اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۳)

محمد زاہد صدیق مغل

نفع کمانے کو نفع خوری پر قیاس کرنے کی غلطی:

اسلامی ماہرین معاشیات نفع کمانے اور علم معاشیات کے تصور نفع خوری (profit-maximization) کو خلط ملط کردیتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کاروبار کے نتیجے میں جو نفع حاصل ہوتا ہے اسلام اس کا قائل ہے لیکن اسلام نفع خوری کا ہرگز قائل نہیں۔ نفع تو کسی مقصد کے لیے کمایا جاتا ہے جیسے حضرت عثمانؓ کے نفع کمانے کا مقصد غزوات میں سرمایے کی فراہمی، غریب مسلمانوں کی مدد وغیرہ تھا، اس کے مقابلے میں نفع خوری کا مطلب نفع کا حصول بالذات مقصود (profit for the sake of profit) اور تعقل (rationality) کی بنیاد بنا لینا ہے۔ نفع خوری کی اس مکروہ ذہنیت کا سب سے عمدہ اظہار اسٹاک ایکسچینج کاروبار میں ہوتا ہے جہاں فرد اسٹاک صرف اور صرف اس لیے خریدتا ہے کہ وہ سرمایے میں لگاتار اضافہ کرتا ہی چلا جائے اور اس دھن میں لگا رہے کہ کس کمپنی کے شئیرز منافع (capital gain) پر بیچ کر ایسی کمپنی کے شئیرز میں لگائے جہاں سے مزید نفع کی امید ہو۔ اگر آپ اس سے پوچھیں کہ یہ شئیرز تم کیوں خرید اور بیچ رہے ہو تو اس کا جواب ’مزید نفع سے مزید نفع کمانا‘ ہوگا، یعنی وہ نفع اس لیے کماتا ہے کہ اس سے مزید نفع کماتا چلا جائے ۔ جوائنٹ اسٹاک کمپنی درحقیقت اسی نفع خوری (accumulation for the sake of accumulation)کی ذہنیت کا اظہار ہے جس کا مقصد وجود صرف اور صرف سرمایے کی بڑھوتری ہوتا ہے، اس کا اور کوئی معاشرتی مقصد ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود ایک کامیاب تاجر ہونے کے حضرت عثمانؓ نے امیر صحابہ کی دولت جمع کرکے زر کے بازار (بینک اور اسٹاک ایکسچینج ) کی داغ بیل نہ ڈالی کیونکہ ان اداروں کا تو مقصد ہی نفع خوری کا عموم ہے ۔ انسانی خواہشات کی لامحدودیت اور اس کے حصول کو انسانی جدوجہد کی بنیاد مان کر جو معاشرتی صف بندی وجود میں آتی ہے وہاں ایسے اداروں کی ضرورت پڑتی ہے جو ذرائع میں لگاتار اور جلد از جلد اضافے کا حصول ممکن بناتے ہوں اور زر کے بازار اسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ 

نفع کمانے اور نفع خوری کا فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ ’اسلام نے نفع کمانے کو حرام قرار نہیں دیا‘۔ آج کل ’فلاں کام حرام نہیں ہے‘ کا فلسفہ بے دریغ استعمال کیا جانے لگا ہے، لہٰذا یہاں اس پر بھی کچھ کہنا ضروری ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے مان لیا جائے کہ اسلام نفع خوری کو حرام نہیں کہتا، پھر بھی اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ یہ کوئی مطلوب و مستحسن کام ہے؟ کسی عمل کے حرام نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ مطلوب بھی ہے۔ مثلاً دنیا کا ہر مفتی یہ فتویٰ دے گا کہ طلاق دینا حرام نہیں ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بنیاد پر کوئی شخص طلاق کے فروغ کے لیے قریہ قریہ جا کر دفاتر کھول لے، عورتوں کو طلاق لینے پر اکسانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کرتا پھرے، انہیں طلاق کے بعد پہنچنے والے معاشی نقصانات کا مداوا کرنے کے لیے معاشی سکیمیں پیش کرے وغیرہ، اور جب اس سے پوچھا جائے کہ بھائی یہ کیا غضب کررہے ہو تو وہ معصومیت سے جواب دے کہ ’جناب اسلام میں طلاق دینا اور لینا حرام کب ہے؟ میں تو مظلوم عورتوں کے حقوق کا تحفظ کررہا ہوں‘۔ اسی طرح اسلام میں پر تعیش زندگی گزارنا بہر حال ’حرام‘ نہیں بلکہ نا پسندیدہ (مکروہ) ہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اسلامی ریاست کا مقصد معاشرے میں ایسے اداروں کا فروغ ہوگا جو لوگوں کو پر تعیش زندگی گزارنے کی ترغیب دیں گے؟ اور پھر ’اسلامی قحبہ خانے‘ کے مالک کا کیا قصور ہے کہ اس کا یہ ’شرعی جواز‘ نہ مانا جائے کہ اسلام نے شہوانی جذبے کا جائز طریقے سے اظہار حرام کب قرار دیا ہے، اگر ایسا ہوتا تو اسلام مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہی کیوں دیتا؟ نیز اسلامی معیشت دانوں کے فلسفے کو بنیاد بنا کر وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ’جناب اسلام میں جائز اور ناجائز کا فرق صرف طریقہ کار پر مبنی ہے، اگر جانور بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا جائے تو وہ حلال ہوجاتا ہے ورنہ حرام، اسی طرح میں نے غیر اسلامی کوٹھوں کو غیر شرعی طریقوں سے پاک کرکے اصول شریعہ (Shariah compliance) کی روشنی میں اسلامی قحبہ خانے میں تبدیل کرکے اسے جائز کردیا ہے‘۔ مسلم مفکرین کی ایک بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ مغرب اور اسلام میں چند ظاہری (superficial)مماثلتوں کو بنیاد بنا کر اسلامی تعلیمات کو مغربی تناظر پر چسپاں کرنے لگتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ دونوں نظاموں میں ان اعمال کی مقصدیت یکسر مختلف ہوتی ہے جو اس کی مابعد الطبعیات سے طے پاتی ہے۔ ’اسلام میں نفع حرام نہیں ہے‘ کو بنیاد بنا کر تمام سرمایہ دارانہ اداروں (بینک اور اسٹاک ایکسچینج وغیرہ ) کی اسلام کاری اسی غلط فہمی کا شاخسانہ ہے۔ اس دلیل کی غلطی واضح کرنے کے لیے ’اسلامی قحبہ خانے‘ کی مثال ہی کافی ہے لیکن چونکہ یہ غلطی ہر جگہ عام ہے لہٰذا اسے سمجھانے کے لیے ہم چند اور مثالیں پیش کرتے ہیں۔ دیکھئے حضرت عیسی علیہ السلام بطور ایک جسمانی وجود ایک معین شخصیت ہیں لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں کے تصور مسیحیت میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہماری مابعد الطبعیات میں وہ ایک رسول بشر جبکہ ان کے ہاں خدا ہیں۔ اگر کوئی مسلمانوں کے ہاں حضرت عیسی علیہ السلام کا نام سن کر یہ دعویٰ کرے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے حضرت عیسی علیہ السلام ایک ہی شخص ہیں تو کیا یہ کہنا درست ہوگا؟ اب ایک عملی مثال لیجئے۔ فرض کریں کوئی شخص صحابہ کرام کی گھوڑ دوڑ اور نیزہ بازی اور چند دیگر کھیلوں کی بنیاد پر دور جدید کے اولمپک گیمز اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں کا اثبات کرنے لگے تو ایسے قیاس کو قیاس مع الفارق نہ کہیں تو اور کیا کہیں ؟ اس شخص کا قیاس اس مفروضے پر مبنی ہے کہ موجودہ کھیل کی نوعیت بھی ویسی ہی ہے جیسی صحابہ کے کھیلوں کی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کھیل صرف کھیل نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک معاشرتی ادارہ (social institution)ہیں، جن کی حیثیت اربوں ڈالر سرمایے کی ایک انڈسٹری کی ہے، جس کے بقا کے لیے ضروری ہے کہ کچھ لوگوں کی زندگیوں کا مقصد ہی کھیلنا بن جائے یعنی کھیل ہی انکی پہچان (profession)ہو ، عوام الناس دنیا و آخرت سے بے پرواہ ہوکر جنونیوں کی طرح کھیلوں کے تماش بین بن کر اربوں ڈالر ان پر برباد کردیں، اور تو اور حکومتوں کا بھی یہ بنیادی وظیفہ ہو کہ وہ کھیلوں کے فروغ کے لیے سہولتیں فراہم کرے تاکہ عوام الناس ان میں مشغول ہوں اور اپنی نسلوں کو جہنم کی تیاری کرنے کے لیے کھلاڑی بنانے پر راغب ہوں وغیرہ وغیرہ۔ آخر کھیل ایک ’وقتی شخصی تفریح ‘ اور ’کھیل ایک معاشرتی ادارے ‘ میں کیا مماثلت ہے؟ بالکل اسی طرح ’مقاصد زندگی کے لیے نفع کمانے ‘ اور ’نفع ہی کمانے کو مقصد بنانے والے ادارے‘ میں مماثلت ہی کیا ہے؟ اسی طرز کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ بخاری شریف (کتاب الحدود) میں ایک ایسے صحابیؓ کا ذکر موجود ہے جو رسالت ماب ﷺ کی فرحت طبع کی خاطر مزاح فرماتے۔ اب فرض کریں کوئی شخص ان صحابیؓ کے عمل کو بنیاد بنا کر معاذاللہ موجودہ دور میں مزاحیہ اداکاری (comedy) کی پوری انڈسٹری کو ’اسلامی ثابت‘ کرنے لگے تو ایسے اجتہاد کو فساد نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ 

