’’سرمایہ دارانہ یا سائنسی علمیت‘‘ پر ایک تنقیدی نظر

ڈاکٹر محمد شہباز منج

مئی ۲۰۰۸ء کے ’الشریعہ‘ میں محمد زاہد صدیق مغل صاحب کا مضمون ’’سرمایہ دارانہ یاسائنسی علمیت، ایک تعارف‘‘ مسئلہ زیربحث میں ایک خاص نقطہ نظرسے تدبر اور اس کے نتائج کو منظم ومرتب شکل میں پیش کر نے کے حوالے سے توقابل تحسین ہے، لیکن مضمون کے مندرجات مذکورہ حو الے سے صاحب مضمون کے فکری بے اعتدالی کا شکار ہو جانے کی واضح غمازی کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طرف وہ صاحبان فکر ہیں جو سائنس کو قرآن میں گھسیڑ کر سائنس کومسلمان بنانے یا قرآن کو سائنس کا منبع ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں اور دوسری طرف محترم مضمون نگا ر جیسے اہل علم ہیں جو سائنس کو شجر ممنوعہ ظاہر کر کے اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں، حالانکہ قرآن اور اسلام نہ عین سائنس ہیں اور نہ دشمن سائنس۔ اگر اول الذکر حضرات کا نتیجہ فکر غلط ہے توثانی الذکر افراد کا حاصل تدبر بھی ہرگز درست نہیں۔ 

فاضل مضمون نگار کے خیالات کاحاصل یہ ہے کہ سائنس دراصل علم ہے ہی نہیں، یہ وحی کے انکارپر مبنی سرگرمی اور جہالت خالصہ ہے۔ یہ آدمی کو آزاد و خودمختار فرض کرتی ہے اور اس کے پھیلاؤ کا لازمی نتیجہ معاشرے میں فواحش ومنکرات کا شیوع ہے۔ اہل سائنس پچھلے دورمیں جانے کو دقیانوسیت اور پتھر کے زمانے میں جانے سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ اہل حق مسلمانوں کے نزدیک مسلمانوں کی بہتری ہی پیچھے جانے میں ہے۔ اہل سائنس مثلاً راجر بیکن وغیرہ مذہبی معلومات کو جہل سے تعبیر کرتے ہیں، انہوں نے اپنے عہد میں بحری اور ہوائی جہازوں وغیرہ کی ایجاد سے متعلق ببانگ دہل دعوے کیے، حالانکہ اس زمانے میں ان چیزوں کے وجود میں آنے کا ابھی کوئی امکان ہی تھا۔ سائنس دانوں نے مذہبی علمیت کو جو اصلی علمیت تھی، رد کر کے ایسی علمیت رائج کرنے کی کوشش کی جس کا مقصد ومنتہا صرف اور صرف انسانی خواہشات کی تکمیل تھا۔ موجودہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو ایساعلم کہنا جو مسلسل تاریخی عمل کا نتیجہ ہے، یکسر غلط ہے۔ یہ دراصل سترہویں اور اٹھارویں صدی میں انسانی زندگی اور کائنات کے بارے میں انسان کے تصور حقیقت کی اس تبدیلی کی پیداوار ہے جو تحریک تنویر (enlightenment) کے نتیجے میں عام ہوئی۔ سائنسی اور مذہبی تصورات علم دو متضاد چیزیں ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ سائنس خالص دنیوی اور مادہ پرستانہ اغراض پر مبنی ہے جبکہ مذہب بالکلیہ اخروی فلاح وکامرانی کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ مذہب کے نقطہ نظر سے سائنس سے کسی خیر کا برآمد ہونا تو درکنار، سائنسی علمیت کھڑی ہی مذہبی علمیت کے ملبے پر ہوتی ہے۔

