تحفظ حقوق نسواں بل ۲۰۰۶ء ۔ ایک تنقیدی جائزہ

محمد مشتاق احمد

حدود قوانین میں ترامیم کے لئے حکومت کی جانب سے ’’تحفظ قانون نسواں بل ‘‘ کے نام سے جو بل قومی اسمبلی میں ۲۱ اگست ۲۰۰۶ ء کو پیش کیا گیااس کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے ممبران قومی اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ حکومتی ارکان نے ان کے اس اقدام کو قرآن و سنت اور آئین کی توہین قرار دیا ، جبکہ متحدہ مجلس عمل کے اراکین اس بل کو حدود اللہ میں تبدیلی قرار دے کر اپنے تئیں ایمانی غیرت کا مظاہرہ کررہے تھے ۔بات اصل میں وہی ہے جو اس کتابچے کے پیش لفظ میں کہی گئی ہے کہ فریقین معاملے کا غیر جذباتی انداز میں جائزہ نہیں لے رہے ۔ ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کررہے ۔ ہمارے خیال میں دونوں فریق قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کرنا چاہتے ہیں مگر حدود قوانین کے پیچیدہ امور کے متعلق قرآن وسنت کے تفصیلی احکام سے بے خبری کے باعث ایک دوسرے پر تنقید کررہے ہیں ۔ ہماری اس رائے کی وجہ یہ ہے کہ اس ترمیمی بل کی کئی دفعات ہماری تحقیق کی رو سے صحیح ہیں اور حدود قوانین کو اسلامی قانون سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان میں تجویز کردہ یہ ترامیم ضروری ہیں ۔ دوسری طرف اس ترمیمی بل کی چند شقیں ہمارے نزدیک قابل اعتراض ہیں اور اگر ان کو قانونی شکل دے دی گئی تو حدود کا پورا نظام متاثر ہوسکتا ہے ۔ یہاں تفصیل کی گنجائش تو نہیں البتہ اس لیے اس سلسلے میں مختصر اشارات دیے جاتے ہیں ۔ پہلے بل کی مثبت دفعات لے لیجئے : 

۱۔ اس ترمیمی بل کے ذریعے حد زنا آرڈی نینس اور حد قذف آرڈی نینس کی وہ دفعات جو تعزیر سے تعلق رکھتی ہیں، انہیں حدودآرڈی نینس سے نکال کر مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں شامل کیا جائے گا ۔ (بل کی دفعات ۲ تا ۹ ) اس پر شرعی لحاظ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہمارے نزدیک یہ ایک مستحسن امر ہے ۔ دراصل حدود قوانین میں شامل تعزیری سزائیں اسلامی قانون کے بجائے انگریزوں کے وضع کردہ ’’مجموعۂ تعزیرات ہند ‘‘ (جو پاکستان میں اب ’’مجموعۂ تعزیرات پاکستان‘‘ کہلاتا ہے ) سے ماخوذ ہیں ، بلکہ اکثر تو مجموعۂ تعزیرات کی دفعات کو بعینہ اسی طرح درج کردیاگیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں قانون ساز اداروں اور شعبۂ قانون سے وابستہ بہت سے افراد کا موقف یہ ہے کہ جو قوانین قرآن وسنت سے ’’متصادم‘‘ نہیں ہیں وہ از خود صحیح ہیں ۔ اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ اسلامی قانون کے قواعد عامہ نظر انداز کردیے جاتے ہیں بلکہ ’’عدم تصادم ‘‘کو ’’مطابقت‘‘ کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے ۔ مزید برآں پاکستان میں حدود قوانین کے تحت جو سزائیں اب تک نافذ کی گئی ہیں، وہ ساری کی ساری تعزیری ہیں اور ان میں تقریبا تمام سزائیں مجموعۂ تعزیرات پاکستان سے لی گئی ہیں ۔ پس اگر خامی ہے تو مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں ہے نہ کہ حدود میں لیکن اس کے باوجود مورد الزام حدود قوانین ٹھہرتے ہیں ۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ تعزیری سزاؤں کو مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں ہی رکھا جائے ۔ 

اسی طرح ہماری ناقص رائے یہ ہے کہ حدود قوانین نے جرم کو مستوجب حد اور مستوجب تعزیر میں تقسیم کرکے جو دوہرے معیار قائم کیے ہیں، وہ اسلامی قانون حدود کی صحیح تعبیر پر مبنی نہیں ۔ مثلاً قرآن وسنت اور فقہا کی تشریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا یا تو مستوجب حد ہے یا اگر وہ مستوجب حد نہیں تو پھر وہ زنا نہیں ۔ اگر الف الزام لگائے کہ ب نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ متعلقہ نصاب شہادت پر جرم ثابت کرے ، بصورت دیگر الف پر قذف کی حد جاری ہوگی۔ (ملاحظہ ہو : سورۃ النور ، آیت ۴ و ۱۳ ) پس اگر الف اپنے دعوے کے ثبوت میں قرائن اور واقعاتی شہادتوں کا انبار بھی لگائے تو ا س سے جرم زنا ثابت نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ثابت ہوگا اور اس پر حد قذف عائد ہوگی ۔ اس کے برعکس حد زنا آرڈی نینس میں قرار دیا گیا ہے کہ بعض حالات میں چار گواہ پیش نہ کرنے کے باوجود ایسا ہوسکتا ہے کہ مدعی کو قذف کی سزا نہ دی جائے۔ ایسی صورتوں میں ریکارڈ پر موجود شہادت اور ثبوت کی بنیاد پر عدالت مدعا علیہ کو مناسب تعزیری سزا سنا سکتی ہے۔ گویا یہ جرم زنا مستوجب تعزیر ہوجائے گا۔ آرڈی نینس نے زنا مستوجب تعزیر کی جو صورتیں ذکر کی ہیں، ان پر فقہا کی اصطلاح میں لفظ زنا کا اطلاق ہی نہیں ہوتا ۔ اسی طرح حد قذف آرڈی نینس میں قذف مستوجب تعزیر کی جو صورتیں ذکر ہوئی ہیں، انہیں فقہا کی اصطلاح میں جرم قذف کہا ہی نہیں جاسکتا ۔ یہی بات سرقہ مستوجب تعزیر ، حرابہ مستوجب تعزیر اور شرب خمر مستوجب تعزیر کے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے ۔ 