ساخت اور مقصد کا تعلق باہمی نظر انداز کرنے کی غلطی:

چنانچہ اسلامی تصور ات وقف اور بیت المال سے کمپنی بطور شخص قانونی کا جواز ایسا ہی ہے جیسے صحابہ کے کھیل سے اولمپک گیمز کا جواز۔ اسلامی معاشیات کی ایک بڑی خامی ساخت (structure)اور مقصدیت (sprit) کے تعلق باہمی کو نظر انداز کرنا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل کے لیے یہ نقطہ سمجھ لینا چاہیے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اس کی ساخت (structure) کا حصول مقصد اور اس کے دوام کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ افراد جب کسی شے کے حصول کو اپنا مقصد بنا تے ہیں تو اس کے حصول کے لیے کوئی نہ کوئی انتظامی شکل ضرور اختیار کرتے ہیں اور بہت سی انتظامی شکلوں میں سے وہی شکل زندہ رہ جاتی ہے جو زیادہ مؤثر اور قابل عمل ہوتی ہے۔ افراد کی خود سے اختیار کردہ مخصوص انتظامی ہیئت ان معنوں میں تو ضروری نہیں ہوتی کہ وہ بذات خود اصلاً مطلوب تھی ، مگر ان معنوں میں یقیناضروری ہوتی ہے کہ اس کی بقا سے افراد کے معا شرتی مقاصد قائم رہتے ہیں اور اس کا انہدام ان تمام مقاصد کے انہدام کا باعث بھی بنتا ہے جو اس کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ ساخت و ڈھانچے کے اندر جو روح [spirit or substance] موجود ہوتی ہے اسے اس ساخت سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے شریعت کے بیان کردہ ڈھانچے غیر متبدل ہوتے ہیں کیونکہ شریعت نے ایسے ڈھانچوں کی نشان دہی کردی ہے جنہیں اختیار کرکے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہوجاتا ہے۔ درحقیقت اسلامی نظام زندگی بدن اور روح کے آمیختے کا نام ہے ، ساخت اور روح ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ ہر ڈھانچے اور نظام کی اپنی روحانیت (spirituality) اور دانش (wisdom) ہوتی ہے جو اس کے اندر سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے ، جب تک آپ اس نظام کو اس کی ساخت کے ساتھ چلاتے رہتے ہیں تو اس کی مخفی دانش (potential wisdom) اور روحانیت(potential spirituality) ایسے ایسے طریقوں سے اپنا اظہار کرتی رہتی ہے کہ جن کا ادراک کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ عمل کی ساخت اور اس کی روح کے تعلق کی وضاحت چند آسان مثالوں سے کی جا سکتی ہے۔ کھڑے ہو کر کھانے والے نظام کی اپنی دانش وروحانیت ہے جو حرص و حسد کی عمومیت کے ذریعے ظہور پزیر ہوتی ہے، لیکن اسلامی آداب طعام کی روحانیت و دانش دسترخوان پربیٹھ کر کھانے میں مضمر ہے۔ جو شخص دسترخوان پر بیٹھ جاتا ہے وہ کھڑے ہو کر کھانے والوں کی طرح لوٹ مار، چھینا جھپٹی نہیں کرسکتا، وہ دسترخوان پر تعلقات کے ایک ایسے تانے بانے میں بند ھ جاتا ہے جہاں اس کی نقل و حرکت ناممکن ہو جاتی ہے۔ وہ حالت حرکت سے حالت سکون میں آجاتا ہے، وہ ایک پیالے سے دوسرے پیالے ایک برتن سے دوسرے برتن کی طرف آزادانہ رجوع نہیں کرسکتا۔ جو کچھ اس کے سامنے میسر و موجود ہے وہ اسی پر اکتفا کرتاہے ، صرف اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ جو لوگ فروکش ہیں ان کا حصہ بھی ان چیزوں میں موجود ہے جو سامنے برتنوں میں رکھی ہیں اس سے وہ اعتناء نہیں کرسکتا ۔ اگر برتن میں پانچ بوٹیاں ہیں اور کھانے والے بھی پانچ ہیں توکوئی فرد پانچوں بوٹیاں اپنی رکابی میں ڈالنے کی جرات نہیں کرسکتا کہ پانچ نگاہیں اس کے تعاقب میں ہوں گی، اس کا اخلاقی وجود کڑی نگرانی میں ہوتا ہے۔ کوئی قانون نافذ نہیں ہوتا لیکن نفس لوامۃ اور اخلاقیات کا قانون دسترخوان کے ڈھانچے کے ذریعے فرد پر مسلط ہو جاتا ہے اور وہ اس کے جبر سے اوپر نہیں اٹھ سکتا۔ اس کے برعکس کھڑے ہو کر کھانے کی اخلاقیات ہی دوسری ہوتی ہے، ایک میز سے وہ پسند کی بوٹیاں و اشیاء چنتا ہے پسند نہیں آتیں تو دوسری میز پر پھینک کر نئی رکابی اٹھا کر دوسری اشیاء استعمال کرنا شروع کردیتا ہے، پسندیدہ اشیاء ایک میز پر نہ ملیں تو وہ ہر میز پر گھوم پھر کر ڈھونڈتا اور لوٹتا رہتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنا زماں و مکاں تیزی سے بدل رہاہے لہٰذا کسی کی نظر میں نہیں ہے صرف نفس امارہ (حرص و حسد و ہوس) کی گرفت میں ہے۔ دیکھئے ہمارے گاؤں دیہات میں بیٹھک وغیرہ جیسے ادارے گاؤں کے حالات حاضرہ کو افراد تک پہنچا نے اور ایک ساتھ مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا خیال کرنے کی اقدار کے فروغ کا مکمل نظام تھا ۔ ان نشستوں کے ختم ہونے سے وہ روحانی ما حول بھی ہما رے معا شروں سے رخصت ہو گیا جو انکا مرہون منت تھا۔ غور کیجئے نماز تراویح جب مساجد سے نکل کر شادی ہالوں، کمیونٹی سینٹروں اور ہالوں میں جاتی ہے تو اس کی روحانیت سلب ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس تقریب کے انتظامات میں مصروف ہو کر تراویح کی عبادت سے قصداً رضا کارانہ محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ کچھ ویڈیو بناتے ہیں ،کچھ صوتی نظام چلاتے ہیں ، کچھ کتابوں کے اسٹال پر بیٹھتے ہیں، کچھ کتابیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، کچھ چائے بنانے کے انتظام میں مصروف ہوتے ہیں، کچھ تھک کر کرسیوں پر آرام فرما ہوکرچائے پی رہے ہوتے ہیں، کچھ سستانے لگتے ہیں، وقفوں میں چائے کا دور اور کھانے پینے کاسلسلہ چلتا ہے۔ نتیجتاً وہ روحانیت مفقود ہو تی ہے جو تراویح کا حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مسجد کا ادارہ چھوڑتے ہی یہ روحانیت بھی رخصت ہو جاتی ہے، روحانیت اس خاص ڈھانچے کے اندر ہے وہ ڈھانچہ نہیں رہے گا تو روحانیت بھی نہیں رہے گی اور دنیا کو، حرص و ہوس کو ، لذت دنیا کو اس روحانیت میں دخل اندازی کی کھلی اجازت خود بخود مل جاتی ہے ۔ ساخت کوئی غیر اقدار ی (value-neutral or objective free)شے نہیں ہوتی، بلکہ ہر ساخت ایک مخصوص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہی مددگار ہوتی ہے۔ چوپالوں اور بیٹھکوں کے ذریعے مل جل کر رہنے کی معاشرت ہی کو عام کیا جا سکتا ہے ان کے ذریعے اغراض پر مبنی معاشرت کبھی قائم نہیں ہو سکتی۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہر ساخت افراد کے مخصوص مقاصد کو حاصل کرنے کی خاطر وضع کردہ تعلقات کے نتیجے میں وقوع پزیر ہوتی ہے۔ ساخت اور روح کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ساخت ختم ہوتے ہی روح بھی تحلیل ہوجاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ساخت ختم ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ افراد کے تعلقات کا وہ تانا بانا جو اس مقصد کے حصول کی ضمانت تھا، اب موجود نہیں رہا۔ 

ساخت اور مقصد کا تعلق بیان کرنے کے لیے مثالیں اس لیے بیان کی گئیں کہ اسلامی تصورات وقف اور بیت المال سے کمپنی کے جواز کی غلطی واضح ہوسکے۔ کمپنی یا کارپوریشن کیا ہے؟ بڑھوتری برائے بڑھوتری(accumulation for the sake of accumulation) کے مقصد و عمل کو ممکن بنانے کا ذریعہ اور ساخت۔ اسے خوبصورت الفاظ میں یوں ادا کرتے ہیں کہ کمپنی کا مقصد شئیر ہولڈرز کے نفع میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہے اور اس اضافے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر چکر میں حاصل ہونے والے نفع کی کاروبار میں سرمایہ کاری (reinvestment) کرتے چلے جاؤ۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی کے منافع میں اضافے کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی، یعنی یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کمپنی کتنا نفع کمانا چاہتی ہے اور کاروبار کے حجم میں کتنی توسیع چاہتی ہے کیونکہ یہ تو لامحدود انسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے سرمایے میں لامحدود اضافہ کرنے کی انسانی کوشش کا اظہار ہے۔ کمپنی اور شراکت (partnership)میں دو بنیادی فرق ہیں: 