ہمار ے نزدیک فاضل مضمون نگار کا نتیجہ فکر درست نہیں ہے۔ ان کایہ کہنا کہ موجودہ سائنس وٹیکنالوجی، جسے وہ سرمایہ دارانہ علم کانام دیتے ہیں، کسی مسلسل تاریخی عمل کے بجائے زندگی اور کائنات کے بارے میں انسان کے اس تصور حقیقت کی تبدیلی کانتیجہ ہے جو سترھویں اور اٹھارویں صدی کی پیداوار ہے، سراسر غلط ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سائنس ایک مسلسل تاریخی عمل کا ہی نتیجہ ہے۔ یہ باور نہیں کیاجاسکتا کہ تاریخ میں کسی خاص موڑ پر انسان نے یکایک زندگی اور کائنات کے بارے میں ایک خاص نقطہ نظر اپنا کر سائنس کی بنیاد رکھی اور پھر کچھ ہی عرصے بعد یہ اپنی موجودہ حیرت ناکیوں کے ساتھ سامنے آگئی۔ تاریخی حقائق موجودہ سائنس کو ایک تاریخی عمل کی پیداوار ثابت کرتے ہیں۔ سائنس نے تاریخ انسانی کے ارتقا کے ساتھ ساتھ ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ یہ بات تاریخ کی اس حقیقت پر نگاہ ڈالنے سے بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے کہ بعد کے دور کی معلو مات اور ایجادات واختراعات پہلے دور کی معلومات اور ایجادات واختراعات سے بہتر اور اچھی ہیئت اور شکل میں سامنے آتی رہی ہیں۔ مضمون نگار کو یہ فکر لاحق ہے کہ اگر گزشتہ معلومات میں پیہم بہتری کے امکان کو تسلیم کر لیا گیا تو مختلف مسائل میں مذہب کے پیش کردہ حتمی تصورات خطرے میں پڑ جائیں گے، حالانکہ و ہ چیز حتمی ہی کیا جس کے انسانی غوروفکر کے نتیجے میں غیر حتمی ثابت ہوجانے کا اندیشہ ہو! دراصل مذہب کو سائنس سے کوئی خطرہ ہے اور نہ سائنس کو مذہب سے کوئی خوف۔ مذہب وسائنس اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے باہم معاون تو ہو سکتے ہیں، مخالف اور دشمن نہیں۔ 

مذہب کے بارے میں اہل سائنس کے معاندانہ خیالات اور ریمارکس زندگی اور کائنات کے بارے میں ان کے بدلے ہوئے خیالات کے بجائے اہل کلیسا کے مسخ شدہ بائبل اور بائبل کی غلط تعبیرات کی بنیا دپر اختیار کردہ غیر علمی رویے اور جامد سوچ کا رد عمل تھے۔ گویا اہل سائنس کو مذہب اور خدا سے بیزار کرنے والا کوئی اور نہیں، خود اہل مذہب تھے۔ سائنس دانوں کو اگرچہ اصولاً عیسائیت سے اپنی بیزاری کو مطلقاً مذہب تک ممتد نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن چونکہ اس زمانے میں مغرب میں مذہب کی واحد نمائندہ صرف عیسائیت تھی اور اہل مغرب کا کسی ایسے مذہب کے بارے میں سوچنا قریب قریب ناممکن تھا جو عیسائیت جیسے علمی جمود وکج روی سے مبرا ہو، اس لیے ان کی عیسائیت بیزاری مذہب بیزاری پر منتج ہوئی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر عیسائیت سائنس کی راہ روکنے کی کوشش نہ کرتی تو سائنس اور اہل سائنس اس کے کبھی دشمن نہ بنتے اور نتیجتاً سائنس اور مذہب میں کوئی مخاصمت نہ ہوتی۔ جب ز مام اقتدار کلیسا کے ہاتھ میں تھی تو مذہبی پیشواؤں نے مسخ شد ہ مذہب یا مذہب کی غلط تعبیرات کی بنا پر ان لوگوں کے خلاف سخت معاندانہ کارروائیاں کیں جو سائنس کی ترقی کے خواہاں تھے، یہاں تک کہ بعض اہل سائنس کوزندہ جلا دیا گیا۔ گلیلیو محض اس بنا پر مستوجب سزا قرار پایا کہ اس نے زمین کی گردش سے متعلق کوپرنیکس کے نظریے کو مان لیا تھا۔ پھر جب نشاۃ ثانیہ ہوئی تو سائنس دانوں نے بھی فطری طور پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور اپنے سابقہ دشمنوں سے بدلہ لینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ چنانچہ ان کے نزدیک مذہب کی ہر چیز کو، خواہ اس کا سائنس سے نفیاً یا اثباتاً کسی بھی طرح سے کوئی تعلق نہ بنتا ہو، پاے حقارت سے ٹھکرانا ضروری قرار پایا اور یہ سلسلہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہا اور آج تک جاری ہے۔ 