دراصل حدود قوانین کا مسودہ بنانے والے بھی اس الجھن کا شکار ہوگئے تھے کہ حد کے اثبات کے لیے درکار نصاب شہادت پورا ہونا عام حالت میں ممکن نہیں ہوتا ، جبکہ جرم کے اثبات کے لیے عام قانون شہادت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ یقینی ہوتا ہے کہ مدعا علیہ نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ تو کیا اس صورت میں مجرم کو آزاد چھوڑ دیا جائے گا ؟ چنانچہ انہوں نے جرم کے ثبوت کے لیے دوہرا معیار قائم کردیا کہ اگر ایک معیار پر ثابت ہوا تو حد کی سزا دی جائے گی اور اگر دوسرے معیار پر ثابت ہوا تو تعزیر کی سزا دی جائے گی ۔ اس کے برعکس صحیح طریقہ یہ ہے کہ جرم زنا کو صرف مستوجب حد قرار دیا جائے اور اس کے لیے ایک ہی معیار ثبوت ہو ۔ باقی رہیں بے حیائی کی دیگر اقسام تو ان کو الگ جرائم قرار دے کر ان کے لیے الگ معیار ثبوت مقرر کردیا جائے ۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے اور وہ اس جرم کے درکار نصاب شہادت پورا نہ کر سکے تو اس کی جانب سے اور کسی ثبوت کو قبول نہ کیا جائے ، بلکہ اسے قذف کا مرتکب ٹھہرایا جائے۔ یہی اصول حد سرقہ ، حد حرابہ ، حد قذف اور حد شرب کے لیے بھی ہے ۔ 

تعزیرات کو حدود قوانین سے ختم کرنے کے اثرات کے بارے میں ایک شبہہ یہ پیش کیا جارہا ہے کہ اس طرح معاشرے میں بے حیائی کی راہ کھل جائے گی کیونکہ زنا کا جرم مستوجب تعزیر نہیں رہے گا اور حد کے لیے درکار نصاب شہادت کا پورا ہونا عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا ۔ ہمارے نزدیک یہ شبہ بے بنیاد ہے ۔ اولاً تو زنا سے کم تر بے حیائی ویسے بھی تعزیری جرم ہے ، لیکن اسے زنا مستوجب تعزیر نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ مجموعۂ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۴کے تحت نازیبا حرکات پر سزا دی جاسکتی ہے اور یہ جرم قابل دست اندازئ پولیس ہے۔ ثانیاً حدود اور بالخصوص حد زنا کے متعلق شریعت کے احکام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان جرائم کا تذکرہ ہی نہ ہو ، حتی الامکان اس پر پردہ ڈالا جائے۔ البتہ اگر کوئی جوڑا اتنا ہی بے حیا ہو کہ وہ کھلے عام زنا کا ارتکاب کرے (ظاہر ہے کہ چار عینی گواہ کامیسر ہونا عام حالات میں صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب زنا کا ارتکاب کھلے عام کیا جائے ) تو پھر ان کو لازماً حد کی سزا دی جائے اور کھلے عام دی جائے ۔ پس زنا مستوجب تعزیر کی قسم ختم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی شخص کسی پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی جرات نہیں کرسکے گا۔ یہی شریعت کا مقتضی ہے۔ ثالثاً تعزیری جرائم کو حدود قوانین سے نکال کر مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں شامل کیا جارہا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ امور بدستور جرائم ہی رہیں گے، البتہ کاروائی کے لئے حدود کا مخصوص ضابطہ لاگو نہیں ہوگا ۔ اس کے ساتھ لازمی تھا کہ حد قذف آرڈی نینس میں قذف کی تعریف سے ’’نیک نیتی پر مبنی الزام ‘‘ کا استثنا بھی حذف کردیا جاتا، کیونکہ اس استثنا کی وجہ سے حد قذف کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور اس قانون سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں ۔ 

۲ ۔ اسی طرح تعزیرات سے متعلق جرائم میں کوڑوں کی سزا ختم کردی جائے گی ۔ یہ بھی حکومت کے جائز اختیار کا استعمال ہے ۔ کیونکہ ان جرائم میں جرم کی تعریف ، اس کے اثبات کے طریق کار اور اس کے لئے سزا کا تعین جیسے سارے امور حکومت کے اختیار میں ہیں ۔ 

