مقام عبرت (۱)

مولانا مفتی عبد الواحد

(’’حدود و تعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ پر تنقید و تبصرہ۔)


جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ ہمارے ملک کی ایک نامور علمی شخصیت ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کے صاحبزادے محمد عمار خاں ناصر صاحب نے ’’حدود تعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو پاکستان کے ایک مشہور متجدد (Modernist) جاوید احمد غامدی کے ادارے المورد نے شائع کی ہے۔ المورد کا اس کو شائع کرنا ہی حقیقت کی بہت کچھ غمازی کر دیتا ہے لیکن اندر کا مضمون تو دلی رنج و الم کا موجب ہے۔

ہم نے محمد عمار صاحب کی کتاب کے کچھ ہی حصہ پر تبصرہ کیا ہے لیکن یہ ان کے انداز فکر کی نوعیت اور اس کی غلطیوں کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ شاید محمد عمار صاحب اس کو ہماری اپنے بارے میں خوش فہمی پر محمول کریں لیکن ہم پھر بھی ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے نظریات کی خامیوں پر غور کریں گے اور بالآخر ان کو ترک کر کے سلف صالحین اور اہل حق کی راہ علم و عمل پر دوبارہ لگ جائیں گے ع

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

امید ہے کہ محمد عمار صاحب اپنے حق میں ہماری اس خیر خواہی کو قبول کریں گے اور ہمارے دلی رنج و الم کو جس کے وہ موجب بنے ہیں مسرت سے تبدیل کریں گے۔

مقدمہ

اس کتاب کے دیباچہ میں جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب نے دو باتیں تحریر فرمائی ہیں:

۱۔ اس دیباچہ میں مولانا زاہد الراشدی صاحب نے یہ ٹھیک لکھا ہے کہ ’’اسلامی قوانین و احکام کی تعبیر و تشریح کے لئے صحیح، قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنہ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی بہرحال پابندی کی جائے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۹)

اس کے ساتھ مولانا نے یہ بھی لکھا ہے:

’’آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لئے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم و جدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے مگر انہیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت قدامت پرستی اور تجدد پسندی کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے، میں ان کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتا ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو، کیونکہ اس دائرے سے آگے بہرحال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۳)

ہمیں مولانا مدظلہ کی اس پوری بات سے اتفاق ہے لیکن ایک عاجزانہ شکوہ بھی ہے کہ یہ دیکھنے کے باوجود کہ محمد عمار خان نے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعہ کے علمی مسلمات کے دائرے کو کئی جگہوں سے نہ صرف تجاوز کیا ہے بلکہ ان کو ہی مشکوک بنانے کے در پے ہیں لیکن پھر بھی گمراہی پر تنبیہ کرنے کے بجائے یہ فرماتے ہیں:

’’عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے اسی علمی کاوش کا سلسلہ آگے بڑھایا ہے اور زیادہ وسیع تناظر میں حدود و تعزیرات اور ان سے متعلقہ امور و مسائل پر بحث کی ہے۔۔۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے ہر پہلو سے اتفاق کیا جائے۔ البتہ اس علمی کاوش کا یہ حق ضرور بنتا ہے کہ اہل علم اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، بحث و مباحثہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے مثبت و منفی پہلوؤں پر اظہار خیال کریں اور جہاں کوئی غلطی محسوس کریں، اسے انسانی فطرت کا تقاضا تصور کرتے ہوئے علمی مواخذہ کا حق استعمال کریں تاکہ صحیح نتیجے تک پہنچنے میں ان کی معاونت بھی شامل ہو جائے۔ ‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۳)

ہمارا خیال ہے کہ مولانا مدظلہ بحیثیت ایک ماہر عالم کے بھی اور بحیثیت والد کے بھی ہم سے زیادہ بہتر پوزیشن میں تھے کہ اپنے عزیز کو اجماعی تعامل اور اہلسنت علمی مسلمات کے دائرے سے تجاوز کرنے سے روکتے۔ محمد عمار صاحب اہلسنت کے علمی مسلمات کے دائرے میں رہتے اور موجودہ تقاضوں کے ساتھ ان کی تطبیق میں جو اشکال پیش آتے وہ ان کو رفع کرنے کی کوشش کرتے تو یہ البتہ مثبت کام ہوتا اور دوسرے بھی ان سے تعاون کرتے۔

محمد عمار صاحب کی اس بات سے مخالفت

لیکن جب محمد عمار خان صاحب علمی مسلمات ہی کے توڑنے کے در پے ہو گئے تو دیگر اہل علم اپنی توانائیاں محمد عمار خان کی دستبرد سے ان مسلمات کو بچانے میں لگائیں گے۔ اس طرح سے توانائیاں در حقیقت منفی طور پر استعمال ہوں گی۔ 

دیکھئے امت کا اس پر اجماع رہا ہے کہ قتل خطا میں حکم سو اونٹ کی دیت ہے جو شرعی و ابدی ہے اور عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے اور شادی شدہ زانی کی حد رجم ہے۔ غرض ان پر امت کا اجماعی تعامل بھی ہے اور یہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے علمی مسلمات بھی ہیں۔ لیکن محمد عمار خان صاحب ان کا یا تو انکار کرتے ہیں یا ان میں تشکیک پیدا کرتے ہیں۔ پھر یہ گمراہی نہیں تو اور کیا ہے اور یہ بات انہوں نے ان لوگوں سے اخذ کی ہیں جو خود گمراہ ہیں اور اجماع کی مخالفت کرنے والوں میں نمایاں ہیں مثلاً امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی۔ ہمیں تو ایسے بے اصول لوگوں کو اہل علم میں سے شمار کرنے ہی میں تامل ہے لیکن محمد عمار خان صاحب ان کو اور ان ہی جیسے عمر احمد عثمانی کو نہ صرف معاصر اہل علم کے لقب سے ذکر کرتے ہیں بلکہ تحقیق کے نام پر ان ہی کی ترجمانی کو گویا انہوں نے اپنا مشن بنا لیا ہے۔ اور یہ تو چند مثالیں ہیں ورنہ تو خیال ہے کہ کتاب میں اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہوں گی۔

