مسجد أقصیٰ کی تولیت ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تاریخی و تحقیقی جائزہ

حافظ محمد زبیر

’المورد‘ کے اسسٹنٹ فیلواور ماہنامہ’ الشریعہ ‘کے مدیر جناب محمد عمار خان ناصرصاحب کی طرف سے ماہنامہ ’اشراق‘ جولائی و اگست ۲۰۰۳ میں ’’مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ کے عنوان سے ایک طویل مضمون شائع ہوا۔ چونکہ محترم عمار صاحب نے اپنے اس مضمون میں امت مسلمہ کے عام مؤقف کے بالکل برعکس ایک نئی رائے کا اظہار کیا تھا، اس لیے مختلف علمی حلقوں کی طرف سے ان کو مختلف قسم کی علمی اورجذباتی تنقیدی آرا کا بھی سامنا کرناپڑا۔ عمار صاحب نے ماہنامہ ’اشراق‘ مئی وجولائی ۲۰۰۴ کے شماروں میں ان تمام تنقیدی آرا کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ہمارے علم کی حد تک کسی ناقد نے بھی عمارصاحب کی اس اصولی غلطی کی نشاندہی نہیں کی جو کہ ان کے مضمون کی کل بنیاد ہے۔ عمار صاحب کے اس طویل مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ مسجد أقصیٰ کی تولیت کا شرعی حق یہود کو حاصل ہے، اگرچہ تکوینی طور پر یہ مسجد سینکڑوں سال سے مسلمانوں کی تولیت میں ہے۔ مسجد أقصیٰ کی تولیت پر یہود کے شرعی حق کی کل دلیل ‘عمار صاحب کے نزدیک وہ اسرائیلیات ہیں جن کو وہ کتاب مقدس کے بیانات کہتے ہیں۔ ان اسرائیلی روایات سے محترم عمار صاحب نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مسجد اقصیٰ یعنی ہیکل سلیمانی کو حضرت سلیمان نے اپنے زمانے میں جنات سے تعمیر کروایا تھا۔ یہ ہیکل یہودیوں کا قبلہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ ان کا مقام حج ہے۔ یہی ان کی قربان گاہ اورمر کز عبادت ہے۔ اس کی طرف رخ کر کے وہ نماز ادا کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ نظریہ ہی غلط ہے کہ مسجد أقصیٰ یہودیوں کا قبلہ یا مقام حج یا نماز کے لیے ایک سمت ہے۔ قرآن و سنت تو کیا، کسی ایک اسرائیلی روایت سے بھی یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ بیت المقدس کو اللہ تعالیٰ نے یہود کا قبلہ مقرر کیا تھا۔ حق بات یہ ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا کاقبلہ ’مسجد حرام ‘ رہا ہے۔ تمام انبیا مسجد حرام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ہیں اور یہیں آ کر فریضہ حج ادا کرتے رہے ہیں۔ مسجد أقصیٰ کواپنا قبلہ قرار دینا یہودیوں اور عیسائیوں کی اپنے دین میں اختراع ہے۔ مسجد أقصیٰ کی حیثیت مسلما نوں کے ایک بابرکت مقام اور مسجد کی سی ہے۔مسجد أقصیٰ یہودیوں کی نہیں، بلکہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اس لیے اس کی تولیت کا حق بھی مسلمانوں ہی کو حاصل ہے ۔ مسجد أقصیٰ کا مسئلہ چونکہ ایک اصولی مسئلہ ہے، اس لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس پر اصولی انداز میں بحث ہونی چاہیے ۔عمار صاحب سے اس مسئلے کی تحقیق میں جو بنیادی غلطی ہوئی، وہ یہ کہ انھوں نے اسرائیلیات کی روشنی میں قرآن و سنت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ (۱) ا گر وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اسرائیلی روایات کوسمجھنے کی کوشش کرتے تو ان کے نتائج اس سے بہت مختلف ہوتے جو کہ وہ بیان کر رہے ہیں ۔ 

(۱) محترم عمار صاحب نے تحقیق کا یہ انداز و اسلوب جناب غامدی صاحب سے سیکھا ہے غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’میزان‘ میں تفصیل سے اپنے اس اصول کو بیان کیا ہے کہ قرآن کو سابقہ صحف سماویہ کی روشنی میں سمجھنا چاہیے ۔

مسجد اقصیٰ کی فضیلت

مسجد أقصیٰ کے درج ذیل فضائل قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں :

۱) مسجد أقصیٰ بابرکت زمین میں ہے:

قرآن میں چارمقامات پر سرزمین شام کو بابرکت زمین کہا گیا ہے۔ نزول قرآن کے وقت ملک شام‘ موجودہ شام سے بہت وسیع تھا۔موجودہ فلسطین بھی اس کا ایک حصہ تھا۔ مسجد أقصیٰ شام کی اسی بابرکت سرزمین میں واقع ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

و أورثناالقوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الأرض و مغاربھا التی بارکنا فیھا (الأعراف:۱۳۷)
’’اور ہم نے اس قوم کو کہ جس کوکمزور بنایا گیا تھا‘ اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنایا کہ جس سرزمین میں ہم نے برکت رکھ دی ہے۔ ‘‘

اس آیت مبارکہ میں حضرت سلیمان کے دور میں موجود بنی اسرائیل کی اس عظیم سلطنت کی طرف اشارہ ہے جو کہ اس زمانے کے شام اور اس کے گردو نواح پر مشتمل تھی ۔

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :

و نجیناہ و لوطا الی الأرض التی بارکنا فیھا للعالمین (الأنبیاء:۷۱)
’’اور ہم اس کو (یعنی حضرت ابراہیم) اور حضرت لوط کو نجات دی ایک ایسی سرزمین کی طرف کہ جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لیے برکت رکھ دی ہے۔‘‘

اس آیت مبارکہ کے الفاظ ’العالمین‘ سے واضح ہوتا ہے کہ سرزمین فلسطین و شام کی برکات کسی خاص جماعت، قوم یامذہب کے ماننے والوں کے لیے نہیں ہیں جیسا کہ یہودیوں کا یہ خیال ہے کہ اس سرزمین کی برکات ان کے لیے مخصوص ہیں بلکہ اس سرزمین کی برکت تمام اقوام ‘مذاہب اور جماعتوں کے لیے ہیں ۔

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:

و لسلیمن الریح عاصفۃ تجری بأمرہ الی الأرض التی بارکنا فیھا (الأنبیاء:۸۱)
’’اور حضرت سلیمان کے لیے ہم نے تیز و تند ہوا کومسخر کر دیا تھا جوان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی کہ جس میں ہم نے برکت رکھ دی ہے ۔‘‘

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :

و جعلنا بینھم و بین القری التی بارکنا فیھا قری ظاہرۃ (سبا:۱۸)
’’اور ہم نے ان (یعنی قوم سبا)کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان کہ جن میں ہم نے برکت رکھ دی ہے‘ کچھ نمایاں بستیاں بنائی تھیں ۔‘‘

اس آیت مبارکہ کے الفاظ ’القری‘ سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ برکت صرف فلسطین کی بستی میں نہیں رکھی گئی بلکہ ان تمام بستیوں میں رکھی گئی ہے جو کہ سرزمین شام پر واقع ہیں ۔

۲) مسجد أقصیٰ کے ارد گرد کی سرزمین بھی بابرکت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

سبحن الذی أسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الأقصی الذی بارکنا حولہ (الاسراء:۱) 
’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو ایک رات میں مسجدحرام سے مسجد اقصی تک کہ جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھ دی ہے ۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد أقصی کے ساتھ ساتھ اس کے ارد گرد کی سرزمین یعنی فلسطین و شام کا علاقہ بھی بابرکت ہے۔ 

۳) مسجد أقصیٰ ارض مقدسہ میں ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

یا قوم ادخلوا الأرض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدہ:۲۱)
’’اے میری قوم کے لوگو!داخل ہو جاؤاس مقدس سرزمین میں کہ جس کواللہ تعالی نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ۔‘‘

قتادہ کے نزدیک ارض مقدسہ سے مراد ’شام‘ ہے جبکہ مجاہد اور ابن عباس کے ایک قول کے مطابق ’کوہ طور اور اس کے ارد گرد کا علاقہ ‘مراد ہے ۔اسی طرح سدی اور ابن عباس کے دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد ’أریحا‘ ہے ۔زجاج نے کہا اس سے مراد’دمشق اور فلسطین ‘ ہے ۔بعض مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ اس سے مراد ’اردن کا علاقہ‘ ہے۔امام قرطبی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ان تمام اقوال کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ قتادہ کا قول سب کو شامل ہے ۔ امام قرطبی کے اس قول سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں شام میں فلسطین‘دمشق اور اردن کا علاقہ بھی شامل تھااسی طرح کوہ طور اور اس کے ارد گرد کا علاقہ حتی کہ أریحا کا شہر بھی شام کی بابرکت سرزمین کی حدود میں تھا ۔

۴) بیت اللہ کے بعد دوسری مسجد :

مسجد أقصیٰ روئے زمین پربیت اللہ کے بعد دوسری مسجد ہے کہ جس کو عبادت الہی کے لیے تعمیر کیا گیا۔حضرت ابو ذر غفاری سے روایت ہے :