  • اولاً کمپنی ایک شخص قانونی (legal personality) ہوتی ہے جو اپنے تمام مالکان سے علی الرغم اپنا ایک وجود رکھتی ہے۔ مثلاً فرض کریں اگر زید اور ناصر مل کر کوئی کاروبار کریں اور دونوں کسی وجہ سے کاروبار بند کردیں تو وہ کاروبار اور شراکت ختم ہوجائے گی، اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا ، نہ ہی اس کے ذمے کسی کی ادائیگیاں وغیرہ ہوتی ہیں، نہ کوئی شخص عدالت میں اس ’کاروبار ‘ کے خلاف مقدمہ درج کرسکتا ہے کیونکہ شراکت میں ملکیت ذاتی ہوتی ہے اور افراد ہی اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں کمپنی ایک علیحدہ (independent) وجود رکھتی ہے، اس کے تما م شئیر ہولڈرز اگر مر بھی جائیں تب بھی کمپنی نہیں مرتی، اس کے خلاف مقدمہ کیا جا سکتا ہے۔ 
  • دوئم ملکیت اور تصرف میں دوئی (separation of ownership and control)، یعنی کمپنی ملکیت میں تصرف کرنے کے حق کو فرد سے چھین کر ایسے افراد کے ہاتھوں میں مرکوز کر دیتی ہے جو فیصلے صرف بڑھوتری سرمایہ (profit maximization)کے اصول پر کرتے ہیں۔ ملکیت جب تک ذاتی ہو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ فرد بڑہوتری سرمایہ کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے اسے استعمال کرے جو سرمایہ داری کو مطلوب نہیں۔ لبرل سرمایہ داری بھی اشتراکیت کی طرح انفرادی ملکیت ختم کردیتی ہے، فرق یہ ہے کہ اشتراکیت ایسا ریاستی جبر کے ذریعے کرتی ہے اور لبرل سرمایہ داری کارپوریشن کے ذریعے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ نظام جتنا مضبوط ہوتا جاتا ہے، فرد کے لیے یہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے کہ وہ ذاتی ملکیت کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ فرض کریں زید آج ٹیکسی چلاکر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے اور ناصر پرچون کی دکان چلاتا ہے، لیکن سرمایہ داری اور زر کے بازار کے فروغ کے نتیجے میں بڑی بڑی کارپوریشن ٹیکسیاں اور رکشے تک چلانے لگتی ہیں، بڑے بڑے میکرو (makro) قائم کر دئیے جاتے ہیں جن سے مقابلہ (compete) کرنا ایک فرد کے بس کی بات نہیں رہتی۔ نتیجتاً فرد مجبور ہوجاتا ہے کہ یا تو اپنی ملکیت (property)کو بینک کے حوالے کردے اور یا پھر کمپنیوں کے شئیرز وغیرہ میں لگا (invest)دے، دونوں صورتوں میں ملکیت فرد کے ہاتھ سے نکل کر ان ہاتھوں میں پہنچ جاتی ہے جو سرمایے کے غلام ہوتے ہیں ۔ فرد کا کام صرف اتنا ہی رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کو سرمایے کے حوالے کرکے مناسب نفع ملنے کی امید رکھے لیکن اسے یہ حق نہیں ہوتا کہ اپنی ملکیت پر اپنی مرضی سے تصرف کرسکے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ کمپنی کے مالکان شئیر ہولڈرز ہوتے ہیں یہ محض رسمی یا فرضی ملکیت (fictitious ownership) ہوتی ہے کیونکہ انہیں کمپنی کے کسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کا حق نہیں ہوتا، وہاں فیصلے صرف اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ سرمایے میں اضافہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کمپنی میں فیصلے ہمیشہ وہی لوگ کرتے ہیں جو پیسے سے پیسہ بنانے کے علوم میں ماہر ہوتے ہیں (مثلاً financial analysts وغیرہ)۔ 

کارپوریشن در حقیقت حرص وحسد اور نفع خوری کی ذہنیت و عقلیت کو معاشرے پر مسلط کردینے کا ڈھانچہ ہے۔ اس کی مثال بالکل موبائیل فون کی سی ہے جو انسان کی حد سے بڑھی ہوئی حب دنیاکا اظہار ہے، یعنی انسان نے چوبیس گھنٹے دنیا سے جڑ جانے کی خواہش پورا کرنے کے لیے ایک آلہ تیار کر لیا ہے، اب چاھے وہ حالت نماز میں ہو یا حالت احرام میں، ہر حال میں دنیا سے اس کا تعلق قائم ہے، یہ آلہ اسے کسی لمحے دنیا سے قطع تعلق کرنے نہیں دیتا۔ بالکل اسی طرح کمپنی انسان کی سرمایے میں لامحدود اضافہ کرنے کی خواہش کا عملی اظہار ہے، اس ڈھانچے (structure)کا اور کوئی مقصد نہیں اور نہ ہی یہ کسی اور مقصدیت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کسی معاشرے میں کمپنی کا نفس وجود اور اس کا فروغ اس بات کی ضمانت ہے کہ افراد بڑھوتری سرمایہ کو اپنا مقصد حیات بناتے چلے جائیں، اس ساخت سے کسی اور شخصیت کا وقوع پزیر ہونا ہی نا ممکن ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کمپنیاں فروغ پائیں اور معاشرے میں حرص و حسد کی ذہنیت عام نہ ہو، اس مقصدیت و روحانیت کو کمپنی سے جدا کرنا خوش فہمی ہے، جب تک یہ ڈھانچہ (structure)موجود رہے گا اس کے اندر موجود روح افراد کو جکڑے رکھے گی۔ کمپنی کو وقف اور بیت المال پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے، بھلا وقف اور بیت المال جیسے اسلامی اداروں کانفع خوری سے کیا لینا دینا؟ اس کے بر خلاف وقف کی ملکیت تو عموماً غیر منافع بخش کاموں پر صرف کی جاتی ہے، جیسے مساجد و مدارس اوقاف کے ما تحت کام کرتے ہیں۔ یہ قیاس صرف ظاہری مماثلت کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس کی حقیقت اوپر بیان کردہ مثالوں سے واضح ہوجانی چاہیے۔ ایک ثقافتی طائفے (art group) میں شامل ہو کر اشعار پڑھنے، ہجو کہنے، خطابت کرنے اور ڈھول بجانے کومیدان جنگ کے طبل جنگ سے تشبیہ دے کر اسلامی روایت قرار دینا باطل قیاس ہے۔ میدان جنگ میں ڈھول بجانا، رجزیہ اشعار پڑھنا، ہجو کہنا اور خطابت کا صور پھونکنا دو مختلف وسیلے [medium] اورراستے [ways] ہیں۔ میدان جنگ میں کوئی غیر پاکیزہ جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا، زندگی اور موت کی دہلیز پر ڈھول بجانے والا اور جنسی جذبات مشتعل کرنے کے لیے آلات موسیقی استعمال کرنے والے ثقافتی طائفے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح کمپنی کا جواز عبد ما ذون فی التجارۃ(ایسا غلام جو اپنے آقا کی طرف سے تجارت کرتا ہے لیکن مقروض ہونے کی صورت میں اس کے قرضہ جات کی بازیابی غلام کی قیمت کی حد تک محدود ہوگی) سے نکالنا بھی ظاہری قیاس ہے، بھلا کمپنی کا غلام سے کیا تعلق؟ یہاں تو فرضی مالکان (شئیرہولڈرز) بشمول ڈائرکٹرز سب کے سب الٹا کمپنی کے غلام ہوتے ہیں، سب سرمایے کی خدمت و غلامی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر کسی کمپنی کے ڈائرکٹر زسرمایے میں اضافے کے سواء کسی اور بنیاد پر فیصلہ کرنے لگیں تو انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، اور اگر چند ڈائرکٹرز مل کر سرمایے میں اضافے کی ذہنیت معطل کرنے کی کوشش کریں تو کمپنی دیوالیہ ہوجاتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کمپنی سرمایے میں اضافے کے سواء کسی اور مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، جیسے ہی وہ ایسا کرتی ہے کمپنی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی ساخت کو اس کے مقصد سے علیحدہ کرنا نا ممکن ہے۔ 

