکاروں نے وزیرستان میں قبائیلیوں پر حملہ کیا ہے تو قبائیلیوں کے لیے اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانا اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنا جائز ہے‘‘۔ یہ صورت حال کی انتہائی غلط تصویر ہے۔ حملہ تو کسی دوسرے ملک پر کیاجاتا ہے ۔ قبائلی علاقے تو اس ملک کا ایک حصہ ہیں جہاں افواج کو نقل وحرکت کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ افواج پاکستان نے کبھی بھی کسی عام قبائلی کے گھربار پر قبضہ نہیں کیا۔ انہوں نے صرف اُن جگہوں کی تلاشی لینی چاہی جہاں پر رپورٹس کے مطابق غیر ملکی جنگجو بستے تھے اور یا ایسے مسلح گروہ موجود تھے جو عام لوگوں پر اپنی حکومت مسلط کررہے تھے اور یا پھر سرحد پارکرکے کاروائیاں کررہے تھے۔ آخر اس میں کون سا عمل غلط ہے؟ میں پوچھتا ہوں آج اگر سیکورٹی فورسز لاہور یا پنڈی کے اندر کسی جگہ کا محاصرہ کرلیں اور لوگوں سے کہیں کہ ہم آپ کے گھروں کی تلاشی لینا چاہتے ہیں تو آپ لوگوں کو کیا مشورہ دیں گے؟ کیا آپ اُن کو یہ مشورہ دیں گے کہ سیکورٹی فورسز سے لڑیں؟ کیا یہ مشورہ صحیح ہوگا؟ ظاہر ہے کہ اس کے برعکس آپ اُن کو یہ مشورہ دیں گے کہ پُرامن طور پر تلاشی دیں، اگر سیکورٹی فورسز کوئی زیادتی کریں تو اُس پر عملی طور پر صبر کریں اور پُرامن احتجاج اور فریاد کا راستہ اختیار کریں۔ جو مشورہ ہمارے لیے صحیح ہے، وہی وزیرستان کے لوگوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ 

آگے صفحہ ۹۱ پر حافظ صاحب نے تحریر کیا ہے کہ’’ہم عراق میں ہونے والے قتال کے خلاف نہیں‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ عراق جنگ کے متعلق بھی ہمارے ہاں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ عراق پر امریکی حملہ صریحاً ایک جرم تھا۔ وہاں کی صورت حال کو پرامن طورپر بھی کنڑول کیا جاسکتا تھا۔ وہاں کی اب تک موجود سب قتل وغارت گری میں امریکہ پوری طرح ذمہ دار ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عراق کی ساٹھ فیصد شیعہ آبادی کا غالب ترین حصہ عراق کی موجودہ حکومت کے ساتھ ہے۔ بیس فیصد کُرد آبادی پوری طرح موجودہ حکومت کے ساتھ ہے۔ تلخ تجربات کے بعد اب اہل سنت کی ایک معقول تعداد بھی موجودہ حکومت کے ساتھ ہوگئی ہے۔ عراق کے اندر نوے فیصد خودکش حملے امریکی افواج کے خلاف نہیں بلکہ اہل تشیع کے خلاف ہوئے۔ 

