غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ پر اعتراضات کا جائزہ

سید منظور الحسن

’’قرآن اکیڈمی‘‘ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ حافظ محمد زبیر صاحب کے قلم سے جناب جاوید احمد غامدی کی کتاب ’’اصول و مبادی‘‘ کے بعض اصولی تصورات پر تنقید کا سلسلہ گزشتہ کچھ عرصے سے ماہنامہ’ ’الشریعہ‘ ‘ میں جاری ہے۔ ان میں سے بعض مضامین ’’قرآن اکیڈمی‘‘ کی طرف سے ’’فکر غامدی‘‘ کے زیر عنوان ایک مجموعے کی صورت میں بھی شائع کیے گئے ہیں۔ علمی مباحث میں نقد وتنقید کی روایت کا زندہ رہنا بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے زیر بحث تصورات کی تنقیح اور مختلف اطراف کے نقطۂ نظر کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ لہٰذا ہم ’’الشریعہ‘‘ یا بعض دیگر جرائد میں غامدی صاحب کی آرا پر سامنے آنے والی علمی تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس حسن ظن کے ساتھ اس ضمن میں اپنی معروضات پیش کر رہے ہیں کہ ناقدین نے خیر خواہی اور اصلاح کے جس جذبے کے ساتھ اپنی تنقیدات پیش کی ہیں، اسی طرح ہماری گزارشات پر بھی غور فرمائیں گے اور اگر ان میں کوئی کمزوری پائیں تو علمی اسلوب میں اس کی نشان دہی کریں گے۔

فطرت کا مفہوم اور اس کی رہنمائی کا دائرہ

حافظ محمد زبیر صاحب کے تنقیدی مضامین پر تبصرے کا آغاز ہم ان کے مضمون ’’غامدی صاحب کے تصور فطرت کا تنقیدی جائزہ‘‘ سے کر رہے ہیں جو’’ الشریعہ‘‘ کے فروری ۲۰۰۷ کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے جو نکات اٹھائے ہیں، ان کو ایک ترتیب سے زیر بحث لایا جائے تو پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا انسان کی فطرت میں نیکی اور بدی کے مابین فرق کو جاننے کے لیے کوئی اساس اور بنیاد موجود ہے؟ 

جناب جاوید احمد غامدی نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر و شر کا شعور انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے اور یہ فطری شعور اس دین کے لیے اساس کی حیثیت رکھتا ہے جووحی کے ذریعے سے اسے ملا ہے۔ چنانچہ شریعت کے اوامر و نواہی دین فطرت کے عین مطابق اور اسی کی اساس پر مبنی ہیں۔ ’’اصول ومبادی میں لکھتے ہیں:

’’پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی ان حقائق سے مل کر مکمل ہوتا ہے جو انسانی فطرت میں روز اول سے ودیعت ہیں اور جنھیں قرآن معروف اور منکر سے تعبیر کرتا ہے۔ شریعت کے جو اوامر ونواہی تعین کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ ان معروفات ومنکرات کے بعد اور ان کی اساس پر قائم ہیں۔ انھیں چھوڑ کر شریعت کا کوئی تصور اگر قائم کیا جائے گا تو وہ ہر لحاظ سے ناقص اور قرآن کے منشا کے بالکل خلاف ہوگا۔‘‘ ( ۵۱)

غامدی صاحب نے نفس انسانی میں ودیعت کیے جانے والے اس فطری شعور کے حق میں سورۂ شمس کی آیت ’ونفس وما سواہا فالہمہا فجورہا وتقواہا‘ سے استدلال کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: 

’’ قرآن نے(سورۂ شمس کی) ان آیتوں میں واضح کردیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اسی طرح نیکی اوربدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اورعقلی وجود ہی نہیں ہے، اس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خیرو شر کا امتیاز اورخیر کے خیر اورشر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے دل ودماغ میں الہام کردیا گیا ہے۔‘‘(اخلاقیات ۱۱)

علماے امت کا موقف بھی یہی ہے۔

’’معارف القرآن‘‘ کے مصنف مولانامفتی شفیع اس نکتے کی تشریح میں لکھتے ہیں :

’’ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر اور بھلے برے کی پہچان کے لیے ایک استعداد اور مادہ خود اس کے وجود میں رکھ دیا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ’فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا‘ یعنی نفس انسانی کے اندراللہ تعالیٰ نے فجور اور تقویٰ دونوں کے مادے رکھ دیے ہیں۔‘‘(معارف القرآن ۸؍۷۵۱)

مولانا مودودی مذکورہ آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’الہام کا لفظ ’لہم‘ سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ ’لَہَمَ الشَّيءَ وَالْتَہَمَہ‘ کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور ’اَلْہَمْتُہُ الشَّيءَ‘ کے معنی ہیں میں نے اس کو فلاں چیز نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتاردی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصطلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کسی خیال کو غیرشعوری طور پر بندے کے دل ودماغ میں اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی وپرہیز گاری الہام کر دینے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات ومیلات رکھ دیے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے اندر محسوس کر تا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کر دیے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی، اچھے اخلاق واعمال اور برے اخلاق واعمال یکساں نہیں ہیں، فجور (بدکرداری) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ (برائیوں سے اجتناب) ایک اچھی چیز ۔ ‘‘ (تفہیم القرآن ۶؍۳۵۲)

فاضل ناقد کی تمہیدی بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں نفس انسانی میں ایک ’فطری رجحان‘ کے پائے جانے کی حد تک اس بات سے اتفاق ہے۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے :

’’اسلام کے دین فطرت ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے بندوں کو جس فعل کے بھی کرنے کا حکم دیا ہے، فطرت سلیمہ اس فعل کے کرنے کی طرف ایک فطری رجحان اپنے اندر محسوس کرتی ہے اور جس فعل کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ہمیں روک دیا ہے، فطرت سلیمہ بھی اس فعل سے ابا کرتی ہے۔ احکام الٰہی فطرت انسانی کے مطابق تو ہیں لیکن فطرت انسانی سے ان کا تعین نہیں ہو سکتا۔‘‘ (فکر غامدی ۱۴)

اس تحریر میں فاضل ناقد نے اسلام کو دین فطرت قرار دیا ہے اور بیان کیا ہے کہ احکام الٰہی فطرت انسانی کے مطابق ہیں اور فطرت میں وحی کے احکامات اور ممنوعات کا شعور ودیعت ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ فطرت انسانی میں اوامر و نواہی کے شعور اور اوامر کی طرف اس کے میلان اور نواہی سے اس کے ابا کو وحی سے مقدم طور پر تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ کم از کم اس نکتے کی حد تک ان کی اور غامدی صاحب کی بات میں اساسی لحاظ سے کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ 

اس کے بعد اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا یہ شعور اور احساس عملاً خیر اور شر کے مابین امتیاز قائم کرنے میں کس حد تک انسان کے لیے کارآمد ہے؟ آیا انسان کی فطرت اس کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتی یا اس کے برعکس، وحی کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر ہر لحاظ سے مکمل رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہے یا ان دونوں کے بین بین کوئی صورت حال ہے؟

غامدی صاحب کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی فطرت میں دو چیزوں کا شعور ازل ہی سے ودیعت کر دیا گیا ہے۔ ایک اللہ کی ربوبیت کا اقرار ہے اور دوسری خیر و شر یعنی نیکی اور بدی کا شعور ہے اور ان دونوں معاملوں میں انسان کا فطری علم اور شعور اس کی بنیادی رہنمائی کی خدمت بخوبی سر انجام دیتا ہے۔ چنانچہ وہ ’’میزان‘‘ کے باب ’’ایمانیات ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’دین کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ دنیا کا ایک خالق ہے۔ اس نے یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے۔ چنانچہ انسان کو یہاں اس نے ایک خاص مدت کے لیے بھیجا ہے۔ اس مدت کے پورا ہو جانے کے بعد یہ دنیا لازماً ختم کر دی جائے گی اور اس کے زمین وآسمان ایک نئے زمین وآسمان میں تبدیل ہو جائیں گے۔ پھر ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی۔ تمام انسان وہاں دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور ان کے عقیدہ وعمل کے لحاظ سے انھیں جزا یا سزا دی جائے گی۔
دین اس حقیقت کو ماننے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے لیے، ظاہر ہے کہ اس کا مبرہن ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ انسان کی تخلیق کے پہلے دن ہی سے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کر رکھاہے کہ کوئی شخص علم وعقل کی بنیاد پر اس کا انکار نہ کرے اور لوگوں کے لیے یہ حقیقت ایسی واضح رہے کہ اس کے منکرین قیامت کے دن اپنا کوئی عذر اللہ کے حضور میں پیش نہ کر سکیں۔
یہ اتمام حجت کس طرح ہوا ہے؟ قرآن بتاتا ہے کہ خدا کی ربوبیت کا اقرار ایک ایسی چیز ہے جو ازل ہی سے انسان کی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ یہ معاملہ ایک عہدومیثاق کی صورت میں ہوا ہے۔ اس عہد کا ذکر قرآن ایک امر واقعہ کی حیثیت سے کرتا ہے۔ انسان کو یہاں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے، اس لیے یہ واقعہ تو اس کی یادداشت سے محو کر دیا گیا ہے، لیکن اس کی حقیقت اس کے صفحۂ قلب پر نقش اوراس کے نہاں خانۂ دماغ میں پیوست ہے، اسے کوئی چیز بھی محو نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ماحول میں کوئی چیز مانع نہ ہو اور انسان کو اس کی یاددہانی کی جائے تو وہ اس کی طرف اس طرح لپکتا ہے، جس طرح بچہ ماں کی طرف لپکتا ہے، دراں حالیکہ اس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، اور اس یقین کے ساتھ لپکتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کا یہ اقرار اس کی ایک فطری احتیاج کے تقاضے کا جواب تھا جو اس کے اندر ہی موجود تھا۔ اس نے اسے پالیا ہے تو اس کی نفسیات کے تمام تقاضوں نے بھی اس کے ساتھ ہی اپنی جگہ پالی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی یہ شہادت ایسی قطعی ہے کہ جہاں تک خدا کی ربوبیت کا تعلق ہے، ہر شخص مجرد اس شہادت کی بنا پر اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے۔ فرمایا ہے:
وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ، وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ، اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، شَہِدْنَا، اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ، اَوْ تَقُوْلُوْٓا: اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِہِمْ، اَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ؟ وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ، وَلَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ. (الاعراف۷: ۱۷۲۔۱۷۴)
’’اور یاد کرو، جب تمھارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود اُن کے اوپر گواہ بنا کر پوچھا: کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے جواب دیا: ضرور، آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اِس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس سے بے خبر ہی تھے یا اپنا عذر پیش کرو کہ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے پہلے سے کر رکھی تھی اور ہم بعد کو اُن کی اولاد ہوئے ہیں، پھر آپ کیا ان غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟ (یہ ہم نے پوری وضاحت کر دی ہے) اور ہم اسی طرح اپنی آیتوں کی تفصیل کرتے ہیں، (اِس لیے کہ لوگوں پر حجت قائم ہو) اور اس لیے کہ وہ رجوع کریں۔‘‘
یہی معاملہ خیروشر کا ہے۔ اس کا شعوربھی اسی طرح انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ’ونفس وما سواھا، فالھمھا فجورھا وتقوھا‘ ( اور نفس گواہی دیتا ہے اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی نیکی اور بدی اُسے سجھادی)۔ بعض دوسرے مقامات پر یہی حقیقت ’اِنَّا ھدینہ السبیل‘ (ہم نے اُسے خیروشر کی راہ سجھا دی) اور ’ھَدَیْنٰہُ النجدین‘ ( ہم نے کیا اُسے دونوں راستے نہیں سجھائے) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے پروردگار نے ایک حاسۂ اخلاقی بھی اس کے اندر رکھ دیا ہے جو نیکی اور بدی کوبالکل اسی طرح الگ الگ پہچانتا ہے، جس طرح آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں۔ ہمارے نفس کا یہ پہلو کہ وہ ایک نفس ملامت گر بھی ہے اور دل کے پردوں میں چھپی ہوئی اس کی زبان ایک واعظ وناصح کی طرح برائی کے ارتکاب پر ہم کو برابر ٹوکتی اور سرزنش کرتی رہتی ہے، اسی سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خیروشر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس ایک عالم گیر حقیقت ہے جس کو جھٹلانے کی جسارت کوئی شخص بھی نہیں کر سکتا۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی اس شہادت کے بعد جزاوسزا کو جھٹلانا بھی کسی شخص کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ فرمایاہے:
لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ، وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ، اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ؟ بَلٰی، قَادِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ، بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ، یَسْءَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ، فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ، وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَءِذٍ اَیْْنَ الْمَفَرُّ؟ کَلَّا، لَا وَزَرَ، اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَءِذِ الْمُسْتَقَرُّ، یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَءِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ، بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ، وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ.(القیٰمہ۷۵:۱۔۱۵) 
’’نہیں،میں قیامت کے دن کو گواہی میں پیش کرتاہوں، اور نہیں، میں (تمھارے) اِس نفس لوامہ کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔ کیاانسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اِس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ کیوں نہیں، ہم تو اس کی پورپور درست کر سکتے ہیں۔ (نہیں، یہ بات نہیں)، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان اپنے ضمیر کے روبرو شرارت کرنا چاہتا ہے۔ پوچھتا ہے: قیامت کب آئے گی؟ لیکن اُس وقت ، جب دیدے پتھرائیں گے اور چاند گہنائے گا اور سورج اور چاند، (یہ دونوں) اکٹھے کر دیے جائیں گے، تو یہی انسان کہے گا کہ اب کہاں بھاگ کر جاؤں ہر گز نہیں، اب کہیں پناہ نہیں! اُس دن تیرے رب ہی کے سامنے ٹھیرنا ہو گا۔ اُس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔ (نہیں، وہ اِسے نہیں جھٹلا سکتا)، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، اگرچہ کتنے ہی بہانے بنائے۔ ‘‘‘‘ (ماہنامہ اشراق، جنوری ۲۰۰۶، ۲۵۔۲۷)

