’تحفظ نسواں ایکٹ‘ کتاب و سنت کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

حال ہی میں حکومت پاکستان نے حدود آرڈیننس کے دو قوانین، حد زنا اور حد قذف میں ترمیم کرکے ’تحفظ نسواں بل‘ کے عنوان سے ایک نیا قانون متعارف کروایا۔ اس قانون کو کتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک خصوصی علماء کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ بعد میں یہ بل مختلف مراحل طے کرتا ہوا قانون ساز اداروں سے پاس ہوگیا، تاہم اس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک بہت بڑا انزاع پیدا ہوگیا کہ یہ قانون کتاب وسنت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟ حدود آرڈیننس کی طرح اس قانون کے بارے میں اختلاف نے بھی سیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے۔ زیر نظر تحریر میں ہم نے کوشش کی ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں اس قانون کا جائزہ لیا جائے، تاہم ہمیں یقین ہے جس طرح پاکستان میں حدود آرڈیننس مکمل طور پر ناکام ہوگیا، زیر بحث قانون بھی اس طرح ناکام رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامائزیشن آف لا کا بہت چرچا رہا اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے کئی قوانین میں ترامیم کی گئیں اورکئی نئی دفعات متعارف کروائی گئیں، متعدد نئے ادارے وجود میں آئے جس سے یہ سمجھاجانے لگا کہ متعلقہ قوانین کتاب وسنت سے ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسلامیان پاکستان اس انتظار میں رہے کہ اب معاشرہ اسلامی قوانین کے نفاذ کی برکات سے مستفید ہوگا اور ہر طر ف امن وعافیت، رفاہیت وخوش حالی اور عدل وانصاف کا دور دورہ ہوجائے گا، لیکن جب معاشرتی زوال کی رفتار میں کمی آنے کے بجائے اسلامی اور انسانی اقدار کی پامالی کی سرگرمیاں تیز تر ہوگئیں تو اسلامی قوانین کی اثر آفرینی کے بارے میں شکوک وشبہات پیداہونے شروع ہوئے جو آگے چل کر ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئے۔ اس صورت حال کے حقیقی اسباب کا کھوج لگانے کے بجائے اسلام کے نام پر نافذ کیے گئے قوانین، بالخصوص حدود آرڈیننس اور قانون شہادت وغیرہ کے حامیوں اور مخالفوں کے متحارب کیمپ معرض وجو دمیں آگئے اور دو طرفہ زور آز مائی شروع ہوگئی۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جس سیاق میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہوا تھا، اس سے اسلام کی بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا تھا اور آئندہ بھی اس طرح اسلامی قوانین کے نفاذ کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی قوانین پورے اسلامی نظام کے وجود کا ایک حصہ ہیں اور اپنا الگ فلسفہ، اساسیات، اصول اور منہاج رکھتے ہیں۔ ان کی اثر آفرینی کے لیے ضروری ہے کہ انہیں پورے اسلامی نظام کی تمام اساسیات، مناہج اوراصول کے ساتھ نافذکیا جائے۔ دوسری طرف اینگلو سیکسن لا جو پاکستان کو وراثت میں ملا ہے، اپنا الگ فلسفہ، اصو ل اور مبادی رکھتاہے۔چونکہ دونوں قسم کے قوانین کا بلڈ گروپ الگ الگ ہے، اس لیے ان میں باہم پیوندکاری ممکن نہیں اور اگر زبردستی پیوند کاری کی کوشش کی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ وہی ہوتاہے جو حدود آرڈیننس وغیرہ کے بارے میں نکلا۔ اسلا می قوانین کا شجرہ طیبہ اینگلو سیکسن لا کی سرزمین پر کبھی بار آور نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر اسلامی قوانین کی اساس عدل ہے، جبکہ اینگلو سیکسن لا کی ’’قانون کی بالادستی‘‘ ہے۔ اس کی وضاحت مرحوم جسٹس گل محمد، سابق چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ اس طرح کرتے تھے کہ اگر بالفرض یورپ کے کسی ملک کی پارلیمنٹ یہ قانون بنا دے کہ جس کسی کا قد چھ فٹ سے زائد ہو، اسے سزائے موت دے دی جائے تو اسلام ایسی قانون ساز ی کو تسلیم نہیں کرتا، جبکہ قانون کی بالاتری کا تقاضا یہ ہے کہ اسے بہرطور نافذ کر دیا جائے۔ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے شمار ایسے قوانین ہیں جو عدل کے سراسر خلاف ہیں، لیکن دنیا بھر کی عدالتیں انہیں کے مطابق فیصلے کرتی ہیں ۔ویٹو کے اختیارات اس کی بدترین مثال ہے۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے یہ فرق بہت نمایاں ہوجاتاہے کہ اسلام مرد کو انتظامی برتری (النساء ۴:۳۴) اور عورت کو احترامی برتری (النور ۲۴:۴) کے اعزاز سے نوازتے ہوئے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرہ کار میں دوسرے پر فوقیت دیتاہے، لیکن اینگلو سیکسن لا مرد وزن کی ہمہ وجوہ مساوات کا قائل ہے۔ اس لیے اینگلو سیکسن لا کے حوالے سے عورت کی گواہی اور دوسرے کئی قوانین پر خواتین کا اعتراض بجا ہے۔ اگر یہ قوانین مکمل اسلامی نظام کے تناظر میں نافذ کیے جاتے تو اسلام کا نقطہ نظر یہ سامنے آتا ہے کہ عورت نہ صرف ثقہ، سچی، امانت دار اورقابل اعتماد ہوتی ہے بلکہ اس قدر دانش مند اور سمجھ دار بھی کہ ان میں کسی کم فہم اور دینی اعتبار سے کمزور عورت میں بھی قدرت نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ دانش مندسے دانش مند مرد کو بآسانی متاثر کرلیتی ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر ۳۰۴، تشریح از حکیم الاسلام قاری محمد طیب، خطبہ ’’فضیلۃ النساء‘‘) البتہ اس کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اسے عدالتوں اور کچہریوں میں خجل خوار ہونے سے بچایا جائے۔ (ہدایہ، کتاب الشہادۃ، ۳:۱۱۵) اس پس منظر میں کیا کسی مسلمان خاتون کو اس پر اعتراض ہوگا کہ اسے ناشائستہ مقدمات میں گواہی سے کیوں محروم رکھا جاتاہے؟ بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ہر مسلمان خاتون کا سر فخر سے بلند ہوگا کہ اسلامی معاشرے میں اس کی عزت واحترام مر دسے کہیں بڑھ کر ہے۔ لیکن جب ہم اینگلو سیکسن لا کے جسم میں اسلامی قانون کا کوئی عضو لگانا چاہتے ہیں تو وہ اسے قبول کرنے سے ابا کردیتاہے اوراس کا الزام اسلام کی نتیجہ خیزی پر آتاہے۔ طالبان کے افغانستان اور سعودی عرب میں اسلامی قوانین کی کامیابی اور اثر آفرینی کی وجہ صرف اور صرف یہ رہی کہ ان دونوں ممالک میں اسلامی قوانین کی پیوند کاری نہیں کی گئی بلکہ وہ اسلام جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور قرن بہ قرن اس میں اجتہاد کے ذریعے ارتقا جاری رہا، اسے بتمام وکمال نافذ کرنے کی سعی کی گئی جس کی بنا پر اس کی اثر آفرینی سے دشمن بھی انکار نہیں کرسکتے۔