۳ ۔ زنا کے مقدمے کے متعلق قرار دیا گیا ہے کہ اس میں پولیس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہوگا ، استغاثہ براہ راست متعلقہ جج کے پاس دائر ہوگا اور وہی ملزم کی گرفتاری اور دیگر امور سے متعلق کاروائی کا مجاز ہوگا ۔ (بل کی دفعہ۹) ہمارے نزدیک یہ ترمیم بھی ضروری ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیس ان قوانین کا حد درجہ غلط استعمال کرتی ہے اور اس کا سارا طریق کار حدود کے باب میں شریعت کے نظام سے متصادم ہے ۔ اس ترمیم پر ایک شبہہ یہ پیش کیا جارہا ہے کہ اس طرح پولیس بے حیائی کے روک تھام میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکے گی ، حالانکہ روک تھام سے متعلق پولیس کے اختیارات بدستور موجود ہیں ۔ صرف اتنا ہوجائے گا کہ پولیس کسی کو چار عینی گواہوں کی عدم موجودگی میں زنا کے الزام کے تحت گرفتار نہیں کرسکے گی ، اور پولیس کی زیادتیوں کے سدباب کے لیے یہ نہایت ضروری ہے ۔ 

۴ ۔ قذف کے متعلق قرار دیا گیا ہے کہ اگر عدالت میں زنا کا الزام غلط ثابت ہوجائے تو قذف کے لیے نئے استغاثے کی ضرورت نہیں ہوگی ، بلکہ زنا کا الزام لگانے والے اور گواہوں کے خلاف قذف کی کاروائی کی جاسکے گی ۔ (بل کی دفعہ۲۲ ) قذف آرڈی نینس میں اس شق کا شامل کرنا بھی ہماری تحقیق کے مطابق فقہا کی تصریحات کی رو سے نہایت ضروری ہے ۔ 

قذف کے ماسوا تمام حدود کو فقہاء نے خالص ’حق اللہ‘ کہا ہے ۔ قذف البتہ ’حق مشترک‘ ہے ، اگرچہ ا س میں بھی حق اللہ غالب ہے ۔ پس حق اللہ کے غالب ہونے کی وجہ سے اسے حد قرار دیاگیا ہے اور اس پر حد کے دیگر اوصاف کا اطلاق کیا گیا ہے ۔ تاہم چونکہ اس میں حق العبد بھی مغلوب شکل میں موجود ہے، اس لیے اس پر حق العبد کے چند اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ان اثرات میں ایک اہم اثر یہ ہے کہ اس کے مقدمے کی کاروائی کے لئے مقذوف کی جانب سے کاروائی کا آغاز ضروری ہے ، بشرطیکہ مقذوف خود زندہ ہو ۔ اگر کسی نے کسی مردہ شخص پر زنا کا الزام لگایا تو اس کے ورثا کاروائی کا آغاز کریں گے ۔ اگر کسی نے ایک زندہ شخص پر زنا کا الزام عائد کیا اور وہ مقذوف کاروائی شروع کرنے سے پہلے فوت ہوگیا تو اب اس کے ورثا کاروائی شروع نہیں کرسکتے ۔ 

تاہم یہ اصول اس صورت میں ہے جب قاذف قذف کا ارتکاب قاضی کے سامنے نہ کرے ۔ اگر اس نے قذف کاارتکاب قاضی کے سامنے کیا تو قذف کی کاروائی کے لئے مقذوف کی جانب سے دعویٰ ضروری نہیں ہے ۔ چنانچہ امام سرخسی نے تصریح کی ہے کہ اگر کسی شخص پر زنا کا الزام لگایا گیا اور عدالت میں چار گواہ پیش کیے گئے تو ان گواہوں میں ہر ایک کی گواہی تنہا قذف ہے لیکن چاروں کی گواہی مل کر ملزم کے خلاف حجت بن جاتی ہے ۔ پس اگر یہ حجت پوری نہ ہو تو عدالت گواہوں کو بھی قذف کی سزا دے گی اور اس کے لیے مقذوف کی جانب سے از سر نو مقدمے کا اندراج ضروری نہیں ہوگا۔

۵۔ ترمیمی بل کی دفعہ۲۴میں قرار دیا گیا ہے کہ قذف کا مقدمہ اگر مستغیث واپس لے تو مقدمہ از سر نو شروع نہیں کیا جائے گا ، نہ ہی تعزیری سزا دی جائے گی ۔ اسی طرح بل کی دفعہ ۱۶ میں قرار دیا گیا ہے کہ زنا کا ملزم اقرار جرم پھر جائے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی خواہ اس کا کچھ حصہ پہلے سے جاری ہوچکا ہو ۔ ہمارے نزدیک یہ بات قرآن وسنت کے عین مطابق ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حد کے مقدمے میں قضا یعنی عدالتی کارروائی (Trial) کی تکمیل سزا سنائے جانے پر نہیں ، بلکہ استیفا یعنی سزا کے جاری کرنے ( Enforcement) پر ہوتی ہے ، اور سزا کی استیفاء اس کے مکمل طور پر نافذ ہونے پر ہوتی ہے ۔ پس عدالتی کارروائی (Trial) کا اختتام اسی وقت ہوگا جب سزا مکمل طور پر نافذ ہوجائے۔ اسی وجہ سے سزا کے مکمل نفاذ سے پہلے اگر گواہ گواہی سے پھر جائیں ، یا جب جرم صرف اقرار سے ثابت ہو اور ملزم اقرار سے رجوع کرے ، تو حد کی سزا یا اس کا بقیہ حصہ نافذ نہیں کیا جائے گا ۔ ایسی صورت میں مقدمے کی کاروائی از سر نو شروع نہیں کی جائے گی ، بلکہ حد کا مقدمہ اسی وقت ختم ہوجائے گا ، کیونکہ ایسی صورت میں ’شبہہ‘ پیدا ہوجاتا ہے اور ’شبہہ‘ کی وجہ سے حد کی سزا ساقط ہوجاتی ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ’شبہہ‘ سے مراد ’’شک کا فائدہ‘‘ (Benefit of the Doubt) نہیں ہے ، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے ، بلکہ مراد امر قانونی یا امر واقعی کے سمجھنے میں خطا (Mistake of Law or of Fact ) ہے جو فعل کے مرتکب کو لاحق ہوتا ہے ۔ جرم کے ثبوت کے متعلق اگر جج کے ذہن میں کوئی شک ہے تو اس کا فائدہ تو لازماً ملزم کو دینا چاہیے ، اسلامی قانون کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ تاہم امر قانونی کے سمجھنے میں خطا کو انگریزی قانون کوئی عذر نہیں سمجھتا ، جبکہ اسلامی قانون نے حدود سزاؤں میں ، جو کہ حقوق اللہ سے متعلق ہیں ، اسے عذر مانا ہے اور اس کی بنا پر حد کی سزا ساقط ہوجاتی ہے ۔ 