سألت رسول اللہ ﷺ عن أول مسجد وضع فی الأرض قال المسجد الحرام قلت ثم أی قال المسجد الأقصی قلت کم بینھما قال أربعون عاما (۱)
’’میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اس روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی آپ نے جواب دیا مسجد حرام ‘میں نے پھر سوال کیا اس کے بعد کون سی مسجد تعمیر کی گئی تو آپ نے فرمایا مسجد اقصی ‘ میں نے کہا ان دونوں کی تعمیر کے دوران کل کتنا وقفہ ہے تو آپ نے کہا چالیس سال ۔‘‘

۵) مسجد أقصیٰ کی طرف شد رحال کی مشروعیت :

مسجد أقصیٰ ان تین مساجد میں شامل ہے کہ جن کا تبرک حاصل کرنے کے لیے یا ان میں نماز پڑھنے کے لیے یا ان کی زیارت کے لیے سفر کو مشروع قرار دیا گیا ہے ۔آپ کا رشاد ہے :

لا تشد الرحال الاالی ثلاثۃ مساجد مسجدی ھذا و مسجد الحرام و المسجد الأقصی (۲)
’’تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کا قصد کر کے سفر کرنا جائز نہیں ہے میری اس مسجد کا یعنی مسجد نبوی کا ‘مسجد حرام کا اور مسجد أقصیٰ کا۔‘‘

۶) مسجد أقصیٰ کو انبیاء نے تعمیر کیا :

مسجد اقصیٰ ان مساجد میں سے ہے کہ جس کو جلیل القدر انبیاء نے تعمیر کیا ۔طبرانی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں :

أن داؤد ابتدأ ببناء البیت المقدس ثم أوحی اللہ الیہ انی لأقضی بناؤہ علی ید سلیمان (۳)
’’حضرت داؤد نے بیت المقدس کی تعمیر کے لیے بنیادیں رکھیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں مسجد أقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان کے ہاتھوں مکمل کرواؤں گا۔‘‘

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمروؓ اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں :

أن سلیمان بن داؤد لما بنی بیت المقدس سال اللہ عز وجل خلالا ثلاثۃ ... سأل اللہ عز وجل حین فرغ من بناء المسجد أن لا یاتیہ أحد لا ینھزہ الا الصلاۃ أن یخرجہ من خطیئتہ کیوم ولدتہ أمہ (۴)
’’حضرت سلیمان نے جب بیت المقدس کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالی سے تین باتوں کی دعا کی ...‘‘

۷) مسجد أقصیٰ میں نماز پڑھنے کی فضیلت :

صحیح حدیث میں مسجد أقصیٰ میں نماز پرھنے کی بہت زیادہ فضلیت بیان ہوئی ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمروؓ اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں :

أن سلیمان بن داؤد لما بنی بیت المقدس سال اللہ عز وجل خلالا ثلاثۃ ... سأل اللہ عز وجل حین فرغ من بناء المسجد أن لا یاتیہ أحد لا ینھزہ الا الصلاۃ فیہ أن یخرجہ من خطیئتہ کیوم ولدتہ أمہ (۵)
’’حضرت سلیمان نے جب بیت المقدس کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالی سے تین باتوں کی دعا کی ...جب وہ مسجد بنا کر فارغ ہو گئے تو اللہ تعالی سے سوال کیا کہ جب بھی کوئی شخص اس مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے آئے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو کرنکلے جیسے کہ اس کی ماں نے اس کو جنا ہو۔‘‘

۸) مسجد أقصیٰ سے احرام باندھ کر حج کرنے کی فضیلت :

مسجد أقصیٰ سے حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھ کر مسجد حرام کی طرف نکلنے کی بہت زیادہ فضیلت حدیث میں آئی ہے۔أم المؤمنین حضرت أم سلمہؓ آپ ؐ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا:

من أھل بحجۃ أو عمرۃ من المسجد الأقصی الی المسجد الحرام غفر لہ ما تقدم من ذنبہ و ما تأخر أو وجبت لہ الجنۃ شک عبداللہ أیتھماقال (۶)
’’جس نے بھی مسجد اقصی سے مسجد حرام تک لیے حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے یا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ عبد اللہ کو شک گزرا کہ آپؐ نے ان دونوں میں کون سے الفاظ فرمائے ہیں ۔‘‘

۹) مسجد أقصیٰ میں نماز پڑھنے کی نذر ماننا جائز ہے :

فتح مکہ کے موقع پر ایک شخص نے آپ ؐ سے آ کر سوال کیا :

یا رسول اللہ انی نذرت للہ ان فتح اللہ علیک مکۃ ان أصلی فی بیت المقدس رکعتین قال صل ھا ھنا ثم أعاد علیہ فقال صل ھا ھنا ثم أعاد علیہ فقال صل ھاھنا ثم أعاد علیہ فقال شانک (۷) 
’’اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کے ہاتھوں مکہ فتح کروا دیا تو میں بیت المقدس میں دورکعت نماز پڑھوں گا۔آپ ؐ نے فرمایا یہاں ہی پڑھ لے اس نے پھر آپؐ کے سامنے اپنی بات کو دھرایا آپ ؐ نے فرمایا یہاں نماز پڑھ لے اس نے پھر اپنی بات کو دھرایاآپ ؐ نے فرمایا یہاں نماز پڑھ لے اس نے پھر اپنی بات کودھرایاتو آپ ؐ نے فرمایا تمہارا معاملہ ہے (یعنی جہاں تو چاہے پڑھ لے میں نے تو تیری آسانی کی خاطر تجھے یہ مشورہ دیا تھا)۔ ‘‘

اس کے علاوہ بھی روایات ہیں کہ جن سے مسجد اقصیٰ کی برکت و فضیلت کا اظہار ہو تا ہے لیکن طوالت کے خوف سے ہم صرف انہی روایات پر اکتفا کرتے ہیں ۔

مسجد اقصیٰ کی تعمیر وتاریخ

محترم عمار صاحب نے اپنے مضمون میں مسجد أقصیٰ کی تاریخ بیان کرتے ہو ئے اپنی تحقیق کی کل بنیاد اسرائیلی روایات کو بنایا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ جس میں مسجد اقصیٰ کی پہلی تعمیر کا تذکرہ ہے، اس کو حاشیہ میں بیان کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عمار صاحب کی اس نادر تحقیق کے اصل اور فیصلہ کن مصادرکون سے ہیں ؟

قرآن و سنت کی روشنی میں مسجد أقصیٰ کی تعمیر و تاریخ کا تعین کرنے میں حضرت ابو ذر غفاریؓ کی درج ذیل روایت کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ حضرت ابوذر سے روایت ہے :

سألت رسول اللہ ﷺ عن أول مسجد وضع فی الأرض، قال المسجدالحرام، قلت ثم أی؟ قال المسجد الأقصی، قلت کم بینھما قال أربعون عاما (۸)
’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ نے جواب دیا: مسجد حرام۔ میں نے پھر سوال کیا: اس کے بعد کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے کہا: ان دونوں کی تعمیر کے دوران کل کتنا وقفہ ہے؟ آپ نے کہا: چالیس سال ۔‘‘

اس روایت سے درج ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں :

۱) اس زمین پر سب سے پہلی مسجد جو کہ اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گئی ‘مسجد حرام ہے ۔

۲) دوسری مسجد جو کہ اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گئی ‘مسجد أقصیٰ ہے ۔

۳) ان دونوں مساجد کی تعمیرکے درمیان چالیس سا ل کا وقفہ ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کس دور میں ہوئی؟اگر بیت اللہ کی تعمیر کا زمانہ متعین ہو جائے تو مسجد أقصیٰ کی تعمیر کازمانہ از خود متعین ہو جائے گا، کیونکہ صحیح حدیث کے مطابق مسجد أقصیٰ کی تعمیر بیت اللہ کی تعمیر کے چالیس سال بعد ہوئی۔ بیت اللہ کی تعمیر کے بارے میں آرا مختلف ہیں جن میں سے دو ہی آرا دلائل کی روشنی میں قوی ہیں : 

الف) ایک رائے یہ ہے کہ بیت اللہ کی سب سے پہلی تعمیرحضرت ابراہیم کے زمانے میں ہوئی تھی۔ قرآنی نص سے یہ بات ثابت ہے کہ بیت اللہ کو حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت وا سمعیل (البقرۃ:۱۲۷)
’’ اور جب حضرت ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور حضرت اسمٰعیل بھی ۔‘‘

اگر ہم حضرت ابراہیم کی تعمیر کو بیت اللہ کی پہلی تعمیر مانیں تو مسجد أقصیٰ کے پہلے مؤسس حضرت ابراہیم ہوں گے۔ 

ب) دوسری رائے یہ ہے کہ بیت اللہ کی پہلی تعمیر حضرت آدم کے زمانے میں ہوئی۔ اگر اس قول کو صحیح مانیں تو مسجد أقصیٰ کے مؤسس حضرت آدم قرار پائیں گے۔ ہمارے نزدیک صحیح قول یہی ہے کہ بیت اللہ کی پہلی تعمیر حضرت آدم نے کی۔ حضرت ابراہیم نے آکر اس کی تجدید کی ہے۔ ہماری اس رائے کی بنیاد درج ذیل دلائل پر ہے :

۱) اللہ تعالیٰ نے تمام انبیا کے لیے نماز کو مشروع قرار دیا تھا جس کے لیے ایک قبلہ کا ہونا ضروری تھا۔ لہٰذ ایہ ثابت ہوا کہ حضرت آدم کے دین میں نماز کا مشروع ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے لیے حضرت آدم کوئی قبلہ بھی تعمیر کریں۔

