ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کل مضامین: 25

قرآن جلانے کا حق؟

ناروے میں ہونے والے واقعے پر مختلف اطراف سے بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ دیارِ مغرب میں، بالخصوص ناروے میں رہنے والوں کا زاویۂ نظر کچھ اور ہے، دیارِ مشرق، بالخصوص پاکستان میں رہنے والے کچھ اور انداز میں سوچتے ہیں۔ کسی کی توجہ ناجائز پر صبر و تحمل اور لغو سے اعراض والی آیات و احادیث پر ہے تو کوئی جہاد و قتال یا کم سے کم بائیکاٹ کی ضرورت پر زور دیتا ہے؛ جبکہ کسی نے اپنے ہاں کے بعض جذباتی لوگوں کو شرمندہ کرنا زیادہ ضروری سمجھا جو بعض اوقات غیرمسلموں کی مذہبی شخصیات یا شعائر کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ کل سے جاری اس ساری بحث میں وہ سوال کہیں دب گیا ہے جس پر اس...

پشاور ہائی کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ

اس مقدمے میں درخواست گزار کی جانب سے بنیادی طور پر یہ استدعا کی گئی تھی کہ عدالت 2018ء اور 2019ء میں نافذ کیے گئے ان دو قوانین کو دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دے جن کے ذریعے سابقہ پاٹا (سوات، دیر چترال وغیرہ) اور فاٹا (وزیرستان، خیبر، کرم وغیرہ) میں پہلے سے رائج قوانین کے متعلق قرار دیا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا سے انضمام کے بعد بھی ان علاقوں میں یہ قوانین نافذ رہیں گے۔ مزید یہ استدعا کی گئی تھی کہ ان قوانین کے تحت جو ذیلی قوانین ، ریگولیشنز اور قواعد وغیرہ وضع کیے گئے انھیں بھی کالعدم قرار دیا جائے۔ان ذیلی قوانین میں اہم ترین وہ ریگولیشنز...

تعبیر قانون کے چند اہم مباحث

(16 نومبر 2017ء کو اس موضوع پر فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے طلبہ کے ساتھ کی گئی گفتگو مناسب حذف و اضافے کے ساتھ پیش خدمت ہے۔) پہلا سوال: عبیر قانون کی ضرورت کیوں؟ ایک عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ مقننہ نے قانون میں سب کچھ واضح طور پر پیش کردیا ہے تو اس کے بعد "تعبیر قانون" یا قانون کا مفہوم متعین کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ وہ سوچتا ہے کہ جج کا کام صرف یہ ہے کہ مقننہ کے وضع کردہ قانون کی مقدمے میں موجود حقائق پر تطبیق کردے۔ کاش یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ ہوتا! جہاں قانون بظاہر خاموش ہو۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ مقننہ اپنے طور پر پوری کوشش کرتی ہے کہ موجودہ...

مظلوم کی مدد کیجیے، لیکن کیسے؟

روہنگیا مظلوموں پر ظلم کے خلاف سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر خوش آئند ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ تاہم کئی پہلووں سے تشنگی محسوس ہورہی ہے اور بعض پہلووں سے اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے ہی چند امور یہاں سنجیدہ غور و فکر کے لیے پیش کیے جاتے ہیں: سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روہنگیا کے بارے میں حقائق کا علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ بالعموم ایک جذباتی فضا نظر آتی ہے جس کے زیر اثر ایک عمومی اتفاقِ رائے تو پایا جاتا ہے کہ ان پر شدید ترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن حقائق اور اعداد...

بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ: ایک قانونی تجزیہ

اس فیصلے پر کئی پہلوؤں سے مباحثہ جاری ہے لیکن قانونی تجزیہ کم ہی کہیں نظر آیا ہے، حالانکہ اصل میں یہ مسئلہ قانونی ہے۔ اس مضمون میں کوشش کی جائے گی کہ اس فیصلے کے متعلق اہم قانونی مسائل کی مختصر توضیح کی جائے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف (International Court of Justice/ICJ) کیا ہے؟ سب سے پہلے اس عدالت کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ اس عدالت کے متعلق چند حقائق یہ ہیں: 1۔ یہ عدالت اقوامِ متحدہ کی تنظیم کی ایک شاخ ہے اور اس عدالت کا ضابطہ (Statute) اقوامِ متحدہ کے منشور (Charter) کا حصہ ہے۔ اس لیے جو ریاستیں اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط کرکے اس کی رکنیت حاصل کرلیتی ہیں ، وہ اس عدالت...

مختلف نظام ہائے قوانین کے اصولوں میں تلفیق : چند اہم سوالات

(کسی ایک فقہی مذہب کی پابندی اور مختلف مذاہب کے مابین تلفیق کے حوالے سے فیس بک پر ہونے والی بحث کے تناظر میں لکھی گئی توضیحات۔)۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ میرے استاد محترم نیازی صاحب اور مجھے تلفیق پر جو اعتراض ہے، وہ اس بات پر نہیں ہے کہ مختلف مذاہب سے آرا کیوں اکٹھی کی جارہی ہیں؟ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ آرا اکٹھی کی جارہی ہیں یہ فکر کیے بغیر کہ ان آرا کے پیچھے جو اصول کارفرما ہیں، وہ آپس میں ہم آہنگ ہیں بھی یا نہیں؟ اگر اصولی ہم آہنگی یقینی بنائی جائے اور اصولی تضادات دور کیے جائیں ، تو بے شک آرا اکٹھی کرکے نئی رائے قائم کی جائے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں...

مسلمان حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی فقہ

(مصنف کی کتاب ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ کی ایک فصل)۔ شیخ یوسف القرضاوی کی ’’فقہ الجہاد‘‘ میں ایک اہم بحث مناقشۃ فقہ جماعات العنف کے عنوان کے تحت ہے ، جس میں شیخ قرضاوی نے کوشش کی ہے کہ مسلمان ریاستوں میں حکومتوں کے خلاف خروج کے قائلین کی فقہ کے اہم مبادی سامنے لا کر ان کی غلطی واضح کی جائے ۔ یہ بحث بہت مفید نکات پر مشتمل ہے۔ و من نظر الی جماعات العنف ، القائمۃ الیوم فی عالمنا العربی مثلاً ( جماعۃ الجھاد، الجماعۃ الاسلامیۃ ، السلفیۃ الجھادیۃ ، جماعہ انصار الاسلام ۔۔۔ انتھاء بتنظیم القاعدۃ ): وجد لھا فلسفتھا و وجھۃ نظرھا ، و فقھھا الذی تدعیہ...

تشدد کے خلاف خواتین کے تحفظ کا قانون :چند اہم نکات

اصولی گزارشات۔ پہلے چند اصولی گزارشات ملاحظہ کریں: ۱۔ اسلامی قانون کی رو سے یہ موقف صحیح نہیں ہے کہ نظمِ اجتماعی کو گھر یا خاندان کے امور میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر قاضی کو بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف شکایت ملے تو قاضی کو شوہر سے بازپرس اور اس کے پڑوسیوں کے ذریعے تحقیق کا حق ہے اور نتیجتاً وہ شوہر کی مناسب تادیب بھی کرسکتا ہے۔ پس اس موقف سے گریز ہی بہتر ہے کہ نظمِ اجتماعی کو خاندان کے نجی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے، بلکہ میں تو ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہوں گا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت پر ظلم...