۶۔ شاید اس ترمیمی بل میں سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہی محسوس کی جارہی ہے کہ اس کے ذریعے زنا بالجبر کو حد زنا آرڈی نینس سے نکال کر مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں شامل کر دیا جائے گا ۔ (بل کی دفعہ۵ ) ہماری تحقیق کے مطابق یہ بھی نہایت صحیح اقدام ہے ، کیونکہ زنا بالجبر ہماری ناقص رائے کے مطابق حد نہیں بلکہ جرمِ سیاسۃ ہے (جسے اس بل میں تعزیر قرار دیاگیا ہے ) ۔

فقہاء کے وضع کردہ ڈھانچے میں ہر قانون کا تعلق یا تو اللہ کے حق سے ہوتا ہے ، یا بندے کے حق سے ، جسے حق العبد کہتے ہیں ۔ بعض اوقات قانون کا تعلق ریاست یا معاشرے کے حق سے ہوتا ہے جسے حق السلطان یا حق السلطنۃ کہتے ہیں ۔ عصر حاضر میں اسلامی قانون پر تحقیق کرنے والوں نے بالعموم حقوق اللہ اور حقوق السلطان کو مترادف سمجھا ہے اور اس وجہ سے بہت ساری غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔حق جس کا ہوتاہے اسے جرم کی معافی کا بھی اختیار ہوتا ہے ۔ اگر حقوق اللہ اور حقوق السلطان ایک ہی ہوتے تو پھر جن جرائم کو حقوق اللہ سے متعلق سمجھا جاتاہے (حدود) ان میں ریاست کے پاس معافی کا اختیارہوتا۔ اسی طرح حق کے مختلف ہونے کی وجہ سے جرم کے ثبوت اور بعض دیگرمتعلقہ مسائل (مثلاً ’شبہہ‘ کااثر) بھی تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ 

فقہاء نے تمام حدود سزاؤں کوبالعموم حقوق اللہ سے متعلق قراردیا ہے ۔ ( حد قذف کوفقہائے احناف نے بندے اور خدا کا مشترک حق قرار دیا ہے ، تاہم ساتھ ہی یہ بھی قرار دیا ہے کہ ا س میں اللہ کا حق غالب ہے ۔ گویا نتیجہ یہ ہے کہ حد قذف میں بھی کسی کے پاس معافی کا اختیار نہیں ہے ۔) تعزیری سزاؤں کو احناف نے خالص حق العبد قرار دیا ہے ۔تعزیری سزا حد سے زیادہ نہیں ہوسکتی ۔ایسے جرائم جن کا تعلق حق السلطان سے ہے اور جن کی سزا کی مقدار کا تعین بھی اولوالامر کے ذمے ہے ، ان کوفقہائے احناف ’’سیاسۃ‘‘ جرائم کہتے ہیں ۔ ان جرائم میں معیار ثبوت کا تعین بھی حکومت کے پاس ہے اور معافی کا اختیار بھی وہ رکھتی ہے ۔ جرم کی نوعیت کے مطابق سزا کا تعین حکومت کرتی ہے اور اس سلسلے میں ایسی کوئی قید نہیں ہے کہ سزا حد کی مقدار سے زائد نہ ہو ۔ چنانچہ بعض حالات میں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے ۔اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلامی فوجداری قانون صرف حدود سزاؤں تک ہی محدود نہیں ہے۔ جب بعض مخصوص جرائم مخصوص شرائط کے ساتھ اور مخصوص ضابطے کے تحت ثابت ہو جائیں تویہ مخصوص سزائیں دی جاتی ہیں ۔ ظاہر ہے ایسا صرف استثنائی صورتوں میں ہی ممکن ہوتا ہے ۔ عام حالات کے لئے اسلامی قانون نے تعزیر اور سیاسۃ کے نظریات کے تحت نظام وضع کیا ہے ۔ ان میں بالخصوص سیاسۃ کے تحت آنے والے جرائم کے سلسلے میں ریاست کے پاس بہت سارے اختیارات ہیں ۔ ان جرائم کی تعریف ، ان کے اثبات کے طریق کار اور ان کے لئے سزاؤں کا تعین سب کچھ ریاست کے اختیار میں ہے ۔ البتہ ریاست پر یہ پابندی ہوگی کہ وہ اسلامی قانون کے قواعد عامہ کی روشنی میں قانون سازی کرے اور ان قواعد کی خلاف ورزی کسی صورت نہ کرے ۔