اسلامی ریاستی حکمت عملی کا ناقص تصور:

پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ’کیا حرام نہیں ‘ ہے ، بلکہ یہ ہے کہ ’شریعت کا مدعا کیا ہے‘، شریعت کا مقصد کس قسم کی انفرادیت و معاشرت کا فروغ ہے ۔ معاشرتی و ریاستی پالیسیاں ’مطلوب‘ کے معیار سے طے پاتی ہیں نہ کہ ’عدم حرمت’ سے، کیونکہ عدم حرمت کا اصول تو کم از کم (bare-minimum) کا فلسفہ ہے جس کے ذریعے ہر گز بھی کوئی مثبت تبدیلی نہیں لائی جاسکتی بلکہ اس کا لازمی نتیجہ کسی دوسرے نظام کے سامنے پسپائی (retreat) اختیار کرنا ہوتا ہے۔ عدم حرمت کا فلسفہ صرف ’کیا نہیں کرنا‘ بتاتا ہے جب کہ کوئی اصولی اور مثبت تبدیلی لانے کے لیے ’کیا کرنا ہے‘ طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ علمیت (epistemology)اور رویے (attitude) میں یہی فرق ہے کہ علمیت زندگی کے ’ہر‘ معاملے میں ’کیا کرنا چاہیے‘ (desired) کا اپنا ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتی ہے جبکہ رویہ چند گنے چنے اعمال کا نام ہوتا ہے جن پر کسی بھی نظام زندگی کے اندر ایک شاخسانے کے طور پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ ’عدم حرمت‘ کے فلسفے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کوئی علم نہیں بلکہ چند مخصوص مطالبے کرنے کے بعد زندگی کے باقی دیگر معاملات کے بارے میں یکسر خاموش ہوجاتا ہے اور انسان کو جو وہ چاہنا چاہے چاہنے اور کرنے کے لیے آزادچھوڑ دیتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک غلط مفروضہ ہے کیونکہ اسلام دین یعنی ایک مکمل نظام زندگی ہے جو ہر انسانی فعل کو اپنی مخصوص اقدار میں سموتا ہے ۔ اسلام ایک دین کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ تمام انسانی زندگی بشمول عقائد، اخلاق، احساسات و اعمال کو یک رنگی (coherence) میں پرو دیتا ہے۔ اگر اسلام نظام و علمیت نہیں تو اصول فقہ کی تمام کتابوں کو دریا برد کر دیجئے کیونکہ جب تک یہ صفحہ ہستی پر موجود رہیں گی اسلام ایک نظام اور علمیت کا اعلان کرتی رہیں گی۔ اگر شریعت چند گنے چنے اعمال کا نام ہے تو آج بھی مدارس میں اصول فقہ کیوں پڑھائے جاتے ہیں؟ آخر انہیں پڑھانے کا مقصد اس کے سواء اور کیا ہے کہ علماء کرام نئے پیش آنے والے مسائل کو مقاصد الشریعہ کی روشنی میں حل کرسکیں؟ ہر نظام زندگی کے معاشرتی ادارے اس کی اپنی علمیت اور خیر و شر کے اپنے معیارات سے وجود میں آتے ہیں اور یہی وہ بات ہے جسے اسلامی ماہرین معاشیات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ ایک اسلام دشمن علمیت و تہذیبی تاریخیت سے نکلے ہوئے اداروں کو ’حرام نہیں ہے‘ کے فلسفے پر پرکھ کر اسلامی جواز فراہم کررہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی احکامات پر عمل کرنے کا دائرہ چھوٹے سے چھوٹا ہوتا چلا جارہا ہے اور غیر نظام زندگی اپنا اثر و نفوذ بڑھا تا جارہا ہے ۔ مغربی (اور اب چند مسلم ممالک مثلاً کویت) میں کسی شخص کے مرنے کے بعد مردے کی تجہیز و تدفین وغیرہ کا انتظام یہ نہیں ہوتا کہ سب عزیز و اقارب اور اہل محلہ وغیرہ مل کر اس میں حصہ لیں جیسا کہ ہمارے یہاں کا معمول ہے بلکہ وہاں یہ کام چند ’ویلفیئر ادارے‘ سر انجام دیتے ہیں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد کوئی ’ذمہ دار‘ شخص اس ادارے کو فون کردیتا ہے اور ادارے کے اراکین میت اپنے ساتھ اٹھا لیجاتے ہیں اور تدفین کی جگہ اور وقت کی اطلاع میت کے کسی قریبی عزیز کو بذریعہ فون دے دیجاتی ہے کہ اگر اس کے پاس ’فرصت کے چند لمحات ‘ میسر ہوں تو قبرستان چلا آئے، بصورت دیگر اسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں، ادارہ اس کے بغیر بھی تدفین کا کام سر انجام دے دے گا۔ ایک ایسا مذہب جو پڑوسیوں کے بے شمار حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہو اس کے ماننے والے اگر تجہیز و تدفین کا سستا انتظام کرنے والا کوئی ادارہ کھول کر یہ سمجھنے لگیں کہ ہم کوئی ’اسلامی کام ‘ کررہے ہیں تو اسے اسلام کے نام پر مذاق نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے ؟ کیا اسلامی معاشرت میں اس قسم کے اداروں کے ابھرنے کی کوئی ادنی امید بھی کی جاسکتی ہے؟ ایسے ادارے تو صرف ایسی ہی معاشرت میں پنپ سکتے ہیں جو انفرادیت پسندی (individualism)کی انتہا کو چھو چکے ہوں۔ ایسے اداروں کو اسلامی جواز فراہم کرنے کا مطلب اسلام کے نام پر ایسی معاشرت پروان چڑھانا ہے جہاں صلہ رحمی سرے سے کوئی قدر ہی نہ ہو۔ چنانچہ اسلامی معاشرتی و ریاستی حکمت عملی میں دیکھنے کی بات یہ نہیں ہوتی کہ آیا کوئی عمل حرام ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ مقاصد الشریعہ کا حصول کس طریقے سے ممکن ہے، یعنی اسلامی پالیسی سازی کوئی انفعالی عمل (passive activity)نہیں بلکہ فعلی عمل (active activity)کا نام ہے جن کا مقصد مقاصد الشریعہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کا فروغ بھی ہوتا ہے۔ شرع محض فرائض ، واجبات اور محرمات کا ہی نام نہیں بلکہ اس کا دائرہ سنن، مندوب، مستحب، مکروہ ، اساء ت و خلاف اولی کے درجات تک اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ پیدائش سے لے کر موت تک کوئی ادنی سے ادنی انسانی فعل بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ اگر اسلام واقعی ایک دین ہے تو لازماً اس کا کوئی مطلوب (desired)طرز زندگی (life style) بھی ہونا چاہیے اور اس طرز زندگی کا ماخذ بھی دیگر احکامات شریعہ کی طرح آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی ہونا چاہیے نہ کہ اس سے ماورا کوئی اور تصوریا معیار۔ اگر اسلام کا کوئی مطلوب طرز زندگی نہیں ہے تو ’اسلام ایک نظام زندگی اور دین‘ کا دعویٰ ایک لغو و لایعنی دعویٰٰ ہے ، اور اگر واقعی اسلامی طرز زندگی نامی کوئی شے ہے تو اسلامی ریاست اسی کے تحفظ اور فروغ کی پابند ہوگی۔ ہر وہ ادارتی صف بندی جو اسلامی طرز زندگی کو مشکل بناتی ہو کسی صورت اسلامی نہیں ہوسکتی چاہے کوئی لاکھ حیلے تراش کر اسے اصول شریعہ پر منطبق کردکھائے ۔ ’حرام نہیں ہے‘ اور ’مباح ہے‘ کہہ کر ہر چیز کو مطلوب سمجھنے والوں کے لیے ہم امام غزالی ؒ کا اقتباس دوبارہ پیش کیے دیتے ہیں، غور سے پڑھئے: ’’یہ (فلسفہ) غلط ہے، اصل حقیقت ان لوگوں پر منکشف ہوئی جنہوں نے دنیا کی محبت کو تمام گناہوں کی جڑ کہا... ضرورت سے زائد مباح چیز مباح ہونے کے باوجود دنیا میں شامل ہے اور انسان کو اس کے خالق سے دور کرتی ہے...نفس کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے مباحات کی لذت سے نہ روکا جائے اس لیے کہ انسان مباحات کی لذت سے تجاوز کرکے محظورات میں مبتلا ہوجاتا ہے ... اور یہ اس کی ادنی آفت ہے... اس کی ایک آفت یہ ہے کہ نفس دنیا کی لذتوں سے خوش ہوتا ہے اور ان لذتوں میں وہ اپنے لیے سکون تلاش کرتا ہے‘‘ (اح: ج ۳: ص ۱۱۵-۱۱۴)

