دینی و دنیوی طبقات کے مابین دوری: اسباب و علاج

حافظ عبد الرشید

عصرحاضر کے مسلم معاشروں میں دینی طبقے اور جدیدتعلیم یافتہ یا دوسرے الفاظ میں دنیاوی طبقے کے درمیان کشمکش کی ایک شدید کیفیت پائی جاتی ہے۔ ہر طبقہ معاشرے میں موجود دینی ودنیاوی کی تقسیم کاملزم دوسرے کو گردانتے ہوئے اپنے اپنے دلائل پیش کرتا ہے، جبکہ صحیح صورت حال کی عکاسی اردو زبان کے اس محاورہ سے ہوتی ہے کہ ’’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی‘‘۔ یہ محاورہ اس صورت حال کے لیے بولا جاتا ہے جب کسی ناگوار معاملہ میں ملوث دونوں فریق ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہوں اور ہر فریق سارا ملبہ اپنے مخالف ہی پر ڈالنے پر تلا ہوا ہو۔ آئیے، ہم ان دونوں فریقوں کے طرز عمل اور اس تشتت وافتراق کی تاریخ کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں اور اصل وجوہات کا کھوج لگاتے ہوئے قابل عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس اختلاف کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں گزشتہ تین چار صدیوں میں یورپ میں رونما ہونے واقعات اور سیاسی ومعاشرتی تغیرات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ یہ زمانہ یورپ میں بادشاہ، جاگیردار اور پوپ کے ظالمانہ اقتدار کے خلاف شدید ترین رد عمل کا زمانہ تھا جس کے نتیجے میں بادشاہت اور جاگیرداری کا مکمل خاتمہ ہوا اور پوپ جو کہ مذہب کا نمائندہ تھا، اس کے کردارکو گرجے کی چاردیواری تک محدود کر دیا گیا۔ اس تبدیلی کے پس پردہ عوامل میں اس ظالم تکون کا پر تشدد رویہ اور معاشرے میں علمی وتحقیقی آزادی پر قدغن لگانے کا مزاج تھا۔ بادشاہ اورجاگیردار تواپنے اندھے اقتدار کے زعم میں عوام پر ظلم وستم کے پہاڑ گراتے اور پوپ اپنی الوہیت کوچھوتی ہوئی مذہبی حیثیت کو لوگوں سے مال ودولت لوٹنے کے لیے استعمال کرتا۔ پوپ کے خلاف رد عمل کی شدت دوسرے گروہوں کے مقابلے میں اس پہلو سے زیادہ تھی کہ چرچ کے پھیلائے ہوئے فرسودہ اور من گھڑت اعتقادات جب سائنسی وعلمی ترقی کی وجہ سے مشاہداتی طورپر غلط ثابت ہونے لگے تو اس نے اس علمی تحریک کو تشدد سے کچل دینے کی پالیسی اپنائی اور علم وتحقیق کے علمبرداروں کو الم ناک سزائیں دیں۔ آج بھی مغربی دنیانے علامتی طورپر ان جگہوں کو محفوظ رکھا ہوا ہے جہاں ایک ایک دن میں کئی کئی سائنس دانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ اس تبدیلی سے بڑے نتائج برآمد ہوئے جنہوں نے بعد میں پوری دنیا کو متاثر کیا:

۱۔ بادشاہت اور جاگیرداری کا خاتمہ ہوا اور اس کی جگہ رفتہ رفتہ جمہوری نظام حکومت رائج ہوا جس میں اقتدار اعلیٰ کا محور ’’عوام‘‘ کو قرار دیا گیا اور پارلیمنٹ ’’عوام‘‘ کی خواہش معلوم کرنے کا ذریعہ قرار پائی۔

۲۔ اجتماعی معاملات سے مذہب کے کردار کو ختم کرکے اسے صرف گرجے تک محدود کر دیا گیا، مذہب اور اس کے قوانین پر عمل کرنا فرد کا ذاتی اور شخصی معاملہ قرار پایا اور یہ طے ہوا کہ سوسائٹی اپنے اجتماعی معاملات خود ہی طے کرے گی، اسے کسی بیرونی رہنمائی کی ضرورت نہیں۔