یہاںیہ بات بھی قابل ذکرہے کہ مغرب کے بعض اہل علم نے جنہوں نے سائنس کے ساتھ ساتھ اسلام کاتفصیلی معروضی مطالعہ بھی کیا ہے، اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ رد عمل کی نفسیات کے شکار سائنس دانوں کا مطلقاً مذہب پر برسنا ایک انتہاپسندانہ رویہ ہے کیونکہ اسلام کواس مذہب کا ہرگز مصداق قرار نہیں دیا جا سکتا جس سے اہل سائنس کو دشمنی ہے۔ اس سلسلے میں The Bible, the Quran and Science کے مصنف مورس بکائے (Mauice Bucaille) کی مثال دی جا سکتی ہے۔ بکائی نے اپنی مذکورہ کتاب میں تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ مغرب میں مذہب اور سائنس میں جو حریفانہ کشاکش ہے، وہ درحقیقت سائنس اور یہودیت وعیسائیت کے مابین ہے۔ وہاں لوگ مذہب سے مراد یہودیت و عیسائیت ہی لیتے ہیں اور اس حوالے سے اسلام سے متعلق کم ہی سوچتے ہیں، کیونکہ اسلام کے بارے میں مغرب میں انتہائی غلط تصورات رائج ہیں، لیکن اگر اسلام کا صحیح اور معروضی مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مغرب کا سائنس اور مذہب کی مخاصمت کا تصور اسلام اور سائنس کے حوالے سے قطعاً غلط ہے۔ یہاں نہ صرف یہ کہ ان خرافات کا وجود تک نہیں، بلکہ الٹا سائنس کی ترقی اور اس سے ہم آہنگی وموافقت کے و سیع امکانات ہیں۔

سائنسی علمیت کو محض سرمایہ دارانہ یا خواہشات انسانی کی تکمیل کے لیے سرگرم ذہنیت کی پیداوار سمجھنا ایک بے بنیاد تصور ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بعض طبقات وافراد انسانی کے مذہب کو اپنے بعض مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بنا پر مذہب کو ان طبقات وافراد انسانی کی استحصالی ذہنیت کا شاخسانہ قرار دے دیا جائے۔ سائنس ایک علم ہے۔ اسے مختلف افراد اپنے اپنے اغراض ومقاصد اور ترجیحات کے تحت استعمال کر سکتے ہیں۔ تاریخ کے کسی موڑپر اگر سرمایہ دارانہ اور خواہشات انسانی کی تکمیل میں سرگرم ذہنیت نے سائنس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور عصر حاضر تک اسے تسلسل کے ساتھ استعمال کیے جا رہی ہے تو اس میں سائنس کا کیا قصور؟ اگرانسان اسے اپنے دینی وفلاحی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا تووہ اس کے لیے بھی تیار تھی، اور حق یہ ہے کہ بہت سے صاحبان نظر نے اسے موخرالذکر مقصد کے لیے استعمال کیا بھی ہے اور آج تک کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں ہم پھر مورس بکائی کی مثال دیں گے۔ موصوف نے اپنی مذکورہ کتاب میں جدیدسائنس کے ثابت شدہ حقائق سے قرآنی بیانات کے توافق یاعدم تخالف کوثابت کرکے جس طرح جدید تعلیم یافتہ افراد کی مذہب بیزار ذہنیت کو مضمحل کیا ہے، اس سے سائنس کا مذہب کے لیے مفید خدمات سرانجام دے سکنے کا تصور ایک حقیقت بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ بنابریں سائنس صرف ایک علمیت ہے جسے سرمایہ دارانہ کہنا ایسے ہی ہے جیسے اسے مذہبی علمیت کہا جائے۔ اگر بالفرض یہ مان لیاجائے کہ سائنس کی تمام تحقیقات انسانی خواہشات اور سرمایہ دارانہ مقاصد کی تکمیل کی غرض سے کی جاتی ہیں تو بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اس نہج پرہونے والی تحقیقات کے نتائج آدمی کو ہر حال میں مادہ پرست اور خواہشات کا بندہ ہی بنائیں گے۔ سائنس کے میدان میں داد تحقیق دینے والے بہت سے بے خدا ایسے ہوں گے جنہیں ان کی تحقیقات کے نتائج نے باخدا بنا دیا۔