جب ان تمام باتوں کا کوئی جواب نہ بن پائے تو اسلامی معاشیات کے حق میں یہ عذر پیش کردیا جاتا ہے کہ عموم بلوی کی وجہ سے لوگوں کو سود کے گناہ سے بچانے کے لیے اسلامی بینکاری کی ترکیب نکالی گئی ہے، نیز جب تک خلافت اسلامی کا قیام عمل میں نہیں آجاتا اس وقت تک اجتناب حرام کے لیے آئیڈیل کے بجائے رخصت پر عمل کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ بہر حال کرنا ہی ہوگا۔ یہ عذر در حقیقت نام نہاد اسلامی بینکاری کے نام پر کیے جانے والے کاروبار کو دوام بخشنے کا ایک بہانہ ہے کیونکہ اسلامی ماہرین معاشیات کی تحریریں اور رویہ دیکھ کر یہ قطعاً باور نہیں کیا جا سکتا کہ اسلامی بینکاری کوئی حادثاتی حکمت عملی ہے بلکہ یہ حضرات اسلامی معاشیات و بینکاری کو خالصتاً اسلامی بنا کر پیش کرتے ہیں، یعنی یہ اسلامی معاشیات کو بطور حکمت عملی (strategy)نہیں بلکہ بطور آئیڈیل اپناتے ہیں جیسا کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کی پیش کردہ تحریروں سے عین واضح ہے۔ پھر ایک لمحے کے لیے مان لیجئے کہ یہ محض حکمت عملی ہی ہے، لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حکمت عملی کا آخر کار نتیجہ (end result)کیا ہوگا؟ آخر حکمت عملی کیوں وضع کی جاتی ہے، اس لیے کہ اصلاً مطلوب مقاصد حاصل ہوسکیں یا اس لیے کہ انکا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے؟ یہ بات درست ہے کہ سن ۲۰۰۸ میں آئیڈیل اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ممکن نہیں، لیکن حکمت عملی وضع کرنے کا مقصد تو یہ ہونا چاہیے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ سن ۲۰۲۸ یا ۲۰۴۸ میں ہم اس قابل ہوجائیں کہ زیادہ اسلامی تعلیمات پر عمل ممکن ہو سکے۔ لیکن کیا ایسی حکمت عملی کو بھی ’اسلامی‘ کہا جا سکتا ہے جو ہمیشہ کے لیے اسلامی تعلیمات کو معطل بنادینے کی ترکیب ہو؟ کوئی بھی حکمت عملی تب ہی ’اسلامی ‘ کہلانے کی مستحق ٹھہرے گی کہ جب وہ مقاصد اسلامی کے حصول کا ذریعہ بنے نہ یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو نافذالعمل اور پختہ بنائے۔ ایک ایسی حکمت عملی جس کے نتیجے میں اسلامی نظام زندگی تحلیل ہورہا ہے اس پر ’اسلامی‘ کا لیبل چسپاں کرکے دین کے نام پر سرمایہ داری کا جواز کیوں فراہم کیا جا رہا ہے ؟ یہ عذر پیش کرکے اسلامی بینکاری پر کاربند رہنے کا مطلب احیاو غلبہ اسلامی کے کام کو پیچھے دھکیلنا ہے نہ کہ اس کا ممد و معاون بننا۔ خلافت اسلامیہ کی غیر موجودگی کو بہانہ بنا کر اس عذر کو بطور رخصت پیش کرنے کا مطلب یہ مان لینا ہے کہ اسلامی بینکاری وغیرہ کا احیا و غلبہ اسلام سے کوئی سرو کا ر نہیں، تو ایک ایسی حکمت عملی جس کا احیائے اسلام سے کچھ لینا دینا ہی نہیں اسے ’اسلامی‘ کیوں کہا جارہا ہے؟ پھر اسلامی بینکاری سے منسلک عمائدین کا رویہ ’نظریہ ضرورت‘ کی بنیاد پر اسلامی بینکاری کے جواز کو بھی سخت مشکوک بنا دیتا ہے۔ فقہ کا مشہور قاعدہ ہے کہ ضرورتاً جائز قرار دی جانے والی شے بمقدار ضرورت ہی جائز ہوتی ہے نہ یہ کہ وہ اصلاً مطلوب یا حق سمجھ کر اختیار کر لی جائے۔ کیا نظریہ ضرورت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی بینکاری سے زیادہ سے زیادہ مادی فوائد حاصل کیے جائیں؟ اسے خود اور لوگوں کو بھی معیار زندگی بلند کرنے کی خاطر اپنانے کا درس دیا جائے ؟ اس کی کنسلٹنسی کے نام پر بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات حاصل کی جائیں؟ اگر ان علماء کے نزدیک نظریہ ضرورت اسی شے کا نام ہے تو پھر انہیں حجاب اور مردو زن کے اختلاط سے متعلق اسلامی احکامات پر بھی نظریہ ضرورت کے تحت اجتہاد کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ’وقت کا تقاضا‘ ہے اور مسلمانوں کو اس معاملے میں بھی گناہ سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔ نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دی جانے والی شے کا مقصد اس غیر شرعی ضرورت کو ختم کردینا ہوتا ہے نہ کہ اسے زندگی کا لازمی حصہ بنا دینا، کیا ضرورت کے نام پر اسلامی بینکاری کے ذریعے جو حل پیش کیا جارہا ہے وہ اسلامی انفرادیت، معاشرت و ریاست کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے یا سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے تقاضوں کو ہمیشہ کے لیے اسلامی زندگی کا حصہ بنا رہا ہے؟ ایک ایسی عورت جس کا کمانے والا کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو اسے نوکری کرنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ کہاں سے نکل آیا کہ women job promotion bureau (عورتوں میں نوکری کرنے کا شعور بیدار کرنے کا ادارہ) قائم کردیا جائے؟ 