تحفظ نسواں بل کا جائزہ لینے کے لیے علما کی جوخصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، اس کی رپورٹ کمیٹی کے ایک ممبر مولانا زاہد الراشدی نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ اکتوبر ۲۰۰۶ء میں شائع کی جس سے معلوم ہوا کہ علماے کرام نے حد زنا اور حد قذف کی بیالیس دفعات کی مجوزہ چوالیس ترامیم میں سے صرف تین کے بارے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ * بعد کے ایک زیادہ منضبط جائزے میں جو کمیٹی کے ایک دوسرے رکن مولانا محمد تقی عثمانی کے قلم سے روزنامہ جنگ اور نوائے وقت میں قسط وار شائع ہو ا اور جسے بعد میں الشریعہ نے بھی شائع کیا، اس بل پر چھ اہم اعتراضات کیے گئے جن کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ ایک اسلامی ریاست میں قرآن وسنت کی بالادستی قرآن کی قطعی نصوص سے ثابت ہے۔ جب ایک مرتبہ زنا کی حد کا فیصلہ ہوجائے تو حکومت کو اس کی معافی یا تخفیف کا اختیار نہیں ہے۔ زیر نظر بل میں زنا آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ شق (۵) کو حذف کرکے حکومت کو سز ا میں تخفیف کا جو اختیار دیاگیاہے، وہ قرآن وسنت کے خلاف ہے ۔

۲۔زنا بالجبر، زنا کی ایک قسم ہے، اسے حدود سے نکال کر تعزیرات میں شامل کرنا کتاب وسنت کے خلاف ہے۔

۳۔ زنا بالرضا موجب حد اور فحاشی کو ناقابل دست اندازی پولیس قرار دے کر ان جرائم کو تحفظ دیاگیاہے۔ اسلامی احکام کے تحت فحاشی کاجرم معاشرے اور ریاست کے خلاف جرم ہے۔ اس کا ثبوت اس قدر دشوار بنا دیاگیاہے کہ اس کے تحت کسی کو سزا نہیں ہو سکتی ۔

۴۔حدود آرڈیننس میں اگر حد زنا کے لیے مطلوبہ ثبوت موجود نہ ہو تا لیکن اغوا یا عصمت دری کا جرم ثابت ہوجاتا تو حد زنا دفعہ ۱۰ کے تحت تعزیری سزا دی جا سکتی تھی،اب کوئی سزا نہیں دی جاسکتی کیونکہ زیر نظر بل نے عدالت سے یہ اختیار واپس لے لیاہے ۔گویا فحاشی کو تحفظ دیاگیا ہے ۔

۵۔ قذ ف میں ترمیم کرکے مرد کو یہ چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ چاہے تو عورت کے مطالبے کے باوجود لعان کی کارروائی میں شرکت سے انکار کردے۔ یہ ترمیم قرآن حکیم کے منافی ہے۔

۶۔ قذف آرڈیننس میں یہ ترمیم بھی کتاب وسنت کے منافی ہے کہ عورت کے رضا کا رانہ اقرار جرم کے باوجود اسے سزا نہیں دی جائے گی۔

علما کمیٹی کے ان چھ اختلافی نکات کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی پیش کردہ باقی ترامیم سے علماے کرام متفق ہیں جو بجائے خود ایک خوش آئند بات ہے، البتہ پچھلے سالہا سال سے بالعموم اور پچھلے کچھ عرصے سے بالخصوص پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں اور متعدد دینی شخصیات جس تسلسل سے حدود آرڈیننس کو خدائی قانون اور ناقابل ترمیم قرار دیتی رہیں اوراس کے بعد جب مکالمے کا موقع آیا تو اپنے سابقہ موقف سے دست کش ہوکر جس طرح ترامیم کے لیے آمادہ ہوگئیں، اس پر ’بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بو العجبی ست‘۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ علماے کرام کی طرف سے اس نوعیت کی Sweeping statements کی وجہ سے عوام اور دینی جذبات رکھنے والے نیک دل مسلمانوں کے حسن ظن کو، جو روایتی علما پر بے پناہ اعتماد کرتے ہیں، ٹھیس پہنچتی ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور دیگر دینی شخصیات سے ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ دینی مسائل پر غور وفکر اور تبصرہ کرتے ہوئے آخرت کی جواب دہی کو ملحوظ رکھا کریں اور دینی مسائل پر گروہی، فرقی اورانتخابی سیاست کی آلودگیوں سے اپنا دامن بچا کررکھیں تو اس سے جہاں علما کے وقار پر آنچ نہیں آئے گی، وہاں ان پر اعتبار اور اعتماد کی روایت بھی متاثر نہیں ہوگی۔ ذاتی طورپر ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ علمائے کرام نے حدود آرڈیننس کو اس کے اصل تناظر میں دیکھنا شروع کردیاہے اور اب حدود آرڈیننس نہیں بلکہ حدود اللہ الہامی قوانین قرار پائی ہیں۔