۲) اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ حضرت ابراہیم نے سب سے پہلے بیت اللہ کی تعمیر کی تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس بات کا بھی اقرار کیا جائے کہ حضرت ابراہیم سے ماقبل اسلامی شریعتوں میں حج کا کوئی تصور نہ تھا جو کہ غلط ہے ۔لہٰذا یہ ثابت ہو اکہ حضرت ابراہیم سے پہلے مختلف انبیا کے ہاں حج کا تصور اس بات کو ملتزم ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے ایک قبلے کا وجود مانا جائے۔

۳) حضرت ابراہیم جب حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو سرزمین مکہ میں آباد کر نے کے لیے وہاں چھوڑنے گئے تو اس وقت انھوں نے دعا مانگی جس کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

ربنا انی أسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم (ابراہیم:۳۷)
’’اے میرے پروردگار! بے شک میں نے اپنی اولاد کو آباد کیا ایک ایسی سرزمین میں جو کہ کھیتی والی نہیں ہے، تیرے حرمت والے گھر کے پاس۔‘‘

اس دعا کے الفاظ ’عند بیتک المحرم‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی اس دعا کے وقت بیت اللہ کی بنیادیں موجود تھیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم سے پہلے تعمیر ہو چکا تھا۔

۴) اس قرآنی مؤقف کے شواہد بعض ضعیف روایات سے بھی ہمیں ملتے ہیں، مثلاً امام بیہقی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں:

بعث اللہ جبرئیل الی آدم وحواء فأمرھما ببناء الکعبۃ فبناہ آدم ثم أمر بالطواف بہ و قیل لہ أنت أول الناس وھذا أول بیت وضع للناس (۹)
’’اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کو حضرت آدم وحوا کی طرف بھیجا اور ان کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا۔ حضرت آدم نے بیت اللہ کو تعمیر کیا، پھر حضرت آدم کو بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا اور حضرت آدم سے کہا گیا کہ تو پہلا آدمی ہے اور یہ پہلا گھر ہے جو کہ لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے ۔‘‘

۵) علامہ ابن حجر نے بھی اسی رائے کو ایک روایت کی بنیاد پر ترجیح دی ہے ۔ابن حجر لکھتے ہیں :

و یؤید قول من قال: أن آدم ھو الذی أسس کلا من المسجدین فذکر ابن ھشام فی کتاب التیجان أن آدم لما بنی الکعبۃ أمرہ اللہ بالسیر الی بیت المقدس وأن یبنیہ فبناہ و نسک فیہ وبناء آدم للبیت مشھور وقد تقدم قریبا حدیث عبد اللہ بن عمرو أن البیت رفع زمن الطوفان حتی بواہ اللہ لابراہیم (۱۰)
’’اور ان لوگوں کے قول کی تائید جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت آدم نے مسجد حرام اور مسجد أقصیٰ دونوں کو تعمیر کیا‘ اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو ابن ہشام نے کتاب التیجان میں نقل کیا ہے کہ حضرت آدم نے جب بیت اللہ کو تعمیر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ بیت المقدس کی طرف جائیں اور اس کی بنیاد رکھیں تو انھوں نے جاکر اس کو تعمیر کیا۔ اور بیت اللہ کی جو تعمیر حضرت آدم کے ہاتھوں ہوئی، وہ معروف ہے۔حضر ت عبد اللہ بن عمرو کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ بیت اللہ کو طوفان نوح کے دوران اٹھا لیا گیا تھا، بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت ابراہیم کاٹھکانہ بنایا ۔‘‘

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ کی طرح مسجد اقصیٰ کی بھی کئی دفعہ تعمیر ہوئی۔ طبرانی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں :

أن داؤد ابتدأ ببناء البیت المقدس ثم أوحی اللہ الیہ انی لأقضی بناؤہ علی ید سلیمان (۱۱)
’’حضرت داؤد نے بیت المقدس کی تعمیر کے لیے بنیادیں رکھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں مسجد أقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان کے ہاتھوں مکمل کرواؤں گا۔‘‘

اسی طرح نسائی کی ایک روایت ہے :

أن سلیمان بن داؤد لما بنی بیت المقدس سأل اللہ عزوجل خلالا ثلاثہ (۱۲)
’’جب حضرت سلیمان نے بیت المقدس کی تعمیرمکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ سے تین باتوں کی دعا کی۔‘‘

ان روایات میں مسجد اقصیٰ کی پہلی تعمیر کے علاوہ‘جو کہ حضرت آدم نے کی تھی‘ ایک دوسری تعمیر کا بھی تذکرہ ہے، کیونکہ حضرت ابراہیم اور حضرت سلیمان کے درمیان زمانی وقفہ ایک تاریخی روایت کے مطابق تین ہزار سال جبکہ دوسری روایت کے مطابق ڈیڑھ ہزار سال ہے ۔ 

ج) ایک تیسری رائے جو کہ محترم عمار صاحب نے حدیث ابو ذر کے حوالے سے اپنے مضمون کے حاشیے میں بیان کی ہے۔ عما ر صاحب لکھتے ہیں :

’’اس روایت پر یہ اشکال ہے کہ تاریخ کے مسلمات کی رو سے مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی اور ان کے اور سیدنا ابراہیم علیہما السلام کے مابین‘ جو مسجد حرام کے معمار تھے‘ کئی صدیوں کا فاصلہ ہے جبکہ روایت میں دونوں مسجدوں کی تعمیر کے درمیان صرف چالیس کا فاصلہ بتایا گیا ہے۔ علمائے حدیث کے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مقام کی تعیین تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرما دی تھی اور مذکورہ روایت میں اسی کا ذکر ہے ‘جبکہ حضرت سلیمان نے صدیوں بعد اسی جگہ پر ہیکل سلیمانی کو تعمیر کیا۔ اس لحاظ سے ان کی حیثیت ہیکل کے اولین بانی اور مؤسس کی نہیں ‘بلکہ تجدید کنندہ کی ہے ۔(۱۳)

محترم عمار صاحب نے اس رائے کی نسبت علمائے حدیث کی طرف کی ہے، حالانکہ علمائے حدیث میں سے کسی ایک کی بھی یہ رائے نہیں ہے جو کہ عمارصاحب بیان کر رہے ہیں۔ یہ عمار صاحب کی اپنی رائے ہے کہ جس کی نسبت انھوں نے علمائے محدثین کی طرف کر دی ہے اور جن کتابوں کے وہ حوالے دے رہے ہیں، ان میں یہ بات اس طرح موجود نہیں ہے جس طرح کہ وہ اس کو بیان کر رہے ہیں ۔

عمار صاحب سے پہلی غلطی تو یہ ہوئی کہ انھوں نے اس رائے کی نسبت علمائے محدثین کی طرف کر دی حالانکہ یہ رائے صرف ابن قیم اور ابن کثیر کی ہے۔ کیا دو پر جمع کا اطلاق ہوتا ہے ؟

دوسری غلطی عمارصاحب نے یہ کی کہ جب دیکھا کہ مسئلہ حدیث کاہے تو ابن قیم اور ابن کثیر کو علمائے محدثین بنا کر پیش کر دیا، حالانکہ مقدم الذکر کا اصل میدان عقیدہ و فقہ ہے اور مؤخر الذکر کا تفسیر و تاریخ‘ ان میں سے کوئی ایک بھی علما میں بطور محدث اس طرح معروف نہیں ہے جس طرح مؤلفین صحاح ستہ یا ان کے اساتذہ وغیرہ ۔

عمار صاحب سے تیسری غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے ابن قیم اور ابن کثیر کی رائے کو بھی ان حضرات کے اپنے الفاظ میں پیش نہیں کیا۔ ابن قیم نے اپنی رائے بیان کرتے ہوئے جو الفاظ بیان کیے ہیں، وہ درج ذیل ہیں :

والذی أسسہ ھو یعقوب ابن اسحاق (۱۴)

جبکہ ابن کثیر نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں :

وان أول من جعلہ مسجدا اسرائیل علیہ السلام (۱۵)

جبکہ محترم عمار صاحب نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، وہ یہ ہیں :

’’علمائے حدیث کے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مقام کی تعیین تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرما دی تھی‘‘۔ (۱۶)

محترم عمار صاحب نے امام ابن قیم کے الفاظ ’أسس‘ اور امام ابن کثیر کے الفاظ ’جعل‘ کا ترجمہ ’’تعین کرنا‘‘کیا ہے۔ اس کو ان جلیل القدر علما کی آرا میں تحریف نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟

چوتھی غلطی عمار صاحب سے یہ ہوئی کہ انھوں نے حدیث میں موجود الفاظ ’وضع‘ کو نظر انداز کر دیا جس کا معنی لغت میں ’’تعین کرنا‘‘ نہیں ہوتا۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر جیسے علما کے یہ شایان شان نہیں ہے کہ ان کی طرف اس بات کی نسبت کی جائے کہ انھوں نے حدیث میں وارد شدہ الفاظ ’وضع‘سے مراد بیت المقدس کی ’’تعیین‘‘ لی ہے۔