عالمی استعماری نظام میں شمولیت کا جواز: 

اسلامی معاشیات و فائنا نس کا نتیجہ عالم اسلام کو عالمی استعماری سرمایہ دارانہ نظام میں سمو دینے اور اس کے تابع کردینے کے سواء کچھ نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں شمولیت کی یہ گنجائش زر اور سٹے کے بازاروں (money and capital markets) کا اسلامی جواز فراہم کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اسلامی ماہرین معاشیات یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لبرل سرمایہ داری بھی ریاستی سرمایہ داری یعنی سوشلزم کی مانند نجی ملکیت کا خاتمہ کردیتی ہے، صرف اتنے فرق کے ساتھ کہ سوشلزم میں یہ کام ریاست جبکہ لبرل سرمایہ داری میں زر کے بازار سر انجام دیتے ہیں۔ چنانچہ شخص قانونی، ملکیت اور حق تصرف میں جدائی، نظام قدر کا تعین بذریعہ تخمینہ بازی، فائنانس اور پیداواری عمل میں دوئی وغیرہ وہ ذرائع ہیں جن کے نتیجے میں نجی ملکیت کارپوریٹ ملکیت میں تحلیل ہوکر بڑھوتری سرمایہ کے اصل الاصول میں ضم ہو جاتی ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام زر میں شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو ئی نظام زندگی نہیں بلکہ ایک بڑے نظام زندگی یعنی سرمایہ داری کا ایک جز ہے کیونکہ اسلامی فائنانس و بینکاری وغیرہ کا مقصد اس عالمی نظام زر کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے فطری مان کر اس میں چند اصلاحات کا نفاذ ہے تاکہ سرمایے میں زیادہ اضافہ ممکن ہوسکے۔ اسلامی بینکاری، اسلامی بانڈز، اسلامی انشورنس وغیرہم کا حاصل صرف اور صرف مسلم ذرائع کو عالمی نظام زر میں شامل کرکے نفع خوری کو بڑھاوا دینا ہے۔ پھر اسلامی فائنانس کا نتیجہ اتنا ہی نہیں کہ ایک فرد اس نظام میں شمولیت کو اپنا جائز حق سمجھے، بلکہ مسلم ریاستیں بھی خود کو اس عالمی نظام کے سپرد کردیں اور تمام معاشی و ریاستی پالیسیاں لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے تقاضوں کے مطابق وضع کریں۔ اگر بالفرض اسلامی معاشیات و بینکاری نظام عالمی سطح پر ایک غالب نظام کی حیثیت اختیار کر لے تب بھی استعماری نظام کو اس سے کچھ خطرہ نہیں کیونکہ اسلامی معاشیات درحقیقت انہیں مقاصد کی محافظ، معاون اور وکیل ہے جو موجودہ عالمی نظام کے اصل اہداف ہیں۔ یعنی اسلامی فائنانس وغیرہ کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت کی وجہ اس کی اسلامیت یا سرمایہ داری سے علی الرغم کوئی متبادل نظام معیشت پیش کردینا نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول میں عمدہ آلہ کار کی حیثیت رکھنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ استعمار اسلامی معاشیات و بینکاری کے ممکنہ غلبے سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا بلکہ خود اس کا حامی اور موید ہے۔ سچ کہا قرآن نے کہ اے مسلمانوں یہود و نصاری اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقوں کی پیروی نہ کرنے لگو۔ 