علماے کرام کی خصوصی کمیٹی نے اپنی چھ اضافی سفارشات میں خواتین کو وراثت سے عملاً محروم رکھنے،زبردستی نکاح کر دینے، بیک وقت تین طلاقیں دینے، قرآن سے نکاح، وٹہ سٹہ اور عورتوں کی خریدوفروخت کے مذموم رسوم ورواج کے سدِباب کے لیے قانون سازی کی سفارش کی۔ اگر زیر نظر بل واقعتا ’’تحفظ نسواں بل‘‘ ہوتا ،حکومت اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی این جی اوز واقعتا خواتین کے حقوق کے تحفظ میں مخلص ہوتیں تو ہمارے خیال میں ان تمام سفارشات کو بل کا حصہ بنا کر فوراً نافذ کردیاجاتا کیونکہ ان میں سے کوئی بھی سفارش ایسی نہیں جن کے بارے میں کسی اختلاف کی گنجائش ہو، لیکن اس سلسلے میں حکومتی حلقوں اور این جی اوز کی طر ف سے کسی سرگرمی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ NGOs کا معاملہ تو قابل فہم ہے کہ اگر خواتین کے نوے فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں تو این جی اوز چلانے کے لیے مسائل کہاں سے آئیں گے اورکس بناپر بیرونی فنڈز حاصل کرنے کی راہیں وا رکھی جائیں گی، لیکن اس سلسلے میں حکومت کی سردمہری ناقابل فہم ہے۔ اگر حکومت واقعتا بے حیائی اور فحاشی کو تحفظ دینے کے بجائے خواتین کے حقیقی مسائل حل کرنے میں مخلص ہوتی تو اسے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے تھا ۔

علما کمیٹی نے اگر چہ دیدہ ریزی سے زیر نظر بل کا جائزہ لے کر ان دفعات کی نشاندہی کی ہے جو ان کے خیال میں کتاب وسنت کے متصادم ہیں، لیکن ہمارے خیال میں زیر بحث بل میں مزید کئی ایسی دفعات ہیں جو صراحتاً قرآن وسنت کے خلاف ہیں۔ ذیل میں ان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

۱۔حدود آرڈیننس میں حد زنا، دفعہ ۴ میں زنا کی تعریف یوں کی گئی تھی :

A man and a woman are said to commit Zina if they willfully have sexual intercourse without being validly married to each other.
’’کسی مرد اورعورت کو زنا کا مرتکب کہا جائے گا، اگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ نکاح صحیح میں ہوئے بغیر جماع کریں۔‘‘

اس تعریف کی وجہ سے خواتین کے لیے یہ دقت پید اہوگئی تھی کہ دیہی علاقوں میں نکاح اور طلاق کو رجسٹرڈ نہیں کروایا جاتا اور زبانی طلاق کے بعد نکاح کرنے والی خاتون کو اس کا سابقہ شوہر حدود آرڈیننس کی مذکورہ بالا دفعہ کی آڑ میں ظلم وستم کا نشانہ بناتا تھا۔ اس لیے مذکورہ بالا دفعہ سے validly (صحیح) کے الفاظ خارج کردیے گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت کا نکاح صحیح ہو یا فاسد یا باطل، بہر طور ان کا جنسی تعلق زنا قرار نہیں پائے گا اور مذکورہ بالا قسم کی خاتون کو ظلم سے بچا یاجاسکے گا۔

یہ وجہ اگر چہ درست ہے، لیکن اس کے لیے تبدیلی مسلم فیملی لاز میں کرنے کی ضرورت تھی تاکہ زبانی طلاق کو بھی طلاق سمجھا جائے۔ حد زنا آرڈیننس میں مذکورہ تبدیلی کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ زنا کے الزام میں ماخوذ جوڑے کے مقدمے کی باگ ڈور اس عورت کے ہاتھ میں آجاتی ہے جو شریک جرم ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر چار چشم دید گواہوں کے باوجود عورت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ شریک مرد کے ساتھ اس نے نکاح کیا ہے تو خواہ وہ کسی دوسرے کی منکوحہ ہو، نئے نکاح کا کوئی گواہ ہو نہ کوئی ثبوت، محض نکاح کا دعویٰ ہی اسے سزا سے بچانے کے لیے کافی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ یہ نکاح باطل قرارپائے گا جس کی بنا پر دونوں شریک مجرموں کو شک کا فائدہ ملے گا اور زیرنظر بل کی دفعہ ۵ (اے) کے تحت عدالت اس جوڑے کو فحاشی وغیرہ پر تعزیری سزا بھی نہیں دے سکے گی۔ اور اگر خاتون شریک جرم مرد کو سزا دلوانا چاہتی ہو تو وہ عصمت دری کا الزام عائد کرکے خود بچ سکتی ہے او ر مرد کو سزا دلوا سکتی ہے۔ خاتون کو صرف اس صورت میں سزا ملنے کا امکان ہے جب وہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہے اور گواہوں کی گواہی کو بے چون وچرا تسلیم کر لے جس کاامکان نہ ہونے کے برابر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فقہاے اسلام میں سے کسی نے بھی زنا موجب حد کی وہ تعریف نہیں کی جو حدود آرڈیننس میں تھی یا جو زیر بحث بل میں ہے، بلکہ علامہ کاسانی نے تمام امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے زنا موجب حد کی ایک جامع ومانع تعریف کی ہے جویہ ہے:

’’زنا اس حرام جماع کو کہتے ہیں جو کسی زندہ، قابل شہوت عورت کی اگلی شرم گاہ میں اسلامی ریاست میں ایسے شخص سے اپنے قصد اور اختیار سے واقع ہوا ہو جس نے اسلام کے احکام اپنے ذمے لازم کر لیے ہوں۔ یہ جماع حقیقت ملک، حقیقت نکاح، شبہ ملک اور شبہ نکاح سے خالی ہواور جس موقع پر ملک یا نکاح کا شبہ ہوسکتاہو، وہ شبہ اشتباہ سے بھی خالی ہو۔‘‘ (بدائع الصنائع، ۷/۳۳)

۲۔عصمت دری سے متعلق دفعات کو حدود آرڈیننس سے نکال کر مجموعہ تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۳۷۵، ۳۷۶ کے طورپر شامل کیا گیاہے ۔دفعہ ۳۷۵میں عصمت دری کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:

’’کسی مرد کو عصمت دری کا مرتکب کہاجائے گا جب وہ کسی عورت کے ساتھ مندرجہ ذیل پانچ حالات میں سے کسی حالت میں جماع کرے:
۱۔ اس کی مرضی کے خلاف۔
۲۔ اس کی رضامندی کے بغیر۔
۳۔ اس کی رضامندی سے جب کہ رضامندی اس کو ہلاک یا ضرر کاخوف دلاکر حاصل کی گئی ہو۔
۴۔ اس کی مرضی سے جب کہ مرد جانتاہو کہ وہ اس کے نکاح میں نہیں ہے او ر عورت نے رضامندی کا ا ظہار اس وجہ سے کیا ہو کہ عورت یہ باورکرتی ہے کہ اس مرد کے ساتھ اس کا نکاح ہواہے۔
۵۔عورت کی رضامندی سے یا اس کی رضامندی کے بغیر جب کہ وہ سولہ سال سے کم عمر کی ہو۔‘‘