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا جانے والا یہ فطری شعور کسی خارجی رہنمائی کے بغیر بھی ازخود اپنے اظہار کے لیے بے تاب ہوتا ہے۔ چنانچہ جب جنت میں ممنوعہ پھل کھانے کے نتیجے میںآدم و حوا کے ستر ان پر کھل گئے تو انھوں نے فوراً اپنے آپ کو پتوں سے ڈھانپنے کی کوشش کی۔ قرآن مجید سے واضح ہے کہ ایسا انھوں نے کسی باقاعدہ ’حکم‘ کی تعمیل میں نہیں، بلکہ شرم وحیا کے اس فطری احساس کی بنا پر کیا تھا جو اللہ نے ان کی فطرت میں ودیعت کر رکھا تھا۔ مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۲۲ کی تفسیر میں اسی بات کی وضاحت کی ہے۔ مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:

’’’...وَطَفِقًا یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّۃ‘ کے اسلوب بیان سے اس گھبراہٹ اور سراسیمگی کا اظہار ہورہا ہے جو اس اچانک حادثے سے آدم وحوا پر طاری ہوئی۔ جوں ہی انھوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہو کر رہ گئے ہیں، فوراً انھیں اپنی ستر کی فکر ہوئی اور جس چیز پر ہاتھ پڑ گیا اسی سے ڈھانکنے کی کوشش کی، چنانچہ کوئی چیز نہیں ملی توباغ کے پتے ہی اپنے اوپر گانٹھنے گوتھنے لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستر کا احساس انسان کے اندر بالکل فطری ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں محض عادت کی پیداوار ہیں، ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ جس طرح توحید فطرت ہے، شرک انسان مصنوعی طورپر اختیار کرتا ہے، اسی طرح حیا فطرت ہے، بے حیائی انسان مصنوعی طور پر اختیار کرتاہے۔‘‘ (تدبرقرآن۳/۲۳۶)

مولانا مودودی نے بیان کیا ہے:

’’انسان کے اندر شرم وحیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اولین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصوں کو دوسروں کے سامنے کھولنے میں آدمی کو فطرتاً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقا سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اول روز سے انسان میں موجود تھی۔‘‘ (تفہیم القرآن۲/۱۵)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں متعدد مقامات پر مختلف زاویوں سے یہ بات بیان کی ہے کہ نیکی اور بدی کی اساسات فطرت انسانی میں راسخ ہیں اور انسان شریعت اور مذہب سے مقدم طور پر ان سے شناسا ہوتا ہے۔ ’باب اقتضاء التکلیف المجازاۃ‘ کے زیر عنوان انھوں نے اس مسئلے پر بحث کی ہے کہ انسانوں کو ان کے اعمال پر جزا وسزا ملنا کیوں ضروری ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے چار اسباب بیان کیے ہیں۔ ایک سبب وہ ساخت ہے جس پر انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ساخت بذات خود اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان اعمال صالحہ کو انجام دے۔ دوسرا سبب ملاء اعلیٰ کی جہت سے ہے، چنانچہ جب کوئی انسان اچھاکام کرتا ہے تو فرشتوں کی جانب سے اس کے لیے بہجت اور سرور کی شعاعیں نکلتی ہیں اور جب وہ برا کام کرتا ہے تو ان سے نفرت اور بغض کی شعاعیں نکلتی ہیں۔ مجازات عمل کا تیسرا سبب شریعت کا نزول ہے جس کی پسندیدگی کا جذبہ اللہ کی طرف سے انسانوں کے دلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ چوتھا سبب انبیا کی بعثت او ر ان کی طرف ہونے والی وحی کا مشخص اور ممثل ہو جاناہے ۔ یہ اسباب بیان کر کے انھوں نے لکھا ہے:

’’...پہلی دو جہتوں سے مجازات عمل تو عین وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا ہے اور فطرت الٰہی میں تم کسی قسم کی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ لیکن یہ صرف بر واثم کے اصول وکلیات میں ہوتا ہے نہ کہ فروعات وحدود میں، اور یہ فطرت ہی وہ دین ہے جو زمانوں کی تبدیلی سے تبدیل نہیں ہوتا اور جس پر تمام انبیا ے کرام کا اجماع واتفاق ہے۔ ... (دین فطرت کی) اس مقدار پر مواخذہ اور داروگیر انبیا سے قبل بھی ثابت ہے اور ان کی بعثت کے بعد بھی۔‘‘  (حجۃ اللہ البالغہ، المبحث الاول، باب اقتضاء التکلیف المجازاۃ)

’’ اتفاق الناس علیٰ اصول الارتفاقات‘‘ کے زیر عنوان انھوں نے بیان کیا ہے کہ ارتفاقات یعنی انسانی سماج کی تشکیل اور اس کی بقا اور تہذیب کے اصول تمام بنی نوع انسان کے مابین ہمیشہ سے مسلم اور متفق علیہ رہے ہیں۔اس اتفاق کا سبب ان کے نزدیک فطرت سلیمہ ہے۔ لکھتے ہیں:

’’جاننا چاہیے کہ اقالیم معمورہ کا کوئی شہر یا دنیا کی کوئی قوم جو معتدل مزاج اور اخلاق فاضلہ کی حامل ہے، آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک ، ان ارتفاقات سے خالی نہیں ہو سکتی۔ ان ارتفاقات کے اصول سب کے نزدیک نسلاً بعد نسلٍ اور طبقہ در طبقہ مسلم چلے آ رہے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر لوگ ہمیشہ شدید انکار کرتے رہے ہیں۔ بنی نوع انسان ان ارتفاقات کی انتہائی شہرت کی بنا پر انھیں بدیہی امور خیال کرتے ہیں۔ ان ارتفاقات کی ظاہری صورتوں اور ان کی جزئیات کے معاملے میں لوگوں کا اختلاف تمھارے لیے ہماری بات کو تسلیم کرنے مانع نہ بنے۔ مثلاً مردوں کی بدبودار اور برہنہ لاشوں کو چھپانے پر ساری دنیا کا اتفاق ہے، گو اس کی صورتیں مختلف ہیں۔ کچھ لوگ مردوں کو زمین میں دفن کرنا پسند کرتے ہیں اور کچھ انھیں جلا دیتے ہیں۔ اسی طرح نکاح کی تشہیر اور لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر کے بدکاری سے اس کو ممتاز کرنے پر بھی انسانوں کا اتفاق ہے۔ پھر اس کی صورتوں میں اختلاف ہے، پس بعض نے گواہوں اور ایجاب وقبول اور ولیمہ کو پسند کیا اور بعض نے دف بجانے اور گانا گانے کو اور ایسے بڑھیا لباس پہننے کو جو صرف شادی بیاہ کی بڑی تقریبات ہی میں پہنے جاتے ہوں۔ زانیوں اور چوروں کو سزا دینے پر بھی اتفاق ہے، لیکن اس کے طریقے میں اختلاف ہے۔ بعض نے سنگسار کرنا اور ہاتھ کاٹ دینے کا طریقہ اختیار کیا اور بعض نے سخت پٹائی کرنے، تکلیف دہ قید اور کمر توڑ دینے والے جرمانے عائد کرنے کا۔ ... اور یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ سب لوگ ان چیزوں پر کسی سبب کے بغیر یوں متفق ہو گئے جیسے اہل مشرق ومغرب سب ایک ہی طرح کا کھانا کھانے پر متفق ہو جائیں۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی احمقانہ بات ہو سکتی ہے؟ بلکہ فطرت سلیمہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ لوگ اپنے مزاجوں کے اختلاف اور اوطان کے باہمی فاصلوں اور ادیان ومذاہب کے اختلاف وتنوع کے باجود ان امور پر کسی ایسی فطری مناسبت ہی کی وجہ سے متفق ہوئے ہیں جو ان کی صورت نوعیہ سے پھوٹتی ہے۔ اس اتفاق کا سبب وہ حاجات بھی ہیں جو بنی نوع انسان کو بکثرت پیش آتی ہیں اور وہ اخلاق بھی جن کو افراد کے مزاج میں پیدا کرنے کا تقاضا ان کی صورت نوعیہ کی صحت کرتی ہے۔‘‘  (حجۃ اللہ البالغہ، المبحث الثالث، باب اتفاق الناس علیٰ اصول الارتفاقات)

اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’مبحث البر والاثم‘‘ کے عنوان کے تحت انھوں نے بیان کیا ہے کہ نیکی کے قوانین اللہ ہی کی طرف سے لوگوں کے دلوں میں الہام کیے گئے ہیں:

’’اور جس طرح ارتفاقات کو اہل بصیرت نے مستنبط کیا اور لوگوں نے اپنے دلوں کی گواہی کی بنا پر ان کی اقتدا کی اور روے زمین کے سب لوگوں نے یا ان لوگوں نے جن کا کوئی اعتبار ہے، ان پر اتفاق کر لیا، اسی طرح بر (نیکی) کے بھی قوانین ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں میں الہام کیے ہیں جنھیں نور ملکی کی تائید حاصل ہے اور جن پر فطرت کا رنگ غالب ہے، ایسے ہی جیسے شہد کی مکھیوں کے دلوں میں وہ چیزیں الہام کی گئی ہیں جو ان کی صلاح معاش کے لیے ضروری ہیں۔ پس ان لوگوں نے ان طریقوں کو اختیار کیا، ان پر چلے ، دوسروں کی رہنمائی کی اور انھیں ان کے اپنانے کی ترغیب دی، پس لوگوں نے ان کی پیروی کی اور زمین کے تمام اطراف میں، علاقوں کے مابین دوری اور ادیان کے اختلاف کے باوجود، تمام اہل ملل ان پر متفق ہو گئے جس کی وجہ ایک فطری مناسبت اور انسانوں کی نوع کا تقاضا تھا۔ ان طریقوں کے اصولوں پر اتفاق کے بعد ان کی صورتوں میں اختلاف مضر نہیں، اسی طرح کسی ایسے ناقص (فطرت والے) گروہ کا گریز بھی مضر نہیں جن پر اگر اصحاب بصیرت غور کریں تو انھیں کوئی شبہ نہیں ہوگا کہ ان کا مادہ ہی انسانوں کی صورت نوعیہ کے منافی ہے اور اس کے احکام کے تابع نہیں۔ ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے انسان کے جسم میں کوئی زائد عضو ہو اور جس کو کاٹ دینا اس کے باقی رکھنے سے بہتر ہو۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، المبحث الخامس، مبحث البر والاثم)

صاحب ’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی یہی بات بیان کی ہے:

’’اس جگہ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فطری الہام اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق پر اس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے، جیسا کہ سورۂ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ ’اَلَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَيءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی‘۔ ’’جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی پھر راہ دکھائی‘‘ (آیت۵۰)۔مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا، پرندے کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتہ بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آجاتا ہے۔ انسان کو بھی اس کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دیے گئے ہیں۔ انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے اور اس حیثیت سے جو الہامی علم اس کو دیا گیا ہے، اس کی ایک نمایاں ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ چوسنا ہے جس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اسے نہ دی ہوتی تو کوئی اسے یہ فن نہ سکھا سکتاتھا۔ اس کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک عقلی وجود ہے۔ اس حیثیت سے خدا نے انسان کی آفرینش کے آغاز سے مسلسل اس کو الہامی رہنمائی دی ہے جس کی بدولت وہ پے درپے اکتشافات اور ایجادات کر کے تمدن میں ترقی کرتا رہا ہے۔ ان ایجادات واکتشافات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا، وہ محسوس کرے گا کہ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جو محض انسانی فکروکاوش کا نتیجہ ہو، ورنہ ہر ایک کی ابتدا اسی طرح ہوئی ہے کہ یکایک کسی شخص کے ذہن میں ایک بات آگئی اور اس کی بدولت اس نے کسی چیز کا اکتشاف کیا یا کوئی چیز ایجاد کر لی۔ان دونوں حیثیتوں کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے، اور اس حیثیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسے خیروشر کا امتیاز، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطا کیا ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیروشر کے تصورات سے خالی نہیں رہا ہے، اور کوئی ایسا معاشرہ نہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے نہ اب پایا جاتا ہے جس کے نظام میں بھلائی اور برائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو۔ اس چیز کا ہر زمانے، ہر جگہ اور ہر مرحلۂ تہذیب و تمدن میں پایا جانا اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے اور مزید براں یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک خالق حکیم ودانا نے اسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے، کیونکہ جن اجزا سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادی نظام چل رہا ہے، ان کے اندر کہیں اخلاق کے ماخذ کی نشان دہی نہیں کی جاسکتی۔(تفہیم القرآن۶/۳۵۲)

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ وحی سے مقدم طور پر فطری رہنمائی کا وجود اکابر علماے امت کے نزدیک اسی طرح مسلم ہے، جیسا کہ جناب جاوید احمد غامدی نے اسے بیان کیا ہے۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خالق کی معرفت اور خیر و شر کا شعور انسان کی فطرت میں مسلم ہے تو وہ کیا ضرورت تھی جسے پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی کا سلسلہ شروع کیا؟ غامدی صاحب کے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خیر و شر کے مبادیات کا کامل شعور اللہ تعالیٰ نے انسان کو براہ راست ودیعت کر رکھا تھا،مگر ان کے لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں انسان کو مزید رہنمائی کی ضرورت تھی۔مزید براں اشخاص، زمانے اور حالات کے فرق کی وجہ سے ان لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں اختلافا ت کا پیدا ہو جانا قدرتی امر تھا۔ اس اختلاف کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دنیا میں بھیجنے کے بعد وحی کا سلسلہ جاری فرمایا اور اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے ان کی ہدایت کا سامان کیا۔ چنانچہ اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے باب ’’اخلاقیات‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’(فطرت میں ودیعت) خیر و شرکے اس الہام کی تعبیر میں، البتہ اشخاص، زمانے اورحالات کے لحاظ سے بہت کچھ اختلافات ہوسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اس کی گنجایش بھی اس نے باقی نہیں رہنے دی اورجہاں کسی بڑے اختلاف کا اندیشہ تھا، اپنے پیغمبرو ں کے ذریعے سے خیرو شرکو بالکل واضح کردیاہے۔ ان پیغمبروں کی ہدایت اب قیامت تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے ، یہ ہدایت اس کی تصدیق کرتی ہے اورانسان کاوجدانی علم، بلکہ تجربی علم، قوانین حیات اور حالات وجو د سے استنباط کیا ہوا علم اورعقلی علم ، سب اس کی گواہی دیتے ہیں ۔ چنا نچہ اخلاق کے فضائل ورذائل اس کے نتیجے میں پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہوجاتے ہیں۔ 
روایتوں میں ایک تمثیل کے ذریعے سے یہی بات اس طرح سمجھائی گئی ہے کہ تم جس منزل تک پہنچنا چاہتے ہو، اس کے لیے ایک سیدھا راستہ تمھارے سامنے ہے جس کے دو نوں طرف دو دیواریں کھنچی ہوئی ہیں۔ دونوں میں دروازے کھلے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ اندر آجاؤ اورسیدھے چلتے رہو۔ اس کے باوجود کوئی شخص اگر دائیں بائیں کے دروازوں کا پردہ اٹھانا چاہے تو اوپرسے ایک منادی پکار کرکہتاہے : خبردار ، پردہ نہ اٹھانا۔ اٹھاؤ گے تو اندر چلے جاؤ گے۔ فرمایا ہے کہ یہ راستہ اسلام ہے ، دیواریں اللہ کے حدود ہیں، دروازے اس کی قائم کردہ حرمتیں ہیں، اوپر سے پکار نے والا منادی خدا کا وہ واعظ ہے جو ہر بندۂ مومن کے دل میں ہے اور راستے کے سرے پر پکارنے والا قرآن ہے : 
اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ، وَیُبَشِّرُ الْمُْؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا.(بنی اسرائیل ۱۷:۹)
’’بے شک ، یہ قرآن اُس راستے کی رہنمائی کرتاہے جو بالکل سیدھا ہے اور اپنے ماننے والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں، اس بات کی بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ ‘‘ (۱۲)

اس اقتباس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک فطرت کو کیا مقام حاصل ہے اور اس کے تقابل میں وحی کی کیا حیثیت ہے۔ فطرت کی ہدایت اور وحی کی ہدایت میں یہی وہ باہمی تعلق ہے جسے امت کے جلیل القدر علما نے بھی بیان کیا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

’’ انبیا کی بعثت اصلاً اور بالذات اگرچہ عبادات کے رسوم اور طریقے سکھانے کے لیے ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ بسا اوقات فاسد معاشرتی رسوم کا خاتمہ اور ارتفاقات کی بعض صورتوں پر لوگوں کو آمادہ کرنا بھی بطور مقصد کے شامل ہو جاتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یہی مطلب ہے کہ مجھے گانے بجانے کے آلات کو ختم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے اور یہ کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ ... اس باب میں تمام کے تمام انبیا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو طریقہ لے کر آئے، وہ یہ تھا کہ اس قوم کے ہاں کھانے پینے، لباس، تعمیر، زیب و زینت، نکاح اور زوجین کے باہمی معاملات، بیع وشرا کی جو بھی صورتیں موجود ہوں اور گناہوں سے روکنے اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کے جو بھی طریقے رائج ہوں، اگر وہ کلی رائے کے اعتبار سے عائد ہونے والی ذمہ داری کے موافق ہوں تو ان میں سے کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹانے یا اس کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں،بلکہ ضروری ہے کہ اس قوم کو ان کے ہاں رائج طریقوں ہی کی پابندی کی ترغیب دی جائے اور اس معاملے میں ان کی رائے کی تصویب کی جائے اور اس میں جو مصالح پائے جاتے ہیں، وہ ان پر واضح کیے جائیں۔ البتہ اگر کوئی چیز اس کے موافق نہ ہو اور اس کو بدلنے یا ختم کر دینے کی ضرورت ہو، یا تو اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کی باہمی اذیت کا سبب بنتی ہے یا دنیا کی لذتوں میں کھو جانے اور احسان کے طریقے سے اعراض کا باعث ہے یا ایسی غفلت پیدا کرتی ہے جس سے دنیا اور آخرت کے مصالح برباد ہو جاتے ہیں، تو پھر بھی اس قوم کے مانوس طریقوں سے بالکلیہ باہر نکل جانا درست نہیں، بلکہ اس کو تبدیل کر کے انھی کے ہاں موجود کسی نظیر کو اپنانا چاہیے۔‘‘  (حجۃ اللہ البالغہ، المبحث السادس، باب اقامۃ الارتفاقات واصلاح الرسوم) 