عمارصاحب کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بیت المقدس کی تعمیر پہلی دفعہ حضرت سلیمان نے ہی کی اور وہ یہ عزم کیے ہوئے ہیں کہ کسی طرح بیت المقدس کی تعمیرکے بارے میں وارد شدہ اسرائیلی روایات ‘جن پر انھوں نے اپنے مؤقف کی بنیاد رکھی ہے ‘کو صحیح ثابت کر دیا جائے، چاہے انھیں اس کے لیے صحیح احادیث کی من گھڑت تأویل اور علماے سلف کی آرا میں تحریف ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ ہمارے’ تحریف ‘کے الفاظ شاید عمارصاحب کو ناگوار گزریں، لیکن انھوں نے اپنے مضمون میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے علما کے عمومی مؤقف کے بارے میں جس قدر سخت لب ولہجہ اور اسلوب اختیار کیا ہے، اس کی بھی ایک جھلک ذرا قارئین ملاحظہ فرما لیں۔ عمار صاحب لکھتے ہیں :

’’یہ نکتہ اب اہل علم کے لیے ایک کھلے سوال کی حیثیت رکھتا ہے کہ عالم عرب کا یہ کم و بیش اجماعی مؤقف‘جس کو متعدد اکابر علمائے دین و مفتیان شرع متین کی تائید و نصرت حاصل ہے اور جس کو مسلم اور عرب میڈیاتسلسل کے ساتھ دہرا رہا ہے ‘کتمان حق اور تکذیب آیات اللہ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟‘‘(۱۷)

عمار صاحب اپنے ایک اجتہادی مؤقف پر اس قدرمصر ہیں کہ علما کے کم و بیش اجماع کو کتمان حق اور تکذیب آیات اللہ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ عمار صاحب مذکورہ بالا عبارت میں جو سوال اہل علم سے کر رہے ہیں، وہی سوال اگر وہ اپنے آپ سے بھی کر لیتے تو ان کو اس کا جواب مل جاتا۔ عمار صاحب مولانا وحید الدین خان صاحب پر تنقید کرتے ہوئے ماہنامہ ’الشریعہ ‘ میں لکھتے ہیں:

’’مولانا کے زاویہ نگاہ سے اصولی طور پر اتفاق رکھنے والے اہل فکر کا ایک حلقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مخالف فکری زاویوں اور شخصیات پر تنقید کے لیے ان کا اختیار کردہ لب و لہجہ اور اسلوب ’رأیی صواب یحتمل الخطا و رأیھم خطا یحتمل الصواب‘ کے ذہنی رویے کے بجائے حتمیت کی عکاسی کرتا ہے اور وہ اپنے زاویہ نگاہ کو ایک نقطہ نظر سمجھنے کے بجائے ’واحد درست طرز فکر ‘قرار دینے میں حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں‘‘۔ (۱۸) 

ایک اور جگہ ماہنامہ اشراق ‘جنوری ۲۰۰۷‘ ص۷۱ پر محترم عمار صاحب لکھتے ہیں :

’’اگر علمی مباحث میں طعن و تشنیع اور تفسیق و تضلیل کا رویہ در آئے تو تنقید فکر ونظر کی آبیاری کرنے کے بجائے محض ’بغیا بینھم ‘کا ایک نمونہ بن کر رہ جاتی ہے‘‘۔

ہم عمار صاحب سے سوال کرتے ہیں، کیا یہ اصول تنقید صرف ان کے لیے ہے جو آپ یا آپ کی طرح کے آزاد خیال مفکرین کی آرا پر تنقید کرنا چاہے یا آپ کو بھی علما کے بارے میں لکھتے ہوئے اپنے قلم کو لگام دینی چاہیے؟ 

بہر حال خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ بالا بحث سے درج ذیل نتائج ثابت ہوتے ہیں:

۱) مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں کے مؤسس حضرت آدم ہیں ۔

۲) ظاہر نصوص سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسجد حرام کی دوسری تعمیر حضرت ابراہیم کے ہاتھوں ہوئی جبکہ مسجدا قصیٰ کی دوسری تعمیر کی بنیاد حضرت داؤد نے رکھی اور مکمل حضرت سلیمان کے عہد میں ہوئی۔ اس عرصے کے درمیان میں کسی اور تعمیر کا تذکرہ صحیح نصوص میں نہیں ملتا۔ 

یہ تو مسجد أقصیٰ کے حوالے سے ہماری کچھ ضمناً گفتگو تھی جس کا مقصد عمار صاحب کے مضمون سے پیدا شدہ ایک غلط فہمی کا ازالہ تھا۔ اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔

مسجد اقصیٰ کی تولیت مسلمانوں کا حق ہے

مسجد أقصیٰ کی تولیت مسلمانوں کا شرعی حق ہے جس کے درج ذیل دلائل ہیں :

۱) مسجد أقصیٰ کی تعمیر مسلمان انبیا کے ہاتھوں ہوئی۔ سب سے پہلے اسے حضرت آدم نے تعمیر کیا جو کہ مسلمان تھے۔ اس کے بعد حضرت داؤد نے اس کی بنیاد رکھی۔ پھر حضرت سلیمان نے اس کو مکمل کیا ۔اس لیے اس مسجد پر اسی قوم کا حق ہے جو کہ مسلمان ہو۔ جب تک عیسائی اور یہودی مسلمان تھے، اس وقت تک اس عبادت گاہ پر ان کا حق قائم تھا، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد جو بھی یہودی اور عیسائی آپ پر ایمان نہیں لاتا، وہ کافر ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ان الذین یکفرون باللہ و رسلہ ویریدون أن یفرقوا بین اللہ ورسلہ ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض ویریدون أن یتخذوا بین ذلک سبیلا أولئک ھم الکفرون حقا (النساء: ۱۵۰)
’’بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے درمیان کوئی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں، یہی لوگ پکے کافر ہیں ۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو بھی یہودی اور عیسائی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لے کر آئے، وہ پکا کافر ہے، اور کافر مسلمانوں کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا کیسے وارث ہو سکتا ہے؟ یہ توایسے ہی ہے کہ اگر کسی مسلمان نے کوئی مسجد بنائی اور اس کی بعد میں آنے والی نسلوں میں سے کوئی یہودی ہو گیا تو کیا اب اس مسجد کو یہودیوں کی عبادت گاہ بنا کر اس یہودی کے کنٹرول میں دے دیا جائے گا؟ مسجد اقصیٰ پر اس وقت یہودیوں کا حق تھا جب تک وہ مسلمان تھے۔ آج بھی اگر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آتے ہیں تو ہماراان سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، ہم مسجد اقصیٰ کی تولیت ان کے سپرد کر دیں گے۔ لیکن اگر وہ اپنے نبی حضرت موسیٰ اور اپنے باپ حضرت ابراہیم کے دین سے بھی پھر جائیں تو کس بنیاد پر ان کو مسجد اقصیٰ کا وارث قرار دیا جائے؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وما کان من المشرکین ان أولی الناس بابراہیم للذین اتبعوہ وھذا النبی والذین آمنوا واللہ ولی المؤمنین  (آل عمران:۶۷) 
’’حضرت ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی‘ لیکن وہ ایک یکسو مسلمان تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ بے شک حضرت ابراہیم کے ساتھ سب سے زیادہ تعلق ولایت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس (کی قوم میں سے اس)کی پیروی کی اور یہ نبی ہیں اور وہ لوگ جو (اس نبی پر ) ایمان لائے۔ اللہ تعالی اہل ایمان کا والی ہے۔‘‘

حضرت ابراہیم کی طرح ‘حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان اور بنی اسرائیل کے تمام انبیا کے اصل ورثا اور جانشین مسلمان ہیں نہ کہ یہود و نصاریٰ۔ اگر حضرت سلیمان نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی بھی تھی تو اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ اب یہ مسجد کافروں کی عبادت گاہ بن گئی ہے؟ حضرت سلیمان کے دور میں موجود بنی اسرائیل مسلمان تھے، لہٰذا اس بنیاد پر اس مسجد کے وارث بھی تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض اور کینہ رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ ؐپر ایمان نہ لانے کی وجہ سے آج کل کے یہودیوں کے کافر ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، بلکہ ان کے کفر پر امت کااجماع ہے ،لہٰذا مسجد اقصیٰ جو کہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اس پرایک کافر قوم کا حق کیسے جتایا جا سکتا ہے ؟

بفرض محال اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ مسجد اقصیٰ پر یہود کا حق ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے جو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکاری ہو، وہ حضرت موسیٰ اور تورات کا بھی انکاری ہے کیونکہ دونوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمداور ان کی علامات کی خبر دی ہے۔ لہٰذا ایسا یہودی جو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے کے ساتھ تورات اور حضرت موسیٰ کی بات بھی ماننے سے انکار کر دے، وہ تو اپنے دین‘ اپنے نبی اور اپنی کتاب کا بھی انکاری ہے اور ایسا یہودی مسجد اقصیٰ کاوارث کیسے ہو سکتا ہے ؟ 

۲) تمام انبیا ‘بشول انبیائے بنی اسرائیل ‘کا قبلہ بیت اللہ تھا۔ اس لیے یہودیوں کا قبلہ بھی ‘ازروئے دین اسلام‘ شروع سے ہی ‘بیت اللہ ہے۔ تمام انبیا بیت اللہ کی طرف ہی رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی کا حج کرتے تھے۔ یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ’ ’ہیکل سلیمانی‘‘ان کا قبلہ ہے ۔یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ایک ہی وقت میں دو متوازی قبلوں کاوجود خود مقصد قبلہ کے خلاف ہے۔ حضرت ابراہیم نے جب بیت اللہ کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حج کی آواز لگائی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وأذن فی الناس بالحج یأتوک رجالا وعلی کل ضامر یأتین من کل فج عمیق (الحج:۲۷)
’’اور (اے ابراہیم) لوگوں میں حج کا اعلان عام کر۔ وہ تیرے پاس آئیں گے پیدل اوردبلے اونٹوں پراور ہر دور کے راستے سے آئیں گے۔ ‘‘