اس دفعہ کے بارے میں علما کمیٹی کا اعتراض یہ ہے کہ اسے حدود میں شامل کیاجانا چاہیے تاکہ اس میں حکومت کو سزا کا اختیار نہ رہے۔ گویا علما کمیٹی کے نزدیک یہ دفعہ درست ہے، البتہ اس کا مقام تبدیل کرکے اسے مجموعہ تعزیرات پاکستان کے بجائے حدود آرڈیننس میں رکھاجائے، جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دفعہ اپنے متن اور نتائج کے اعتبار سے قرآن وسنت کے اساسی عائلی نظام سے متصادم ہے، مگر اس کا تذکرہ کہیں سننے میں نہیں آیا۔

یورپ اور امریکہ کے قوانین کی رو سے کوئی شوہر اپنی بیوی کی مرضی کے خلاف یا اس کی رضامندی کے بغیر اس سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتاہے تو بیوی، شوہر کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ کرکے اسے سزا دلوا سکتی ہے۔ اسلام میں میاں بیوی کے تعلقات میں عصمت دری کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر چہ قرآن کی رو سے میاں بیوی میں مودت ومحبت کا رشتہ ہوتاہے (الروم ۳۰:۲۱)، انہیں ایک دوسرے کے جذبات واحساسات کاخیال رکھنا چاہیے (النساء ۴:۴۹) لیکن قرآن کے حوالے سے میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ (البقرہ ۲:۱۸۷) مخصوص ایام کے علاوہ شوہر پر اپنی بیوی سے مقاربت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ (البقرہ ۲:۲۲۲) جن ایام میں پابندی ہے، اس کا تعلق بھی فوجداری قوانین سے نہیں ہے۔ جب کہ زیر بحث دفعہ میں مرد اور عورت کا اطلاق میاں بیوی پر بھی ہوتاہے اور اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی شوہر اپنی بیوی کی رضامندی کے بغیر اپنی خواہش کی تکمیل نہیں کرسکے گا۔ اگر وہ ایسا کرتاہے یا بیوی کسی وجہ سے شوہر کو سزا دلوانا چاہتی ہے تو بہت آسانی سے شوہر کی خواہش کی تکمیل کے بعد اس کے خلاف عصمت دری کے ثبوت عدالت میں پیش کرکے اسے سزائے موت یا دس سے پچیس سال کی سزائے قید دلا سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ مرد کے لیے فطری خواہش کی تکمیل کے جائز ذرائع پر پابندی عائد کردی گئی ہے، البتہ ناجائز ذرائع سے خواہش کی تکمیل کا کوئی گواہ نہ ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔اگر شوہرپر مقدمہ کرنے کے بعد بیوی اپنے کیے پر پشیمان ہوکر یہ اعتراف کرتی ہے کہ اس نے غلط مقدمہ قائم کیاتھا تو ا س کا کوئی مداوا زیر نظر بل میں دریافت نہیں ہوسکا، کیوں کہ عصمت دری کا مقدمہ ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہے۔ نیز اس دفعہ کے مطابق سولہ سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی عمل بہر طور عصمت دری ہے، خواہ اس کی رضامندی سے ہو ،جس کامطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی بیوی سولہ سال سے کم عمر کی ہے تو وہ جوڑا اپنی جائز خواہشات کی تکمیل بھی نہیں کرسکتا۔ اگر چہ نکاح کے مقاصد کے حوالے سے یہ ضروری ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد ان کا نکاح کیا جائے لیکن ایک تو یہ کہ بلوغ کا تعلق جسمانی تبدیلیوں اور تخلیقی صلاحیت کے آغاز سے ہے نہ کہ سولہ سال کی عمر سے۔ دوسرے یہ کہ بعض حالات میں والدین کی مجبوری بھی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو سولہ سال پورے ہونے سے پہلے کسی کی حفاظت میں دے دیں۔ مثلاً ایک شخص کینسر کا مریض ہے اور اسے معلوم ہے کہ وہ سال بھر زندہ نہیں رہے گا، وہ اپنی پندرہ سالہ لڑکی کا واحد نگران ہے ،کیا یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی بچی کو معاشرے کے درندوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے بجائے مرنے سے پہلے کسی مناسب مرد سے اس کا نکاح کردے؟ لیکن موجودہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

اس دفعہ میں ایک پہلو ایسا ہے جس کے تذکرے بلکہ تصور سے ہی ایک مسلمان کے دل ودماغ کرچی کرچی ہوکربکھر جاتے ہیں۔ اکثر مولفین حدیث اور سیرت نگاروں کے مطابق سیدہ عائشہؓ کی رخصتی کے وقت ان کی عمر نوسال تھی۔کیا یہ قانون بنانے والوں نے غور نہیں کیا کہ اس دفعہ کی روسے انہو ں نے اپنے مرکز ایمانی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں لاکھڑا کیا ہے؟ کیا اس کے بعد میدان حشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ خشمگین کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا آپؑ کی شفاعت کی امید کی جاسکتی ہے؟ کیا عرصہ محشر میں سیدہ عائشہؓ گریباں گیر نہیں ہوں گی؟ اتنی بڑی جسارت کے بعد اگر آسمان گر پڑے، زمین کا جگر شق ہوجائے اور فضا سے وہ آگ برسنا شروع ہو جائے جو پوری انسانی تاریخ میں انبیاے کرام کی توہین پر برسی ہے توکسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

حدود آرڈیننس، حد زنا کی دفعہ ۶ (۱) کا آغاز ان الفاظ سے ہوتاہے :

’’کسی شخص کو عصمت دری کا مرتکب کہا جائے گا اگر وہ مرد یا وہ عورت کسی ایسی عورت یا مرد سے، جیسی بھی صورت ہو، جس کے ساتھ وہ مرد یا وہ عورت نکاح صحیح میں نہ ہو، مندرجہ ذیل حالات میں سے کسی میں جماع کرے.....‘‘

اس دفعہ کی رو سے نکاح کی صورت میں عصمت دری کا مقدمہ قائم نہیں ہوسکتاتھا۔ اب اس میں سے نکاح کی قید یا شرط نکال دی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ قرآن وسنت کی قطعی نصوص سے متصادم ہوگئی ہے۔