حد زنا آرڈی نینس نے دو لحاظ سے زنا اور زنا بالجبر کو یکساں قرار دیا ہے ۔ ایک سزا کے لحاظ سے (دونوں صورتوں میں غیر محصن کی سزا سو کوڑے اور محصن کی سزا رجم ہے ۔) اور دوسرے ثبوت جرم کے لحاظ سے ( دونوں صورتوں میں حد کی سزا کے لیے ضروری ہے کہ یا تو مدعا علیہ اقرار کرے یا چار عینی گواہ اس کے جرم کی گواہی دیں ۔ ) یہ آخر الذکر بات بالخصوص تنقید کا باعث بنی ہے ۔ بعض لوگوں نے بیچ کی راہ یہ نکالی ہے کہ زنا بالجبر کو حرابہ قرار دینے کی تجویز دی ہے ۔ یہ رائے مولانا امین احسن اصلاحی نے پہلے پیش کی اور اس کی بنیاد یہ بات ہے کہ حرابہ صرف ڈکیتی تک محدود نہیں ہے ۔اس قول کے قائلین مزید قرار دیتے ہیں کہ حرابہ کی سزا میں قرآن نے تقتیل کا ذکر کیا ہے ، جس سے مراد محض قتل نہیں بلکہ عبرتناک طریقے سے قتل ہے ، جس کی ایک مثال رجم ہے ۔ گویا رجم زانی محصن کی سزا نہیں بلکہ زنا بالجبر کے مرتکب کی سزا ہے ۔حدود قوانین کے ناقدین زنا بالجبر کو حرابہ قرار دے چکنے کے بعد یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ اس کے ثبوت کے لئے میڈیکل رپورٹس ، واقعاتی شہادتوں اور قرائن سے بھی کام لیا جاسکتا ہے ، حالانکہ اسے حد قرار دے چکنے کے بعد ضروری ہے کہ اس پر حد کی تمام خصوصیات لاگو ہوں ۔ حد زنا کے سوا تمام حدود کے ثبوت کے لئے فقہاء نے دو مسلمان مرد عینی گواہوں کی شہادت ضروری قرار دی ہے ۔ گویا زنا بالجبر کو حد حرابہ قرار دینے کے بعد مدعی یا مدعیہ کو صرف اتنی سہولت ملے گی کہ اسے چار کے بجائے دو عینی گواہ پیش کرنے ہوں گے ! لیکن دوسری طرف ملزم کو وہ تمام رخصتیں بدستور میسر رہیں گی جو حد کے ملزم کو میسر ہوتی ہیں ، جن میں سب سے اہم ’شبہہ‘کا اثر ہے ۔ یہاں ایک دفعہ پھر یہ بات یاد کیجیے کہ ’شبہہ‘ سے مراد ’’شک کا فائدہ ‘‘ نہیں ہے ۔ جرم کے ثبوت کے متعلق اگر جج کے ذہن میں کوئی شک ہے تو اس کا فائدہ تو لازماً ملزم کوہر صورت میں ملے گا خواہ جرم حد کا ہو یا غیر حد کا ۔ یہاں ’شبہہ‘ سے مراد امر قانونی یا امر واقعی کے سمجھنے میں خطا (Mistake of Law or of Fact ) ہے جو فعل کے مرتکب کو لاحق ہوتا ہے ۔ اسلامی قانون نے حدود سزاؤں میں ، جو کہ حقوق اللہ سے متعلق ہیں ، اسے عذر مانا ہے۔ اس عذر کی بنا پر حد کی سزا ساقط ہوجاتی ہے ۔ جو سزائیں حقوق اللہ سے متعلق نہیں ہیں ان میں ’شبہہ‘کا یہ اثر نہیں ہوتا۔ جو لوگ حدود کے معیار ثبوت ، حدود پر ’شبہہ‘کے اثر اور اس طرح کے دیگر اصول بھی تبدیل کرنا چاہتے ہیں، وہ دراصل اسلامی قانون کا حلیہ بگاڑنا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے ، جو پہیہ نئے سرے سے ایجاد کرناچاہتے ہیں ، بحث کا کوئی فائدہ نہیں ۔ البتہ اسلامی قانون کے ڈھانچے کو ڈھائے بغیر اس مسئلے کا حل یوں نکالاجاسکتاہے کہ اسے جرم سیاسۃ قرار دیا جائے۔ اس طرح زنا بالجبر سے متعلق قانون کی خامیاں بھی دور ہوجائیں گی اور اسلامی قانون حدود کی کسی شق کی خلاف ورزی بھی نہیں کرنی پڑے گی ۔ لیکن اس کے لئے ضروری یہ ہوگا کہ زنا بالجبر کو الگ مستقل جرم قرار دیا جائے اور اسے ’’زنا‘‘ کی قسم نہ قرار دیاجائے ۔ اس کے لئے زنا بالجبر کے بجائے ’’جنسی تشدد‘‘ یا اس قسم کا کوئی اور نام رکھا جائے ۔ انگریزی میں تو Rape کا لفظ ہی مناسب ہوگا ۔ 

عہد رسالت میں زنا بالجبر کے ایک مقدمے کی روداد روایات میں اس طرح بیان ہوئی ہے : 