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ

پچھلے دنوں کئی ایک اہم عدالتی فیصلے سامنے آئے ہیں جن پر اہلِ علم کی جانب سے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ میرا خیال یہ تھا کہ نفاذِ شریعت کے حوالے سے حساس لوگ ان پر ضرور قلم اٹھائیں گے لیکن ہر طرف ہو کا عالم ہی دکھائی دیتا ہے ۔ اس لیے ٹھہرے پانیوں میں پتھر پھینکنے کی نیت سے یہ مختصر مضمون لکھ رہاہوں جس میں فی الوقت صرف ایک فیصلے پر کچھ بحث کروں گا جس کا تعلق نکاح و طلاق کے قانون سے ہے۔ عدالتِ عالیہ لاہور کے فاضل جج جناب جسٹس حافظ شاہد ندیم کہلون نے ایک مقدمے بعنوان : محمد شیر بنام ایڈیشنل سیشن جج /جسٹس آف پیس وغیرہ میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی مطلقہ خاتون...

’’سوچا سمجھا جنون‘‘؟ سانحۂ پشاور کے فقہی تجزیے کی ضرورت

کیا جو کچھ پشاور میں ہوا یہ بعض جنونیوں کی کارروائی تھی جو بھلے برے کی تمیز کھو بیٹھے تھے ؟ کیا یہ کسی اور کارروائی کا رد عمل تھا ؟ کیا یہ بدلے کی کارروائی تھی ؟ کیا یہ یہود و نصاری کی سازش تھی تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو مزید بدنام کردیں ؟ کیا واقعتاً اسلامی قانون میں کچھ ایسے اصول و ضوابط ہیں جن کی رو سے یہ کارروائی مستحسن ، یا کم سے کم جائز ، تھی ؟ یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات اس وقت سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں اور اب اہلِ علم ان کے جواب سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔ قانونی حیثیت کا تعین: مجرم، باغی یا خارجی؟ قانونی تجزیے کے لیے سب سے پہلے اس بات...

خیبر پختون خوا میں سود کی ترویج کی ایک مذموم کوشش ۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا موقف؟

قرآنِ کریم نے صراحتاً سودخوروں کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے اعلانِ جنگ کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا اور بعد میں وہاں کے لوگوں نے دار الاسلام کا حصہ بننے کے لیے شرائط رکھیں تو آپ نے ان کی ہر شرط قبول کی ، سواے اس شرط کے کہ وہ سودی لین دین برقرار رکھیں گے۔ اسی طرح اہلِ خیبر اور اہل ِ نجران کے لیے شرط رکھی تھی کہ وہ سودی لین دین نہیں کریں گے۔ اسی بنا پر فقہاے کرام نے قرار دیا ہے کہ دار الاسلام میں سودی لین دین کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی ، یہاں تک کہ غیر مسلموں کے ساتھ کیے گئے معاہدات میں بھی اس کی اجازت...

تکفیر اور خروج : دستورِ پاکستان کے تناظر میں

موضوعِ زیر بحث کے کئی گوشے ہیں ۔ جو لوگ خروج کے قائل ہیں ان میں سے بعض تو حکمرانوں کے بعض اقوال یا افعال کی بنا پر ان کی تکفیر کرکے ان کی معزولی کو واجب قرار دیتے ہیں جبکہ بعض کا استدلال یہ ہے کہ پاکستان کا دستور ’ کفریہ ‘ ہے اور اس ’کفریہ نظام ‘ میں کہیں کہیں اگر اسلام کی پیوند کاری کی بھی گئی ہے تو اس کے باوجود اسے اسلامی نہیں مانا جاسکتا ۔ پھر بسا اوقات بحث میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کا حوالہ بھی آجاتا ہے ۔ یہ بحث بھی چھڑ جاتی ہے کہ پاکستان دار الاسلام ہے یا نہیں ؟ دستور نے اگر پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دیا ہے تو کیا...