علما کمیٹی نے ا س دفعہ پر صرف یہ اعتراض کیاہے کہ عصمت دری زنا کی قسم ہے، اس لیے موجب حد جرم ہے،اسے تعزیر میں رکھنا درست نہیں، البتہ اس میں یہ دقت پیش آتی ہے کہ زنا کے ثبوت کے لیے کتاب وسنت کی رو سے چار مسلمان عادل چشم دید گواہ ہونے ضروری ہیں جن کی عدم موجودگی مظلوم خواتین کے لیے گوناگوں مشکلات کا باعث بنتی رہی ہے۔ اس کا جواب یہ دیاگیا کہ ’’کوئی ایک مقدمہ بھی ایسا نہیں جس میں زنا بالجبر کی کسی مظلومہ کو اس بنا پر سزا دی گئی ہو کہ وہ چار گواہ نہیں پیش کرسکی بلکہ اگر عورت کا کردار مشکوک ہو، تب بھی عورتوں کو سز ا نہیں ہوتی ۔عورت کو شک کا فائدہ دے کر چھوڑ دیاجاتاہے‘‘ لیکن کیا مظلومہ کو انصاف ملتاہے اور اس کی داد رسی ہوتی ہے ؟درحقیقت ججوں کے او رسول سوسائٹی کے معیار انصاف میں زمین وآسمان کافرق ہے۔ جب کوئی جج کسی ایسے ملزم کو جو آٹھ دس سال جیل میں گزار چکا ہو،باعزت بری کرتاہے تو وہ یہ سمجھتاہے کہ اس نے مظلوم کی داد رسی کردی اور حق وانصاف کا بول بالا ہوگیا، لیکن باعزت بری ہونے والے شخص اور سول سوسائٹی کانقطہ نظر بالکل مختلف ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اس شخص کے زندگی کے آٹھ دس سال چھین لینے کا کون ذمہ دارہے؟ اس کی عزت اور نیک نامی کو جو دھبہ لگ گیاہے، وہ کیسے دھل سکتاہے ؟اس کی زندگی بھر کا اثاثہ مقدمات کی نذر ہوگیا، وہ اسے کیسے واپس مل سکتاہے؟ اس کا گھر، خاندان تباہ ہو گیا، بچے دربدرہوگئے اور وہ باعزت ہونے کے باوجود اپنے گھر، خاندان او رسماج میں ذلیل ہوگیا۔ اس انصاف کے بجائے اگر اسے بے گناہ ہونے کے باوجود سنگ سار کردیاجاتا تو وہ اس ذلت کی زندگی سے تو نجات پاسکتاتھا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیامیں جتنے ظلم عدالتوں کے کٹہروں میں انصاف کے نام پر ہوتے ہیں، اتنے عالمی جنگوں میں بھی نہیں ہوئے۔ انصاف فراہم کرنے والوں کو اگر کبھی خود حصول انصاف کے مراحل سے سابقہ پڑے توشاید انہیں محسوس ہوکہ بڑے بڑے ائمہ، قاضی بننے کے بجائے جیلوں میں مرنے کو کیوں ترجیح دیتے تھے۔

الغرض عصمت دری کو زنا کی قسم قراردینے کے لیے جو دلائل دیے گئے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ :

۱۔ قرآن حکیم کی سورۂ نور کی آیت نمبر ۲ میں زنا کی حد بیان کی گئی۔ اس آیت میں زنا کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے۔ اس میں زنا مندی سے کیا ہوازنا بھی داخل ہے اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی۔

۲۔ ترمذی کی حدیث نمبر ۱۴۵۴ کے مطابق مدینہ منورہ میں نماز کو جانے والی ایک عورت کی عصمت دری کی گئی۔ عورت نے شور مچایا تو وہ شخص بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے اعتراف کرلیا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے رجم کروادیا۔

آئیے، اب ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں:

۱۔پہلی دلیل کا تعلق اصول فقہ سے ہے کہ زنا کا لفظ مطلق ہے اور اس میں رضامندی اورجبر دونوں قسم کے زنا شامل ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ زنا کا لفظ مطلق نہیں، بلکہ یہ ایک اصطلاح ہے اور اصطلاحات کبھی مطلق نہیں ہوتیں۔ یہ لفظ خاص ہے اور اس کا مفہوم متعین ہے جس میں دوطرفہ آزادانہ رضامندی کا عنصر ضروری ہے، جیساکہ الکاسانی نے البدائع ۷:۳۳ میں اور ابو عبداللہ قرطبی نے الجامع لاحکام القرآن ۱۲:۱۵۹ میں اس کی تصریح کی ہے۔ اس سے عصمت دری مراد لینا اس لیے بھی غلط ہے کہ بالعمو م مفسرین نے سورہ نور کی مذکورہ بالا آیت کے بارے میں کہاہے کہ اس میں سورۃ النساء کی آیت ۱۵ میں کیے گئے وعدے کی تکمیل ہے۔ گویا قانونی الفاظ میں سورۃ النور کی آیت ۲ کو سورہ النساء کی آیت ۱۵ کے ساتھ ملاکر پڑھیں گے جو یہ ہے:

وَاللاَّتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِن نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُواْ عَلَیْْہِنَّ أَرْبَعۃً مِّنکُمْ فَإِن شَہِدُواْ فَأَمْسِکُوہُنَّ فِیْ الْبُیُوتِ حَتَّیَ یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً
’’تمہاری عورتو ں میں سے جو بے حیائی کا ارتکاب کرے تو اس پر اپنے میں سے چارگواہ لاؤ۔ اگر وہ گواہی دے دیں تو انہیں گھروں میں بند کردو تاآنکہ وہ فوت ہوجائیں یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے۔‘‘ 

اس آیت میں ان عورتوں کا ذکر ہے جو بدکاری کا ارتکاب کرتی ہیں، نہ کہ ان خواتین کا جو بدکاری کا شکار ہوتی ہیں، لہٰذا سورہ نور میں وہی خواتین مراد ہوں گی جو اپنی رضامندی سے جرم زنا کا ارتکا ب کرتی ہیں۔