مولاناامین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے:

’’انسان انبیاے کرام کی ہدایت کا محتاج اس وجہ سے نہیں ہوا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز یا ان کے شعور سے عاری تھا، بلکہ اس وجہ سے ہوا کہ اس راہ میں اس کو اس کی بعض کمزوریوں کے سبب سے بہت سے مغالطے پیش آ سکتے تھے، نیز مبادی فطرت کے تمام لوازم اور ان کے سارے مقتضیات کو سمجھنا بھی اس کے لیے ممکن نہیں تھا ، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی رہنمائی کے لیے نبی و رسول بھیجے۔ ان نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات چونکہ انھی مبادی پر مبنی ہیں جو انسان کے اندر ودیعت ہیں، اس وجہ سے جو سلیم الطبع تھے ، انھوں نے نبیوں کی ہر بات کو اپنے ہی دل کی آواز سمجھا۔ صرف ان لوگوں نے ان کی مخالفت کی جنھوں نے اپنی فطرت مسخ کر ڈالی تھی، اگرچہ اپنے دلوں کے اندر وہ بھی رسولوں کی صداقت و حقانیت کے معترف تھے۔‘‘ (تدبرقرآن۶/۹۴)

مولانا شبیر احمد عثمانی نے لکھا ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ساخت اور تراش شروع سے ایسی رکھی ہے کہ اگر وہ حق کو سمجھنا اور قبول کرنا چاہے تو کر سکے اور بداء فطرت سے اپنی اجمالی معرفت کی ایک چمک اس کے دل میں بطور تخم ہدایت کے ڈال دی ہے کہ اگر گردوپیش کے احوال اور ماحول کے خراب اثرات سے متاثر نہ ہو اور اصلی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تو یقیناًدین حق کو اختیار کرے، کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو۔ ’’عہدالست‘‘ کے قصہ میں اسی کی طرف اشارہ ہے اور احادیث صحیحہ میں تصریح ہے کہ ہر بچہ فطرۃ (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے بعدہ، ماں باپ اسے یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو ’’حُنفاء‘‘ پیدا کیا۔ پھر شیاطین نے اغوا کر کے انھیں سیدھے راستہ سے بھٹکا دیا۔ بہرحال دین حق، دین حنیف اور دین قیم وہ ہے کہ اگر انسان کو اس کی فطرت پر مخلی بالطبع چھوڑ دیا جائے تو اپنی طبیعت سے اسی کی طرف جھکے۔ تمام انسانوں کی فطرۃ اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی بنائی ہے جس میں کوئی تفاوت اور تبدیلی نہیں۔ فرض کرو اگر فرعون یا ابوجہل کی اصلی فطرت میں یہ استعداد اور صلاحیت نہ ہوتی تو ان کو قبول حق کا مکلف بنانا صحیح نہ ہوتا۔ جیسے اینٹ پتھر یا جانوروں کو شرائع کا مکلف نہیں بنایا۔ فطرت انسانی کی اسی یکسانیت کا یہ اثر ہے کہ دین کے بہت سے اصول مہمہ کو کسی نہ کسی رنگ میں تقریباً سب انسان تسلیم کرتے ہیں، گو ان پر ٹھیک ٹھیک قائم نہیں رہتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ’’یعنی اللہ سب کا مالک حاکم، سب سے نرالا، کوئی اس کے برابر نہیں‘‘، کسی کا زور اس پر نہیں، یہ باتیں سب جانتے ہیں۔ اس پر چلنا چاہیے۔ ایسے ہی کسی کے جان ومال کو ستانا، ناموس میں عیب لگانا، ہر کوئی برا جانتا ہے۔ ایسے ہی اللہ کو یاد کرنا، غریب پر ترس کھانا، حق پورا دینا، دغا نہ کرنا، ہر کوئی اچھا جانتا ہے۔ اس (راستہ) پر چلنا وہ ہی دین سچا ہے۔ (یہ امور فطری تھے مگر) ان کا بندوبست پیغمبروں کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے سکھلا دیا۔‘‘ (تفسیر عثمانی۵۲۸)

اعتراضات کا جائزہ

غامدی صاحب کے موقف اور دلائل کی تفصیلی وضاحت کے بعد اب اس پر فاضل ناقد کے اعتراضات کا جائزہ لیجیے: 

فاضل ناقد کا موقف یہ ہے کہ فطرت، وحی کے ذریعے سے ملنے والی تعلیمات کو سمجھنے کی حد تک بنیاد کا کام تو دیتی ہے، لیکن بذات خود کسی بھی درجے میں کوئی ایسا ذریعۂ ہدایت نہیں ہے جسے من جانب اللہ تصور کیا جائے، بلکہ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے روز اول ہی سے انسان کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے جب سے آدم کو اس دنیا میں بھیجا ہے، اس دن سے ہی اس کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرما دیا ہے۔ ... اس انتہائی اہم موقع پر جب کہ حضرت آدم کو اور ان کی آنے والی ذریت کوجنت سے اتار کر اس دنیامیں بھیجا جا رہا ہے، اس وقت انھیں صرف ایک ہی چیز کی پیروی کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور وہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت ہے اور دونوں جگہ قرآن کے الفاظ ’منی ھدی‘ اور اس کا سیاق وسباق بتلاتا ہے کہ اس ہدایت سے مراد کوئی فطری ہدایت نہیں بلکہ اللہ کی آیات اور اس کی طرف سے نازل کردہ وحی کی رہنمائی مراد ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو ا کہ پہلے ہی دن سے اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے حضرت آدم اور ان کی آنے والی ذریت کو جو رہنمائی دی جا رہی ہے، وہ وحی کی رہنمائی ہے اور جس نے بھی اللہ کی دی ہو ئی ا س وحی کی رہنمائی سے استفادہ کرنے سے انکار کیا تو وہی لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہیں ۔‘‘ (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷، ۴۰)

فاضل ناقد نے انسان کے فطری علم کے کسی بھی درجے میں رہنما ہونے کی نفی پر دو مزید دلائل بھی پیش کیے ہیں:

ایک یہ کہ یہ بات سورۂ نحل (۱۶) کی آیت ۷۸ کے خلاف ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو ان کی ماؤں کے پیٹوں میں سے اس حال میں نکالا کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ آیت یہ ہے:

وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ شَیْْءًا.(النحل۱۶ :۷۸)
’’اللہ تعالیٰ نے تم کو تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، اس حال میں کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے ۔‘‘

دوسرے یہ کہ یہ مفہوم مسلم کی اس حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا نقل ہوئی کہ ’اللھم آت نفسی تقواھا‘۔ ’’پروردگار، میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما ‘‘۔ اس پر انھوں نے لکھا ہے کہ اگر ’فجور‘ اور ’تقویٰ ‘ انسانی فطرت میں داخل تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے ا للہ سے مانگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟

فاضل ناقد کے ان استدلالات کے جواب میں ہماری گزارشات حسب ذیل ہیں:

۱۔ بنی آدم کے لیے روز اول سے سلسلۂ وحی جاری کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ انسان کا فطری علم کسی بھی درجے میں اس کی رہنمائی نہیں کر سکتا اور یہ کہ انسان ہر معاملے میں ’وحی‘ ہی کی رہنمائی کا محتاج ہے۔ ہم اوپر کی سطور میں مختلف دلائل اور اکابر اہل علم کے اقتباسات کی روشنی میں اس نکتے کی تفصیلی وضاحت کر چکے ہیں۔ 

۲۔ سورۂ نحل کی جس آیت ’اخرجکم من بطون امہتکم لا تعلمون شیئا‘ سے فاضل ناقد نے فطری رہنمائی کی نفی پر استدلال کیا ہے، اس کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہاں انسان کے اندرون یعنی اس کے وجدان اور اس کے نفسی ، روحانی اور فطری وجود کا مسئلہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہے۔یہاں اس کا بیرون زیر بحث ہے جس سے وہ اپنی عقل، اپنے حواس اور اپنی سماعت و بصارت کے ذریعے سے متعلق ہوتا ہے۔اس مقام پر مخاطبین کو اللہ کے ان انعامات کی یاددہانی کرائی گئی ہے جن سے وہ اللہ کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کے توسط ہی سے آگاہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلۂ بیان میں جو آیت ۶۵ سے شروع ہو کر آیت ۸۳ پر مکمل ہوتا ہے، اس بارش کا ذکر کیا ہے جو بنجر زمین میں روئیدگی پیدا کرتی اور اس کے ثمر آور ہونے کا باعث بنتی ہے، ان چوپایوں کا ذکر کیا ہے جن سے دودھ جیسی نعمت حاصل ہوتی ہے، کھجوروں اور انگوروں جیسے پھلوں کا ذکر کیا ہے جو لذت کام و دہن کا سامان کرتے ہیں،شہد کی مکھی کا ذکر کیا ہے جو اپنے رب کے حکم سے پھلوں کا رس چوستی اور صحت بخش مشروب پیدا کرتی ہے، بیویوں، بیٹوں اور پوتوں کا ذکر کیا ہے، رزق کا ذکر کیا ہے، فضا میں اڑتے ہوئے پرندوں کا ذکر کیا ہے، گھروں کا ذکر کیا ہے جو چین اور سکون حاصل کرنے کے لیے انسان کی آماج گاہ ہیں، جانوروں کی کھال اور اون کا ذکر کیا ہے جن سے اشیاے ضرورت تیار ہوتی ہیں۔انھی انعامات کی یاددہانی کراتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں سے نکالا توتم اپنے گرد و پیش میں بکھرے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بے پناہ انعامات سے ناواقف اور بے گانہ تھے۔ پھر اللہ نے تمھیں سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں عطا فرمائیں اور ان کے ذریعے سے تم اس قابل ہوئے کہ گرد و پیش کے انعامات سے مستفید ہو سکو۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں ایسی کوئی چیز زیر بحث ہی نہیں ہے جس کا تعلق انسان کے نفسی و روحانی وجود سے ہو۔ نہ ایمان و عقیدے کا ذکر ہے، نہ فضائل اخلاق کا تذکرہ ہے، نہ اس کے رذائل کا بیان ہے،اور نہ حلال و حرام ، معروف ومنکر ، نیکی و بدی، فجور و تقویٰ اور خیر و شر کا حوالہ ہے۔ اس لیے اس سے خیر وشر کے اس فطری الہام کی نفی ثابت کرنا درست نہیں ہے جس کا ذکر سورۂ شمس کی آیت ’فالہمہا فجورہا وتقواہا‘ میں کیا گیا ہے اور جس کے وجود کو ایک ’فطری رجحان‘ کی حد تک خود فاضل ناقد بھی تسلیم کرتے ہیں۔