اگر یہ مان لیا جائے کہ بیت اللہ کے بالمقابل فلسطین میں حضرت سلیمان نے ایک علیحدہ قبلہ بنایا تو درج ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں :

۱) کیا قرآن کی آیت میں موجود الفاط ’الناس‘ میں بنو اسرائیل داخل نہیں ہیں؟

۲) اگر بنو اسرائیل کے آبا و اجداد حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب کا قبلہ بیت اللہ ہی تھا تو ان کی بعد میں آنے والی نسلوں کا قبلہ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اس کی کیا دلیل ہے کہ باپ (یعقوب) کا قبلہ بیت اللہ تھا اور بیٹوں (بنو اسرائیل) کا قبلہ بیت المقدس تھا؟ کیا بنو اسرائیل اپنے باپ حضرت یعقوب کے دین پر نہ تھے؟

۳) کیا تمام انبیا کا دین‘ دین اسلام نہیں ہے؟ کیا حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت نہیں کی تھی ’ووصی بھا ابراہیم بنیہ ویعقوب یبنی ان اللہ اصطفی لکم الدین فلا تموتن الا وانتم مسلمون‘؟ اگر تمام انبیا کا دین ایک ہی ہے جیساکہ قرآن و حدیث سے واضح ہوتا ہے تو پھر یہ کہنے کی کیا گنجایش رہ جاتی ہے کہ حضرت سلیمان سے پہلے انبیا کی نماز اورحج کے لیے قبلہ کی حیثیت بیت اللہ کو تھی، جبکہ حضرت سلیمان کے بعد نماز اور حج کے لیے بیت المقدس کو بنیادی حیثیت حاصل تھی ؟

۴) تقریباً تمام مناسک حج مقامات کے ساتھ خاص ہیں، مثلاً طوا ف ‘صفا اور مرو ہ کی سعی ‘مقام ابراہیم پر نفل پڑھنا‘ منیٰ کا قیام ‘میدان عرفات اور مزدلفہ کا قیام وغیرہ۔ بیت المقدس کو اگر بنی اسرائیل کا قبلہ مان لیا جائے تو بیت المقدس کے حج کرنے کا کیا مطلب ہے۔ دوسرے الفاظ میں بنو اسرائیل کا حج کیا تھا ؟

۵) بنو اسماعیل کا حج تو زمانہ جاہلیت میں بھی کسی نہ کسی بگڑی ہوئی شکل میں موجود تھا، لیکن کیا یہودی بھی آپ کے زمانے میں بیت المقدس کاحج کرتے تھے یا آج کرتے ہیں؟ اگر نہیں ‘تو کیوں ؟

۶) اگربیت المقدس ہی قبلہ تھا تو یہود ونصاریٰ میں پھر قبلے کی تعیین میں اختلاف کیوں ہوا؟ یہود حق پرتھے یا نصاریٰ؟ اصل قبلہ قبۃ الصخرہ ہے یا بیت المقدس کا مشرقی حصہ ؟

۷) اگر عمار صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہود کا قبلہ صحیح ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود یہود میں بھی تو اس قبلے کی تعیین میں اختلاف ہے کہ یہ صخرہ ہی ہے یاصخرہ کے قریب کوئی جگہ ہے۔ یہ کیسا قبلہ ہے کہ جس کے صحیح مقام کا آج تک تعین ہی نہ ہو سکا؟

۸) عمار صاحب کتاب مقدس کی کوئی ایک بھی واضح اور صریح نص پیش کر سکتے ہیں کہ جس میں یہ بیان ہوا ہو کہ اللہ تعالی نے بیت المقدس کو یہود کا قبلہ مقرر کیا تھا ؟

۹) اگر عمار صاحب یہ دلیل بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ’وما أنت بتابع قبلتھم‘ میں اس بات کا اثبات کیا ہے کہ وہ یہود کا قبلہ ہے تو ہم یہ کہتے ہیں پھر ’ما ولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا‘ میں کس کے لیے قبلے کا اثبات ہے ؟

۱۰) اللہ تعالیٰ نے صرف یہود کے قبلے کا اثبات نہیں کیا بلکہ نصاریٰ کے قبلے کا بھی اثبات کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض‘، تو کیا کل تین قبلے ہیں ؟

۱۱) حقیقت یہ ہے کہ قبلہ ایک ہی ہے جو کہ بیت اللہ ہے ‘باقی رہا قرآن کامسجد اقصیٰ یا اس کے مشرقی حصہ کو قبلہ کہناتو یہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے اعتبار سے کہا ہے نہ کہ خود اپنی طرف سے ان کے لیے کسی علیحدہ قبلے کو مقررکرنے کا اثبات کیا ہے، جیسا کہ ’لکم دینکم ولی دین‘ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے لیے علیحدہ دین کا اثبات تو کیا ہے لیکن اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دین کو‘ ان کے لیے مقرر کیا ہے اور پسندبھی کیا ہے؟ 

واقعہ یہ ہے کہ عمارصاحب ہیکل سلیمانی کو یہود کا قبلہ قرار دینے پر مصر ہیں اور اس کے لیے انھوں نے دلیل حضرت سلیمان علیہ السلام کی اس دعا کو بنایا ہے جو کہ بیت المقدس کے فیوض وبرکات کے حوالے سے کتاب مقدس میں بیان ہوئی ہیں۔ بیت المقدس کی برکات و فضائل سے کس کو انکار ہو سکتا ہے، لیکن کیا کسی مقام کی برکات و فضائل کا بیان اس کے قبلہ ہونے کی ایک کافی دلیل ہے؟ یہ کیسا قبلہ ہے کہ جس کے قبلہ ہونے کے بارے میں کوئی ایک بھی واضح نص قرآن وسنت تو کیا، کتاب مقدس میں بھی موجود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت نہ تو حرم کی ہے اور نہ ہی یہ یہودیوں کا قبلہ رہا ہے۔ بیت المقدس کواپنا قبلہ قرار دینا یہودیوں کی اختراع ہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کی آزمایش کے لیے ان کو وقتی طور پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا جس کا تذکرہ بہت ساری روایات میں ملتا ہے۔ اس حکم خداوندی کی رو سے بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ قرار پایا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا جو حکم آپ ؐ پر نازل ہوا تھا، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ پہلی مسلمان امتوں کا قبلہ بیت المقدس تھا بلکہ اس کی اصل وجہ مسلمانوں کی آزمایش تھی، جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے:

وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا الا لنعلم من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ (البقرۃ ۱۴۳)

اس کے بعداللہ تعالیٰ نے اس عارضی قبلے کو منسوخ قرار دے کر اصل قبلہ یعنی بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کاحکم جاری فرمایا۔

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وما أنت بتابع قبلتھم (البقرۃ:۱۴۵)
’’اور اے نبی! آپ ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں ۔‘‘

قرآن مجید کی یہ نص اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ کے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی وجہ یہودیوں کی اتباع نہیں تھی بلکہ آپ کو اللہ کی طرف سے یہ ایک حکم تھا۔ امام ابن کثیراس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

وانہ لا یتبع أھواءھم فی جمیع أحوالہ ولا کونہ متوجھا الی بیت المقدس لکونھا قبلۃ الیھود وانما ذلک عن أمر اللہ۔
’’آپ کسی بھی معاملے میں یہودیوں کی اتباع نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کا بیت المقدس کی طرف رخ کرنا اس وجہ سے نہیں تھا کہ یہ یہود کا قبلہ ہے، بلکہ اس وجہ سے تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آپ کو حکم تھا۔ ‘‘

یہودیوں نے حضرت موسیٰ کی وفات کے بعدقبۃ الصخرہ کی طرف رخ کر نماز پڑھنے کا آغاز کیا جبکہ عیسائیوں میں قسطنطین دی گریٹ (۲۷۲ ؁ء تا۳۳۷ ؁ء) و ہ پہلا عیسائی بادشاہ گزرا ہے جس نے بیت المقدس کی مشرقی جانب نماز پڑھنے کی بدعت کا آغاز کیا۔

امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں :

’’ان کاکہنا ہے کہ مشرق کی طرف نماز پڑھنے کی بدعت کا آغاز قسطنطین دی گریٹ نے کیا جبکہ نصاریٰ کے انبیا اور ان کے متبعین میں سے کسی ایک نے بھی مشرق کی طرف رخ کر کے نماز نہیں پڑھی اور اللہ تعالیٰ نے کعبہ کے علاوہ کسی مقام کو بھی شریعت اسلامیہ میں نماز کے لیے جہت نہیں بنایا۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور ان سے ماقبل کے تمام انبیا کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے اور خود حضرت موسیٰ بھی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ ان کاکہنا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ خیمہ عہد کو عرب کی طرف رخ کر کے نصب کرتے تھے اور صحرا میں اس خیمہ کی طرف رخ کر نماز پڑھتے تھے۔ جب حضرت یوشع بن نون نے بیت المقدس کو فتح کر لیا تو خیمہ کو صخرہ پر نصب کیا۔ پس بنی اسرائیل خیمہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ جب بیت المقدس ویران ہوا اور خیمہ بھی چھن گیا تو یہود صخرہ کی طرف رخ کر نماز پڑھنے لگے کیونکہ یہ خیمہ کی جگہ تھی اور سامرۃ (یہودسے علیحدہ ہونے والا ایک فرقہ ) وہاں پر موجود ایک پہاڑ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے کیونکہ تابوت سکینہ اس پر موجود تھا۔‘‘ (۱۹)