’’رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک عورت نماز پڑھنے کے لئے گھر سے نکلی ۔ ایک شخص نے اسے پاکر پکڑ لیا اور اس سے زبردستی اپنی حاجت پوری کی ۔ وہ چلائی تو وہ شخص بھاگ کھڑا ہوا اور ایک اور شخص وہاں سے گزرا تو اس عورت نے کہا کہ اس شخص نے میرے ساتھ یہ یہ کیا ۔ وہاں سے مہاجرین کے چند لوگ گزرے تو اس عورت نے ان سے کہا کہ اس شخص نے میرے ساتھ یہ یہ کیا ۔ انہوں نے جاکر اس شخص کو پکڑ لیا جس کے متعلق اس عورت کا خیال تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔ تو اس عورت نے کہا کہ ہاں یہی ہے وہ ۔ وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے ۔ پھر جب آپ نے اس کے رجم کرنے کا حکم دیا تو وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا جس نے درحقیقت اس عورت کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ میں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔ آپ نے اس عورت سے کہا کہ جاؤ اللہ نے تمہاری خطا بخش دی ہے اور اس پہلے شخص سے بھی اچھی بات کہی ۔ پھر جس شخص نے زیادتی کی تھی اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کردو ۔ اور اس کے متعلق فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ توبہ سب اہل مدینہ کرتے تو ان کے لئے کافی ہوتی ۔‘‘

اس واقعے کی تفصیلات اور جزئیات کے متعلق روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔تاہم چند باتیں ایسی جو یقینی طور پر معلوم ہوجاتی ہیں: 

اولاً: یہ کہ ایک خاتون کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا ۔ 

ثانیاً : یہ کہ خاتون نے جب زنا بالجبر کا دعویٰ کیا تو اس سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ چار گواہ پیش کرے ۔ 

ثالثاً : یہ کہ حدود کے اثبات کے لئے مخصوص ضابطے پر عمل نہیں کیا گیا ۔ مثلا شبھۃ کے اثر کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا ۔ 

رابعاً : واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر مجرم کو رجم کی سزا سنائی گئی ۔ 

بعض لوگوں نے اس واقعے سے یہ استدلال کیا ہے کہ حدود میں واقعاتی شہادتیں بھی قبول کی جاسکتی ہیں اور حدود کے متعلق دیگر قیود بھی اٹھائی جاسکتی ہیں ۔ لیکن جب حدود کی شرائط پوری نہیں کی گئیں تو یہ سزا سرے سے حد کی سزا تھی ہی نہیں ، بلکہ سیاسۃ کے تحت یہ سزا سنائی گئی۔ عہد سالت اور عہد صحابہ میں فساد کے مرتکب مختلف افراد کو اسی اصول پر عبرتناک سزائیں دی گئیں ، مثلاً عرنیین کا واقعہ ، یا لواطت کی سزا ۔ پس اسلامی قانون حدود کا ڈھانچہ ڈھادینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بغیر بھی پیش آمدہ تمام مسائل کا حل مل سکتا ہے ۔ 

اگر زنا بالجبر کو جرم سیاسۃ قرار دیا جائے تو اس جرم کی تعریف ، اس کے لئے معیار ثبوت کا تعین ، اور اس کے لئے سزا کا تعین ، سب کچھ حکومت کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ مثلاً حکومت زنا بالجبر کے اثبات کے لئے میڈیکل رپورٹ ، ڈی این اے ٹسٹ اور دیگر واقعاتی شہادتوں اور قرائن کو بھی قابل قبول قرار دے سکتی ہے ۔ البتہ حکومت کو قانون سازی کرتے ہوئے اسلامی قانون کے قواعد عامہ کا لحاظ رکھنا ہوگا۔چنانچہ زنا بالجبر کی جو تعریف اس بل میں پیش کی گئی ہے اس پر ہمیں یہ اعتراض ہے کہ اس کے تحت اس جرم کا ارتکاب ہمیشہ کوئی مرد ہی کرتا ہے ، (بل کی دفعہ ۵) حالانکہ ایک مفروضے کے طور پر ہی سہی ، اس کا امکان بہر حال ہے کہ اس جرم کا ارتکاب کوئی عورت کرے اور اس کا شکار کوئی مرد ہو ۔ 

۷۔ جہاں تک حد زنا آرڈی نینس میں ’’نکا ح صحیح‘‘کے الفاظ کو ’’نکاح ‘‘ میں تبدیل کرنے کی بات ہے(بل کی دفعہ۱۳ ) اس کے متعلق عرض ہے کہ اصولاً یہ بات صحیح ہے کہ نکاح ’’صحیح ‘‘نہ بھی ہو تو ملزم کو شبھۃ کا فائدہ مل جاتا ہے ۔ اس ترمیم کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ دیہاتوں میں عام طور پر نکاح اور طلاق کی رجسٹریشن مسلم فیملی لاز آرڈی نینس کے تحت نہیں ہوتی ، اس لئے سابقہ شوہر اپنی بیوی پر زنا کا دعویٰ دائر کردیتا ہے۔ اگر واقعی مسئلہ یہ ہے تو مسلم فیملی لاز آرڈی نینس میں ترمیم وقت کی ضرورت بن جاتی ہے ۔ واضح رہے کہ اس آرڈی نینس کے بنائے جانے کے وقت سے علما کی جانب سے اس پر مسلسل یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے ، مگر ارباب اقتدار نے اس پر کبھی کان نہیں دھرا ۔ اب جبکہ یہ صدا ایوان اقتدار ہی سے بلند ہوئی ہے تو مسلم فیملی لاز آرڈی نینس میں ترمیم میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ 

ہمارے نزدیک اس بل کی قابل اعتراض شقیں درج ذیل ہیں:

