غامدی صاحب کے تصور ’کتاب‘ پر اعتراضات کا جائزہ

سید منظور الحسن

ماہنامہ ’’ الشریعہ‘‘ کے مئی ۲۰۰۶ کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیرکا مضمون ’’علامہ جاوید احمد غامدی کا تصور کتاب ‘‘شائع ہواتھاجو اب ان کی کتاب ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی قدیم آسمانی صحائف کودین وشریعت کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک یہ مقدمہ صریح طور پر غلط ہے۔ غامدی صاحب کی تصانیف میں اس کے اثبات کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے اور اس ضمن میں فاضل ناقد کے جملہ اعتراضات سر تا سر سوے فہم پر مبنی ہیں۔ذیل میں غامدی صاحب کے تصور کتاب کے حوالے سے بعض اصولی مباحث کی تقدیم کے ساتھ فاضل ناقد کے ان اعتراضات کا جائزہ لیا گیاہے۔

قدیم صحائف کی صحت، استناد اور استفادہ کا دائرہ کار

دین میں قدیم آسمانی صحائف کا جو بھی مقام متعین کیا جائے، پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا ان صحائف کے متن محفوظ ہیں اور لائق استناد ہیںیا تحریف شدہ ہیں اور اس بنا پر اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے رجوع کیا جائے؟اس مسئلے کے بارے میں علما کے ہاں تین مختلف آرا پائی جاتی ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ اصلاً محفوظ ہیں اور جہاں تک تحریف کا تعلق ہے تووہ ان کے متن میں نہیں ، بلکہ ان کی تعبیر و تشریح میں ہوئی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اپنے متن کے لحاظ سے یہ وہ کتابیں ہی نہیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے حامل پیغمبروں پر نازل کیا تھا۔ان کا بیش تر حصہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ تیسری رائے ان کے بین بین یہ ہے کہ ان میں کچھ ترمیم و اضافہ تو ضرور ہوا ہے، مگر ان کا زیادہ تر حصہ اپنی اصل صورت ہی پر قائم ہے۔ 

متعدد علماے امت بعض جزوی اختلافات کے ساتھ اسی تیسری رائے کے قائل ہیں اور امام ابن قیم نے اپنے اور اپنے استاذ امام ابن تیمیہ کے حوالے سے تورات کے بارے میں یہی رائے نقل کی ہے۔ ’اغاثۃ اللہفان‘ میں لکھتے ہیں:

’’اس (تیسرے) قول کو اختیار کرنے والوں میں ہمارے استاذ (امام ابن تیمیہ)بھی شامل ہیں جنھوں نے ’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘ میں یہ بات کہی ہے۔ ... اور حق بات یہ ہے کہ یہی رائے سب سے بڑھ کر پیروی کرنے کے لائق ہے، اس لیے نہ ہم ان غلو کرنے والوں کے پیچھے چلتے ہیں جو تورات کا مذاق اڑاتے ہیں، بلکہ ہم اس طرز عمل سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، او رنہ ہم یہ کہتے ہیں کہ تورات، قرآن مجید کی طرح حرف بحرف اسی طرح موجود ہے جیسا کہ اس کو نازل کیا گیا تھا۔‘‘ 

مولانا مودودی بیان کرتے ہیں:

’’تورات ان منتشر اجزاکا نام ہے ، جو سیرت موسیٰ علیہ السلام کے اندر بکھرے ہوئے ہیں۔...قرآن انھیں منتشر اجزا کو ’’تورات‘‘ کہتا ہے، اور انھیں کی وہ تصدیق کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزا کو جمع کرکے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے، تو بجز اس کے کہ بعض بعض مقامات پر جزوی احکام میں اختلاف ہے، اصولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان یک سرموفوق نہیں پایا جاتا۔ آج بھی ایک ناظر صریح طور پر محسوس کر سکتا ہے کہ یہ دونوں چشمے ایک ہی مبلغ سے نکلے ہوئے ہیں۔
اسی طرح انجیل دراصل نام ہے ان الہامی خطبات اور اقوال کا، جو مسیح علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت نبی ارشاد فرمائے۔ ... قرآن انھیں اجزا کے مجموعے کو ’’انجیل‘‘ کہتا ہے اور انھیں کی وہ تصدیق کرتا ہے۔ آج کوئی شخص ان بکھرے ہوئے اجزا کو مرتب کرکے قرآن سے ان کا مقابلہ کرکے دیکھے، تو وہ دونوں میں بہت ہی کم فرق پائے گا اور جو تھوڑا بہت فرق محسوس ہو گا، وہ بھی غیر متعصبانہ غوروتامل کے بعد بآسانی حل کیا جا سکے گا۔‘‘ (تفہیم القرآن ۱/۲۳۲)