مولانا شبیر احمد عثمانی مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یعنی پیدایش کے وقت تم کچھ جانتے اور سمجھتے نہ تھے، خدا تعالیٰ نے علم کے ذرائع اور سمجھنے والے دل تم کو دیے جو بذات خود بھی بڑی نعمتیں ہیں اور لاکھوں نعمتوں سے متمتع ہونے کے وسائل ہیں۔ اگر آنکھ، کان،عقل وغیرہ نہ ہو تو ساری ترقیات کا دروازہ ہی بند ہو جائے۔ جوں جوں آدمی کا بچہ بڑا ہوتا ہے، اس کی علمی و عملی قوتیں بتدریج بڑھتی جاتی ہیں۔ اس کی شکر گزاری یہ تھی کہ ان قوتوں کو مولیٰ کی طاعت میں خرچ کرتے، اور حق شناسی میں سمجھ بوجھ سے کام لیتے، نہ یہ کہ بجائے احسان ماننے کے الٹے بغاوت پر کمر بستہ ہو جائیں اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر اینٹ پتھروں کی پرستش کرنے لگیں۔ یعنی جیسے آدمی کو اس کے مناسب قویٰ عنایت فرمائے، پرندوں میں ان کے حالات کے مناسب فطری قوتیں ودیعت کیں۔...حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ’’یعنی ایمان لانے میں بعضے اٹکتے ہیں، معاش کی فکر سے، سو فرمایا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ نہیں لاتا۔ کمائی کے اسباب کہ آنکھ، کان، دل وغیرہ ہیں، اللہ ہی دیتا ہے اور اڑتے جانور ادھرمیں آخر کس کے بھروسا رہتے ہیں۔‘‘... اگر خدا تعالیٰ آنکھ، کان اور ترقی کرنے والا دل و دماغ نہ دیتا، کیا یہ سامان میسر آ سکتے تھے۔...یعنی دیکھو! کس طرح تمھاری ہر قسم کی ضروریات کا اپنے فضل سے انتظام فرمایا اور کیسی علمی و عملی قوتیں مرحمت فرمائیں جن سے کام لے کر انسان عجیب و غریب تصرفات کرتا رہتا ہے، پھر کیا ممکن ہے کہ جس نے مادی اور جسمانی دنیا میں اس قدر احسانات فرمائے، روحانی تربیت و تکمیل کے سلسلہ میں ہم پر اپنا احسان پورا نہ کرے گا۔‘‘ (تفسیر عثمانی ۳۵۷)

اس آیت کی تشریح میں علامہ ابن کثیر ، مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ یہاں انسان کو ملنے والی وہ صلاحیتیں مراد ہیں جو اس کے خارج کو اس پر آشکارا کرتی اور جن کے ذریعے سے وہ اپنے گرد وپیش میں بکھری ہوئی اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر۳/ ۱۳۲۔ تدبر قرآن ۴/ ۴۳۲۔ تفہیم القرآن۲/ ۵۹۹) چنانچہ یہاں انسان کی پیدایش کے وقت اس علم کی نفی ہوئی ہے جو انسان کو حواس اور مشاہدات کے ذریعے سے خارجی دنیا کے بارے میں حاصل ہوتا ہے، اس کے فطری علم کی یہاں ہر گز نفی نہیں کی گئی۔

فاضل ناقد نے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ غامدی صاحب کی رائے صحیح مسلم کی ایک روایت کے خلاف ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے حسب ذیل روایت نقل کی ہے:

کان یقول ... اللھم آت نفسي تقواھا وزکھا أنت خیر من زکاھا.( مسلم، رقم ۲۷۲۲)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ، تو میرے نفس کو اس کا تقویٰ عنایت فرما دے اور اس کو پاک کر دے۔ بے شک، تو پاک کرنے والوں میں بہترین پاک کرنے والاہے ۔ ‘‘

روایت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ دعا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس کے تقوے اور اس کی پاکیزگی کی طلب میں پروردگار کے حضور میں پیش کی ہے۔فاضل ناقد نے اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ استدعا اس چیز کے لیے کی جاتی ہے جو میسر نہ ہو۔ اگر نفس کا تقویٰ انسان کو فطری طور پر ودیعت ہوتا تو آپ اسے اللہ تعالیٰ سے ہر گز طلب نہ کرتے۔ لکھتے ہیں:

’’اگر ’فجور‘ اور’ تقویٰ‘ انسانی فطرت میں داخل ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس تقویٰ کو مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ (فکر غامدی۲۹)

اس ضمن میں گزارش یہ ہے کہ یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ دعا سے اس چیز کی عدم دستیابی لازم آتی ہے جس چیز کے لیے دعا مانگی جا رہی ہے۔ بلا شبہ ناحاصل کے لیے دعا مانگی جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم حاصلات کے لیے بھی پروردگار کے حضور میں دست دعا بلند کرتے ہیں۔ اس سے مقصود اس حاصل میں ازدیاد اور اس کا دوام و استمرار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر صالح مسلمان صراط مستقیم پر گا م زن رہنے کے باوجود دن میں پانچ مرتبہ ’اھدنا صراط المستقیم‘ کی دعا مانگتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دعا انسان کی خود ساختہ نہیں ہے، بلکہ ا س کے پروردگار نے سکھائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون صراط مستقیم پرگام زن ہو سکتا ہے، مگر اس کے باوجود ان کی زبان پر یہ دعا جاری رہتی تھی۔

کیا فطرت مستقل ماخذ دین ہے؟

فطرت اور وحی کے باہمی تعلق کے حوالے سے ان بنیادی مباحث کی وضاحت کے بعد اب آئیے اس سوال کی طرف کہ کیا فطرت کو ایک الگ اور مستقل بالذات ماخذ دین کی حیثیت حاصل ہے؟ اس سوال کا جواب اگر اثبات میں ہے تو پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فطرت کا تعین کیسے ہوگا اور اگر اس ضمن میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے تو اسے کیسے رفع کیا جائے گا؟ ہم نے اوپر کے صفحات میں جو بحث کی ہے، اس کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے معاملے کو محض فطرت کی رہنمائی پر منحصر نہیں رکھا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انبیا علیہم السلام کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے۔ان انبیاے کرام نے دین فطرت کی تصویب وتائیدکی ہے اور انسانوں کو اس کے حقائق کی جانب متوجہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ان اختلافات کو بھی رفع کیا ہے جو فطرت کے تقاضوں کے فہم میں پیدا ہو ئے تھے یا پیدا ہو سکتے تھے۔ چنانچہ انبیا کی رہنمائی کی موجودگی میں فطرت مستقل ماخذ دین کی حیثیت نہیں رکھتی۔ فطرت کی تعیین انبیا کی تائید وتصویب ہی سے ہوتی ہے اور اس کی تعیین کے لیے وحی کی رہنمائی سے آزاد کوئی الگ اور مستقل معیار موجود نہیں ہے۔ یہی موقف ہے جسے جناب جاوید احمد غامدی نے بیان کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’پہلی چیز (یعنی دین فطرت) کا تعلق ایمان و اخلاق کے بنیادی حقائق سے ہے اور اس کے ایک بڑے حصے کو وہ اپنی اصطلاح میں معروف و منکر سے تعبیر کرتا ہے، یعنی وہ باتیں جو انسانی فطرت میں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں اور وہ جن سے فطرت ابا کرتی اور انھیں برا سمجھتی ہے ۔قرآن ان کی کوئی جامع و مانع فہرست پیش نہیں کرتا ،بلکہ اس حقیقت کو مان کر کہ انسان ابتدا ہی سے معروف و منکر ،دونوں کو پورے شعور کے ساتھ بالکل الگ الگ پہچانتا ہے ، اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ معروف کو اپنائے اور منکر کو چھوڑدے ... اس معاملے میں اگر کسی جگہ اختلاف ہو تو ذریت ابراہیم کا رجحان فیصلہ کن ہو گا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں سے پیغمبر انھی میں آئے ہیں اور معروف و منکر سے متعلق ان کے رجحانات کو گویا انبیا علیہم السلام کی تصویب حاصل ہو گئی ہے ۔ ‘‘(اصول و مبادی ۴۸۔ ۴۹)

انبیا علیہم السلام کی طرف سے ذریت ابراہیم کے رجحانات کی تصویب کا عمل آخری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہوا ہے۔ اس کے بعد فطرت کے تعین میں اصل معیار کی حیثیت اس ’تصویب‘ ہی کو حاصل ہے اور اس کو جاننے کے لیے قرآن مجید کو حتمی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’(دین فطرت کے)اس الہام کی تعبیر میں، البتہ اشخاص، زمانے اورحالات کے لحاظ سے بہت کچھ اختلافات ہوسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اس کی گنجایش بھی اس نے باقی نہیں رہنے دی اورجہاں کسی بڑے اختلاف کا اندیشہ تھا، اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے خیرو شرکو بالکل واضح کردیاہے۔ ان پیغمبروں کی ہدایت اب قیامت تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے ، یہ ہدایت اس کی تصدیق کرتی ہے اورانسان کاوجدانی علم، بلکہ تجربی علم، قوانین حیات اور حالات وجو د سے استنباط کیا ہوا علم اورعقلی علم ، سب اس کی گواہی دیتے ہیں ۔ چنا نچہ اخلاق کے فضائل ورذائل اس کے نتیجے میں پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہوجاتے ہیں۔‘‘ (اخلاقیات۱۲)

مذکورہ اقتباسات سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک فطرت کے تعین کے سلسلے میں فیصلہ کن اتھارٹی کی حیثیت انبیا ہی کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غامدی صاحب نے ’’اصول ومبادی‘‘ میں فطرت کا ذکر قرآن مجید کی دعوت کو سمجھنے میں معاون ایک ذریعے کے طور پر تو کیا ہے، لیکن کہیں بھی اسے مستقل بالذات ماخذ دین کے طور پر پیش نہیں کیا، ورنہ وہ ’’مبادی تدبر قرآن‘‘، ’’مبادی تدبر سنت‘‘ اور ’’مبادی تدبر حدیث‘‘ کی طرح ’’مبادی تدبر فطرت‘‘ کا بھی باقاعدہ عنوان قائم کرتے اور فطرت اور اس کے تقاضوں کی تعیین کے اصول وضوابط بیان کرتے۔ 