۲۔ مولانا مدظلہ نے یہ بھی ٹھیک لکھا ہے کہ 

’’اس پس منظر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذ شریعت اور اسلامی قوانین و احکام کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے مختلف اطراف میں جو کام ہو رہا ہے اس کے بارے میں کچھ اصولی گزارشات ضروری سمجھتا ہوں:
۱۔ صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد بنانا اور سنت رسول ا کو قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول اور خود قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔
۲۔ سنت رسول سے مراد وہی ہے جو امت مسلمہ چودہ سو سال سے اس کا مفہوم سمجھتی آ رہی ہے اور اس سے ہٹ کر سنت کا کوئی نیا مفہوم طے کرنا اور جمہور امت میں اب تک سنت کے متوارث طور پر چلے آنے والے مفہوم کو مسترد کر دینا بھی عملاً سنت کو اسلامی قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے۔
۳۔ ایک رجحان آج کل عام طور پر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ سنت مستقل ماخذ قانون نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ثانوی ہے اور قرآن کریم کے ساتھ اس کی مطابقت کی صورت میں ہی اسے احکام و قوانین کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بظاہر بہت خوبصورت بات ہے لیکن اس صورت میں اصل اتھارٹی سنت نہیں بلکہ مطابقت تسلیم کرنے یا نہ کرنے والے کا ذہن قرار پاتا ہے کہ وہ جس سنت کو قرآن کریم کے مطابق سمجھ لے وہ قانون کی بنیاد بن سکتی ہے اور جس سنت کو اس کا ذہن قرآن کریم کے مطابق قرار نہ دے، وہ احکام و قوانین کی بنیاد نہیں بن سکتی۔‘‘(حدود و تعزیرات ص ۱۰، ۱۱)

محمد عمار صاحب کی اس بات سے مخالفت

لیکن ہم افسوس کے ساتھ کہتے ہیں محمد عمار خان صاحب نے اس معیار کو بھی جابجا توڑا ہے جیسا کہ ہم عمار صاحب کی کچھ باتوں پر گرفت کے ضمن میں واضح کریں گے۔ علاوہ ازیں محمد عمار صاحب نے جن معاصر اہل علم کے حوالوں سے جابجا اپنی کتاب کو زینت بخشی ہے مثلاً امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی وغیرہ تو ان کے اصول و عمل سے کون واقف نہیں کہ سنت کا مطلب وہ اپنی مرضی کا بتاتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں سنت میں شمار کرتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں اس سے خارج کرتے ہیں اور اپنی تحقیق کے آگے اجماع امت کو پرکاہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ ہماری کتابیں تحفہ غامدی اور تحفہ اصلاحی ہماری بات پر واضح دلیل ہیں۔

پھر محمد عمار صاحب نے اپنی کتاب کی تمہید میں بعض باتیں ایسی کہی ہیں جو اسلاف پر سے اعتماد کو اٹھاتی ہیں۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:

’’اس تناظر میں اسلامی قانون کی تعبیر نو کا دائرہ کار اور بنیادی ہدف یہ ہونا چاہئے کہ وہ جدید قانونی فکر کے اٹھائے ہوئے سوالات کو لے کر دین کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن و سنت کی طرف رجوع کرے اور اس بات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ قرآن و سنت کی ہدایات و تصریحات سے یا ان کی متعین کردہ ترجیحات کی روشنی میں ان کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا جانا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ اسلامی قانون کی اطلاقی تعبیر کی جو روایت پہلے سے چلی آ رہی ہے اس کا جائزہ لینا بھی تعبیر نو کے اس عمل کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔۔۔۔ گویا تعبیر نو کا سوال در حقیقت اسلامی قانون کو جدید مغربی فکر کے سانچے میں ڈھالنے کا نہیں بلکہ جدید قانونی فکر کے اٹھائے ہوئے سوالات کو قرآن و سنت کے نصوص پر از سر نو غور کرنے کے لئے ایک ذریعے اور حوالے کے طور پر استعمال کرنے کا سوال ہے اور ہمارے نزدیک اس عمل میں اہل سنت کے اصولی علمی مسلمات اور فقہی منہج اور مزاج کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۷، ۱۸)

ہم کہتے ہیں : تعبیر نو سے محمد عمار صاحب کی مراد محض یہ نہیں ہے کہ سابق حکم و دلیل کو جدید الفاظ اور اسلوب میں بیان کر دیا جائے کیونکہ اس کے لئے بنیادی مآخذ کی طرف رجوع کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہے قرآن و سنت کی نصوص میں جو اور احتمال نکلتے ہیں یا نکل سکتے ہیں یا ہیر پھیر کرکے نکالے جا سکتے ہیں ان میں سے کسی کو لے لیا جائے اگرچہ اس عمل سے امت کا اجماع ٹوٹتا رہے لیکن عمار صاحب کو اتنا اطمینان ہے کہ نسبت قرآن و سنت کی طرف رہے گی۔ محمد عمار صاحب کی عبارت کا حاصل یہی ہے جو ان کے عمل سے بھی ثابت ہے باقی تو ان کے الفاظ کی بازیگری ہے۔

ہم نے جو یہ بات ذکر کی یہ محض اٹکل نہیں ہے بلکہ محمد عمار صاحب نے اجماع امت کو اور ائمہ مجتہدین کے اجتہاد کو مشکوک بنانے میں جو صفحات سیاہ کئے ہیں ان کو ملاحظہ فرما لیجئے۔

محمد عمار صاحب اجماع امت کے ثبوت کو مشکوک بناتے ہیں

محمد عمارصاحب لکھتے ہیں:

’’ہماری رائے میں نصوص کی تعبیر و تشریح میں اختلاف اور تنوع کی گنجائش جس قدر اسلام کے صدر اول میں تھی، آج بھی ہے اور سابقہ ادوار میں مخصوص علمی تناظر میں مخصوص نتائج کو حاصل ہونے والا قبول و رواج اس گنجائش کو محدود کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس نکتے کا وزن اس تناظر میں مزید نمایاں ہو جاتا ہے کہ مدون علمی ذخیرہ گزشتہ چودہ سو سال میں ہر دور اور ہر علاقے کے اہل علم تو کیا، صدر اول کے علماء و فقہا کے علمی رجحانات اور آرا کا بھی پوری طرح احاطہ نہیں کرتا۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ علم و فکر سے اشتغال رکھنے اور علمی مسائل پر غور کرنے والے اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جو نہ تو خود اپنے نتائج فکر کو تحریری صورت میں محفوظ کرنے کا اہتمام کرتی ہے اور نہ سب اہل علم کو ایسے تلامذہ ور فقا میسر آتے ہیں جو ان کے غور و فکر کے حاصلات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا اہتمام کریں۔ چنانچہ صحابہ میں سے علم وتفقہ کے اعتبار سے خلفائے راشدین، سیدہ عائشہ، معاذ بن جبل، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود، سیدنا معاویہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم نہایت ممتاز ہیں اور یہ حضرات عملی مسائل کے حوالے سے راے دینے کے علاوہ قرآن مجید کو بھی خاص طور پر اپنے تفکر و تدبر کا موضوع بنائے رکھتے تھے، تاہم تفسیری ذخیرے میں ہمیں ابن عباس اور ابن مسعود کے علاوہ دیگر صحابہ کے اقوال و آرا کا ذکر شاذ ہی ملتا ہے۔
صحابہ کے دور کے جو فتاویٰ اور واقعات ہم تک پہنچے ہیں، ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو اس وقت کے معروف علمی مراکز میں پیش آئے یا جن کی اطلاع مخصوص اسباب کے تحت وہاں تک پہنچ گئی اور آثار و روایات کی صورت میں ان کی حفاظت کا بندوبست ممکن ہو سکا۔ ان کے علاوہ مملکت کے دور دراز اطراف مثلاً یمن، بحرین اور مصر وغیرہ میں کئے جانے والے فیصلوں کی تدوین سرکاری سطح پر بھی نہیں کی گئی اور مکہ، مدینہ، کوفہ اور دمشق کی نمایاں تر علمی حیثیت کے تناظر میں اہل علم نجی طور پر بھی نسبتاً کم اہمیت کے حامل ان علاقوں کے علمی آثار کی حفاظت و تدوین کی طرف متوجہ نہ ہو سکے۔ بعد میں مستقل اور باقاعدہ فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے تو صحابہ و تابعین کی آرا و اجتہادات کا جو کچھ ذخیرہ محفوظ رہ گیا تھا، اس کو مزید چھلنی سے گزارا گیا۔ اس طرح مدون فقہی ذخیرہ سلف کے علم و تحقیق کو پوری طرح اپنے اندر سمونے اور اس کی وسعتوں اور تنوعات کی عکاسی کرنے کے بجائے عملاً ایک مخصوص دور کے ترجیح و انتخاب کا نمائندہ بن کر رہ گیا ہے۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مذاہب اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کی نسبت سید نا عمر کی فقہ کے ساتھ وہی ہے جو مجتہد منتسب کو مجتہد مطلق کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ چاروں فقہی مذاہب در حقیقت سید نا عمر ہی کی آرا اور اجتہادات کی تفصیل پر مبنی ہیں۔ (ازالۃ الخفاء ۲/۸۵)۔ شاہ صاحب کے اس تجزیے میں بڑا وزن ہے، تاہم یہ دیکھیے کہ خود سیدنا عمر کی بعض نہایت اہم آرا ان چاروں فقہی مذاہب میں کوئی جگہ نہیں پا سکیں ۔ مثال کے طور پر سیدنا عمر بعض آثار کے مطابق غیر مسلم کو زکوۃ دینے کے جواز کے قائل تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۰۴۰۶ ابو یوسف کتاب الخراج ۱۳۶) ان کے نزدیک مرتد ہونے والے شخص کو ہر حال میں قتل کر دینا ضروری نہیں تھا اور وہ اس کے لئے قید وغیرہ کی متبادل سزا کا امکان تسلیم کرتے تھے۔ (مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۸۶۹۶۔ بیہقی، السنن الکبری، رقم ۱۶۶۶۵) ان کی رائے یہ تھی کہ اگر کسی یہودی یا نصرانی کی بیوی مسلمان ہو جائے اور خاوند اپنے مذہب پر قائم رہے تو دونوں میں تفریق ہر حال میں ضروری نہیں اور سابقہ نکاح کے برقرار رکھے جانے کی گنجائش موجود ہے۔(مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۰۰۸۱،۱۰۰۸۳) یہ اور ان کے علاوہ بہت سی آرا ایسی ہیں جنہیں مذاہب اربعہ میں کوئی نمائندگی میسر نہیں آ سکی۔
اس ضمن میں ایک حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عام علمی روایت میں اہل سنت کے دو جلیل القدر فقیہوں، امام جعفر صادق اور امام زید بن علی کی آرا و اجتہادات کو جو باقاعدہ مدون صورت میں موجود ہیں اور ان کی نسبت سے دو مستقل فقہی مکتب فکر امت میں پائے جاتے ہیں، قریب قریب کلی طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور ان سے استفادے کا دائرہ محض اس وجہ سے محدود ہو گیا ہے کہ ان ائمہ کی فقہوں کی پیروی اختیار کرنے والے مکاتب فکر بعض کلامی اور سیاسی نظریات کے حوالے سے اہل سنت کے عمومی رجحانات سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ امام ابو حنیفہ یا امام مالک کی آرا کو ابتدائی قبولیت اسی طرح کے کسی گروہ کے ہاں حاصل ہوئی ہوتی تو آج ان کی فقہی بصیرت سے روشنی حاصل کرنے کا دروازہ بھی ہمارے لئے بند ہوتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ائمہ اہل بیت کے فقہی رجحانات کی نمائندگی جس خصوصیت کے ساتھ امام جعفر صادق اور امام زید بن علی کی فقہوں میں ہوئی ہے، عام فقہی مکاتب فکر میں جن کے اخذ و استفادہ کا دائرہ دوسرے فقہاے صحابہ و تابعین تک وسیع ہے، نہیں ہو سکی اور اس تناظر میں اس ذخیرے سے صرف نظر کرنے کا رویہ زیادہ ناقابل فہم اور ناقابل دفاع قرار پاتا ہے۔
سابقہ علمی روایات کے ظاہری نتائج اور حاصلات کو حتمی قرار دینے کا رویہ بالخصوص فقہ اور قانون کے میدان میں اس وجہ سے بھی قبول نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ذخیرہ اپنے ماخذ کے اعتبار سے فقہاے صحابہ و تابعین کی آرا اور فتاویٰ کی توضیح و تفصیل اور ان پر تفریع سے عبارت ہے اور ظاہر ہے کہ ان آرا اور فتاویٰ کا ایک مخصوص عملی پس منظر تھا جس سے مجرد کر کے ان کی درست تفہیم ممکن نہیں، جب کہ صدر اول کے ان اہل علم کی آرا کے حوالے سے جو مواد جس صورت میں ہم تک نقل ہوا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا کہ صحابہ اور تابعین نے کون سی متعین رائے کسی استدلال کی بنیاد پر اختیار کی تھی، بالعموم ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے بغیر یہ طے کرنا بھی ممکن نہیں کہ مختلف نصوص یا احکام کے حوالے سے ان کی جو آرا بیان ہوئی ہیں، وہ آیا درپیش عملی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ’اطلاقی تعبیر‘ کے طور پر پیش کی گئی تھیں یا ان میں اطلاقی صورت حال سے مجرد ہو کر نصوص کی کوئی ایسی تعبیر سامنے لانا پیش نظر تھا جو ان کی رائے میں جملہ اطلاقی امکانات کو محیط تھی۔ 
یہی صورت حال مدون فقہی مکاتب فکر کی ہے۔ چنانچہ امام شافعی کے علاوہ، جن کی آرا بڑی حد تک خود ان کے اپنے بیان کردہ استدلال کے ساتھ میسر ہیں۔ باقی تینوں ائمہ کے طرز استدلال کے حولاے سے چند عمومی رجحانات کی نشان دہی کے علاوہ جزوی مسائل میں ان کی آرا کے ماخذ اور مقدمات استدلال کی تعیین کے ضمن میں تیقن سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مخصوص احکام کی تعبیر و توجیہ اور ان کے ماخذ استدلال کے حوالے سے ان ائمہ کی رائے اور منشا متعین کرنے کے باب میں ان مکاتب فکر میں اخلاف، تنوع اور وسعت کی ایک پوری دنیا آباد ہے، لیکن علماء کے روایتی حلقے میں اس ساری صورت حال سے صرف نظر کرتے ہوئے مدون فقہی ذخیرے میں بیان ہونے والے ’نتائج‘ کو اجتہاد کے عمل میں اصل اور اساس کی حیثیت دے دی جاتی ہے، جب کہ ان نتائج کے پس منظر میں موجود استدلالی زاویۂ نگاہ کے مختلف امکانات و مضمرات اور ان عملی عوامل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو ان کی تشکیل پر اثر انداز ہوئے ہیں۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۲۰-۲۳)