کم و بیش یہی موقف ہے جو اس ضمن میں جناب جاوید احمد غامدی نے اختیار کیا ہے۔ ان کے نزددیک قدیم آسمانی کتابیں اللہ کی کتابیں ہیں جواپنے اپنے زمانوں میں انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی تھیں۔ ان کا سرچشمہ وہی ہے جو قرآن مجید کا ہے ۔چنانچہ قرآن مجید ان پر بالاجمال ایمان لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کے مختلف حاملین نے مذہبی تعصبات کی بنا پراگرچہ ان کے بعض اجزا ضائع کر دیے ہیں اور بعض میں تحریف کر دی ہے، اس کے باوجود ان میں الہامی شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور الہامی لٹریچر کے اسالیب کو جاننے والے اس سے بخوبی آگاہ ہو سکتے ہیں۔جناب جاوید احمد غامدی نے ان صحائف کے بارے میں یہ موقف اپنی تصنیف ’’ایمانیات‘‘ میں ’’کتابوں پر ایمان‘‘ کے زیر عنوان بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں: 

’’اس وقت جو مجموعۂ صحائف بائیبل کے نام سے موجود ہے، اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتابیں کسی نہ کسی صورت میں تمام پیغمبروں کو دی گئیں۔ قرآن جس طرح تورات و انجیل کا ذکر کرتا ہے، اسی طرح صحف ابراہیم کا ذکر بھی کرتا ہے۔اس کی تائید بقرہ و حدید کی ان آیتوں سے بھی ہوتی ہے جو اوپر نقل ہوئی ہیں۔ یہ سب کتابیں خدا کی کتابیں ہیں۔ چنانچہ بغیر کسی تفریق کے قرآن بالاجمال ان پر ایمان کا مطالبہ کرتا ہے۔... 
... (تورات) موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ ..... اپنی موجودہ صورت میں غالباً یہ پانچویں صدی قبل مسیح میں کسی وقت مرتب کی گئی۔ تاہم سیدنا مسیح علیہ السلام نے جس طرح اس کا ذکر کیا ہے، اس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تصویب بھی اس کو کسی حد تک حاصل ہے۔ 
انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی جو ہدایت بنی آدم کو ملی ہے، اس کے دو حصے ہیں: ایک قانون، دوسرے حکمت۔ تورات میں زیادہ تر قانون بیان ہوا ہے اور اس کا نام بھی اسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ قرآن اسے ’ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ‘ (بنی اسرائیل کے لیے ہدایت) اور ’تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ‘ (ہر چیز کی تفصیل) کہتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس میں اللہ کا حکم ہے، ہدایت اور روشنی ہے، لوگوں کے لیے رحمت ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ اس میں یہود کی تحریفات کا ذکر کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی جو روایت (version) زمانۂ رسالت کے یہود و نصاریٰ کے پاس تھی، قرآن فی الجملہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔
(زبور) اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ نغمات الٰہی کا مجموعہ ہے جنھیں مزامیر کہا جاتا ہے۔ بائیبل کے مجموعۂ صحائف میں زبور کے نام سے جو کتاب اس وقت شامل ہے، اس میں ۵ دیوان اور ۱۵۰ مزامیر ہیں۔ دوسرے لوگوں کے مزامیر بھی اگرچہ اس میں خلط ملط ہو گئے ہیں، مگر جن مزامیر پر صراحت کی گئی ہے کہ داؤد علیہ السلام کے ہیں، ان میں الہامی کلام کی شان ہر صاحب ذوق محسوس کر سکتا ہے۔ انجیل کی طرح یہ بھی ایک صحیفۂ حکمت ہے اور خدا کی نازل کردہ ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔
(انجیل) مسیح علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ ....یہ کوئی مرتب کتاب نہیں، بلکہ منتشر خطبات تھے جو زبانی روایتوں اور تحریری یاد داشتوں کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچے۔ مسیح علیہ السلام کی سیرت پر ایک مدت کے بعد بعض لوگوں نے رسائل لکھنا شروع کیے تو ان میں یہ خطبات حسب موقع درج کر دیے گئے۔ یہی رسائل ہیں جنھیں اب انجیل کہا جاتا ہے۔ ..... سیدنا مسیح کے جو خطبات، ارشادات اور تمثیلیں ان میں درج ہیں، ان کی الہامی شان ایسی نمایاں ہے کہ الہامی لٹریچر کے اسالیب سے واقف کوئی شخص ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن جس انجیل پر ایمان لانے کامطالبہ کرتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ سیرت کی ان کتابوں میں محفوظ ہے۔‘‘ (اشراق، جون ۲۰۰۷،۱۸)

قدیم صحائف کے بارے میں دوسری بحث اس سوال پر مبنی ہے کہ یہ صحف سماوی جن پر قرآن نے ایمان لانے کا مطالبہ کیاہے، کیا انھیں دین کے مآخذ کی حیثیت بھی حاصل ہے ؟علماے امت نے اس کا جواب نفی میں دیا ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف بھی یہی ہے۔ان کے نزدیک ان صحائف کو دین کے مآخذ کی حیثیت ہر گزحاصل نہیں ہے۔ ان کا موقف یہ ہے یہ حیثیت فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو حاصل ہے اور ان سے امت کو یہ دین دو صورتوں میں ملا ہے: ایک قرآن اور دوسرے سنت۔چنانچہ کرۂ ارض پر یہی دو چیزیں ہیں جن سے دین اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور چیز کو دین کا ماخذ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انھوں نے بیان کیا ہے:

’’دین کا تنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ صرف انھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو ان کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔ ......
یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ’’اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس کے ماخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے : 
۱۔ قرآن مجید 
۲ ۔سنت ‘‘ (اصول و مبادی ۹)

قدیم صحائف کے بارے میں تیسری بحث یہ ہے کہ اگر ان صحائف کو مآخذ دین کی حیثیت حاصل نہیں ہے تو پھر علوم اسلامی کے حوالے سے کیا ان کی کوئی ضرورت اور اہمیت موجود ہے اور اگر ہے تو ان سے اخذ و استفادے کا کیا دائرہ ہے؟ اس باب میں جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ فہم قرآن کے ایک ذریعے کی حیثیت سے قدیم آسمانی کتابوں کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک قرآن مجید دین کی پہلی نہیں ، بلکہ آخری کتاب ہے اور تاریخی اعتبار سے دین کا آغاز ان بنیادی حقائق سے ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے روز اول سے انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں ۔ اس کے بعد وہ شرعی احکام ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیا کی سنت کی حیثیت سے جاری ہوئے اور بالآخر سنت ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے۔ پھر تورات ، زبور اور انجیل کی صورت میں آسمانی کتابیں ہیں جن میں ضرورت کے لحاظ سے شریعت اور حکمت کے مختلف پہلووں کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے اور قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ چنانچہ اس تناظر میں فہم قرآن کے ایک معاون ذریعے کی حیثیت سے سابقہ کتب سماوی کی اہمیت مسلم ہے۔ اس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے لکھا ہے:

’’ ان (صحائف) کے بدقسمت حاملین نے ان کا ایک حصہ اگرچہ ضائع کر دیا ہے اور ان میں بہت کچھ تحریفات بھی کر دی ہیں ،لیکن اس کے باوجود اللہ کی نازل کردہ حکمت اور شریعت کا ایک بڑا خزانہ اللہ تعالیٰ کے خاص اسالیب بیان میں اب بھی ان میں دیکھ لیا جا سکتا ہے۔ قرآن کے طالب علم جانتے ہیں کہ اس نے جگہ جگہ ان کے حوالے دیے ہیں ،نبیوں کی جو سرگزشتیں ان میں بیان ہوئی ہیں، ان کی طرف بالاجمال اشارے کیے ہیں اوران میں یہودونصاریٰ کی تحریفات کی تردید اور ان کی پیش کردہ تاریخ پر تنقید کی ہے، اہل کتاب پر قرآن کا سارا اتمام حجت انھی صحائف پر مبنی ہے اور وہ صاف اعلان کرتا ہے کہ اس کا سرچشمہ وہی ہے جو ان صحیفوں کا ہے۔‘‘ (اصول و مبادی ۵۶)

تاہم، غامدی صاحب کے نزدیک فہم قرآن کے ایک معاون ذریعے کی حیثیت سے بھی ان صحائف سے اخذ و استفادے کا دائرہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ، انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات تک محدود ہے۔چنانچہ ان کا اصرار ہے کہ قرآن مجید کے ان مقامات کی شرح و تفسیر کے لیے جن میں بنی اسرائیل کے انبیا کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں یا یہود و نصاریٰ کی تاریخ کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا گیاہے، ان روایتوں کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے جو اسرائیلیات کے عنوان سے تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ ان کے بجائے قدیم صحائف ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو بہرحال اسرائیلیات سے زیادہ مستند ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ،یہود و نصاریٰ کی تاریخ ،انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب و اشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے ۔بحث و تنقید کی ساری بنیاد انھی پر رکھی جائے گی ۔ اس باب میں جو روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں اور زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں ، انھیں ہرگز قابل التفات نہ سمجھا جائے گا ۔ ان موضوعات پر جو روشنی قدیم صحیفوں سے حاصل ہوتی ہے اور قرآن کے الفاظ جس طرح ان کی تفصیلات کو قبول کرتے یا ان میں بیان کردہ کسی چیز سے متعلق اصل حقائق کو واضح کرتے ہیں، اس کا بدل یہ روایتیں ہرگز نہیں ہو سکتیں جن سے نہ قرآن کے کسی طالب علم کے دل میں کوئی اطمینان پیدا ہوتا ہے اور نہ اہل کتاب ہی پر وہ کسی پہلو سے حجت قرار پا سکتی ہیں۔‘‘  (اصول و مبادی، ۵۰)

درج بالا مباحث سے واضح ہے کہ غامدی صاحب قدیم صحائف کو من جانب اللہ تصور کرتے ہیں۔ وہ ان میں جزوی طور پر تحریف اور ترمیم و اضافہ کے قائل ہیں،تاہم ان کے نزدیک قرآن کے ان مقامات کی شرح و تفسیر میں ، جن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا کوئی پہلو بیان ہوا ہے، اصل ماخذ کی حیثیت اسرائیلیات کو نہیں، بلکہ انھی صحائف کو حاصل ہے۔ چنانچہ ان کی رائے کے مطابق خاص اس ضمن میں اگر قرآن کے کسی اجمال کی تفصیل ان صحائف سے معلوم ہو تی ہے تو اس سے پوری طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ اخذ استفادہ کیا مجرد ہو گایا قرآن مجید کی روشنی میں ہو گا۔ جناب جاوید احمد غامدی اس کاجواب یہ دیتے ہیں کہ لازماً قرآن مجید کی روشنی میں ہوگا۔ قرآن کی کوئی آیت یا اس کا عرف اگر قدیم صحائف کے کسی جز کو قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اس سے ہر گز اعتنا نہیں برتا جائے گا۔ان کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن مجید حق و باطل کے لیے میزان اور فرقان ہے اور تمام آسمانی صحیفوں پر اسے ’مہیمن‘ یعنی محافظ اورر نگران کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:

’’ قرآن مجید اس زمین پر حق و باطل کے لیے ’میزان ‘اور ’فرقان ‘اور تمام سلسلۂ وحی پر ایک ’مہیمن‘ کی حیثیت سے نازل ہوا ہے:....
...اسی مفہوم کے لیے لفظ ’مھیمن ‘ استعمال ہوا ہے ۔یہ ’ھیمن فلان علی کذا‘ سے بنا ہوا اسم صفت ہے جو محافظ اور نگران کے معنی میں آتا ہے ۔ آیت میں قرآن مجید کو پچھلے صحیفوں پر ’مھیمن‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کتاب الٰہی کا اصل قابل اعتماد نسخہ یہ قرآن مجید ہی ہے۔ چنانچہ دوسرے صحیفوں کے متن جب گم کر دیے گئے اور ان کے تراجم میں بھی بہت کچھ تحریفات کر دی گئی ہیں تو ان کے حق و باطل میں امتیاز کے لیے یہی کسوٹی اور معیار ہے ۔جو بات اس پر کھری ثابت ہو گی ، وہ کھری ہے اور جو اس پر کھری ثابت نہ ہو سکے ، وہ یقیناًکھوٹی ہے جسے لازماً رد ہو جانا چاہیے۔‘‘ (اصول و مبادی ۲۵)

غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید کی یہ حاکمیت صرف قدیم صحائف ہی پرنہیں، بلکہ ہر قسم کے دینی لٹریچر اور ہر سطح کی دینی شخصیت پر قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی بھی کوئی بات قبول نہیں کی جا سکتی۔ لکھتے ہیں:

’’...قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا ۔ دین میں ہر چیز کے ردو قبول کا فیصلہ اس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا۔ ایمان و عقیدہ کی ہر بحث اس سے شروع ہو گی اور اسی پر ختم کر دی جائے گی۔ ہر وحی ، ہر الہام ، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر رائے کو اس کے تابع قرار دیا جائے گا اور اس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بو حنیفہ و شافعی ،بخاری و مسلم، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی ۔ ‘‘(اصول و مبادی)

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قدیم صحائف کو ماخذ دین کی حیثیت ہرگزحاصل نہیں ہے ۔ البتہ، فہم قرآن کی شرح و ضاحت کے لیے ایک معاون ذریعے کے طور پروہ ان کی اہمیت کو بہرحال تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم اس اہمیت کے باوجود وہ ان سے اخذ و استفادہ کرتے ہوئے دو چیزوں کے ملحوظ رکھنے کو لازم قرار دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا دائرہ اصلاً یہود و نصاریٰ کی تاریخ اور اس کے متعلقات تک محدود رہے اور دوسری یہ کہ ان کی ہر بات کو قرآن کی میزان میں تولا جائے اور صرف اسی بات کو قبول کیا جائے جسے قرآن قبول کرنے کی اجازت دے ۔جہاں تک ایمانیات اور شریعت کے مباحث کا تعلق ہے تو ان کی رائے یہ ہے کہ اس ضمن میں اخذ و استنباط کا تمام تر انحصار قرآن وسنت پر کرنا چاہیے۔ 

اعتراضات کا جائزہ

فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں ’’اصول و مبادی‘‘ کا اقتباس نقل کر کے یہ تسلیم کیا ہے کہ غامدی صاحب احکام و عقائد کے لیے قدیم صحائف کو مآخذ قرار نہیں دیتے۔ انھوں نے لکھا ہے:

’’غامدی صاحب ’میزان‘ میں ایک جگہ تدبر قرآن کے اصول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’سوم یہ کہ الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ،یہود و نصاریٰ کی تاریخ ،انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب و اشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے۔‘‘
اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قدیم صحائف کویہود و نصاریٰ کے اخبار و واقعات اور قصص وتاریخ سے متعلقہ قرآنی آیات کو سمجھنے کے لیے مآخذ بنایا جائے گا نہ کہ احکام و عقائد کے لیے۔‘‘  (فکر غامدی۶۹)

فاضل ناقد نے یہ بات تسلیم کرنے کے باوجوداس کے بالکل برعکس یہ نقطۂ نظر قائم کیا ہے کہ غامدی صاحب کتب سماویہ کو دین اور شریعت کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔لکھتے ہیں:

’’ان کے مآخذ دین میں منسوخ شدہ آسمانی کتابیں تورات و انجیل وغیرہ بھی شامل ہیں۔...ان کے نزدیک سابقہ شرائع کے اکثر و بیشتر احکامات اب بھی دین اسلام میں قانون سازی کا ایک بہت بڑا ماخذ ہیں۔ ‘‘ (فکر غامدی۶۰) 

