مباحثہ و مکالمہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جدید افکار ونظریات اور آرا وتعبیرات کے حوالے سے اسلامی تعلیمات واحکام کے ضمن میں پیدا ہونے والے سوالات، شکوک وشبہات اور علمی وفکری اعتراضات کے بارے میں ہمارے دینی حلقوں کا عمومی رویہ نظر انداز کرنے اور مسترد کر دینے کا ہے جس سے ’الشریعہ‘ کو اختلاف ہے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں کے ارباب فکر ودانش اس طرف توجہ دیں، مباحثہ میں شریک ہوں،اپنا نقطہ نظر دلائل کے ساتھ پیش کریں، جس موقف سے وہ اختلاف کر رہے ہیں، اس کی کمزوری کو علمی انداز سے واضح کریں اور قوت استدلال کے ساتھ اپنے موقف کی برتری کو واضح کریں، کیونکہ اب وہ دور نہیں رہا کہ کسی مسئلہ پر آپ اپنی رائے پیش کر کے اس کے حق میں چند دلائل کا تذکرہ کرنے کے بعد مطمئن ہو جائیں کہ رائے عامہ کے سامنے آپ کا موقف واضح ہو گیا ہے اور آپ کی بات کو قبول کر لیا جائے گا۔ آج کا دور تقابلی مطالعہ کا دور ہے، تجزیہ واستدلال کا دور ہے اور معروضی حقائق کی تفصیلات وجزئیات تک رسائی کا دور ہے۔ آپ کو یہ سارے پہلو سامنے رکھ کر اپنی بات کہنا ہوگی اور اگر آپ کی بات ان میں سے کسی بھی حوالے سے کمزور ہوگی تو وہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گی۔ 

اسی مقصد کے تحت الشریعہ کے صفحات پر ’’مباحثہ ومکالمہ‘‘ کا یہ آزادانہ فورم قائم کیا گیا ہے جس کے تحت شائع ہونے والی تحریروں سے ’الشریعہ‘ کا اتفاق ضروری نہیں ہے اور اس میں کسی بھی علمی موضوع پر لکھی جانے والی کوئی بھی تحریر شائع کی جا سکتی ہے جو علمی اسلوب اور افہام وتفہیم کے لہجے میں مناظرانہ انداز اور طعن وتشنیع کے اسلوب سے ہٹ کر لکھی گئی ہو۔ اس ضمن میں روایتی مناظرانہ مسائل کے بجائے اسلام اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل ومشکلات کے حوالے سے جدید عنوانات پر لکھی گئی تحریروں کو ترجیح دی جائے گی، بلا وجہ تکرار سے گریز کیا جائے گا اور کسی بھی موضوع پر ’الشریعہ‘ میں شائع ہونے والے کسی مضمون یا مواد کو دوبارہ کسی اور عنوان سے شائع نہیں کیا جائے گا۔

علمی مباحثہ ومکالمہ ہمیشہ سے ہماری ضرورت رہا ہے اور آج کے دور میں معلومات اور خیالات کی وسعت وتنوع کے ماحول میں اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، اس لیے ہمیں امید ہے کہ اہل علم اس سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ ’الشریعہ‘ سے تعاون فرماتے رہیں گے۔


آراء و افکار

اگست ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۸