قرآن حکیم نے جہاں خواتین کے ساتھ جبر اور زبردستی کا ذکر کیاہے وہاں’’زنا‘‘ کالفظ استعمال نہیں کیا بلکہ وہاں ’بغاء‘ (بغی) پر ’اکراہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ سورہ النور میں ہے: وَلَا تُکْرِہُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاء (۲۴:۳۳) (اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو) اگر مجبوری کی حالت میں کسی مرد کے سامنے بے بس ہوجانا اور اسے اپنے اوپر اختیار دے دینا ’’زنا‘‘ ہوتا تو آیت کے الفاظ یوں ہوتے: ’ولا تکرھوا فتیاتکم علی الزنا‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ عصمت دری قرآن کی اصطلاح میں زنا نہیں، بلکہ بغی ہے جس کی سزا سورہ المائدہ کی آیت ۳۳ میں مذکور ہے۔

۲۔ جس حدیث سے یہ استدلال کیاگیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصمت دری کے مرتکب شخص کو بھی سنگساری کی سزا دی، اس لیے عصمت دری بھی زنا کی قسم ہے ،یہ استدلال بھی درست نہیں ہے۔ اب تک کی جستجو کے مطابق یہ حدیث، چار مستند کتابوں میں آئی ہے: مسند احمد بن حنبل (۶:۳۹۹)، نسائی، سنن کبریٰ (۴:۳۱۴)،ابو داؤد، حدیث نمبر ۴۳۷۹ اور ترمذی، حدیث نمبر ۱۴۵۴ ۔

اس حدیث کا سلسلہ سند یوں ہے: 

وائل بن حجر > علقمہ > سماک > اسرائیل > محمد بن عبداللہ بن الزبیر (امام احمد بن حنبل) 

وائل بن حجر > علقمہ > سماک > اسرائیل >  محمد بن یوسف الفریابی > محمد بن یحییٰ بن فارس نیشاپوری (ابو داؤد ۔ ترمذی)

وائل بن حجر > علقمہ > سماک > اسباط بن نصر >  عمر و بن حماد بن طلحہ > محمد بن یحییٰ الحرانی (نسائی)


پوری حدیث یوں ہے:

’’عہد نبوی میں ایک عورت نماز پڑھنے گھر سے نکلی، راستے میں ایک شخص نے زبردستی اس سے اپنی خواہش پوری کی۔ عورت چیخی چلائی، اتنے میں ایک شخص وہاں سے گزرا، اس نے عورت کا ماجرا سن کر مجرم کا تعاقب کیا۔ پھر مہاجرین کی ایک جماعت وہاں سے گزری تو وہ بھی واقعہ سن کر مجرم کے پیچھے بھاگے اور انہوں نے پہلے تعاقب کرنے والے شخص کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کردیا۔ عور ت نے بھی تصدیق کی کہ یہی مجرم ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا، یہ نہیں بلکہ اصل مجرم میں ہوں۔ آپ نے عورت کو گھر بھیج دیا۔ پہلے پکڑے جانے والے شخص کی دل جوئی کی۔‘‘

اصل مجرم کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اس کے بارے میں ترمذی اور ابوداؤد میں ہے کہ اسے رجم کردیاگیا اور مسند احمد بن حنبل اور سنن کبریٰ میں ہے کہ آپ نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ ایسی توبہ کریں تو سب کے لیے کافی ہوجائے۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل فیصلہ کیا تھا؟ یہ جاننے کے لیے اس حدیث کی سند پر غور کیاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ ابتدائی تین درجوں میں اس حدیث کا ایک ایک راوی ہے اور وہ ہیں وائل بن حجر، علقمہ اور سماک۔ چوتھے درجے میں اس کے دو راوی ہیں، ایک اسرائیل اور دوسرے اسباط بن نصر۔ اسباط بن نصر کی روایت نسائی کی سنن کبریٰ میں ہے جس کے متن میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصمت دری کا اعتراف کرنے والے کو سزا نہیں دی، بلکہ اس کی توبہ قبول کرلی گئی۔ اسرائیل کی جو روایت مسند احمد بن حنبل میں ہے، وہ نسائی کے مطابق ہے اور جو ترمذی میں ہے، وہ یہ ہے کہ اعتراف جرم کرنے والے کو رجم کی سزا دی گئی۔ ابو داؤ دکا جو نسخہ ہمارے ہاں متداول ہے، اس کی روایت ترمذی سے ہم آہنگ ہے، لیکن اس کا جو نسخہ حافظ ابن القیم کے زیر استعمال تھا (دیکھئے الطرق الحکمیہ:۵۸)اس کی روایت مسند احمد اور سنن نسائی کے مطابق ہے ۔ اس لیے روایت کے داخلی مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ عصمت دری کے جرم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرابہ قرار دیتے ہوئے گرفتاری سے قبل توبہ کرنے والے کو سورہ المائدہ کی آیت ۳۴ کے تحت معافی دے دی تھی۔ درایت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس حدیث کے اس متن کو د رست تسلیم کیاجائے جس میں توبہ اور معافی کا ذکر ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے جن افراد کو رجم کروایا، ان کے نام یاآثار واحوال بکثرت روایات میں موجود ہیں جب کہ مذکورہ بالا شخص اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اگر اسے رجم کروایا گیاہوتا تو مسلمانوں کا ایک جم غفیر اس کارروائی میں شریک ہوا ہوتا اور دوسرے واقعات کی طرح اسے بھی روایت کرتا اوریہ حدیث اپنی سند اور متن دونوں حوالوں سے تواتر یا کم ازکم شہرت کے درجے کو پہنچ گئی ہوتی۔ 

مزید برآں عصمت دری پر رجم کی سز ا کو اس حدیث سے ثابت کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ خبرواحد ہے اور عصمت دری کی حد کسی قطعی الثبوت وقطعی الدلالت نص سے ہی ثابت ہوسکتی ہے۔

روایات کے تعارض کے باوجود ان تمام روایات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں کہ:

۱۔جس شخص کو مظلوم خاتون نے بطور مجرم شناخت کیاتھا، وہ اگر چہ بے گناہ تھا لیکن اتفاقی شواہد کی بناپر اسے سزائے رجم کا حکم سنایاگیا اور یہ تحقیق نہیں کی گئی کہ وہ محصن ہے یا غیر محصن۔

۲۔جب اس مجلس میں اصل مجرم نے اعتراف جرم کیا تو اس کے بارے میں بھی تحقیق نہیں کی گئی کہ وہ محصن ہے یا غیر محصن۔ اگر یہ روایت درست ہے کہ اس کے بارے میں رجم کا فیصلہ کیاگیا تو اس کے محصن ہونے کی تحقیق کے بغیر کیاگیا اور اگر مسند احمد اور نسائی کی روایت، جسے حافظ ابن القیم نے ترجیح دی ہے، درست ہے تو اس سے واضح ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصمت دری کو حرابہ قرار دیا اور جب ایک شخص نے خود اعتراف کرکے اپنے آپ کو عدالت کے روبرو پیش کردیا تو آپ نے آیت حرابہ (المائدہ ۵:۳۴) کے تحت اس کی سزا معاف کردی۔