ہم کہتے ہیں: محمد عمار صاحب نے امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی آراء و اجتہادات کو جو شیعوں کے ذریعہ سے پہنچے ہیں ان سے صرف نظر کرنے کو ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ اس پر ان سے یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ تاریخ کے حوالوں سے ہی بتائیں کہ سند کے اعتبار سے شیعوں کی کتابوں میں منقول ان کے اقوال کس حد تک قابل اعتماد ہیں۔

محمد عمار صاحب مجتہدین کے اجتہاد کو مشکوک بناتے ہیں

لکھتے ہیں:

’’اس ساری طول بیانی کا مقصد اس نکتے کو واضح کرنا ہے کہ مدون فقہی و تفسیری ذخیرہ ان آرا کی نمائندگی تو یقیناًکرتا ہے جنہیں ہماری علمی تاریخ کے ایک مخصوص دور میں امت کے نہایت جلیل القدر اہل علم نے اختیار کیا اور جنہیں مختلف سیاسی و سماجی عوامل کے تحت ایک عمومی شیوع حاصل ہو گیا، تاہم یہ ذخیرہ کسی طرح بھی قرآن و سنت کے نصوص کی تعبیر کے جملہ علمی امکانات کا احاطہ نہیں کرتا۔ اس پس منظر میں ہم پوری دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے امکانات کو مدون ذخیرے کی تنگ نائے میں محدود کر دینا کسی طرح درست نہیں ہے اور قدیم و جدید زمانوں میں مختلف فکری و عملی اثرات کے تحت وجود میں آنے والی تعبیرات کی قدرو قیمت کو خود نصوص کی روشنی میں پرکھنا اور اس طرح قانون سازی کا ماخذ زمان و مکان میں محدود اطلاقی و عملی روایت کو نہیں، بلکہ براہ راست نصوص کو قرار دینا تجدید و اجتہاد کا ایک لازمی تقاضا ہے۔
ہمارے نزدیک دور جدید میں اسلام کی علمی روایت کے احیا کے لیے قرآن و سنت پر براہ راست غور و تدبر کی ضرورت اور تفسیری، کلامی اور فقہی استنباطات و تعبیرات کا از سر نو جائزہ لینے کے امکان کو تسلیم کرنا بنیادی شرط (Pre-requisite) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ چیز بذات خود ہماری علمی روایات کا حصہ ہے، کیونکہ وہ کوئی جامد اور بے لچک روایت نہیں، بلکہ صدیوں کے علمی و فکری ارتقا کا نتیجہ اور توسع اور تنوع کا مظہر ہے۔ ہم اس علمی روایت کا اصل ترجمان ابن حزم، رازی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، انور شاہ کشمیری اور حمید الدین فراہی رحمہم اللہ جیسے اکابر کو سمجھتے ہیں جو اصولی علمی منہج کے دائرے میں رہتے ہوئے سابقہ آرا و تعبیرات پر سوالات و اشکالات بھی اٹھاتے ہیں اور جہاں اطمینان نہ ہو، نصوص کے براہ راست مطالعہ کی بنیاد پر متبادل تعبیرات بھی پیش کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم مخصوص نتائج فکر اور آرا و تعبیرات کو نہیں بلکہ اس مزاج اور شرعی نصوص اور احکام کی تعبیر کے اس اصولی منہج کو معیار سمجھتے ہیں جو اہل سنت کے ان ائمہ اور اکابر نے اختیار کیا ہے۔ بعض مخصوص اور متعین تعبیرات کو معیار قرار دینا کسی فرقے یا گروہ کے امتیاز کے لیے تو مفید ہو سکتا ہے لیکن یہ طریقہ اہل سنت کی مجموعی علمی روایت کو اپنی گرفت میں لینے سے پہلے بھی ہمیشہ قاصر رہا ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ قاصر ہی رہے گا۔ ‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۲۳، ۲۴)

تنبیہ:

بدلتے حالات میں اور نئے مسائل کے سامنے آنے میں ہم بھی اجتہاد اور غور و فکر کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن ائمہ مجتہدین کے متعین کردہ اصول و قواعد کی روشنی میں۔ اور اس کے اہل بھی وہ لوگ ہیں جو فقہ و اصول فقہ میں تبحر کے حامل ہوں اور صحیح فکر رکھنے والے ہوں۔ محمد عمار صاحب یہ منصب جاوید احمد غامدی، عمر احمد عثمانی اور امین احسن اصلاحی اور خود اپنے آپ کو بھی دینے کو تیار ہیں اور صرف اتنا ہی منصب نہیں بلکہ جیسا کہ ان کی مذکورہ بالا عبارتیں بتاتی ہیں، وہ ان کہ اجتہاد مطلق کے درجے میں بھی بٹھانے پر تیار ہیں۔ 

محمد عمار صاحب اور دیت کی بحث

محمد عمار خان صاحب دیت کی بحث کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’قرآن مجید میں قتل عمد میں قصاص کی معافی کی صورت میں، جب کہ قتل خطا میں مطلقاً مقتول کے ورثا کو دیت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے اس کی مقدار سو اونٹ مقرر فرمائی۔ روایات سے ثابت ہے کہ دیت کی یہی مقدار اہل عرب میں پہلے سے ایک دستور کی حیثیت سے رائج چلی آ رہی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اسی کو برقرار رکھا۔ کلاسیکی فقہی موقف میں رسول اللہ ﷺ کی اس تقریر و تصویب کو شرعی حکم کی حیثیت دی گئی اور دیت کے باب میں سو اونٹوں ہی کو ایک ابدی معیار تسلیم کیا گیا ہے، تاہم بعض معاصر اہل علم یہ رائے رکھتے ہیں کہ نبی ﷺ کا یہ فیصلہ تشریعی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ آپ نے عرب معاشرے میں دیت کی پہلے سے رائج مقدار کو بطور قانون نافذ فرما دیا تھا اور زمانہ اور حالات کے تغیر کے تناظر میں دیت کے اصل مقصد کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے مختلف قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے۔‘‘ (ص ۸۹)