گویا اجتماعی زندگی میں میں مذہب کے کردار کا خاتمہ کر کے ’’سیکولرزم‘‘ کے نام سے ایک نیا ایجاد کر لیا گیا اور معاشرے کے افراد کو مذہبی وغیر مذہبی گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اسی زمانے میں دنیامیں صنعتی واقتصادی ترقی کی لہر اٹھی اور بدقسمتی سے مسلم ممالک کی حکومتوں نے اس طرف توجہ کرنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ مغرب اپنی صنعتی اور اقتصادی قوت کے بل بوتے پر دنیا پر حکمرانی کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا اور اسلامی دنیا کے ممالک یکے بعد دیگرے اس کے سامنے ڈھیر ہوتے چلے گئے، حتیٰ کہ ۱۸۵۷ء میں برصغیر اور ۱۹۲۳ء میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد قوتیں عملاً اسلامی ممالک کی حکمران بن گئیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے قدیم نظام حکومت اور نظام تعلیم کو جڑسے اکھاڑدیا اور اپنا وہ نظام ان پر مسلط کر دیا جو اپنے تجربات کی روشنی میں انہوں نے تخلیق کیا تھا۔ اس تسلط کے سائے میں معاشرتی وسائنسی علوم کا ایک طوفان آیا جس نے مسلمانوں کے ذہنو ں میں یہ بات بٹھا دی کہ یہ علوم ان کے لیے ناگزیر ہیں اور اگرا نہوں نے ان کے حصول کی کوشش نہ کی توزندگی کی دوڑمیں دنیا کا ساتھ نہیں دے سکیں گے، لیکن یہ بھی بدیہی بات تھی کہ مغربی نظام کے تحت ان علوم کے حصول کے لیے انہیں اپنی تہذیبی وتمدنی روایات کی قربانی دینا پڑے گی۔ یہ بہت عظیم خطرہ تھا جو مسلمانوں کے تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا۔

یہاں سے مسلم دنیا میں دینی اور دنیوی، مذہبی اور غیر مذہبی کی تقسیم شروع ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کے فکر مند افراد آگے آئے اور اپنے اعتقادات اور اپنے تمدن ومعاشرے کو بچانے کے لیے میدان عمل میں کود پڑے، لیکن راہ عمل کے انتخاب میں متفق نہ رہ سکے۔ ایک گروہ نے اپنا معاشرتی کردار بلند کرنے کے لیے اسی مغربی نظام میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور دوسرے افراد نے اپنی قدیم روایات، نظریات واعتقادات کی حفاظت کو اپنا مطمح نظر بنا لیا۔ دونوں کام اہم تھے، مقصود ایک ہی تھا لیکن راہیں جداجدا تھیں۔ اول الذکر گروہ نے معاشرتی زندگی میں تو کسی نہ کسی طرح اپنی جگہ بنا لی لیکن نئے نظام کی بھول بھلیاں میں کھو کر اپنی روایات ونظریات کو پس پشت ڈالتے چلے گئے اور نئے نظام کے تحت بغیر کسی نکیر کے زندگی گزارنے لگے۔ ا ن کی آئندہ نسلوں نے اسی نظام میں آنکھ کھولی اور ابتدائی راہ عمل کے فرق کو نہ سمجھتے ہوئے اپنے ہی بھائی بندوں سے اجنیت محسوس کرنے لگے۔ جدید نظام نہ صرف ان کے دلوں میں گھر کر گیا بلکہ یہ اس کی دعوت بھی دینے لگے۔ 

دوسری طرف وہ لوگ جنہوں نے اپنے قدیم نظریات، روایات اور تمدن کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا تھا، وہ اپنے مخصوص عبوری حالات کے پیش نظر معاشرے سے بالکل کٹ کر اصحاب کہف کی طرح ایک کونے میں جا بیٹھے اور اپنے دین ودینی علوم کو سینے سے لگائے رکھا۔ یہ لوگ برصغیر کے علاوہ دوسرے خطوں میں تو اس قدر کامیاب نہ ہوسکے لیکن برصغیر میں ان کی قربانیوں اور سرفروشی نے مغربی نظام کے سامنے مزاحمت کی مثال قائم کر دی۔ انہو ں نے اپنی عزت، اجتماعی زندگی اور معاشی مفادات کو تج دے کر اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیاکہ رہتی دنیا تک مسلم دنیا ان کا احسان نہ چکا سکیں گی۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے تمدن وروایات کا دفاع کیا بلکہ اپنی بے مثال استقامت وایمانی فراست سے مغربی نظام پر ایسے کاری حملے بھی کیے کہ وہ اپنے زخم چاٹتے ہوئے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوگیا۔ ان حضرات نے علمی وعملی دونوں محاذوں پر مغرب کی یلغار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کر رہے ہیں۔ یہ لوگ بجاطورپر یہ کہنے کے مستحق ہیں 

ہم کیسے تیراک ہیں جاکر پوچھو ساحل والوں سے 
خود تو ڈوب گئے لیکن رخ موڑ دیا طوفانوں کا 