امام ابن قیم لکھتے ہیں :

’’اہل کتاب کا اپنے قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا یہ وحی سے یا اللہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ انھوں نے اپنا قبلہ آپس کے مشورے اور اجتہاد سے مقرر کیا۔ جہاں تک نصاریٰ کامعاملہ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انجیل یا اس کے علاوہ کسی کتاب میں ان کوکہیں بھی مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم کبھی نہیں دیااور وہ اس بات کا خود بھی قرار کرتے ہیں اور اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کا قبلہ وہی ہے جو کہ بنو اسرائیل کا قبلہ ہے اور وہ صخرہ ہے اور ان کے شیوخ اور بڑوں نے مشرق کو قبلہ مقرر کیا اور وہ اپنے ان کبار شیوخ کی طرف سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح نے ان کو تحلیل و تحریم اور تشریع احکام کا اختیار تفویض کیا تھا اور جس چیز کو انھوں نے حلال یا حرام قرار دیا،ا س کو حضرت مسیح نے بھی آسمانوں پر سے حلال یا حرام قرار دے دیا۔ وہ یہود سے اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی رسول کی زبانی مشرق کو قبلہ نہیں بنایا اور مسلمان بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مشرق کو قبلہ نہیں بنایا۔ جہاں تک یہود کے قبلے کا تعلق ہے تو یہ بات تو واضح ہے کہ تورات میں کہیں بھی صخرہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم نہیں بیان ہوا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ وہ جہاں سے بھی نکلتے، تابوت کو نصب کرتے اور اس کی طرف رخ کر نماز پڑھتے تھے۔ جب وہ بیت المقدس میں آئے تو انھوں نے اس تابوت کو صخرہ پر نصب کیا اور اس کی طرف رخ کر نماز پڑھی۔ پس جب تابوت کو اٹھا لیا گیا تو وہ صخرہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے کیونکہ یہ تابوت کی جگہ تھی۔ جہاں تک سامرہ (یہودیوں سے علیحدہ ہونے والا ایک گروہ) کا تعلق ہے تو وہ ارض شام میں موجود ایک پہاڑ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ وہ اس کی تعظیم کرتے تھے اور اس کا قصد بھی کرتے تھے اور میں نے اس پہاڑ کو دیکھا ہے، وہ شہر ’نابلس ‘ میں ہے اور میں(یعنی ابن قیم) نے جب اس فرقے کے علما سے بحث کی اور ان سے کہا کہ کہ تمہارا قبلہ باطل اور بدعت ہے تو انھوں نے کہاکہ ان کے دین میں اس قبلہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہی صحیح قبلہ ہے اور یہودیوں نے قبلہ کے تعین میں خطا کھائی ہے، اللہ تعالیٰ نے تورات میں اسی پہاڑ کے استقبال کا حکم دیا ہے۔ پھر ان میں سے ایک نے اس پہاڑ کے استقبال کے بارے میں ایک نص پیش کی جس کے بارے میں اس کا گمان یہ تھا کہ یہ تورات کی آیت ہے تو میں نے کہا، یہ کہنا تورات کے بارے میں قطعی خطا ہے، کیونکہ تورات بنو اسرائیل پر نازل ہوئی اور وہ اس کے اول مخاطبین ہیں اور تم ان کی ایک فرع ہواور تم نے تورات ان سے حاصل کی ہے اور یہ نص جو کہ تم پیش کر رہے ہو، اس تورات میں نہیں ہے جو کہ بنوا سرائیل کے پاس ہے ا ور میں نے اس تورات کو دیکھا ہے اور اس میں یہ نص موجود نہیں ہے تو وہ (سامری عالم)مجھ سے کہنے لگا، تم ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ نص ہماری خاص تورات میں ہے۔‘‘ (۲۰) 

۳) امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کی اس رائے کی تائید قرآنی نصوص ‘احادیث مبارکہ اور بعض تابعین وتبع تابعین کی آرا سے بھی ہوتی ہے۔

الف) اس رائے کی تائید میں چند ایک قرآنی دلائل درج ذیل ہیں :

بنی اسرائیل کی غلامی کے زمانے میں ‘جبکہ وہ ابھی تک قوم فرعون کے ظلم سے آزاد نہیں ہوئے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ حکم دیا تھا :

واجعلوا بیوتکم قبلۃ وأقیموا الصلوۃ (یونس:۸۷)
’’اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بناؤ اور نماز قائم کرو۔‘‘

یہاں بنی اسرائیل کو کس قبلے کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے؟ کیا بیت المقدس کی طرف کہ جس کی بنیاد بقول عمار صاحب سینکڑوں سال بعد حضرت سلیمان کے دور میں رکھی جانی تھی؟ یہ آیت مبارکہ اس مسئلے میں نص قطعی کا درجہ رکھتی ہے کہ بنی اسرائیل کو بھی اپنی نمازوں میں جس قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ بیت اللہ ہی ہے‘ کیونکہ اس آیت میں قبلہ کا لفظ مطلقاً استعمال کیا گیا ہے یعنی مراد وہ قبلہ ہے جو کہ اس وقت اور اس سے ماقبل کی اقوام میں بطور قبلہ معروف تھا اور وہ سب کے نزدیک بیت اللہ ہی ہے۔ امام طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں صحابہ و تابعین کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

عن مجاھد قال قال ابن عباس فی قولہ تعالی واجعلوا بیوتکم قبلۃ یقول وجھوا بیوتکم مساجدکم نحو القبلۃ ألا تری أنہ یقول فی بیوت أذن اللہ أن ترفع۔
’’حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ نے ’واجعلوا بیوتکم قبلۃ‘ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اپنے گھروں یعنی مساجد کو قبلہ رخ بناؤ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’فی بیوت أذن اللہ أن ترفع‘‘‘ (اس آیت مبارکہ میں مساجدکے لیے ’بیوت‘ کا لفظ استعمال ہواہے )
عن سعید ابن جبیر عن ابن عباس واجعلوا بیوتکم قبلۃ یعنی الکعبۃ۔
’’حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے ’واجعلوا بیوتکم قبلۃ ‘ کی تفسیر میں فرمایا کہ قبلہ سے مراد ’’کعبۃ‘‘ ہے ۔‘‘
عن مجاہد بیوتکم قبلۃ قال نحو الکعبۃ حین خاف موسی ومن معہ من فرعون أن یصلوا فی الکنائس الجامعۃ فأمروا أن یجعلوا فی بیوتھم مستقبلۃ الکعبۃ یصلون فیھا سرا
’’حضرت مجاہد سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ’واجعلوا بیوتکم‘ سے مراد ہے کہ اپنے گھروں کو کعبہ کے رخ بناؤ۔ جب موسیٰ اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے اپنی عبادت گاہوں میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھنے میں فرعون سے خوف محسوس کیا تو انھیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنے گھروں کو کعبہ کے رخ بنا لیں اور ان میں چھپ کے نمازپڑھیں۔‘‘

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولئن أتیت الذین أوتوا الکتب بکل آیۃ ما تبعوا قبلتک وما أنت بتابع قبلتھم وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض ولئن اتبعت أھواءھم من بعد ما جاء ک من العلم انک اذا لمن الظالمین (البقرۃ ۱۴۵)
’’اور اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس ہر قسم کی نشانی ہی کیو ں نہ لے آئیں، وہ آپ کے قبلے کی پیروی ہر گز نہ کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے ہیں اور ان میں بعض ‘ان کے بعض کے قبلے کی پیروی کرنے والا نہیں ہے اور اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آ گیا تو تب آپ ظالموں میں سے ہو جائیں گے ۔‘‘

اس آیت مبارکہ کے انداز خطاب سے معلوم ہو رہا ہے کہ اہل کتاب سے بھی اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ ہے کہ وہ بیت اللہ کو اپنا قبلہ بنائیں جوکہ تمام انبیا کا قبلہ رہا ہے، لیکن اہل کتاب کی ضد اور اسلا م دشمنی کے بارے میں خبر دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس ہر قسم کی نشانی لے آئیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ بیت اللہ ہی اصل قبلہ ہے‘ اہل کتاب کا بھی اور مسلمانوں کا بھی‘ تو پھر بھی یہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔

وما أنت بتابع قبلتھم‘ میں ’قبلتھم‘ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو ان کا قبلہ بنایا ہے۔ اس کی دلیل آیت کایہ اگلا ٹکڑاہے: ’وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض‘  کیونکہ اس بات پر تو اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین قبلے نہیں بنائے، جبکہ آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تین قبلوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک مسلمانوں کا قبلہ جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے قبلہ مقرر کیا ہے جیسا کہ اسی آیت مبارکہ کے سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے۔ دوسرا عیسائیوں کا اور تیسرا یہودیوں کا قبلہ ہے جنھوں نے اپنی خواہش اور آزادمرضی سے بیت المقدس کی مشرقی جانب اور قبۃ الصخرہ کو قبلہ بنا لیا تھا۔ امام ابن جریر طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