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام سے نکلے ہوئے اداروں پر ایک کل (totality) کی نظر سے فتویٰ لگائیں بصورت دیگر اسلامی شخصیت، اقدار و روحانیت کا ذکر صرف ’اصلاحی خطبات‘ میں پڑھ کر ’سبحان اللہ‘ کہہ دینے تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا۔ یہ مفروضہ مان لینے کے بعد کہ لامحدود انسانی خواہشات کی تکمیل کرنا انسانی فطرت کا جائز اظہار ہے تزکیہ نفس کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا، ایسے معاشرے جہاں افراد کا مقصد لامحدود خواہشات کا حصول ہو وہاں حرص وحسد کو عموم و دوام بخشنے والے ادارے (زر اور سٹے کے بازار) ہی پھل پھول سکتے ہیں ، نہ کہ خانقاہی نظام۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی مسلم مفکرین اس فکری انتشار کا شکار ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریت (Islam via democracy)کے تو خلاف ہیں لیکن اسلامی معاشیات کے سحر میں گرفتار ہیں حالانکہ دونوں کے پیچھے ’دائرہ شریعت کی پابندی‘ کا فلسفہ ہی کارفرما ہے، ایک جگہ اسے سیاسی عمل پر اور دوسری جگہ معاشی عمل پر منطبق کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ درحقیقت اسلامی جمہوریت اور اسلامی معاشیات دونوں ہی احیاء و غلبہ اسلام کے راستے میں حائل دیگر رکاوٹوں سے زیادہ مہلک ہیں جس کی وجہ مسلم مفکرین کا انہیں غلبہ اسلام کا پیش خیمہ فرض کر لینا ہے۔ مسلمان جس قدر زیادہ انہیں اختیار کریں گے غلبہ اور انقلاب اسلامی کا کام اتنا ہی پسپا ہوتا چلا جائے گا۔ اسلامی معاشیات کا مقصد موجودہ غالب لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہر قسم کی انقلابی اسلامی جدوجہد کا جواز کالعدم قرار دینا ہے کیونکہ اس کے بنیادی فلسفے کے مطابق لبرل سرمایہ داری کے مقاصد اور انہیں حاصل کرنے کے اصول عین حق اور انسانی فطر ت کا جائز اظہار ہیں، البتہ اس میں چند عملی (operational) مگر قابل اصلاح نوعیت کی خرابیاں ہیں جنہیں درست کرنے کے لیے کسی انقلابی جدوجہد نہیں بلکہ اصلاحی سیاست (reformist politics) اور سرمایہ دارانہ علوم یعنی سائنسز (بشمول سوشل اور بزنس ) میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ 

فی الحقیقت اسلامی معاشیات اور اسلامی جمہوریت نے مل کر وہ سراب پیدا کیا ہے جس کے بعد اسلامی تحریکات کی توجہ انقلابی جدوجہد کے بجائے محض پر امن او رحقوق کی سیاست پر منتج ہوکر رہ گئی ہے اور ان کے لیے غالب نظام کے خلاف جہاد اور مجاہدین کی جدوجہد اجنبی اور لایعنی عمل کی حیثیت اختیار کرتے چلے جارہے ہیں۔ اسلامی معاشیات و فائنانس سے وابستگی کے نتیجے میں اسلامی تحریکات کے لیے کسی اعلی اسلامی آئیڈیل کا تصور اور اس کے حصول کا کوئی انقلابی لائحہ عمل وضع کرنا ہی محال ہوجاتا ہے کیونکہ انکی تمام تر توجہ ان پست سرمایہ دارانہ مقاصد کے حصول پر مرکوز ہوجاتی ہے جنہیں اسلامی معاشیات اسلام کے نام پر پیش کرتی ہے۔ یہ مضمون ہم نے ’شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے مری بات‘ کے جذبے کے تحت لکھا ہے۔ اگر اہل علم محسوس کریں کہ اس میں جس رائے کا اظہار کیا گیا ہے وہ صائب نہیں تو ہمیں ہماری غلطی پر مطلع کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حقیقت حال سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 


مباحث مضمون سے متعلق مطالعے کے لیے درج ذیل حوالہ جات دیکھئے :

۱۔ سرمایہ داری اور علم معاشیات کے مختلف تصورات کی تشریح اور تعلق کے لیے دیکھئے: 

1. Friedman Milton (1982), Capitalism and Freedom, Chicago, University of Chicago Press
2. Cole K, J. Cameron, and C. Edwards (1983), Why Economists Disagree, The political economy of economics, Longman group limited
3. Hayek, F. A. (1967), "The Principles of a Liberal Society", Studies in Philosophy, Politics and Economics, London Routledge and Kegan Paul, p 70 - 94

4- علم معاشیات کی کوئی سی اچھی درسی کتاب

۲۔ ایڈم سمتھ کے اخلاقی ومعاشی افکار جاننے کے لیے دیکھئے : 

1. Smith Adam (1759), The Theory of Moral Sentiments, New York, 1971
2. Smith Adam (1776), An Inquiry into the Nature and Causes of the Wealth of Nations, New York 1973

۳۔ اسلامی معاشیات و بینکاری کے عمومی فریم ورک کی تفصیلات کے لیے دیکھئے: 

1. Chapra, Umar (1993), Islam and Economic Development, Islamic Research Institute, Islamabad
2. Chapra, Umar (1979), "The Islamic welfare state and its role in the economy" in Ahmed and Ansari (1979), Islamic Perspective, p. 195-227, Saudi Publishing House, Jeddah
3. Kursheed Ahmed (1979), "Islamic Development in an Islamic Framewrok", in Ahmed and Ansari (1979), p. 223-240
4. Siddiqui Nijatullah (1996), Teaching Economics in Islamic Perspective, King Abdul Aziz University, Jeddah
5. Usmani Maulana Taqi (2002), An Introduction to Islamic Finance, The Hague Kluver Law International

6- مولانا تقی عثمانی (۱۹۹۳) ، اسلام اور جدید معیشت و تجارت، ادارۃ المعارف ، کراچی

۴۔ سوشل ڈیموکریٹ معیشت دانوں اور اسلامی ماہرین معاشیات کے خیالات میں مماثلت کے لیے دیکھئے: 

1. Giddens A. (1999), The Third Way: The Renewal of Social Democracy, Cambridge Polity
2. Sen, A.K. (2001), Development as Freedom, New Delhi Oxford University Press

۵۔ اسلامی معاشیات و بینکاری کے فریم ورک پر نظامیاتی نقطہ نگاہ سے تفصیلی تنقید کے لیے دیکھئے: 

1. Ansari, Javed Akbar (2004), Rejecting Freedom and Progress, chap 4, Jareeda (29), Karachi University Press
2. Ansari, Javed Akbar (2001), "Reading Islam aur Jadid Maeshat-o-Tijarat", Pakistan Business Review, Vol 2 (3), p. 3-17
3. Ansari, J. and Zeeshan Arshad (2007), "Conflicting Paradigms: Alternative Islamic Approaches to Business Ethics Discourse", Business Review, Vol 2 (2), July-December, p. 104-120

۶۔ امام غزالی رحمہ اللہ کی تعلیمات کے لیے دیکھئے: 

1- احیاء العلوم (اح): مترجم، مولانا ندیم الواجدی، دارالاشاعت کراچی

2- کیمیائے سعادت (ک): مترجم، محمد سعید الرحمن، مکتبہ رحمان لاہور

آراء و افکار