ان لوگوں کی جدوجہد، قربانیاں اور اس کے ثمرات بجا، لیکن دینی ودنیاوی طبقات کی کشمکش میں یہ لوگ بھی دانستہ نادانستہ حصہ دار ضرور ہیں۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ اپنی دینی اقدار کی حفاظت کے لیے یہ جس غار میں جا ٹھہرے تھے، وہاں سے نکلنے میں انہوں نے کافی دیر کر دی اور اس عرصے میں معاشرہ مغربی نظام سے کافی حد تک مسموم ہو چکا تھا۔ انہوں نے سوسائٹی میں بالکل بدلا ہوا ماحول پایا ،معاشرے میں رائج زبان، ان کی زبان سے اور اصطلاحات ان کی اصطلاحات سے مختلف تھیں۔ علم وتحقیق کے باب میں علم کی کئی نئی اور مفید شاخوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔ وہ زما نہ جوپہلے قیاسات سے بہل جاتا تھا، اب ہر بات کی دلیل مانگتا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی سے دنیا سمٹ سمٹا کر ایک چھوٹے سے گاؤں (global village) کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ یہ حضرات اپنے دامن میں حق بھی رکھتے تھے اور حق کی حفاظت کے سب دلائل بھی ان کے پاس تھے، مگرزبان وماحول کی اجنیت، لب ولہجہ کا فرق اور مروجہ اصطلاحات سے ناواقفیت کی بنا پر سیکولرزم کے علمبرداروں سے تو دور تھے ہی، معاشرے کے عام سمجھ دار افراد کی فکر اور سوچ کو بھی زیادہ متاثر نہ کر سکے اور عوام کا جتنا کچھ تعلق ان کے ساتھ رہ گیا تھا، وہ بھی محض عقیدت کی بنیاد پر تھا۔ یہ حال محدود شخصیات کے استثنا کے ساتھ تقریباً سارے ہی دینی طبقہ کا تھا۔ اس پر مستزاد مدمقابل کا ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کے خلاف پروپیگنڈا تھا جس کے نتیجے میں دینی طبقہ اور عوام کے درمیان موجود خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔ ان حضرات کا فرقوں میں تقسیم در تقسیم ہونا بھی مخالفین کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا اور انہوں نے بطور ہتھیار اسے استعمال کرکے انہیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ سیکولر لوگوں کا وہی مطالبہ تھا جو مغرب میں پوپ سے کیا گیا تھا کہ اپنا دائرۂ عمل مسجد ومدرسہ تک محدور رکھو اور مذہب کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے علیحدہ رہنے دو۔ سیکولرزم کے نمائندہ یہ طبقہ اس وقت مسلم معاشرے اقتدار کے سرچشموں پر قابض ہے اور معاشرے کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تعلیم، سیاست، معاشرت غرض ہر شعبہ زندگی میں اس کو فیصلہ کن اتھارٹی حاصل ہے ۔

مسلم دنیا میں دینی ودنیاوی طبقات کی تقسیم اپنے ابتدائی مراحل میں صرف رائے اور طرز عمل کا اختلاف تھی، لیکن رفتہ رفتہ یہ اختلاف نظریات واعتقادات کی دو مختلف راہوں کی شکل اختیار کر گیا اور اب دونوں طبقے اپنا ایک الگ نظام عمل اور جدا جدا ’’Idealogies‘‘ رکھتے ہیں اور عملاً دونوں دریا کے دو کناروں کا روپ دھار چکے ہیں جو چلتے تو ایک ساتھ ہیں لیکن ان کا ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو جانا خواب وخیال کی دنیا میں بھی ناممکن نظر آتا ہے۔ بہرحال معاشرے میں دینی ودنیوی طبقات میں دوری ختم کرنے کی ذمہ داری سب سے زیادہ مذہبی حضرات پر عائد ہوتی ہے جس کے لیے چند اقدامات ضروری ہیں:

(۱) دینی فکر اور مزاج رکھنے والے ایسے افراد حکومتی مشینری میں شامل کیے جائیں جو مذہبی نقطہ نظر کو حکومتی سطح پر قا بل قدر اہمیت دلا سکیں تاکہ لوگوں کو اسلام کی حقانیت کا ان کے ذریعے علم ہو۔

(۲) عوام کو اپنی بات سمجھانے کے لیے رائج طریقوں اور زبان سے آگاہی حاصل کی جائے تاکہ ا ن پر واضح کیا جا سکے کہ فلاح اپنے دین وروایات میں ہی ہے۔

(۳) غیر مذہبی فکر کامقابلہ کرنے کے لیے میڈیا میں ایسا موثر پلیٹ فارم تلاش کیا جائے جہاں سے ان کی بات توجہ اور دلچسپی سے سنی جا سکے۔

(۴) حکومتی شعبوں میں اپنے تعلیمی نظام کو عا م تعلیم کی طرح سرکاری حیثیت دلائیں تاکہ ان کے مستفیضین معاشرے کے بے کار لوگوں کی لسٹ سے نکل کر کارآمد دائرے میں داخل ہو سکیں۔

(۵) مخالفین کو دلائل سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں کہ جو خطرہ مغرب کو مذہب سے تھا، وہ تم کواسلام سے ہرگز نہیں ہے۔ 

اگر یہ اقدامات کیے جائیں توان شاء اللہ معاشرہ میں اسلامی تعلیمات کے عملاً رائج ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ 

آراء و افکار