۱ ۔ ترمیمی بل کی دفعہ ۱۳کے تحت قراردیاگیاہے کہ حدزنا آرڈینینس میں زنا کی تعریف (دفعہ ۴) سے وضاحت حذف کردی جائے گی۔ اس وضاحت میں قرار دیاگیاہے کہ زنا کے جرم کے لئے محض دخول کا واقع ہونا کافی ہے۔ ہمارے نزدیک حد زنا آرڈی نینس کی یہ وضاحت قرآن وسنت اور فقہائے اسلام کی تشریحات کے مطابق ہے۔ دخول سے کم تر کی بے حیائی کو شرعاً زناقرار نہیں دیاجاسکتا۔ اور دخول ہوجائے تو اس کے بعد انزال ہویانہ ہو، زنا کا جرم وقع پذیرہوجاتاہے۔ اس لئے اس وضاحت کے حذف کرنے سے زنا کا پورا تصور ہی تبدیل ہوجائے گا۔

۲۔ ترمیمی بل کی دفعات ۱۹(۱)اور ۲۸(۱)کے تحت قرار دیاگیاہے کہ حدزنا آرڈینینس کی دفعہ ۲۰ اور حد قذف آرڈینینس کی دفعہ ۱۷ سے پہلاproviso ختم کردیاجائے گا ۔ ان دفعات میں قرار دیاگیاہے کہ اگر ان آرڈینینسز کے تحت مقدمہ قائم کردیا جائے مگر جج کی رائے میں مجرم نے کسی اور جرم کا ارتکاب کیاہو اور اس جرم کی سزا دینے کا اختیار وہ جج رکھتاہو تو وہ مجرم کو وہ سزا سناسکتاہے۔ہمارے نزدیک یہ ترمیم غیر ضروری ہے۔ اگر ان شقوں کو ختم کیا گیا تواس کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ یا تو مجرم جرم کی سزا پائے بغیر بری ہو جائے گا ، یا اس کے خلاف نیا مقدمہ قائم کرنا ہوگا۔ ان دونوں صورتوں کی قباحتیں واضح ہیں۔ 

۳۔ ترمیمی بل کی دفعہ ۱۸ کے تحت قرار پایاگیاہے کہ حدزنا کی دفعہ کی دفعہ ۱۷ سے ’’یا دفعہ ۶‘‘ کے الفاظ حذف کردیے جائیں گے۔ آرڈینینس کی متعلقہ دفعہ رجم کے طریق کار کے متعلق ہے اور دفعہ ۶ زنا بالجبر کے بارے میں ہے جسے آرڈینینس سے نکال کر مجموعہ تعزیرات پاکستان میں شامل کرنے کاکہاگیاہے۔ اس لئے دفعہ ۱۷ سے ان الفاظ کا حذف کرنا ضروری ہے۔تاہم قابل توجہ بات یہ ہے کہ حکومت نے دفعہ ۱۷ میں رجم کے طریق کار کو قرآن وسنت کے مطابق کردینے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ اس دفعہ میں قرار دیاگیاہے کہ جب مجرم کو پتھرمارے جائیں گے تو اسی دوران میں اسے گولی ماردی جائے گی۔ ہماری ناقص رائے میں اس کے لئے قرآن وسنت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اور آرڈینینس کی اس دفعہ میں ترمیم ضروری ہے۔

۴۔ لعان سے متعلق دفعات کو قذف آرڈی نینس سے نکال کر Dissolution of Muslim Marriages Act میں شامل کرنے کا کہا گیا ہے ۔ (بل کی دفعہ ۳۰ ) اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ لعان کا تعلق سزاؤں سے زیادہ تنسیخ نکاح کے طریقوں سے ہے ، اس لئے اس کے لئے مناسب جگہ وہی ایکٹ ہے ۔ دوسری طرف ترمیمی بل کی دفعہ ۲۶ میں قرا ر دیا گیا ہے کہ حد قذف آرڈی نینس میں لعان سے متعلقہ دفعہ ۱۴ کی ذیلی دفعات ۳ اور ۴ حذف کردی جائیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لعان خالصتاً تنسیخ نکاح کا ذریعہ بن جائے گا اور حد زنا و حد قذف سے اس کا تعلق بالکل ہی ختم ہوجائے گا ۔ حالانکہ لعان تنسیخ نکاح کا ایک ذریعہ صرف اسی صورت میں بنتا ہے جب شوہر اپنے دعوے کے حق میں اور بیوی اس کے خلاف قسمیں کھائے ۔ اگر عورت اس الزام کو تسلیم کرلے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے گی ، جیسا کہ حد قذف آرڈی نینس کی دفعہ ۱۴ ذیلی دفعہ ۴ کا کہنا ہے ۔ اسی طرح اگر شوہر الزام لگائے مگر قسم کھانے سے انکار کرے ، یا عورت الزام مسترد کردے مگر قسم نہ کھائے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے گا ؟ قرآن کریم کا تو صریح فرمان ہے کہ شوہر قسم کھائے تو اس کے بعد عورت سے زنا کی حد صرف اسی صورت میں ٹل سکتی ہے جب وہ بھی چار مرتبہ الزام کے جھوٹا ہونے کے متعلق قسم کھائے اور پانچویں دفعہ جھوٹے پر اللہ کی لعنت بھیجے ۔ (سورۃ النور ، آیت ۸ ۔ ۹ ) اسی لئے فقہا نے قرار دیا ہے کہ قسم نہ کھانے والے فریق کو اس وقت تک قید میں رکھا جائے گا جب وہ قسم نہ کھائے یا اپنے جرم کا اقرار نہ کرے۔ یہی حد قذف آرڈی نینس کی دفعہ ۱۴ ذیلی دفعہ ۳ میں قرار دیا گیا ہے ۔ اسی بنا پر لعان کا تعلق صرف تنسیخ نکاح سے ہی نہیں ، بلکہ حد زنا اور حدقذف سے بھی قائم ہوجاتا ہے ۔ اس لئے ہمارے نزدیک ترمیمی بل کی یہ دفعہ قرآن وسنت اور فقہائے اسلام کی تصریحات سے عین متصادم ہے ۔ 