زیر نظر مضمون میں فاضل ناقد کے اعتراضات بنیادی طور پراس مقدمے پر مشتمل ہیں کہ غامدی صاحب بائیبل کو مآخذ دین میں شمار کرتے اور قرآن وسنت کی طرح اس سے بھی دین و شریعت کے احکام اخذ کرتے ہیں۔اس مقدمے کے حوالے سے فاضل ناقد نے بعض دلائل پیش کیے ہیں۔ اگرچہ تمہیدی مباحث میں یہ بات ہر لحاظ سے فیصل ہو گئی ہے کہ غامدی صاحب پر اس الزام کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ وہ بائیبل کو دین کا ماخذ قرار دیتے ہیں، لیکن فاضل ناقد کے پیش کردہ نکات چونکہ بعض پہلووں سے خلط مبحث کا باعث ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ضروری توضیحات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔ 

۱۔ فاضل ناقد نے ایک دلیل یہ پیش کی ہے کہ غامدی صاحب اور ان کے استاذ مولانا امین احسن اصلاحی کے نزدیک ’ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ‘ میں ’کتاب‘ سے مرادصرف قرآن نہیں، بلکہ تمام الہامی صحائف ہیں اور یہ کہ ان کے نزدیک قرآن مجید کتاب الٰہی کا ایک حصہ ہے،مکمل کتاب نہیں ہے۔ اس کے لیے انھوں نے مولانا اصلاحی کی تفسیر’ ’ تدبر قرآن‘‘ اور غامدی صاحب کی تفسیر ’’ البیان‘‘ میں’ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ‘ کے تحت تفسیری حواشی کا حوالہ دیا ہے۔ (فکر غامدی۵۹)

فاضل ناقد کی یہ بات بالکل غلط ہے۔ ’ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ‘ میں ’الکتاب‘ کا مصداق مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی، دونوں کے نزدیک قرآن مجید ہے ۔ یہی مفہوم انھوں نے اپنی کتب ’’تدبر قرآن‘‘ اور ’’البیان ‘‘ میں بیان کیا ہے۔مولانا اصلاحی نے’ ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ‘ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ’’یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں‘‘ ۔اس ترجمے ہی سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ یہاں ’الکتاب ‘سے مراد قرآن مجید ہے۔’یہ‘ اور ’اس‘ کی ضمیریں اس مفہوم کے لیے صریح ہیں۔ البتہ صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ نے یہاں لفظ ’کتاب‘ کے مختلف معانی بھی اس ممکنہ سوال کے پیش نظر بیان کیے ہیں کہ اس لفظ کے دیگر معانی کے تقابل میں’کلام الٰہی‘ کے معنی کو ترجیح دینے کا کیا سبب ہے۔ چنانچہ انھوں نے بتایا ہے کہ قرآن مجید میں کتاب کا لفظ پانچ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے: ۱۔ نوشتہ تقدیر، ۲۔ اللہ تعالیٰ کا وہ رجسٹر جس میں ہر چیز کا ریکارڈ ہے، ۳۔ خط اورپیغام ، ۴۔ احکام و قوانین، ۵۔ اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا کلام۔ اس کے بعد انھوں نے لکھا ہے:

’’جس طرح کوئی لفظ اپنے مختلف معنی میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر معنی کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے، اسی طرح یہ کتاب کا لفظ بھی خاص طور پر کتاب الٰہی کے لیے بولا جانے لگا۔ چنانچہ یہ استعمال قدیم زمانہ سے معروف ہے۔ یہود انبیا کے صحیفوں میں سے ہر صحیفہ کو سفر کہتے تھے جس کے معنی کتاب کے ہیں۔ عیسائی مترجموں نے ان کتابوں کو بائیبل کا نام دیا، اس کے معنی بھی یونانی میں کتاب ہی کے ہیں۔ اسی طرح ان صحیفوں کے لیے (scripture) کا لفظ استعمال ہوا جس کے معنی لاطینی میں کتاب کے ہیں۔ الغرض کتاب کا لفظ کتاب اللہ کے لیے کوئی نیا استعمال نہیں ہے۔ یہ استعمال جیسا کہ واضح ہوا، بہت قدیم ہے۔ قرآن نے بھی اس معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا اور اپنے استعمالات سے اس کے اس معنی کو اس قدر واضح کر دیا کہ اس کے مخاطب اس استعمال کو بے تکلف سمجھنے لگ گئے‘‘ ۔ (تدبرقرآن۱/۸۷)

مولانا اصلاحی نے اس مقام پر بلا شبہ، بائیبل کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس سے انھوں نے فقط یہ بات سمجھائی ہے کہ لفظ ’کتاب‘ کا اللہ کے کلام کے معنی میں استعمال ہونا اس کا کوئی نیا استعمال نہیں ہے جسے قرآن نے ابتداءً اختیار کیا ہو۔ قدیم زمانے میں بھی اللہ کے کلام کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا رہا ہے۔ چنانچہ یہود صحیفۂ آسمانی کے لیے’ سفر‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے جس کے معنی ’کتاب‘ کے ہیں۔ اسی طرح عیسائی مترجمین نے بھی صحف سماوی کے مجموعے کے لیے ’بائیبل ‘کا لفظ اختیار کیا جو ’کتاب‘ ہی کے ہم معنی ہے ۔اس سے واضح ہے کہ مولانا اصلاحی کی یہ بحث لفظ ’کتاب‘ کے معنی کے بارے میں ہے، ’ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ‘ میں اس کے مصداق کے بارے میں ہر گز نہیں ہے۔ 