آگے صفحہ ۹۲ پر حافظ صاحب کا نقطہ نظر ہے کہ ’’ہمارے نزدیک کشمیر کا جہاد فرض ہے‘‘۔ آگے وہ بتاتے ہیں کہ یہ جہاد اصلاً پاکستانی افواج کی ذمہ داری ہے۔ میرے نزدیک اُن کی دوسری بات صحیح ہے اور پہلی بات میں کچھ تفصیل کی گنجائش ہے۔ اگر کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح اقدام کرنا پڑے تو یقیناًوہ اصلاًافواج پاکستان ہی کا فرض ہے، تاہم موجودہ حالات میں مقبوضہ کشمیر کو بزور بازو آزاد کرنا ریاست پاکستان پر فرض نہیں ہے۔ اُس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ سورہ انفال آیت ۶۶کے مطابق مظلوم مسلمانوں کے لیے جہاد صرف اُسی وقت فرض بنتا ہے جب دشمن ریاست کی طاقت دُگنے سے زیادہ نہ ہو اور عملاً جنگ کا نتیجہ ہمارے حق میں نکل سکتا ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ بھارت کے پاس ہم سے کم ازکم تین گنا زیادہ طاقت ہے۔ اگر کبھی دونوں ریاستوں کے درمیان میں بھرپور جنگ چھڑ جائے تو پاکستان کے پاس صرف چالیس دن کی لڑائی کا سامان موجود ہے، جب کہ بھارت کے پاس ایک سو دن کی لڑائی کا سامان موجود ہے۔ گویا خواہی نخواہی چالیس دن بعد ہمیں پہلے کی طرح ایک دفعہ پھر جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس لڑائی سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا اور پاکستان کی معیشت مکمل طور پر بیٹھ جائے گی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں جمہوریت سے فائدہ اٹھاکر مسلمان اپنے لیے بے شمار حقوق لے سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کشمیری مسلمان ایک جھنڈے تلے پوری طرح متحدہوجائیں، جیسا کہ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی سربراہی میں ہوا، اور جمہوری جدوجہد میں پرامن طور پر حصہ لیں تو وہ چند ہی برس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان سے بہتر مسلمان ریاست بنا دیں گے۔ اُس صورت میں مقبوضہ کشمیر کو اتنی داخلی خودمختاری بھی مل جائے گی جس کا ہمارے صوبے تصور بھی نہیں کرسکتے۔ تیسری تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگست ۱۹۸۸ء سے پہلے مقبوضہ کشمیر کے اندرکچھ سیاسی قیدی تو ضرور موجود تھے لیکن بلحاظ مجموعی امن وسکون تھا۔ جب وہاں عسکری جدوجہد شروع ہوئی تو اُس کے نتیجے میں بھارتی افواج کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہوا اور اُن کے مظالم بھی بڑھتے گئے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی تحریک آزادی صرف اُس وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب عوام ایک تنظیم اور ایک لیڈر تلے متحد ہوں۔ ایسے اتحاد کے نتیجے میں عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کو قدرت کی طرف سے بڑی برکت عطا کی جاتی ہے۔ اور اگر یہ شرط پوری نہ ہوتو پھر کسی بھی قوم کو کسی بھی صورت میں آزادی نہیں مل سکتی۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے اندر تیس سے زیادہ سیاسی تنظیمیں کام کررہی ہیں جن کے ہاں اصل جھگڑا قیادت کا ہے۔ یہی حال وہاں کی عسکری تنظیموں کا ہے۔ چنانچہ اس صورت میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

آگے صفحہ ۹۹ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں ’’ہم اس کے قائل ہیں کہ ریاست کے بغیر بھی قتال ہوسکتا ہے بشرط یہ کہ اس سے دشمن کو کوئی بڑا نقصان پہنچ رہا ہو‘‘۔ میرے نزدیک حافظ صاحب کا یہ نقطہ نظر صحیح نہیں۔ کسی خطہ ارضی میں اجتماعی نظم قائم کیے بغیر قتال کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا قتال شروع کیا گیا تو یہ اپنے اندرونی حرکیات(Dyanamics)کے تحت خودبخود ایک سے زیادہ امیروں کے ماتحت ہوجائے گا اور اس کے نتیجے میں وہی فساد رونما ہوگا جس سے حافظ صاحب احتراز کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ریاست کے بغیر قتال کا حق تو اللہ نے اپنے کسی پیغمبر کو بھی نہیں دیا چہ جائیکہ کسی عام مسلمان کے لیے اس حق کو تسلیم کیا جائے۔ اسی لیے بہت سے پیغمبروں کی پوری زندگی میں قتال کا مرحلہ کبھی نہیں آیا۔ ایسی صورت میں صبروحکمت سے کام لینے کا حکم دیا گیاہے اور یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔صبر کی تلقین قرآن مجید میں ایک سو سے زیادہ مرتبہ آئی ہے۔ 