۵ ۔ ترمیمی بل کی دفعہ ۹کے تحت زنا کے مقدمے کے گواہوں کے لئے صرف یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ ’’بالغ ‘‘ ہوں ؛ بہ الفاظ دیگر گواہ کا مرد ہونا اور مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے ۔ ہماری ناقص رائے بھی یہ ہے کہ حد کے مقدمے میں گواہ کا عاقل بالغ مرد ہونا ضروری ہے اور حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۸میں بھی یہی قرار دیا گیا ہے ۔ ترمیمی بل کی دفعہ۹ کے تحت ضابطۂ فوجداری میں یہ نئی دفعہ ۲۰۳ ۔ الف شامل کی جائے گی ۔ ترمیمی بل نے حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۸ کی منسوخی کے متعلق کچھ نہیں کہا ہے ، مذکورہ دفعہ بدستور نافذ العمل رہے گی ۔ اگر یہ ترمیم منظور ہوگئی تو صورتحال یہ ہوگی کہ ضابطۂ فوجداری کی نئی دفعہ ۲۰۳ ۔ الف کے تحت گواہ کا صرف بالغ ہونا ہی ضروری ہوگا اور حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۸کے تحت اس کا بالغ مسلمان مرد ہونا ضروری ہوگا ۔ کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ضابطۂ فوجداری کی نئی دفعہ کے بعد حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ غیر مؤثر (redundant) ہوجائے گی ؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو یقیناًیہ ترمیم قرآن و سنت اور فقہائے اسلام کی تصریحات سے متصادم ہے ۔ تاہم ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہوگا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حد زنا آرڈی نینس ایک خصوصی قانون ( Special Law) ہے اور وہ عام قانون پر بہر حال بالادست حیثیت رکھتا ہے خواہ اس بالادستی کو صراحتاً نہ ذکر کیا جائے ۔ پس ضابطۂ فوجداری میں اس نئی دفعہ۲۰۳ ۔ الف کو شامل بھی کیا جائے تو اس کی تعبیر و تشریح حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۸کے تحت ہی کی جائے گی ۔ (’حمل المطلق علی المقید‘ کا قاعدہ بھی یہی کہتا ہے ۔ ) پس اگر غیر مسلم یا کسی خاتون گواہ کی گواہی پر مقدمہ درج کیا گیا تو اور حد زنا آرڈی نینس میں مذکور نصاب شہادت پورا نہ ہو تو اس خاتون اور غیرمسلم سمیت دیگر بالغ مسلمان مردوں کو بھی قذف کی سزا دی جائے گی ، اور اس کے لئے نئے استغاثے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی ، جیسا کہ ترمیمی بل کی دفعہ ۲۲ کے تحت قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم ترمیمی بل کی یہ دفعہ حدود کے طریق کار کو تبدیل کرنے کے لئے ایک چور دروازہ ثابت ہوسکتی ہے ، بالخصوص جبکہ حکومت حدود قوانین کی دیگر قوانین پر بالادستی ختم کرنے کی (ناکام !) کوشش بھی کررہی ہے ۔ اس لئے اس دفعہ کا ختم کرنا ضروری ہے ۔ 

۶ ۔ ہمارے نزدیک ترمیمی بل کی سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے کوشش کی گئی ہے کہ حدود آرڈی نینس کو دیگر قوانین پر جو بالادست حیثیت (overriding effect) دی گئی ہے وہ ختم کر دی جائے ۔ چنانچہ بل کی دفعات ۱۲ اور ۲۹ میں قرار دیا گیا ہے کہ حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۳ اور حد قذف آرڈی نینس کی دفعہ ۱۹ حذف کردی جائیں گی ۔ ہمارے نزدیک یہ ترمیم اس وجہ سے غیر ضروری ہے کہ اس کے باوجود حدود قوانین کو خصوصی قانون (Special Law) کی حیثیت حاصل رہے گی اور تعبیر قوانین کا عام قاعدہ یہ ہے کہ خصوصی قانون کو عام قانون پر بالادستی حاصل ہوتی ہے اور تصادم کی صورت میں خصوصی قانون پر ہی عمل ہوتا ہے ۔ لیکن اس ترمیم سے مسودہ بنانے والوں کے ارادوں کا کچھ اندازہ بہر حال ہوجاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب دستور میں طے کیا گیا ہے اور حکومت کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق کی جائے گی تو پھر حدود قوانین کو دیگر قوانین پر بالادست قرار دینے میں کیا قباحت ہے ، بالخصوص جب ان قوانین سے تعزیرات ختم کر دی جائیں گی اور یہ صرف حدود پر ہی مبنی ہوں گے ؟ کیا اس طرح حکومت حدود اللہ میں تبدیلی کے امکان کو قبول کر رہی ہے؟


آراء و افکار