وما لک یا محمد سبیل اتباع قبلتھم وذلک أن الیھود تستقبل بیت المقدس لصلاتھا وأن النصاری تستقبل المشرق فأنی یکون لک السبیل الی اتباع قبلتھم مع اختلاف وجوھھا
’’اے محمد! آپ کے لیے ان کے قبلے کی پیروی کرنا جائز نہیں ہے اور یہ اس وجہ سے کہ یہوداپنی نماز میں بیت المقدس کی طرف جبکہ نصاریٰ اس کے مشرقی حصے کی طرف رخ کرتے ہیں ۔اے نبی! آپ کیسے ان کے قبلے کی پیروی کریں گے، جبکہ خود ان میں آپس میں قبلے کے تعین میں اختلاف ہے۔ ‘‘

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :

الذین آتیناھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون أبناءھم (البقرۃ :۱۴۶)
’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (یعنی اہل کتاب) وہ اس (یعنی بیت اللہ کے قبلہ ہونے ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔‘‘

امام ابن جریر طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یعرف ھؤلاء الأحبار من الیھود والعلماء من النصاری أن البیت الحرام قبلتھم و قبلۃ ابراہیم وقبلۃ الأنبیاء قبلک کما یعرفون أبناءھم
’’ یہود و نصاریٰ کے علما یہ جانتے ہیں کہ مسجد حرام ان کا قبلہ ہے اور یہی حضرت ابراہیم اور آپ سے پہلے تمام انبیا کا قبلہ تھا، جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں بعض مفسرین نے ’یعرفونہ‘ کی ’ہ‘ ضمیر کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹایاہے لیکن ’ہ‘ ضمیر کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانا قرآن کے سیاق وسباق کے خلاف ہے ۔

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون (البقرۃ:۱۴۶)
’’اور ان میں سے ایک گروہ حق بات (یعنی بیت اللہ ہی کے اصل قبلہ ہونے) کو جانتے بوجھتے چھپا رہا ہے۔‘‘

امام ابن جریر طبری ’وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

وذلک الحق ھو القبلۃ التی وجہ اللہ عزوجل الیھا نبیہ محمدا ﷺ یقول فول وجھک شطر المسجد الحرام التی کانت الأنبیاء من قبل محمد یتوجھون الیھا فکتمھا الیھود والنصاری فتوجہ بعضھم شرقا وبعضھم نحو بیت المقدس ورفضوا ما أمرہم اللہ بہ
’الحق‘سے مراد قبلہ ہے جس کی طرف رخ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ مسجد حرام کی طرف اپنا رخ پھیر لیں جس کی طرف آپ سے پہلے تمام انبیا رخ کرتے تھے۔ پس یہود و نصاریٰ نے اصل قبلے(یعنی بیت اللہ ) کو چھپا لیا اور کسی نے مشرق کی طرف رخ کیا اور کسی نے بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنایااور انھوں نے اس کا انکار کیاجس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔‘‘

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :

الحق من ربک فلاتکونن من الممترین (البقرۃ:۱۴۷)
’’یہ (یعنی بیت اللہ کا قبلہ ہونا) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے‘ پس آپ (بیت اللہ کے ہی قبلہ ہونے میں) شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جائیں۔‘‘

امام ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

أی فلا تکونن من الشاکین فی أن القبلۃ التی وجھتک نحوھا قبلۃ ابراھیم خلیلی علیہ السلام وقبلۃ الأنبیاء غیرہ 
’’اے نبی! آپ اس بارے میں بالکل بھی شک میں مبتلا نہ ہوں کہ جس قبلہ کی طرف ہم نے آپ کا رخ کیا ہے، وہی حضرت ابراہیم اور ان کے علاوہ تمام انبیا کاقبلہ ہے ۔‘‘

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولکل وجھۃ ھو مولیھا فاستبقوا الخیرات (البقرۃ:۱۴۸)
’’اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے وہ اس کی طرف اپنے آپ کو پھیرنے والا ہے پس تم (اے مسلمانو)نیکیوں میں سبقت لے جاؤ۔‘‘

امام طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

أی قد بینت لکم أیھا المؤمنون الحق وھدیتکم القبلۃ التی ضلت عنھا الیھود و النصاری وسائر الملل غیرکم فبادروا بالأعمال الصالحۃ شکرا لربکم
’’اے اہل ایمان! میں نے تمہارے لیے حق بات کو واضح کر دیا تھا اور اس قبلے کی طرف تمہاری رہنمائی کی ہے جس سے یہود و نصاریٰ اور تمہارے علاوہ تمام مذاہب بھٹک گئے تھے، پس تم اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے نیکی کے کاموں میں جلدی کرو۔ ‘‘

ب) بعض ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ بیت المقدس یہود کا قبلہ نہیں ہے بلکہ ان کا قبلہ بھی بیت اللہ ہی تھا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں :

کنا عند ابن عباس فذکروا الدجال أنہ قال مکتوب بین عینیہ کافر فقال ابن عباس لم أسمعہ ولکنہ قال أما موسی کأنی أنظر الیہ اذا انحدر فی الوادی یلبی (۲۱)
’’ہم ابن عباس کے پاس تھے کہ لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا کہ آپ نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا تو ابن عباس نے کہا، میں نے یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی، بلکہ میں نے آپ سے سنا، آپ کہہ رہے تھے کہ جہاں تک حضرت موسیٰ کا معاملہ ہے تو گویا کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی میں تلبیہ کہتے ہوئے اتر رہے ہیں ۔‘‘

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انبیاے بنی اسرائیل بھی حج کرنے کے لیے بیت اللہ کا ہی قصد کرتے تھے۔ علامہ ابن حجر اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

و فی الحدیث أن التلبیۃ فی بطون الأودیۃ من سنن المرسلین 
’’اور اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وادیوں کے درمیان میں تلبیہ کہنا رسولوں کی سنت ہے ۔‘‘

ایک دوسری روایت میں حضرت یونس بن متی کا بھی تذکر ہ ہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے :

عن ابن عباس أن رسول اللہ مر بوادی الأزرق فقال أی واد ھذا قالوا ھذا وادی الأزرق فقال کأنی أنظر الی موسی وھو ھابط من الثنیۃ ولہ جؤار الی اللہ عزوجل بالتلبیۃ حتی أتی علی ثنیۃ ھرشاء فقال أی ثنیۃ ھذا قالوا ثنیۃ ھرشاء قال کأنی أنظر الی یونس بن متی علی ناقۃ حمراء جعدۃ علیہ جبۃ من صوف خطام ناقتہ خلبۃ قال ھشیم یعنی لیف وھو یلبی (۲۲)
’’حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر وادی أزرق سے ہوا تو آپ نے سوال کیا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ نے کہا، یہ وادی أزرق ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گھاٹی سے اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ کہ رہے ہیں۔ پھرآ پ ہرشاء کی گھاٹی پر آئے اور آپ نے پوچھا، یہ کون سی گھاٹی ہے؟ صحابہ نے کہا، یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے تو آپ نے فرمایا، گویا کہ میں یونس بن متیٰ کودیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک سرخ موٹی تازی مضبوط گوشت والی اونٹنی پر سوار ہیں اور انھوں نے اون کا ایک جبہ پہن رکھا ہے‘ ان کی اونٹنی کی لگام کجھور کے درخت کی چھال کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں ۔‘‘

اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیا بیت اللہ کاحج کرتے تھے ۔ عمار صاحب بنو اسرائیل کے کسی ایک نبی کے بارے میں یہ ثابت کردیں کہ اس نے بیت المقدس کا حج کیا ہو۔

اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ، جن پر تورات نازل ہوئی‘ ان کا قبلہ بیت اللہ تھا۔ اگرعمار صاحب یہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان کے دور میں بنو اسرائیل کا قبلہ تبدیل ہو گیا تھا توا س کی کیا دلیل ہے کہ پہلے ان کا قبلہ بھی وہی تھا جو کہ تمام انبیا کا تھا، پھر حضرت سلیمان کے دور میں ان کا قبلہ بیت المقدس قرار پایا؟ أمر واقعہ یہ ہے کہ یہود نے اپنے اصل قبلہ ‘جو کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ سے چلا آ رہا تھا‘ سے انحراف کرتے ہوئے اپنے مشورے اور اجتہاد سے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کر لیا تھا جیسا کہ امام طبری ‘امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے ۔

اسی طرح بعض صحیح احادیث میں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت ایک عام مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اگربیت المقدس یہودیوں کا قبلہ اور عبادت گاہ ہے تو وہاں نماز پڑھنے کی کیا تک بنتی ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری طرز عمل یہ تھاکہ آپ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی یہودیوں کی مخالفت کرتے تھے، چہ جائیکہ آپ مسلمانوں کو ان کے قبلے اور عبادت گاہ میں جا کر نمازپڑھنے کی ترغیب دلائیں۔

ج) بعض تابعین اورتبع تابعین کی آرا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرون ثلاثہ میں یہ رائے بہت عام تھی کہ تمام انبیا کا قبلہ بیت اللہ ہی رہا ہے اور بیت المقدس کو قبلہ قرار دینا یہودیوں کی ایک اختراع تھی اور یہودیوں کی اسی اختراع کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے آزمایش بناتے ہوئے بیت المقدس کو کچھ عرصہ کے لیے ان کاعارضی قبلہ قرار دیا ۔ان میں سے چند ایک اقوال یہ ہیں :