لفظ ’الکتاب‘ کے بعینہٖ یہ معنی جناب جاوید احمد غامدی نے بھی اختیار کیے ہیں۔ لکھتے ہیں:

’’اصل الفاظ ہیں: ’ذٰلک الکتٰب‘۔ اس میں ’ذٰلک‘ کا اسم اشارہ سورہ کے لیے آیا ہے اور ’الکتٰب‘ کے معنی کتاب الٰہی کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اس معنی کے لیے استعمال ہوا ہے او راسی طریقے پر استعمال ہوا ہے، جس پر کوئی لفظ اپنے مختلف مفاہیم میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر مفہوم کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے۔
یعنی اس بات میں(کوئی شبہ نہیں) کہ یہ کتاب الٰہی ہے یہی اس جملے کا سیدھا اور صاف مفہوم ہے اور قرآن کے نظائر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔‘‘( اشراق ، اکتوبر۱۹۹۸، ۸)

۲۔ غامدی صاحب سے یہ بات منسوب کرنے کے لیے کہ بائیبل بھی مآخذ دین میں شامل ہے ،فاضل ناقد نے دوسری دلیل کے طور پر راقم کا ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں یہ جملہ درج ہے کہ’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں‘‘۔ فاضل ناقد کی اس دلیل کا ہم ’’غامدی صاحب کا تصور فطرت چند توضیحات ‘‘ کے زیر عنوان اپنے گزشتہ مضمون (الشریعہ، ستمبر ۲۰۰۷) میں تفصیل سے جائزہ لے چکے ہیں۔ 

۳۔ فاضل ناقد نے اس مقدمے کے اثبات کے لیے کہ غامدی صاحب بائیبل کو ماخذ دین قرار دیتے ہیں جن تحریروں کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے، ان میں ماہنامہ ’’اشراق‘‘ میں شائع ہونے والے دو مضامین بھی شامل ہیں۔ ایک مضمون کا عنوان ’ ’اسلام اور موسیقی‘‘ اور دوسرے کا ’’اسلام اور مصوری ‘‘ ہے۔ ان کی بنا پر فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ غامدی صاحب دین کے کسی مسئلے میں قرآن کے اشارات کو بنیاد بنا کر قدیم صحائف کی تفصیلات کی تصدیق کرتے ہیں اور قرآن کے مجمل الفاظ کی تفصیلات جاننے کے لیے کتاب مقدس کی آیات سے رجوع کرتے ہیں۔ ’’فکر غامدی‘‘ کے ص ۶۲ و ۶۳ پر ان مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل ناقد نے ’’غامدی صاحب کے بقول‘‘، ’’ایک جگہ...موسیقی کے حوالے سے لکھتے ہیں‘‘، ’’ایک دوسری جگہ کتاب مقدس کے حوالے سے لکھتے ہیں‘‘، ’’جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں... تو غامدی صاحب یہ جواب دیتے ہیں‘‘، ’’ایک جگہ لکھتے ہیں‘‘، ’’گویا کہ غامدی صاحب کے نزدیک‘‘، ’’ان کے بقول‘‘، ’’غامدی صاحب نے تفصیل کی ہے‘‘، ’’تورات کی آیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں‘‘ ، ’’جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں تو وہ جواب میں فرماتے ہیں‘‘ جیسے جملے غامدی صاحب کی نسبت سے بار بار لکھے ہیں۔ قارئین یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ ان میں سے کوئی ایک لفظ بھی غامدی صاحب کے قلم سے نہیں نکلا۔ خامہ انگشت بدنداں ہے، اسے کیا لکھیے!