آگے صفحات ۱۰۲، ۱۰۳ میں حافظ صاحب نے قتال کی غرض وغایت بیان کی ہے۔ انہوں نے سورہ بقرہ اور سورہ انفال کے حوالے سے یہ بات بالکل ٹھیک لکھی ہے کہ فتنے سے مُراد وہ ظلم ہے جو اہل ایمان کے لیے آزمائش بن جائے ۔ تاہم اُن کی یہ بات کہ ’’ریاست حکومت کے انتظامی اُمور میں مشرکین کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے اور قتال اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ تمام کافر ومشرک اُس دنیاوی نظام میں اللہ کے مطیع وفرمانبردار نہیں بن جاتے یعنی جب تک اللہ کے دین کا غلبہ تمام ادیان باطلہ پر نہیں ہوجاتا اُس وقت قتال جاری رہے گا ‘‘ صحیح نہیں۔اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے حافظ صاحب نے سورہ توبہ کی آیات ۲۹ اور ۳۳کا حوالہ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی یہ بات بہت زیادہ نظرثانی کی محتاج ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو اس کا عملاً مطلب یہ ہے کہ اسلام دُہرے معیار پر یقین رکھتا ہے۔ اپنے لیے تو وہ آزادی مانگتا ہے اور دوسروں کو آزادی اور اختیار کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس کا یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ جب تک دنیا میں کوئی ایک بھی غیر مسلم ریاست موجود ہے، ہم عملاً حالت جنگ میں رہیں گے اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پوری دنیا پر ہماری حکومت قائم نہیں ہوجاتی۔ اس کا یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک بنیادی انسانی حقوق، قومی حق خودارادیت، جمہوریت اور پُرامن بقائے باہمی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مسلمان ان سب اصولوں کو محض وقتی طور پر باامر مجبوری صرف اس وجہ سے مانتے ہیں کہ ابھی اُن کے پاس غیر مسلم حکومتوں کو ختم کرنے کے لیے مطلوبہ طاقت نہیں ہے۔ گویا اصل الاصول یہی ہے کہ جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس۔ 

اگر واقعتا یہی ہمارے دین کا نقطہ نظر ہے تو پھر اگر دنیا کے تمام غیر مسلم اسلام کے وجود ہی کو اپنے لیے ایک حقیقی خطرہ تصور کریں اور مسلمانوں کو اپنی ہر حکومت کے لیے ایک امکانی اور واضح (Potential)دشمن سمجھیں تو کیا اُن کی یہ سوچ صحیح نہیں ہوگی؟ چنانچہ اگر وہ یہ کہیں کہ مسلمانوں کا تو اصل مقصد ہی یہی ہے کہ اگر ان کو طاقت مل گئی تو یہ ہماری حکومتوں کو نیست ونابود کردیں گے، چنانچہ اس سے پہلے کہ مسلمان مطلوبہ طاقت حاصل کریں ہمیں چاہیے کہ ہم ان کو دباکر رکھیں، محکوم بناکر رکھیں اور ان کو ترقی نہ کرنے دیں۔ اگر غیر مسلموں نے علی الاعلان یہ لائحہ عمل اختیار کرلیا تو ہم کس اخلاقی اصول کی بنیاد پر اُن کی دلیل کا جواب دے سکیں گے؟ گویا حافظ صاحب کا یہ نقطہ نظر اسلام کی اخلاقی پوزیشن کی حدو درجہ کمزور کردیتا ہے۔ اس سے اسلام ایک دعوتی دین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک جارح دین کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ اس نقطہ نظر کو اختیار کرنے کے بعد مسلمانوں کو کہیں بھی اپنی محکومیت کے خلاف اقوام عالم کے سامنے دُہائی دینے اور فریاد کا حق نہیں پہنچتا، اس لیے کہ اُن کا اپنا ایجنڈا بھی تو ساری دنیا کو محکوم بنانے کا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اگر حافظ صاحب کے اس نقطہ نظر کو تسلیم کرلیا جائے تو قرآن مجید میں بین الاقوامی معاہدات پر پابندی کے جو احکام سورہ انفال آیت ۷۲میں دیے گئے ہیں، یا یہ ہدایت جو سورہ نساء آیت ۹۰ اور سورہ انفال آیات۶۱، ۶۲ میں بیان کی گئی ہے کہ دشمن کی صلح کی پیشکش قبول کی جائے، کے پھر کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔ اسی طرح جو ہدایت سورہ ممتحنہ آیت ۸اور سورہ نساء آیت ۹۰میں دی گئی ہے کہ پُرامن اور غیر جانبدار گروہوں اور قوموں کے خلاف فوج کشی جائز نہیں، بھی بالکل غیر متعلق ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سورہ مائدہ آیت ۸کے بھی کوئی معنی نہیں رہتے جن میں تمام اقوام سے انصاف برتنے کی بات کی گئی ہے اور دشمن قوم کے معاملے میں بھی انصاف ہی کی تلقین کی گئی ہے۔ 