تاہم فاضل ناقد کا خیال ہے کہ غامدی صاحب وحی کی تصویب سے بے نیاز ہو کر فطرت کو ایک الگ اور مستقل بالذات ماخذ دین قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے جو مفروضات قائم کیے ہیں، ان پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس نکتے کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے جو فاضل ناقد کے لیے غلط فہمی کا باعث بنا ہے۔ 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ ، فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ.(الانعام۶:۱۴۵ )
’’ کہہ دو ،میں تو اس وحی میں جو میری طرف آئی ہے ،کسی کھانے والے پر کوئی چیز جسے وہ کھاتا ہے ،حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون یا سؤر کا گوشت ،اس لیے کہ یہ سب ناپاک ہیں یا اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ۔‘‘

قرآن مجید کی اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چار چیزوں کے علاوہ کھانے کی کوئی بھی چیز حرام نہیں ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث میں کچلی والے درندوں ،چنگال والے پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت بھی ثابت ہے۔ دونوں حکم بظاہر متعارض معلوم ہوتے ہیں اور علماے امت مختلف زاویوں سے ان کے مابین تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کی رائے میں قرآن کی بیان کردہ چار چیزیں ہی حرام ہیں اور ان کے علاوہ باقی کسی چیز کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے صحیح بخاری میں یوں منقول ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول گھریلو گدھے کے گوشت کی ممانعت کو حرمت پر محمول نہیں کرتے تھے، اس لیے کہ ان کے خیال میں یہ بات ’قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما‘ کے منافی تھی۔ (بخاری، رقم۵۲۰۹۔ المستدرک، رقم۳۲۳۶) 

اسی رائے کو بعد میں فقہاے مالکیہ نے اختیار کیا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بیان ہونے والے جانوروں کو حرمت پر نہیں، بلکہ کراہت پر محمول کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جمہور فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ کھانے کی اشیا میں ممانعت صرف ان چار چیزوں میں منحصر نہیں، بلکہ بہت سی دیگر اشیا بھی حرام اور ممنوع ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ قرآن مجید کے بیان کردہ حصر کا صحیح محل واضح ہوئے بغیر تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ جناب جاوید احمد غامدی نے اسی اشکال کو حل کرتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قرآن کی بیان کردہ حرمت کا دائرہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حرام قرار دیے جانے والے جانوروں کا دائرہ، دونوں بالکل الگ الگ ہیں اور قرآن مجید نے جس دائرے میں حرمت کو چار چیزوں میں منحصر قرار دیا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حرمت کے دوسرے دائرے میں بھی کوئی چیز ممنوع قرار نہ پائے۔ ’’اصول ومبادی‘‘ میں اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جو جانور پیدا کیے ہیں، ان میں سے بعض کھانے کے ہیں اور بعض کھانے کے نہیں ہیں۔ یہ دوسری قسم کے جانور اگر کھائے جائیں تو اس کا اثر چونکہ انسان کے تزکیہ پر پڑتا ہے ، اس لیے ان سے ابا اس کی فطرت میں داخل ہے۔ انسان کی یہ فطرت بالعموم اس کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھاناچاہیے۔ اسے معلوم ہے کہ شیر، چیتے، ہاتھی، چیل، کوے، گدھ، عقاب، سانپ ،بچھو، اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔وہ جانتا ہے کہ گھوڑے ،گدھے ،دستر خوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ان جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی۔چنانچہ خدا کی شریعت نے بھی ان جانوروں کی حلت و حرمت کو اپنا موضوع نہیں بنایا، بلکہ انسان کو اس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔ اس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور ان کے متعلقات ہیں جن کی حلت و حرمت کا فیصلہ تنہاعقل وفطرت کی رہنمائی میں کر لینا ممکن نہ تھا۔ سؤر انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے ،لیکن درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے، پھر اسے کیاکھانے کا جانور سمجھا جائے یا نہ کھانے کا؟وہ جانور جنھیں ہم ذبح کر کے کھاتے ہیں، اگر تذکیے کے بغیر مر جائیں تو ان کا کیا حکم ہونا چاہیے؟ انھی جانوروں کا خون کیا ان کے بول و براز کی طرح نجس ہے یا اسے حلال وطیب قرار دیا جائے گا؟ یہ اگر خدا کے سوا کسی اورکے نام پر ذبح کردیے جائیں تو کیا پھربھی حلال ہی رہیں گے؟ ان سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے اسے بتایاکہ سؤر، خون،مردار اور خدا کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو ان سے پرہیزکرنا چاہیے۔ جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔چنانچہ قرآن نے بعض جگہ ’قل لا أجد فی ما أوحی‘ اور بعض جگہ ’انما‘ کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں ...بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں ،چنگال والے پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اسی فطرت کا بیان ہے جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ ہم اگر چاہیں تو ممنوعات کی اس فہرست میں بہت سی دوسری چیزیں بھی اس علم کی روشنی میں شامل کر سکتے ہیں۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اسے بیان فطرت کے بجائے بیان شریعت سمجھا، دراں حالیکہ شریعت کی ان حرمتوں سے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، اس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر حدیث سے قرآن کے نسخ یا اس کے مدعا میں تبدیلی کا کوئی مسئلہ پیدا کیاجائے۔‘‘ (۳۷۔۳۹)

مذکورہ اقتباس سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں اصل بنیاد کی حیثیت قرآن مجید کے بیان کردہ اصول ’احل لکم الطیبات‘ (تمھارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) کے مطابق ان کے خبیث یا طیب ہونے کو حاصل ہے۔ ان طیبات اور خبائث سے انسان اپنی فطرت کی رو سے بالعموم واقف رہا ہے، البتہ ان میں سے ان چیزوں کی شریعت نے وضاحت کر دی ہے جن میں انسان کے لیے اپنی فطرت کی رہنمائی میں فیصلہ کرنا ممکن نہیں تھا، جبکہ باقی جانوروں کے بارے میں انسان کے فطری علم پر اعتماد کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ اس کی فطرت ہی کے سپرد کر دیا گیا۔

غامدی صاحب کا یہ نقطۂ نظر اپنے بنیادی نکات کے لحاظ سے جمہور اہل علم کے موقف سے کسی طرح مختلف نہیں:

سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ سورۂ مائدہ کی آیت ’اُحِلَّ لَکُمْ الطَّیِّبٰتُ‘ (تمھارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) اور سورۂ اعراف کی آیت’ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبآئِثَ ‘ (یہ پیغمبر ان کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھیراتا ہے) میں طیبات اور خبائث سے مراد کیا ہے۔ اس سوال کے ظاہر ہے کہ دو ہی جواب ہو سکتے ہیں:

۱۔ ان سے مراد صرف وہ چیزیں ہیں جو حلت و حرمت کے حوالے سے شریعت میں بیان ہوئی ہیں۔

۲۔ان سے مراد وہ چیزیں ہیں جنھیں انسان کی فطرت پسند کرتی یا جن سے وہ ابا کرتی ہے۔ 

امت کے جلیل القدر اہل علم نے اس سوال کے جواب میں بالعموم دوسری رائے کو اختیار کیا ہے اوریہ واضح کیا ہے کہ طیبات اور خبائث سے مراد وہ چیزیں ہیں جنھیں انسانی فطرت طیب اور خبیث سمجھتی ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں: 

’’ویحل لہم الطیبات: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ طیبات سے مراد وہ اشیا ہیں جن کے حلال ہونے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، مگر یہ بات دو پہلووں سے بعید ہے۔ ایک یہ کہ اگر اس کا معنی یہ ہوتا تو پھر الفاظ یہ ہوتے کہ ’ویحل لہم المحلات‘( اور پیغمبر ان کے لیے حلال چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے) اور یہ محض تکرار ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ معنی لینے سے آیت فائدے سے خالی ہوجاتی ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ جن اشیا کو اللہ نے حلال ٹھہرایا ہے، وہ کیا ہیں اور کتنی ہیں۔ لازم ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہوں جو طبیعت کو اچھی لگیں اور جن کو کھانے میں لذت کا فائدہ حاصل ہو۔ منافع میں اصل چیز حلت ہے۔ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو نفس کو پاکیزہ لگے اور طبیعت کو لذت دے ،وہ حلال ہے اور ہر وہ چیز جو نفس کو ناپاک لگے اور طبیعت اس کو ناپسند کرے تو وہ حرام ہے، سوائے اس کے کہ الگ سے کوئی دلیل ہو۔... میں کہتا ہوں کہ خبائث سے مراد ہر وہ چیز ہے جو طبیعت کو ناپاک کرے اور نفس کو آلودہ کرے اور اس کولینا تکلیف کا سبب بنے۔‘‘ (تفسیر کبیر۱۵/ ۲۴)

امام رازی نے یہی بات اپنی تفسیر میں ایک اور مقام پر قدرے مختلف الفاظ میں بیان کی ہے۔لکھتے ہیں: 

’’یہ ممکن نہیں ہے کہ یہاں طیبات سے مراد (اللہ تعالیٰ کی) حلال کردہ چیزیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ آیت اس طرح ہوتی :’قل احل لکم المحلات‘ ( کہہ دو تمھارے لیے حلال چیزیں حلال کی گئی ہیں) اور یہ معلوم ہے کہ یہ کمزور (جملہ) ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ طیبات کو لذیذ اور پسندیدہ چیزوں پر محمول کیا جائے۔ لہٰذا جملے کا مفہوم یہ ہو گا:’احل لکم ما یستلذ و یشتہی‘ ( تمھارے لیے ہر لذیذ اور پسندیدہ چیز حلال کی گئی ہے)۔پھر یہ جان لو کہ لذیذ ہونے اور پاکیزہ ہونے میں اچھے اخلاق والے لوگوں ہی کا اعتبار کیا جائے گا۔ کیونکہ اہل بادیہ تمام حیوانات کے کھانے کو پاکیزہ سمجھتے تھے اور اس کی تائید یہ آیت کرتی ہے کہ ’زمین میں جو کچھ ہے اس نے تمھارے لیے ہی پیدا کیا ہے۔‘‘(تفسیر کبیر۱۱/ ۱۴۲)

علامہ آلوسی نے بیان کیا ہے:

’’ویحل لہم الطیبات ویحرم علیہم الخبائث: پہلی چیز یعنی طیبات کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو طبیعت کو پاکیزہ لگیں جیسے چربی۔ اور دوسری چیز یعنی خبائث سے مراد وہ اشیا ہیں جو طبیعت کو ناپاک لگیں جیسے خون۔ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو نفس کو پاکیزہ لگے اور طبیعت کو لذت دے، وہ حلال ہے اور ہر وہ چیز جو نفس کو ناپاک لگے اور طبیعت اس کو ناپسند کرے ، وہ حرام ہے سوائے اس کے کہ الگ سے کوئی دلیل ہو۔‘‘ (روح المعانی۹/۸۱)