مضمون نگار کا خیال ہے کہ مذہبی اور سائنسی علمیت ایک دوسرے کی ضد ہیں جن کا کسی ایک ہی معاشرے میں برا بر پھیلنا محال ہے۔ اس سلسلہ میں وہ راجر بیکن کے ان خیالات کاحوالہ دیتے ہیں جو اس نے عیسائی علمیت کے مقابل پیش کیے تھے۔ یہ امر باعث تعجب ہے کہ مضمون نگار نے مذہب اور سائنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں بھی اسلام اور عیسائیت میں فرق نہیں کیا، حالانکہ جیسے اوپر ذکر کیا گیا، خود نامور مغربی اہل قلم اس ضمن میں اسلام اور عیسائیت میں واضح فرق کرتے ہیں اور سائنسی علمیت کے مقابلہ میں عیسائی علمیت کا دفاع کرنے میں خود عیسائی اہل مذہب بھی بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ موصوف کے خیال میں عیسائی علمیت کو لوگوں کی نظروں میں حقیر ہو جانا سائنسی علمیت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا نتیجہ تھا، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور وہ یہ کہ عیسائیت میں اتنا دم خم ہی نہ تھا کہ وہ سائنسی علمیت کے شائع ہو جانے کے بعد اپنی حیثیت برقرار رکھ سکتی۔ جہاں تک مذکورہ حوالے سے سائنسی اور اسلامی علمیتوں کا سوال ہے تو یہاں معارضے اور مقابلے کو کبھی حریفانہ نقطہ نگاہ سے دیکھا ہی نہیں گیا بلکہ عیسائیت کے بالکل برعکس سائنسی علمیت کی ترقی کو مہمیز ملی۔ 

جس زمانہ میں عیسائی دنیا میں سائنسی ترقی پر بابندیاں عائد تھیں، اسلامی جامعات میں سائنس کے حوالے سے آزادانہ تحقیق ومطالعہ جاری تھا اور سائنس ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بین الاقوامی صورت اختیار کررہی تھی، اس دور میں یورپ کے لوگ اسلامی جامعات میں تحصیل علم کے لیے اسی طرح کھنچے چلے آتے تھے جس طرح آج کل ہم مسلمان یورپ اور امریکہ جاتے ہیں۔ فاضل مضمون نگار سائنسی علمیت کو مذہبی علمیت کی ضدبتا رہے ہیں جبکہ مسلم معاشروں میں سائنسی اور مذہبی علمیتیں واضح طور پر توام دکھائی دیتی ہیں۔ نامور مورخ رینان(Renan) کے مطابق قرطبہ کی مسجدیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ تعلیم پاتے تھے، سائنسی مطالعات کا مرکز تھیں۔ مسجد میں، جو مذہبی تعلیم کا مرکز ہے، سائنسی مطالعات اس حقیقت کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ مسلم معاشروں میں مذہبی وسائنسی علمیت کو کبھی ایک دوسرے کی ضد نہیں سمجھا گیا۔ اگر سائنسی علمیت اسلامی علمیت سے متعارض یا اس سے کوئی دور کی چیز ہوتی تو مسلم خلفا کو،جو اس زمانے کے مقتدر ترین حکمران تھے، اور باوقار علما ومدرسین کو کس نے مجبور کیا تھا کہ وہ اپنی جامعات اور مساجد میں ایک ایسی علمیت کو پوری تن دہی سے پروان چڑھائیں جو ان کی اپنی علمیت سے معارض یااس کے لیے نقصان دہ تھی۔ 

مضمون نگار کا خیال ہے کہ مسلمانوں میں سائنسی تحقیقات کے پیچھے پڑنے والے لوگوں کومعاشرے میں کوئی اونچا مقام حاصل نہیں ہوتاتھا بلکہ امام اور علامہ جیسے الفاظ صرف اسلامی علوم کے ماہرین کے لیے استعمال ہوتے تھے، لیکن موصوف کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس دورکے اسلامی علوم کے ماہرین صرف نماز روزے یا فقہی مسائل سے متعلق علم کے ماہر نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ ان علوم کے ساتھ ساتھ طب، فلسفہ، ہیئت اور طبیعیات وغیرہ علوم کے بھی ماہر ہوتے تھے۔ ا بن باجہ، ابن رشد اور ابن خلدون وغیرہ اسی قبیل کے علما تھے جو معروف دینی علوم کے علاوہ سائنسی، عقلی اور عمرانی علوم کے بھی ماہر تھے۔ کیاان حضرات کے ناموں کے ساتھ امام اور علامہ کے باوقار الفاظ لگے ہوئے ہونے یا اسلامی معاشرہ میں ان کے اعلیٰ مقام ومرتبے میں کسی کو شک ہے؟