اس تعارف کے بعد آپ محمد عمار صاحب کا دیت پر پورا مضمون پڑھ جایئے، آپ کو معلوم ہو گا کہ انہوں نے بزعم خویش ان بعض معاصر اہل علم کی رائے کو جو کہ خود ان کی تصریح کے مطابق جاوید احمد غامدی، احمد عمر عثمانی اور امین احسن اصلاحی ہیں فقہا کی رائے بلکہ ان کے اجماع پر بھی ترجیح دینے کو اپنا اصل مقصد بنایا ہے۔ اور حق یہ ہے کہ محمد عمار صاحب نے ان انتہائی بے اصولے لوگوں کی وکالت کا حق ادا کر دیا ہے۔

عمار صاحب اپنی کارروائی شروع کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر لکھتے ہیں:

’’جہاں نبی ﷺ کے قول و فعل اور تصویب سے ثابت بہت سے احکام ابدی تشریع کی حیثیت رکھتے ہیں وہاں ان کی ایسی قسم بھی موجود ہے جو اصلا قضا اور سیاسہ کے دائرے میں آتی ہیں اور جن میں زمان و مکان کے تغیر سے تبدیلی ممکن ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۹۰)

پھر عمار صاحب دوسرے مقدمہ کے طور پر یوں لکھتے ہیں:

’’اہل علم کے مابین بعض مخصوص احکام کے حوالے سے یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ان کو پہلی قسم کے دائرے میں رکھا جائے یا دوسری قسم کے۔ ظاہر ہے کہ فریقین اپنے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں نصوص اور عقل و قیاس پر مبنی قرائن و شواہد پیش کرتے ہیں۔‘‘

تنبیہ:

فریقین میں سے ایک فریق تو عمار صاحب کے بقول کلاسیکی فقہاء کا ہے اور دوسرا فریق امین احسن اصلاحی، جاوید احمد غامدی اور احمد عمر عثمانی پر مشتمل ہے۔ عمار صاحب اسی دوسرے فریق کے وکیل خاص بنے ہیں اور ان ہی کے حق میں سارے مسئلے کو پھیرنے کے درپے ہیں۔ اسی لیے اگرچہ وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ فقہاء کا دیت کی مقدار کے شرعی ہونے پر اتفاق ہے:

’’فقہاء کا عمومی زاویہ نگاہ یہ ہے کہ سورہ نساء کی آیت ۹۲ میں قتل خطا کے احکام بیان کرتے ہوئے دیۃ مسلمۃ الی اہلہ (قاتل پر دیت لازم ہو گی جو مقتول کے اہل خانہ کو ادا کی جائے گی) کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ مجمل ہیں اور اپنی مقدار کی تعیین کے لئے تبیین کے محتاج ہیں جو نبی ﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعے سے فرما دی ہے۔
جصاص نے اس آیت میں دیۃ کو مجمل اور محتاج بیان ماننے کے بجائے یہ رائے اختیار کی ہے کہ دیت کا لفظ اپنے مفہوم اور مقدار کے اعتبار سے قرآن کے مخاطبین کے لئے پہلے سے واضح اور معروف تھا اور جب قرآن مجید نے قتل خطا کی صورت میں دیت ادا کرنے کا حکم دیا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اہل عرب کے ہاں دیت کی جو بھی مقدار معروف ہے اس کی پیروی کی جائے۔
پہلی رائے کی رو سے نبی ﷺ نے اصول فقہ کی اصطلاح میں ابتداء تشریع کرتے ہوئے دیت کی مقدار مقرر فرمائی، جب کہ دوسری رائے کے مطابق آپ نے اہل عرب کے پہلے سے رائج معروف کی تصویب فرما کر اسے شرعی حیثیت دے دی۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۹۰)

لیکن محمد عمار صاحب فقہاء کے اس اتفاق و اجماع کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر اول تو ایسے بن گئے جیسے کہ وہ اجماع ہی نہ ہو حالانکہ ابن المنذر (م۳۱۸ ھ) اپنی کتاب الاجماع میں صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ 

اجمعوا علی ان دیۃ الرجل ماءۃ من الابل۔ (ص ۱۳۷)
(فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ مرد کی دیت سو اونٹ ہے)

اور پھر جو کچھ ہاتھ آیا، اس کے ساتھ فقہاء کے قول کے زور کو توڑنے میں لگ گئے مثلاً:

i- حج میں بحالت عذر قبل از وقت سر منڈوانے کا حکم

ii- احرام کی حالت میں کسی جانور کو شکار کرنے کا حکم 

اور اس کے بعد عمار صاحب یہ سمجھاتے ہیں:

’’ان مثالوں سے اس اصولی سوال کی جانب توجہ دلانا مقصود ہے کہ اگر شرعی نصوص میں اس طرح کے اسلوب میں مجمل لفظ کا کوئی متعین مصداق متکلم کے پیش نظر ہو تو اس کی وضاحت ہر جگہ عقلاً شارع کی ذمہ داری ہے۔۔۔ لیکن عملاً بعض معاملات میں شارع کی طرف سے وضاحت میسر ہے اور بعض میں نہیں۔ اس کا مطلب:
i-  کیا یہ سمجھا جائے کہ جہاں جہاں اس کی صراحت موجود ہے وہاں تو تعیین ہی شارع کا منشاء ہے جب کہ عقل و قیاس یا عرف کی طرف رجوع شارع کی طرف سے کوئی صراحت موجود نہ ہونے کی صورت میں ہی کیا جائے گا۔
ii-  یا اس کے برعکس یہ تصور کیا جائے کہ قرآن مجید میں کسی تحدید اور تعیین کے بغیر وارد ہونے والے حکم میں شارع کا اصل منشا عدم تعیین ہی ہے، جبکہ اس حکم پر عمل کے لئے نبی ﷺ کا اختیار یا تجویز کر دہ کوئی مخصوص طریقہ مختلف امکانی صورتوں میں سے ایک صورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر امکانات کے لئے بھی گنجائش موجود ہے۔‘‘ (ص ۹۳)

محمد عمار صاحب کی یہ عبارت انتہائی خطرناک غلطیوں پر مشتمل ہے۔

پہلی غلطی:

اس میں انہوں نے سنت کی تشریعی حیثیت کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے کیونکہ ان کے کہے کا حاصل یہ ہے کہ قران مجمل کی تعیین کر دے تو وہ تو شارع کی اپنی مطلوبہ مقدار ہے، بصورت دیگر تعیین اگر حدیث میں ملے تو وہ عرف کی وجہ سے ایک امکانی صورت ہے جو زمان و مکان کی تبدیلی سے دیگر ممکنہ صورتوں میں بدل سکتی ہے حالانکہ خود محمد عمار صاحب نے اپنی کتاب کے ص ۹۸پر یہ حدیث ذکر کی ہے۔

عبداللہ بن عمرو بن العاص ص سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا

من قتل خطأ فدیتہ من الابل
جو شخص خطا سے قتل ہو جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے۔ (نسائی، رقم ۴۷۱۹)

اور اس حدیث میں ’من‘ عموم کا کلمہ ہے جو زمان و مکان کی قید سے خالی ہے لہٰذا یہ حکم ہر زمان و مکان کے لئے ہو گا۔

دوسری غلطی:

محمد عمار صاحب نے منکرین حدیث کی سی بات کہی ہے۔ منکرین حدیث جو مرکز ملت کا فلسفہ بتاتے ہیں ان کی بات کا حاصل بھی تو یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانے کے حالات کے اعتبار سے تحدید و تعیین کی ایک امکانی صورت کو اختیار کیا اور آئندہ زمانوں میں ہر مرکز ملت اپنے حالات کو سامنے رکھ کر کسی دوسری امکانی صورت کو اختیار کر سکتا ہے۔ محمد عمار صاحب کی یہ بھی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ قرآن پاک یہ اعلان کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اجتہاد بھی رسول کی حیثیت سے تھے اور وحی کا درجہ رکھتے تھے۔

مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھَا کُمْ عَنْہُ فَاَنْتَھُوْا۔ (سورہ حشر: ۷)
جو دے تم کو رسول لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو۔

دیکھئے اس آیت میں خطاب صرف صحابہ سے مراد نہیں ہے بلکہ پوری امت مسلمہ سے ہے اور کہا کہ رسول جو کچھ تم کو حکم دیں اس کو لو۔ معلوم ہوا کہ رسول اپنے اجتہاد سے بھی جو حکم دیتے ہیں وہ رسول کی حیثیت سے دیتے ہیں اور پوری امت مسلمہ کے لئے اس کو اختیار کرنا لازمی ہے۔

تیسری غلطی:

یہ بھی علمی مسلمات میں سے ہے کہ مقاد یر میں عقل و قیاس کی کارفرمائی نہیں چلتی لیکن محمد عمار صاحب اس ضابطہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور یہاں منکرین حدیث سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اس کو بھی ممکن مانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی تحدید و تعیین کے برخلاف آپ ا کی زندگی ہی میں ایک شخص اپنی علیحدہ تحدید و تعیین کر سکتا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر محمد عمار صاحب کی یہ عبارت پڑھئے:

’’آیت حج میں بحالت عذر قبل از وقت سر منڈوا لینے کی صورت میں روزے، صدقہ یا قربانی کا کفارہ عائد کیا گیا ہے: فَفِدْیَہٌ مِنْ صِیَامٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْنُسُکٍ لیکن روزوں کی تعداد یا صدقے کی مقدار بیان نہیں کی گئی۔ نبی ﷺ نے کعب بن عجرہ کو یہ صورت حال در پیش ہونے پر تین روزے رکھنے یا تین صاع غلہ چھ مسکینوں میں بانٹ دینے یا ایک بکری قربان کرنے کی ہدایت کی تھی۔ جمہور فقہاء کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتا ہے اور شرعی طور پر اس کی پابندی لازم ہے۔ تاہم سعید بن جبیر، علقمہ، حسن بصری، نافع اور عکرمہ جیسے کبار تابعین سے اس صورت میں دس روزے رکھنے یا دس مسکینوں کو فی کس دو مکوک صدقہ دینے کا فتویٰ مروی ہے۔ یہ فتوی ظاہر ہے کہ رائے اور قیاس پر مبنی ہے اور اگر کعب بن عجرہ کی روایت، جس میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں تین روزے رکھنے یا چھ مسکینوں میں تین صاع غلہ تقسیم کرنے کا حکم دیا ان حضرات کے پیش نظر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو تشریع پر محمول نہیں کرتے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۹۱)

ہم کہتے ہیں: ان حضرات کا یہ اصول کہیں نہیں ملتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تحدید و تعیین کو تشریع پر محمول نہ کئے جانے کے جواز کے قائل ہیں بلکہ فقہاء سے عام طور سے یہ ملتا ہے کہ اگر ہمارے قیاس کے خلاف حدیث مل جائے تو ہماری بات دیوار پر دے مارو۔غرض محمد عمار صاحب کی یہ انتہائی خطرناک باتیں ہیں لیکن وہ ہیں کہ اپنی اختیار کردہ راہ پر اندھا دھند چلتے چلے جا رہے ہیں اور ان کو نتائج و عواقب کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔

جصاص رحمہ اللہ پر اعتراض اور اس کا جواب

رہی جصاص رحمہ اللہ کی بات تو محمد عمار صاحب اس کو یوں توڑتے ہیں:

’’جصاص کی یہ بات کہ دیۃ کا لفظ اپنے مفہوم اور مصداق کے اعتبار سے اس مخصوص مقدار پر دلالت کرتا ہے جو قرآن مجید کے مخاطبین کے نزدیک معروف تھی، عربیت کی رو سے قابل اشکال ہے۔ یہ بات اس کے لغوی مفہوم، یعنی وہ مال جو خوں بہا کے طور پر ادا کیا جائے، کی حد تک درست ہے لیکن اگر اس کی اس مخصوص مقدار کی طرف اشارہ پیش نظر ہوتا جو مخاطب کے نزدیک معروف تھی تو عربیت کی رو سے لفظ دیۃ کو معرف باللام ہونا چاہئے تھا کیونکہ اسم نکرہ کسی لفظ کے سادہ لغوی مفہوم سے بڑھ کر اس کے کسی مخصوص و متعین مصداق پر دلالت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ چنانچہ قرآن مجید کا یہاں لفظ دیۃ کو نکرہ لانا در حقیقت اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس کی کسی مخصوص مقدار کی تعیین یا اس کی طرف اشارہ سرے سے اس کے پیش نظر ہی نہیں ہے۔‘‘ (ص ۹۳، ۹۴)

ہم کہتے ہیں: محمد عمار صاحب کا جصاص رحمہ اللہ پر اعتراض بے بنیاد ہے کیونکہ:

۱۔ نکرہ کبھی تعظیم کے لئے ہوتا ہے اس لیے دیۃ سے مراد ہے وہ بڑی اور عظیم رقم جو خون بہا کے طور پر دی جائے اور چونکہ وہ رقم معاشرے میں متعین اور مروج تھی اس لیے جصاص رحمہ اللہ نے اس کو متعین مقدار سے تعبیر کیا۔

۲۔ عرب معاشرے میں دیت کی صرف ایک مقدار متعین نہیں تھی بلکہ مردوں کی علیحدہ مقدار تھی اور عورتوں کی علیحدہ مقدار تھی۔ دیت کی مقدار معلوم ہونے کے باوجود چونکہ اس میں تعدد تھا اس لیے دیۃ کو نکرہ لائے۔

محمد عمار صاحب اور عورت کی دیت

عورت کی دیت کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:

’’فقہاء کم و بیش اس بات پر متفق ہیں کہ عورت قصاص کے معاملے میں تو مرد کے مساوی ہے لیکن اس کی دیت مرد کی دیت کے برابر نہیں۔ اس باب میں فقہا کے موقف کی بنیاد اصلاً صحابہ اور تابعین سے منقول فیصلوں پر ہے۔‘‘ (ص ۹۸)

اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ فقہا کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے اور واقعتہً ایسا ہی ہے اور ابن المنذر بھی اپنی کتاب الاجماع میں لکھتے ہیں:

واجمعوا ان دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل۔
فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔

لیکن محمد عمار صاحب یہاں بھی اجماع امت اور اہلسنت کے علمی مسلمہ کے دائرے کو کراس کرنے کے لئے خود اس علمی مسلمہ اور اجماع میں شک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

’’تاہم خود صحابہ اور تابعین کے اس موقف کا ماخذ کیا ہے؟ یہ ایک نازک سوال ہے، اس لیے کہ جہاں تک قرآن مجید اور صحیح احادیث کا تعلق ہے تو ان میں مرد اور عورت کی دیت میں فرق کا کوئی ذکر نہیں۔ قرآن مجید میں تو دیت کی مقدار سرے سے زیر بحث ہی نہیں آئی جب کہ نبی ﷺ سے منقول مستند ارشادات یا فیصلوں میں کہیں بھی مرد اور عورت کی دیت کے مابین تفریق نہیں کی گئی بلکہ ہر جگہ کسی فرق کے بغیر انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہی بیان کی گئی ہے۔‘‘ (ص۹۸)
’’اس باب میں نبی ﷺ کی طرف منسوب کی جانے والی روایات سب کی سب ضعیف ہیں‘‘۔ (ص ۱۰۰)

ہم کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث ضعیف بھی ہوں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ صحابہؓ سے عورت کے لئے صرف نصف دیت ہی کا فیصلہ کیوں ثابت ہے اور ان میں کوئی اختلاف کیوں نہیں ہوا۔ کیا اس وقت کے عربوں میں عورت کی دیت نصف ہونے کا رواج تھا یا انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سنا تھا یا سب کا قیاس اسی نتیجہ تک پہنچا ؟

محمد عمار صاحب کے سامنے بھی یہ سوال ہے۔ وہ اس کا جو جواب دیتے ہیں پہلے وہ ملاحظہ فرمایئے اور اس کی خطرناکیوں کا اندازہ کیجئے۔ محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:

’’بہرحال نبی ﷺ کے مستند ارشادات میں مرد اور عورت کی دیت میں فرق کی کوئی بنیاد موجود نہ ہونے کی صورت میں غور طلب سوال یہ سامنے آتا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے ہاں اس تصور کی اساس کیا ہے ؟ اگر اس کی جڑیں اہل عرب کے مخصوص معاشرتی تصورات میں پیوست ہیں تو پھر یہ بحث ایک دوسری اہم تر اور زیادہ گہری بحث سے متعلق ہو جاتی ہے۔ دیت کو مقتول کے قتل سے لاحق ہونے والے معاشی نقصان کا بدل مانا جائے یا قاتل کے لیے جرمانہ اور تاوان، دونوں صورتوں میں عورت کی دیت آد ھی مقرر کرنے کے پس منظر میں اس کی جان کی قیمت کے مرد سے کم تر ہونے کا تصور کار فرما ہے۔ اگر قرآن نے اس تصور کی تائید نہیں کی اور نبی ﷺ نے بھی اس کو سند جواز عطا نہیں کی تو اس پر مبنی ایک قانون کو چاہے وہ اہل عرب کے معروف اور دستور ہی کی صورت کیوں نہ اختیار کر چکا ہو، صحابہ اور تابعین کے ہاں کیوں پذیرائی حاصل ہوئی؟ کیا اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ عورت کے بارے میں جاہلی معاشرت کے بہت سے تصورات اور رسوم کی اصلاح کر دی گئی، تاہم بعض تصورات۔۔۔ جن میں عورت کی جان کی حرمت اور قدر و قیمت کے حوالے سے زیر بحث تصور بھی شامل ہے۔ کی اصلاح کی کوششیں نتیجہ خیز اور موثر نہ ہو سکیں اور صحابہ و تابعین کو معروضی معاشرتی تناظر میں ایسے قوانین تجویز کرنا پڑے جن میں انہی سابقہ تصورات کی عملی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہو ؟ معروضی تصورات اور حالات کی رعایت کا اصول بجائے خود درست، حکیمانہ اور نصوص سے ماخوذ ہے، لیکن اس صورت میں فقہی اجتہادات میں ایک ’مسلمہ‘ کی حیثیت سے مانے جانے والے اس تصور پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے کہ منصوص احکام کے ساتھ ساتھ مستنبط اور اجتہادی قوانین و احکام کی وہ عملی صورت بھی جو تاریخ اسلام کے صدر اول میں اختیار کی گئی، مذہبی زاویۂ نگاہ سے ایک آئیڈیل اور معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۰۴، ۱۰۵)

ہم کہتے ہیں: اب مندرجہ بالا عبارت کی خطرناکیوں کو شمار کیجئے۔

پہلی خطرناکی:

محمد عمار صاحب نے اس بات کو توجہ کے قابل ہی نہیں سمجھا کہ صحابہؓ نے نبی ﷺ سے عورت کی دیت کے بارے میں کچھ سنا ہو گا حالانکہ اصول فقہ اور اصول حدیث کا یہ قاعدہ و ضابطہ ہے کہ مقادیر محل اجتہاد نہیں ہیں اور یہ محض سماع پر مبنی ہیں اور ایسے میں موقوف حدیث بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔

دوسری خطرناکی:

i- نبی ﷺ سے صحابہ کے سننے کو عمار صاحب نے اس وجہ سے بھی ناقابل التفات سمجھا ہے کہ آپ ا کی طرف عورت کی دیت سے متعلق منسوب حدیثیں سب ضعیف ہیں۔ عمار صاحب کے ذہن میں یہ ہو گا کہ صحابہ نے نبی ﷺ سے جب کچھ سنا ہی نہیں تو یہ حدیثیں صحابہ اور تابعین کے دور کے بعد گھڑی گئی ہوں گی۔ محمد عمار صاحب تصریح تو یہ کرتے ہیں کہ یہ حدیثیں ضعیف ہیں لیکن ان کی بات کو لازم یہ ہے کہ یہ حدیثیں محض ضعیف نہیں بلکہ موضوع اور بناوٹی ہیں۔ حالانکہ ایک دوسرے زاویہ سے دیکھیں تو یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ صحابہ و تابعین کا عمل ان ضعیف حدیثوں کو تقویت دیتا ہے۔ محمد عمار صاحب کے ممدوح احمد عمر عثمانی کے والد گرامی مولانا ظفر احمد تھانویؒ لکھتے ہیں۔

قد یحکم للحدیث بالصحۃ اذا تلقاہ الناس بالقبول و ان لم یکن لہ اسناد صحیح (مقدمہ اعلاء السنن ص ۳۹ ج ۱)
والقبول یکون تارۃ بالقول و تارۃ بالعمل علیہ و لذا قال المحقق ابن الھمام فی الفتح و مما یصحح الحدیث ایضا عمل العلماء علی و فقہ۔ وقال الترمذی عقیب روایتہ حدیث طلاق الامۃ ثنتان حدیث غریب والعمل علیہ عند اہل العلم من اصحاب رسول اللہ ﷺ وغیر ھم۔ (اعلاء السنن و حاشیہ ص ۴۰ ج ۱)
ترجمہ: حدیث کو جب اہل علم نے قبول کیا ہو تو باوجودیکہ اس کی سند صحیح نہ ہو اس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔ اور قبول کرنا کبھی قولی ہوتا ہے اور کبھی عملی ہوتا ہے۔ اسی لیے محقق ابن ہمام ؒ نے فتح القدیر میں لکھا کہ علماء کا حدیث کے موافق عمل بھی حدیث کو صحیح بنا دیتا ہے۔ اور حدیث طلاق الامۃ ثنتان کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی لکھتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اور اہل علم صحابہ وغیرہ کا اس پر عمل ہے۔

ii- محمد عمار صاحب نے صحابہ و تابعین کے قیاس کرنے کو بھی قابل توجہ نہیں سمجھا کیونکہ ان کے بقول قرآن نے اس تصور کی تائید نہیں کی اور نبی ﷺ نے بھی اس کو سند جواز عطا نہیں کی۔

تیسری خطرناکی: 

محمد عمار صاحب نے اس احتمال کو اختیار کیا ہے کہ صحابہؓ نے اہل عرب کے دستور کی موافقت میں قانون سازی کی لیکن ساتھ ہی صحابہ اور تابعین پر دو بڑے الزام عائد کئے ہیں۔ ذرا دل کو تھام کر ان کو ایک بار پھر پڑھئے:

’’اگرچہ عورت کے بارے میں جاہلی معاشرت کے بہت سے تصورات اور رسوم کی اصلاح کر دی گئی، تاہم بعض تصورات۔۔۔ جن میں عورت کی جان کی حرمت اور قدر و قیمت کے حوالے سے زیر بحث تصور بھی شامل ہے۔۔۔ کی اصلاح کی کوششیں نتیجہ خیز اور مؤثر نہ ہو سکیں اور صحابہ و تابعین کو معروضی معاشرتی تناظر میں ایسے قوانین تجویز کرنا پڑے جن میں انہی سابقہ تصورات کی عملی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہو۔‘‘

محمد عمار صاحب نے غور نہیں کیا کہ اس الزام اور اعتراض کی زد کس پر پڑ رہی ہے۔ یہ زد پڑ رہی ہے رسول اللہ ﷺ پر اور صحابہؓ پر کہ صحابہ اپنے میں سے جاہلی معاشرت کے اس تصور کو دور نہ کر سکے اور اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو بھی کوشش کی ہو گی، وہ سب غیر مؤثر اور بے نتیجہ رہی۔

ii- منصوص احکام کے ساتھ ساتھ مستنبط اور اجتہادی قوانین و احکام کی وہ عملی صورت جو تاریخ اسلام کے صدر اول میں اختیار کی گئی مذہبی زاویۂ نگاہ سے اس کے آئیڈیل اور معیار ہونے کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔

تنبیہ:

کوئی یہ کہے کہ محمد عمار صاحب نے یہ دو باتیں استفہام کے طور پر لکھی ہیں لہٰذا یہ یہ ان کے نظریات نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ محض استفہام تو ان کی مراد نہیں ہے کیونکہ پھر ان کو کہنا چاہئے تھا کہ وہ ان کا جواب نہیں جان پائے۔ استفہام انکاری بھی مرادنہیں ہے کیونکہ پھر وہ ان باتوں کا جواب لکھتے۔ لہٰذا استفہام تقریری کی صورت متعین ہے یعنی یہ کہ جو باتیں استفہام کے طرز پر لکھی ہیں وہی ثابت ہیں۔

محمد عمار صاحب کا ایک اور دعویٰ

محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:

’’واقعہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کی دیت میں تفریق اس کے بغیر ممکن نہیں کہ خود انسانی حیثیت میں عورت کے وجود کو مرد سے فروتر اور اس کی جان کو مرد کے مقابلے میں کم قیمت قرار دیا جائے۔ ابن قیم جیسے بالغ نظر عالم بھی اس فرق کی یہی عقلی توجیہ کرنے پر مجبور ہوئے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص۱۰۴)

ہم کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کی دیت میں تفریق مذکورہ بالا توجیہ کے بغیر بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ عورت میں ایک حیثیت ہے جب کہ مرد میں دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت جو مرد و عورت دونوں میں یکساں طور پر مشترک ہے وہ انسانی جان کی ہے۔ اس کے اعتبار سے مرد اور عورت دیت میں بھی برابر ہیں اور قتل کی صورت میں قصاص میں بھی برابر ہیں۔ دوسری حیثیت جو صرف مرد کو حاصل ہے عورت کو نہیں وہ اس کی معاشی ذمہ داری کی ہے۔ شریعت نے عورت کو اپنا خرچہ خود کمانے کا بھی مکلف نہیں بنایا ہے جب کہ مرد پر عام حالات میں عورتوں اور نابالغ بچوں کے خرچے رکھے ہیں۔ اس حیثیت کی وجہ سے مرد کی دیت کو دگنا کیا گیا ہے۔ 

(جاری)


آراء و افکار