صاحب ’’معارف القرآن‘‘ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں: 

’’لغت میں طیبات صاف ستھری اور مرغوب چیزوں کو کہا جاتا ہے۔ اور خبائث اس کے بالمقابل گندی اور قابل نفرت چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے آیت کے اس جملہ نے یہ بتلا دیا کہ جتنی چیزیں صاف ستھری، مفید اور پاکیزہ ہیں، وہ انسان کے لیے حلال کی گئیں، اور جو گندی قابل نفرت اور مضر ہیں وہ حرام کی گئی ہیں۔... اب یہ بات کہ کون سی چیزیں طیبات یعنی صاف ستھری، مفید اور مرغوب ہیں اور کون سی خبائث یعنی گندی، مضر اور قابل نفرت ہیں، اس کا اصل فیصلہ طبائع سلیمہ کی رغبت و نفرت پر ہے۔‘‘ (معارف القرآن ۳/۴۳)

صاحب ’’تفہیم القرآن‘‘ نے لکھا ہے کہ ہر چیز طیب ہے اور حلال ہے سوائے ان چیزوں کے جنھیں شریعت نے ناپاک اور حرام قرار دیا ہے اور جنھیں انسانی فطرت ناپاک تصور کرتی ہے:

’’حلال کے لیے ’’پاک‘‘ کی قید اس لیے لگائی کہ ناپاک چیزوں کو اس اباحت کی دلیل سے حلال ٹھیرانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اب رہا یہ سوال کہ اشیا کے ’’پاک‘‘ ہونے کا تعین کس طرح ہو گا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو چیزیں اصول شرع میں سے کسی اصل کے ماتحت ناپاک قرار پائیں، یا جن چیزوں سے ذوق سلیم کراہت کرے ، یا جنھیں مہذب انسان نے بالعموم اپنے فطری احساس نظافت کے خلاف پایا ہو، ان کے ماسوا سب کچھ پاک ہے۔‘‘  (تفہیم القرآن ۱؍۴۴۴) 

حلت وحرمت کے باب میں شریعت کے اسی بنیادی اصول کے تحت قرآن مجید نے بھی خبائث کا مصداق قرار پانے والی بعض چیزوں کی وضاحت کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض چیزوں کو متعین کیا ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کی بیان کردہ چار چیزوں کا تعلق ہے تو وہ ایک مخصوص دائرے میں حصر کے ساتھ بیان ہوئی ہیں اور ان پر اضافے کی کوئی گنجایش نہیں، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مختلف جس دوسرے دائرے میں بعض جانوروں کی حرمت کو واضح کیا ہے، وہ چونکہ خبائث کی حرمت کے اسی عمومی اصول پر مبنی ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، اس لیے اسی اصول پر اگر انسان اپنی فطری ناپسندیدگی کی بنا پر بعض ایسی چیزوں پر حرمت کا حکم لگائیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا تو یہ کسی صورت میں دین کے خلاف متصور نہیں ہو گا، بلکہ بعینہٖ شارع کے بیان کردہ اصول پر عمل قرار پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علما و فقہا نے جانوروں کی حلت و حرمت کے معاملے میں طیبات و خبائث ہی کو اصل الاصول قرار دیا ہے اور اس باب میں انسانی طبائع کی پسندیدگی اور نا پسندیدگی ہی کو معیار مانتے ہوئے بہت سے ایسے جانوروں کو بھی حرمت کے دائرے میں شامل کیا ہے جن کی حرمت قرآن و حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ اس ضمن میں اگر کوئی اختلاف واقع ہوتا ہے تو شارع کی طرف کوئی واضح صراحت میسر نہ ہونے کی بنا پر وہ اجتہادی اختلاف قرار پائے گا جس کی رخصت اور گنجایش خود صاحب شرع کی طرف سے رکھی گئی ہے۔ 

ذیل میں فقہ کے مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ اصحاب علم کی آرا نقل کی جارہی ہیں۔ امید ہے کہ ان کے مطالعے سے ہماری بات پوری طرح واضح ہو جائے گی۔

امام شافعی لکھتے ہیں:

’’اہل عرب بہت سی چیزوں کو ان کے خبیث ہونے کی وجہ سے حرام اور بہت سی چیزوں کو ان کے طیب ہونے کی وجہ سے حلال سمجھتے تھے، چنانچہ جن چیزوں کو وہ طیب سمجھتے تھے، ان میں سے بعض کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی کو ان کے لیے حلال قرار دیا گیا، اور جن چیزوں کو وہ خبیث سمجھتے تھے، وہ ان کے لیے حرام کر دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔ اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ بس وہی چیز حرام ہے جس کو نام لے کر حرام کہا گیا ہو اور جس کی حرمت پر کوئی نص نہ ہو، وہ حلال ہے تو اسے پاخانہ اور (زخم سے نکلنے والے) کیڑوں کے کھانے اور پیشاب پینے کو حلال کہنا ہوگا، کیونکہ ان کے حرام ہونے پر کوئی نص نہیں، بلکہ یہ چیزیں ’خبائث‘ کے اندر شامل ہیں جنھیں اہل عرب حرام سمجھتے تھے اور ان کے حرام سمجھنے ہی کی وجہ سے (شریعت میں بھی) انھیں ان کے لیے حرام کہا گیا۔ پس اہل عرب کتے، بھیڑیے، شیر اور چیتے کا گوشت نہیں کھاتے تھے جبکہ بجو کا گوشت کھا لیتے تھے، اس لیے بجو حلال ہے۔ اسی طرح وہ چوہے، بچھو، سانپ، چیل اور کوے کو نہیں کھاتے تھے ، پس سنت میں (جو بعض چیزوں کو حرام کہا گیا ہے) وہ قرآن کے اس حکم کے موافق ہے کہ اہل عرب جن چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں وہ حلال، اور جن کو حرام سمجھتے ہیں، وہ حرام ہیں۔‘‘ (الام ۲/۲۶۳، ۲۶۴)

علامہ کاسانی حنفی نے بیان کیا ہے:

’’شریعت نے انھی چیزوں کو حلال کیا ہے جو انسانی طبع کے لیے خوش گوار ہیں، نہ کہ ان کو جن سے وہ گھن کھاتی ہے، اسی لیے فراوانی کی حالت میں اس چیز کو غذا نہیں بنایا گیا جو طبع کے لیے ناگوار ہو، بلکہ اس چیز کو غذا ٹھہرایا گیا ہے جو حددرجہ خوشگوار اور مرغوب ہے۔‘‘ (بدائع الصنائع ۵/۳۸)

پانی کے بعض جانوروں کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے، اور مینڈک، کیکڑا اور سانپ وغیرہ بھی خبائث میں سے ہیں۔‘‘ (بدائع الصنائع ۵/۳۵)

خشکی کے جانوروں کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’جو جانور خشکی پر رہتے ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں۔ کچھ وہ ہیں جن میں سرے سے خون نہیں، کچھ وہ ہیں جن میں بہنے والا خون نہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں بہنے والا خون ہے۔ (پس جن میں سرے سے خون نہیں) جیسا کہ ٹڈی، بھڑ، مکھی، مکڑی، بغاثہ، گبریلا، پسو اور بچھو وغیرہ تو ان میں سے ٹڈی کے علاوہ باقی چیزوں کا کھانا حلال نہیں کیونکہ یہ خبیث ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ سلیم طبیعتیں ان سے اجتناب کرتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔ اسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں جن میں بہنے والا خون نہیں، جیسے سانپ، چھپکلی کی مختلف قسمیں، کیڑے مکوڑے ، زمین کے جانور مثلاً چوہا، چیچڑی، سیہی، گوہ، یربوع اور نیولا وغیرہ۔‘‘ (بدائع الصنائع ۵/۳۶)

امام ابن قتیبہ نے لکھا ہے:

’’بعض حرام چیزیں ایسی ہیں جن کی حرمت پر نہ قرآن میں کوئی آیت اتری ہے اور نہ سنت میں کوئی نص ہے۔ ان میں لوگوں کو ان کی فطرت پر اور اس طبیعت پر چھوڑ دیا گیا ہے جن پر انھیں پیدا کیا گیا ہے، جیسے انسان کا گوشت، بندر کا گوشت، سانپ، چھپکلی کی مختلف قسمیں اور چوہا وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز سے نفوس گھن کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی کتاب میں یہ اصول بتا دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں، اور یہ تمام چیزیں فطرت کی رو سے خبیث ہیں۔‘‘ (تاویل مختلف الحدیث ۱۸۱)

ابن قدامہ حنبلی نے بیان کیا ہے:

’’ان جانوروں کے علاوہ جن جانوروں کو اہل عرب حلال سمجھتے ہوں، وہ حلال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے، یعنی ان چیزوں کو جنھیں اہل عرب طیب سمجھتے ہیں۔ اور جن چیزوں کو اہل عرب خبیث سمجھتے ہوں، وہ حرام ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔ جب یہ ثابت ہو گیا تو خبیث سمجھی جانے والی چیزوں میں حشرات مثلاً کیڑے، گبریلے کی مختلف نسلیں، چھپکلی کی مختلف قسمیں، گرگٹ، مختلف قسم کے چوہے، بچھو اور سانپ وغیرہ شامل ہیں۔‘‘  (المغنی مع الشرح الکبیر ۱۱/۶۴) 

یہاں تک کہ ابن حزم، جنھوں نے کسی بھی چیز کو خبیث قرار دینے کے لیے شارع کی طرف سے نص کو ضروری قرار دیا ہے (المحلی ۸/۴۲) اور اپنی کتاب’ ’المحلیٰ‘‘ میں مختلف جانوروں کی خباثت کے بارے میں پوری محنت سے نصوص جمع کرنے کی کوشش کی ہے ، بعض جانوروں کے خبیث ہونے کے بارے میں انھیں بھی انسانی فطرت اور رجحان ہی پر انحصار کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’رہے بچھو اور سانپ تو کسی ذی فہم کو اس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ خبیث ترین چیزیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔ جبکہ چوہوں کے شکار کے لیے تمام اہل اسلام بلیاں اور مہلک چوہے دان رکھتے رہے ہیں اور انھیں مارنے کے بعد انھیں کوڑا کرکٹ کی جگہوں پر پھینک دیتے ہیں۔ پس اگر ان کا کھانا حلال ہوتا تو مسلمانوں کا ایسا کرنا گناہ ہوتا اور مال کو ضائع کرنے کے زمرے میں آتا۔‘‘ (المحلی ۸/۴۷)