قرآ ن اور صاحب قرآن کے فیضان سے علم وعمل اور تہذیب وتمدن سے عاری وناآشنا عرب بادیہ نشیں اور گلہ بان دیکھتے ہی دیکھتے علم وعمل اور تہذیب وتمدن کے اعتبار سے دنیاکے امام بن گئے۔ مشہور مصنف جانسن (Johnson) کے بقول قرآن ایک ایسی پکارتھی جو عالمگیر معنی کی حا مل ہے۔ اس نے اپنے خاص مخاطبوں میں کائنات کی تسخیر کاولولہ پیدا کیا اور پھر ایک تعمیری قوت بن گئی تاکہ اس کے ذریعے یونان اور ایشیا کی ساری تخلیقی روشنی عیسوی یورپ کی گہری تاریکی کا پردہ چاک کر کے اس کے اندر داخل ہو جائے کیونکہ عیسائیت اس وقت رات کی ملکہ تھی۔ سائنسی عمل اگرچہ قدیم تہذیبوں میں بھی جاری رہا، مگراس سلسلہ میں بقول چارلس سنگر یونانیوں سے ابتدا اس لیے کی جاتی ہے کہ ان کی سائنسی جستجو کا ہمارے پاس باقاعدہ ریکارڈ ہے۔ یونانی سلطنت تہہ وبالا ہوئی اور عیسائیت کو غلبہ حاصل ہوا تو یونانی علوم کی تعلیم ممنوع قرار پائی تھی۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے اسلام کے عطا کیے ہوئے علم کی روشنی میں نہ صرف یونانی علوم سے استفادے کی راہیں ہموار کیں بلکہ ان میں اصلاحاتی ترامیم اور اضافے کر کے انہیں اگلی نسلوں کو منتقل کیا۔ اگر سائنس سے متعلق اسلام کا مزاج عیسائیت جیسا ہی ہوتا تو مسلمان بھی سائنس سے متعلق وہی رویہ اختیار کرتے جواہل کلیسا نے اختیار کیا تھا۔ یہ حقائق جہاں اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ سائنسی علمیت سترھویں اور اٹھارویں صد ی میں آدمی کے بدلے ہوئے تصور علم کی پیداوار ہے، وہاں اس تصور کی بھی واضح تردید کر رہے ہیں کہ ایک مذہبی معاشرے میں سائنسی علمیت برگ وبار نہیں لاسکتی۔ کجا یہ تخیل کہ دنیا میں سائنسی علمیت اور اس کا نفوذ مغرب کی مادہ پرستانہ ذہنیت کی فسوں کاری ہے اور کجا یہ حقیقت کہ اہل مغرب کو سائنسی علمیت ملی ہی اسلام اور اہل اسلام کے واسطے سے ہے۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ سازکرے 