پروفیسر مشتاق احمد کا مکتوب گرامی

(جناب ایمن الظواہری کی کتاب پر راقم کے تنقیدی تبصرے پر محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب نے درج ذیل خط ارسال فرمایا جسے موضوع کی مناسبت سے یہاں درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مدیر)۔ برادر محترم عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ ایمن الظواہری کی کتاب پر آپ کا تبصرہ پڑھا ۔ ماشاء اللہ تبصرے کا حق ادا کردیا ہے۔ مجھے آپ کے مقدمات و دلائل اور وجہِ استدلال سے مکمل اتفاق ہے۔ البتہ دو امور کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے: ایک یہ کہ آپ نے حنفی فقہا کے متعلق درست فرمایا ہے کہ وہ سربراہِ حکومت (ریاست نہیں کیونکہ ریاست نامی شخصِ اعتباری کا...

توہین رسالت کی سزا کے متعلق حنفی مسلک

ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ کے مارچ ۲۰۱۱ء کے شمارے میں راقم کا ایک مقالہ ’’ توہین رسالت کی سزا فقہ حنفی کی روشنی میں ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس مقالے کے آخر میں تمام مباحث کا خلاصہ راقم نے ان سات نکات کی صورت میں پیش کیا تھا: ’’ ۱۔ کسی شخص کو اس وقت تک گستاخ رسول قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک مقررہ شرعی ضابطے پر اس کا جرم ثابت نہ ہو۔ ۲ ۔ اگر گستاخ رسول اس جرم سے پہلے مسلمان تھا تو اس کے اس جرم پر ارتداد کے احکام کا اطلاق ہوگا اور اگر وہ پہلے ہی غیر مسلم تھا تو پھر اس فعل پر سیاسۃ کے احکام کا اطلاق ہوگا۔ ۳ ۔ حد ارتداد کو ملزم کے اقرار یا دو ایسے مسلمان...

توہین رسالت کی سزا فقہ حنفی کی روشنی میں

زیر نظر مسئلے پر بحث کے دوران یہ بات مسلسل مد نظر رہے کہ کسی شخص کو باقاعدہ عدالتی کاروائی کے بغیر محض سنی سنائی بات پر یا محض الزام کی بنیاد پر ’’گستاخ رسول ‘‘ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ (۱) پس پہلا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو عدالت میں گستاخ رسول ثابت کرنے کے لیے ضابطہ اور معیار ثبوت کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ متعین کیا جائے کہ توہین رسالت کے جرم کی نوعیت کیا ہے کیونکہ جرم کی نوعیت کے مختلف ہونے سے اس کے اثبات کا طریقہ بھی مختلف ہوجاتا ہے ؟ (۲)۔ ’’توہین رسالت ‘‘کے جرم کی دو مختلف صورتیں۔ فقہاے احناف کا موقف یہ ہے...

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں

۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ء کی صبح ڈاکٹر محمد منیر صاحب، سربراہ شعبۂ قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد نے اطلاع دی کہ استاد محترم جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے انتقال کرگئے ہیں۔ کافی دیر تک صدمے کی کیفیت میں مبتلا رہا۔ آنسوؤں اور دعاؤں کا ایک عجیب امتزاج تھا جو والدہ مرحومہ کی وفات کے بعد پہلی دفعہ اتنی شدت سے محسوس کیا۔ بے بسی کے احساس نے صدمے میں اور بھی اضافہ کیا کیونکہ بیماری کی وجہ سے ڈاکٹرنے مجھے سفر سے منع کیا تھا۔ البتہ ایک بات نے بہت حوصلہ دیا کہ غازی صاحب کے شاگردوں نے ان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار...

اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟

۲۰ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو ہماری مادر علمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد بد ترین دہشت گردی کا نشانہ بنی ۔ سہ پہر تین بجے کے قریب ایک خود کش حملہ آور نے خواتین کے کیمپس کے سامنے بنے ہوئے کیفے ٹیریا میں خود کو دھماکہ سے اڑادیا اور دوسرے خود کش حملہ آور نے اس کے چند لمحوں بعد امام ابو حنیفہ بلاک میں کلیۂ شریعہ و قانون میں شعبۂ شریعہ کے سربراہ کے دفتر کے سامنے خود کو دھماکہ سے اڑا دیا ۔ سوال یہ ہے کہ ان خود کش حملہ آوروں کا ہدف کیا تھا اور وہ کیا پیغام دینا چاہتے تھے ؟ مختلف لوگوں نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں جن کا ہم ذیل میں جائزہ لیں گے۔ دہشت...