یہ ساری تقریرغامدی صاحب کی تحریر کو نہیں،بلکہ راقم کے مضامین ’’اسلام اور موسیقی‘‘ اور ’’اسلام اور مصوری‘‘ کو بنیاد بنا کر کی گئی ہے۔ ’’اشراق‘‘ کے صفحات میں ان کے مصنف کے طور پر غامدی صاحب کا نہیں، بلکہ راقم کا نام درج ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’’ فکر غامدی ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے زیر عنوان لکھی جانے والی تنقید میں اس کی کیا گنجایش ہے کہ غامدی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے سیکڑوں صفحوں سے قطع نظر کر کے ان کے رفقا و تلامذہ کی تحریروں کو منتخب کیا جائے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فاضل ناقد نے فقط یہی نہیں کیا کہ غامدی صاحب پر تنقید کے لیے ان کی اپنی تحریر کے بجاے ان کے شاگرد وں کی تحریر کوبنیاد بنایا ہے، بلکہ اس سے بہت آگے بڑھ کرشاگردوں کی تحریر کو غامدی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ قرار دے ڈالا ہے۔ یہ اسلوب تنقید ہے جو فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں جابجا اختیار کیا ہے۔ فاضل ناقد صاحب علم بھی ہیں اور صاحب ایمان بھی۔ توقع ہے کہ وہ اس سوال پر ضرور غور فرمائیں گے کہ علم و عقل اور دین و اخلاق کی رو سے اس طرز استدلال کی کیا گنجایش ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ راقم کے مضامین ’’اسلام اور موسیقی‘‘ اور ’’اسلام اور مصوری ‘‘ غامدی صاحب ہی سے بالاجمال اخذ و استفادے پر مشتمل ہیں اور اسی بنا پر ان کے عنوانات کے ساتھ ’’جناب جاوید احمد غامدی کے افادات پر مبنی‘‘ اور ’’جناب جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر‘‘کی تصریح کی گئی ہے، لیکن ان کے اوپر مصنف کے طور پر راقم کا نام درج ہے۔ یہ علم و ادب کا مسلمہ ہے اور اس کی مثالوں سے کتب خانے بھرے پڑے ہیں کہ مصنفین اپنے اساتذہ اور دیگر اہل علم کے افکار سے اخذ و استفادہ کرتے ، ان کی بنا پر تصانیف رقم کرتے اور پھر انھی کی نسبت سے کوئی عنوان قائم کر کے انھیں شائع کرتے ہیں ۔ تحریر و تصنیف کی دنیا میں اس کے معنی صرف اور صرف یہ ہوتے ہیں کہ مصنف نے اپنے استاذ یا کسی اور صاحب علم کے تصور، موقف، نقطۂ نظر یا تحقیق کو اپنے فہم کے مطابق، اپنے زاویۂ نظر سے، اپنے دلائل کی بنا پر اور اپنے پیرایۂ بیان میں تصنیف کیا ہے۔اس کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوتے کہ یہ عین بہ عین اس استاذ یا صاحب علم کی نگارش ہے اور اس کے افکار کے تجزیے کے لیے اسے بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ ان تحریروں کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ ان کے لکھنے والوں نے ان میں اپنے فہم کے لحاظ سے غامدی صاحب ہی کا نقطۂ نظر بیان کیا ہے تو یہ بالکل بجا ہو گا،لیکن اگر کوئی شخص ان کے بارے میں یہ حکم لگاتا ہے کہ ان کا لفظ لفظ غامدی صاحب کے موقف کا ترجمان ہے تو اسے کوئی بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر فاضل ناقد کی طرح اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ غامدی صاحب ہی کی تصنیف ہیں اور ان کے مندرجات کی بنا پرغامدی صاحب پر تنقید کے لیے قلم اٹھاتا اور ’’فکر غامدی ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ جیسی کتاب تصنیف کر دیتا ہے تو اس کی خدمت میںیہی گزارش کی جائے گی کہ یہ چیز تنقید ادب کے مسلمات کے منافی ہے کہ کسی صاحب علم پر تنقید کے لیے اس کی اپنی تصنیفات کو چھوڑ کر اس کے موقف پر مبنی کسی اور مصنف کی تحریر کو بنیاد بنایا جائے۔ علم و ادب کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں پیش کی جا سکتی۔ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ اقبال کے فکر پر تنقید کے لیے قلم اٹھایا جائے اور ’’بانگ درا‘‘ اور ’’بال جبریل‘‘ کے بجائے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی تصنیف ’’فکر اقبال‘‘ کو بناے تنقید بنایا جائے۔

یہاں جملۂ معترضہ کے طور پر یہ واضح رہے کہ راقم کے مضامین’’اسلام اور موسیقی‘‘ اور ’’اسلام اور مصوری‘‘ میں بائیبل کے مندرجات کو اباحت کی دلیل کے طور پر ہر گز پیش نہیں کیا گیا۔یہ بیانات ان فنون لطیفہ کے فی نفسہٖ مباح ہونے کی تائید میں استشہاداً پیش کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ا ن میں بائیبل کے وہ مقامات بھی نقل کیے ہیں جن میں ان فنون لطیفہ کا ذکر مثبت طور پر ہوا ہے اور وہ بھی نقل کیے ہیں جن میں ان کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار ہوا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کتب احادیث سے بھی حلت وحرمت، دونوں طرح کی روایتیں اسی اصول کو واضح کرنے کے لیے نقل کی گئی ہیں۔ان فنون لطیفہ کی اباحت کے بارے میں ہماری یہ رائے اصلاً بائیبل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ا س اصول پر مبنی ہے کہ جس چیز میں فی نفسہٖ عقیدہ و اخلاق کی قباحت موجود نہ ہو، اسے علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم کسی اضافی سبب کی بنا پراسے ممنوع قرار دینا بالکل بجا ہے۔لیکن اس صورت میں ظاہر ہے کہ ممانعت کا باعث وہ اضافی سبب ہی قرار پائے گانہ کہ بذات خود وہ چیز۔ چنانچہ کسی ایسی چیز کے بارے میں جسے دین نے فی نفسہٖ حرام قرار نہ دیا ہو، حرمت کا فتویٰ صادر کرنا شریعت سے تجاوز ہے ۔ مذکورہ مضمون میں ہم نے اپنے استدلال کو نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ فاضل ناقد اگر اس کو موضوع بنا کر اس پر بحث کریں تو ان شااللہ ہم اپنے استدلال کی مزید وضاحت کر دیں گے۔

