ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

کل مضامین: 8

یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ

انڈیا میں سپریم کورٹ نے یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کے بارے میں متبادل قانون سازی کی ہدایت کی ہے جس پر مختلف طبقات کی طرف سے ملا جلا ردعمل آیا۔ کچھ اہل علم نے اسے دین میں مداخلت قرار دیا جبکہ کچھ دوسرے حضرات نے مختلف فقہی آراء میں سے ایک رائے کو ترجیح دینے کا کورٹ کا جائز حق بتایا۔ بالعموم مسلم سماج میں مسائل کو فقہی مذاہب کی روشنی میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور نظری طور پر فریق مخالف کے درست ہونے کے امکان کو ماننے کے باوجود عملاً ہر فریق صرف اپنے فقہی موقف کو ہی درست مانتا ہے۔ ہمارے سماج میں ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کی تلاش میں...

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

مجھے نہ معلوم کیسے شروع سے یہ احساس تھا کہ پاکستان بر صغیر میں اسلام کی بقا کے باعث وجود میں آیا۔انگریزی انتداب کے بعد جس طبقے نے اسے سپین ہونے سے بچایا، حقیقتاً وہی لوگ اس ملک کے خالق ہیں اور اس کا نظم چلانے کے اولیں مستحق بھی۔ لیکن تاریخی ارتقا کے نتیجے میں ملکی نظم و نسق چلانے کے لیے کچھ مخصوص مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ مدارس کا ایک طبقہ تقسیم ملک کے بعد بھی اس ذہنی کیفیت سے نہیں نکل سکا جو غیر ملکی تسلط کے باعث پیدا ہوئی تھی اور ایک حد تک فطری اور نا گزیر تھی۔ دوسرا طبقہ ’’کنجے گرفت و ترس خدا را بہانہ ساخت‘‘ کا پیکر ہو گیا۔ ایسے میں...

’’فقہائے احناف اور فہم حدیث۔ اصولی مباحث‘‘

حال ہی میں جناب پروفیسر عمار خان ناصر کی کتاب "فقہائے احناف اور فہمِ حدیث۔ اصولی مباحث" کتاب محل لاہور سے طبع ہوکر آئی ہے۔ کتاب اس کش مکش کو حل کرنے کی کوشش ہے جو برصغیر میں حنفی مدارس کے درسِ نظامی کے ہر ذہین طالب علم کو پیش آتی ہے کہ اگر صحاحِ ستہ کے اس ذخیرہ احادیث پر جو داخل نصاب ہے اور جن میں سے بعض کتب کو اَصح الکتب قرار دیا جاتا ہے، احکامِ شرعیہ کا مدار ہے تو حنفی فقہ کے حدیث سے مستنبط ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور اگر حنفی فقہ کی زیرِ تدریس کتب میں مذکور ادلہ مستند ہیں تو کیا عقل و قیاس کی اساس پر صحیح احادیث سے صرفِ نظر کیا...

مولانا محمد عبید اللہ اشرفی رحمہ اللہ

جامعہ اشرفیہ کے مہتمم، سراپا اخلاق و تبسم، زندہ دل، خندہ جبیں، علم و حلم کا حسین امتزاج، شکوہ علم کے بغیر کوہ علم اور زعم تقویٰ سے خالی زبدہ اتقیا ء۔اتنے بے تکلف کہ شاگرد سراپا حیرت رہ جاتے اور اتنے مودب کہ معاصرین کو اساتذہ کا سا درجہ دیتے۔ حدیث کے زیر سایہ منطق کلام تصوف یا فقہی مناظرہ آراء کی تدریس ایک الگ پہلو ہے، لیکن حدیث بحیثیت حدیث کی تدریس میں ان کو تفوق حاصل تھا۔ تاہم نہ صرف یہ کہ کبھی بخاری پڑھانے کی خواہش نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنے کو شیوخ حدیث کے شاگردوں کی سطح پر رکھا۔ صبح صبح ہمیں ابوداود اور پھر طحاوی پڑھانے آتے تو کبھی اس نشست...

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز

(فضلاء مدارس کے معاشی مستقبل کے حوالے سے جناب ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی (ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، ہائی ٹیک یونیورسٹی، ٹیکسلا) نے گزشتہ دنوں فیس بک پر اپنے صفحے پر بعض تبصرے پیش کیے جنھیں موضوع کی مناسبت سے یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔) دینی مدارس کے فضلاء پچھلے کچھ عرصے سے بڑی تعداد میں ایم فل پی ایچ ڈی کرنے آرہے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کی بڑی تعداد بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں آتی ہے جس کے پس منظر میں اس احساس کی تلخی کم و بیش موجود ہوتی ہے کہ دینی نظام تعلیم نے ان کی معاشی ضروریات سے مکمل صرف نظر کیے رکھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ یونیورسٹی ایجوکیشن کے بلاشبہ...

’تحفظ نسواں ایکٹ‘ کتاب و سنت کے تناظر میں

حال ہی میں حکومت پاکستان نے حدود آرڈیننس کے دو قوانین، حد زنا اور حد قذف میں ترمیم کرکے ’تحفظ نسواں بل‘ کے عنوان سے ایک نیا قانون متعارف کروایا۔ اس قانون کو کتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک خصوصی علماء کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ بعد میں یہ بل مختلف مراحل طے کرتا ہوا قانون ساز اداروں سے پاس ہوگیا، تاہم اس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک بہت بڑا انزاع پیدا ہوگیا کہ یہ قانون کتاب وسنت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟ حدود آرڈیننس کی طرح اس قانون کے بارے میں اختلاف نے بھی سیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے۔ زیر نظر تحریر میں ہم نے کوشش کی ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں...

حدود اللہ اور حدود آرڈیننس ۔ جناب ڈاکٹر طفیل ہاشمی کا مکتوب گرامی

باسمہ تعالیٰ۔ اسلام آباد۔ ۱۴؍ اگست ۲۰۰۶۔ گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی، زیدت معالیکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟ آپ کا موقر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ بلا مبالغہ پاکستان کے فکری افلاس کے تپتے ہوئے صحرا میں زلال صافی ہے جو جرعہ کشان علم وتحقیق کی سیرابی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ اگر کبھی اس میں درد تہ جام کی مقدار زیادہ ہو جائے تو بھی ہم تشنگان محبت اسے اسی ذوق وشوق سے پی جاتے ہیں، تاہم خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔ آپ نے الشریعہ کے جولائی ۲۰۰۶ کے شمارے میں نیاز مند کو بھی یاد فرمایا اور اپنے علمی مقام ومنصب، فکری بلند پروازی،...

’’حدود آرڈیننس: کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ ۔ ’’فکر و نظر‘‘ کے تبصرے کا جائزہ

فکر ونظر کے شمارہ اکتوبر۔دسمبر ۲۰۰۴ میں راقم کی کتاب ’’حدود آرڈیننس: کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ پر ادارۂ تحقیقات اسلامی کے نامور محقق جناب ڈاکٹر محمد طاہر منصوری کا انتہائی وقیع تبصرہ شائع ہوا جس میں جہاں انھوں نے راقم کی حقیر کاوش کو دل آویز انداز میں سراہتے ہوئے اس کا تفصیلی تعارف پیش کیا، وہاں بعض مباحث پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ علوم اسلامیہ سے وابستہ دیگر افراد کی طرح راقم بھی طویل عرصے تک یہی سمجھتا رہا کہ حدود آرڈیننس کتاب وسنت سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوگا اور کبھی اس کے مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ان قوانین...
1-8 (8)