نیزعقل عام کا تقاضا یہ ہے کہ عصمت دری، زنا بالرضا سے زیادہ سنگین جرم ہے، اس لیے اس پر وہی سزا دینا جو زنا بالرضا پر ہے، قرین انصاف نہیں بلکہ جس طرح ڈاکے کی سزا چوری سے زیادہ سنگین ہے، عصمت دری کی سزا زنا بالرضا سے زیادہ سنگین ہونی چاہیے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی (احکام القرآن ۲:۹۵) نے ان فقہا اور قاضیوں کی عقل کا ماتم کیاہے جو ڈاکے کو توحرابہ قراردیتے ہیں، لیکن عصمت دری کو حرابہ قرارنہیں دیتے ۔وہ لکھتے ہیں:

’’میرے ایام قضا میں ایک قافلے پر کچھ لوگوں نے حملہ کیا اور ایک عورت کو زبردستی اٹھا کرلے گئے۔جب وہ پکڑے گئے اور مقدمہ میری عدالت میں پیش ہوا تو اللہ تعالیٰ نے جن مفتیوں کی آزمائش میں مجھے مبتلا کردیاتھا، میں نے ان سے رائے لی تو وہ کہنے لگے، چو ں کہ مال نہیں لوٹاگیا، اس لیے یہ حرابہ نہیں ہے، عصمت دری میں حرابہ نہیں ہوتا۔ میں نے کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون، کیا تمہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ عصمت دری کا حرابہ ڈاکے سے زیادہ سنگین ہے۔ لوگ اپنے سامنے اپنا مال تو لٹتا دیکھ سکتے ہیں، لیکن اپنی بیوی یا بیٹی کی عزت پامال ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ اگر اللہ کی مقررکردہ سزا سے زیادہ سزا دی جاسکتی تو عصمت کے ان لٹیروں کو دی جاتی۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو جاہل مفتیوں اور قاضیوں سے بچا کر رکھے۔‘‘

حدود آرڈیننس کے مولفین نے عصمت دری کو اگر چہ زنا کی قسم قرار دیتے ہوئے اس کے لیے معیار ثبوت وہی مقرر کیاتھا جو زنا کا ہے، لیکن انہیں اس جرم کی سنگینی کا بھی احساس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کنوارے مجرم کے لیے بھی سو کوڑوں سے زائد سزا، جو سزائے موت بھی ہوسکتی ہے، تجویز کرتے ہیں، البتہ عصمت دری کو زنا قرار دینے کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ تنہا عورت کو بے آبرو کرنے والے غنڈے بدمعاشوں کو قانونی تحفظ فراہم ہو جاتاہے کیوں کہ زنا کا معیار ثبوت ایساہے جو شاید دست یاب نہ ہوسکے اور اگر گواہ میسر آبھی جائیں تو تزکیۃ الشہود کی بھٹی میں ہی بھسم ہوجائیں گے اور عصمتوں کے لٹیرے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ عصمت دری کو زنا قرار دینے سے کئی اور قانونی پیچیدگیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ مثلاً کیا جو عورت عصمت دری کا شکار ہوئی ہے، اسے زانیہ کہنا درست ہے ؟کیا کسی مرد ہ عورت یا کسی جانورسے بدفعلی کرنا بھی موجب حدہے؟ اس لیے کتاب وسنت کی تصریحات کی ر وشنی میں ہماری رائے یہ ہے کہ عصمت دری، زنا کی قسم نہیں بلکہ اس سے زیادہ گھناؤنا اور سنگین فعل ہے، یعنی حرابہ ۔عصمت دری کے زنانہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جرم موحب حد نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا معیار ثبوت اور اس کی سزا وہ نہیں جو زنا کی ہے جس میں ثبوت کے لیے چار چشم دید مسلمان مرد گواہوں کی شرط ہے جو تزکیۃ الشہود کے معیار پر پورے اتریں اور سزا میں کنوارے اور شادی شدہ میں امتیاز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جرم ان تمام ذرائع سے ثابت ہوجائے گا جن سے جرائم ثابت ہوتے ہیں۔

حرابہ کی سزا قرآن حکیم نے مقرر کر دی ہے اور وہ چار سزائیں ہیں جو سورہ المائدہ آیت ۳۳ میں مذکورہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ قاضی جرم کی نوعیت، شدت اور حالات کو جانچتے ہوئے ان میں سے کوئی ایک سزا دے دے اور ان میں سزائے موت بھی شامل ہے۔ اس لیے تحفظ نسواں بل میں عصمت دری کو تعزیر ی جرم قراردینا قرآن حکیم کی روسے غلط ہے۔ اسے جرائم حدود میں رکھاجائے اور حدود آرڈیننس میں اس کے ثبوت اور سزا کے حوالے سے تبدیلی کردی جائے۔

تحفظ نسواں بل میں عصمت دری کو تعزیری جرائم میں شامل کیاگیاہے۔ یہ جرم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہے۔ اس قانون کی تدوین کے دوران اس امر پر بھی غور نہیں کیا گیا کہ اگر کسی شخص پر عصمت دری کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہو اور عدالت میں مدعیہ کا جھوٹ ثابت ہوجائے یا عصمت دری ثابت نہ ہو سکے تو جھوٹا الزام عائد کرنے پر کیا سزا دی جائے گی؟ جہاں تک قذف کی خود کار سزا کا تعلق ہے، وہ جرم زنا کے عدم ثبوت سے وابستہ ہے نہ کہ عصمت دری کے عدم ثبوت سے۔ موجودہ دفعہ سے اس امر کا اندیشہ بڑھ گیاہے کہ سیاسی اور دیگر نوعیت کے مخالفین کے خلاف بے بنیاد جنسی الزامات عائد کرکے ان کو سزائیں دلوانے یا ان کا مستقبل تاریک کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوجائے گا ۔اب صحت مند انتخابی مہم چلانے کے بجائے مخالف امیدوار کو عصمت دری کے مقدمے میں ملوث کرکے اس سے بآسانی اس طرح نجات حاصل کی جاسکے گی جس طرح ملائشیا کے ڈپٹی پرائم منسٹر انور ابراہیم کو ان کی اسلامی خدمات کا صلہ دیتے ہوئے نہ صرف منظر سے ہٹا دیاگیا بلکہ ہمیشہ کے لیے بے آبرو کر دیا گیا۔ کرایہ داروں سے مکان خالی کرانے اور سینئر افسران سے ان کی سیٹ خالی کرانے کے لیے مذکورہ دفعہ اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ اس امر کا بھی اندیشہ ہے کہ گھریلو خادمائیں اس دفعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر گھر کو یرغمال بنا لیں اور اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں گھر کے کسی مرد پر عصمت دری کا الزام عائد کرکے ہر گھر کاسکون غارت کر دیں۔ اسلام نے اس کا علاج بھی ساتھ ساتھ دیاہے اور وہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں ثبوت جرم کے لیے قابل اعتماد ثبوت ہونا ضروری ہے، اور الزام غلط ثابت ہونے پر حد قذف کی خود کار سز ا موجود ہے۔