فاضل مضمون نگار نے سائنس کی مخالفت میں اس روایت کا تذکرہ بھی کیاہے جس کے مطا بق مسلمانوں کا سب سے اچھا دورعہد نبوی، عہد صحابہ اور عہد سلف صالحین ہے اور اس کے بعد آنے والا ہر دور مسلمانوں کے لیے برا ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے وہ اس نتیجے کی تحسین کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو آگے کی بجائے پیچھے کی طرف دیکھنا چاہیے، لیکن مذکورہ روایت اور اس سے اخذ کردہ نتیجے کا سائنس کی مخالفت میں پیش کیا جانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اس مشہور روایت کو جس کے مطابق ’’وہ مسلمان تباہ وبرباد ہو گیاجس کا آج اس کے کل سے بہتر نہیں‘‘ سائنس کی حمایت میں پیش کرے اور اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ مسلمانوں کو پیچھے کے بجائے آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ دونوں روایتیں مسلمانوں کو اپنی اخلاقی حالت بہتر سے بہتر بنانے کی ترغیب دے رہی ہیں اور سائنس کی حمایت یا مخالفت سے ان کا نفیاً یا اثباتاً کوئی علاقہ ہی نہیں۔ لوگ نیکی وتقویٰ کے اعتبارسے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا نمو نہ پیش کرنے لگیں تواس کے مطلوب اور قابل ستائش وتحسین ہونے میں کسی مسلمان کو کوئی کلام نہیں ہو سکتا، لیکن اگر اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ گاڑیوں اور ہوائی جہازو ں کی بجائے گدھوں اور اونٹوں پر سفر کریں، میدان کارزار میں جنگی جہازوں اور بموں کی بجائے گھوڑوں اور تلواروں پر انحصار کریں تو اس کے نامحمود وقابل مذمت ہونے میں بھی کسی باشعور مسلمان کو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ نہ یہ ضروری ہے کہ سائنسی علمیت کے ثمرات سے تمتع آدمی کو خدا اور رسول کی بتائی ہوئی اخلاقیات سے بیزار ہی کرے گا، اور نہ یہ لازم ہے کہ سائنسی علمیت کے ثمرات سے عدم تمتع آدمی کونیکی وتقویٰ کے اعلیٰ مقام پرفائز کر دے گا۔ اگرآپ اسلامی اخلاقیات کالحاظ رکھیں تو اسلام کو اس سے کچھ سروکار نہیں کہ آپ ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں یا اونٹوں اور خچروں پر۔ یہی نہیں بلکہ جدید دور میں اکثر صورتوں میں تو آپ جدید سہولیات سے صرف نظر کر کے مذہبی حوالے سے سخت خسارے کا سودا کریں گے۔ مثال کے طور پر آپ کا دشمن ایٹم بموں سے لیس آپ کے سامنے ہواور آپ اپنے آبا کی پیروی میں تلواریں لیے مقابلے کو نکلیں تو نتیجہ زیادہ غور وفکر کا محتاج نہیں۔

غالب گمان یہ ہے کہ فاضل مضمون نگار بھی سائنسی ترقی کے ان بیش قیمت ثمرات کو برا نہیں سمجھتے ہوں گے جن سے ہم آج کل اپنی روزمرہ زندگی میں نہ صرف متمتع ہوتے ہیں بلکہ ان میں سے بہت سی چیزیں ہماری زندگی کا لاز می حصہ بن چکی ہیں۔ اگریہ گمان حقیقت ہے تویہ امر انتہائی حیرا ن کن ہے کہ ایک علمیت کے مثبت ثمرات سے آدمی نہ صرف فائدہ اٹھائے بلکہ ان کی طرف لپک لپک کر جائے اور اسی علمیت سے برآمد ہونے والے بعض منفی ثمرات کو بنیاد بنا کر اس علمیت کے علمیت ہونے ہی کا انکار کر ڈالے اور اسے سرمایہ دارانہ ومادہ پرستانہ ذہنیت ہونے کاشاخسانہ قراردے دے۔ حالانکہ سائنس سے خیر یا شر برآمدہونے اور اس کے ثمرات کے مثبت ومنفی استعمال کا انحصار انسان پر ہے، لہٰذا اسے فی نفسہ برائی سمجھنا قطعی غیر متوازن سوچ کا مظہر ہے۔ 