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل

مالاکنڈ ڈویژن میں ایک دفعہ پھر شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ کردیا گیا ہے جس کے بعد سے اس ریگولیشن کے مختلف پہلوؤں اور ان کے سیاسی و سماجی اثرات پر اہل علم کی بحث جاری ہے۔ بعض لوگوں نے اسے نفاذ شریعت کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے تو بعض دیگر لوگ اسے ’’طالبانائزیشن‘‘ اور انتہا پسندی کے مقابلے میں جمہوری اور لبرل قوتوں کی شکست سے تعبیر کررہے ہیں۔ اس مقالے میں ہماری کوشش یہ ہے کہ جذباتیت اور تعصب سے بالاتر ہوکر خالص معروضی قانونی نقطۂ نظر سے اس ریگولیشن کا جائزہ پیش کیا جائے اور اس سے متعلق چند اہم دستوری اور قانونی مسائل پر بحث کی جائے۔ مسودے...

آداب القتال : توضیحِ مزید

ماہنامہ ’’الشریعۃ ‘‘کے نومبر ۔ دسمبر ۲۰۰۸ء کی خصوصی اشاعت میں راقم الحروف کا ایک مضمون ’’ آداب القتال : بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ۔ اس مضمون پر ’’ دہشت گردی : چند مضامین کا تنقیدی جائزہ ‘‘ کے عنوان سے جناب ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب کا تبصرہ جنوری ۲۰۰۹ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔ میں ڈاکٹر صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری تحریر کو تبصرے اور تنقیدکے لائق سمجھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے تبصرے میں جن تین نکات پر بحث کی ہے میں ان کی کچھ مزید وضاحت پیش کرنا ضروری محسوس کرتا ہوں کیونکہ میری ناقص...

آداب القتال: بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل

مسلمان اہل علم کے لیے اس وقت جن مسائل پر بحث از بس ضروری ہوگئی ہے، ان میں شاید سب سے زیادہ اہم مسئلہ آداب القتال کا ہے ۔ فلسطین ، افغانستان، عراق اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اس وقت ایک بظاہر نہ ختم ہونے والے مسلح تصادم میں مبتلا ہیں ۔ یہ مسلح تصادم خواہ مسلمانوں میں سے بعض افراد نے شروع کیا ہو یا ان پر غیروں کی جانب سے مسلط کیا گیا ہو ، بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ آداب اور قواعد لوگوں کے لیے واضح کیے جائیں جن کی پابندی ان پر اسلامی شریعت اور موجود بین الاقوامی قانون کی رو سے لازم ہے ۔ ایک افسوسناک امر اس سلسلے میں یہ ہے کہ بہت سے لوگوں...

ابلیس اور حکمران

امام ابو الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی رحمہ اللہ ( متوفی ۵۹۷ ھ ) نے اپنی کتاب ’’ تلبیس ابلیس ‘‘ اس مقصد کے لیے لکھی تھی کہ لوگوں پر واضح کیا جائے کہ ابلیس ان پر کس کس طرح حملہ کرسکتا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے مثال کے طور پر واضح کیا ہے کہ محدثین پر وہ کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ فقہا کو وہ کیسے نشانہ بناتا ہے؟ صوفیا کو کیسے اپنے دام میں پھنساتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس کتاب کے ساتویں باب میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ ابلیس حکمرانوں کو کس طرح اپنے متبعین میں شامل کرتا ہے۔ اس باب کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار خیال جنرل (ر) پرویز مشرف کے آٹھ سال سے زائد عرصے پر محیط دور...

سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کے زمانۂ نزول کے تعین کا مسئلہ

شان نزول کی روایات اور سورتوں کی اندرونی شہادتیں۔ کتب تفاسیر میں بعض اوقات ایک ہی سورت کے متعلق شان نزول کی بہت سی روایات مل جاتی ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی آیت کے کئی اسباب نزول ذکر کیے جاتے ہیں۔ کبھی آیات کے مضامین کی اندرونی شہادت یہ ہوتی ہے کہ ان کا نزول مکہ میں ہوا تھا، لیکن شان نزول کی روایت میں مدنی دور کا واقعہ ذکر ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات سورت کے نظم کی گواہی یہ ہوتی ہے کہ پوری سورت بیک وقت نازل ہوئی مگر روایات میں بعض آیات کا الگ الگ شان نزول ذکر ہوتا ہے۔ اس قسم کی الجھنوں کے حل کے لیے امام الہند شاہ ولی اللہ نے جو تحقیق اپنے رسالے ’’الفوز...

لال مسجد کا سانحہ اور حنفی فقہ

لال مسجد کے سانحے کے مختلف پہلوؤں پر اہلِ علم کی بحث جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایک موضوع یہ ہے کہ لال مسجد کے خطیب اور مہتمم اور دیگر متعلقہ افراد شریعت کی تعبیر کے معاملے حنفی فقہ کے پیروکار تھے، تو کیا ان کا طرز عمل فقہ حنفی کی رو سے درست تھا؟ اگر ہاں تو دیگر حنفی علما نے کیوں ان کی تائید نہیں کی؟ اور اگر نہیں تو حنفی ہوتے ہوئے انہوں نے حنفی فقہ کے قواعد سے روگردانی کیسے کی؟ یہ اور اس قسم کے دیگر کچھ سوالات روزنامہ ’’جناح‘‘ کے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ صاحب نے اٹھائے ہیں۔ فاضل کالم نگار کے نزدیک حنفی فقہا کی رائے یہ رہی ہے کہ افراد کو...

جہاد اور معاصر بین الاقوامی قانونی نظام ۔ چند اہم مباحث

جہاد اسلام کی چوٹی ہے ، جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے ۔(۱) بہت سی آیات و احادیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور نفاق کے درمیان فرق کا علم جہاد ہی کے ذریعے ہوتا ہے ۔ (۲) جہاد ہی کی برکت ہے کہ اسلامی دنیا میں کبھی بھی غیروں کے تسلط کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد ابتدا ہی سے استعماری قوتوں کا ہدف رہا ہے ۔ مسلمان اہل علم کی جانب سے ہر دور میں جہاد کی حقیقت اور اس کے صحیح تصور کو اجاگر کرنے کا فریضہ ادا کیا گیا ہے ۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں اسلامی دنیا بالعموم غیروں کے تسلط میں آگئی تو اس تسلط کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ...

تحفظ حقوق نسواں بل ۲۰۰۶ء ۔ ایک تنقیدی جائزہ

حدود قوانین میں ترامیم کے لئے حکومت کی جانب سے ’’تحفظ قانون نسواں بل ‘‘ کے نام سے جو بل قومی اسمبلی میں ۲۱ اگست ۲۰۰۶ ء کو پیش کیا گیااس کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے ممبران قومی اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ حکومتی ارکان نے ان کے اس اقدام کو قرآن و سنت اور آئین کی توہین قرار دیا ، جبکہ متحدہ مجلس عمل کے اراکین اس بل کو حدود اللہ میں تبدیلی قرار دے کر اپنے تئیں ایمانی غیرت کا مظاہرہ کررہے تھے ۔بات اصل میں وہی ہے جو اس کتابچے کے پیش لفظ میں کہی گئی ہے کہ فریقین معاملے کا غیر جذباتی انداز میں جائزہ نہیں لے رہے ۔ ہم کسی کی نیت...
1-25 (25)