علما کمیٹی نے فحاشی کی روک تھام کے لیے یا دوسرے لفظوں میں حدود آرڈیننس میں زنا موجب تعزیر کی دفعہ کے متبادل کے طور پر مندرجہ ذیل دفعہ تجویز کی تھی:

A man and woman are said to commit lewdness if they willfully have sexual intercourse with one another and shall be punished with imprisonment which may extend to five years and shall also be liable to fine.
’’ایک مرد اور عورت اگر اپنی آزادانہ رضامندی سے باہمی جماع کرتے ہیں تو انہیں فحاشی کا مرتکب قرار دیا جائے گا اور انہیں پانچ سال تک سزائے قید دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔‘‘

تحفظ نسواں بل میں اس تجویز کی زبان بہتر کرکے میاں بیوی کو اس جرم سے خارج کردیاگیاہے تاہم قانون سازی کی اس ساری سرگرمی میں اس اصل جرم کا کہیں ذکر نہیں ہے جس کے بارے میں موثر قانون سازی کی ضرورت تھی اور جو بنیادی خرابی ہے جسے اسلام بیخ وبن سے اکھاڑ دینا چاہتاہے، اور وہ ہے ’’فحاشی اور بے حیائی کی اشاعت ‘‘۔

اسلامی احکام کی رو سے معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کی اشاعت ایک سنگین جرم ہے جس کے بارے میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرے اور اشاعت فاحشہ کے مجرموں کو سنگین سزا دے۔ اسلام جہاں چار دیواری کا تحفظ کرتاہے اورلوگوں کے گناہ تلاش کرنے کے لیے ان کے گھروں میں جھانکنے اور ان کی نجی زندگی کی ٹوہ لینے سے سختی سے منع کرتاہے، وہاں وہ معاشرے کو پاک صاف رکھنے کے لیے فحاشی کی اشاعت پر پابندی عائد کرتاہے۔ زنا کے ثبوت کے لیے چار چشم دید گواہوں کی شرط بھی درحقیقت کھلم کھلا فحاشی کے ارتکاب کو روکنے کے لیے ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اگر چار گواہ موجود نہیں ہیں تو زنا جرم نہیں یا اس کے جرم ہونے کی شد ت کم ہوجاتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چار گواہ موجود نہیں تو زنا گناہ ہونے کے باوجود ’’فحاشی کی اشاعت‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا۔ قرآن حکیم نے سورہ النور میں عصمت وعفت کے تحفظ کے قوانین بیان کرتے ہوئے ان قوانین کا مقصد یہی بیان کیا کہ مسلم معاشرے میں فحاشی کی اشاعت نہ ہو ۔قرآن کہتاہے :

إِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِیْ الَّذِیْنَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ(النور۲۴:۱۹)
’’جو لوگ اہل ایمان میں فحاشی کی اشاعت کو پسند کرتے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔‘‘

حیرت کی بات ہے کہ جن گونا گوں طریقوں سے سرکاری سرپرستی میں بے حیائی اور فحاشی کی اشاعت ہوتی ہے، اس کے سامنے بند باندھنے کے لیے کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہوتی بلکہ اسے میڈیا کی آزادی کے عنوان سے تحفظ دیا جاتا ہے۔ بے حیائی کی اشاعت جو قرآن کریم کی رو سے اصل برائی ہے، اس کے سدِ با ب کے لیے حدود آرڈیننس میں کوئی دفعہ تھی، نہ تحفظ نسواں ایکٹ میں ہے۔

حدود آرڈیننس اور حقوق نسواں ایکٹ کے گہرے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ جس طرح اسلامی قانون جرم وسزا کے نفاذ کے بے پایاں شوق کے نتیجے میں مناسب غوروفکر کے بغیر حدودآرڈیننس نافذ کردیاگیاتھا اور اس میں بہت سی دفعات کتا ب وسنت سے متصادم تھیں، اسی طرح اس کی ترمیم وتنسیخ کے جذبہ فراواں کے تحت جلد بازی اور افراتفری میں تحفظ نسواں بل پاس کردیاگیاہے جس کی کئی ایک دفعات کتا ب وسنت کے خلاف ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قانون سازی دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ اسلامی حوالے سے اس کے لیے کتاب وسنت کے مکمل علم اور ائمہ مجتہدین کی کاوشوں سے آگاہی کے علاوہ معاشرتی روایات، تمدنی ارتقا، فلسفہ قانون، سابقہ قوانین کے اثرات ونتائج اور مجوزہ قوانین کے متوقع اثرات کے بارے میں گہری بصیرت درکار ہوتی ہے۔ حیرت ہے کہ تحفظ نسواں ایکٹ کی کئی ایک دفعات کے کھلم کھلا کتاب وسنت سے متصادم ہونے کے باوجود اسلامی نظریاتی کونسل نے اسے کیسے ’’مشرف باسلام‘‘ کرلیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بقول علامہ اقبال ؂

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

اگر اس ملک کی ہمہ مقتدر شخصیت اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف یہ بات غلط منسوب کر رہی ہے تو کونسل کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے کیونکہ 

نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں 
فقیہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا



* یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ تین دفعات کے بارے میں علما کمیٹی اور چودھری شجاعت حسین صاحب اور ان کے رفقا کے درمیان اتفاق ہوا ہے، جبکہ دوسری بہت سی دفعات کے بارے میں بھی علماء کرام نے متعلقہ رپورٹ میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ان کے حوالے سے اپنی رائے الگ پیش کی ہے۔ (راشدی)


آراء و افکار