عن السدی: ’’ یعرفونہ کما یعرفون أبناءھم‘‘ یعرفون الکعبۃ أنھا ھی قبلۃ الأنبیاء کما یعرفون أبناءھم وروی عن قتادۃ والربیع بن أنس والضحاک نحو ذلک 
’’حضرت سدی سے روایت ہے کہ ’یعرفون کما یعرفون ابناءھم‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ یہ بات کہ کعبہ ہی تمام انبیا کا قبلہ ہے‘ اس طرح جانتے ہیں جس طرح کہ وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں۔ قتادہ‘ ضحاک اورربیع بن أنس سے بھی اسی قسم کا مفہوم مروی ہے ۔‘‘
عن الربیع قولہ تعالی ’الذین آتیناھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون أبناءھم‘ عرفوا قبلۃ البیت الحرام ھی قبلتھم التی أمروا بھا کما عرفوا أبناءھم
’’حضرت ربیع سے روایت ہے کہ آیت مبارکہ ’الذین آتیناھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون أبناءھم‘سے مراد ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ مسجد حرام ہی وہ قبلہ ہے جس کے استقبال کا ان کو حکم دیا گیا ہے جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں ۔‘‘
عن الربیع ’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘ یقول فلا تکونن فی شک من ذلک فانھا قبلتک وقبلۃ الأنبیاء قبلک 
’’حضرت ربیع سے مروی ہے، وہ ’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘ کے بارے میں کہتے ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ اے محمد! آپ اس بارے میں کسی قسم کے شک وشبہ میں مبتلا نہ ہوں کہ کعبہ ہی آپ کا بھی اور آپ سے پہلے انبیا کا بھی قبلہ تھا۔‘‘
عن أبی العالیۃ قال: قال اللہ لنبیہ ’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘ فیقول لا تکونن فی شک یا محمد ان الکعبۃ ھی قبلتک وکانت قبلۃ الأنبیاء قبلک 
’’حضرت أبو العالیہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا ہے ’ الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! آپ اس بارے میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہوں کہ کعبہ ہی آپ کا بھی قبلہ ہے اور آپ سے پہلے تمام انبیا کا بھی قبلہ تھا۔‘‘
عن أبی العالیۃ ’ولکل وجھۃ ھو مولیھا‘ قال للیھود وجھۃ ھو مولیھا وللنصرانی وجھۃ ھو مولیھا وھداکم اللہ أنتم ایتھا الأمۃ القبلۃ التی ھی القبلۃ وروی عن مجاھد أحد قولیہ والضحاک وعطاء والسدی والربیع نحوذلک 
’’حضرت ابو العالیہ ’ولکل وجھۃ ھو مولیھا‘ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہود کے لیے ایک جہت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتے ہیں، اسی طرح عیسائیوں کے لیے ایک جہت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتے ہیں، اور اے امت مسلمہ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری اس قبلے کی طرف رہنمائی کی ہے جو کہ اصل قبلہ ہے ۔اس آیت کی تفسیر میں امام مجاہد کے دو قوال میں سے ایک قول یہی ہے۔ اس کے علاوہ ضحاک ‘عطا‘ سدی اورربیع سے بھی اس قسم کا قول نقل کیا گیا ہے۔ ‘‘

د) دلیل استصحاب سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہود کااصل قبلہ بیت اللہ ہی ہے ۔ڈاکٹر وہبہ الزحیلی استصحاب کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وعند الأصولیین ھو الحکم بثبوت أمر أو نفیہ فی الزمان الحاضر أو المستقبل‘ بناء علی ثبوتہ أو عدمہ فی الزمان الماضی‘ لعدم قیام الدلیل علی تغییرہ (۲۳)
’’أصولیین کے نزدیک‘ زمانہ حال یا مستقبل میں ‘کسی حکم کے ثبوت یا عدم ثبوت کی بنیاد ‘ماضی میں اس حکم کے ثبوت یاعدم ثبوت پر رکھنا‘ جبکہ اس حکم کے تبدیل ہونے کی کوئی دلیل نہ ہو‘ استصحاب کہلاتا ہے ۔‘‘

قرآنی نصوص ‘احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد بنو اسرائیل اور بنو اسماعیل کا قبلہ بیت اللہ تھا۔ اب اگر کوئی شخص اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت سلیمان کے زمانے میں بیت اللہ کو منسوخ کر کے ‘بیت المقدس کو بنو اسرائیل کا قبلہ مقرر کیا گیاتو اس پر واجب ہے کہ وہ اس بات کی دلیل پیش کرے کہ بیت اللہ کو بنو اسرائیل کے لیے بطور قبلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کیا اسرائیلیات(کتاب مقدس) میں اس نسخ کی کوئی دلیل ہے؟

خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کا تو عارضی طور پر قبلہ مقرر کیا گیا، لیکن یہ یہود کا قبلہ کبھی بھی نہیں رہا۔ قرآن و حدیث تو کیا، اسرائیلیات (کتاب مقدس) میں بھی کوئی ایک بھی ایسی نص نہیں ہے کہ جس سے یہ واضح ہو تا ہوکہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے لیے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا تھا،بلکہ قرآنی آیات ‘بہت ساری روایت ‘تاریخی حقائق اور أئمہ سلف کی آرا اس مؤقف کی تائید کرتی نظر آتی ہیں کہ یہود کا قبلہ بیت اللہ ہی تھا۔ جب یہ ثابت ہوا کہ بیت المقدس نہ تو یہود کی عبادت گاہ ہے اور نہ ہی یہ ان کا قبلہ ہے تو یہ دعویٰ بھی باطل ہے کہ بیت المقدس پر یہودیوں کا حق ہے، بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ بیت المقدس ’وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا‘ کے مطابق مسلمانوں کی عبادت گاہ اور سابقہ قبلہ ہے، اس لیے وہی اس کی تولیت کا بھی شرعی حق رکھتے ہیں۔

دوسروں کے مؤقف میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اور اپنے مؤقف کے اثبات کے لیے ایک دلیل بھی پیش نہ کر سکنا‘ اگر اہل فن کے ہاں تحقیق اسی کو کہتے ہیں تو واقعتا عمار صاحب کا مضمون ایک تحقیقی مقالہ ہے ‘کیونکہ عمار صاحب نے اپنے پورے مضمون میںیہی کام کیا ہے۔ میں نے عمار صاحب کے مضمون کا کئی دفعہ بغور مطالعہ کیا لیکن اس طویل مضمون میں مجھے سوائے حضرت سلیمان کی دعا کے کوئی اور عبارت ایسی نظر نہیں آئی کہ جسے عمار صاحب نے بیت المقدس کو یہود کا قبلہ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا ہو۔ عمار صاحب سے گزارش ہے کہ انھوں نے علما کے مؤقف کا رد تو بہت اچھا کر دیا ہے، اب ذرا اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے بھی کوئی دلیل پیش کریں۔ دوسروں کے مؤقف کا رد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا مؤقف ثابت ہو گیا ہے۔ 


حوالہ جات 

۱) سنن نسائی‘کتاب المساجد‘باب ذکر أی مسجد وضع أولا

۲) صحیح بخاری‘کتاب الجمعۃ‘باب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ و المدینۃ 

۳) فتح الباری مع صحیح بخاری ‘کتاب أحادیث الأنبیاء ‘باب قول اللہ تعالی و اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا

۴) سنن نسائی‘کتاب المساجد‘باب فضل المسجد الأقصی والصلاۃ فیہ

۵) أیضا

۶) سنن أبی داؤد‘کتاب المناسک ‘باب فی المواقیت

۷) سنن أبی داؤد‘کتاب الأیمان والنذور‘باب من نذر أن یصلی فی بیت المقدس

۸) صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ

۹) دلائل النبوۃ ‘امام بیہقی‘جلد ۲‘ص۴۵ ورواہ ابن کثیر فی تفسیرہ و اللفظ لہ 

۱۰) صحیح بخاری مع فتح الباری ‘کتاب أحادیث الأنبیاء ‘باب قول اللہ تعالی و اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا

۱۱) فتح الباری مع صحیح بخاری ‘کتاب أحادیث الأنبیاء ‘باب قول اللہ تعالی و اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا

۱۲) سنن نسائی‘کتاب المساجد‘باب فضل المسجد الأقصی والصلاۃ فیہ

۱۳) ماہنامہ اشراق:جولائی ۲۰۰۳‘ص۳۶

۱۴) زاد المعاد‘امام ابن قیم‘ص۹

۱۵) قصص النبیین‘امام ابن کثیر‘جلد ۱‘ص۱۶۶

۱۶) ماہنامہ اشراق:جولائی ۲۰۰۳‘ص۳۶

۱۷) ماہنامہ اشراق:جولائی ۲۰۰۳‘ص۴۱

۱۸) ماہنامہ الشریعۃ:اکتوبر۲۰۰۶‘ص۲۵

۱۹) الرد علی المنطقیین‘امام ابن تیمیہ ‘ص ۲۸۹و۲۹۰

۲۰) بدائع الفوائد ‘امام ابن قیم ‘جلد ۴‘ص۱۷۱

۲۱) صحیح بخاری ‘ کتاب الحج‘باب التلبیۃ اذا انحدر فی الوادی

۲۲) صحیح مسلم ‘کتاب الایمان ‘باب الاسراء برسول اللہ الی السموات و رواہ الامام احمد فی مسندہ و اللفظ لہ 

۲۳) أصول الفقہ الاسلامی ‘الدکتور وہبہ الزحیلی ‘جلد ۱‘ص۸۵۹

آراء و افکار