فاضل مضمون نگار نے راجر بیکن کے خیالات کو اس کے مذہب دشمن تصورات کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ لوگوں سے کہتا تھا کہ بحری سفروں کے لیے ایسی مشینیں بنانا ممکن ہے جسے صرف ایک آدمی اس کشتی کی رفتار سے کئی گنا تیز چلا سکتا ہوگا جسے کئی ملاح مل کر چلاتے ہیں، بغیر ڈھور ڈنگر کے چلنے والی ایسی سواریاں بنانا ممکن ہے جو پرانے دور کی تیز ترین سواریوں سے تیز چلتی ہوں گی، اور ہوا میں اڑنے والی ایسی مشینیں بنانا بھی ممکن ہے جس میں انسان بیٹھ سکتا ہو اور وہ مشین بالکل پرندوں کی طرح پر ہلا کر چلتی ہو، لیکن بیکن کی مذہبیت کے اعتبار وعدم اعتبار کی بحث سے قطع نظر مستقبل میں امکانی سائنسی ترقی سے متعلق اس کے مذکورہ خیالات کو مذہب مخالف کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مذہبی آدمی آج کے کسی سائنس دان کے مستقبل میں امکانی سائنسی ترقی سے متعلق اس طرح کے خیالات کو مذہب مخالف قرار دے دے کہ آئندہ انسان کا چاند اور مریخ کے علاوہ دیگر سیاروں پرقدم رکھنا ممکن ہے یا اس بات کاامکان ہے کہ آدمی زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر رہائشی کالونیاں بنا لے، یا یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں چاند اور زمین کے درمیان باقاعدہ آمد ورفت شروع ہو جائے ، یا ممکن ہے زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر بھی زندگی کا وجود مل جائے یا ہو سکتاہے کہ بچوں کو ماؤں کے رحموں کی بجائے لیبارٹریوں کے اندر پروان چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو جائے، وغیرہ وغیرہ۔ بیکن کے مذکورہ خیالات آج حقائق ہیں لیکن کوئی بھی ان حقائق کو کسی مذہبی حقیقت سے متصادم قرار نہیں دیتا جس کا واضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس زمانے میں ان خیالات و مفروضات کو خلاف مذہب وحقانیت کہنے والے خود مذہب وحقانیت کی مخالفت کر رہے تھے۔ ایسے ہی وہ مفروضات جن کاہم نے اوپر ذکرکیا، اگر کل کلاں کو حقائق کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں تو وہ کسی طور پر مذہبی حقائق سے متصادم نہیں ہوں گے اور اگر آج ہم ان مفروضات کو مذہب کے لیے خطرہ قرار دے کر ان کے خلاف شروع واویلا کر دیں تو عین ممکن ہے کہ کل کے اہل مذہب، مذہب سے متعلق ہماری اس جہالت زدہ ذہنیت پر ہنسیں اور ہمیں سائنسی علمیت کی راہ روکنے کی کوشش کاملزم قرار دے دیں۔

واقعہ یہ ہے کہ سائنس جیسے چاہے مفروضات قائم کرلے، ان میں سے جومفروضات بھی حقائق بن کر سامنے آئیں گے، وہ مذہبی حقائق یاحقیقی مذہبی بیانات کی صحیح تعبیر سے متصادم نہیں ہوسکتے۔ ہاں یہ ہوسکتاہے کہ سائنسی مشاہدے میں آنے والا کوئی امرکسی حقیقی مذہبی بیان یا بیانات کی روایتی تعبیر سے مختلف ہو۔ اس صورت میں مذہبی بیانات کی ایسی تعبیر ہوگی جو ثابت شدہ سائنسی حقیقت سے ہم آہنگ ہو اور دراصل وہی صحیح تعبیر بھی ہوگی۔ مثال کے طورپر ہماری پرانی تفسیروں میں عام طور پر قرآنی بیانات کی روشنی میں زمین کو ساکن تصور کیا گیا ہے، لیکن جدید دورمیں جب کہ زمین کی حرکت مشاہدہ میں آچکی ہے، پرانی تعبیر پر اصرار کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوگا، چنانچہ بہت سے جدید اہل تفسیر نے ا ن قرآنی بیانات کا مفہوم اس حقیقت کی رو شنی میں متعین کیا ہے اور آج لوگ اصرار کرتے ہیں کہ قرآن سے سکون زمین پر دلائل لانا غلط طرز فکر تھا، کیونکہ قرآنی الفاظ میں تو سکون کی بجائے حرکت کی طرف واضح اشارے موجود ہیں۔ سائنس کے غیر حتمیت کے حامل طرز فکر پر اعتراض کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر مذہبی تعبیرات کی پیروی میں سائنس دان بھی سکون زمین کے تصور کو حتمی سمجھ لیتے تو حرکت زمین کاثبوت کبھی بھی نہ ملتا، اور انسانیت ایک حتمی سچ تک پہنچنے میں ناکام رہتی۔