اصل بات یہ ہے کہ سورہ توبہ میں اُس عذاب کے بارے میں حکم دیا گیا ہے جو ہر رسول کے دشمنوں پر اتمام حجت کے بعد ان کو اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے جیسا کہ قومِ نوح، قوم فرعون، ثمود اور اسی طرح کے بہت سی اقوام کے معاملے میں ہوا۔ چنانچہ اس سورہ میں سرزمین عرب کے باقی ماندہ مشرکین کے لیے یہ اعلان کردیا گیا کہ ان کو مزید چار مہینے تک مہلت ہے۔ اس مہلت کے دوران میں اُن کو اجازت تھی کہ وہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد اپنی آزادانہ رائے سے یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر جنگ کے لیے تیار ہوجائیں اور یا پھر یہ علاقہ چھوڑ جائیں اس لیے کہ اس علاقے کو قیامت تک کے لیے توحید کا مرکز بننا ہے۔ اسی سورہ میں سرزمین عرب کے یہود ونصاریٰ کے لیے یہ سزا رکھی گئی کہ وہ ایک شہری کی حیثیت سے یہاں رہ سکتے ہیں مگر ریاست کے انتظام میں اُن کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ آگے چل کر اسی سورہ میں اُس وقت کے منافقین کے لیے بھی سزا کا اعلان کیا گیا۔ گویا یہ دراصل حضورؐ کی طرف سے بحیثیت رسول اتمام حجت کے بعد کی سزا ہے جس کا تعلق خالصتاً حضورؐ سے تھا۔ اب یہ تمام واقعہ ہمارے لیے قیامت تک رسالت محمدیؐ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جہاں تک عام مسلمان ریاستوں کا تعلق ہے، اُن کے لیے وہی سب قوانین ہیں جو قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر بیان کیے گئے ہیں اور جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ اُس میں بنیادی قانون یہ ہے کہ اگر کوئی جمہوری غیر مسلم ریاست کسی دوسری مسلمان ریاست کے خلاف معاندانہ کارروائی نہیں کرتی تو اُسے بھی دنیا میں اپنی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کا حق ہے جیسا حق کسی مسلمان ریاست کو ہے۔ 

پروفیسر مشتاق احمد اور حافظ محمد زبیر کے مضامین میں بہت قیمتی نکات موجود ہیں جن سے راقم الحروف کو اتفاق ہے۔ ان دونوں مضامین پر راقم اُن کی تحسین کرتا ہے۔ درج بالا تبصرہ خالصتاً خیرخواہی کے جذبے سے کیا گیا تاکہ ان ایشوز کی مزید تنقیح ہوسکے۔ 

آراء و افکار