اس تفصیل سے واضح ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں طیبات اور خبائث کو بنیادی اصول قرار دیتے ہیں، البتہ ان کے مصداق کی تعیین کے ضمن میں، بعض فقہا کی رائے کے برعکس، منصوص جانوروں تک حرمت کو محدود رکھنے کے بجائے انسانوں کی فطرت سلیمہ اور ان کے ذوق اورمزاج کی روشنی میں ممانعت کے اس دائرے میں توسیع کے قائل ہیں اور ان کی یہ رائے جمہور فقہا کے مسلک کے عین مطابق ہے۔ یہ وہ بحث ہے جس سے فاضل ناقد نے محض اپنے سوء فہم کی بنیاد پر درج ذیل مفروضات قائم کیے ہیں:

۱۔ غامدی صاحب فطرت انسانی کو شریعت سے الگ اور اس کے متوازی مستقل ماخذ دین قرار دیتے ہیں۔ 

۲۔ انھوں نے انسانی فطرت کو حلال وحرام کا اختیار تفویض کر کے اسے شارع بنا دیا ہے اور اس طرح نعوذ باللہ اسے اللہ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔

۳۔ انھوں نے ہر انسان کو تو حلال وحرام کا فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے، مگر نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اب اوپر کی سطور میں ہماری بحث کی روشنی میں ان الزامات اور مفروضات کا جائزہ لیجیے:

یہ بات درست ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید نے ایک مخصوص دائرے میں جانوروں سے متعلق صرف چار چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، جبکہ ان کے علاوہ باقی تمام چیزوں کی حلت و حرمت کا فیصلہ فطرت انسانی پر چھوڑ دیا گیا ہے، لیکن ا س سے یہ اخذ کرنا کہ فطرت کو حلت وحرمت کے باب میں مستقل بالذات ماخذ دین قرار دیا جا رہا ہے، کسی طرح درست نہیں۔ یہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کے اختیار کا نہیں، بلکہ حلال وحرام کے باب میں شریعت کے بیان کردہ اصول یعنی طیبات اور خبائث کے مصداق کی تعیین کا مسئلہ ہے اور جمہور فقہا نے اس باب میں حلال اور حرام جانوروں کی فہرست تیار کرنے میں نصوص کے علاوہ انسانی فطرت سے بھی پوری پوری رہنمائی لی ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ فطری علم کی روشنی میں طیبات وخبائث کی تعیین، تحلیل وتحریم کے زمرے میں آتی ہے اور یہ بات انسان کو شارع کے منصب پر فائز کرنے کے مترداف ہے، بدیہی طور پر سوء فہم ہے۔ یہ چیز اگر فطرت کے مستقل ماخذ دین قرار پانے یا انسان کے تحلیل وتحریم کے منصب پر فائز ہونے کو مستلزم ہے تو اس جر م میں جمہور فقہا بھی غامدی صاحب کے ساتھ پوری طرح شریک ہیں۔ 

یہی کج فہمی اس الزام میں بھی کارفرما ہے کہ غامدی صاحب نے عام انسانوں کو تو حلال وحرام کا فیصلہ کرنے کا حق دے دیا ہے، مگر نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ جس دائرے میں قرآن نے چار چیزوں کی حرمت بیان کی ہے، اس پر اضافہ کوئی نہیں کر سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشادات میں ان محرمات میں کوئی اضافہ نہیں کیا، بلکہ اس سے مختلف ایک دوسرے دائرے میں بعض جانوروں کی حرمت کو واضح کیا ہے۔اس ضمن میں آپ کے ارشادات اور ان کے علاوہ بہت سے دوسرے جانوروں کی حرمت کے بارے میں فقہا کے فیصلے، دونوں خبائث کی حرمت کے اس اصول پر مبنی ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، لہٰذا قرآن کی بیان کردہ حرمتوں پر اضافے کا حق رسول اللہ کے لیے نہ ماننے اور عام انسانوں کے لیے تسلیم کرنے کا اعتراض بالکل بے معنی ہے۔

فاضل ناقد نے سب سے بڑھ کر دل چسپ نکتہ جو پیدا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کوطیب و خبیث کے تعین کا اختیار دینے کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانوں کے مختلف گروہ اپنے اپنے فطری میلان کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف نتائج پر پہنچیں تو ان میں سے ترک و اختیار کا فیصلہ کس اصول کی بنا پر کیا جائے گا؟ فاضل ناقد نے اپنے کمال فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود ہی اس سوال کا ایک جواب وضع کیا ہے اور اسے جناب جاوید احمد غامدی کی نسبت سے بیان کر دیا ہے۔لکھتے ہیں:

’’غامدی صاحب کے نزدیک کھانے کے جانوروں میں انسانی فطرت سے حلال و حرام کا تعین ہو گا،لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اختلاف فطرت کی صورت میں کس کی فطرت معتبر ہوگی؟ ...غامدی صاحب اس مسئلے کا حل تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کسی جانورکے بارے میں انسانی فطرت کی آرا مختلف ہو جائیں توجمہور کی رائے پر عمل کیا جائے گا۔ غامدی صاحب اصول و مبادی میں لکھتے ہیں : 
’’اس میں شبہ نہیں کہ اس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے ،لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی‘‘۔(میزان:ص۳۷)
غامدی صاحب کے اس سنہری اصول کی روشنی میں دنیا کے انسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد نے سؤر تک کو اپنی فطرت سے حلال کر رکھا ہے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں المورد کا کوئی ریسرچ اسکالر یہ تحقیق پیش کر دے کہ قرآن نے جس سؤر کو حرام قرار دیا ہے، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا سؤر ہے۔ رہا آج کا سؤر جس کی مغرب میں باقاعدہ فارمنگ کی جاتی ہے،وہ فطرتاً حلا ل ہے۔ اہل مغرب کو تو چھوڑیے،مسلمانوں کو دیکھ لیں، ان کی اکثریت کے ہاں حلال و حرام کا کیا معیارہے جسے غامدی صاحب اپنے اصول فطرت میں اختلاف کی صورت میں بطور دلیل پیش کر رہے ہیں ۔‘‘ (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷، ۳۹)

اسلوب تنقید کا یہ نادر نمونہ ارباب ذوق نے کم ہی ملاحظہ کیا ہو گا کہ کسی مصنف کی تحریر پر تنقیدی نکتہ اٹھایا جائے اور از خود اس کا مفروضہ جواب وضع کرکے طنز و تعریض کی بوچھاڑ کر دی جائے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ تنقید غامدی صاحب کی تحریر کو سمجھے بغیر لکھی گئی ہے، مگر اس مقام کو دیکھ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ سمجھنا تو دور کی بات ہے، یہ تو اس کو پڑھے بغیر ہی لکھی گئی ہے۔ غامدی صاحب کا یہ جملہ کہ ’’دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی‘‘ ان کی جس بحث سے اٹھایا گیا ہے، وہ ایک طویل اقتباس کی صورت میں ہم سابقہ صفحات میں پیش کر چکے ہیں۔ اس اقتباس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکیزہ اور غیر پاکیزہ جانوروں کی تعیین کا فیصلہ جس دائرے میں انسانی فطرت پر چھوڑا گیا ہے، وہ بالکل الگ ہے جبکہ قرآن مجید نے جن چیزوں کی حرمت کو قطعی طور پر بیان کر دیا ہے، وہ ایک بالکل الگ دائرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے دائرے میں تو کسی حد تک انسانوں کے مابین اختلاف کی گنجایش موجود ہے اور فقہی اختلافات میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں بسنے والے انسانوں کے ہاں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں، لیکن قرآن مجید کی حرام کردہ چیزوں کے دائرے میں اختلاف کی قطعاً کوئی گنجایش نہیں۔ اس بحث میں سے سیاق وسباق کو کلی طور پر نظر انداز کر کے مذکورہ جملہ اٹھا لینا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ قرآن مجید کی حرام کردہ چیزوں میں بھی انسانی فطرت اپنے تئیں فیصلہ کر سکتی ہے، علم وعقل ، دیانت اور انصاف کا خون کیے بغیر ممکن نہیں، لیکن فاضل ناقد کو داد دیجیے کہ وہ ضمیر کے پورے اطمینان کے ساتھ یہ سب کچھ کر گزرے ہیں۔

بحث کے آخر میں فاضل ناقد نے ’’غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف ‘‘کی سرخی قائم کی ہے اور اس کی مثال کے طور پر ڈاڑھی کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا حوالہ دیا ہے اور یہ تضاد بیان کیا ہے کہ ایک جانب غامدی صاحب فطرت کو دین قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب ڈاڑھی جیسی فطری چیز کو دائرۂ دین میں شامل ہی نہیں کرتے۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے:

’’جس طرح غامدی صاحب کا اصول فطرت غلط ہے، اسی طرح بعض مقامات پر اس اصول کی تطبیق میں انھوں نے اپنے ہی وضع کردہ اس اصول سے انحراف بھی کیا ہے ۔اس کی ایک مثال ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیاہے، اس میں ڈاڑھی بھی شامل ہے ۔کسی چیز کی فطرت سے مراد اس کی وہ اصل تخلیق ہے جس پر اس کو پید اکیا گیا ہے۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جس حالت پر پید اکیا ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چہرے پر ڈاڑھی کے بال ہوتے ہیں جبکہ عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیاہے، وہ یہ ہے کہ ان کے چہرے پر بال نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کی تخلیق میں یہ فطری فرق رکھا ہے۔ ڈاڑھی غامدی صاحب کے اصول فطرت سے ثابت ہے، لیکن غامدی صاحب نے اپنی ہی فطرت اور اپنے اصول فطرت دونوں کی مخالفت اختیار کرتے ہوئے ڈاڑھی کو دین سے خارج قرار دیا۔ ‘‘ (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷، ۴۲۔ ۴۳)

اس مثال سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ فاضل ناقد ’فطرت‘ اور ’سنت‘ کے مفہوم اور ان کے الگ الگ دائروں کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کو سمجھنے سے بالکل قاصر رہے ہیں۔ وہ مقدمہ تو یہ قائم کر رہے ہیں کہ ’’ڈاڑھی غامدی صاحب کے اصول فطرت سے ثابت ہے‘‘ اور اس سے نتیجہ یہ اخذ کر رہے ہیں کہ ڈاڑھی دین کا ایک حکم ہے اور پھر غامدی صاحب پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انھوں نے ’’اپنے اصول فطرت کی مخالفت اختیار کرتے ہوئے ڈاڑھی کو دین سے خارج قرار دیا ہے۔‘‘ ڈاڑھی کے ایک فطری چیز ہونے سے غامدی صاحب نے ہر گز انکار نہیں کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس فطری چیز کو شریعت نے باقاعدہ دینی رسم کی حیثیت دی ہے؟ چونکہ یہ بحث حقیقت میں ڈاڑھی کو فطرت تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے نہیں،بلکہ اس کو ایک دینی مفہوم میں ایک ’سنت‘ قرار دینے سے متعلق ہے، اس لیے ہم اس حوالے سے اپنا موقف، ان شاء اللہ سنت کی بحث میں واضح کریں گے۔

آراء و افکار