اس سلسلے میں ایک اورحقیقت یہ بھی ہے کہ اہل مذہب کے ہاں ایسے مسلمہ حقائق یاحقیقی مذہبی بیانات جن کی کوئی دوسری تعبیر ممکن نہیں، ان سے متعلق اگر سائنس دان کسی طرح کے مفروضات قائم کرتے ہیں تو بھی اہل مذہب کوخوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسے مفروضات کبھی حقیقت بن ہی نہیں سکتے۔ البتہ یہ امکان موجود ہوگاکہ ایسے مفروضات کی بنیاد پر تحقیق کرنے والے ایک دن اس سچ تک پہنچ جائیں جو اہل مذہب کے ہاں شروع سے مسلمہ تھا۔ مثلاً اہل مذہب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور کائنات اس کی تخلیق ہے، لیکن سیکولرذہن کے سائنس دان یہ مفروضہ قائم کرتے ہیں کہ خدا کوئی نہیں اور یہ کائنات علت ومعلول کے چند اصولوں کی مدد سے سمجھی جا سکتی ہے۔ ا ب اہل مذہب یہ تونہیں کرسکتے کہ سیکولر ذہن کے ان سائنس دانوں کواپنے مفروضہ کی بنا پر غوروفکر سے روک دیں، ہاں اہل مذہب اپنے انداز میں اپنے عقیدے کے حق میں دلائل دیتے جائیں گے ،اور اہل سائنس سے صرف نظر کریں گے تاکہ آنکہ سائنس دان اس حقیقت کو پالیں کہ کائنات بے خدانہیں۔ اس صور ت میں سائنس دانوں کی تحقیقات بالآخر مذہبی حقیقت سے موافق ہو جائیں گے اور وہ اس حقیقت کومان لیں گے جس کو وہ محض مذہبی لوگوں کے کہنے پر کبھی نہ مانتے۔ یوں بھی سائنس اپنی آخری تحقیق میں مذہب کی معاون ٹھہرے گی۔ مختصریہ کہ اپنی اپنی نفسیات میں مذہب اور سائنس میں کوئی تضاد پایا ہی نہیں جا سکتا۔ ظنیا ت میں البتہ دونوں میں اختلاف ہو سکتا ہے، مگریہاں بھی کبھی ظن کے یقین میں بدلنے کی صورت میں دونوں اکٹھے ہو جائیں گے اور جو بھی ظن، یقین بنے گا، وہ ایک کا نہیں، دونوں کا یقین ہوگا۔

زاہد صدیق مغل صاحب نے اپنے زیربحث مضمون میں سائنس کے حوالے سے جس فکر کی نمائندگی کی ہے، اس سے ایک ایسے جمود کی بو آتی ہے جس کے ڈانڈے قرون وسطیٰ کے سائنس دانوں کے حریف اہل کلیسا کے فکری جمود سے جا ملتے ہیں۔ فکری جمود کے ضمن میں مذکورہ تشبیہ نرم تر ہے کیوں کہ اس دور کے اہل مذہب کے لیے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے حریفوں کے پیش کردہ حقائق پر نہیں بلکہ محض قیاسات وگما نات پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ نیز ان کے پاس ان کا مذہب اپنی حقیقی شکل میں موجود نہیں تھا، لیکن ہمارے دوستوں نے تونہ صرف ان بہت سے تصورات کوحقائق بنے ہوئے دیکھاہے جن کو قدیم لوگ وہم وگمان سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہ تھے، بلکہ ان لاتعداد خیالات کواپنی آنکھوں سے واقعات کی شکل میں ڈھلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جن کو سو دو سو سال قبل یار لوگ اپنی محفلوں میں دیوانے کے خوا ب سے تعبیر کر کے بحث وگفتگو کارخ دوسری طرف موڑ دیا کرتے تھے۔ اس پرمستزاد یہ کہ ہمارے ممدوحوں کا مذہب بھی اپنی حقیقی واصلی شکل میں موجود ہے۔ 

مقام حیرت ہے کہ ’کل یوم ھوفی شان‘ (الرحمن ۲۹) کی شان والے پر ایمان رکھنے والے اس تغیر پذیر کائنات میں ٹھہراؤ کے خواہاں ہیں اور خدا کی عطاکردہ فہم وفراست کے مسلسل استعمال کے ذریعے انسان کی خدمت کی خاطر رواں دواں علمیت کو، جو کسی خاص قوم وملت کی بجائے انسانیت کی میراث ہے، جاہلی اور مادہ پرستانہ علمیت ثا بت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کاش دوسروں کوسکون وثبات کی طرف مائل کرنے والے اسے فریب نظر سمجھ کر کائنات کے ذرے ذرے کی طرح خود بھی تڑپنے لگیں۔ دعا ہے !

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے 
کہ تیرے بحرکی موجوں میں اضطراب نہیں 

آراء و افکار