’’اسلام اور موسیقی‘‘ اور ’’اسلام اور مصوری‘‘ کے حوالے سے اطلاقی مثالوں کے علاوہ فاضل ناقد نے ’’یاجوج و ماجوج‘‘ کی مثال بھی پیش کی ہے۔ اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ غامدی صاحب نے قرآن کے الفاظ’ یاجوج و ماجوج‘ کے مصداق کے تعین کے لیے بائیبل سے رجوع کیا ہے۔

اس ضمن میں ہماری گزارش یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یاجوج وماجوج کے مصداق کا تعین کسی طرح بھی ’دین‘ کا مسئلہ نہیں ہے۔یہ ایک تاریخی بحث ہے جس کے لیے دیگر تاریخی مآخذ کے ساتھ ساتھ بائیبل سے بھی استشہاد کیا جا سکتا ہے۔یہ اور اس نوعیت کے دیگر موضوعات پر بائیبل سے استشہاد تاریخ، سیرت اور تفسیر کے علما کا معمول بہ عمل ہے۔ اس سے بائیبل کو ماخذ دین سمجھنے کا تصور ہر گز قائم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ اگر کوئی مفسر بدر، احد، خندق، فتح مکہ اوراس طرح کے دوسرے واقعات سے متعلق قرآنی آیات کی شرح و وضاحت کے لیے ’’سیرت ابن ہشام‘‘ اور ’’طبقات ابن سعد‘‘ سے واقعات کی تفصیلات حاصل کرے تو اس پر یہ الزام عائد کر دیا جائے کہ اس نے ’’سیرت ابن ہشام‘‘ اور ’’طبقات ابن سعد‘‘ کو دین کا ماخذ قرار دے ڈالا ہے۔اس الزام کی علم و عقل کی دنیا میں کیا حیثیت ہو گی ، قارئین اس کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔

۴۔ فاضل ناقد نے مضمون کے آخر میں ’’غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف‘‘ کا عنوان قائم کر کے یہ حکم لگایا ہے کہ غامدی صاحب ان مسائل میں تو بائیبل کو بناے استدلال بناتے ہیں جو ان کے نظریات کے موافق ہیں، لیکن جن مسائل میں بائیبل ان کے نظریات کی مخالف ہے ، ان میں وہ اس سے رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں اورنتیجۃً بائیبل کو ماخذ دین قرار دینے والے اپنے ہی اصول سے منحرف ہوتے ہوئے ان عقائد و احکام کا انکار کر دیتے ہیں جن کی تائید بائیبل بھی کرتی ہے۔اس تقریرکے اثبات کے لیے انھوں نے تین مثالیں پیش کی ہیں۔ پہلی مثال یہ پیش کی ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کااثبات قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ بائیبل سے بھی ہوتا ہے، مگر غامدی صاحب اس سلسلے میں بائیبل سے رہنمائی نہیں لیتے اور عملاً اس تصور کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ دوسری مثال یہ بیان کی ہے کہ بائیبل سے احادیث کی اس خبر کی تصدیق ہوتی ہے کہ قرب قیامت میں ایک شخص دجال ظاہر ہو گا۔ بائیبل کی اس تصدیق کے باوجود غامدی صاحب دجال کو شخص ماننے سے انکار کرتے اور اسے اسم صفت قرار دے کر تہذیب مغرب کو اس سے موسوم کرتے ہیں۔تیسری مثال رجم کی سزا کے بارے میں غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کے حوالے سے ہے۔فاضل ناقد کے نزدیک غامدی صاحب شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ یہ سزا بائیبل سے بھی پوری طرح ثابت ہے۔ گویا غامدی صاحب ایک جانب بائیبل کو ماخذ دین قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب اس کے شادی شدہ زانی پر رجم کی سزا نافذ کرنے کے حکم کو تسلیم نہیں کرتے۔

’’انحراف‘‘ کی یہ تینوں مثالیں فاضل ناقد نے اس مزعومہ مقدمے کو مان کر پیش کی ہیں کہ غامدی صاحب بائیبل کو ما خذ دین قرار دیتے ہیں۔ تمہید میں یہ بات ہر لحاظ سے ثابت ہو گئی ہے کہ فاضل ناقد کا مزعومہ مقدمہ سرتاسر غلط اور بے بنیاد ہے ۔جب مقدمہ ہی غلط ہے تو اس سے انحراف کی تقریر بالکل بے معنی اور غیر متعلق ہے، لہٰذااس کے بارے میں بحث و تمحیص سرتاسر اضافی ہے۔چنانچہ اس مضمون میں ہم ان مثالوں سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ البتہ فاضل ناقد کی اصولی تنقیدات پر اپنا تبصرہ مکمل کرنے کے بعد ہم ان شاء اللہ انھیں ان کی انفرادی حیثیت میں ضرور زیربحث لائیں گے اور اس سوء فہم اور خلط مبحث کو واضح کریں گے جو ان مثالوں کے حوالے سے فاضل ناقد کی تحریر میں مضمر ہے۔

آراء و افکار